Explained with ayahs 6–11
اللہ کے محیر العقول شاہکار
یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں چناچہ سورة تبارک میں فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ) 67۔ الملک :3) ، اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
سورة قٓ 9
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، النحل، حواشی 12۔ 13۔ 14۔ جلد سوم، النمل، حواشی 73۔ 74۔ جلد چہارم، الزخرف، حاشیہ 7۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
کیا آسمان نظر آتا ہے ؟
(آیت) اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓا اِلَى السَّمَاۗءِ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان نظر آتا اور مشہور یہ ہے کہ یہ نیلگوں رنگ جو نظر آتا ہے یہ ہوا کا رنگ ہے مگر اس کی نفی کی بھی کوئی دلیل نہیں کہ یہی رنگ آسمان کا بھی ہو، اس کے علاوہ آیت میں نظر سے مراد نظر عقلی بمعنی غور و فکر بھی مراد ہو سکتی ہے . (بیان القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
افلم ینظروا الی السمآء فوقھم کیف بنیاھا وزینھا وما لھا من فروج، والارض مددنھا مالقینا فیھا رواسی وانبتنا فیھا من کل زوج بھیج، تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (8-6)
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی طرف اشارہ
یہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین قیامت کو اپنی قدرت، ربوبیت اور حکمت کی ان بدیہی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو اوپر اور نیچے ہر جگہ نظر آتی ہیں اور ہر اس شخص کے اندر بصیرت اور یاد دہانی پیدا کرنے کے لئے کافی ہیں جس کے سینہ میں اثر پذیر اور متوجہ ہونے والا دل ہو۔
سب سے پہلے اپنی عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی کہ کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں اٹھائی کہ دیکھتے کہ کس طرح ہم نے اس کو بلند…
Read the full tafseer →7۔ 1 اور بعض نے زوج کے معنی جوڑا کیا ہے یعنی ہر قسم کی نباتات اور اشیا کو جوڑا جوڑا (نر مادہ) بنایا ہے بھیج کے معنی خوش منظر شاداب اور حسین
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
4: جس طرح ایک مردہ پڑی ہوئی زمین کو اللہ تعالیٰ بارش کے ذریعے زندگی عطا کردیتے ہیں کہ اس میں ڈالے ہوئے بیج سے طرح طرح کی سبزیاں، پھل اور اناج وجود میں آجاتا ہے، اسی طرح جو لوگ قبروں میں مٹی ہوچکے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ نئی زندگی دینے پر قادر ہیں۔
Read the full tafseer →ایسی ہی صفات زمین کے لئے استعمال ہوئی ہیں کیونکہ زمین بھی اس کائنات کی کتب کا ایک سور ہے۔ اور اسے ثبات اور کمال و جمال اور قرار حاصل ہے۔ زمین کو آسمانوں کے بالمقابل لایا گیا۔
والارض مددنھا ۔۔۔۔۔ کل زوج بھیج (50 : 7) ” اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگادیں ”۔
زمین کا بچھایا ہوا ہونا ، پہاڑوں کا جما ہوا ہونا اور نباتات کا خوبصورت ہونا ، تمام صفات کمال و جمال دکھانے والی چیزیں ہیں اور بادی النظر میں یہ صفات نظر آتی ہیں۔ آسمان کی خوبصورت اور طویل و عریض تعمیر ، اور بچھی ہوئی زمین اور بلند وبالا پہاڑوں کے مناظر دکھا کر ان لوگوں کے دل و دماغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6 یعنی جو آدمی خدا کی طرف رجوع کرتا ہو محض ان ہی محسوسات کے دائرہ میں الجھ کر نہ رہ جائے اس کے لیے آسمان و زمین کی تخلیق و تنظیم میں دانائی و بینائی کے کتنے سامان ہیں جن میں ادنیٰ غور کرنے سے صحیح حقیقت تک پہنچ سکتا ہے۔ اور بھولے ہوئے سبق اس کو یاد آسکتے ہیں۔ پھر خدا جانے ایسی روشن نشانیوں کی موجودگی میں بھی یہ لوگ کیونکر حق کو جھٹلانے کی جرأت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 7 { وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰـہَا وَاَلْقَیْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ } ”اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے اور ہم نے اس میں لنگر ڈال دیے ہیں“
