Qaaf 50:12

Qaaf · from ayah 12

50:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّاَصْحٰبُ الرَّسِّ وَثَمُوْدُ ۟ۙكَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّاَصۡحٰبُ الرَّسِّ وَثَمُوۡدُۙ

ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

The people of Noah denied before them, and the companions of the well and Thamud

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:12

اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم، اور اصحاب الرس، اور ثمود

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور رس والوں نے اور ﺛمود نے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان سے پہلے نوح کی قوم اور اصحاب الرس اور ثمود کے لوگوں نے بھی (اس بات کو) جھٹلایا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان سے پہلے جھٹلایا نوح کی قوم اور رس والوں اور ثمود

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اِن (کفّارِ مکہ) سے پہلے قومِ نوح نے، اور (سرزمینِ یمامہ کے اندھے) کنویں والوں نے، اور (مدینہ سے شام کی طرف تبوک کے قریب بستیِ حجر میں آباد صالح علیہ السلام کی قوم) ثمود نے جھٹلایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور کنویں والوں نے اور ثمود نے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان لوگوں سے پہلے قوم نوح، کنوئیں والے اور ثمود نے جھٹلایا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اسی طرح) جھٹلایا (حق اور حقیقت کو) ان سے پہلے قوم نوح نے اور کنوئیں والوں نے اور قوم ثمود نے

— مولانا اسحاق مدنی

ان لوگوں کے قبل قوم نوح اور اہل رس اور ثمود

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جھٹلایا تھا ان سے پہلے بھی نوح ؑ کی قوم نے کنویں والوں نے اور قوم ثمود نے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

In the past Noah's people, and the people of Rass and Thamud gave the lie (to Messengers),

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It (resurrection) was rejected before them by the people of NuH, and the people of Rass and Thamud,

— Muhammad Taqi Usmani

It (resurrection) was rejected before them by the people of NuH, and the people of Rass and Thamud,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Denied before them the people of Nuh, and the Dwellers of Rass, and Thamud,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The folk of Noah denied (the truth) before them, and (so did) the dwellers at Ar-Rass and (the tribe of) Thamud,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The people of Noah denied before them, and the companions of the well and Thamud

— Saheeh International

The people of Noah, dwellers of the Ra's, Thamud,

— Muhammad Sarwar

(Others) before them rejected (prophets): the people of Nuh and the dwellers of Ar-Rass and Samood,

— Muhammad Habib Shakir

And before them the people of Nuh belied, and so did the dwellers Of Rass and the Thamud.

— Abdul Majid Daryabadi

Before them was denied (the Hereafter) by the People of Noah, the Companions of the Rass, the Thamud,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–15

ان کو شامت اعمال ہی شد تھی اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں جیسے کہ نوح کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کردیا اور اصحاب رس جن کا پورا قصہ سورة فرقان کی تفسیر میں گذر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنادیا یہ سب کیا تھا ؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں، سورة دخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں فالحمد للہ۔ ان تمام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 12 اس سے پہلے سورة فرقان، آیت 28 میں اصحاب الرس کا ذکر گزر چکا ہے، اور دوسری مرتبہ اب یہاں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ مگر دونوں جگہ انبیاء کو جھٹلانے والی قوموں کے سلسلے میں صرف ان کا نام ہی لیا گیا ہے، کوئی تفصیل ان کے قصے کی بیان نہیں کی گئی ہے۔ عرب کی روایات میں الرس کے نام سے دو مقام معروف ہیں، ایک نجد میں، دوسرا شمالی حجاز میں۔ ان میں نجد کا الرس زیادہ مشہور ہے اور اشعار جاہلیت میں زیادہ تر اسی کا ذکر سنا ہے۔ اب یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ اصحاب الرس ان دونوں میں سے کس جگہ کے رہنے والے تھے۔ ان کے قصے کی بھی کوئی قابل اعتماد تفصیل کسی روایت میں نہیں ملتی۔ زیادہ سے زیادہ بس اتنی بات صحت کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ۔ سابقہ آیات میں کفار کی تکذیب رسالت و آخرت کا ذکر تھا، جس سے رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچنا ظاہر ہے، اس آیت میں حق تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لئے پچھلے انبیاء اور ان کی امتوں کے حالات بتلائے ہیں کہ ہر پیغمبر کو منکرین و کفار کی طرف سے ایسی ایذائیں پیش آتی ہی ہیں، یہ سنت انبیاء ہے، اس سے آپ شکستہ خاطر نہ ہوں، قوم نوح ؑ کا قصہ قرآن میں بار بار آیا ہے کہ ساڑھے نو سو برس نوح ؑ ان کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے مگر ان کی طرف سے نہ صرف انکار بلکہ طرح طرح کی ایذائیں پہنچتی رہیں اصحاب الرس کون لوگ ہیں ؟ اَصْحٰبُ الرَّسِّ ، لفظ رس عربی زبان میں مختلف معنی کے لئے آتا ہے،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 12–14

