Qaaf 50:13

Qaaf · from ayah 13

50:13

وَعَادٌ وَّفِرْعَوْنُ وَاِخْوَانُ لُوْطٍ ۟ۙوَعَادٌ وَّفِرۡعَوۡنُ وَاِخۡوَانُ لُوۡطٍۙ

اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And 'Aad and Pharaoh and the brothers of Lot

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:13

اور عاد، اور فرعون، اور لوطؑ کے بھائی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور عاد نے فرعون نے اور برادران لوط نے

— مولانا محمد جوناگڑہی

نیز قوم عاد اور قوم فرعون اور لوط کے بھائیوں نے بھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور عاد اور فرعون اور لوط کے ہم قوموں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (عُمان اور اَرضِ مَہرہ کے درمیان یمن کی وادئ اَحقاف میں آباد ہود علیہ السلام کی قومِ) عاد نے اور(مصر کے حکمران) فرعون نے اور (اَرضِ فلسطین میں سدوم اور عمورہ کی رہنے والی) قومِ لُوط نے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور عاد اور فرعون نے اور لوط کے بھائیوں نے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور عاد اور فرعون اور قوم لوط نے بھی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

عاد، فرعون اور لوط کے بھائیوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور قوم عاد اور فرعون نے اور لوط کے بھائیوں نے

— مولانا اسحاق مدنی

اور عاد اور فرعون اور لوط والے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور قوم عاد فرعون اور لوط ؑ کے بھائیوں نے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

عاد فرعون اور لوط کے بھائی

— محترمہ رفعت اعجاز

and so did 'Ad, and Pharaoh and Lot's brethren,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and 'Aad, and Fir‘aun (Pharaoh), and the brothers of LuT,

— Muhammad Taqi Usmani

and Aad, and Fir‘aun (Pharaoh), and the brothers of LuT,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And `Ad, and Fir`awn, and the brethren of Lut,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (the tribe of) A'ad, and Pharaoh, and the brethren of Lot,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And 'Aad and Pharaoh and the brothers of Lot

— Saheeh International

Ad, the Pharaoh, Lot,

— Muhammad Sarwar

And Ad and Firon and Lut's brethren,

— Muhammad Habib Shakir

And the A-ad, and Fir'awn. and the brethren of Lut.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 50:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–15

ان کو شامت اعمال ہی شد تھی اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں جیسے کہ نوح کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کردیا اور اصحاب رس جن کا پورا قصہ سورة فرقان کی تفسیر میں گذر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنادیا یہ سب کیا تھا ؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں، سورة دخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں فالحمد للہ۔ ان تمام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 13 قوم فرعون کے بجائے صرف فرعون کا نام لیا گیا ہے، کیونکہ وہ اپنی قوم پر اس طرح مسلط تھا کہ اس کے مقابلے میں قوم کی کوئی آزادانہ رائے اور عزیمت باقی نہیں رہی تھی۔ جس گمراہی کی طرف وہ جاتا تھا، قوم اس کے پیچھے گھسٹتی چلی جاتی تھی۔ اس بنا پر پوری قوم کی گمراہی کا ذمہ دار تنہا اس شخص کو قرار دیا گیا۔ جہاں قوم کے لیے رائے اور عمل کی آزادی موجود ہو وہاں اپنے اعمال کا بوجھ وہ خود اٹھاتی ہے۔ اور جہاں ایک آدمی کی آمریت نے قوم کو بےبس کر رکھا ہو، وہاں وہی ایک آدمی پوری قوم کے گناہوں کا بار اپنے سر لے لیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فرد واحد پر یہ بوجھ لد جانے کے بعد قوم سبکدوش ہوجاتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

عادقوم عاد اپنے ڈیل ڈول اور قوت و شجاعت میں ضرب المثل تھی، حضرت ہود ؑ ان کی طرف مبعوث ہوئے، ان کو ستایا ان کی نافرمانی کی، آخر کار ہوا کے طوفان کا عذاب آیا اور سب فنا ہوئے۔ فرعونبہت ہی معروف و مشہور مصر کے بادشاہ کا نام ہے۔ وَاِخْوَانُ لُوْطٍ حضرت لوط ؑ کی امت ہے، جن کا قصہ کئی مرتبہ پہلے گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 12–14