ماہرین طبقات الارض Geologists بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زمین کی گردش کے دوران اس کا توازن isostacy برقرار رکھنے میں پہاڑوں کا انتہائی اہم کردار ہے۔
{ وَاَنْبَتْنَا فِیْہَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍم بَہِیْجٍ۔ } ”اور ہم نے اس میں ہر طرح کی بڑی ہی رونق والی چیزیں جوڑوں کی شکل میں پیدا کردیں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8 زمین کی تخلیق اور فوائد :۔ یہ دوسری دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اتنا وسیع بنادیا اور پھیلا دیا کہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے جانوروں اور انسانوں کے لئے مسکن اور مستقر کا کام دے سکے اور وہ اتنی پیداوار اگا سکے جس سے تمام جانداروں اور انسانوں کو تاقیامت رزق مہیا ہوتا رہے۔ نیز ان جانوروں اور انسانوں کے مرنے کے بعد ان کے مدفن کا کام بھی دے سکے۔
9 پہاڑوں کی تخلیق اور فوائد :۔ اس آیت اور کئی دیگر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی پیدائش الگ چیز ہے اور پہاڑوں کی پیدائش الگ چیز ہے۔ پہاڑ زمین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ بعد میں پیدا کئے گئے اور پہاڑوں کی پیدائش کا سب سے بڑا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7۔ آسمان کے بعد اب زمین کی صناعیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اور مطلب یہ ہوا کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر کی گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے۔ لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا، یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت وقصد بھی اسی کا رکھتے ہیں۔ (آیت) ” والارض مددنھا “۔ زمین کے عظیم الشان پھیلاؤ کی طرف اشارہ ہے۔ (آیت) ” والقینا فیھا رواسی “۔ پہاڑوں کے قائم اور نصب کرنے کی ساری حکمتیں اس کے اندر آگئیں۔ (آیت) ” تبصرۃ ..... منیب “۔ ان عظیم الشان وحیرت انگیز مظاہر قدرت سے بھی عبرت وتذکرکاسبق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
کفار مکہ تذبذب اور بےیقینی کا شکار تھے :
فی امر مریج، مریج کے معنی لغت میں مختلط کے ہیں جن میں مختلف چیزوں کا اختلاط و التباس ہو اور ایسی چیز عموماً فاسد ہوتی ہے، اسی لئے حضرت ابوہریرہ ؓ نے مریج کا ترجمہ فاسد فرمایا ہے اور ضحاک رحمتہ اللہ تعالیٰ و قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ اور حسن بصری وغیرہ نے مریج کا ترجمہ مختلط اور ملتبس سے کیا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین و منکرین رسالت اپنے انکار میں بھی کسی ایک بات پر نہیں جمتے کبھی آپ کو جادو گر بتاتے ہیں تو کبھی شاعر اور کبھی کاہن و نجومی اور قرآن کے بارے میں بھی ان کا یہی حال ہے۔
آگے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہے جو آسمان اور زمین اور ان کے…
Read the full tafseer →والارض مددنھا والقینا فیھا رواسی وانبتنا فیھا من کل زوج بھیج تبصرۃ و ذکری لکل عبد منیب . اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑوں کو جمایا اور اس میں ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگائیں جو ذریعہ ہے
بینائی اور دانائی کا ہر رجوع کرنے والے بندے کے لیے۔
اس کلام میں کچھ حذف و اضمار ہے ‘ اصل کلام اس طرح تھا : کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ‘ ہم نے آسمان کیسا بنایا اور کیا انہوں نے اپنے نیچے زمین کی طرف نہیں دیکھا ہم نے زمین کو کیسے پھیلایا اور بچھایا۔
رَوَاسِیَ : گڑے ہوئے پہاڑ۔
مِنْ کُلِّ زَوْجٍ : ہر قسم کا سبزہ۔
