Explained with ayahs 1–5
اہل کتاب کی موضوع روایتیں
ق حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے ص، ن، الم، حم، طس، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورة بقرہ کی تفسیر میں شروع میں کردی ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کرسکتے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بد دینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کردیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجودیکہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت…
Read the full tafseer →سورة قٓ 5
اس مختصر سے فقرے میں بھی ایک بہت بڑا مضمون بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے صرف تعجب کرنے اور بعید از عقل ٹھہرانے پر ہی اکتفا نہ کیا، بلکہ جس وقت محمد ﷺ نے اپنی دعوت حق پیش کی اسی وقت بلا تامل اسے قطعی جھوٹ قرار دے دیا۔ اس کا نتیجہ لازماً یہ ہونا تھا اور یہی ہوا کہ انہیں اس دعوت اور اس کے پیش کرنے والے رسول کے معاملہ میں کسی ایک موقف پر قرار نہیں ہے۔ کبھی اس کو شاعر کہتے ہیں تو کبھی کاہن اور کبھی مجنون۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ جادوگر ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ کسی نے اس پر جادو کردیا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ اپنی بڑائی قائم کرنے کے لیے خود یہ چیز بنا لایا ہے، اور کبھی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
احیاء بعد الموت پر مشہور شبہ کا جواب
(آیت) قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ ، کفار و مشرکین جو قیامت میں بعث بعد الموت (یعنی مردوں کے زندہ ہونے) کا انکار کرتے ہیں ان کی سب سے بڑی دلیل یہ تعجب ہے کہ مرنے کے بعد انسان کے اکثر اجزاء جسم مٹی ہوجاتے ہیں، پھر وہ مٹی منتشر ہو کر دنیا میں پھیل جاتی ہے، پانی اور ہوا اس کے ذرات کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں، قیامت میں دوبارہ زندہ کرنے کے لئے ساری دنیا میں بکھرے ہوئے اجزاء کو معلوم رکھنا کہ یہ جز فلاں کا ہے، یہ فلاں کا اور پھر ہر ایک کے اجزاء کو الگ الگ جمع کردینا کس کے بس کی بات ہے ؟ قرآن کریم نے اس کا جواب دیا کہ انسان اپنے محدود علم و…
Read the full tafseer →بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج 5
لفظ ’ حق ‘ اسی سورة کی آیت 19 اور آیت 42 میں قیامت کے لئے آیا ہے لیکن یہاں لما جآء ھم کا قرینہ پتہ دے رہا ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے جو قیامت یس لوگوں کو آگاہ کر رہا تھا لیکن لوگ اس کی تکذیب کر رہے تھے اور اس کی تکذیب کے لئے بہانہ کے طور پر قیامت کے خلاف وہ شبہات پیش کر رہے تھے جو اوپر بیان ہوئے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے ان شبہات سے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گویا قیامت فی الواقع ایک بہت بعید از امکان چیز ہے اور یہ اس کا انکار جو کر رہے ہیں تو اس کے لئے معقول وجوہ ان کے پاس ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ایک بالکل بدیہی حق کی تکذیب کی ہے اور…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی ایسا معاملہ جو ان پر مشتبہ ہوگیا ہے، جس سے وہ ایک الجھاؤ میں پڑگئے ہیں، کبھی اسے جادوگر کہتے ہیں، کبھی شاعر اور کبھی غیب کی خبریں بتانے والا۔
Read the full tafseer →3: یعنی کبھی کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، کبھی کہتے ہیں کہ یہ کاہنوں کی باتیں ہیں، کبھی قرآن کریم کو شاعری قرار دیتے ہیں، اور کبھی آنحضرت ﷺ پر (معاذ اللہ) دیوانہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔
Read the full tafseer →اس کے بعد ان کی شخصیت کا تجزیہ کر کے بتایا جاتا ہے اور وہ اصل سبب بتایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ وہی اعتراضات وہ کرتے ہیں یہ کہ انہوں نے سچائی کا مضبوط پلیٹ فارم چھوڑ دیا ہے ، ان کے پاؤں کے نیچے زمین ہی نہیں ہے۔ اس لیے یہ کسی موقف پر جم ہی نہیں سکتے۔
بل کذبوا بالحق لما جاءھم فھم فی امر مریج (50 : 5) “ بلکہ ان لوگوں نے تو جس وقت حق ان کے پاس آیا اسی وقت اسے صاف جھٹلا دیا۔ اسی وجہ سے اب یہ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں “۔
یہ بھی ایک نہایت منفرد انداز تعبیر ہے۔ جو لوگ مستقل سچائی کو ترک کرتے ہیں تو پھر ان کے قدم کسی جگہ نہیں جم سکتے۔
سچائی ایک ایسا نقطہ ہے جس پر وہ شخص قائم ہوتا ہے جو سچائی پر ایمان…
Read the full tafseer →4 یعنی صرف تعجب نہیں بلکہ کھلی ہوئی تکذیب ہے۔ حضرت ﷺ کی نبوت قرآن اور بعث بعد الموت، ہر چیز کو جھٹلاتے ہیں۔ اور عجب الجھی ہوئی باتیں کرتے ہیں۔ بیشک جو شخص سچی باتوں کو جھٹلاتا ہے۔ اسی طرح شک و اضطراب اور تردد و تحیر کی الجھنوں میں پڑجایا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 5 { بَلْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہُمْ } ”بلکہ انہوں نے جھٹلا دیا حق کو جب کہ وہ ان کے پاس آیا“
{ فَہُمْ فِیْٓ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ۔ } ”سو اب وہ ایک بڑی الجھن میں مبتلاہو گئے ہیں۔“
ایک طرف تو جواب دہی اور احتساب کی باتیں ماننے کے لیے ان کی طبیعتیں آمادہ نہیں اور دوسری طرف اس بارے میں قرآن کی زبان میں حضور ﷺ کے دلائل ایسے قوی ہیں کہ انہیں جھٹلانا ان کے لیے ممکن نہیں۔ بس یہی الجھن ہے جس میں یہ لوگ پھنس چکے ہیں۔ اس کائنات کی ایک ایک چیز اس حقیقت پر گواہ ہے اور اس کا مربوط و مستحکم نظام بھی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس کا خالق ایک علیم و حکیم ہستی ہے۔ پھر انسان کے اندر پائی…
Read the full tafseer →6 پہلے اعتراض کے متعلق کفار کی بدحواسی :۔ آپ کی رسالت سے انکار اور قرآن کے منزل من اللہ نہ ہونے کی حد تک تو سب کفار مکہ متفق تھے۔ مگر اب انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ پیغمبر اسلام اور قرآن کو کہیں تو کیا کہیں ؟ کیونکہ نہ پیغمبر اسلام کوئی عام آدمی تھے اور نہ قرآن کوئی معمولی اور عام کتاب تھی اور یہ باتیں سب کفار کو نظر آرہی تھیں۔ کبھی تو وہ کہتے کہ یہ نبی شاعر ہے اور یہ کتاب شاعری ہے، کبھی کہتے یہ نبی کاہن ہے اور یہ کتاب کہانت ہے، کبھی کہتے یہ نبی جادوگر ہے اور یہ کتاب جادو ہے، کبھی یہ کہتے کہ یہ قرآن تو پرانی کہانیاں ہی ہیں جنہیں یہ نبی خود ہی تالیف کرکے ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →5۔ (کہ حق پر انہیں قرار ہی نہیں۔ کبھی تکذیب سے کام لیتے ہیں، کبھی تشکیک سے) (آیت) ” بل ..... ھم “۔ ان کی عادت ہی ہر سچائی سے انکار کی پڑگئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
کفار مکہ تذبذب اور بےیقینی کا شکار تھے :
فی امر مریج، مریج کے معنی لغت میں مختلط کے ہیں جن میں مختلف چیزوں کا اختلاط و التباس ہو اور ایسی چیز عموماً فاسد ہوتی ہے، اسی لئے حضرت ابوہریرہ ؓ نے مریج کا ترجمہ فاسد فرمایا ہے اور ضحاک رحمتہ اللہ تعالیٰ و قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ اور حسن بصری وغیرہ نے مریج کا ترجمہ مختلط اور ملتبس سے کیا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین و منکرین رسالت اپنے انکار میں بھی کسی ایک بات پر نہیں جمتے کبھی آپ کو جادو گر بتاتے ہیں تو کبھی شاعر اور کبھی کاہن و نجومی اور قرآن کے بارے میں بھی ان کا یہی حال ہے۔
آگے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہے جو آسمان اور زمین اور ان کے…
Read the full tafseer →بل کذبوا بالحق لما جاء ھم فھم فی امر مریج .
