Explained with ayahs 6–11
اللہ کے محیر العقول شاہکار
یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں چناچہ سورة تبارک میں فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ) 67۔ الملک :3) ، اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے…
Read the full tafseer →سورة قٓ 6
اوپر کی پانچ آیتوں میں کفار مکہ کے موقف کی نامعقولیت واضح کرنے کے بعد اب بتایا جا رہا ہے کہ آخرت کی جو خبر محمد ﷺ نے دی ہے اس کی صحت کے دلائل کیا ہیں۔ اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ کفار جن دو باتوں پر تعجب کا اظہار کر رہے تھے ان میں سے ایک، یعنی محمد ﷺ کی نبوت کے بر حق ہونے کی دو دلیلیں ابتدا ہی میں دی جاچکی ہیں۔ اول یہ کہ وہ تمہارے سامنے قرآن مجید پیش کر رہے ہیں جو ان کے نبی ہونے کا کھلا ہوا ثبوت ہے۔ دوم یہ کہ وہ تمہاری اپنی ہی جنس اور قوم اور برادری کے آدمی ہیں۔ اچانک آسمان سے یا کسی دوسری سر زمین سے نہیں آگئے ہیں کہ تمہارے لیے ان کی زندگی اور سیرت و کردار کو جانچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
کیا آسمان نظر آتا ہے ؟
(آیت) اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓا اِلَى السَّمَاۗءِ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان نظر آتا اور مشہور یہ ہے کہ یہ نیلگوں رنگ جو نظر آتا ہے یہ ہوا کا رنگ ہے مگر اس کی نفی کی بھی کوئی دلیل نہیں کہ یہی رنگ آسمان کا بھی ہو، اس کے علاوہ آیت میں نظر سے مراد نظر عقلی بمعنی غور و فکر بھی مراد ہو سکتی ہے . (بیان القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
افلم ینظروا الی السمآء فوقھم کیف بنیاھا وزینھا وما لھا من فروج، والارض مددنھا مالقینا فیھا رواسی وانبتنا فیھا من کل زوج بھیج، تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (8-6)
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی طرف اشارہ
یہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین قیامت کو اپنی قدرت، ربوبیت اور حکمت کی ان بدیہی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو اوپر اور نیچے ہر جگہ نظر آتی ہیں اور ہر اس شخص کے اندر بصیرت اور یاد دہانی پیدا کرنے کے لئے کافی ہیں جس کے سینہ میں اثر پذیر اور متوجہ ہونے والا دل ہو۔
سب سے پہلے اپنی عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی کہ کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں اٹھائی کہ دیکھتے کہ کس طرح ہم نے اس کو بلند…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی بغیر ستون کے، جن کا اسے کوئی سہارا ہو۔
6۔ 2 یعنی ستاروں سے مزین کیا۔
6۔ 3 اسی طرح کوئی فرق و تفاوت بھی نہیں ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيْرٌ ) 67۔ الملک :4-3)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
4: جس طرح ایک مردہ پڑی ہوئی زمین کو اللہ تعالیٰ بارش کے ذریعے زندگی عطا کردیتے ہیں کہ اس میں ڈالے ہوئے بیج سے طرح طرح کی سبزیاں، پھل اور اناج وجود میں آجاتا ہے، اسی طرح جو لوگ قبروں میں مٹی ہوچکے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ نئی زندگی دینے پر قادر ہیں۔
Read the full tafseer →مضمون یہ چل رہا تھا کہ یہ لوگ بعث بعد الموت اور حشر ونشر کے قائل نہ تھے۔ اس کے لئے بتایا گیا تھا کہ اس کے لئے یہی ثبوت کافی ہے کہ اس کائنات کی بنیاد حق پر ہے جو اس کے اندر جما ہوا ہے اور پہاڑ کی طرح بلند نظر آتا ہے۔ لہٰذا اب یہاں اس کائنات کے اندر پائے جانے والے حق کے بعض مناظر پیش کئے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ذرا آسمانوں اور زمین پر غور کرو ، زمین کے اندر جمے ہوئے پہاڑوں کو دیکھو۔ آسمانوں سے برسنے والی بارشوں کو دیکھو ، بلندیوں تک بڑھنے والے کھجور کے درختوں کو دیکھو ، با غات و نباتات کو دیکھو ، یہ سب حق کی علامات ہیں۔ جس طرح یہ چیزیں مستقل ہیں ، حق بھی مستقل ہے۔ نہایت ہی خوبصورت انداز میں…