بَھِیْجٍ : حسن اور فرحت و بہجت والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(7۔ 8) اور زمین کو ہم نے پانی پر بچھایا ہے اور زمین پر پہاڑوں کو جما دیا جو اس کی میخیں ہیں تاکہ زمین ان کو لے کر حرکت نہ کرنے لگے اور اس میں ہر قسم کی خوشنما چیزیں لگائیں تاکہ یہ دیکھیں اور نصیحت حاصل کریں یا یہ کہ جو غوروفکر اور نصیحت کا ذریعہ ہے ہر اس بندے کے لیے جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاعت کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →والارض مددنھا…:”بھیج“”بھجۃ“ سے صفت کا صیغہ ہے، جوابی والی۔ اس آیت کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حجر (19) ، نجل (15) طہ، (53) ، نمل (6061) ، لقمان (10) ، زخرف (10 تا 14) اور سورة مرسلات (25 تا 27)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6 ۔ 11:۔ افلم ینظروا الی السماء فوقھم عبرت اور تفکر کی نظر سے نہیں دیکھتے اور یہ نہیں سوچتے کہ وہ ذات جو انہیں پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے۔
کیف بنینھا ہم نے انہیں بغیر ستونوں کے بلند کردیا ہے۔ وزینھا اور ہم نے انہیں ستاروں سے مزین کیا ہے۔ ومالھا من فروج، فروج، فرج کی جمع ہے جس کا معنی شق ہے۔
مرء القیس کے شعر میں بھی یہ لفظ سی معنی میں ہے :
تسد بہ فر جھا من دبر
کسائی نے کہا : اس میں کوئی تقدت، اختلاف اور پھٹن نہیں۔ والارض مددنھا وا لقینا فیھا رواسی۔ سورة رعد میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ واثبتنا فیھا من کل زوج یعنی نباتات کی تمام انواع سے۔ بھیج، حسین جو دیکھنے والوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
18:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی امرمریج '' میں مریج سے مراد ہے ملتبس (آیت ) '' ومالھا من فروج '' (اور اس میں کوئی شگاف نہیں یعنی دراڑیں)
19:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' من کل زوج بھیج '' کے بارے میں بتائیے فرمایا '' زوج '' سے مراد ہے واحد اور بھیج سے مراد ہے خوبصورت پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے اعشی کو نہیں سنا اور وہ کہتا ہے۔
وکل زوج من الدیباج یلبسہ ابوقدامہ محبوک یداہ معا :
ترجمہ : اور ریشم کا ہر وہ جوڑا جسے ابوقدام پہنتا…
Read the full tafseer →وَالْاَرْضَ [ اور (کیا دیکھتے نہیں ) زمین کو ] مَدَدْنٰهَا [ کیسا ) ہم نے پھیلایا اس کو ] وَاَلْقَيْنَا [ اور ہم نے ڈالے ] فِيْهَا رَوَاسِيَ [ اس میں کچھ پہاڑ ] وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا [ اور ہم نے اگائے اس میں ] مِنْ كُلِّ زَوْجٍۢ بَهِيْجٍ [ ہر شاداب جوڑے میں سے ]
(آیات ۔ 7 تا 11) وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا میں مددنا کی ضمیر مفعولی ھا آگئی ہے اس لیے الارض کو اس کا مفعول مقدم ماننے کی گنجائش ختم ہوگئی ۔ اب اس کو کسی فعل محذوف کا مفعول مانا جائے گا جو لم یروا ہوسکتا ہے ۔ اس طرح پورا جملہ یوں ہے۔ اولم یروا الارض کیف مددنھا ۔ ذکری یہاں محلا حالت نصب میں ہے۔ تبصرۃ اور ذکری دونوں کو حال بھی مانا…
Read the full tafseer →﴿وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا ﴾ (اور ہم نے زمین کو پھیلا دیا) ﴿ وَ اَلْقَيْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ ﴾ (اور ہم نے زمین میں بوجھل چیزیں یعنی پہاڑ ڈال دیئے) ۔ ﴿ وَ اَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِيْجٍۙ007﴾ اور ہم نے زمین میں ہر قسم کے پودے اور درخت پیدا کردیئے جو دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
بیان عظمت کلام خداوندی و انکار منکرین وتعجب بر حشر ونشر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ق والقران المجید ....... الی ...... کذلک الخروج “۔
(ربط) سورة حجرات کے مضامین کا اختتام اس امر کے بیان پر تھا کہ اسلام کی توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہدایت ہے اور اس کا عظیم انعام ہے اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے ایمان پر استقامت اور دین حق پر ثابت قدمی اس اعتقاد ویقین پر موقوف ہے کہ حق تعالیٰ شانہ بندہ کی ہر حالت سے باخبر ہے اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے تو اس مناسبت سے اب سورة ق کی ابتداء عظمت کلام خدا وندی سے کی جارہی ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہدایت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