کذبت قبلھم قوم نوج و اصحب الرس وثمود، وعاد فرعون واخوان لوط، واصحب الایکۃ وقوم تبع کل کذب الرسل فحق وعید (14-12) قریش کو تہدید یہ قرش کو تہدید ہے کہ ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، عاد، فرعون، قوم لوط، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے بھی اسی طرح تکذیب کی جب کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان پر اچھی طرح حق کو واضح کردیا۔ بالآخر اس تکذیب کے جس انجام سے ان کو آگاہ کیا گیا تھا وہ ان کے سامنے ظاہر ہو کر رہا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی اگر اس تکذیب پر اڑے رہ گئے تو جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ لازماً آ کے رہے گا اور آسمان و زمین کی کوئی طاقت ان کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی۔ یہ اس سنت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–13

12۔ 1 اصحاب الرس کی تعیین میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ امام ابن جریر طبری نے اس قول کو ترجیح دی ہے جس میں انہیں اصحاب اخدود قرار دیا گیا ہے، جس کا ذکر سورة بروج میں ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے ابن کثیر و فتح القدیر، (وَّعَادًا وَّثَمُــوْدَا۟ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًــۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا) 25۔ الفرقان :38)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–15

5: کسی بھی چیز کو پہلی بار پیدا کرنا اسے عدم سے وجود میں لانا ہمیشہ زیادہ مشکل ہوتا ہے، بہ نسبت اس کے کہ اسے دوبارہ ویسا ہی بنادیا جائے، جب اللہ تعالیٰ کو پہلی بار پیدا کرنے میں کوئی دشواری یا تھکن لاحق نہیں ہوئی تو دوبارہ پیدا کرنے میں کیوں کوئی مشکل ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–13

اب انسانی تاریخ کے طویل ریکارڈ سے کچھ عبرتیں اور نصیحتیں ، اس سے قبل پورے دلائل دئیے گئے تھے وہ اس کائنات کی کھلی کتاب سے تھے۔ اب کتاب تاریخ کے اوراق الٹئے ! اور دیکھئے کہ جن لوگوں نے آخرت کی جوابدہی کا انکار کیا ان کا انجام کیا ہوا۔ اپنے رویے پر ذرا غور کرو۔ انہوں نے بھی اسی طرح تکذیب کی جس طرح تم کر رہے ہو اور ان پر جو عذاب آیا کیا تم پر ایسا عذاب نہیں آسکتا ؟ کذبت قبلھم ۔۔۔ وثمود (12) وعاد وفرعون واخوان لوط (13) واصحب الایکۃ ۔۔۔۔۔۔ فحق وعید (14) افعیینا بالحلق ۔۔۔۔۔ جدید (50 : 12 تا 14) ” ان سے پہلے نوح کی قوم ، اور اصحاب الرس اور ثمود اور عاد ، اور فرعون ، اور لوط کے بھائی ، اور ایکہ والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 12–14