Read the full tafseer →5 یعنی آسمان کو دیکھ لو، نہ بظاہر کوئی کھمبا نظر آتا ہے نہ ستون، اتنا بڑا عظیم الشان جسم کیسا مضبوط و مستحکم کھڑا ہے اور رات کو جب اس پر ستاروں کی قندیل اور جھاڑ فانوس روشن ہوتے ہیں تو کس قدر پر رونق اور خوبصورت نظر آتا ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں برس گزر گئے نہ اس چھت میں کہیں سوراخ ہوا، نہ کوئی کنکرہ گرا، نہ پلاسٹر ٹوٹا، نہ رنگ خراب ہوا، آخر کون سا ہاتھ ہے جس نے یہ مخلوق بنائی اور بنا کر اس کی ایسی حفاظت کی۔
Read the full tafseer →آیت 6 { اَفَلَمْ یَنْظُرُوْٓا اِلَی السَّمَآئِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْنٰـہَا وَزَیَّنّٰہَا وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوْجٍ۔ } ”تو کیا انہوں نے دیکھا نہیں آسمان کی طرف جو ان کے اوپر ہے کہ ہم نے اسے کیسے بنایا ہے اور کیسے اسے مزین کیا ہے اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔“
اس آیت کی کماحقہ ّتشریح تو کوئی ماہر فلکیات ہی کرسکتا ہے۔ بہرحال آج کا انسان خوب جانتا ہے کہ ستاروں ‘ سیاروں اور کہکشائوں کا نظام بہت محکم و مربوط ہے اور یہ کہ اس نظام میں کسی رخنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔
Read the full tafseer →7 اثبات توحید اور بعث بعد الموت کے دلائل :۔ اس آیت سے توحید کے دلائل اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے بیان کا آغاز ہوتا ہے۔ آسمان سے مراد وہ نیلگوں چھت ہے جوہر انسان کو برہنہ آنکھ سے دیکھنے پر کروی شکل میں اپنے سر پر چھائی ہوئی نظر آتی ہے اور سورج، چاند اور خوبصورت اور ننھے منے تارے اسی میں چمکتے دمکتے اور نگینوں کی طرح سجائے ہوئے نظر آتے ہیں اور کسی طاقتور دوربین کی مدد سے اوپر آسمان کی طرف نظر ڈالی جائے تو انسان حیرت کی اتھاہ گہرائیوں میں جا پڑتا ہے۔ اسے یہ سمجھ نہیں آسکتی کہ اس کائنات کا آغاز کہاں سے ہو رہا ہے اور اس کی انتہا کہاں تک ہے اور جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز…
Read the full tafseer →6۔ کمال علم کے بعد اب یہ بیان کمال قدرت کا ہورہا ہے ایک آسمان ہی پر جو کس وناکس ہر ایک کے مشاہدہ میں آرہا ہے، اور اس کی صناعی پر، عظمت وپہنائی پر، قوت و استحکام پر، ہر چیز پر غور کرو تو خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ تم امکان بعث سے انکار واستبعاد پر کتنی نادانی پر ہو۔ (آیت) ” کیف “۔ اس میں اشارہ آسمان کی رفعت و عظمت، وسعت وپہنائی، استحکام و خوشنمائی سب کی جانب آگیا۔ (آیت) ” وما لھا من فروج “۔ یعنی کسی قسم کا نقص وضعف اس میں نہیں۔ ہر طرح مکمل ہی مکمل ہے۔ (آیت) ” وزینھا “۔ آسمان کی آراستگی و زیبائی بھی چاند، سورج ستاروں وغیرہ سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
کفار مکہ تذبذب اور بےیقینی کا شکار تھے :
فی امر مریج، مریج کے معنی لغت میں مختلط کے ہیں جن میں مختلف چیزوں کا اختلاط و التباس ہو اور ایسی چیز عموماً فاسد ہوتی ہے، اسی لئے حضرت ابوہریرہ ؓ نے مریج کا ترجمہ فاسد فرمایا ہے اور ضحاک رحمتہ اللہ تعالیٰ و قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ اور حسن بصری وغیرہ نے مریج کا ترجمہ مختلط اور ملتبس سے کیا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین و منکرین رسالت اپنے انکار میں بھی کسی ایک بات پر نہیں جمتے کبھی آپ کو جادو گر بتاتے ہیں تو کبھی شاعر اور کبھی کاہن و نجومی اور قرآن کے بارے میں بھی ان کا یہی حال ہے۔
