Qaaf 50:8

Qaaf · from ayah 8

50:8

تَبْصِرَةً وَّذِكْرٰی لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ ۟تَبۡصِرَةً وَّذِكۡرٰى لِكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ

تاکہ رجوع لانے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Giving insight and a reminder for every servant who turns [to Allah].

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:8

یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اُس بندے کے لیے جو (حق کی طرف) رجوع کرنے والا ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تاکہ رجوع لانے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تاکہ ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے بینائی اور دانائی کا ذریعہ ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

تاکہ وہ اللہ سے لو لگانے والے ہر بندے کے لیے بصیرت اور نصیحت کا سامان ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

سوجھ اور سمجھ ہر رجوع والے بندے کے لیے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ سب) بصیرت اور نصیحت (کاسامان) ہے ہر اس بندے کے لئے جو (اﷲ کی طرف) رجوع کرنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہر اس بندے کو دکھانے اور یاد دلانے کے لیے جو رجوع کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(ان چیزوں میں) ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے بصیرت اور سبق (حاصل کرنے کا سامان) ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہر متوجہ ہونے والے بندے کی بصیرت اور یاد دہانی کے لئے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سامان بصیرت اور یاد دہانی کے طور پر ہر اس بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہوف (حق اور حقیقت کی طرف)

— مولانا اسحاق مدنی

جو ذریعہ ہے بینائی اور دانائی کا ہر رجوع ہونے والے بندے کیلئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ اللہ کی نشانیاں ہیں) سجھانے اور یاد دہانی کرانے کو ہر اس بندے کے لیے جو رجوع رکھے ہوئے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تاکہ رجوع کرنے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

All these are to serve as eye openers and as a lesson to every being who is prone to turn (to the Truth).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

as a source of vision and as a lesson to every servant (of Allah) who turns (to Him for guidance).

— Muhammad Taqi Usmani

as a source of vision and as a lesson to every servant (of Allah) who turns (to Him for guidance).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

An insight and a Reminder for every servant who turns to Allah in repentance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A vision and a reminder for every penitent slave.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Giving insight and a reminder for every servant who turns [to Allah].

— Saheeh International

This is a reminder and it sharpens the insight of every servant of God who turns to Him in repentance.

— Muhammad Sarwar

To give sight and as a reminder to every servant who turns frequently (to Allah).

— Muhammad Habib Shakir

An insight and an admonition for every bondman penitent.

— Abdul Majid Daryabadi

To be observed and commemorated by every devotee turning (to Allah).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–11

اللہ کے محیر العقول شاہکار یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں چناچہ سورة تبارک میں فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ) 67۔ الملک :3) ، اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–10

سورة قٓ 9 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، النحل، حواشی 12۔ 13۔ 14۔ جلد سوم، النمل، حواشی 73۔ 74۔ جلد چہارم، الزخرف، حاشیہ 7۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–11

کیا آسمان نظر آتا ہے ؟ (آیت) اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓا اِلَى السَّمَاۗءِ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان نظر آتا اور مشہور یہ ہے کہ یہ نیلگوں رنگ جو نظر آتا ہے یہ ہوا کا رنگ ہے مگر اس کی نفی کی بھی کوئی دلیل نہیں کہ یہی رنگ آسمان کا بھی ہو، اس کے علاوہ آیت میں نظر سے مراد نظر عقلی بمعنی غور و فکر بھی مراد ہو سکتی ہے . (بیان القرآن)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 6–8

افلم ینظروا الی السمآء فوقھم کیف بنیاھا وزینھا وما لھا من فروج، والارض مددنھا مالقینا فیھا رواسی وانبتنا فیھا من کل زوج بھیج، تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (8-6) اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی طرف اشارہ یہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین قیامت کو اپنی قدرت، ربوبیت اور حکمت کی ان بدیہی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو اوپر اور نیچے ہر جگہ نظر آتی ہیں اور ہر اس شخص کے اندر بصیرت اور یاد دہانی پیدا کرنے کے لئے کافی ہیں جس کے سینہ میں اثر پذیر اور متوجہ ہونے والا دل ہو۔ سب سے پہلے اپنی عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی کہ کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں اٹھائی کہ دیکھتے کہ کس طرح ہم نے اس کو بلند…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 یعنی آسمان و زمین کی تخلیق اور دیگر اشیا کا مشاہدہ اور ان کی معرفت ہر اس شخص کے لئے بصیرت و دانائی اور عبرت و نصیحت کا باعث ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–11