10 ان اقوام کے قصے سورة حجر، فرقان، دخان وغیرہ میں گزر چکے ہیں۔ 11 یعنی تکذیب انبیاء پر جس انجام سے ڈرایا گیا تھا وہ ہی سامنے آکر رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12{ کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّاَصْحٰبُ الرَّسِّ وَثَمُوْدُ۔ } ”جھٹلایا تھا ان سے پہلے بھی نوح علیہ السلام کی قوم نے ‘ کنویں والوں نے اور قوم ثمود نے۔“ یہ انباء الرسل کا تذکرہ ہے لیکن انتہائی مختصر انداز میں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–13

12 قدرت کاملہ کے اس مظاہرہ سے ایک تو مرنے کے بعد کی زندگی کی دلیل ملتی ہے۔ دوسرے ان فصلوں کے غلہ اور ان درختوں کے پھلوں سے جو رزق حاصل ہوتا ہے وہ تمام انسانوں اور جانداروں کی زندگی کی بقا کا سبب بنتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دوسری دلیل ہے کہ کس طرح وہ اپنی تمام مخلوقات کے لئے فراہمی رزق کا انتظام فرما رہا ہے۔ 13 نباتات کی روئیدگی سے بعث بعد الموت پر دلیل :۔ عرب کے اور بالخصوص مکہ اور اس کے ارد گرد کے پہاڑ سخت خشک قسم کے پہاڑ ہیں جہاں کوئی ہریاول نظر نہیں آتی۔ شدید گرمی پڑتی ہے اور وہاں کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کئی کئی سال بارش نہیں ہوتی۔ لیکن جب بارش ہوتی ہے تو وہاں بھی کچھ نہ کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–14

9۔ (اور یہ سب کے سب تکذیب انیباء ہی کی پاداش میں اسی دنیا میں اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہے) (آیت) ” کل کذب الرسل “۔ منکروں نے انبیاء کرام کی تکذیب دین کے عقائد اساسی کے باب میں کی ہے اور وہ یہ تین مسئلے ہیں۔ (1) توحید۔ (2) حشرونشر (3) رسالت “۔ (آیت) ” قوم نوح۔ اصحب الرس۔ ثمود۔ فرعون۔ اخوان لوط۔ اصحب الایکۃ۔ قوم تبع “۔ ان سب پر حاشیے پہلے گذر چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–13

قوم نوح (علیہ السلام) : کذبت قبلھم قوم نوح سابقہ آیات میں کفار کی تکذیب رسالت و آخرت کا ذکر تھا، جس سے رسول اللہ ﷺ کو ایذاء پہنچنا ظاہر ہے، اس آیت میں حق تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لئے پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے حالات بیان کئے ہیں کہ ہر پیغمبر کو متکبرین و کفار کی طرف سے ایسی ایذائیں پیش آتی ہیں، یہ سنت انبیاء ہے، اس سے آپ شکستہ خاطر نہ ہوں، قوم نوح (علیہ السلام) کا قصہ قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے قوم کی طرف سے نہ صرف انکار بلکہ قسم قسم کی اذائیں پہنچتی ہیں۔ اصحاب الرس کون لوگ ہیں ؟ رس، عربی زبان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان سے پہلے قوم نوح اور رس والے اور ثمود قَبْلَھُمْ : یعنی کفار مکہ سے پہلے۔ قَوْمُ نُوْحٍ : حضرت نوح نے نو سو پچاس برس اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا (یعنی تبلیغ کی) مگر انہوں نے آپ کو جھوٹا سمجھا۔ آخر طوفان نے ان کو آپکڑا اور سوائے ان لوگوں کے جو آپ پر ایمان لے آئے تھے ‘ سب کو غرق کردیا۔ حضرت نوح اور آپ کے مؤمن ساتھی محفوظ رہے۔ اَصْحَاب الرَّسِّ : صاحب قاموس نے لکھا ہے : رَس کسی چیز کی ابتداء۔ وہ کنواں جس کی مَن (گھیرا) پتھروں سے بنائی گئی ہو۔ وہ کنواں جو بقیہ نسل ثمود نے بنایا تھا۔ ان لوگوں نے اپنے زمانے کے پیغمبروں کی تکذیب کی اور پیغمبر کو اس کنویں میں پاٹ دیا۔ کھودنا ‘ میّت کو دفن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–14