آگے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہے جو آسمان اور زمین اور ان کے…
Read the full tafseer →افلم ینظروا الی السماء فوقھم کیف بنینھا و زینھا ومالھا من فروج . کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا۔ ہم نے اس کو کیسا (اونچا اور بڑا) بنایا اور (ستاروں سے) اس کو سجایا اور اس میں کوئی رخنہ تک نہیں ہے۔
اللہ قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر کے اٹھانے پر قادر ہے۔ اس آیت میں اس کی دلیل بیان کی گئی ہے۔ ہمزۂ استفہام انکاریہ توبیخیہ ہے۔ فؔ کا عطف فعل محذوف پر ہے ‘ پورا کلام اس طرح ہے : کیا انہوں نے دوبارہ زندہ کیے جانے کی تکذیب کی ‘ پھر تکذیب کے بعد آسمان ‘ زمین وغیرہ (یعنی نشانہائے قدرت) کو نہیں دیکھا ؟
بَنَیْنٰھَا : ہم نے اس کو بنایا اور بغیر کسی ستون کے بلند رکھا اور ستاروں سے اس کو…
Read the full tafseer →کیا ان کفار مکہ نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو بلا ستون کے کیسا اونچا بنایا ہے اور آسمان کو ستاروں سے آراستہ کیا ہے اس میں کوئی رخنہ اور پھٹن شگاف اور کوئی عیب تک نہیں۔
Read the full tafseer →(1) افلم ینظروا الی السمآء : کفار نے جن چیزوں کو جھٹلایا ان میں سے ایک اہم چیز دوبارہ زندگی تھی، اس لئے یہاں سے اس کے کچھ مزید دلائل بیان فرمائے۔”افلم ینظروآ“ میں ”نظر“ کا معنی اگرچہ غو رو فکر بھی ہے، مگر اولین معنی دیکھنا ہے اور اس میں زیادہ زور ہے کہ ان مخلوقات کے دوبارہ زندگی پر دلالت کے لئے انہیں صرف آنکھوں کے دیکھ لینا ہی کافی ہے۔ یعنی آسمانوں کا بنانا انہیں ستاروں کے ساتھ سجانا اور زمین کو پیدا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں بنانے والا انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ دوسری جگہ یہی بات زیادہ صریح الفاظ میں بیان فرمائی ہے :(اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت والارض ولم یغی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6 ۔ 11:۔ افلم ینظروا الی السماء فوقھم عبرت اور تفکر کی نظر سے نہیں دیکھتے اور یہ نہیں سوچتے کہ وہ ذات جو انہیں پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے۔
کیف بنینھا ہم نے انہیں بغیر ستونوں کے بلند کردیا ہے۔ وزینھا اور ہم نے انہیں ستاروں سے مزین کیا ہے۔ ومالھا من فروج، فروج، فرج کی جمع ہے جس کا معنی شق ہے۔
مرء القیس کے شعر میں بھی یہ لفظ سی معنی میں ہے :
تسد بہ فر جھا من دبر
کسائی نے کہا : اس میں کوئی تقدت، اختلاف اور پھٹن نہیں۔ والارض مددنھا وا لقینا فیھا رواسی۔ سورة رعد میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ واثبتنا فیھا من کل زوج یعنی نباتات کی تمام انواع سے۔ بھیج، حسین جو دیکھنے والوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
18:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی امرمریج '' میں مریج سے مراد ہے ملتبس (آیت ) '' ومالھا من فروج '' (اور اس میں کوئی شگاف نہیں یعنی دراڑیں)
19:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' من کل زوج بھیج '' کے بارے میں بتائیے فرمایا '' زوج '' سے مراد ہے واحد اور بھیج سے مراد ہے خوبصورت پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے اعشی کو نہیں سنا اور وہ کہتا ہے۔
وکل زوج من الدیباج یلبسہ ابوقدامہ محبوک یداہ معا :
ترجمہ : اور ریشم کا ہر وہ جوڑا جسے ابوقدام پہنتا…
