Qaaf 50:9

Qaaf · from ayah 9

50:9

وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِیْدِ ۟ۙوَنَزَّلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰـرَكًا فَاَنۡۢبَـتۡـنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الۡحَصِيۡدِ

اور آسمان سے برکت والا پانی اُتارا اور اس سے باغ وبستان اُگائے اور کھیتی کا اناج

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have sent down blessed rain from the sky and made grow thereby gardens and grain from the harvest

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:9

اور آسمان سے ہم نے برکت والا پانی نازل کیا، پھر اس سے باغ اور فصل کے غلے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور آسمان سے برکت والا پانی اُتارا اور اس سے باغ وبستان اُگائے اور کھیتی کا اناج

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا اور اس سے باغات اور کٹنے والے کھیت کے غلے پیدا کیے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے آسمان سے برکتوں والا پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے باغات اور وہ اناج کے دانے اگائے جن کی کٹائی ہوتی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا تو اس سے باغ اُگائے اور اناج کہ کاٹا جاتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا پھر ہم نے اس سے باغات اگائے اور کھیتوں کا غلّہ (بھی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے آسمان سے ایک بہت بابرکت پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ باغات اور کاٹی جانے والی (کھیتی) کے دانے اگائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی نازل کیا جس سے ہم نے باغ اگائے اور اناج بھی جو کاٹا جاتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا جس سے ہم نے باغ بھی اگائے اور کاٹی جانے والی فصلیں بھی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم ہی نے اتارا آسمان سے برکتوں بھرا پانی پھر اس کے ذریعے ہم نے اگائے طرح طرح کے باغات اور غلے کھیتوں کے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی برسایا پھر ہم نے اس سے باغ اور کھیتی کا غلہ

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے آسمان سے اتارا برکت والا پانی تو ہم نے اگایا اس کے ذریعے سے باغات کو اور ان فصلوں کو جو کٹ جاتی ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغ اور گلستان اگائے اور کھیتی کا اناج۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We also sent down blessed water from the heaven, wherewith We caused gardens and harvest-grain to grow,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We sent down blessed water from the sky, and caused to grow therewith gardens and grain of harvest,

— Muhammad Taqi Usmani

And We sent down blessed water from the sky, and caused to grow therewith gardens and grain of harvest,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We send down blessed water (rain) from the sky, then We produce therewith Jannat and grain that are reaped.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We send down from the sky blessed water whereby We give growth unto gardens and the grain of crops,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have sent down blessed rain from the sky and made grow thereby gardens and grain from the harvest

— Saheeh International

We have sent blessed water down from the sky to grow gardens, harvestable crops

— Muhammad Sarwar

And We send down from the cloud water abounding in good, then We cause to grow thereby gardens and the grain that is reaped,

— Muhammad Habib Shakir

And We have sent down from the heaven water brest wherewith We have caused gardens to grow and the grain reaped.

— Abdul Majid Daryabadi

And We send down from the sky rain charted with blessing, and We produce therewith gardens and Grain for harvests;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–11

اللہ کے محیر العقول شاہکار یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں چناچہ سورة تبارک میں فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ) 67۔ الملک :3) ، اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–10

سورة قٓ 9 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، النحل، حواشی 12۔ 13۔ 14۔ جلد سوم، النمل، حواشی 73۔ 74۔ جلد چہارم، الزخرف، حاشیہ 7۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–11

کیا آسمان نظر آتا ہے ؟ (آیت) اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓا اِلَى السَّمَاۗءِ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان نظر آتا اور مشہور یہ ہے کہ یہ نیلگوں رنگ جو نظر آتا ہے یہ ہوا کا رنگ ہے مگر اس کی نفی کی بھی کوئی دلیل نہیں کہ یہی رنگ آسمان کا بھی ہو، اس کے علاوہ آیت میں نظر سے مراد نظر عقلی بمعنی غور و فکر بھی مراد ہو سکتی ہے . (بیان القرآن)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 9–11