کذبت قبلھم قوم نوج و اصحب الرس وثمود، وعاد فرعون واخوان لوط، واصحب الایکۃ وقوم تبع کل کذب الرسل فحق وعید (14-12) قریش کو تہدید یہ قرش کو تہدید ہے کہ ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، عاد، فرعون، قوم لوط، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے بھی اسی طرح تکذیب کی جب کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان پر اچھی طرح حق کو واضح کردیا۔ بالآخر اس تکذیب کے جس انجام سے ان کو آگاہ کیا گیا تھا وہ ان کے سامنے ظاہر ہو کر رہا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی اگر اس تکذیب پر اڑے رہ گئے تو جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ لازماً آ کے رہے گا اور آسمان و زمین کی کوئی طاقت ان کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی۔ یہ اس سنت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–13

12۔ 1 اصحاب الرس کی تعیین میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ امام ابن جریر طبری نے اس قول کو ترجیح دی ہے جس میں انہیں اصحاب اخدود قرار دیا گیا ہے، جس کا ذکر سورة بروج میں ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے ابن کثیر و فتح القدیر، (وَّعَادًا وَّثَمُــوْدَا۟ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًــۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا) 25۔ الفرقان :38)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–15

5: کسی بھی چیز کو پہلی بار پیدا کرنا اسے عدم سے وجود میں لانا ہمیشہ زیادہ مشکل ہوتا ہے، بہ نسبت اس کے کہ اسے دوبارہ ویسا ہی بنادیا جائے، جب اللہ تعالیٰ کو پہلی بار پیدا کرنے میں کوئی دشواری یا تھکن لاحق نہیں ہوئی تو دوبارہ پیدا کرنے میں کیوں کوئی مشکل ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–13

اب انسانی تاریخ کے طویل ریکارڈ سے کچھ عبرتیں اور نصیحتیں ، اس سے قبل پورے دلائل دئیے گئے تھے وہ اس کائنات کی کھلی کتاب سے تھے۔ اب کتاب تاریخ کے اوراق الٹئے ! اور دیکھئے کہ جن لوگوں نے آخرت کی جوابدہی کا انکار کیا ان کا انجام کیا ہوا۔ اپنے رویے پر ذرا غور کرو۔ انہوں نے بھی اسی طرح تکذیب کی جس طرح تم کر رہے ہو اور ان پر جو عذاب آیا کیا تم پر ایسا عذاب نہیں آسکتا ؟ کذبت قبلھم ۔۔۔ وثمود (12) وعاد وفرعون واخوان لوط (13) واصحب الایکۃ ۔۔۔۔۔۔ فحق وعید (14) افعیینا بالحلق ۔۔۔۔۔ جدید (50 : 12 تا 14) ” ان سے پہلے نوح کی قوم ، اور اصحاب الرس اور ثمود اور عاد ، اور فرعون ، اور لوط کے بھائی ، اور ایکہ والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 12–14

10 ان اقوام کے قصے سورة حجر، فرقان، دخان وغیرہ میں گزر چکے ہیں۔ 11 یعنی تکذیب انبیاء پر جس انجام سے ڈرایا گیا تھا وہ ہی سامنے آکر رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 { وَعَادٌ وَّفِرْعَوْنُ وَاِخْوَانُ لُوْطٍ۔ } ”اور قوم عاد ‘ فرعون اور لوط علیہ السلام کے بھائیوں نے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–13

12 قدرت کاملہ کے اس مظاہرہ سے ایک تو مرنے کے بعد کی زندگی کی دلیل ملتی ہے۔ دوسرے ان فصلوں کے غلہ اور ان درختوں کے پھلوں سے جو رزق حاصل ہوتا ہے وہ تمام انسانوں اور جانداروں کی زندگی کی بقا کا سبب بنتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دوسری دلیل ہے کہ کس طرح وہ اپنی تمام مخلوقات کے لئے فراہمی رزق کا انتظام فرما رہا ہے۔ 13 نباتات کی روئیدگی سے بعث بعد الموت پر دلیل :۔ عرب کے اور بالخصوص مکہ اور اس کے ارد گرد کے پہاڑ سخت خشک قسم کے پہاڑ ہیں جہاں کوئی ہریاول نظر نہیں آتی۔ شدید گرمی پڑتی ہے اور وہاں کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کئی کئی سال بارش نہیں ہوتی۔ لیکن جب بارش ہوتی ہے تو وہاں بھی کچھ نہ کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–14

