Qaaf 50:14

Qaaf · from ayah 14

50:14

وَّاَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ؕ— كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ ۟وَّاَصۡحٰبُ الۡاَيۡكَةِ وَقَوۡمُ تُبَّعٍ‌ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيۡدِ

اور بن کے رہنے والے اور تُبّع کی قوم۔ (غرض) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہمارا وعید (عذاب) بھی پورا ہو کر رہا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the companions of the thicket and the people of Tubba'. All denied the messengers, so My threat was justly fulfilled.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:14

اور ایکہ والے، اور تبع کی قوم کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا، اور آخر کار میری وعید اُن پر چسپاں ہو گئی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بن کے رہنے والے اور تُبّع کی قوم۔ (غرض) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہمارا وعید (عذاب) بھی پورا ہو کر رہا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ایکہ والوں نے تبع کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی۔ سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا پس میرا وعدہٴ عذاب ان پر صادق آگیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اصحاب الایکہ اور تبع قوم نے بھی۔ ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا، اس لیے میں نے جس عذاب سے ڈرایا تھا، وہ سچ ہو کر رہا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بَن والوں اور تبع کی قوم نے ان میں ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (مَدیَن کے گھنے درختوں والے بَن) اَیکہ کے رہنے والوں نے (یہ قومِ شعیب تھی) اور (بادشاہِ یَمن اسعَد ابوکریب) تُبّع (الحِمیَری) کی قوم نے، (الغرض اِن) سب نے رسولوں کو جھٹلایا، پس (اِن پر) میرا وعدۂ عذاب ثابت ہو کر رہا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور درختوں کے جھنڈ والوں نے اور تبع کی قوم نے، ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور بن کے رہنے والوں اور تبع کی قوم نے بھی۔ ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا وعدہ عذاب پورا ہو کر رہا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اصحب الایکہ اور قوم تبع نے بھی جھٹلایا۔ ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہماری وعیدان پر واقع ہو کر رہی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ایکہ والوں نے اور تبع کی قوم نے بھی ان سب نے جھٹلایا ہمارے رسولوں کو آخرکار (ان پر) چسپاں ہو کر رہی میری وعید

— مولانا اسحاق مدنی

اور اہل ایکہ اور قوم تبع سب ہی تکذیب پیغمبروں کی کرچکے ہیں سو میری وعید پوری اتری۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور بن والوں اور قومِ ُ تبع نے ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو وہ مستحق ہوگئے میری وعید کے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم غرص ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہماری وعید بھی پوری ہو کر رہی

— محترمہ رفعت اعجاز

and the people of Aykah, and the people of Tubba'. They all gave the lie to the Messengers. Thereafter My threat of chastisement against them was fulfilled.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and dwellers of Aaikah, and the people of Tubba‘. Each one of them rejected the messengers; so My threat came true.

— Muhammad Taqi Usmani

and dwellers of Aaikah, and the people of Tubba‘. Each one of them rejected the messengers; so My threat came true.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the Dwellers of Al-Aykah, and the people of Tubba`. Everyone of them denied (their) Messengers, so My threat took effect.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the dwellers in the wood, and the folk of Tubb'a: every one denied their messengers, therefor My threat took effect.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the companions of the thicket and the people of Tubba'. All denied the messengers, so My threat was justly fulfilled.

— Saheeh International

dwellers of the forest, and the people of Tubba had all rejected the Prophets. Thus, they became subject to Our torment.

— Muhammad Sarwar

And the dwellers of the grove and the people of Tuba; all rejected the apostles, so My threat came to pass.

— Muhammad Habib Shakir

And the dwellers in the wood, and the people of Tubba. Each one belied the apostles, wherefore fulfilled was My judgement.