ونزلنا من السمآء مآء مبرکا فانبتنا بہ جنت وحب المحصید، والنحل بسقت لھا طلع نضید، رزقا للعباد و احیینا بہ بلدۃ میتا ط کذلک الخروج (11-9) آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ ایک اور پہلو سے یہ آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف ایک اور زاویہ سے توجہ دلائی جس سے آسمان و زمین کے درمیان توافق کے پہلو سے توحید کی شہادت بھی ملتی ہے۔ ان کے اندر ربوبیت کے جو اسباب ودیعت ہیں ان سے جزاء و سزا کا لزوم بھی سامنے آتا ہے اور بارش سے مردہ زمین کے اندر جو حیات تازہ نمودار ہوتی ہے اس سے حیات بعد الممات کے وقوع کا بھی مشاہدہ ہر شخص کو ہوتا ہے۔ مآء قلبارک سے مراد وہ بارش ہے جو باعث زرخیزی و شادابی ہو۔ بعض مرتبہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 کٹنے والے غلے سے مراد وہ کھیتیاں مراد ہیں جن سے گندم مکڑی جوار باجرہ دالیں اور چاول وغیرہ پیدا ہوتے ہیں۔ اور پھر ان کا ذخیرہ کرلیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–11

4: جس طرح ایک مردہ پڑی ہوئی زمین کو اللہ تعالیٰ بارش کے ذریعے زندگی عطا کردیتے ہیں کہ اس میں ڈالے ہوئے بیج سے طرح طرح کی سبزیاں، پھل اور اناج وجود میں آجاتا ہے، اسی طرح جو لوگ قبروں میں مٹی ہوچکے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ نئی زندگی دینے پر قادر ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (50 : 8) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لئے جو (حق کی طرف ) رجوع کرنے والا ہو ”۔ یہ بصیرت عطا کرنے والی باتیں ہیں۔ بصارت دینے والی باتیں ہیں اور دلوں کو قبولیت حق کے لئے کھولنے والی باتیں ہیں۔ اس مطالعہ سے انسانی دل و دماغ اور انسانی روح اس کائنات کے ساتھ جڑ جاتی ہے اور اس حکمت ، تربیت اور کمال تخلیق کو پا لیتی ہے جو اس کے اندر موجود ہے اور پھر جن لوگوں کا دل اپنے معبود کی طرف مائل ہوتا ہے وہ اپنے رب کے کمالات کو دیکھ کر لوٹ جاتا ہے۔ یوں انسانی دل اور اس عظیم اور خوبصورت کائنات کے درمیان اتحادو اتصال پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان کتاب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9 { وَنَزَّلْـنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً مُّبٰـرَکًا } ”اور ہم نے آسمان سے اتارا برکت والا پانی“ لفظ ”برکت“ میں کسی چیز کی خفتہ صلاحیت کو ترقی دینے کا مفہوم پایاجاتا ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی متعدد بار وضاحت ہوچکی ہے کہ بارش کا پانی زمین کی قوت نمو کو جلا بخشتا ہے اور اس کی روئیدگی کو اجاگر کرنے کا باعث بنتا ہے اور اسی پہلو سے یہ مبارک ہے۔ { فَـاَنْبَتْنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِیْدِ۔ } ”تو ہم نے اگایا اس کے ذریعے سے باغات کو اور ان فصلوں کو جو کٹ جاتی ہیں۔“ الفاظ کی یہ ترتیب منطقی اور بہت خوبصورت ہے۔ جَنّٰت سے درختوں کے باغات مراد ہیں اور درختوں کو کاٹا نہیں جاتا ‘ صرف ان کے پھل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–10