(12۔ 14) اے محمد آپ کی قوم سے پہلے قوم نوح کی اور اصحاب الرس رس یمانہ کے قریب ایک کنواں ہے یعنی قوم شعیب، شعیب کی اور ثمود حضرت صالح کی اور عاد حضرت ہود کی اور فرعون اور اس کی قوم موسیٰ کی اور قوم لوط حضرت لوط کی اور اصحاب ایکہ بھی شعیب کی اور قوم تبع تکذیب کرچکے ہیں۔ تبع حمیر کے بادشاہ کا نم ہے ان کا نام اسعد اور کنیت ابو کرب ہے یہ مرد مسلم تھے ان کے پیرو کی کثرت کی وجہ سے ان کا یہ نام پڑا۔ جیسا کہ آپ کی قوم قریش آپ کی تکذیب کرتی ہے ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا لہذا اس تکذیب کی وجہ سے ان سب پر میری سزا محقق ہوگئی اور ان پر عذاب نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 12–14

(1) کذبت قبلھم قوم نوح …: یعنی یہ آپ کو جھٹلانے والے پہلے لوگ نہیں جنہوں نے ہمارے کسی رسول کو جھٹلایا ہو، بلکہ اس سے پہلے کئی اقوام نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہمارے عذاب کا نشانہ بنے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی اور آپ ﷺ کو جھٹلانے والوں کے لئے تنبیہ ہے۔ آیت میں مذکور اکثر اقوام کا ذکر متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔ اصحاب الرس کا ذکر سورة فرقان (38) میں، اصحاب الایکہ کا ذکر سورة حجر (78) اور سورة شعراء (176) میں اور قوم تتبع کا ذکر سورة دخان (37) میں دیکھیے۔ (2) کل کذب الرسل : ان سب قوموں نے تمام رسولوں کو جھٹلا دیا، کیونکہ یہ سب نہ اپنی طرح کے کسی انسان کو رسول ماننے کے لئے تیار تھے اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–15

12 ۔ 15:۔ کذبت قبلھم قوم نوح یعنی جس طرح انہوں نے جھٹلایا ہے اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا تھا تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ ان کے سامنے ان جھٹلانے والوں کا ذکر کیا اور جس عذاب نے انہیں اپنی گرفت میں لیا تھا اس سے انہیں ڈرایا۔ ہم نے ان کے واقعات کئی مواقع پر ذکر کیے ہیں، جہاں بھی ان کا تذکرہ ہوا۔ کل کذب الرسل یعنی ان جھٹلانے والی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ فحق و عید تو ان پر میری وعید اور عقاب ثابت ہوگیا۔ افعیینا بالخلق الاول کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کی وجہ سے تھک گئے تھے کہ ہم دوبارہ اٹھانے سے تھک جائیں گے۔ یہ بعث کے منکروں کو شرمندہ کرنے کے لئے ہے اور ان کے قول ذلک رجع بعید کا جواب ہے۔ یہ جملہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–14