بلکہ سچی بات جب ان کو پہنچی تو اس کو انہوں نے جھٹلایا۔ غرض یہ کہ وہ ایک متزلزل حالت میں ہیں۔
بَلْ کَذَّبُوْا ....... : یہ انکار نبوت کرنے والوں کی تردید ہے۔
نبوت جو معجزات سے ثابت شدہ ہے ‘ اس کی تکذیب سابق انکار سے بڑھ کر ہے جو چیز قطعی دلائل سے ثابت ہو اس کا انکار بہت ہی بعید از عقل ہے۔
مَرِیْجٍ : امر مشتبہ۔ مضطرب۔ بےیقینی۔ ان کے قول میں اضطراب اور بےیقینی تکذیب نبوت کی وجہ سے ہی تھی۔ قتادہ اور حسن نے کہا جو حق کو چھوڑ دیتا ہے اس کو اپنے معاملے میں اور دین میں اشتباہ پیدا ہوجاتا ہے۔ زجاج نے کہا : ایک قول پر ان کو قرار نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو کبھی شاعر…
Read the full tafseer →بلکہ یہ لوگ تو رسول اکرم اور قرآن کریم کو جبکہ محمد اسے ان کے پاس لے کر آئے جھٹلاتے ہیں۔ یہ قسم کا جواب ہے کہ محمد ان کے پاس قرآن کریم لے کر آئے بلکہ یہ گمراہی یا یہ کہ متزلزل حالت میں ہیں یا یہ مطلب ہے کہ ان کی حالت ہی مختلف ہے کہ بعض ان میں سے تکذیب کرتے ہیں اور بعض تصدیق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(1) بل کذبوا بالحق لما جآئھم : یعنی صرف یہی نہیں کہ ان لوگوں نے اپنی جنس میں سے رسول کی آمد کو اور دوبارہ زندہ کئے جانے کو عجیب قرار دیا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جب ان کے پاس حق آیا تو اسے سنتے ہی کسی غور و فکر کے بغیر جھٹلادیا۔
(2) فھم فی امر مریج :”مرج الامر، ای اضطرب ولتبس وقسد“”امر مریج“ الجھا ہوا معاملہ۔ یعنی سوچے سمجھے بغیر جھٹلا دینے کے بعد اب رسول اللہ ﷺ اور قرآن کے بارے میں ان ک سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ وہ انہیں جھٹلانے کا کیا جواز پیش کریں، اس لئے وہ کبھی ایک بات کرتے ہیں کبھی دوسری۔ ایک بات پر انہیں قرار نہیں ہے اور وہ سخت ذہنی الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ کبھی رسول اللہ ﷺ کو شاعر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1 ۔ 5:۔ ق والقران المجید۔ عام قراٗت قاف میں جزم کے ساتھ ہے۔ حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق اور نصیر بن عاصمنے قاف پڑھا ہے کیونکہ کسرہ، جزم کا بھائی ہے جب اس کا آکر ساکن ہوا تو کسرہ کے ساتھ اسے حرکت دی۔ عیسیٰ ثقفی نے فاء کو فتحہ دیا ہے اسے خفیف ترین حرکت دی ہے۔ ہارون اور محمد بن سمیقع نے قاف ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ عموما یہ مبنی کی حرکت ہوتی ہے جس طرح منذ، قط، قبل اور بعد ہے۔ ق کے معنی میں اختلاف ہے کہ وہ کیا ہے ؟ ابن زید، عکرمہ اور ضحاک نے کہا : یہ ایسا پہاڑ ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے جو سبز زمرہ کا مرد ہے اس کی وجہ سے آسمان سبز ہے۔ آسمان کے دونوں کنارے اس پر ہیں۔ آسمان اس پر قبہ کی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
10:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' قد علمنا ماتنقص الارض منہم '' (ہم جانتے ہیں کہ انمیں سے زمین کیا گھٹاتی ہے یعنی ان کے جسموں میں سے اور ان کے جو ان کے جسموں سے ضائع اور ختم ہوجاتا ہے)
11:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) '' قد علمنا ماتنقص الارض منہم '' سے مراد ہے کہ ہم خوب جانتے ہیں جو زمین گھٹاتی ہے ان کے گوشت سے ان کے بالوں سے اور ان کی ہڈیوں سے۔
12:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم خوب جانتے ہیں ان مردوں کو جن کو زمین کھاجائے گی جب وہ مرجائیں گے۔
13:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے…
Read the full tafseer →بَلْ كَذَّبُوْا [ بلکہ انہوں نے جھٹلایا ] بِالْحَقِّ [ حق کو ] لَمَّا جَاۗءَهُمْ [ جب وہ آیا ان کے پاس ] فَهُمْ [ نتیجۃ وہ لوگ ] فِيْٓ اَمْرٍ مَّرِيْجٍ [ ایک الجھے ہوئے معاملہ میں ہیں ]
Read the full tafseer →﴿بَلْ كَذَّبُوْا بالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ ﴾ (بلکہ بات یہ ہے کہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جبکہ ان کے پاس آگیا) موت کے بعد زندہ ہونا ان کی سمجھ میں نہیں آتا اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو بھیج دیا اور آپ کی نبوت کے دلائل اور معجزات سامنے آگئے تو وہ اس کے بھی منکر ہوگئے، وقوع قیامت کا انکار بھی گمراہی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات شریفہ سامنے ہوتے ہوئے معجزات و دلائل کو دیکھتے ہوئے آپ کی نبوت کو نہیں مانتے یہ بھی گمراہی ہے اور شناعت و قباحت میں پہلے تعجب سے بڑھ کر ہے۔
﴿فَهُمْ فِيْۤ اَمْرٍ مَّرِيْجٍ 005﴾ (سو یہ لوگ ایک متزلزل حالت میں ہیں) کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں، کبھی کہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
بیان عظمت کلام خداوندی و انکار منکرین وتعجب بر حشر ونشر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ق والقران المجید ....... الی ...... کذلک الخروج “۔
(ربط) سورة حجرات کے مضامین کا اختتام اس امر کے بیان پر تھا کہ اسلام کی توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہدایت ہے اور اس کا عظیم انعام ہے اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے ایمان پر استقامت اور دین حق پر ثابت قدمی اس اعتقاد ویقین پر موقوف ہے کہ حق تعالیٰ شانہ بندہ کی ہر حالت سے باخبر ہے اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے تو اس مناسبت سے اب سورة ق کی ابتداء عظمت کلام خدا وندی سے کی جارہی ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہدایت کا…
Read the full tafseer →5:۔ ” بل کذبوا۔ الایۃ “ یہ ” بل عجبوا “ سے اضراب ہے۔ الحق الامر الظاھر البین اور اس سے مراد بعث بعد الموت ہے المراد بالحق الاخبار بالبعث (روح ج 26 ص 175) ۔ ” مریج “ مضطرب، ملبس، مختلط (خازن، روح) ۔ مریج، فاسد یقال مرجت اما نات الناس ای فسدت (صراح۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ انہوں نے حشر و نشر پر نہ صرف تعجب و حیرت کا اظہار کیا ہے بلکہ اس واضح اور روشن حقیقت کا صاف صاف انکار کیا ہے اور وہ اس بارے میں مضطرب اور متردد ہیں کبھی شک و تعجب کا ظاہر کرتے ہیں اور کبھی صاف انکار کردیتے ہیں یا وہ ایک غلط اور باطل خیال پر قائم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
منازل قرآن
