Explained with ayahs 6–11
اللہ کے محیر العقول شاہکار
یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں چناچہ سورة تبارک میں فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ) 67۔ الملک :3) ، اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
سورة قٓ 9
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، النحل، حواشی 12۔ 13۔ 14۔ جلد سوم، النمل، حواشی 73۔ 74۔ جلد چہارم، الزخرف، حاشیہ 7۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
کیا آسمان نظر آتا ہے ؟
(آیت) اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓا اِلَى السَّمَاۗءِ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان نظر آتا اور مشہور یہ ہے کہ یہ نیلگوں رنگ جو نظر آتا ہے یہ ہوا کا رنگ ہے مگر اس کی نفی کی بھی کوئی دلیل نہیں کہ یہی رنگ آسمان کا بھی ہو، اس کے علاوہ آیت میں نظر سے مراد نظر عقلی بمعنی غور و فکر بھی مراد ہو سکتی ہے . (بیان القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ونزلنا من السمآء مآء مبرکا فانبتنا بہ جنت وحب المحصید، والنحل بسقت لھا طلع نضید، رزقا للعباد و احیینا بہ بلدۃ میتا ط کذلک الخروج (11-9)
آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ ایک اور پہلو سے
یہ آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف ایک اور زاویہ سے توجہ دلائی جس سے آسمان و زمین کے درمیان توافق کے پہلو سے توحید کی شہادت بھی ملتی ہے۔ ان کے اندر ربوبیت کے جو اسباب ودیعت ہیں ان سے جزاء و سزا کا لزوم بھی سامنے آتا ہے اور بارش سے مردہ زمین کے اندر جو حیات تازہ نمودار ہوتی ہے اس سے حیات بعد الممات کے وقوع کا بھی مشاہدہ ہر شخص کو ہوتا ہے۔ مآء قلبارک سے مراد وہ بارش ہے جو باعث زرخیزی و شادابی ہو۔ بعض مرتبہ…
Read the full tafseer →10۔ 1 باسقات کے معنی طوالاً شاھقات، بلند وبالا طلع کھجور کا وہ گدرا گدرا پھل، جو پہلے پہل نکلتا ہے۔ نضید کے معنی تہ بہ تہ۔ باغات میں کھجور کا پھل بھی آجاتا ہے۔ لیکن اسے الگ سے بطور خاص ذکر کیا، جس سے کھجور کی وہ اہمیت واضح ہے جو اسے عرب میں حاصل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
4: جس طرح ایک مردہ پڑی ہوئی زمین کو اللہ تعالیٰ بارش کے ذریعے زندگی عطا کردیتے ہیں کہ اس میں ڈالے ہوئے بیج سے طرح طرح کی سبزیاں، پھل اور اناج وجود میں آجاتا ہے، اسی طرح جو لوگ قبروں میں مٹی ہوچکے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ نئی زندگی دینے پر قادر ہیں۔
Read the full tafseer →آسمانوں سے جو پانی نازل ہوتا ہے وہ مردہ زمین کو زندہ کرنے سے بھی پہلے مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور اس کا نزول ہی دلوں پر بہت ہی اچھا اثر ڈالتا ہے ۔ نہ صرف یہ کہ چھوٹے بچے ہی بارش سے خوش ہوتے ہیں اور اس کے لئے دوڑتے ہیں اس میں اچھلتے کودتے ہیں بلکہ معمر ہوگ جن کے اندر احساس جمال ہو وہ بھی بارش کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور ان کے دل بھی بارش میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ بچے تو ہوتے ہیں چھوٹے ہیں۔
یہاں بارش کے پانی کو ماء مبارک کہا گیا ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مختلف قسم کے پھلوں کے باغات اور کٹنے والی کھیتیاں تیار فرماتا ہے اور اسی کے ذریعہ کھجوروں کے اونچے درخت اور ان کے پختہ پھلوں اور خوبصورت…
Read the full tafseer →8 یعنی بڑی کثرت و افراط سے جن کا خوشہ دیکھنے میں بھی بھلا معلوم ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 10 { وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّــہَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ۔ } ”اور کھجوروں کے بلند وبالا درخت جن کے خوشے ہیں تہ بر تہ۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