27:۔ الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے قطبہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو صبح کے وقت میں یہ پڑھتے ہوئے سنا جب آپ اس (آیت ) '' والنخل بسقت الھا طلع نضید '' پر پہنچے اور لمبے لمبے کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گوندے ہوئے ہیں) تو فرمایا قطبہ میں کہتا ہوں وہ کھجور کے درخت جن کو بہت لمبا بنایا گیا۔ 28:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنخل بسقت '' سے مراد ہے لمبی کھجوریں۔ 29:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عبداللہ بن عثمان بن خثیم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ ؓ سے (آیت ) '' والنخل بسقت '' کے بارے میں پوچھا میں نے کہا کہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ [ جھٹلایا لوگوں سے پہلے ] قَوْمُ نُوْحٍ [ نوح کی قوم نے ] وَّاَصْحٰبُ الرَّسِّ [ اور کنویں والوں نے ] وَثَمُوْدُ [اور ثمود نے ] نوٹ ۔ 1: پورے قرآن مجید میں اصحاب الرس کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے ۔ ایک اس سے پہلے سورة فرقان کی آیت ۔ 38 میں اور دوسرے اب زیر مطالعہ آیت ۔ 12 میں ۔ مگر دونوں جگہ انبیاء کو جھٹلانے والی قوموں کے سلسلے میں صرف ان کا نام ہی لیا گیا ہے ان کے متعلق کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی اور نہ کوئی قابل اعتماد تفصیل کسی روایت میں ملتی ہے ۔ قرآن مجید میں جس طرح ان کی طرف محض ایک اشارہ کرکے چھوڑ دیا گیا ہے اس سے خیال ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے زمانے میں اہل عرب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–15

اقوام سابقہ ہالکہ کے واقعات سے عبرت حاصل کریں ان آیات میں قرآن کریم کے مخاطبین کو تنبیہ فرمائی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ اپنے کفر اور تکذیب کے باوجود یہ لوگ مطمئن ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم صحیح راہ پر ہیں اور ہمارا مواخذہ نہ ہوگا یہ ان لوگوں کی غلطی ہے ان سے پہلے کتنی قومیں گزر چکی ہیں۔ جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا (جس میں وقوع قیامت کا انکار بھی تھا لہٰذا یہ لوگ ہلاک کردیئے گئے) جن لوگوں کی ہلاکت و بربادی کا اجمالی تذکرہ فرمایا ہے ان کی ہلاکت کے تفصیلی حالات متعدد سورتوں میں گزر چکے ہیں۔ اصحاب الرس کا تزکرہ سورة ٴ فرقان میں اور اصحابہ الایکہ کا تذکرہ سورة ٴ الشعراء میں اور قوم تبع کا ذکر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–15

تنبیہ وتہدید کفار قریش پر انکار آخرت وحوالہ تاریخ ہلاکت امم سابقہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کذبت قبلھم قوم نوح ...... الی ...... من خلق جدید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مسئلہ آخرت اور حشر جسمانی کا ذکر تھا اور اس پر دلائل و شواہد بیان فرمائے گئے اور کفار قریش کے انکار وتعجب کا رد کیا گیا کہ بعث بعد الموت کا انکار عقلا وطبعا ممکن ہی نہیں اب اس کے بعد بطور عبرت اجمالا امم سابقہ کی ہلاکت و بربادی کی تاریخ دہرائی جارہی ہے کہ کس قدر طاقت در قومیں تھیں لیکن عذاب خداوندی نے ان کو تباہ وبرباد کرڈالا۔ ارشاد فرمایا جھٹلاچکے ہیں ان سے پہلے قوم نوح اور اصحاب الرس یعنی کنوئیں والے اور ثمود وعادوعاد اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–14