6:۔ ” افلم ینظرو۔ تا۔ واحیینا بہ بلدۃ میتا “ یہ ثبوت قیامت اور حشر نشر پر پہلی اور مفصل عقلی دلیل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ان تمام امور پر قادر ہے، وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” افلم ینظروا الی السماء الخ “ یہ عالم علوی سے استدلال ہے۔ کیا ان منکرین نے اپنے اوپر آسمان کی طرف کبھی نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس خوبی سے محکم بنایا اور ستونوں کے بغیر اسے تھام رکھا ہے۔ اور جگمگاتے ستاروں سے اسے زینت و آرائش بخشی ہے اور اس میں کوئی سوراخ و اور شگاف نہیں۔ ” والارض مددناھا۔ الایۃ “ یہ عالم سفلی کی طرف اشارہ ہے اور زمین کو ہم نے کس طرح بچھا دیا ہے اور اس پر پہاڑ رکھ دئیے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
ربط آیات
ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت اور وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ، اور فرمایا کہ یہ کون سی تعجب کی بات ہے کہ اللہ نے انہی میں سے ایک شخص کو منذر بنا کر بھیجا ہے اور اس کے ذریعے اپنا پیغام مخلوق تک پہنچایا ہے۔ انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ انسانوں ہی سے رسول بنا کر ان کی طرف بھیجتا رہا ۔ اب اللہ کا آخری رسول بھی انہی میں سے تو یہ کوئی عجیب بات تو نہیں ہے۔ اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے ۔ اور ہمارے اجسام ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں رل مل جائیں گے تو ہم دوبارہ…
Read the full tafseer →وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰہَا وَاَلْقَيْنَا فِيْہَا رَوَاسِيَ وَاَنْۢبَتْنَا فِيْہَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍؚبَہِيْجٍ 7 ۙ
أرض
الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه .
( ا رض ) الارض
( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔
مد
أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
اَفَلَمْ یَنْظُرُوْٓا اِلَی السَّمَآئِ فَوْقَھُمْ کَیْفَ بَنَیْنٰـھَا وَزَیَّنّٰھَا وَمَا لَھَا مِنْ فُرُوْجٍ ۔ وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰـھَا وَاَلْقَیْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ وَاَنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ م بَھِیْجٍ ۔ تَبْصِرَۃً وَّذِکْرٰی لِکُلِّ عَبْدٍمُّنِیْبٍ ۔ (قٓ: 6 تا 8)
(تو کیا انھوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا، کیسے ہم نے اس کو بنایا اور آراستہ کیا اور کہیں اس میں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ گاڑ دیئے اور اس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگا دیں۔ آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرنے والوں کو زمین و آسمان کی تخلیق پر غور کرنے کا حکم۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر زمین و آسمان پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ ہر مقام پر چند الفاظ کے تکرار کے سوا نئے الفاظ کے ساتھ نیا استدلال پیش کیا ہے۔ اسی اصول کے تحت قیامت کے دن جی اٹھنے کا انکار کرنے والوں کو توجہ دلائی ہے کہ چند الفاظ کے ذریعے لوگوں کی توجہ ان حقائق کی طرف مبذول کروائی گئی ہے۔ کیا لوگ اپنے اوپر تنے ہوئے آسمان کی طرف غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح بنایا اور سجایا ہے اور اس میں کسی قسم کا شگاف نہیں پایا جاتا۔ اسی نے زمین کو بچھایا اور اس…
Read the full tafseer →آیت 7 : وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰہَا (اور زمین کو ہم نے پھیلایا) وَاَلْقَیْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ (اور اس میں پہاڑوں کو جما دیا) قائم رہنے والے پہاڑ اگر نہ ہوتے تو زمین جھک جاتی۔ وَاَنْچبَتْنَا فِیْہَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ (اور اس میں ہر قسم کی چیزیں اگائیں) بَہِیْجٍ (خوش نما) جن سے سرور حاصل کیا جاتا ہے ان کے حسن کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →6 ۔” افلم ینظروا الی السماء فوقھم کیف بنینا ھا “ بغیر ستون کے ” وزینا ھا “ ستاروں کے ساتھ۔ ” وما لھا من فروج “ کوئی جوڑ کوئی شگاف کوئی پھٹن۔ اس کا واحد فرج ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ حروف مقطعات کا بیان سورة بقر کے شروع میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آ کر محمد رسول ﷺ کے رسول ہونے کی اور قرآن کو اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کر دے گا تو ہم مان لیں گے۔ محمد ﷺ تو ہم جیسے انسان ہیں ان کی باتوں کا ہمیں یقین نہیں آتا۔ اس کا جواب تفصیل سے سورة انعام میں ہے مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ فرشتہ کو اصل صورت میں دیکھنا تو عام لوگوں کی طاقت سے باہر ہے سوائے اللہ کے رسول کے عام لوگوں میں سے فرشتہ کو جو کوئی اصل صورت میں دیکھے گا وہ فوراً مرجائے گا۔ اس لئے فرشتہ بھی ان لوگوں کے پاس آئے گا تو انسان کی صورت میں آئے گا۔ پھر ان لوگوں کا شبہ بھی باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کا حال اور ان کے قابل مذمت افعال کا ذکر کرنے کے بعد، انہیں آیات آفاقیہ میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ عبرت حاصل کریں اور ان امور پر استدلال کریں جن کے لئے ان کو دلیل بنایا ہے، فرمایا : (افلم ینظروا الی السماء فوقھم) ” کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ “ یعنی غور و فکر کی یہ نظر کسی مشقت اور سامان سفر باندھنے کی محتاج نہیں بلکہ بہت آسان ہے۔ وہ دیکھیں (کیف بنینھا) کہ ہم نے اسے کیسے ایک گنبد بنایا، جو اپنے کناروں پر برابر اور مضبوط بنیاد رکھتا ہے، جسے ان ستاروں سے آراستہ کیا گیا ہے جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور چلتے چلتے غائب ہوجاتے ہیں، جو ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →[ 9] کُرہ ارضی میں دعوت غور و فکر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے بچھایا زمین کے اس عظیم الشان کرے کو اور اس کے اندر عظیم الشان لنگر ڈال دیے پہاڑوں کے۔ تاکہ تم اس میں امن و سکون کے ساتھ رہ بس سکو اور یہ کرہ ارضی تمکو لے ڈولنے نہ لگے، تو کیا یہ سب کچھ یونہی بےکار اور بےمقصد ہوسکتا ہے ؟ { تعالیٰ اللّٰہ عما یقولون علوا کبیراً }۔ بہرکیف اس ارشاد میں مکذبین و منکرین قیامت کے لئے آسمان و زمین میں پائے جانے والے عظیم الشان نشانہائے قدرت و ہدایت میں دعوت غور و فکر ہے، سو اگر یہ لوگ اپنے پاؤں تلے بچھے ہوئے اس کرہء ارضی اور اس میں پائے جانے والے سامان عیش وقرار ہی میں غور کرلیں اور اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیات 1 تا 15۔
اسرار ومعارف۔
ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ف 5 یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے میں تعجب کی کونسی بات ہے ؟ کیا تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بارش نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہوتی ہے جیسے اس میں زندگی کے کوئی آثار ہی نہیں۔ یکایک بارش ہوتی ہے تو اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور درخت اگتے ہیں گویا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس طرح تم بھی مرنے کے بعد زندہ کئے جاسکتے ہو۔
Read the full tafseer →(50:7) والارض معطوف علی موضع السمائ۔ ای فلم یروا الارض اور (کیا) انہوں نے (اپنے نیچے) زمین کو نہیں دیکھا۔ (تفسیر حقانی، جلالین)
مددنھا : مددنا : ماضی جمع متکلم مد (باب نصر) مصدر۔ لمبائی کے رخ کسی چیز کے کھینچنے یا بڑھانے کو کہتے ہیں ۔ اسی سے مدت دراز کو مدۃ کہتے ہیں ۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب الارض کی طرف راجع ہے۔ ہم نے اس کو پھیلا دیا۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے الم ترالی ربک کیف مدالظل (25:45) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تیرا رب سائے کو کس طرح دراز کرکے پھیلا دیتا ہے۔
القینا : ماضی جمع متکلم القاء (افعال) سے اس کے معنی ہیں کسی چیز کو اس طرح ڈال دینا کہ وہ دوسرے کو سامنے نظر آئے۔ پھر عرف میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 :
عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔
تشریح : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
صفات باری تعالی۔
(ف 1) کفار قدرت الٰہی میں شک رکھتے ہیں کیا انہوں نے اس کے کارخانہ قدرت نہیں دیکھے کیا انہوں نے اپنے سروں پر آسمان نہیں دیکھا یہ نہیں سوچا کہ ہم نے اس کو کس حکمت سے مضبوط ومستحکم بغیر ستون بنایا اور رات کو جب اس پرستاروں کی قندیل اور جھاڑ فانوس روشن ہوتے ہیں تو کس قدر پررونق اور خوبصورت نظر آتا ہے پھر لطف یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں برس گزر گئے نہ اس چھت میں کہیں سوراخ ہوانہ کوئی کنگرہ گرا، نہ پلاسٹر ٹوٹا، نہ رنگ خراب ہوا، آخر کون ساہاتھ ہے جس نے یہ مخلوق بنائی اور بنا کر اس کی حفاظت کی، پھر فرمایا کہ زمین کو نہیں دیکھتے پانی پر اس کو کس قدرت کاملہ سے پھیلایا اور اس کے ثابت ومضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
[2] یعنی پیغمبر کو کبھی شاعر بتاتے ہیں، کبھی جادوگر، کبھی مجنوں، کبھی کچھ کبھی کچھ۔ یہ متضاد باتیں خود ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ایک ذہنی الجھن میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة ق
فرمایا : کہ قرآن کی لفظی ومعنوی بزرگی اور عظمت خود قرآن پر وال ہے ۔ اور جس شخص نے اس صحیفہ مقدس کا بغور مطالعہ کیا ہے ۔ وہ اس کے محاسن سے متاثر ہو کر مجبور ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کی سچائی پر گواہی دے اور یہ کہہ دے ۔ کہ اتنی بڑی کتاب ۔ اتنا مکمل زندگی کا پروگرام ، اور اتنے خوارق علمیہ کا حامل مجموعہ ناممکن ہے ۔ کہ انسانی دماغ کی اختراع وایجاد قرار دیا جاسکے ۔ مگر ان مکہ کے ناسمجھ لوگوں کو اس کتاب ہدیٰ کی رفعتوں کا اندازہ نہیں ہوتا ۔ انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ ان میں کا ایک آدمی کیونکر منصب نبوت پر فائز ہوسکتا ہے ۔ ان کے نزدیک پیغمبر کے لئے ضروری ہے ۔ کہ وہ فوق البشر شخصیت ہو ۔ پھر انہیں…
Read the full tafseer →(7) اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں ہم نے بھاری بھاری پہاڑ ڈالے اور پہاڑوں کو جما دیا اور ہم نے اس زمین میں سے ہر قسم کی پررونق چیزیں اگائیں۔ یعنی قسم قسم کی نباتات ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 2۔ اس لئے کہ کبھی تعجب ہے کبھی تکذیب ہے۔
Read the full tafseer →کیا ہم نے اس زمین میں پہاڑوں کو نہیں گاڑ دیا اور اس میں طرح طرح کی چیزیں نہیں اگائیں
7 ۔ کیا ان لوگوں نے اپنے پائوں کی طرف کبھی نہیں دیکھا اور غور کیا کہ ان کے پائوں تلے جو زمین نظر آرہی ہے اس زمین کو پیدا کرنے والا اس کو اس طرح پھیلانے والا اور پھر اس میں ان چیزوں کے پیدا ہونے کی صلاحیت رکھنے والا کون ہے ؟ لاریب وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اس کو پیدا کیا اور اس میں پہاڑ بھی گاڑ دیئے تاکہ یہ اپنی جگہ سے ہلنے نہ پائے اور اس کا توازن قائم رہے اور پھر یہی نہیں بلکہ ان پہاڑوں کے اندر بیسیوں قسم کی دھاتیں تیار کردی ہیں نمک اور کوئلے کی کانوں سے لے کر ہیرے جواہرات اور سونے تک کی کانیں انہی پہاڑوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
After mentioning the confused state of the infidels, Allah draws man's attention to His infinite power which He demonstrated by creating what is bigger than that which they wondered about and whose possibility they discounted. Referring to the heaven, the Qur'an says: وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ (...and it has no cracks...50:6). Lexically, the word furuj is the plural of farj which means a crack, or an opening. This and the following few verses draw attention to the marvels of Allah's creation, the wonderful design in the universe, and to the flawless celestial firmament. If this was made by man…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
9 For explanation, sec E.N.'s 12, 13, 14 of An-Nahl, E.N.'s 73, 74 of An-Naml, and E.N. 7 of Az-Zukhruf.
Read the full tafseer →