Explained with ayahs 6–11
اللہ کے محیر العقول شاہکار
یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں چناچہ سورة تبارک میں فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ) 67۔ الملک :3) ، اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے…
Read the full tafseer →سورة قٓ 10
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل، حواشی 73۔ 74۔ 81۔ الروم، حواشی 25۔ 33۔ 35۔ جلد چہارم، ی یسٰ ، حاشیہ 29۔
سورة قٓ 11
استدلال یہ ہے کہ جس خدا نے زمین کے اس کرے کو زندہ مخلوقات کی سکونت کے لیے موزوں مقام بنایا، اور جس نے زمین کی بےجان مٹی کو آسمان کے بےجان پانی کے ساتھ ملا کر اتنی اعلیٰ درجے کی نباتی زندگی پیدا کردی جسے تم اپنے باغوں اور کھیتوں کی شکل میں لہلہاتے دیکھ رہے ہو، اور جس نے اس نباتات کو انسان و حیوان سب کے لیے رزق کا ذریعہ بنادیا، اس کے متعلق تمہارا یہ گمان کہ وہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے، سراسر بےعقلی کا گمان ہے۔ تم اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
کیا آسمان نظر آتا ہے ؟
(آیت) اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓا اِلَى السَّمَاۗءِ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان نظر آتا اور مشہور یہ ہے کہ یہ نیلگوں رنگ جو نظر آتا ہے یہ ہوا کا رنگ ہے مگر اس کی نفی کی بھی کوئی دلیل نہیں کہ یہی رنگ آسمان کا بھی ہو، اس کے علاوہ آیت میں نظر سے مراد نظر عقلی بمعنی غور و فکر بھی مراد ہو سکتی ہے . (بیان القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ونزلنا من السمآء مآء مبرکا فانبتنا بہ جنت وحب المحصید، والنحل بسقت لھا طلع نضید، رزقا للعباد و احیینا بہ بلدۃ میتا ط کذلک الخروج (11-9)
آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ ایک اور پہلو سے
یہ آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف ایک اور زاویہ سے توجہ دلائی جس سے آسمان و زمین کے درمیان توافق کے پہلو سے توحید کی شہادت بھی ملتی ہے۔ ان کے اندر ربوبیت کے جو اسباب ودیعت ہیں ان سے جزاء و سزا کا لزوم بھی سامنے آتا ہے اور بارش سے مردہ زمین کے اندر جو حیات تازہ نمودار ہوتی ہے اس سے حیات بعد الممات کے وقوع کا بھی مشاہدہ ہر شخص کو ہوتا ہے۔ مآء قلبارک سے مراد وہ بارش ہے جو باعث زرخیزی و شادابی ہو۔ بعض مرتبہ…
Read the full tafseer →11۔ 1 یعنی جس طرح بارش سے مردہ زمین کو شاداب کردیتے ہیں، اسی طرح قیامت والے دن ہم قبروں سے انسانوں کو زندہ کر کے نکال لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
4: جس طرح ایک مردہ پڑی ہوئی زمین کو اللہ تعالیٰ بارش کے ذریعے زندگی عطا کردیتے ہیں کہ اس میں ڈالے ہوئے بیج سے طرح طرح کی سبزیاں، پھل اور اناج وجود میں آجاتا ہے، اسی طرح جو لوگ قبروں میں مٹی ہوچکے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ نئی زندگی دینے پر قادر ہیں۔
Read the full tafseer →رزقا للعباد (50 : 11) ” یہ انتظام ہے بندوں کو رزق دینے گا “۔ اس رزق کے اسباب اللہ کہاں سے چلا کر لاتا ہے۔ پھر نباتات اگاتا ہے ، پھر ثمرات لگاتا ہے ، یہ سب کچھ بندوں کے لئے۔ اور اللہ ہی صحیح آقا ہے اور اس کا پورا پورا شکر ادا کرنے کی قدرت ہی یہ بندے نہیں رکھتے۔
اور اب یہ کہ یہ پوری کائنات اس ہدف کی طرف بڑھ رہی ہے۔
واحیینا بہ بلدۃ میتتا کذلک الخروج (50 : 11) ” اور اس پانی سے ہم ایک مردہ زمین کو زندگی بخش دیتے ہیں (مرے ہوئے انسانوں کا زمین سے نکلنا بھی اسی طرح ہوگا “۔ یہ عمل تمہارے ماحول میں رات دن دہرایا جا رہا ہے ، تم اس کے عادی ہوگئے ہو۔ دیکھتے ہو لیکن یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ہے اور…