9۔ (اور یہ سب کے سب تکذیب انیباء ہی کی پاداش میں اسی دنیا میں اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہے) (آیت) ” کل کذب الرسل “۔ منکروں نے انبیاء کرام کی تکذیب دین کے عقائد اساسی کے باب میں کی ہے اور وہ یہ تین مسئلے ہیں۔ (1) توحید۔ (2) حشرونشر (3) رسالت “۔ (آیت) ” قوم نوح۔ اصحب الرس۔ ثمود۔ فرعون۔ اخوان لوط۔ اصحب الایکۃ۔ قوم تبع “۔ ان سب پر حاشیے پہلے گذر چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–13

قوم نوح (علیہ السلام) : کذبت قبلھم قوم نوح سابقہ آیات میں کفار کی تکذیب رسالت و آخرت کا ذکر تھا، جس سے رسول اللہ ﷺ کو ایذاء پہنچنا ظاہر ہے، اس آیت میں حق تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لئے پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے حالات بیان کئے ہیں کہ ہر پیغمبر کو متکبرین و کفار کی طرف سے ایسی ایذائیں پیش آتی ہیں، یہ سنت انبیاء ہے، اس سے آپ شکستہ خاطر نہ ہوں، قوم نوح (علیہ السلام) کا قصہ قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے قوم کی طرف سے نہ صرف انکار بلکہ قسم قسم کی اذائیں پہنچتی ہیں۔ اصحاب الرس کون لوگ ہیں ؟ رس، عربی زبان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اور عاد اور فرعون اور قوم لوط وَعَادٌ : اور قوم عاد نے پیغمبروں کو جھٹلایا ‘ ان کے بھائی ہود (پیغمبر) نے کہا : کیا تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔ میں رسول امین ہوں ‘ تمہاری ہدایت کے لیے آیا ہوں ‘ اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ غرض اللہ نے ایک تیز طوفان بھیج کر ان کو ہلاک کردیا۔ طوفان ان پر سات رات اور آٹھ دن مسلط رہا۔ جس نے ان کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔ لمبے لمبے زمین پر ایسے پڑے تھے جیسے درخت کھجور کے کھوکھلے تنے۔ وَ فِرْعَوْنُ : اور فرعون اور اس کی قوم عمالقہ نے تکذیب کی۔ اللہ نے موسیٰ اور ہارون کو اس کے پاس بھیجا اور فرمایا : فرعون کے پاس جاؤ ‘ وہ سرکش ہوگیا ہے اس سے کہو کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–14

(12۔ 14) اے محمد آپ کی قوم سے پہلے قوم نوح کی اور اصحاب الرس رس یمانہ کے قریب ایک کنواں ہے یعنی قوم شعیب، شعیب کی اور ثمود حضرت صالح کی اور عاد حضرت ہود کی اور فرعون اور اس کی قوم موسیٰ کی اور قوم لوط حضرت لوط کی اور اصحاب ایکہ بھی شعیب کی اور قوم تبع تکذیب کرچکے ہیں۔ تبع حمیر کے بادشاہ کا نم ہے ان کا نام اسعد اور کنیت ابو کرب ہے یہ مرد مسلم تھے ان کے پیرو کی کثرت کی وجہ سے ان کا یہ نام پڑا۔ جیسا کہ آپ کی قوم قریش آپ کی تکذیب کرتی ہے ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا لہذا اس تکذیب کی وجہ سے ان سب پر میری سزا محقق ہوگئی اور ان پر عذاب نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 12–14

(1) کذبت قبلھم قوم نوح …: یعنی یہ آپ کو جھٹلانے والے پہلے لوگ نہیں جنہوں نے ہمارے کسی رسول کو جھٹلایا ہو، بلکہ اس سے پہلے کئی اقوام نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہمارے عذاب کا نشانہ بنے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی اور آپ ﷺ کو جھٹلانے والوں کے لئے تنبیہ ہے۔ آیت میں مذکور اکثر اقوام کا ذکر متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔ اصحاب الرس کا ذکر سورة فرقان (38) میں، اصحاب الایکہ کا ذکر سورة حجر (78) اور سورة شعراء (176) میں اور قوم تتبع کا ذکر سورة دخان (37) میں دیکھیے۔ (2) کل کذب الرسل : ان سب قوموں نے تمام رسولوں کو جھٹلا دیا، کیونکہ یہ سب نہ اپنی طرح کے کسی انسان کو رسول ماننے کے لئے تیار تھے اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–15