صحابہ کرام ؓ نے قرآن پاک کو سات منزلوں میں تقسیم کرلیا تھا۔ اس سورة مبارکہ سے ساتویں منزل شروع ہو رہی ہے جو آخر قرآن تک جائے گی ۔ پہلی منزل میں قرآن پاک کی تین لمبی سورتیں سورة البقرہ ، سورة آل عمران اور سورة النساء ہیں ۔ اس کے بعد دوسری منزل میں پانچ سورتیں سورة المائدہ ، سورة الانعام ، سور ۃ الاعراف ، سورة الانفال اور سورة التوبہ آتی ہیں ۔ پھر تیسری منزل میں سات سورتیں یعنی سورة یونس ، سورة ہود ، سورة یوسف ، سورة الرعد ، سورة ابراہیم ، سورة الحجر اور سورة النحل ہیں ۔ چوتھی منزل میں نو سورتیں ہیں جن کے نام سورة بنی اسرائیل ، سورة الکہف ، سورة مریم ، سورة طلحہ ، سورة الانبیاء ،…
Read the full tafseer →بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَہُمْ فَہُمْ فِيْٓ اَمْرٍ مَّرِيْجٍ 5
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…
Read the full tafseer →بَلْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ فَھُمْ فِیْٓ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ ۔ (قٓ: 5)
(بلکہ انھوں نے حق کو جھٹلایا ہے جبکہ وہ ان کے پاس آچکا ہے، پس وہ ایک الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ )
مخالفت کی حقیقت
مخالفین کی مخالفت کے تاروپود کو بکھیرتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا کہ ان کی مخالفت کی حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے غور و فکر کیے بغیر دشمنی میں آکر حق کی تکذیب کردی۔ حق سے مراد قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے اور قیامت بھی۔ لیکن انجام کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ انھوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کیا اور بنیادی اعتراض یہ اٹھایا کہ ایک انسان جو عام انسانوں جیسا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا رسول کیسے ہوسکتا ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن
ربط سورت :” ق “ حروف مقطعات میں شامل ہے۔ بعض اہل علم نے غیر مستند روایات کے حوالے سے اس کا مطلب بیان کرنے کی کوشش کی ہے لیکن نبی ﷺ اور صحابہ کرام (علیہ السلام) سے اس کا کوئی معنٰی ثابت نہیں۔ لہٰذا اسے اس طرح ہی تلاوت کرنا چاہیے۔ القرآن سے پہلے واؤ کا حرف قسم کے لیے ہے۔ عربی زبان میں حرف واؤ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ان میں واؤ قسم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
قرآن کا معنٰی ہے یکجا کرنا، تلاوت کرنا، الفاظ پر غور کر کے زبان سے ان کی ادائیگی کرنا، الفاظ کا ” تتبُّع “ کرنا۔ (المنجد)
المجید کا معنٰی بڑا اور عزت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ…
Read the full tafseer →انہوں نے نبوت کا انکار کردیا :
آیت 5 : بَلْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہُمْ (بلکہ سچی بات کو جب ان کے پاس پہنچتی ہے جھٹلاتے ہیں) یہ بل اضرابیہ کے بعد پھر دوسرا بل لائے تاکہ یہ بتلا دیا جائے کہ انہوں نے تعجب سے بھی زیادہ حیرت انگیز حرکت کی ہے کہ ایسی نبوت جو معجزات سے بلا غور و فکر سمجھ آتی ہے اس کا انکار کردیا۔ حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ فَہُمْ فِیْ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ (غرض یہ کہ وہ ایک متزلزل حالت میں ہیں) مریج مضطرب کے معنی میں آتا ہے۔ عرب کہتے ہیں مرج الخاتم فی اصبعہ۔ جبکہ وہ کھلی ہونے کی وجہ سے انگلی میں چلتی پھرے۔ اسی بناء پر تو کبھی کہتے ہیں شاعر ٗ کبھی ساحر اور کبھی کاہن۔ وہ ایک بات…