8:۔ ” کذبت قبلھم۔ تا۔ فحق وعید “ یہ تخویف دنیوی ہے برائے مکذبین رسل و منکرین قیامت۔ اور یہ ” بل کذبوا بالحق “ سے متعلق ہے یعنی اقوام گذشتہ کی طرح کفار قریش بھی قیامت اور حشر و نشر کا انکار کر رہے ہیں۔ جس طرح ان سرکش قوموں پر اللہ کا عذاب آیا۔ اسی طرح کفار قریش پر بھی آئے گا۔ ” اصحاب الرس “ یہ لوگ ایک کنوئیں پر آباد تھے اور بت پرستی کرتے تھے۔ ان کی طرح حضرت حنظلہ بن صفوان (علیہ السلام) مبعوث ہوئے (بیضاوی، روح) ۔ اصحاب الایکۃ، ان کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ ” قوم تبع “ تبع حمیری مراد ہے جو ایمان لا چکا تھا، لیکن اس کی دعوت اور کوشش کے باوجود اس کی قوم ایمان نہ لائی۔ ” کل کذب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

ربط آیات ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت اور وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ، اور فرمایا کہ یہ کون سی تعجب کی بات ہے کہ اللہ نے انہی میں سے ایک شخص کو منذر بنا کر بھیجا ہے اور اس کے ذریعے اپنا پیغام مخلوق تک پہنچایا ہے۔ انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ انسانوں ہی سے رسول بنا کر ان کی طرف بھیجتا رہا ۔ اب اللہ کا آخری رسول بھی انہی میں سے تو یہ کوئی عجیب بات تو نہیں ہے۔ اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے ۔ اور ہمارے اجسام ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں رل مل جائیں گے تو ہم دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّاَصْحٰبُ الرَّسِّ وَثَمُوْدُ۝ 12 ۙ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–14

کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّاَصْحٰبُ الرَّسِّ وَثَمُوْدُ ۔ وَعَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍ ۔ وَاَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ط کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ ۔ (قٓ: 12 تا 14) ( ان سے پہلے قوم نوح، اصحابُ الرس، ثمود۔ عاد، فرعون، لوط کے بھائی۔ اور ایکہ والے اور تبع کی قوم کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں، ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا، تو ہماری وعید ان پر چسپاں ہو کر رہ گئی۔ ) تاریخ سے استشہاد کرتے ہوئے قریش کو تہدید اس آیت میں قریش کو تہدید کی گئی ہے اور تاریخ کا آئینہ دکھا کر انھیں اپنے رویئے پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یعنی تم نے جس طرح آنحضرت ﷺ کی نبوت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–15

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں بارش کا ذکر کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ جس طرح بارش کے بعد زمین سے بیج نکلتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن زمین سے نکال لے گا اور تمہیں اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ یہ اتنی واضح حقیقت ہونے کے باوجود افراد ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی اقوام نے قیامت کے دن کا انکار کیا جس وجہ سے ان کا دنیا میں بھی برا انجام ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دلائل دیتے ہوئے انسان کو باربار سمجھایا ہے کہ اے انسان ! تو نے مرنے کے بعد ہر صورت زندہ ہو کر میری بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا اور اپنے اعمال کا جواب دینے کا عقیدہ ہی انسان کو درست رکھتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فرد کا زمین سے نکالنا نباتات کی طرح ہے : آیت 12 : کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ (ان سے پہلے جھٹلایا) ہم کا مرجع قریش مکہ ہیں قَوْمُ نُوْحٍ وَّاَصْحٰبُ الرَّسِّ (قوم نوح اور رس والے) الرس وہ کنواں جس کی منڈیر نہ ہو۔ یہ یمامہ کے رہنے والے لوگ تھے۔ ایک قول یہ ہے : یہ اصحاب اخدود ہیں۔ وَثَمُوْدُ ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” رزقا للعباد “ یعنی ہم نے اس کو بندوں کے لئے رزق بنایا۔ ” واحیبنا بہ “ بارش کے ذریعے۔ ” بلدۃ میتا “ ہم نے اس میں گھاس وغیرہ اگایا۔ ” کذلک الخروج “ قبروں سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–15