12 ۔ 15:۔ کذبت قبلھم قوم نوح یعنی جس طرح انہوں نے جھٹلایا ہے اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا تھا تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ ان کے سامنے ان جھٹلانے والوں کا ذکر کیا اور جس عذاب نے انہیں اپنی گرفت میں لیا تھا اس سے انہیں ڈرایا۔ ہم نے ان کے واقعات کئی مواقع پر ذکر کیے ہیں، جہاں بھی ان کا تذکرہ ہوا۔ کل کذب الرسل یعنی ان جھٹلانے والی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ فحق و عید تو ان پر میری وعید اور عقاب ثابت ہوگیا۔ افعیینا بالخلق الاول کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کی وجہ سے تھک گئے تھے کہ ہم دوبارہ اٹھانے سے تھک جائیں گے۔ یہ بعث کے منکروں کو شرمندہ کرنے کے لئے ہے اور ان کے قول ذلک رجع بعید کا جواب ہے۔ یہ جملہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–14

27:۔ الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے قطبہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو صبح کے وقت میں یہ پڑھتے ہوئے سنا جب آپ اس (آیت ) '' والنخل بسقت الھا طلع نضید '' پر پہنچے اور لمبے لمبے کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گوندے ہوئے ہیں) تو فرمایا قطبہ میں کہتا ہوں وہ کھجور کے درخت جن کو بہت لمبا بنایا گیا۔ 28:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنخل بسقت '' سے مراد ہے لمبی کھجوریں۔ 29:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عبداللہ بن عثمان بن خثیم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ ؓ سے (آیت ) '' والنخل بسقت '' کے بارے میں پوچھا میں نے کہا کہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَعَادٌ وَّفِرْعَوْنُ [ اور عاد نے اور فرعون نے ] وَاِخْوَانُ لُوْطٍ [ اور لوط کے بھائیوں (قوم ) نے ] نوٹ ۔ 12 تا 14 میں آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے ، ان آیات میں عرب اور اس کے گردوپیش کی قوموں کے انجام کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ آخرت کا جو عقیدہ تمام انبیاء پیش کرتے رہے ہیں وہی حقیقت کے عین مطابق ہے کیونکہ اس کا انکار جس قوم نے بھی کیا وہ اپنی تمام تر مادی ترقی کے باوجود شدید اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہوکر رہی اور آخر کار خدا کے عذاب نے اس کے وجود سے دنیا کو پاک کیا ۔ کسی کام سے اگر پے در پے غلط نتائج برآمد ہوتے چلے جائیں تو یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ وہ کام حقیقت سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–15

اقوام سابقہ ہالکہ کے واقعات سے عبرت حاصل کریں ان آیات میں قرآن کریم کے مخاطبین کو تنبیہ فرمائی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ اپنے کفر اور تکذیب کے باوجود یہ لوگ مطمئن ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم صحیح راہ پر ہیں اور ہمارا مواخذہ نہ ہوگا یہ ان لوگوں کی غلطی ہے ان سے پہلے کتنی قومیں گزر چکی ہیں۔ جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا (جس میں وقوع قیامت کا انکار بھی تھا لہٰذا یہ لوگ ہلاک کردیئے گئے) جن لوگوں کی ہلاکت و بربادی کا اجمالی تذکرہ فرمایا ہے ان کی ہلاکت کے تفصیلی حالات متعدد سورتوں میں گزر چکے ہیں۔ اصحاب الرس کا تزکرہ سورة ٴ فرقان میں اور اصحابہ الایکہ کا تذکرہ سورة ٴ الشعراء میں اور قوم تبع کا ذکر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–15