11 بارش سے نباتات کی روئیدگی اور بعث بعد الموت :۔ جس زمین پر بارش ہوئی وہ بذات خود مٹی اور مردہ ہے اور جو پانی برسا وہ بھی بےجان تھا۔ تاہم برکت والا اس لحاظ سے تھا کہ اس نے زمین میں مل کر زمین کو مردہ سے زندہ بنادیا اور وہ اس قابل ہوگئی کہ وہ زندہ چیزیں اگائے۔ اس میں جو فصلیں اور غلے پیدا ہوئے وہ بھی زندہ تھے کیونکہ وہ بڑھتے اور پھلتے پھولتے تھے اور یہی زندگی کی علامت ہے۔ پھر کئی طرح کے درخت اور باغات اور بالخصوص کھجوروں کے اونچے اونچے بلند وبالا درخت پیدا کئے ان میں زندگی موجود تھی۔ پھر اس فصل اور ان باغات سے غلے اور میوے اور پھل حاصل ہوئے۔ اور یہ چیزیں بےجان تھیں۔ گویا اللہ نے مردہ چیز سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 9–11

8۔ یہاں گویا یہ فرمایا کہ تم جس طرح بارش ہوئے پر خشک زمین کو از سر نوسر سبز و شاداب ہوتے ہوئے روز مرہ دیکھتے ہو، اسی طرح حکمت الہی مردہ انسانوں کو بھی زمین سے لانکال کھڑا کرے گی۔ اور اس کا ناممکن ہونا تو خیر الگ رہا، اس میں استبعاد کی بھی کونسی بات ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–11

کفار مکہ تذبذب اور بےیقینی کا شکار تھے : فی امر مریج، مریج کے معنی لغت میں مختلط کے ہیں جن میں مختلف چیزوں کا اختلاط و التباس ہو اور ایسی چیز عموماً فاسد ہوتی ہے، اسی لئے حضرت ابوہریرہ ؓ نے مریج کا ترجمہ فاسد فرمایا ہے اور ضحاک رحمتہ اللہ تعالیٰ و قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ اور حسن بصری وغیرہ نے مریج کا ترجمہ مختلط اور ملتبس سے کیا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین و منکرین رسالت اپنے انکار میں بھی کسی ایک بات پر نہیں جمتے کبھی آپ کو جادو گر بتاتے ہیں تو کبھی شاعر اور کبھی کاہن و نجومی اور قرآن کے بارے میں بھی ان کا یہی حال ہے۔ آگے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہے جو آسمان اور زمین اور ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونزلنا من السمآء ماء مبرکا فانبتنا بہ جنت و حب الحصید والنخل بسقت لھا طلع نضید رزقا للعباد واحینا بہ بلدۃ میتا کذالک الخروج . اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی برسایا پھر اس سے بہت سے باغ اگائے اور کھیتی کا غلہ مُبٰرَکًا : بہت مفید ‘ کثیر النفع۔ فَاَنْبَتْنَا بِہٖ : پھر اس پانی سے ہم نے زمین میں اگائے۔ جَنّٰتٍ : باغ۔ حَبَّ الْحَصِیْدِ : حب کی اضافت الحصید کی طرف۔ اضافت عام الی الخاص ہے ‘ جیسے حق الیقین۔ کل الدراھم اور عین الشَّی ءِ میں ہے یعنی وہ غلّہ جو کاٹا جاتا ہے ‘ جیسے گیہوں ‘ جو وغیرہ۔ مراد یہ ہے کہ جو غلہ بویا جاتا ہے پھر (کاٹ کر) غذائی کام میں لایا جاتا ہے چونکہ غلّہ کا اصل مقصد اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 9–10

(9۔ 10) اور ہم نے آسمان سے اگانے والا اور فائدہ والا پانی برسایا جس میں ہر ایک چیز کی زندگی ہے اور پھر اس پانی سے بہت سے باغات اگائے اور کئی قسم کی کھیتیوں کا غلہ اور لمبی لمبی کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گوندھے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ونزلنا من السمآء مآء مبرکاً :”مآء مبرکاً“ وہ اپنی جس میں بہت برکت یعنی خیر کثیر رکھی گئی ہے۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لئے نہیں بلکہ مبالغے کے لئے ہے۔ جس پانی کو اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے اس کی خیر کی کثرت کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے۔ موت کے بعد زندگی کے اثبات کے لئے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزوں کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد اب بارش کا اور اس کی برکت سے زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں کا ذکر فرمایا۔ مقصود اس سے بھی موت کے بعد زندگی کا اثبات ہے، چناچہ آخر میں فرمایا :(کذلک الخروج) (ق : 11)”اسی طرح (دوبارہ زندہ ہو کر) نکلنا ہے۔”آسمان سے پانی اتارنے کے لئے باب تفعیل ”نزلنا“ استعمال فرمایا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–11