— Abdul Majid Daryabadi

The Companions of the Wood, and the People of Tubba'; each one (of them) rejected the messengers, and My warning was duly fulfilled (in them).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–15

ان کو شامت اعمال ہی شد تھی اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں جیسے کہ نوح کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کردیا اور اصحاب رس جن کا پورا قصہ سورة فرقان کی تفسیر میں گذر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنادیا یہ سب کیا تھا ؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں، سورة دخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں فالحمد للہ۔ ان تمام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 14 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة سبا، حاشیہ 37۔ سورة دخان، حاشیہ 32۔ سورة قٓ 15 یعنی ان سب نے اپنے رسولوں کی رسالت کو بھی جھٹلایا اور ان کی دی ہوئی اس خبر کو بھی جھٹلایا کہ تم مرنے کے بعد پھر اٹھائے جاؤ گے۔ سورة قٓ 16 اگرچہ ہر قوم نے صرف اس رسول کو جھٹلایا جو اس کے پاس بھیجا گیا تھا، مگر چونکہ وہ اس خبر کو جھٹلا رہی تھی جو تمام رسول بالاتفاق پیش کرتے رہے ہیں، اس لیے ایک رسول کو جھٹلانا در حقیقت تمام رسولوں کو جھٹلا دینا تھا۔ علاوہ بریں ان قوموں میں سے ہر ایک نے محض اپنے ہاں آنے والے رسول ہی کی رسالت کا انکار نہ کیا تھا بلکہ وہ سرے سے یہی بات ماننے کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–15

اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِایکہ گھنے جنگل اور بن کو کہتے ہیں، یہ لوگ ایسے ہی مقام پر آباد تھے، حضرت شعیب ؑ ان کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے، انہوں نے نافرمانی کی، بالآخر عذاب الٰہی سے تباہ و برباد ہوئے۔ وَقَوْمُ تُبَّعٍتبع یمن کے ایک بادشاہ کا لقب ہے، جس کی ضروری تحقیق جلد ہفتم میں سورة دخان کے تحت گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 12–14

کذبت قبلھم قوم نوج و اصحب الرس وثمود، وعاد فرعون واخوان لوط، واصحب الایکۃ وقوم تبع کل کذب الرسل فحق وعید (14-12) قریش کو تہدید یہ قرش کو تہدید ہے کہ ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، عاد، فرعون، قوم لوط، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے بھی اسی طرح تکذیب کی جب کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان پر اچھی طرح حق کو واضح کردیا۔ بالآخر اس تکذیب کے جس انجام سے ان کو آگاہ کیا گیا تھا وہ ان کے سامنے ظاہر ہو کر رہا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی اگر اس تکذیب پر اڑے رہ گئے تو جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ لازماً آ کے رہے گا اور آسمان و زمین کی کوئی طاقت ان کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی۔ یہ اس سنت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 اَصْحَاب الاءَیْکَۃِ کے لئے دیکھئے سورة الشعراء (وَمَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَاِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَ 186؀ۚ) 26۔ الشعراء :186) کا حاشیہ۔ 14۔ 2 قَوْمُ تُبَعِ کے لئے دیکھئے سورة الدخان، (اَهُمْ خَيْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّــعٍ ۙ وَّالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ اَهْلَكْنٰهُمْ ۡ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ 37؀) 44۔ الدخان :37) کا حاشیہ۔ 14۔ 3 یعنی ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے گویا آپ ﷺ کو کہا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ اپنی قوم کی طرف سے تکذیب پر غمگین نہ، اس لیے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آپ ﷺ سے پہلے انبیاء (علیہم…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–15

5: کسی بھی چیز کو پہلی بار پیدا کرنا اسے عدم سے وجود میں لانا ہمیشہ زیادہ مشکل ہوتا ہے، بہ نسبت اس کے کہ اسے دوبارہ ویسا ہی بنادیا جائے، جب اللہ تعالیٰ کو پہلی بار پیدا کرنے میں کوئی دشواری یا تھکن لاحق نہیں ہوئی تو دوبارہ پیدا کرنے میں کیوں کوئی مشکل ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