Read the full tafseer →اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓا [ تو کیا انہوں نے دیکھا ہی نہیں ] اِلَى السَّمَاۗءِ فَوْقَهُمْ [ آسمان کی طرف اپنے اوپر ] كَيْفَ بَنَيْنٰهَا [ کیسا ہم نے بنایا اس کو ] وَزَيَّنّٰهَا [ اور سجایا اس کو ] وَمَا لَهَا [ اور نہیں ہیں اس میں ] مِنْ فُرُوْجٍ [ کوئی بھی دراڑیں ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ شانہ ٗنے ان کا اعجاب دور کرنے کے لیے مزید فرمایا ﴿ اَفَلَمْ يَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ ﴾ (الآیۃ) کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا ہم نے اسے کیسا بنایا ہے (بغیر کسی ستون کے کھڑا ہے) اور ہم نے اسے زینت دی ہے یعنی ستاروں کے ذریعے اس کو مزین کردیا ہے۔
﴿وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ 006﴾ (اور آسمانوں میں شگاف نہیں ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
بیان عظمت کلام خداوندی و انکار منکرین وتعجب بر حشر ونشر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ق والقران المجید ....... الی ...... کذلک الخروج “۔
(ربط) سورة حجرات کے مضامین کا اختتام اس امر کے بیان پر تھا کہ اسلام کی توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہدایت ہے اور اس کا عظیم انعام ہے اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے ایمان پر استقامت اور دین حق پر ثابت قدمی اس اعتقاد ویقین پر موقوف ہے کہ حق تعالیٰ شانہ بندہ کی ہر حالت سے باخبر ہے اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے تو اس مناسبت سے اب سورة ق کی ابتداء عظمت کلام خدا وندی سے کی جارہی ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہدایت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
6:۔ ” افلم ینظرو۔ تا۔ واحیینا بہ بلدۃ میتا “ یہ ثبوت قیامت اور حشر نشر پر پہلی اور مفصل عقلی دلیل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ان تمام امور پر قادر ہے، وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” افلم ینظروا الی السماء الخ “ یہ عالم علوی سے استدلال ہے۔ کیا ان منکرین نے اپنے اوپر آسمان کی طرف کبھی نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس خوبی سے محکم بنایا اور ستونوں کے بغیر اسے تھام رکھا ہے۔ اور جگمگاتے ستاروں سے اسے زینت و آرائش بخشی ہے اور اس میں کوئی سوراخ و اور شگاف نہیں۔ ” والارض مددناھا۔ الایۃ “ یہ عالم سفلی کی طرف اشارہ ہے اور زمین کو ہم نے کس طرح بچھا دیا ہے اور اس پر پہاڑ رکھ دئیے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
ربط آیات
ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت اور وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ، اور فرمایا کہ یہ کون سی تعجب کی بات ہے کہ اللہ نے انہی میں سے ایک شخص کو منذر بنا کر بھیجا ہے اور اس کے ذریعے اپنا پیغام مخلوق تک پہنچایا ہے۔ انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ انسانوں ہی سے رسول بنا کر ان کی طرف بھیجتا رہا ۔ اب اللہ کا آخری رسول بھی انہی میں سے تو یہ کوئی عجیب بات تو نہیں ہے۔ اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے ۔ اور ہمارے اجسام ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں رل مل جائیں گے تو ہم دوبارہ…
Read the full tafseer →اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓااِلَى السَّمَاۗءِ فَوْقَہُمْ كَيْفَ بَنَيْنٰہَا وَزَيَّنّٰہَا وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوْجٍ 6
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
اَفَلَمْ یَنْظُرُوْٓا اِلَی السَّمَآئِ فَوْقَھُمْ کَیْفَ بَنَیْنٰـھَا وَزَیَّنّٰھَا وَمَا لَھَا مِنْ فُرُوْجٍ ۔ وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰـھَا وَاَلْقَیْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ وَاَنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ م بَھِیْجٍ ۔ تَبْصِرَۃً وَّذِکْرٰی لِکُلِّ عَبْدٍمُّنِیْبٍ ۔ (قٓ: 6 تا 8)