Read the full tafseer →9 یعنی بارش برسا کر مردہ زمین کو زندہ کردیا۔ اسی طرح قیامت کے دن مردے زندہ کردیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 11 { رِّزْقًا لِّلْعِبَادِلا وَاَحْیَیْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًاط } ”یہ سب رزق ہے بندوں کے لیے ‘ اور اسی پانی سے ہم زندہ کردیتے ہیں مردہ زمین کو۔“
{ کَذٰلِکَ الْخُرُوْجُ۔ } ”اسی طریقے سے نکلنا ہوگا تمہارا بھی۔“
جس طرح بارش کے پانی کے باعث خشک اور بنجر زمین سے طرح طرح کی نباتات اُگ آتی ہیں اسی طرح تم بھی ہمارے حکم سے زندہ ہو کر زمین سے نکل آئو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
12 قدرت کاملہ کے اس مظاہرہ سے ایک تو مرنے کے بعد کی زندگی کی دلیل ملتی ہے۔ دوسرے ان فصلوں کے غلہ اور ان درختوں کے پھلوں سے جو رزق حاصل ہوتا ہے وہ تمام انسانوں اور جانداروں کی زندگی کی بقا کا سبب بنتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دوسری دلیل ہے کہ کس طرح وہ اپنی تمام مخلوقات کے لئے فراہمی رزق کا انتظام فرما رہا ہے۔
13 نباتات کی روئیدگی سے بعث بعد الموت پر دلیل :۔ عرب کے اور بالخصوص مکہ اور اس کے ارد گرد کے پہاڑ سخت خشک قسم کے پہاڑ ہیں جہاں کوئی ہریاول نظر نہیں آتی۔ شدید گرمی پڑتی ہے اور وہاں کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کئی کئی سال بارش نہیں ہوتی۔ لیکن جب بارش ہوتی ہے تو وہاں بھی کچھ نہ کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
8۔ یہاں گویا یہ فرمایا کہ تم جس طرح بارش ہوئے پر خشک زمین کو از سر نوسر سبز و شاداب ہوتے ہوئے روز مرہ دیکھتے ہو، اسی طرح حکمت الہی مردہ انسانوں کو بھی زمین سے لانکال کھڑا کرے گی۔ اور اس کا ناممکن ہونا تو خیر الگ رہا، اس میں استبعاد کی بھی کونسی بات ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
کفار مکہ تذبذب اور بےیقینی کا شکار تھے :
فی امر مریج، مریج کے معنی لغت میں مختلط کے ہیں جن میں مختلف چیزوں کا اختلاط و التباس ہو اور ایسی چیز عموماً فاسد ہوتی ہے، اسی لئے حضرت ابوہریرہ ؓ نے مریج کا ترجمہ فاسد فرمایا ہے اور ضحاک رحمتہ اللہ تعالیٰ و قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ اور حسن بصری وغیرہ نے مریج کا ترجمہ مختلط اور ملتبس سے کیا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین و منکرین رسالت اپنے انکار میں بھی کسی ایک بات پر نہیں جمتے کبھی آپ کو جادو گر بتاتے ہیں تو کبھی شاعر اور کبھی کاہن و نجومی اور قرآن کے بارے میں بھی ان کا یہی حال ہے۔
آگے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہے جو آسمان اور زمین اور ان کے…
Read the full tafseer →‘ بندوں کے رزق دینے کے لیے اور ہم نے اس (پانی) کے ذریعہ سے مردہ زمین کو زندہ کیا (پس) اسی طرح زمین سے نکلنا ہوگا۔
رِزْقًا لِّلْعِبَادِ : رزقًا۔ انبتنا کا مفعول لہٗ ہے یعنی پیدا کرنے کی اصل غرض یا مفعول مطلق ہے اگرچہ انبات اور رزق کے الفاظ الگ الگ ہیں لیکن دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔
وَاَحْیَیْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا : یعنی پانی سے ہم نے خشک زمین کو جس میں کوئی روئیدگی اور سبزی نہیں تھی ‘ زندہ کردیا۔
کَذٰلِکَ الْخُرُوْجُ : یعنی جس طرح ہم زمین سے سبزہ اگاتے ہیں۔ اسی طرح ہم قبروں سے مردوں کو زندہ کر کے نکالیں گے۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دونوں صور…