11 بارش سے نباتات کی روئیدگی اور بعث بعد الموت :۔ جس زمین پر بارش ہوئی وہ بذات خود مٹی اور مردہ ہے اور جو پانی برسا وہ بھی بےجان تھا۔ تاہم برکت والا اس لحاظ سے تھا کہ اس نے زمین میں مل کر زمین کو مردہ سے زندہ بنادیا اور وہ اس قابل ہوگئی کہ وہ زندہ چیزیں اگائے۔ اس میں جو فصلیں اور غلے پیدا ہوئے وہ بھی زندہ تھے کیونکہ وہ بڑھتے اور پھلتے پھولتے تھے اور یہی زندگی کی علامت ہے۔ پھر کئی طرح کے درخت اور باغات اور بالخصوص کھجوروں کے اونچے اونچے بلند وبالا درخت پیدا کئے ان میں زندگی موجود تھی۔ پھر اس فصل اور ان باغات سے غلے اور میوے اور پھل حاصل ہوئے۔ اور یہ چیزیں بےجان تھیں۔ گویا اللہ نے مردہ چیز سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
8۔ یہاں گویا یہ فرمایا کہ تم جس طرح بارش ہوئے پر خشک زمین کو از سر نوسر سبز و شاداب ہوتے ہوئے روز مرہ دیکھتے ہو، اسی طرح حکمت الہی مردہ انسانوں کو بھی زمین سے لانکال کھڑا کرے گی۔ اور اس کا ناممکن ہونا تو خیر الگ رہا، اس میں استبعاد کی بھی کونسی بات ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
کفار مکہ تذبذب اور بےیقینی کا شکار تھے :
فی امر مریج، مریج کے معنی لغت میں مختلط کے ہیں جن میں مختلف چیزوں کا اختلاط و التباس ہو اور ایسی چیز عموماً فاسد ہوتی ہے، اسی لئے حضرت ابوہریرہ ؓ نے مریج کا ترجمہ فاسد فرمایا ہے اور ضحاک رحمتہ اللہ تعالیٰ و قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ اور حسن بصری وغیرہ نے مریج کا ترجمہ مختلط اور ملتبس سے کیا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین و منکرین رسالت اپنے انکار میں بھی کسی ایک بات پر نہیں جمتے کبھی آپ کو جادو گر بتاتے ہیں تو کبھی شاعر اور کبھی کاہن و نجومی اور قرآن کے بارے میں بھی ان کا یہی حال ہے۔
آگے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہے جو آسمان اور زمین اور ان کے…
Read the full tafseer →اور لمبے لمبے کھجور کے درخت کے گپھے خوب گوندھے ہوئے ہوتے ہیں
بٰسِقٰتٍ : لمبے لمبے کھجور کے درخت یا باسقات کا معنی ہے بوجھ اٹھانے والے ‘ بکری گابھن ہوجائے تو کہتے ہیں بَسَقَتِ الشَّاۃُ : کھجور کا درخت بہت اونچا بھی ہوتا ہے اور اس کے منافع بھی بہت ہیں ‘ اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : درختوں میں ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں گرتے ‘ اس کی مثال ایسی ہے جیسے مسلمان۔ بتاؤ وہ کونسا درخت ہے ؟ لوگوں کا خیال صحرائی درختوں کی طرف گیا۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ کھجور کا درخت ہے۔ (رواہ البخاری ‘ من حدیث ابن عمر ؓ
یہ بھی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنی پھوپھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(9۔ 10) اور ہم نے آسمان سے اگانے والا اور فائدہ والا پانی برسایا جس میں ہر ایک چیز کی زندگی ہے اور پھر اس پانی سے بہت سے باغات اگائے اور کئی قسم کی کھیتیوں کا غلہ اور لمبی لمبی کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گوندھے ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →(1) والنحل بسقت :”النخل“ اسم جنس ہے جو کھجور کے درختوں پر بولا جاتا ہے، زیادہ ہوں یا ایک۔ اگر کھجور کا ایک درخت ہو تو اسے ”نحلۃ“ کہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(فا جآء ھا المخاص الی جدع النجلۃ) (مریم 23) ”پھر درد زہ اسے کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔”یسق یسق بسوقا“ (ن)”النحل“ کھجور کے درختوں کا لمبا اور بلند ہونا۔ چناچہ زمین پر پڑے ہوئے کھجور کے لمبے تنے کو ”باسق“ نہیں کہتے۔
(2) لھا طلع نصید :”طلع“ کھجور کے پھل کا خوشہ جو شروع میں طلوع ہوتا ہے اور اس پر پردہ ہوتا ہے۔”نصید“ معنی ”منصود“ تہ بہ تہ۔ یعنی پردے کے اندر انار کے دانوں کی طرف کھجور کے دانوں کی ابتدا تہ بہ تہ قط اورں کی شکل میں ہوتی ہے، جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6 ۔ 11:۔ افلم ینظروا الی السماء فوقھم عبرت اور تفکر کی نظر سے نہیں دیکھتے اور یہ نہیں سوچتے کہ وہ ذات جو انہیں پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے۔