(تو کیا انھوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا، کیسے ہم نے اس کو بنایا اور آراستہ کیا اور کہیں اس میں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ گاڑ دیئے اور اس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگا دیں۔ آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرنے والوں کو زمین و آسمان کی تخلیق پر غور کرنے کا حکم۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر زمین و آسمان پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ ہر مقام پر چند الفاظ کے تکرار کے سوا نئے الفاظ کے ساتھ نیا استدلال پیش کیا ہے۔ اسی اصول کے تحت قیامت کے دن جی اٹھنے کا انکار کرنے والوں کو توجہ دلائی ہے کہ چند الفاظ کے ذریعے لوگوں کی توجہ ان حقائق کی طرف مبذول کروائی گئی ہے۔ کیا لوگ اپنے اوپر تنے ہوئے آسمان کی طرف غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح بنایا اور سجایا ہے اور اس میں کسی قسم کا شگاف نہیں پایا جاتا۔ اسی نے زمین کو بچھایا اور اس…
Read the full tafseer →بیانِ قدرت کا ایک انداز :
آیت 6 : پھر بعث بعدالموت پر اپنی قدرت کو بیان فرمایا۔ اَفَلَمْ یَنْظُرُوْٓا (کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا) جب انہوں نے بعث کا انکار کیا۔ اِلَی السَّمَآئِ فَوْقَہُمْ (اپنے اوپر کی طرف آسمان کو) جہان کو پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آثار کو کَیْفَ بَنَیْنٰـہَا (ہم نے اس کو کیسابنایا) بلا ستون بلند کیا۔ وَزَیَّنّٰہَا ( اور اس کو نیرات سے آراستہ کیا) وَمَالَہَا مِنْ فُرُوْجٍ (اور اس میں کوئی رخنہ تک نہیں) چرنے اور پھٹنے سے یعنی وہ عیوب سے صحیح سالم ہے۔ نہ دراڑ نہ چیر نہ خرابی۔
Read the full tafseer →5 ۔” بل کذبوا بالحق “ قرآن کو۔ ” لما جاء ھم فھم فی امر مریج “ ملے جلے۔ سعید بن جبیر و مجاہد (رح) فرماتے ہیں مشتبہ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس آیت میں بیان ہے کہ جو حق کو چھوڑ دے گا تو اس پر اس کا معاملہ فاسد اور دین مشتبہ ہوجائے گا اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ نہیں چھوڑا کسی قوم نے حق کو مگر ان کا معاملہ فاسد ہوگیا اور زجاج (رح) نے ذکر کیا ہے کہ معنی ہے کہ ان کا معاملہ مل جل گیا ہے۔ پس فرمایا کہ وہ لوگ کبھی نبی کریم ﷺ کو شاعر کہتے، کبھی جادو گر اور کبھی تعلیم یافتہ اور کبھی قرآن کو جادو اور کبھی گھڑی ہوئی چیز کہتے تو ان کا معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا۔ پھر اپنی قدرت پر ان کو دلیل دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ حروف مقطعات کا بیان سورة بقر کے شروع میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آ کر محمد رسول ﷺ کے رسول ہونے کی اور قرآن کو اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کر دے گا تو ہم مان لیں گے۔ محمد ﷺ تو ہم جیسے انسان ہیں ان کی باتوں کا ہمیں یقین نہیں آتا۔ اس کا جواب تفصیل سے سورة انعام میں ہے مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ فرشتہ کو اصل صورت میں دیکھنا تو عام لوگوں کی طاقت سے باہر ہے سوائے اللہ کے رسول کے عام لوگوں میں سے فرشتہ کو جو کوئی اصل صورت میں دیکھے گا وہ فوراً مرجائے گا۔ اس لئے فرشتہ بھی ان لوگوں کے پاس آئے گا تو انسان کی صورت میں آئے گا۔ پھر ان لوگوں کا شبہ بھی باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کا حال اور ان کے قابل مذمت افعال کا ذکر کرنے کے بعد، انہیں آیات آفاقیہ میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ عبرت حاصل کریں اور ان امور پر استدلال کریں جن کے لئے ان کو دلیل بنایا ہے، فرمایا : (افلم ینظروا الی السماء فوقھم) ” کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ “ یعنی غور و فکر کی یہ نظر کسی مشقت اور سامان سفر باندھنے کی محتاج نہیں بلکہ بہت آسان ہے۔ وہ دیکھیں (کیف بنینھا) کہ ہم نے اسے کیسے ایک گنبد بنایا، جو اپنے کناروں پر برابر اور مضبوط بنیاد رکھتا ہے، جسے ان ستاروں سے آراستہ کیا گیا ہے جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور چلتے چلتے غائب ہوجاتے ہیں، جو ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →[ 8] آسمان میں غور و فکر کی دعوت کا ذکر وبیان :