Read the full tafseer →مخلوق کو رزق دینے کے لیے ہم نے اس بارش سے مردہ اور بنجر زمین کو زندہ کیا اسی طرح تم لوگ زندہ کیے جاؤ گے اور قیامت کے دن قبروں سے نکالے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →(واحیینا بہ بلدۃ میتاً کذلک الخروج : یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھنے میں تعجب کی کون سی بات ہے ؟ کیا تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بارش نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہوتی ہے، جیسے اس میں زندگی کے کوئی آثار ہی نہیں، پھر ی کیا ک بارش ہوتی ہے تو اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور درخت اگتے ہیں، گویا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اسی طرح تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6 ۔ 11:۔ افلم ینظروا الی السماء فوقھم عبرت اور تفکر کی نظر سے نہیں دیکھتے اور یہ نہیں سوچتے کہ وہ ذات جو انہیں پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے۔
کیف بنینھا ہم نے انہیں بغیر ستونوں کے بلند کردیا ہے۔ وزینھا اور ہم نے انہیں ستاروں سے مزین کیا ہے۔ ومالھا من فروج، فروج، فرج کی جمع ہے جس کا معنی شق ہے۔
مرء القیس کے شعر میں بھی یہ لفظ سی معنی میں ہے :
تسد بہ فر جھا من دبر
کسائی نے کہا : اس میں کوئی تقدت، اختلاف اور پھٹن نہیں۔ والارض مددنھا وا لقینا فیھا رواسی۔ سورة رعد میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ واثبتنا فیھا من کل زوج یعنی نباتات کی تمام انواع سے۔ بھیج، حسین جو دیکھنے والوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
27:۔ الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے قطبہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو صبح کے وقت میں یہ پڑھتے ہوئے سنا جب آپ اس (آیت ) '' والنخل بسقت الھا طلع نضید '' پر پہنچے اور لمبے لمبے کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گوندے ہوئے ہیں) تو فرمایا قطبہ میں کہتا ہوں وہ کھجور کے درخت جن کو بہت لمبا بنایا گیا۔
28:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنخل بسقت '' سے مراد ہے لمبی کھجوریں۔
29:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عبداللہ بن عثمان بن خثیم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ ؓ سے (آیت ) '' والنخل بسقت '' کے بارے میں پوچھا میں نے کہا کہ اس…
Read the full tafseer →رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ ۙ [ رزق ہوتے ہوئے بندوں کے لیے ] وَاَحْيَيْنَا بِهٖ [ اور ہم نے زندہ کیا اس (پانی ) سے ] بَلْدَةً مَّيْتًا ۭ [ ایک مردہ بستی کو ] كَذٰلِكَ [اسی طرح ] الْخُرُوْجُ [ (قبروں سے ) نکلنا ہے ]
نوٹ ۔ 1: کسی معتبر روایات سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ سورة کس زمانے میں نازل ہوئی تھی ، مگر مضامین پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا زمانہ نزول مکہ معظمہ کا دوسرا دور ہے ۔ جو نبوت کے تیسرے سال سے شروع ہوکر پانچویں سال تک رہا جب کفار کی مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کرچکی تھی مگر ابھی ظلم وستم کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔ پوری سورة کا موضوع آخرت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب اپنی دعوت کا اغاز کیا تو…
Read the full tafseer →﴿ رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ 1ۙ﴾ یہ سب چیزیں بندوں کے رزق کے لیے پیدا فرمائی ہیں ﴿ وَ اَحْيَيْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا 1ؕ﴾ (اور ہم نے اس بارش کے ذریعہ زمین کے مردہ ٹکڑوں کو زندہ کردیا) ۔
﴿كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ 0011﴾ (اسی طرح قبروں سے نکلنا ہوگا) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے نکال دے گا جیسا کہ مرد زمین کو زندہ فرما کر اس سے مذکورہ چیزیں نکالتا ہے، اس آخری جملہ سے پوری آیت کا ماسبق سے ارتباط سمجھ میں آگیا یعنی منکرین بعث وقوع قیامت کو نہیں مانتے حالانکہ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر ہیں جیسے وہ ان چیزوں پر قادر ہے ایسے ہی مردوں میں جان ڈال کر اور قبروں سے نکال کر میدان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