6 ۔ 11:۔ افلم ینظروا الی السماء فوقھم عبرت اور تفکر کی نظر سے نہیں دیکھتے اور یہ نہیں سوچتے کہ وہ ذات جو انہیں پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے۔ کیف بنینھا ہم نے انہیں بغیر ستونوں کے بلند کردیا ہے۔ وزینھا اور ہم نے انہیں ستاروں سے مزین کیا ہے۔ ومالھا من فروج، فروج، فرج کی جمع ہے جس کا معنی شق ہے۔ مرء القیس کے شعر میں بھی یہ لفظ سی معنی میں ہے : تسد بہ فر جھا من دبر کسائی نے کہا : اس میں کوئی تقدت، اختلاف اور پھٹن نہیں۔ والارض مددنھا وا لقینا فیھا رواسی۔ سورة رعد میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ واثبتنا فیھا من کل زوج یعنی نباتات کی تمام انواع سے۔ بھیج، حسین جو دیکھنے والوں کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

23:۔ الادب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب بارش ہوتی تو اپنی باندی سے فرماتے اے باندی میری زین باہر نکال میرے کپڑے باہر نکال اور یہ فرماتے (آیت ) '' ونزلنا من السمآء مآء مبرکا '' (اور ہم نے آسمان سے مبارک پانی نازل کیا) 24:۔ ابوالشیخ (رح) نے العظمہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ونزلنا من السمآء مآء مبرکا '' سے مراد ہے بارش۔ 25:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وحب الحصید '' (کھیتی کا غلہ) سے مراد ہے گندم۔ 26:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' وحب الحصید '' سے مراد ہے گندم اور جو۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ [ اور ہم نے اتارا آسمان سے ] مَاۗءً مُّبٰرَكًا [ کچھ برکت دیا ہوا پانی ] فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ [ پھر ہم نے اگائے ان سے ] جَنّٰتٍ [ کچھ باغات ] وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ [ اور کاٹے ہوئے (اناج ) کے دانے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا ﴾ (اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی نازل کیا) ۔ ﴿فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِيْدِۙ009﴾ (سو ہم نے ان کے ذریعہ باغیچے اگا دیئے اور ایسی کھیتی اگا دی جسے پک جانے کے بعد کاٹ کر دانے نکالے جاتے ہیں

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

بیان عظمت کلام خداوندی و انکار منکرین وتعجب بر حشر ونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ق والقران المجید ....... الی ...... کذلک الخروج “۔ (ربط) سورة حجرات کے مضامین کا اختتام اس امر کے بیان پر تھا کہ اسلام کی توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہدایت ہے اور اس کا عظیم انعام ہے اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے ایمان پر استقامت اور دین حق پر ثابت قدمی اس اعتقاد ویقین پر موقوف ہے کہ حق تعالیٰ شانہ بندہ کی ہر حالت سے باخبر ہے اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے تو اس مناسبت سے اب سورة ق کی ابتداء عظمت کلام خدا وندی سے کی جارہی ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہدایت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–11

7:۔ ” ونزلنا من السماء “ یہاں پھر عام علوی کا ذکر ہے۔ ” مبارکا “ کثیر المنافع۔ ” الحصید “ کھیتی جو پکنے کے بعد کاٹی جاتی جاتی ہے۔ ” باسقات “ ، بلند۔ ” طلع نضید “ پھل کے تہ بتہ گچھے، اور ہم نے آسمان سے مینہ برسایا جس میں بیشمار برکات و منافع ہیں اور اس کے ذریعے سے لہلہاتے باغات اور مختلف اقسام کے غلوں کے سرسبز و شاداب کھیت پیدا کیے اور کھجور کے بلند وبالا درخت پیدا کیے۔ پھل کے تہ بتہ خوشوں سے لدے ہوتے ہیں۔ یہ سب بندوں کی روزی کا سامان ہے۔ ” واحیینا بہ الخ “ یہاں پھر عالم سفلی سے دلیل لائی گئی ہے اور اس بارانِ رحمت سے ہم مردہ اور بنجر زمین میں جان ڈال دیتے ہیں اور اسے زرخیز اور قابل کاشت بنا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