سو آسمان اور اس میں موجود سامان عبرت و بصیرت میں غور وفکر کی دعوت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر تنی ہوئی آسمان کی اس عظیم الشان چھت میں کبھی غور نہیں کیا کہ ہم نے اس کو کس پُر حکمت طریقے سے بنایا اور یہ کہ ہم نے اسے عظیم الشان چراغوں کے ذریعے مزین کیا۔ جن جیسے دوسرے کوئی عظیم الشان چراغ انسان نے نہ کبھی دیکھے ہیں، اور نہ ہی وہ ایسا سوچ ہی سکتا ہے، اور جب ان کو ظاہری روغن و اسباب کے بغیر ہم نے اس طرح روشن ومنور کردیا تو پھر ہمارے لئے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے، نیز اس میں یہ درس بھی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیات 1 تا 15۔
اسرار ومعارف۔
ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…
Read the full tafseer →ف 3 کہ اس کے کہیں ستون تک نظر نہیں آتے۔ “
4 جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : ما تری فی خلق الرحمٰن من تفوت “ ” تم اللہ کی خلق میں کوئی خلل نہیں پاتے ہو
Read the full tafseer →(50:6) افلم ینظروا۔ ہمزرہ استفہامیہ انکاریہ ہے اورعاطفہ سے قبل کلام مقدرہ ہے۔ ای اعموا فلم ینظروا۔ کیا وہ اندھے ہیں اور انہوں نے نہیں دیکھا ہے۔ لم ینظروا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ جمع مذکر غائب۔ انہوں نے نہیں دیکھا۔
بینھا : بنینا۔ ماضی جمع متکلم بناء (باب ضرب) مصدر۔ ب ن ی مادہ۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع السمآء ہے۔ ہم نے اس کو (کس طرح) بنایا ہے۔
زینھا : زینا ماضی جمع متکلم تزئین تفعیل مصدر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب برائے السماء ہے ہم نے اس کو مزین کیا ہے ۔ ہم نے اس کو زینت بخشی۔ لہا : ای فیہا۔
فروج : فرج کی جمع ۔ شگاف۔ دراڑیں۔ سوراخ (اور اس میں کہیں دراڑ تک نہیں) الفرج کے معنی دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 :
عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔
تشریح : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
صفات باری تعالی۔
(ف 1) کفار قدرت الٰہی میں شک رکھتے ہیں کیا انہوں نے اس کے کارخانہ قدرت نہیں دیکھے کیا انہوں نے اپنے سروں پر آسمان نہیں دیکھا یہ نہیں سوچا کہ ہم نے اس کو کس حکمت سے مضبوط ومستحکم بغیر ستون بنایا اور رات کو جب اس پرستاروں کی قندیل اور جھاڑ فانوس روشن ہوتے ہیں تو کس قدر پررونق اور خوبصورت نظر آتا ہے پھر لطف یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں برس گزر گئے نہ اس چھت میں کہیں سوراخ ہوانہ کوئی کنگرہ گرا، نہ پلاسٹر ٹوٹا، نہ رنگ خراب ہوا، آخر کون ساہاتھ ہے جس نے یہ مخلوق بنائی اور بنا کر اس کی حفاظت کی، پھر فرمایا کہ زمین کو نہیں دیکھتے پانی پر اس کو کس قدرت کاملہ سے پھیلایا اور اس کے ثابت ومضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
[2] یعنی پیغمبر کو کبھی شاعر بتاتے ہیں، کبھی جادوگر، کبھی مجنوں، کبھی کچھ کبھی کچھ۔ یہ متضاد باتیں خود ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ایک ذہنی الجھن میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة ق