بیان عظمت کلام خداوندی و انکار منکرین وتعجب بر حشر ونشر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ق والقران المجید ....... الی ...... کذلک الخروج “۔
(ربط) سورة حجرات کے مضامین کا اختتام اس امر کے بیان پر تھا کہ اسلام کی توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہدایت ہے اور اس کا عظیم انعام ہے اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے ایمان پر استقامت اور دین حق پر ثابت قدمی اس اعتقاد ویقین پر موقوف ہے کہ حق تعالیٰ شانہ بندہ کی ہر حالت سے باخبر ہے اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے تو اس مناسبت سے اب سورة ق کی ابتداء عظمت کلام خدا وندی سے کی جارہی ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہدایت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
7:۔ ” ونزلنا من السماء “ یہاں پھر عام علوی کا ذکر ہے۔ ” مبارکا “ کثیر المنافع۔ ” الحصید “ کھیتی جو پکنے کے بعد کاٹی جاتی جاتی ہے۔ ” باسقات “ ، بلند۔ ” طلع نضید “ پھل کے تہ بتہ گچھے، اور ہم نے آسمان سے مینہ برسایا جس میں بیشمار برکات و منافع ہیں اور اس کے ذریعے سے لہلہاتے باغات اور مختلف اقسام کے غلوں کے سرسبز و شاداب کھیت پیدا کیے اور کھجور کے بلند وبالا درخت پیدا کیے۔ پھل کے تہ بتہ خوشوں سے لدے ہوتے ہیں۔ یہ سب بندوں کی روزی کا سامان ہے۔ ” واحیینا بہ الخ “ یہاں پھر عالم سفلی سے دلیل لائی گئی ہے اور اس بارانِ رحمت سے ہم مردہ اور بنجر زمین میں جان ڈال دیتے ہیں اور اسے زرخیز اور قابل کاشت بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
ربط آیات
ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت اور وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ، اور فرمایا کہ یہ کون سی تعجب کی بات ہے کہ اللہ نے انہی میں سے ایک شخص کو منذر بنا کر بھیجا ہے اور اس کے ذریعے اپنا پیغام مخلوق تک پہنچایا ہے۔ انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ انسانوں ہی سے رسول بنا کر ان کی طرف بھیجتا رہا ۔ اب اللہ کا آخری رسول بھی انہی میں سے تو یہ کوئی عجیب بات تو نہیں ہے۔ اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے ۔ اور ہمارے اجسام ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں رل مل جائیں گے تو ہم دوبارہ…
Read the full tafseer →رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ 0 ۙ وَاَحْيَيْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّيْتًا 0 ۭ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ 11
رزق
الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم،
( ر ز ق) الرزق
وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً مُّبٰـرَکًا فَاَنْبَتْنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِیْدِ ۔ وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّھَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ۔ رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ لا وَاَحْیَیْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا ط کَذٰلِکَ الْخُرُوْجُ ۔ (قٓ: 9 تا 11)
(اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا برکت والا، جس سے ہم نے باغ بھی اگائے اور کاٹی جانے والی فصلیں بھی۔ اور کھجوروں کے بلند وبالا درخت بھی، جن پر تہ بہ تہ خوشے ہیں۔ بندوں کی روزی کے لیے، اور ہم نے اس سے مردہ زمین کو زندہ کردیا، اسی طرح ہوگا زمین سے نکلنا بھی۔ )
گزشتہ مضمون میں ایک اور پہلو سے اضافہ
گزشتہ مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