تنبیہ وتہدید کفار قریش پر انکار آخرت وحوالہ تاریخ ہلاکت امم سابقہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کذبت قبلھم قوم نوح ...... الی ...... من خلق جدید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مسئلہ آخرت اور حشر جسمانی کا ذکر تھا اور اس پر دلائل و شواہد بیان فرمائے گئے اور کفار قریش کے انکار وتعجب کا رد کیا گیا کہ بعث بعد الموت کا انکار عقلا وطبعا ممکن ہی نہیں اب اس کے بعد بطور عبرت اجمالا امم سابقہ کی ہلاکت و بربادی کی تاریخ دہرائی جارہی ہے کہ کس قدر طاقت در قومیں تھیں لیکن عذاب خداوندی نے ان کو تباہ وبرباد کرڈالا۔ ارشاد فرمایا جھٹلاچکے ہیں ان سے پہلے قوم نوح اور اصحاب الرس یعنی کنوئیں والے اور ثمود وعادوعاد اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–14

8:۔ ” کذبت قبلھم۔ تا۔ فحق وعید “ یہ تخویف دنیوی ہے برائے مکذبین رسل و منکرین قیامت۔ اور یہ ” بل کذبوا بالحق “ سے متعلق ہے یعنی اقوام گذشتہ کی طرح کفار قریش بھی قیامت اور حشر و نشر کا انکار کر رہے ہیں۔ جس طرح ان سرکش قوموں پر اللہ کا عذاب آیا۔ اسی طرح کفار قریش پر بھی آئے گا۔ ” اصحاب الرس “ یہ لوگ ایک کنوئیں پر آباد تھے اور بت پرستی کرتے تھے۔ ان کی طرح حضرت حنظلہ بن صفوان (علیہ السلام) مبعوث ہوئے (بیضاوی، روح) ۔ اصحاب الایکۃ، ان کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ ” قوم تبع “ تبع حمیری مراد ہے جو ایمان لا چکا تھا، لیکن اس کی دعوت اور کوشش کے باوجود اس کی قوم ایمان نہ لائی۔ ” کل کذب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

ربط آیات ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت اور وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ، اور فرمایا کہ یہ کون سی تعجب کی بات ہے کہ اللہ نے انہی میں سے ایک شخص کو منذر بنا کر بھیجا ہے اور اس کے ذریعے اپنا پیغام مخلوق تک پہنچایا ہے۔ انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ انسانوں ہی سے رسول بنا کر ان کی طرف بھیجتا رہا ۔ اب اللہ کا آخری رسول بھی انہی میں سے تو یہ کوئی عجیب بات تو نہیں ہے۔ اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے ۔ اور ہمارے اجسام ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں رل مل جائیں گے تو ہم دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَعَادٌ وَّفِرْعَوْنُ وَاِخْوَانُ لُوْطٍ۝ 13 ۙ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ لوط لُوطٌ: اسم علم، واشتقاقه من لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، وفي الحدیث : «الولد أَلْوَطُ- أي : ألصق۔ بالکبد» وهذا أمر لا يَلْتَاطُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–14

کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّاَصْحٰبُ الرَّسِّ وَثَمُوْدُ ۔ وَعَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍ ۔ وَاَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ط کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ ۔ (قٓ: 12 تا 14) ( ان سے پہلے قوم نوح، اصحابُ الرس، ثمود۔ عاد، فرعون، لوط کے بھائی۔ اور ایکہ والے اور تبع کی قوم کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں، ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا، تو ہماری وعید ان پر چسپاں ہو کر رہ گئی۔ ) تاریخ سے استشہاد کرتے ہوئے قریش کو تہدید اس آیت میں قریش کو تہدید کی گئی ہے اور تاریخ کا آئینہ دکھا کر انھیں اپنے رویئے پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یعنی تم نے جس طرح آنحضرت ﷺ کی نبوت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–15

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں بارش کا ذکر کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ جس طرح بارش کے بعد زمین سے بیج نکلتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن زمین سے نکال لے گا اور تمہیں اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ یہ اتنی واضح حقیقت ہونے کے باوجود افراد ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی اقوام نے قیامت کے دن کا انکار کیا جس وجہ سے ان کا دنیا میں بھی برا انجام ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دلائل دیتے ہوئے انسان کو باربار سمجھایا ہے کہ اے انسان ! تو نے مرنے کے بعد ہر صورت زندہ ہو کر میری بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا اور اپنے اعمال کا جواب دینے کا عقیدہ ہی انسان کو درست رکھتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 13–14