فرمایا : کہ قرآن کی لفظی ومعنوی بزرگی اور عظمت خود قرآن پر وال ہے ۔ اور جس شخص نے اس صحیفہ مقدس کا بغور مطالعہ کیا ہے ۔ وہ اس کے محاسن سے متاثر ہو کر مجبور ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کی سچائی پر گواہی دے اور یہ کہہ دے ۔ کہ اتنی بڑی کتاب ۔ اتنا مکمل زندگی کا پروگرام ، اور اتنے خوارق علمیہ کا حامل مجموعہ ناممکن ہے ۔ کہ انسانی دماغ کی اختراع وایجاد قرار دیا جاسکے ۔ مگر ان مکہ کے ناسمجھ لوگوں کو اس کتاب ہدیٰ کی رفعتوں کا اندازہ نہیں ہوتا ۔ انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ ان میں کا ایک آدمی کیونکر منصب نبوت پر فائز ہوسکتا ہے ۔ ان کے نزدیک پیغمبر کے لئے ضروری ہے ۔ کہ وہ فوق البشر شخصیت ہو ۔ پھر انہیں…
Read the full tafseer →(6) کیا ان لوگوں نے آسمان کی جانب جو ان کے اوپر ہے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو کیسا بنایا اور کس طرح اس کو آراستہ کیا اور اس کو زینت دی اور اس میں کہیں کوئی شگاف اور ڈڑاڑ نہیں۔
یعنی آسمان جو ان کے اوپ رہے اور نہایت آسانی سے جب نگاہ اٹھائے دیکھ سکتے ہیں کبھی نظر نہیں ڈالی کہ ہم نے اس کو کیسا اونچا بنایا اور اس کو تاروں سے کیسی زینت بخشی اور پھر مردرزمان کے باوجود اس میں نہ کوئی بال پڑا نہ شگاف نہ دڑاڑ نہ اس میں کوئی سوراخ ہوا جیسا کہ عام تعمیرات میں ہوا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 2۔ اس لئے کہ کبھی تعجب ہے کبھی تکذیب ہے۔
Read the full tafseer →کیا انہوں نے اپنی نظروں کو آسمان کی طرف کبھی نہیں اٹھایا کہ وہ ان پر غور وفکر ہی کرلیتے
6 ۔ قرآن کریم نے بار بار اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جو تلاش کرتا ہے اسی کو ملتا ہے اور جو تلاش نہیں کرتا وہ محروم رہتا ہے اس تلاش کے سلسلہ میں بات کی جارہی ہے کہ ان لوگوں نے کبھی آسمان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا جو ان کے سروں پر ہے اگر وہ دیکھتے تو اس آسمان کی کشش ہی شاید ان کو اپنی طرف کھینچ لیتی اور اللہ تعالیٰ کی حکمت و ربوبیت کے بدیہی نشانات وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورج ، چاند اور ستاروں کو کس طرح آویزاں کردیا اور وہ باوجود مسلسل گردش میں رہنے کے کبھی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
After mentioning the confused state of the infidels, Allah draws man's attention to His infinite power which He demonstrated by creating what is bigger than that which they wondered about and whose possibility they discounted. Referring to the heaven, the Qur'an says: وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ (...and it has no cracks...50:6). Lexically, the word furuj is the plural of farj which means a crack, or an opening. This and the following few verses draw attention to the marvels of Allah's creation, the wonderful design in the universe, and to the flawless celestial firmament. If this was made by man…
Read the full tafseer →6 Question?
7 Here, by the sky is implied the whole firmament that man finds spread over him, day and night, in which the sun shines in the day and the moon and countless stars glitter at night, which amazes him even when he sees it with the bare eye, but which appears as a vast, limitless Universe when he looks at it through the telescope. It seems to be starting from nowhere and ending nowhere. Millions of times larger planets than our earth are moving in it like tiny balls; thousands of times brighter stars than ow sun are shining in it our this entire solar system is located in a comer of…
Read the full tafseer →