فہم القرآن
ربط کلام : گل و گلزار زمین پر ہوں یا پہاڑوں پر اس کی پیدائش اور افزائش کا دارومدار پانی پر ہے اور پانی کا دارومدار بارش پر ہے اس لیے بارش اور نباتات کا بیک وقت ذکر کیا گیا ہے۔
” کیا وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا وہ غور نہیں کرتے کہ زمین و آسمان باہم ملے ہوئے تھے ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی ؟ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔ “ (الانبیاء : 30)
پانی کا دارومدار بارش پر ہے۔ اللہ نہ کرے اگر دس سال بارش نہ ہو تو زمین اور پہاڑوں کی شادابیاں ختم ہوجائیں۔ یہاں تک کہ انسان کو پینے کے لیے بھی پانی میسر نہیں آئے گا۔ کیونکہ بارش کے سوا پانی کا صرف ایک ہی ذریعہ باقی رہے…
Read the full tafseer →آیت 11 : رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ (بندوں کو رزق دینے کے لئے) ہم نے ان کو اگایا رزق کے طور پر۔ انبات رزق کے معنی میں ہے اس سے رزقًا اس کا مصدر من غیر لفظہٖ ہوا۔ اور یہ مفعول لہ ہے۔ ای انبتناھا لنرزقہم۔ ان کو رزق دینے کے لئے اسے اگایا۔ وَاَحْیَیْنَا بِہٖ (اور ہم نے اس کے ذریعہ زندہ کردیا) اس پانی کے ذریعہ بَلْدَۃً مَّیْتًا (مردہ زمین کو) جس کی نباتات خشک ہوچکی تھی۔ کَذٰلِکَ الْخُرُوْجُ (اسی طرح زمین سے نکلنا ہوگا) جس طرح یہ مردہ زمین آباد کردی گئی اسی طرح تم زندہ کر کے موت کے بعد نکالے جائو گے کیونکہ بنجر کی آبادی مردوں کو زندہ کرنے کی طرح ہے۔
کا فمحل رفع میں مبتدأ ہونے کی وجہ سے واقع ہے۔
Read the full tafseer →10 ۔” والنخل باسقات “ مجاہد، عکرمہ اور قتادہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں لمبے۔ کہا جاتا ہے ” سبقت النخلۃ بسوقا “ جب وہ لمبی ہوجائے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں سیدھی۔ ” لھا طلع “ پھل اور بوجھ ، پھل کو طلع کا نام دیا گیا ہے۔ اس لئے کہ یہ طلوع ہوتا ہے اور طلع وہ پہلی چیز جو پھٹنے سے پہلے ظاہر ہو۔ ” نضید “ تہہ بہ تہہ شگوفے۔ پس جب وہ اپنے شگوفوں سے نکل آئے تو وہ نضید نہیں ہے۔
Read the full tafseer →11۔ صحیحین 3 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ حشر کے دن پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے حضرت آدم ﷺ کے زمانہ سے لے کر ایک مینہ برسے گا جس سے حضرت آدم ﷺ کے زمانہ سے لے کر قیامت تک کے جس قدر جسموں کی خاک زمین میں ہے اس خاک سے سب جسم بن کر اس طرح تیار ہوجائیں گے جس طرح اب مینہ سے ہر طرح کے درخت تیار ہوجاتے ہیں پھر ان جسموں میں روح پھونک دی جائے گی اسی مناسبت کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں جگہ جگہ مینہ سے ہر طرح کے درختوں کے پیدا ہونے اور حشر کے دن انسان کو دوبارہ پیدا ہونے کی تشبیہ دے کر فرمایا ہے اس سورت کی اوپر کی آیتوں میں اور سوہ آلم سجدہ اور سورة یٰسین میں اور کئی جگہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کا حال اور ان کے قابل مذمت افعال کا ذکر کرنے کے بعد، انہیں آیات آفاقیہ میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ عبرت حاصل کریں اور ان امور پر استدلال کریں جن کے لئے ان کو دلیل بنایا ہے، فرمایا : (افلم ینظروا الی السماء فوقھم) ” کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ “ یعنی غور و فکر کی یہ نظر کسی مشقت اور سامان سفر باندھنے کی محتاج نہیں بلکہ بہت آسان ہے۔ وہ دیکھیں (کیف بنینھا) کہ ہم نے اسے کیسے ایک گنبد بنایا، جو اپنے کناروں پر برابر اور مضبوط بنیاد رکھتا ہے، جسے ان ستاروں سے آراستہ کیا گیا ہے جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور چلتے چلتے غائب ہوجاتے ہیں، جو ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