4: جس طرح ایک مردہ پڑی ہوئی زمین کو اللہ تعالیٰ بارش کے ذریعے زندگی عطا کردیتے ہیں کہ اس میں ڈالے ہوئے بیج سے طرح طرح کی سبزیاں، پھل اور اناج وجود میں آجاتا ہے، اسی طرح جو لوگ قبروں میں مٹی ہوچکے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ نئی زندگی دینے پر قادر ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (50 : 8) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لئے جو (حق کی طرف ) رجوع کرنے والا ہو ”۔ یہ بصیرت عطا کرنے والی باتیں ہیں۔ بصارت دینے والی باتیں ہیں اور دلوں کو قبولیت حق کے لئے کھولنے والی باتیں ہیں۔ اس مطالعہ سے انسانی دل و دماغ اور انسانی روح اس کائنات کے ساتھ جڑ جاتی ہے اور اس حکمت ، تربیت اور کمال تخلیق کو پا لیتی ہے جو اس کے اندر موجود ہے اور پھر جن لوگوں کا دل اپنے معبود کی طرف مائل ہوتا ہے وہ اپنے رب کے کمالات کو دیکھ کر لوٹ جاتا ہے۔ یوں انسانی دل اور اس عظیم اور خوبصورت کائنات کے درمیان اتحادو اتصال پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان کتاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 7–8

6 یعنی جو آدمی خدا کی طرف رجوع کرتا ہو محض ان ہی محسوسات کے دائرہ میں الجھ کر نہ رہ جائے اس کے لیے آسمان و زمین کی تخلیق و تنظیم میں دانائی و بینائی کے کتنے سامان ہیں جن میں ادنیٰ غور کرنے سے صحیح حقیقت تک پہنچ سکتا ہے۔ اور بھولے ہوئے سبق اس کو یاد آسکتے ہیں۔ پھر خدا جانے ایسی روشن نشانیوں کی موجودگی میں بھی یہ لوگ کیونکر حق کو جھٹلانے کی جرأت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 { تَـبْصِرَۃً وَّذِکْرٰی لِکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۔ } ”یہ اللہ کی نشانیاں ہیں سجھانے اور یاد دہانی کرانے کو ہر اس بندے کے لیے جو رجوع رکھے ہوئے ہو۔“ عَبْدِ مُنِیْب سے ایسا بندہ مراد ہے جس کی روح اور فطرت کا رخ اللہ کی طرف ہو۔ مطلب یہ کہ اگر کسی انسان کی فطرت سلیم اور روح زندہ ہو تب ہی یہ ”بصائر“ اس کے لیے مفید ہوں گے۔ ایسی صورت میں اسے کائنات میں بکھری اللہ کی نشانیاں نظر بھی آئیں گی اور ان نشانیوں سے اس کے دل میں خالق حقیقی کی ”یاد“ بھی تازہ ہوتی رہے گی۔ لیکن اگر کسی انسان کی فطرت مسخ اور روح مردہ ہوچکی ہو تو اس کا ”دیکھنا“ اور ”سننا“ اس کے لیے ہرگز مفید نہیں ہوگا۔ سورة الغاشیہ کی ان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

8 زمین کی تخلیق اور فوائد :۔ یہ دوسری دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اتنا وسیع بنادیا اور پھیلا دیا کہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے جانوروں اور انسانوں کے لئے مسکن اور مستقر کا کام دے سکے اور وہ اتنی پیداوار اگا سکے جس سے تمام جانداروں اور انسانوں کو تاقیامت رزق مہیا ہوتا رہے۔ نیز ان جانوروں اور انسانوں کے مرنے کے بعد ان کے مدفن کا کام بھی دے سکے۔ 9 پہاڑوں کی تخلیق اور فوائد :۔ اس آیت اور کئی دیگر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی پیدائش الگ چیز ہے اور پہاڑوں کی پیدائش الگ چیز ہے۔ پہاڑ زمین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ بعد میں پیدا کئے گئے اور پہاڑوں کی پیدائش کا سب سے بڑا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 7–8