12۔ 15۔ اہل مکہ نے حشر اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کا جو انکار کیا تھا اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی تسکین فرمائی کہ سرکش لوگوں کا انبیاء کو جھٹلانا حشر کی باتوں کو مسخرا پن ٹھہرانا سب نبیوں کے زمانہ میں تھا تمہارے زمانہ میں یہ بات کچھ نئی نہیں ہے۔ پھر فرمایا جیسا ان لوگوں نے کیا ویسا پایا کہ آخر کو سب طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو وہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا ہر کام کا پہلے پہل کرنا مشکل ہوتا ہے بغیر کسی نمونہ کے جب ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے سب عالم کو پیدا کردیا تو پھر اسی نمونہ پر انسان کو دوبارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–15

یعنی ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں نے بھی اپنے انبیائے عظام اور مرسلین کرام کو جھٹلایا، جیسے نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم نے جھٹلایا، ثمود نے حضرت صالح ( علیہ السلام) کی تکذیب کی، عاد نے ہود ( علیہ السلام) کو جھٹلایا، لوط کی قوم نے لوط ( علیہ السلام) کو اور اصھاب ایکہ نے شعیب ( علیہ السلام) کو جھوٹا سمجھا۔ زمانہ اسلام سے قبل یمن کے ہر بادشاہ کو (تبع) کہا جاتا تھا، چناچہ تبع کی قوم نے اپنے رسول کی تکذیب کی جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ نہیں فرمایا کہ وہ رسول کون تھا اور اسے کس (تبع) کے زمانے میں مبعوث کیا گیا ؟ کیونکہ۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ وہ رسول عربوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–12

[ 12] رزق و روزی کی بہم رسانی میں سامان غور و فکر : سو اس سے بندوں کی روزی کیلئے حکمتوں بھرے نظام میں سامان غور و فکر کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آسمان سے برکتوں بھرا پانی اتارا۔ پھر اس کے ذریعے ہم نے اس میں طرح طرح کے باغات بھی اگائے اور کاٗی جانے والی فصلیں بھی۔ جیسے گندم، جو، چنے اور چاول وغیرہ وغیرہ جن کی کھیتیاں کاٹی جاتی ہیں، اور ان میں انسانی ضروریات کی تکمیل کیلئے قسما قسم کے سامان بھی ہیں، اور ان میں سے ایک ایک چیز میں قدرت کی عظیم الشان نشانیاں بھی، اس طرح اگر انسان انہی چیزوں میں غور و فکر سے کام لے تو یہ چیزیں اس کی جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

آیات 1 تا 15۔ اسرار ومعارف۔ ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:12) قبلہم : ای قبل قریش۔ قریش کفار مکہ سے قبل۔ (اضواء البیان) اصحب الرس۔ مضاف مضاف الیہ۔ الرس ایک کنویں کا نام ہے جو مدین کے قریب ہے یہ کنویں والے کون تھے۔ اس کے متعلق مختلف مگر مستند روایات ہیں خلاصہ ان سب کا یہ ہے کہ یہ ایک قوم تھی جس کو اللہ تعالیٰ بےاپنے پیغمبر کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کردیا تھا۔ ثمود : ای قوم ثمود۔ اس قوم نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔ حضرت صالح اور ان کی اونٹنی کا حال قرآن مجید میں تفصیلا مذکور ہے قوم نے حضرت صالح کے سمجھانے کے باوجود اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور اس طرح عذاب الٰہی کے مستوجب ہوئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 : عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔ تشریح : آیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–15

رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام۔ (ف 1) کفار مکہ نے حشر اور نبی ﷺ کی نبوت کا جوانکار کیا تھا جس کا اوپر کی آیت میں ذکر تھا، ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی یہ تسکین فرمائی کہ جیسے تمہاری تکذیب یہ کافر کتے ہیں اور قیامت کو نہیں مانتے یوں ہی ان سے پہلے جو کافر گزرے انہوں نے اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی، حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نوح کو جھٹلایا ، اصحاب رس نے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا ثمود نے صالح کو، عاد نے ہود کو فرعون اور اس کی قوم نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو، قوم لوط (علیہ السلام) ، اصحاب الایکہ نے شعیب (علیہ السلام) کو، اور قوم تبع نے اپنے رسول کو، اے محبوب ان سب قوموں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–18