کل کذب الرسل فحق وعید (50 : 14) ” ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا آخر کار میری وعید ان چسپاں ہوگئی “ ۔ اس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ رسول بھی ایک ہیں۔ ان کے منصب کی نوعیت بھی ایک ہے اور ان کا مقصد بھی ایک رہا ہے حالانکہ سب کے سب نے رسولوں کو نہ جھٹلایا تھا۔ بلکہ ایک رسول کو جھٹلایا لیکن ایک رسول کو جھٹلانا بھی دراصل سب کو جھٹلانا ہے۔ رسول سب بھائی ہیں اور رسالت ایک ہی شجرۂ نسب ہے جس کی جڑیں دور تک تاریخ میں چلی گئی ہیں اور اس شجرے کی ہر شاخ دراصل اس کی خصوصیات کی تلخیص ہے۔ اور اس کی ایک صورت ہے۔ ۔۔ جس نے ایک شاخ کو چھوڑ دیا اس نے پورے سلسلے کو پکڑ لیا۔ فحق وعید (50 : 14) ” پس ان پر میری وعید چسپاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 12–14

10 ان اقوام کے قصے سورة حجر، فرقان، دخان وغیرہ میں گزر چکے ہیں۔ 11 یعنی تکذیب انبیاء پر جس انجام سے ڈرایا گیا تھا وہ ہی سامنے آکر رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ وَّاَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ط } ”اور بن والوں اور قومِ ُ تبع ّنے۔“ بن والوں سے یہاں اہل مدین مراد ہیں جن کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ ”تبع“ شاہانِ یمن کا لقب تھا۔ قبل ازیں سورة الدخان کی آیت 37 میں بھی ہم قوم تبع کا ذکر پڑھ آئے ہیں۔ { کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ۔ } ”ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو وہ مستحق ہوگئے میری وعید کے۔“ پیغمبروں کو جھٹلا کر وہ لوگ عذاب کی وعیدوں کے مصداق بن گئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 ان سب اقوام کے قصے پہلے سورة اعراف، یونس، ہود، حجر، فرقان اور دخان میں گزر چکے ہیں اور حواشی میں تفصیلات آچکی ہیں۔ وہاں ملاحظہ کر لئے جائیں۔ 15 اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان اقوام میں سے ہر قوم نے اپنے اپنے رسول کو جھٹلایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر قوم نے سارے رسولو کو جھٹلایا اس لئے کہ وہ نفس رسالت کے ہی منکر تھے۔ یعنی ان کے خیال کے مطابق کوئی انسان رسول بن کر آ ہی نہیں سکتا تھا۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے رسول کو جھٹلانے کو تمام رسولوں کی تکذیب کے مترادف قرار دیا گیا ہو۔ کیونکہ سب رسولوں کی بنیادی تعلیم ایک جیسی ہے۔ اور رسولوں کو جھٹلانے سے مراد رسول کی تعلیم کو جھٹلانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–14

9۔ (اور یہ سب کے سب تکذیب انیباء ہی کی پاداش میں اسی دنیا میں اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہے) (آیت) ” کل کذب الرسل “۔ منکروں نے انبیاء کرام کی تکذیب دین کے عقائد اساسی کے باب میں کی ہے اور وہ یہ تین مسئلے ہیں۔ (1) توحید۔ (2) حشرونشر (3) رسالت “۔ (آیت) ” قوم نوح۔ اصحب الرس۔ ثمود۔ فرعون۔ اخوان لوط۔ اصحب الایکۃ۔ قوم تبع “۔ ان سب پر حاشیے پہلے گذر چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–15