احوال تکذیب ِاقوام : آیت 13 : وَعَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ (اور ثمود اور عاد اور فرعون نے) نمبر 1۔ فرعون سے قوم فرعون مراد ہے۔ جیسا کہ فرمایا من فرعون وملائہم۔ ] یونس : 83[ نمبر 2۔ کیونکہ معطوف علیہ قوم نوح ہے اور معطوفات جماعتیں ہیں۔ وَاِخْوَانُ لُوطٍ وَّاَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ (اور قوم لوط اور بن والے) اخوان لوط کہنے کی وجہ یہ ہے کہ لوط ( علیہ السلام) اور ان کے درمیان قرابت نسبی پائی جاتی تھی۔ وَقَوْمُ تُبَّعٍ (اور تبع کی قوم) یہ یمن کا مسلمان بادشاہ گزرا۔ اس نے اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلایا۔ انہوں نے جھٹلا دیا۔ اسکو تُبَّع کثرت پیروکاروں کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ کُلٌّ (ان میں سے ہر ایک نے) کَذَّبَ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–15

12۔ 15۔ اہل مکہ نے حشر اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کا جو انکار کیا تھا اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی تسکین فرمائی کہ سرکش لوگوں کا انبیاء کو جھٹلانا حشر کی باتوں کو مسخرا پن ٹھہرانا سب نبیوں کے زمانہ میں تھا تمہارے زمانہ میں یہ بات کچھ نئی نہیں ہے۔ پھر فرمایا جیسا ان لوگوں نے کیا ویسا پایا کہ آخر کو سب طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو وہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا ہر کام کا پہلے پہل کرنا مشکل ہوتا ہے بغیر کسی نمونہ کے جب ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے سب عالم کو پیدا کردیا تو پھر اسی نمونہ پر انسان کو دوبارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–15

یعنی ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں نے بھی اپنے انبیائے عظام اور مرسلین کرام کو جھٹلایا، جیسے نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم نے جھٹلایا، ثمود نے حضرت صالح ( علیہ السلام) کی تکذیب کی، عاد نے ہود ( علیہ السلام) کو جھٹلایا، لوط کی قوم نے لوط ( علیہ السلام) کو اور اصھاب ایکہ نے شعیب ( علیہ السلام) کو جھوٹا سمجھا۔ زمانہ اسلام سے قبل یمن کے ہر بادشاہ کو (تبع) کہا جاتا تھا، چناچہ تبع کی قوم نے اپنے رسول کی تکذیب کی جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ نہیں فرمایا کہ وہ رسول کون تھا اور اسے کس (تبع) کے زمانے میں مبعوث کیا گیا ؟ کیونکہ۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ وہ رسول عربوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 15] منکرین سابقین کی تاریخ کا حوالہ : سوا رشاد فرمایا گیا کہ ان سے پہلے نوح اور دوسرے منکروں نے بھی جھٹلایا حق کو۔ سو یہ تاریخ کے حوالے سے درس دیا جا رہا ہے کہ دور حاضر کے ان کفار سے پہلے کی قومیں تکذیب حق کی پاداش میں جس انجام سے دوچار ہوچکی ہیں، وہ آج کے ان کفار کو بھی پیش آسکتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے ایک ہے، نیز اس میں آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی کا سامان بھی ہے کہ جس کفر و تکذیب سے آج آپ ﷺ کو سابقہ پیش آرہا ہے، یہ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی یہی کچھ ہوتا آیا ہے، اور اللہ پاک نے ہمیشہ اپنے رسولوں اور ان کی اتباع و پیروی کرنے والوں کی مدد فرمائی،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

آیات 1 تا 15۔ اسرار ومعارف۔ ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–14

ف 7 ہر ایک نے اگرچہ اپنے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا لیکن چونکہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا سبھی پیغمبروں کو جھٹلانا ہے اسی لئے ہر ایک نے گویا بھی پیغمبروں کو جھٹلایا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

( ّ 50:13) وعاد ۔۔ اس جملہ کا عطف بھی جملہ سابقہ پر ہے۔ عاد۔ عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا اور ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کی نافرمانی میں ہلاک ہوئے۔ اخوان لوط : مضاف مضاف الیہ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بھائی بندوں نے بھی ان کی تکذیب کی اور اس پاداش میں ہلاک کر دئیے گئے۔ قوم لوط کا سب سے بڑا گناہ لواطت تھی یعنی ہم جنسوں سے خلاف فطرت بدفعلی کرنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 : عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔ تشریح : آیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–15

رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام۔ (ف 1) کفار مکہ نے حشر اور نبی ﷺ کی نبوت کا جوانکار کیا تھا جس کا اوپر کی آیت میں ذکر تھا، ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی یہ تسکین فرمائی کہ جیسے تمہاری تکذیب یہ کافر کتے ہیں اور قیامت کو نہیں مانتے یوں ہی ان سے پہلے جو کافر گزرے انہوں نے اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی، حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نوح کو جھٹلایا ، اصحاب رس نے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا ثمود نے صالح کو، عاد نے ہود کو فرعون اور اس کی قوم نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو، قوم لوط (علیہ السلام) ، اصحاب الایکہ نے شعیب (علیہ السلام) کو، اور قوم تبع نے اپنے رسول کو، اے محبوب ان سب قوموں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–18

[3] مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الٰہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا۔ یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت و قصد بھی اس کا رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–13

تعلیم الٰہی کی غرض 2: تعلیمات الٰہیہ کی غرض وغایت یہ ہوتی ہے ۔ کہ مردہ تنوں میں جان ڈالدی جائے ۔ اور جن دلوں میں کفر والحاد کے خیالات کی وجہ سے زنگ پیدا ہوگیا ہے ۔ اس کو روشن اور مجلی بنادیا جائے ۔ روح کا تزکیہ کیا جائے اور اخلاق کو سنوارا جائے ۔ اور انسان کو بحیثیت مجموعی اس قابل بنایا جائے کہ وہ زندگی کی مشکلات میں عبور حاصل کرسکے ۔ اور ساری کائنات کو اپنے لئے مسخر کرلے ۔ اس مقصد کی تکمیل جب نہیں ہوتی اور قومیں اپنے افکار و معصیت سے جب یہ ثابت کردیتی ہیں ۔ کہ ہمیں زندہ رہنے کی قطعاً کوئی خواہش نہیں ہے ہماری صلاحتیں بیکار ہوچکی ہیں ۔ اور روحانی اخلاقی نصب العین کھو چکی ہیں ۔ تو اس وقت اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–13

ف 5۔ یعنی جب ان امور پر ہماری قدرت ثابت ہوگئی تو احیاء موتی پر کیوں نہ ہوگی، پس مقدر و ممکن اور فاعل علم وقدرت سے متصف ثابت ہوا، پھر تعجب یا تکذیب کیا معنی ؟

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 13–14

عاد ، فرعون اور لوط کے بھائی ، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے جھٹلا کر کیا حاصل کیا ؟ 14 ۔ 13 ۔ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ فرعون ، موسیٰ (علیہ السلام) کا ہم عصر تھا اور آپ ہی کو فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا اور عاد صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی جن کا تفصیلی تذکرہ سورة ہود میں گزر چکا اور اسی طرح ثمود کا حال ہوا جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی اور لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کا تذکرہ بھی آپ پڑھ چکے کہ کس طرح ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی اور زلزلہ اور آندھی نے ان کو آلیا ان کی بستیوں کا اوپر کا حصہ نیچے کو دبا کر رکھ دیا اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم جو ایک کے بعد دوسری قوم کی طرف معبوث…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

` Ad The nation of ` Ad was proverbial in their size, physical strength and power as well as the strength that came to them in the wake of their children. Holy Prophet Hud (علیہ السلام) was sent to them. Eventually, they were annihilated by the Divine punishment of a wind storm. Fir'aun This is the title of the Egyptian king (The Pharaoh) notorious for his tyranny. Brothers of Lut It means the community of the Prophet Lut (علیہ السلام) whose story is narrated several times in the Qur'an.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 Only the Pharaoh has been mentioned instead of the people of Pharaoh, for he had so dominated his people that they had been left with no independent opinion and will of their own, apart from him. They followed him willy-nilly wherever he led them. That is why he alone was held responsible for the deviation and degeneration of his people. Wherever there exists the freedom of will and action for a nation, it by itself bears the burden of its deeds, and wherever one man's dictatorship may have rendered a nation powerless the one man alone takes on his head the burden of the sins of entire…

Read the full tafseer →