[ 12] رزق و روزی کی بہم رسانی میں سامان غور و فکر :
سو اس سے بندوں کی روزی کیلئے حکمتوں بھرے نظام میں سامان غور و فکر کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آسمان سے برکتوں بھرا پانی اتارا۔ پھر اس کے ذریعے ہم نے اس میں طرح طرح کے باغات بھی اگائے اور کاٗی جانے والی فصلیں بھی۔ جیسے گندم، جو، چنے اور چاول وغیرہ وغیرہ جن کی کھیتیاں کاٹی جاتی ہیں، اور ان میں انسانی ضروریات کی تکمیل کیلئے قسما قسم کے سامان بھی ہیں، اور ان میں سے ایک ایک چیز میں قدرت کی عظیم الشان نشانیاں بھی، اس طرح اگر انسان انہی چیزوں میں غور و فکر سے کام لے تو یہ چیزیں اس کی جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیات 1 تا 15۔
اسرار ومعارف۔
ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ف 5 یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے میں تعجب کی کونسی بات ہے ؟ کیا تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بارش نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہوتی ہے جیسے اس میں زندگی کے کوئی آثار ہی نہیں۔ یکایک بارش ہوتی ہے تو اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور درخت اگتے ہیں گویا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس طرح تم بھی مرنے کے بعد زندہ کئے جاسکتے ہو۔
Read the full tafseer →(50:11) رزقا للعباد : زرقا مفعول لہ ہے انبتنا کا۔ یعنی پیدا کرنے کی اصل غرض یہ ہے ۔
واحیینا بہ بلدۃ میتا : واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف انبینا بہ پر ہے بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ماء ہے ای احیینا بذلک الماء بلدۃ میتا۔ موصوف و صفت مل کر احیینا کا مفعول ۔ اور اس پانی سے ہم نے مردہ شہر کو زندہ کردیا۔ یعنی جہاں کوئی سبزہ اور روئیدگی نہ تھی اس کو سرسبز و شاداب بنادیا۔
کذلک الخروج : مبتداء خبر۔ جیسے مثل زیدا خوک۔ کذلک۔ کاف تشبیہ واقع موقع مثل ہے۔ ذلک الخروج۔ یعنی ان خروج الناس احیاء من قبورہم بعد الموت کخروج النبات من الارض بعد عدمہ موت کے بعد لوگوں کا قبروں سے زندہ نکال لانا ایسے ہی ہے جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 :
عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔
تشریح : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
صفات باری تعالی۔
(ف 1) کفار قدرت الٰہی میں شک رکھتے ہیں کیا انہوں نے اس کے کارخانہ قدرت نہیں دیکھے کیا انہوں نے اپنے سروں پر آسمان نہیں دیکھا یہ نہیں سوچا کہ ہم نے اس کو کس حکمت سے مضبوط ومستحکم بغیر ستون بنایا اور رات کو جب اس پرستاروں کی قندیل اور جھاڑ فانوس روشن ہوتے ہیں تو کس قدر پررونق اور خوبصورت نظر آتا ہے پھر لطف یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں برس گزر گئے نہ اس چھت میں کہیں سوراخ ہوانہ کوئی کنگرہ گرا، نہ پلاسٹر ٹوٹا، نہ رنگ خراب ہوا، آخر کون ساہاتھ ہے جس نے یہ مخلوق بنائی اور بنا کر اس کی حفاظت کی، پھر فرمایا کہ زمین کو نہیں دیکھتے پانی پر اس کو کس قدرت کاملہ سے پھیلایا اور اس کے ثابت ومضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
[3] مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الٰہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا۔ یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت و قصد بھی اس کا رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
تعلیم الٰہی کی غرض
2: تعلیمات الٰہیہ کی غرض وغایت یہ ہوتی ہے ۔ کہ مردہ تنوں میں جان ڈالدی جائے ۔ اور جن دلوں میں کفر والحاد کے خیالات کی وجہ سے زنگ پیدا ہوگیا ہے ۔