ربط آیات ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت اور وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ، اور فرمایا کہ یہ کون سی تعجب کی بات ہے کہ اللہ نے انہی میں سے ایک شخص کو منذر بنا کر بھیجا ہے اور اس کے ذریعے اپنا پیغام مخلوق تک پہنچایا ہے۔ انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ انسانوں ہی سے رسول بنا کر ان کی طرف بھیجتا رہا ۔ اب اللہ کا آخری رسول بھی انہی میں سے تو یہ کوئی عجیب بات تو نہیں ہے۔ اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے ۔ اور ہمارے اجسام ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں رل مل جائیں گے تو ہم دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ۝ 9 ۙ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–11

وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً مُّبٰـرَکًا فَاَنْبَتْنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِیْدِ ۔ وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّھَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ۔ رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ لا وَاَحْیَیْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا ط کَذٰلِکَ الْخُرُوْجُ ۔ (قٓ: 9 تا 11) (اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا برکت والا، جس سے ہم نے باغ بھی اگائے اور کاٹی جانے والی فصلیں بھی۔ اور کھجوروں کے بلند وبالا درخت بھی، جن پر تہ بہ تہ خوشے ہیں۔ بندوں کی روزی کے لیے، اور ہم نے اس سے مردہ زمین کو زندہ کردیا، اسی طرح ہوگا زمین سے نکلنا بھی۔ ) گزشتہ مضمون میں ایک اور پہلو سے اضافہ گزشتہ مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–11

فہم القرآن ربط کلام : گل و گلزار زمین پر ہوں یا پہاڑوں پر اس کی پیدائش اور افزائش کا دارومدار پانی پر ہے اور پانی کا دارومدار بارش پر ہے اس لیے بارش اور نباتات کا بیک وقت ذکر کیا گیا ہے۔ ” کیا وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا وہ غور نہیں کرتے کہ زمین و آسمان باہم ملے ہوئے تھے ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی ؟ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔ “ (الانبیاء : 30) پانی کا دارومدار بارش پر ہے۔ اللہ نہ کرے اگر دس سال بارش نہ ہو تو زمین اور پہاڑوں کی شادابیاں ختم ہوجائیں۔ یہاں تک کہ انسان کو پینے کے لیے بھی پانی میسر نہیں آئے گا۔ کیونکہ بارش کے سوا پانی کا صرف ایک ہی ذریعہ باقی رہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تیسرا انداز : آیت 9 : وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً مُّبٰرَکًا (اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا) مبارک یعنی بیشمار منافع والا۔ فَاَنْچبَتْنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِیْدِ (پھر اس سے بہت سے باغ اگائے اور کھیتی کا غلہ) یعنی کھیتی کا غلہ جس کی شان کا تقاضا ہے کہ اس کو کاٹا جائے۔ مثلاً گندم ٗ جو وغیرہ

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” تبصرۃ “ یعنی ہم نے اس کو بصیرت کا ذریعہ ” وذکری “ اور نصیحت۔ ” لکل عبدمنیب “ تاکہ وہ اس کے ذریعے بصیرت اور نصیحت حاصل کریں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ حروف مقطعات کا بیان سورة بقر کے شروع میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آ کر محمد رسول ﷺ کے رسول ہونے کی اور قرآن کو اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کر دے گا تو ہم مان لیں گے۔ محمد ﷺ تو ہم جیسے انسان ہیں ان کی باتوں کا ہمیں یقین نہیں آتا۔ اس کا جواب تفصیل سے سورة انعام میں ہے مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ فرشتہ کو اصل صورت میں دیکھنا تو عام لوگوں کی طاقت سے باہر ہے سوائے اللہ کے رسول کے عام لوگوں میں سے فرشتہ کو جو کوئی اصل صورت میں دیکھے گا وہ فوراً مرجائے گا۔ اس لئے فرشتہ بھی ان لوگوں کے پاس آئے گا تو انسان کی صورت میں آئے گا۔ پھر ان لوگوں کا شبہ بھی باقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 6–11