7۔ آسمان کے بعد اب زمین کی صناعیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اور مطلب یہ ہوا کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر کی گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے۔ لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا، یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت وقصد بھی اسی کا رکھتے ہیں۔ (آیت) ” والارض مددنھا “۔ زمین کے عظیم الشان پھیلاؤ کی طرف اشارہ ہے۔ (آیت) ” والقینا فیھا رواسی “۔ پہاڑوں کے قائم اور نصب کرنے کی ساری حکمتیں اس کے اندر آگئیں۔ (آیت) ” تبصرۃ ..... منیب “۔ ان عظیم الشان وحیرت انگیز مظاہر قدرت سے بھی عبرت وتذکرکاسبق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–11

کفار مکہ تذبذب اور بےیقینی کا شکار تھے : فی امر مریج، مریج کے معنی لغت میں مختلط کے ہیں جن میں مختلف چیزوں کا اختلاط و التباس ہو اور ایسی چیز عموماً فاسد ہوتی ہے، اسی لئے حضرت ابوہریرہ ؓ نے مریج کا ترجمہ فاسد فرمایا ہے اور ضحاک رحمتہ اللہ تعالیٰ و قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ اور حسن بصری وغیرہ نے مریج کا ترجمہ مختلط اور ملتبس سے کیا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین و منکرین رسالت اپنے انکار میں بھی کسی ایک بات پر نہیں جمتے کبھی آپ کو جادو گر بتاتے ہیں تو کبھی شاعر اور کبھی کاہن و نجومی اور قرآن کے بارے میں بھی ان کا یہی حال ہے۔ آگے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہے جو آسمان اور زمین اور ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تَبْصِرَۃً وَ ذِکْرٰی : یہ دونوں لفظ تخلیق سماء و ارض کی علت غائی اور مقصود اصلی ہیں۔ تخلیق اشیاء کی اصل غایت ہی یہ ہے کہ ان کو دیکھ کر ایک واجب الوجود خالق ‘ قدیم وعلیم کی ہستی اور اسکی صفات پر استدلال کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ وہ ہر خرابی اور فناء سے پاک ہے۔ لِکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ : مخلوق پر غور کر کے اپنے رب کی طرف لوٹنے والے بندے کے لیے چونکہ ” عبد منیب “ کے لیے ہی یہ تخلیق نشیب و فراز ‘ بصیرت آفریں ہے ‘ اس لیے منیب کا لفظ خاص طور پر ذکر کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–8

(7۔ 8) اور زمین کو ہم نے پانی پر بچھایا ہے اور زمین پر پہاڑوں کو جما دیا جو اس کی میخیں ہیں تاکہ زمین ان کو لے کر حرکت نہ کرنے لگے اور اس میں ہر قسم کی خوشنما چیزیں لگائیں تاکہ یہ دیکھیں اور نصیحت حاصل کریں یا یہ کہ جو غوروفکر اور نصیحت کا ذریعہ ہے ہر اس بندے کے لیے جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاعت کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(تبصرۃ و ذکری …:”تبصرۃ“ اور ”ذکری“ یہ دونوں مفعول لہ ہیں، یعنی ہم نے یہ سب کچھ بنایا اور اس کا یہاں ذکر کیا ہے ہر اس آدمی کو دکھانے اور یاد دلانے کے لئے جو دھیان ہی نہ کرے اس کے لئے یہ سب کچھ بےفائدہ ہے۔ انہاں نوں بازار پھرایا، سارا شہر وکھایا آخر اتے آکھن لگا کجھ نہیں نظری آیا ”یعنی اندھے کو بازار دکھایا اور سارے شہر کی سیر کروائی، مگر اس نے آخر میں یہی کہا کہ مجھے کچھ دکھائی نہیں دیا۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–11