کیف بنینھا ہم نے انہیں بغیر ستونوں کے بلند کردیا ہے۔ وزینھا اور ہم نے انہیں ستاروں سے مزین کیا ہے۔ ومالھا من فروج، فروج، فرج کی جمع ہے جس کا معنی شق ہے۔
مرء القیس کے شعر میں بھی یہ لفظ سی معنی میں ہے :
تسد بہ فر جھا من دبر
کسائی نے کہا : اس میں کوئی تقدت، اختلاف اور پھٹن نہیں۔ والارض مددنھا وا لقینا فیھا رواسی۔ سورة رعد میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ واثبتنا فیھا من کل زوج یعنی نباتات کی تمام انواع سے۔ بھیج، حسین جو دیکھنے والوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
27:۔ الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے قطبہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو صبح کے وقت میں یہ پڑھتے ہوئے سنا جب آپ اس (آیت ) '' والنخل بسقت الھا طلع نضید '' پر پہنچے اور لمبے لمبے کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گوندے ہوئے ہیں) تو فرمایا قطبہ میں کہتا ہوں وہ کھجور کے درخت جن کو بہت لمبا بنایا گیا۔
28:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنخل بسقت '' سے مراد ہے لمبی کھجوریں۔
29:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عبداللہ بن عثمان بن خثیم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ ؓ سے (آیت ) '' والنخل بسقت '' کے بارے میں پوچھا میں نے کہا کہ اس…
Read the full tafseer →وَالنَّخْلَ [ اور کھجوریں ] بٰسِقٰتٍ [ لمے تنے والیاں ] لَّهَا طَلْعٌ [ ان کے لیے کونپل ہے ] نَّضِيْدٌ [ تہہ بہ تہہ ]
ب س ق : (ن) بسوقا ۔ درخت کا لمبے تنے کا ہونا ۔ باسق ۔ فاعل کے وزن پر صفت ہے۔ لمبے تنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 10 ۔
Read the full tafseer →﴿ وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيْدٌۙ0010 ﴾ اور ہم نے کھجور کے درخت اگائے جو لمبے ہیں اپنے تنے پر کھڑے ہیں۔ ان کھجوروں کے درختوں سے گچھے نکلتے ہیں جو ترتیب سے دیکھنے میں ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
بیان عظمت کلام خداوندی و انکار منکرین وتعجب بر حشر ونشر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ق والقران المجید ....... الی ...... کذلک الخروج “۔
(ربط) سورة حجرات کے مضامین کا اختتام اس امر کے بیان پر تھا کہ اسلام کی توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہدایت ہے اور اس کا عظیم انعام ہے اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے ایمان پر استقامت اور دین حق پر ثابت قدمی اس اعتقاد ویقین پر موقوف ہے کہ حق تعالیٰ شانہ بندہ کی ہر حالت سے باخبر ہے اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے تو اس مناسبت سے اب سورة ق کی ابتداء عظمت کلام خدا وندی سے کی جارہی ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہدایت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
7:۔ ” ونزلنا من السماء “ یہاں پھر عام علوی کا ذکر ہے۔ ” مبارکا “ کثیر المنافع۔ ” الحصید “ کھیتی جو پکنے کے بعد کاٹی جاتی جاتی ہے۔ ” باسقات “ ، بلند۔ ” طلع نضید “ پھل کے تہ بتہ گچھے، اور ہم نے آسمان سے مینہ برسایا جس میں بیشمار برکات و منافع ہیں اور اس کے ذریعے سے لہلہاتے باغات اور مختلف اقسام کے غلوں کے سرسبز و شاداب کھیت پیدا کیے اور کھجور کے بلند وبالا درخت پیدا کیے۔ پھل کے تہ بتہ خوشوں سے لدے ہوتے ہیں۔ یہ سب بندوں کی روزی کا سامان ہے۔ ” واحیینا بہ الخ “ یہاں پھر عالم سفلی سے دلیل لائی گئی ہے اور اس بارانِ رحمت سے ہم مردہ اور بنجر زمین میں جان ڈال دیتے ہیں اور اسے زرخیز اور قابل کاشت بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
ربط آیات
ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت اور وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ، اور فرمایا کہ یہ کون سی تعجب کی بات ہے کہ اللہ نے انہی میں سے ایک شخص کو منذر بنا کر بھیجا ہے اور اس کے ذریعے اپنا پیغام مخلوق تک پہنچایا ہے۔ انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ انسانوں ہی سے رسول بنا کر ان کی طرف بھیجتا رہا ۔ اب اللہ کا آخری رسول بھی انہی میں سے تو یہ کوئی عجیب بات تو نہیں ہے۔ اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے ۔ اور ہمارے اجسام ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں رل مل جائیں گے تو ہم دوبارہ…
Read the full tafseer →وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّہَا طَلْعٌ نَّضِيْدٌ 10 ۙ
نخل
النَّخْلُ معروف، وقد يُستعمَل في الواحد والجمع . قال تعالی: كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ
[ القمر/ 20] وقال : كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ خاوِيَةٍ [ الحاقة/ 7] ، وَنَخْلٍ طَلْعُها هَضِيمٌ
[ الشعراء/ 148] ، وَالنَّخْلَ باسِقاتٍ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] وجمعه : نَخِيلٌ ، قال : وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ [ النحل/ 67] والنَّخْلُ نَخْل الدّقيق بِالْمُنْخُل، وانْتَخَلْتُ الشیءَ : انتقیتُه فأخذْتُ خِيارَهُ.
( ن خ ل ) النخل
۔ کھجور کا درخت ۔ یہ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً مُّبٰـرَکًا فَاَنْبَتْنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِیْدِ ۔ وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّھَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ۔ رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ لا وَاَحْیَیْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا ط کَذٰلِکَ الْخُرُوْجُ ۔ (قٓ: 9 تا 11)
(اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا برکت والا، جس سے ہم نے باغ بھی اگائے اور کاٹی جانے والی فصلیں بھی۔ اور کھجوروں کے بلند وبالا درخت بھی، جن پر تہ بہ تہ خوشے ہیں۔ بندوں کی روزی کے لیے، اور ہم نے اس سے مردہ زمین کو زندہ کردیا، اسی طرح ہوگا زمین سے نکلنا بھی۔ )
گزشتہ مضمون میں ایک اور پہلو سے اضافہ
گزشتہ مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
فہم القرآن
ربط کلام : گل و گلزار زمین پر ہوں یا پہاڑوں پر اس کی پیدائش اور افزائش کا دارومدار پانی پر ہے اور پانی کا دارومدار بارش پر ہے اس لیے بارش اور نباتات کا بیک وقت ذکر کیا گیا ہے۔
” کیا وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا وہ غور نہیں کرتے کہ زمین و آسمان باہم ملے ہوئے تھے ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی ؟ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔ “ (الانبیاء : 30)
پانی کا دارومدار بارش پر ہے۔ اللہ نہ کرے اگر دس سال بارش نہ ہو تو زمین اور پہاڑوں کی شادابیاں ختم ہوجائیں۔ یہاں تک کہ انسان کو پینے کے لیے بھی پانی میسر نہیں آئے گا۔ کیونکہ بارش کے سوا پانی کا صرف ایک ہی ذریعہ باقی رہے…
Read the full tafseer →چوتھا انداز :
آیت 10 : وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ (اور لمبی لمبی کھجور کے درخت) آسمان میں بلند۔ لَّہَا طَلْعٌ (اس کے گچھے) طلع : کھجور کے پھل میں سے جو نمودار ہو۔ نَّضِیْدٌ (تہ بہ تہ ہوتے ہیں) ایک دوسرے پر گھچے اور گندھے ہوتے ہیں۔ پھلوں کے بہت دور تہ بہ تہ ہونے کی وجہ سے یا پھلوں کی کثرت کی بناء پر جن کو نضید کہا گیا۔
Read the full tafseer →9 ۔” ونزلنا من السمآء ماء مبارکا “ کثیر الخیر اور اس میں ہر چیز کی زندگی ہے وہ بارش ہے۔ ” فانبتنا بہ جنات وحب الحصید “ یعنی گندم ، جو اور تمام دانے جو کاٹے جاتے ہیں۔ پس جب کی اضافت حصید کی طرف کی ہے حالانکہ یہ دونوں ایک ہیں لفظی اختلاف کی وجہ سے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے مسجد الجامع اور ربیع الاول۔ اور کہا گیا ہے کہ ” حب الحصید “ یعنی ان پودوں کے دانے جو کاٹے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ حروف مقطعات کا بیان سورة بقر کے شروع میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آ کر محمد رسول ﷺ کے رسول ہونے کی اور قرآن کو اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کر دے گا تو ہم مان لیں گے۔ محمد ﷺ تو ہم جیسے انسان ہیں ان کی باتوں کا ہمیں یقین نہیں آتا۔ اس کا جواب تفصیل سے سورة انعام میں ہے مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ فرشتہ کو اصل صورت میں دیکھنا تو عام لوگوں کی طاقت سے باہر ہے سوائے اللہ کے رسول کے عام لوگوں میں سے فرشتہ کو جو کوئی اصل صورت میں دیکھے گا وہ فوراً مرجائے گا۔ اس لئے فرشتہ بھی ان لوگوں کے پاس آئے گا تو انسان کی صورت میں آئے گا۔ پھر ان لوگوں کا شبہ بھی باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کا حال اور ان کے قابل مذمت افعال کا ذکر کرنے کے بعد، انہیں آیات آفاقیہ میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ عبرت حاصل کریں اور ان امور پر استدلال کریں جن کے لئے ان کو دلیل بنایا ہے، فرمایا : (افلم ینظروا الی السماء فوقھم) ” کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ “ یعنی غور و فکر کی یہ نظر کسی مشقت اور سامان سفر باندھنے کی محتاج نہیں بلکہ بہت آسان ہے۔ وہ دیکھیں (کیف بنینھا) کہ ہم نے اسے کیسے ایک گنبد بنایا، جو اپنے کناروں پر برابر اور مضبوط بنیاد رکھتا ہے، جسے ان ستاروں سے آراستہ کیا گیا ہے جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور چلتے چلتے غائب ہوجاتے ہیں، جو ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
[ 11] درس گاہ کائنات میں غور و فکر کی دعوت کا ذکر وبیان :
سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ زمین و آسمان کی اس کھلی کتاب میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ ہم نے ایک عظیم الشان سامان عبرت و بصیرت و تذکیر و یاددہانی کے طور پر پیدا کیا ہے ہر اس بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہو حق اور ہدایت کی طرف۔ سو معلوم ہوا کہ حکمت بھری یہ کائنات ساری ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جس کی ایک ایک چیز گویا ایک کھلا ورق اور عظیم الشان ہے جس میں قدرت کی نشانیاں جھلمل جھلمل کرتی نظر آتی ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ خود انسان کے اندر طلب و جستجو پائی جاتی ہو اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیات 1 تا 15۔
اسرار ومعارف۔
ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ف 5 یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے میں تعجب کی کونسی بات ہے ؟ کیا تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بارش نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہوتی ہے جیسے اس میں زندگی کے کوئی آثار ہی نہیں۔ یکایک بارش ہوتی ہے تو اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور درخت اگتے ہیں گویا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس طرح تم بھی مرنے کے بعد زندہ کئے جاسکتے ہو۔
Read the full tafseer →(50:10) والنخل۔ انبتنا کا مفعول سوم۔ اور کھجور کے درخت۔
بسقت۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث غائب۔ باسقۃ واحد بسوق (باب نصر) مصدر (درخت کا) لمبی تنے والا، اور لمبی شاخوں والا ہونا۔ النخل بسقت ای النخیل الطوال العالیات کھجوروں کے درخت جو لمبے اور اونچے چلے گئے ہوں۔
لہا طلع نضید : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب النخل کے لئے ہے طلع طلع طلوع ومطلع (باب نصر) کے معنی آفتاب کے طلوع ہونے کے ہیں اور طلوع آفتاب کی مناسبت سے طلع النخل کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اور اس کے معنی درخت خرما کے غلاف کے ہیں جس کے اندر اس کا خوشہ ہوتا ہے (راغب) طلع پھل ہے جب تک وہ اس کے گابھے میں رہے (کلمات القرآن) طلع کھجور کے درخت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 :
عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔
تشریح : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
صفات باری تعالی۔