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کا حال اور ان کے قابل مذمت افعال کا ذکر کرنے کے بعد، انہیں آیات آفاقیہ میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ عبرت حاصل کریں اور ان امور پر استدلال کریں جن کے لئے ان کو دلیل بنایا ہے، فرمایا : (افلم ینظروا الی السماء فوقھم) ” کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ “ یعنی غور و فکر کی یہ نظر کسی مشقت اور سامان سفر باندھنے کی محتاج نہیں بلکہ بہت آسان ہے۔ وہ دیکھیں (کیف بنینھا) کہ ہم نے اسے کیسے ایک گنبد بنایا، جو اپنے کناروں پر برابر اور مضبوط بنیاد رکھتا ہے، جسے ان ستاروں سے آراستہ کیا گیا ہے جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور چلتے چلتے غائب ہوجاتے ہیں، جو ایک…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 8–10

[ 11] درس گاہ کائنات میں غور و فکر کی دعوت کا ذکر وبیان : سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ زمین و آسمان کی اس کھلی کتاب میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ ہم نے ایک عظیم الشان سامان عبرت و بصیرت و تذکیر و یاددہانی کے طور پر پیدا کیا ہے ہر اس بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہو حق اور ہدایت کی طرف۔ سو معلوم ہوا کہ حکمت بھری یہ کائنات ساری ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جس کی ایک ایک چیز گویا ایک کھلا ورق اور عظیم الشان ہے جس میں قدرت کی نشانیاں جھلمل جھلمل کرتی نظر آتی ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ خود انسان کے اندر طلب و جستجو پائی جاتی ہو اور وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

آیات 1 تا 15۔ اسرار ومعارف۔ ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–11

ف 5 یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے میں تعجب کی کونسی بات ہے ؟ کیا تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بارش نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہوتی ہے جیسے اس میں زندگی کے کوئی آثار ہی نہیں۔ یکایک بارش ہوتی ہے تو اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور درخت اگتے ہیں گویا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس طرح تم بھی مرنے کے بعد زندہ کئے جاسکتے ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:9) ماء مبرکا : ماء مفعول ہے نزلنا کا۔ موصوف۔ مبرکا صفت مبارک کثیر النفع پانی۔ برکت والا پانی۔ ماء سے یہاں مراد بارش کا پانی ہے جو اوپر سے برستا ہے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ماء کی طرف راجع ہے یعنی پھر ہم نے اس پانی سے زمین میں باغ اگائے۔ جنت وحب الحصید۔ جنت (جنۃ کی جمع، باغ) حب (بمعنی دانہ، غلہ اناج) دونوں فعل انبتنا کے مفعول ہیں۔ ہم نے اگایا۔ باغات کو ۔ کھیتی کے غلہ کو۔ حب الحصید میں اضافت حب کی الحصید کی طرف اضافت عام الی الخاص ہے جیسے حق الیقین عین الیقین میں ہے یعنی وہ غلہ جو کاٹا جاتا ہے جیسے گیہوں وغیرہ۔ مراد یہ ہے کہ جو غلہ بویا جاتا ہے پھر (کاٹ کر) غذائی کام میں لایا جاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 : عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔ تشریح : آیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–11

صفات باری تعالی۔ (ف 1) کفار قدرت الٰہی میں شک رکھتے ہیں کیا انہوں نے اس کے کارخانہ قدرت نہیں دیکھے کیا انہوں نے اپنے سروں پر آسمان نہیں دیکھا یہ نہیں سوچا کہ ہم نے اس کو کس حکمت سے مضبوط ومستحکم بغیر ستون بنایا اور رات کو جب اس پرستاروں کی قندیل اور جھاڑ فانوس روشن ہوتے ہیں تو کس قدر پررونق اور خوبصورت نظر آتا ہے پھر لطف یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں برس گزر گئے نہ اس چھت میں کہیں سوراخ ہوانہ کوئی کنگرہ گرا، نہ پلاسٹر ٹوٹا، نہ رنگ خراب ہوا، آخر کون ساہاتھ ہے جس نے یہ مخلوق بنائی اور بنا کر اس کی حفاظت کی، پھر فرمایا کہ زمین کو نہیں دیکھتے پانی پر اس کو کس قدرت کاملہ سے پھیلایا اور اس کے ثابت ومضبوط…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–18