6 ۔ 11:۔ افلم ینظروا الی السماء فوقھم عبرت اور تفکر کی نظر سے نہیں دیکھتے اور یہ نہیں سوچتے کہ وہ ذات جو انہیں پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے۔ کیف بنینھا ہم نے انہیں بغیر ستونوں کے بلند کردیا ہے۔ وزینھا اور ہم نے انہیں ستاروں سے مزین کیا ہے۔ ومالھا من فروج، فروج، فرج کی جمع ہے جس کا معنی شق ہے۔ مرء القیس کے شعر میں بھی یہ لفظ سی معنی میں ہے : تسد بہ فر جھا من دبر کسائی نے کہا : اس میں کوئی تقدت، اختلاف اور پھٹن نہیں۔ والارض مددنھا وا لقینا فیھا رواسی۔ سورة رعد میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ واثبتنا فیھا من کل زوج یعنی نباتات کی تمام انواع سے۔ بھیج، حسین جو دیکھنے والوں کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–8

18:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی امرمریج '' میں مریج سے مراد ہے ملتبس (آیت ) '' ومالھا من فروج '' (اور اس میں کوئی شگاف نہیں یعنی دراڑیں) 19:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' من کل زوج بھیج '' کے بارے میں بتائیے فرمایا '' زوج '' سے مراد ہے واحد اور بھیج سے مراد ہے خوبصورت پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے اعشی کو نہیں سنا اور وہ کہتا ہے۔ وکل زوج من الدیباج یلبسہ ابوقدامہ محبوک یداہ معا : ترجمہ : اور ریشم کا ہر وہ جوڑا جسے ابوقدام پہنتا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَبْصِرَةً [ سمجھا نے (دکھا کر سمجھانے ) کے لیے ] وَّذِكْرٰى [اور یاد دہانی کے لیے ] لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ [ ہر متوجہ رہنے والے بندے کے لیے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ 008﴾ ہم نے ان سب چیزوں کو بصیرت اور نصیحت کا ذریعہ بنا دیا جو بھی بندہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو وہ اس کے مظاہر قدرت میں غور و فکر کر کے اللہ کی معرفت حاصل کرے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

بیان عظمت کلام خداوندی و انکار منکرین وتعجب بر حشر ونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ق والقران المجید ....... الی ...... کذلک الخروج “۔ (ربط) سورة حجرات کے مضامین کا اختتام اس امر کے بیان پر تھا کہ اسلام کی توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہدایت ہے اور اس کا عظیم انعام ہے اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے ایمان پر استقامت اور دین حق پر ثابت قدمی اس اعتقاد ویقین پر موقوف ہے کہ حق تعالیٰ شانہ بندہ کی ہر حالت سے باخبر ہے اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے تو اس مناسبت سے اب سورة ق کی ابتداء عظمت کلام خدا وندی سے کی جارہی ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہدایت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

6:۔ ” افلم ینظرو۔ تا۔ واحیینا بہ بلدۃ میتا “ یہ ثبوت قیامت اور حشر نشر پر پہلی اور مفصل عقلی دلیل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ان تمام امور پر قادر ہے، وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” افلم ینظروا الی السماء الخ “ یہ عالم علوی سے استدلال ہے۔ کیا ان منکرین نے اپنے اوپر آسمان کی طرف کبھی نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس خوبی سے محکم بنایا اور ستونوں کے بغیر اسے تھام رکھا ہے۔ اور جگمگاتے ستاروں سے اسے زینت و آرائش بخشی ہے اور اس میں کوئی سوراخ و اور شگاف نہیں۔ ” والارض مددناھا۔ الایۃ “ یہ عالم سفلی کی طرف اشارہ ہے اور زمین کو ہم نے کس طرح بچھا دیا ہے اور اس پر پہاڑ رکھ دئیے ہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