اس کو روشن اور مجلی بنادیا جائے ۔ روح کا تزکیہ کیا جائے اور اخلاق کو سنوارا جائے ۔ اور انسان کو بحیثیت مجموعی اس قابل بنایا جائے کہ وہ زندگی کی مشکلات میں عبور حاصل کرسکے ۔ اور ساری کائنات کو اپنے لئے مسخر کرلے ۔ اس مقصد کی تکمیل جب نہیں ہوتی اور قومیں اپنے افکار و معصیت سے جب یہ ثابت کردیتی ہیں ۔ کہ ہمیں زندہ رہنے کی قطعاً کوئی خواہش نہیں ہے ہماری صلاحتیں بیکار ہوچکی ہیں ۔ اور روحانی اخلاقی نصب العین کھو چکی ہیں ۔ تو اس وقت اللہ…
Read the full tafseer →(11) یہ سب کچھ بندوں کے رزق دینے کے لئے اگایا اور اسی پانی کے ذریعے ہم نے مری ہوئی زمین کو زندہ کیا اور اسی طرح قبروں سے مردوں کا نکلنا ہوگا۔ بارش کے پانی کو برکت والا فرمایا کیونکہ مخلوق کے لئے اس میں خیر کثیر اور منافع کثیرہ ہیں اس برکت والی بارش کی وجہ سے ہی زمین سے ہر قسم کی چیز پیدا ہوتی ہے نباتات ہی کیا بلکہ جمادات لوہا، سیسہ، سونا، چاندی غرض زمین کی ہر چیز کا تعلق آسمانی بارش سے ہے۔
بلدۃ کا ترجمہ ہم نے زمین کردیا ہے اس لئے کہ شہر کا زندہ کرنا یا کسی قصبہ کا زندہ کرنا یہی ہے کہ اس کی زمین میں زندگی پیدا ہوجائے اور اس میں روئیدگی کی طاقت از سر نو آجائے۔ اس میں مری ہوئی زمین کو زندہ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 5۔ یعنی جب ان امور پر ہماری قدرت ثابت ہوگئی تو احیاء موتی پر کیوں نہ ہوگی، پس مقدر و ممکن اور فاعل علم وقدرت سے متصف ثابت ہوا، پھر تعجب یا تکذیب کیا معنی ؟
Read the full tafseer →غور کرو کہ لوگوں کو رزق دینے کے لیے ہم نے اپ سانی سے کیا چیز زندہ کردی
11 ۔ یہ کھجوروں کے گچھے کیا ہیں ؟ اور یہ تہ بہ تہ پھل جو تم کو نظر آرہے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے ؟ فرمایا لوگوں کے لیے پکا پکایا تیار رزق ہے اور یہ ان لوگوں کو اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ اس کو حاصل کرکے اس سے کھا کر اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی قدرت کو پہچانیں اور اس کی ربوبیت کا اعتراف کریں اور جس طرح ہم ایک مردہ زمین کو ، مردہ علاقہ کو یا مردہ شہر کو پانی نازل کرکے زندہ کردیتے ہیں اسی طرح یہ لوگ یقین کرلیں کہ ان کو دوبارہ زندہ کرکے زمین سے نکال لیاجائے گا اب اگر تم لوگوں کو یقین نہیں آتا تو تمہارے یقین کے لیے ایک دن مقرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
After mentioning the confused state of the infidels, Allah draws man's attention to His infinite power which He demonstrated by creating what is bigger than that which they wondered about and whose possibility they discounted. Referring to the heaven, the Qur'an says: وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ (...and it has no cracks...50:6). Lexically, the word furuj is the plural of farj which means a crack, or an opening. This and the following few verses draw attention to the marvels of Allah's creation, the wonderful design in the universe, and to the flawless celestial firmament. If this was made by man…
Read the full tafseer →10 For explanation, set E.N.'s 73, 74, 81 of An-Naml, E.N.'s 25, 33, 35 of Ar-Rum and E. N . 29 of Ya Sin.
11 The reasoning is this: `Your conjecture about God Who made this sphere of the earth a suitable home for living creatures and Who by combining the lifeless clay of the earth with the lifeless water from the sky produced such a fine vegetable life that you witness flourishing in the form of your gardens and crops, and W ho made the vegetation a means of sustenance for both man and beast, that He has no power to resurrect you after death, is a foolish and absurd conjecture. You witness…
Read the full tafseer →