[3] مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الٰہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا۔ یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت و قصد بھی اس کا رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–13

تعلیم الٰہی کی غرض 2: تعلیمات الٰہیہ کی غرض وغایت یہ ہوتی ہے ۔ کہ مردہ تنوں میں جان ڈالدی جائے ۔ اور جن دلوں میں کفر والحاد کے خیالات کی وجہ سے زنگ پیدا ہوگیا ہے ۔ اس کو روشن اور مجلی بنادیا جائے ۔ روح کا تزکیہ کیا جائے اور اخلاق کو سنوارا جائے ۔ اور انسان کو بحیثیت مجموعی اس قابل بنایا جائے کہ وہ زندگی کی مشکلات میں عبور حاصل کرسکے ۔ اور ساری کائنات کو اپنے لئے مسخر کرلے ۔ اس مقصد کی تکمیل جب نہیں ہوتی اور قومیں اپنے افکار و معصیت سے جب یہ ثابت کردیتی ہیں ۔ کہ ہمیں زندہ رہنے کی قطعاً کوئی خواہش نہیں ہے ہماری صلاحتیں بیکار ہوچکی ہیں ۔ اور روحانی اخلاقی نصب العین کھو چکی ہیں ۔ تو اس وقت اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–13

ف 5۔ یعنی جب ان امور پر ہماری قدرت ثابت ہوگئی تو احیاء موتی پر کیوں نہ ہوگی، پس مقدر و ممکن اور فاعل علم وقدرت سے متصف ثابت ہوا، پھر تعجب یا تکذیب کیا معنی ؟

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر ان لوگوں کو جھٹلانا ہی آتا ہے تو ان سے پہلے قوم نوح ، اصحاب الرس اور ثمود جھٹلا چکے ہیں 12 ۔ فرمایا ان لوگوں نے اگر جھٹلانے کی قسم کھائی ہے کہ دلائل کا خواہ کتنا ہی انبار لگایا جائے اور ہمارا ہاتھ پکڑ پکڑ کر اور کندھا ہلا ہلا کر باور کرایا جائے لیکن جب ہم نے انکار ہی کیے جانا ہے تو آخر کون ہے جو ہم کو منوالے گا ؟ تو اسے ہی لوگوں کو باور کرانے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے ارشاد فرما رہا ہے کہ ان لوگوں کی یہ ہٹ دھرمی کوئی نئی بات نہیں ہے ان سے قبل بہت سے لوگ جھٹلا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے رسول ان کو درس توحید دیتے رہے اور آخرت کا سبق یاد دلاتے رہے اور ان کی مخالفت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Consoling the Holy Prophet ﷺ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّ‌سِّ وَثَمُودُ (It [ resurrection ] was rejected prior to them by the people of Nuh, and the people of Rass - 50:12). It was mentioned in the preceding verses that the infidels rejected the Prophethood of Sayyidna Muhammad ﷺ and the Hereafter. This obviously perturbed and upset him. In this verse Allah comforts him by narrating the stories of the previous prophets and their communities. Every community in the past persecuted their respective prophets. This was the behavior pattern of all disbelieving nations…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 Before this the people of Rass (Ashab ar-Rass) have been mentioned in Surah AI-Furqan: 38 above, and now here, but at both places they have been only referred to as of those nations who rejected the Prophets. No other detail about them has been given. In the traditions of Arabia two places are well known by the name of ar-Rass, one in the Najd and the other in northern Hejaz. Of these ar-Rass of the Najd is better known and has been referred to more often in the pre-Islamic poetry of Arabia. Now it is difficult to detetmine which of these was the home of the Ashab ar-Rass. No reliable…

Read the full tafseer →