ربط آیات ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت اور وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ، اور فرمایا کہ یہ کون سی تعجب کی بات ہے کہ اللہ نے انہی میں سے ایک شخص کو منذر بنا کر بھیجا ہے اور اس کے ذریعے اپنا پیغام مخلوق تک پہنچایا ہے۔ انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ انسانوں ہی سے رسول بنا کر ان کی طرف بھیجتا رہا ۔ اب اللہ کا آخری رسول بھی انہی میں سے تو یہ کوئی عجیب بات تو نہیں ہے۔ اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے ۔ اور ہمارے اجسام ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں رل مل جائیں گے تو ہم دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَبْصِرَۃً وَّذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ۝ 8 ( بصر) مبصرۃ بَاصِرَة عبارة عن الجارحة الناظرة، يقال : رأيته لمحا باصرا، أي : نظرا بتحدیق، قال عزّ وجل : فَلَمَّا جاءَتْهُمْ آياتُنا مُبْصِرَةً [ النمل/ 13] ، وَجَعَلْنا آيَةَ النَّهارِ مُبْصِرَةً [ الإسراء/ 12] أي : مضيئة للأبصار وکذلک قوله عزّ وجلّ : وَآتَيْنا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً [ الإسراء/ 59] ، وقیل : معناه صار أهله بصراء نحو قولهم : رجل مخبث ومضعف، أي : أهله خبثاء وضعفاء، وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ مِنْ بَعْدِ ما أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولی بَصائِرَ لِلنَّاسِ [ القصص/ 43] أي : جعلناها عبرة لهم، وقوله عزّ وجل :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–8

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْٓا اِلَی السَّمَآئِ فَوْقَھُمْ کَیْفَ بَنَیْنٰـھَا وَزَیَّنّٰھَا وَمَا لَھَا مِنْ فُرُوْجٍ ۔ وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰـھَا وَاَلْقَیْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ وَاَنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ م بَھِیْجٍ ۔ تَبْصِرَۃً وَّذِکْرٰی لِکُلِّ عَبْدٍمُّنِیْبٍ ۔ (قٓ: 6 تا 8) (تو کیا انھوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا، کیسے ہم نے اس کو بنایا اور آراستہ کیا اور کہیں اس میں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ گاڑ دیئے اور اس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگا دیں۔ آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–8

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرنے والوں کو زمین و آسمان کی تخلیق پر غور کرنے کا حکم۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر زمین و آسمان پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ ہر مقام پر چند الفاظ کے تکرار کے سوا نئے الفاظ کے ساتھ نیا استدلال پیش کیا ہے۔ اسی اصول کے تحت قیامت کے دن جی اٹھنے کا انکار کرنے والوں کو توجہ دلائی ہے کہ چند الفاظ کے ذریعے لوگوں کی توجہ ان حقائق کی طرف مبذول کروائی گئی ہے۔ کیا لوگ اپنے اوپر تنے ہوئے آسمان کی طرف غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح بنایا اور سجایا ہے اور اس میں کسی قسم کا شگاف نہیں پایا جاتا۔ اسی نے زمین کو بچھایا اور اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 8 : تَبْصِرَۃً وَّ ذِکْرٰی (جو ذریعہ دانائی اور بینائی ہے) تاکہ ہم اس کے ذریعہ بصارت دیں اور ہم نصیحت کریں ہر ایک کو۔ لِکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ (ہر رجوع ہونے والے بندے کیلئے) جو اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا اور اس کی مخلوقات کے عجائبات میں سوچ و بچار کرنے والا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” والارض مددنا ھا “ ہم نے اس کو پانی پر بچھایا۔ ” والقینا فیھا رواسی “ پہاڑ ٹھوس ” وانبتنا فیھا من کل زوج بھیج “ خوبصورت پررونق دیکھنے سے نظر خوش ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ حروف مقطعات کا بیان سورة بقر کے شروع میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آ کر محمد رسول ﷺ کے رسول ہونے کی اور قرآن کو اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کر دے گا تو ہم مان لیں گے۔ محمد ﷺ تو ہم جیسے انسان ہیں ان کی باتوں کا ہمیں یقین نہیں آتا۔ اس کا جواب تفصیل سے سورة انعام میں ہے مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ فرشتہ کو اصل صورت میں دیکھنا تو عام لوگوں کی طاقت سے باہر ہے سوائے اللہ کے رسول کے عام لوگوں میں سے فرشتہ کو جو کوئی اصل صورت میں دیکھے گا وہ فوراً مرجائے گا۔ اس لئے فرشتہ بھی ان لوگوں کے پاس آئے گا تو انسان کی صورت میں آئے گا۔ پھر ان لوگوں کا شبہ بھی باقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 6–11