[3] مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الٰہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا۔ یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت و قصد بھی اس کا رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–9

ف 1: ان آیات میں انسانی توجہ کو اس طرح مبذول کیا ہے ۔ وہ کائنات کے مضبوط ترین نظام کو دیکھیں ۔ اور بتائیں اتنے بڑے آسمان میں کہیں رخنہ ہے ؟ یہ زمین ان کے پاؤں تلے بچھی ہے ۔ اس پر بڑے بڑے پہاڑ استادہ ہیں ۔ اور ہر طرح کی روئیدگی اور سبزہ موجود ہے ۔ کیا ان میں کوئی نقص ہے ؟۔ فطرت کے ان مظاہر میں بلاشبہ تذکیر اور عبرت پذیری کا وافر سامان موجود ہے ۔ مگر اس کے لئے ضرورت ہے عبودیت کی اور انابت الی اللہ کے پاکیزہ جذبات کی باقی صفحہ حل لغات :۔ امرہ ریح ۔ متزلزل حالت میں ۔ بروج ۔ شگاف ۔ رخنہ بھیج ۔ بارونق ۔ خوش نما ۔ نیکو بین السماء ۔ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس کا تعلق معبودوں یا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) اور ہم نے آسمان سے بابرکت اور برکت والا پانی اتارا پھر اس پانی سے بہت سے باغ پیدا کئے اور وہ اناج پیدا کئے جن کا کھیت کاٹا جاتا ہے۔ یعنی دانے اور غلے والی کھیتی جیسے جو چنا گیہوں جوار وغیرہ جس کا کھیت عام طور سے کاٹا جاتا ہے۔ حب الحصید کی ترکیب ایسی ہیجی سے مسجد الجامع یعنی صفت کی اضافت موصوف کی طرف۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–10

ف 3۔ یعنی ہماری قدرت کی معرفت کا ذریعہ ہے۔ 4۔ یعنی ایسے شخص کے لئے جو اس غرض سے مصنوعات میں فکر کرنے کی طرف متوجہ ہو کہ وہ عین توجہ الی الصانع ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں سے پانی نازل کرنے والا اور باغات و غلہ جات کا پیدا کرنے والا ہے 9 ۔ توحید الٰہی کے اثبات اور قیامت کے آنے کی یقین دہانی دونوں باتوں کے لیے یک ہی طرح کے دلائل پیش کئے گئے ہیں اور ان سے استد لال کیا گیا ہے کہ تم لوگ قیامت کے وقوع ہونے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت دونوں میں شک کرتے ہو اور شک کیے ہی چلتے جاتے ہو حالانکہ تم ان دلائل کا روزمرہ زندگی میں بار بار استعمال کر رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس کی ربوبیت کی کرشمہ سازیاں تم کو نظر آرہی ہیں تم نے کتنی بار اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ جب بہار کا وقت آتا ہے تو ہر طرف ہریاول نظر آنے لگتی ہے اور پھر بہار کا موسم گزر جاتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–11

After mentioning the confused state of the infidels, Allah draws man's attention to His infinite power which He demonstrated by creating what is bigger than that which they wondered about and whose possibility they discounted. Referring to the heaven, the Qur'an says: وَمَا لَهَا مِن فُرُ‌وجٍ (...and it has no cracks...50:6). Lexically, the word furuj is the plural of farj which means a crack, or an opening. This and the following few verses draw attention to the marvels of Allah's creation, the wonderful design in the universe, and to the flawless celestial firmament. If this was made by man…

Read the full tafseer →