Read the full tafseer →4 ۔” قد علمنا ماتنقص الارض منھم “ یعنی جوان کے گوشت ، خون اور ہڈیوں کو کھاجائے گی، اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ موت ہے۔ فرماتے ہیں کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ کون ان میں سے مرگیا اور کون باقی رہا۔
” وعندنا کتاب حفیظ “ شیاطین سے محفوظ اور مٹنے اور تبدیل ہونے سے محفوظ ہے اور کہا گیا ہے کہ حفیظ یعنی ان کی تعداد اور اسماء کو محفوظ کرنے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ حروف مقطعات کا بیان سورة بقر کے شروع میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آ کر محمد رسول ﷺ کے رسول ہونے کی اور قرآن کو اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کر دے گا تو ہم مان لیں گے۔ محمد ﷺ تو ہم جیسے انسان ہیں ان کی باتوں کا ہمیں یقین نہیں آتا۔ اس کا جواب تفصیل سے سورة انعام میں ہے مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ فرشتہ کو اصل صورت میں دیکھنا تو عام لوگوں کی طاقت سے باہر ہے سوائے اللہ کے رسول کے عام لوگوں میں سے فرشتہ کو جو کوئی اصل صورت میں دیکھے گا وہ فوراً مرجائے گا۔ اس لئے فرشتہ بھی ان لوگوں کے پاس آئے گا تو انسان کی صورت میں آئے گا۔ پھر ان لوگوں کا شبہ بھی باقی…
Read the full tafseer →(بل) ” بلکہ “ ان کا وہ کلام جو ان سے صادر ہوا ہے، محض اس حق کے ساتھ ان کا عناد اور تکذیب ہے جو صدق کی بلند ترین نوع ہے۔ (لما جاء ھم فھم فی امر مریج) ” جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک الجھاؤ میں پڑگئے۔ “ یعنی وہ ایک مختلف اور مشتبہ معاملے میں پڑے ہوئے ہیں، کسی چیز پر انہیں ثبات حاصل ہے نہ قرار۔ کبھی تو آپ کے بارے میں الزام تراشی کرتے ہوئے کہتے ہیں :” تو جادوگر ہے “ کبھی کہتے ہیں :” تو پاگل ہے “ اور کبھی کہتے ہیں :” تو شاعر ہے “ اسی طرح انہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، ہر کسی نے اپنی فاسد رائے کے تقاضے کے مطابق اس میں کلام کیا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جس نے حق کی تکذیب کی، ہر کسی نے اپنی فاسد رائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →[ 6] جرم انکار کی شدت اور سنگینی کا اظہار وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے جھٹلایا دیا حق کو جب کہ وہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ یعنی قرآن حکیم کو۔ جس کی تکذیب و انکار پورے دین اور پیغمبر (علیہ السلام) سب کی تکذیب ہے، اور جو خرابیوں کی خرابی، تباہیوں کی تباہی اور دارین کی ہلاکت و بربادی کا پیش خیمہ ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم حق سے یہاں پر مراد قرآن مجید ہے جو لوگوں کو قیامت سے آگاہ کر رہا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے اس کی تکذیب کردی جبکہ وہ ان کے پاس پہنچ گیا، سو اول تو ان لوگوں نے اس بدیہی حقیقت کا انکار کیا جس کے انکار کے لئے ان کے پاس نہ کوئی معقول وجہ تھی اور نہ ہی اس کے لئے کوئی معقول وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیات 1 تا 15۔
اسرار ومعارف۔
ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی انہیں پیغمبر اور قرآن کے بارے میں ایک بات پر قرار نہیں ہے اور سخت ذہنی الجھن میں پڑے ہوئے ہیں کبھی پیغمبر کو شاعر کہتے ہیں کبھی کاہن کبھی مجنون اور کبھی ساحر اسی طرح قرآن کو کبھی محمد ﷺ کا اپنا تصنیف کیا ہوا کلام کہتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ کوئی عجمی شخص انہیں سکھا جاتا ہے اور کبھی اسے جادو کہتی ہیں الغرض ہر موقع پر کوئی نہ کوئی بات گھڑ لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →(50:5) بل کذبوا بالحق لما جاء ھم : بل حرف اضراب ہے ماقبل کی حالت کو برقرار رکھتے ہوئے اس پر مابعد کو اور زیادہ کرنے کے لئے ۔ یعنی ایک تو وہ پہلے ہی تعجب اور تردد میں تھے کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ایک رسول منجانب اللہ ہونے کا مدعی ہے اور بعث بعد الموت سے بھی انکاری تھے۔ اب مزید یہ کہ جب نبوت اپنے صریح معجزات سے ثابت ہوچکی تو فوراً اس کی تکذیب کرنے لگے۔ معجزات سے ثابت شدہ نبوت کی تکذیب اس کے انکار سے بڑھ کر ہے جو چیز قطعی دلائل سے ثابت ہو اس کا انکار بہت ہی بعید از عقل ہے۔ الحق سے مراد قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے۔ لما حرف ظرف بمعنی جب۔ جاء کا ضمیر فاعل الحق کی طرف راجع ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 :
عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔
تشریح : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
صفات باری تعالی۔
(ف 1) کفار قدرت الٰہی میں شک رکھتے ہیں کیا انہوں نے اس کے کارخانہ قدرت نہیں دیکھے کیا انہوں نے اپنے سروں پر آسمان نہیں دیکھا یہ نہیں سوچا کہ ہم نے اس کو کس حکمت سے مضبوط ومستحکم بغیر ستون بنایا اور رات کو جب اس پرستاروں کی قندیل اور جھاڑ فانوس روشن ہوتے ہیں تو کس قدر پررونق اور خوبصورت نظر آتا ہے پھر لطف یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں برس گزر گئے نہ اس چھت میں کہیں سوراخ ہوانہ کوئی کنگرہ گرا، نہ پلاسٹر ٹوٹا، نہ رنگ خراب ہوا، آخر کون ساہاتھ ہے جس نے یہ مخلوق بنائی اور بنا کر اس کی حفاظت کی، پھر فرمایا کہ زمین کو نہیں دیکھتے پانی پر اس کو کس قدرت کاملہ سے پھیلایا اور اس کے ثابت ومضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
[2] یعنی پیغمبر کو کبھی شاعر بتاتے ہیں، کبھی جادوگر، کبھی مجنوں، کبھی کچھ کبھی کچھ۔ یہ متضاد باتیں خود ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ایک ذہنی الجھن میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة ق
فرمایا : کہ قرآن کی لفظی ومعنوی بزرگی اور عظمت خود قرآن پر وال ہے ۔ اور جس شخص نے اس صحیفہ مقدس کا بغور مطالعہ کیا ہے ۔ وہ اس کے محاسن سے متاثر ہو کر مجبور ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کی سچائی پر گواہی دے اور یہ کہہ دے ۔ کہ اتنی بڑی کتاب ۔ اتنا مکمل زندگی کا پروگرام ، اور اتنے خوارق علمیہ کا حامل مجموعہ ناممکن ہے ۔ کہ انسانی دماغ کی اختراع وایجاد قرار دیا جاسکے ۔ مگر ان مکہ کے ناسمجھ لوگوں کو اس کتاب ہدیٰ کی رفعتوں کا اندازہ نہیں ہوتا ۔ انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ ان میں کا ایک آدمی کیونکر منصب نبوت پر فائز ہوسکتا ہے ۔ ان کے نزدیک پیغمبر کے لئے ضروری ہے ۔ کہ وہ فوق البشر شخصیت ہو ۔ پھر انہیں…