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کا حال اور ان کے قابل مذمت افعال کا ذکر کرنے کے بعد، انہیں آیات آفاقیہ میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ عبرت حاصل کریں اور ان امور پر استدلال کریں جن کے لئے ان کو دلیل بنایا ہے، فرمایا : (افلم ینظروا الی السماء فوقھم) ” کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ “ یعنی غور و فکر کی یہ نظر کسی مشقت اور سامان سفر باندھنے کی محتاج نہیں بلکہ بہت آسان ہے۔ وہ دیکھیں (کیف بنینھا) کہ ہم نے اسے کیسے ایک گنبد بنایا، جو اپنے کناروں پر برابر اور مضبوط بنیاد رکھتا ہے، جسے ان ستاروں سے آراستہ کیا گیا ہے جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور چلتے چلتے غائب ہوجاتے ہیں، جو ایک…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 8–10

[ 11] درس گاہ کائنات میں غور و فکر کی دعوت کا ذکر وبیان : سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ زمین و آسمان کی اس کھلی کتاب میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ ہم نے ایک عظیم الشان سامان عبرت و بصیرت و تذکیر و یاددہانی کے طور پر پیدا کیا ہے ہر اس بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہو حق اور ہدایت کی طرف۔ سو معلوم ہوا کہ حکمت بھری یہ کائنات ساری ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جس کی ایک ایک چیز گویا ایک کھلا ورق اور عظیم الشان ہے جس میں قدرت کی نشانیاں جھلمل جھلمل کرتی نظر آتی ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ خود انسان کے اندر طلب و جستجو پائی جاتی ہو اور وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

آیات 1 تا 15۔ اسرار ومعارف۔ ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–11

ف 5 یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے میں تعجب کی کونسی بات ہے ؟ کیا تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بارش نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہوتی ہے جیسے اس میں زندگی کے کوئی آثار ہی نہیں۔ یکایک بارش ہوتی ہے تو اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور درخت اگتے ہیں گویا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس طرح تم بھی مرنے کے بعد زندہ کئے جاسکتے ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:8) تبصرۃ وذکری ہر دو مفعول لہ ہیں بصیرت کے لئے اور یاد دہانی کے لئے تبصرۃ۔ دکھلانا۔ سمجھانا۔ بروزن تفعلۃ باب تفعیل کا مصدر ہے۔ تبصیر اور تبصرۃ دونوں آتے ہیں ۔ جیسے تقدیم وتقدمۃ اور تذکیر وتذکرۃ۔ ذکری نصیحت کرنا۔ ذکر کرنا۔ یاد ۔ موعظت۔ پند، باب نصر سے مصدر ہے۔ کثرت ذکر کے لئے بولا جاتا ہے ۔ یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔ لکل عبد منیب۔ لام حرف جار کل مجرور۔ مضاف۔ عبد منیب موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ کل لفظا واحد اور معنی کے لحاظ سے جمع ہے اس لئے اس کا استعمال دونوں طرح ہے تذکیر و تانیث اس میں برابر ہے۔ کل دو طرح کا ہوتا ہے۔ مجموعی اور افرادی۔ کل افرادی ہمیشہ نکرہ مفرد کی طرف مضاف ہوتا ہے جس کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 : عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔ تشریح : آیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–11

صفات باری تعالی۔ (ف 1) کفار قدرت الٰہی میں شک رکھتے ہیں کیا انہوں نے اس کے کارخانہ قدرت نہیں دیکھے کیا انہوں نے اپنے سروں پر آسمان نہیں دیکھا یہ نہیں سوچا کہ ہم نے اس کو کس حکمت سے مضبوط ومستحکم بغیر ستون بنایا اور رات کو جب اس پرستاروں کی قندیل اور جھاڑ فانوس روشن ہوتے ہیں تو کس قدر پررونق اور خوبصورت نظر آتا ہے پھر لطف یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں برس گزر گئے نہ اس چھت میں کہیں سوراخ ہوانہ کوئی کنگرہ گرا، نہ پلاسٹر ٹوٹا، نہ رنگ خراب ہوا، آخر کون ساہاتھ ہے جس نے یہ مخلوق بنائی اور بنا کر اس کی حفاظت کی، پھر فرمایا کہ زمین کو نہیں دیکھتے پانی پر اس کو کس قدرت کاملہ سے پھیلایا اور اس کے ثابت ومضبوط…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–18