(ف 1) کفار قدرت الٰہی میں شک رکھتے ہیں کیا انہوں نے اس کے کارخانہ قدرت نہیں دیکھے کیا انہوں نے اپنے سروں پر آسمان نہیں دیکھا یہ نہیں سوچا کہ ہم نے اس کو کس حکمت سے مضبوط ومستحکم بغیر ستون بنایا اور رات کو جب اس پرستاروں کی قندیل اور جھاڑ فانوس روشن ہوتے ہیں تو کس قدر پررونق اور خوبصورت نظر آتا ہے پھر لطف یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں برس گزر گئے نہ اس چھت میں کہیں سوراخ ہوانہ کوئی کنگرہ گرا، نہ پلاسٹر ٹوٹا، نہ رنگ خراب ہوا، آخر کون ساہاتھ ہے جس نے یہ مخلوق بنائی اور بنا کر اس کی حفاظت کی، پھر فرمایا کہ زمین کو نہیں دیکھتے پانی پر اس کو کس قدرت کاملہ سے پھیلایا اور اس کے ثابت ومضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
[3] مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الٰہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا۔ یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت و قصد بھی اس کا رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →بارش کی برکتیں
1: بارش کی برکات کا تذکرہ کیا ہے ۔ کہ یہ کس قدر خیروبرکت کا موجب ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ سے باغات نشونما پاتے ہیں ۔ اناج اگتا ہے ۔ اور لمبی لمبی کھجوریں پیدا ہوتی ہیں ۔ جن کے خوشے خوب گتھے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ سب اس لئے ہے کہ اللہ کے بندے اپنے لئے رزق اور قوت کا سامان مہیا کریں ۔ پھر ایسا بھی ہوتا ہے ۔ کہ دیہات کے دیہات بارش نہ ہونے کی وجہ سے خشک اور بےآب ہوجاتے ہیں ۔ اور جب ابررحمت کے ۔ چند چھینٹے پڑجاتے ہیں ۔ تو ان میں تروتازی عود کر آتی ہے ۔ گویا وہ دوبارہ زندگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کہ جو لوگ حشیر اجساد کے منکر ہیں ۔ اور جن کی سمجھ میں یہ حقیقت نہیں آتی ۔…
Read the full tafseer →(10) اور کھجوروں کے اونچے اونچے درخت اگائے کہ ان درختوں کا گابھا اوپر تلے خوب گتھا ہوا اور تہ بر تہ ہوتا ہے - یعنی ان کے گچھے خوب گندھے ہوئے ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 3۔ یعنی ہماری قدرت کی معرفت کا ذریعہ ہے۔
4۔ یعنی ایسے شخص کے لئے جو اس غرض سے مصنوعات میں فکر کرنے کی طرف متوجہ ہو کہ وہ عین توجہ الی الصانع ہے۔
Read the full tafseer →کبھی ان کھجوروں کے درختوں اور ان کے گندھے ہوئے پھلوں پر ہی نظر کرلیا کرو
10 ۔ فرمایا یہ کھجوروں کے درخت ہو تم کو لمبے لمبے اور بےڈھنگے سوکھے ہوئے تنے اور ان پر جھاڑ کے سے پتے نظر آرہے ہیں ان پر غور کرو اور ان کے پکنے کے قریب گندھے ہوئے گچھوں پر نظر کرو اور پھر اس درخت کے نیچے کی زمین کو بھی ایک بار دیکھ لو کیا ان میں کوئی مشابہت تم کو نظر آتی ہے ؟ اچھا ذرا اس کو ایک بار چکھ کر بھی دیکھو سبحان اللہ ! یہ تازہ کھجوریں اور یہ کھجور کا درخت اور پھر اس کا تنا اور اس کے پائوں کی زمین ، وہ کون ہے جس نے اس شور زمین سے میٹھا رس نچوڑ کر اس تازہ کھجور کے اندر بھر دیا ہے جو خود بھی میٹھا ہے اور پھر اتنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
After mentioning the confused state of the infidels, Allah draws man's attention to His infinite power which He demonstrated by creating what is bigger than that which they wondered about and whose possibility they discounted. Referring to the heaven, the Qur'an says: وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ (...and it has no cracks...50:6). Lexically, the word furuj is the plural of farj which means a crack, or an opening. This and the following few verses draw attention to the marvels of Allah's creation, the wonderful design in the universe, and to the flawless celestial firmament. If this was made by man…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
9 For explanation, sec E.N.'s 12, 13, 14 of An-Nahl, E.N.'s 73, 74 of An-Naml, and E.N. 7 of Az-Zukhruf.
Read the full tafseer →