اصحاب الایکہ : ایکۃ گھنے جنگل اور جھاڑیوں کو ہتے ہیں یہ لوگ ایسے ہی مقام پر آدمی تھے، حضرت شعیب (علیہ الصلوۃ والسلام) ان کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے، ان کی قوم نے نافرمانی کی بالآخر عذاب الٰہی سے تباہ و برباد ہوئے۔ (معارف القرآن) قوم تبع : تبع یمن کے بادشاہوں کا لقب ہے جس طرح کہ قیصر و کسریٰ روم وفارس کے بادشاہوں کا لقب ہے اس کی ضروری تشریح سورة دخان میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اور بَن والے اور تبع کی قوم (پیغمبروں کی) تکذیب کرچکے ہیں۔ سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ سو میری وعید (عذاب) ان پر واقع ہوگئی۔ وَاَصْحَابُ الْاَیْکَۃ : اور بن والوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی۔ حضرت شعیب ( علیہ السلام) نے ان سے کہا : کیا تم (اللہ کے عذاب سے) نہیں ڈرتے ؟ میں امانتدار قاصد ہوں۔ مجھے تمہارے لیے بھیجا گیا ہے۔ اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو ‘ ناپ پورا پورا دیا کرو ‘ ناپ کردینے میں کمی نہ کیا کرو اور سیدھی (صحیح) ترازو سے تول کردیا کرو ‘ تول کر ‘ دینے میں کمی نہ کیا کرو (یعنی تولنے میں ڈنڈی نہ مارا کرو) اور زمین پر تباہی مت پھیلاؤ۔ قوم والوں نے کہا : (اس بکواس کی اور کوئی وجہ نہیں) بس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–14

(12۔ 14) اے محمد آپ کی قوم سے پہلے قوم نوح کی اور اصحاب الرس رس یمانہ کے قریب ایک کنواں ہے یعنی قوم شعیب، شعیب کی اور ثمود حضرت صالح کی اور عاد حضرت ہود کی اور فرعون اور اس کی قوم موسیٰ کی اور قوم لوط حضرت لوط کی اور اصحاب ایکہ بھی شعیب کی اور قوم تبع تکذیب کرچکے ہیں۔ تبع حمیر کے بادشاہ کا نم ہے ان کا نام اسعد اور کنیت ابو کرب ہے یہ مرد مسلم تھے ان کے پیرو کی کثرت کی وجہ سے ان کا یہ نام پڑا۔ جیسا کہ آپ کی قوم قریش آپ کی تکذیب کرتی ہے ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا لہذا اس تکذیب کی وجہ سے ان سب پر میری سزا محقق ہوگئی اور ان پر عذاب نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 12–14

(1) کذبت قبلھم قوم نوح …: یعنی یہ آپ کو جھٹلانے والے پہلے لوگ نہیں جنہوں نے ہمارے کسی رسول کو جھٹلایا ہو، بلکہ اس سے پہلے کئی اقوام نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہمارے عذاب کا نشانہ بنے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی اور آپ ﷺ کو جھٹلانے والوں کے لئے تنبیہ ہے۔ آیت میں مذکور اکثر اقوام کا ذکر متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔ اصحاب الرس کا ذکر سورة فرقان (38) میں، اصحاب الایکہ کا ذکر سورة حجر (78) اور سورة شعراء (176) میں اور قوم تتبع کا ذکر سورة دخان (37) میں دیکھیے۔ (2) کل کذب الرسل : ان سب قوموں نے تمام رسولوں کو جھٹلا دیا، کیونکہ یہ سب نہ اپنی طرح کے کسی انسان کو رسول ماننے کے لئے تیار تھے اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–15

12 ۔ 15:۔ کذبت قبلھم قوم نوح یعنی جس طرح انہوں نے جھٹلایا ہے اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا تھا تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ ان کے سامنے ان جھٹلانے والوں کا ذکر کیا اور جس عذاب نے انہیں اپنی گرفت میں لیا تھا اس سے انہیں ڈرایا۔ ہم نے ان کے واقعات کئی مواقع پر ذکر کیے ہیں، جہاں بھی ان کا تذکرہ ہوا۔ کل کذب الرسل یعنی ان جھٹلانے والی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ فحق و عید تو ان پر میری وعید اور عقاب ثابت ہوگیا۔ افعیینا بالخلق الاول کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کی وجہ سے تھک گئے تھے کہ ہم دوبارہ اٹھانے سے تھک جائیں گے۔ یہ بعث کے منکروں کو شرمندہ کرنے کے لئے ہے اور ان کے قول ذلک رجع بعید کا جواب ہے۔ یہ جملہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–14