[3] مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الٰہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا۔ یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت و قصد بھی اس کا رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–9

ف 1: ان آیات میں انسانی توجہ کو اس طرح مبذول کیا ہے ۔ وہ کائنات کے مضبوط ترین نظام کو دیکھیں ۔ اور بتائیں اتنے بڑے آسمان میں کہیں رخنہ ہے ؟ یہ زمین ان کے پاؤں تلے بچھی ہے ۔ اس پر بڑے بڑے پہاڑ استادہ ہیں ۔ اور ہر طرح کی روئیدگی اور سبزہ موجود ہے ۔ کیا ان میں کوئی نقص ہے ؟۔ فطرت کے ان مظاہر میں بلاشبہ تذکیر اور عبرت پذیری کا وافر سامان موجود ہے ۔ مگر اس کے لئے ضرورت ہے عبودیت کی اور انابت الی اللہ کے پاکیزہ جذبات کی باقی صفحہ حل لغات :۔ امرہ ریح ۔ متزلزل حالت میں ۔ بروج ۔ شگاف ۔ رخنہ بھیج ۔ بارونق ۔ خوش نما ۔ نیکو بین السماء ۔ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس کا تعلق معبودوں یا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) تاکہ ہر اس بندے کے لئے یہ چیزیں موجب اور ذریعہ ہوں ہدایت اور نصیحت کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے والا ہے۔ ہم نے مفعول لہ کی تقدیر پر تبصرہ کا ترجمہ کیا ہے یعنی فعلنا ذلک تبصیرامنا دوسرے بھی احتمال ہیں مثلاً خلقنا السمآء تبصرۃ اور خلقنا الارض ذکری اور بھی اس کے علاوہ احتمالات ہیں۔ خلاصہ : یہ کہ ہر عبد منیب کے لئے یہ چیزیں بینائی اور دانائی کا سبب اور موجب ہیں ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی معرفت کی راہ بھی ملتی ہے اور نصیحت بھی بشرطیکہ کوئی بندہ حضرت حق تعالیٰ کی جناب میں رجوع ہونے کے لئے آمادہ اور تیار ہو آگے اور دلائل توحید مذکور ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–10

ف 3۔ یعنی ہماری قدرت کی معرفت کا ذریعہ ہے۔ 4۔ یعنی ایسے شخص کے لئے جو اس غرض سے مصنوعات میں فکر کرنے کی طرف متوجہ ہو کہ وہ عین توجہ الی الصانع ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ سب باتیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ، ان کے لیے جو رجوع کرتے ہیں 8 ۔ نصیحت بلاشبہ نصیحت ہی ہے لیکن کس کے لیے ؟ جو نصیحت حاصل کرنا چاہے اور آنکھیں کھولے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اس کے لیے تو اس کائنات کی ہرچیز قدرت الٰہی کی نشانیاں کھول کھول کر واضح کررہی ہے اور جو آنکھیں کھولنے کی کوشش نہ کرے بلکہ ان کو بند کرے اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لے اس کے لیے کچھ بھی نہیں ۔ اسی کو کہتے ہیں بھینس کے آگے بین بجانا۔ جن لوگوں پر کوئی نصیحت بھی اثر نہیں کرتی۔ زیر نظر آیت کے آخر میں (عبدٍ منیب) کے الفاظ لاکر واضح کردیا کہ قرآن کریم کی اصطلاح میں (عبدٍ منیب) وہی ہے جو ان آسمانوں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–11

After mentioning the confused state of the infidels, Allah draws man's attention to His infinite power which He demonstrated by creating what is bigger than that which they wondered about and whose possibility they discounted. Referring to the heaven, the Qur'an says: وَمَا لَهَا مِن فُرُ‌وجٍ (...and it has no cracks...50:6). Lexically, the word furuj is the plural of farj which means a crack, or an opening. This and the following few verses draw attention to the marvels of Allah's creation, the wonderful design in the universe, and to the flawless celestial firmament. If this was made by man…

Read the full tafseer →