Read the full tafseer →(5) یہی نہیں بلکہ جب سچی بات اور امرحق ان کو پہنچا اور ان کے پاس آیا تو وہ اس کی تکذیب کرنے لگے غرض یہ لوگ تروددواضطراب کی حالت میں مبتلا ہیں اور الجھی بات میں پڑے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ ایک بعث بعدالموت کے کیا منکر ہیں امر حق اور دین حق کی تکذیب کرتے ہیں جس میں نبوت اور قرآن بھی داخل ہے تو سب کی ہی تکذیب کرتے ہیں نبوت کو جھٹلاتے ہیں قرآن کی تکذیب کرتے ہیں بعث کی تکذیب کرتے ہیں۔
غرض عقائد حقہ کے مکذب ہیں اور ان کو قرار نہیں یہ ایک حالت پر نہیں رہتے۔
مریح ھرج الخاتم فی اصبعہ کے محاورے سے ہے یعنی انگلی میں انگوٹھی ڈھیلی ہو تو وہ ایک حالت پر نہیں رہتی بلکہ ہر تی پھرتی اور آگے پیچھے ہوتی رہتی ہے یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 2۔ اس لئے کہ کبھی تعجب ہے کبھی تکذیب ہے۔
Read the full tafseer →جب حق ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو وہ اس کا صاف انکار کردیتے ہیں
5 ۔ یہ لوگ جن جن باتوں پر حیرت واستعجاب کر رہے ہیں ہم ان کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کرتے چلے جا رہے ہیں جب کوئی انسان اصل پٹڑی سے اتر جاتا ہے تو وہ دور سے دور ہی ہوتا چلا جاتا ہے کیونکہ وہ ہر وادی میں ٹکریں مارتا پھرتا ہے اور اصل راہ اس سے گم ہوجاتی ہے یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ جب انہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کا انکار کیا تو اس پر اتارے گئے کلام کو اللہ کا کلام کیونکر مانتے اور جب انہوں نے اللہ کے کلام کو بھی اللہ تعالیٰ کا کلام نہ مانا تو وہ آخرت کا اقرار کیونکر کرتے ہیں اس طرح گویا انہوں نے ایک حق بات کا انکارک رکے ہر حق بات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
Removal of a Doubt relating to Resurrection
قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ (We know very well how much of them is diminished by the earth,... 50:4). The disbelievers wondered at the idea that when they are dead and reduced to broken bones and particles of dust and scattered all over the world, whether it is possible that, on the Day of Resurrection, they will be raised up again. They thought that it was impossible when they are dead, disintegrated, with their organs torn apart that they will be brought back to their original shape and bodies. The verse refutes the…
Read the full tafseer →5 In this brief sentence also a vast subject has been compressed. It means: These people did not rest content only with expressing wonder and declaring the thing to be far removed from reason, but when the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) presented his message of the Truth they denied it as falsehood without any hesitation. Its inevitable result was, and the same only could follow from it, that they arc not agreed on any one position with regard to the invitation and the Messenger who has presented it. Sometimes they brand him a poet, sometimes g sorcerer, and…
Read the full tafseer →