27:۔ الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے قطبہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو صبح کے وقت میں یہ پڑھتے ہوئے سنا جب آپ اس (آیت ) '' والنخل بسقت الھا طلع نضید '' پر پہنچے اور لمبے لمبے کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گوندے ہوئے ہیں) تو فرمایا قطبہ میں کہتا ہوں وہ کھجور کے درخت جن کو بہت لمبا بنایا گیا۔ 28:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنخل بسقت '' سے مراد ہے لمبی کھجوریں۔ 29:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عبداللہ بن عثمان بن خثیم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ ؓ سے (آیت ) '' والنخل بسقت '' کے بارے میں پوچھا میں نے کہا کہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَّ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ [ اور گھنے درخت والوں نے ] وَقَوْمُ تُبَّعٍ ۭ [ اور تبع کی قوم نے ] كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ [ سب نے جھٹلایا رسولوں کو ] فَحَقَّ [ تو سچ ہوئی ] وَعِيْدِ [میری دھمکی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–15

اقوام سابقہ ہالکہ کے واقعات سے عبرت حاصل کریں ان آیات میں قرآن کریم کے مخاطبین کو تنبیہ فرمائی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ اپنے کفر اور تکذیب کے باوجود یہ لوگ مطمئن ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم صحیح راہ پر ہیں اور ہمارا مواخذہ نہ ہوگا یہ ان لوگوں کی غلطی ہے ان سے پہلے کتنی قومیں گزر چکی ہیں۔ جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا (جس میں وقوع قیامت کا انکار بھی تھا لہٰذا یہ لوگ ہلاک کردیئے گئے) جن لوگوں کی ہلاکت و بربادی کا اجمالی تذکرہ فرمایا ہے ان کی ہلاکت کے تفصیلی حالات متعدد سورتوں میں گزر چکے ہیں۔ اصحاب الرس کا تزکرہ سورة ٴ فرقان میں اور اصحابہ الایکہ کا تذکرہ سورة ٴ الشعراء میں اور قوم تبع کا ذکر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–15

تنبیہ وتہدید کفار قریش پر انکار آخرت وحوالہ تاریخ ہلاکت امم سابقہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کذبت قبلھم قوم نوح ...... الی ...... من خلق جدید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مسئلہ آخرت اور حشر جسمانی کا ذکر تھا اور اس پر دلائل و شواہد بیان فرمائے گئے اور کفار قریش کے انکار وتعجب کا رد کیا گیا کہ بعث بعد الموت کا انکار عقلا وطبعا ممکن ہی نہیں اب اس کے بعد بطور عبرت اجمالا امم سابقہ کی ہلاکت و بربادی کی تاریخ دہرائی جارہی ہے کہ کس قدر طاقت در قومیں تھیں لیکن عذاب خداوندی نے ان کو تباہ وبرباد کرڈالا۔ ارشاد فرمایا جھٹلاچکے ہیں ان سے پہلے قوم نوح اور اصحاب الرس یعنی کنوئیں والے اور ثمود وعادوعاد اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–14

8:۔ ” کذبت قبلھم۔ تا۔ فحق وعید “ یہ تخویف دنیوی ہے برائے مکذبین رسل و منکرین قیامت۔ اور یہ ” بل کذبوا بالحق “ سے متعلق ہے یعنی اقوام گذشتہ کی طرح کفار قریش بھی قیامت اور حشر و نشر کا انکار کر رہے ہیں۔ جس طرح ان سرکش قوموں پر اللہ کا عذاب آیا۔ اسی طرح کفار قریش پر بھی آئے گا۔ ” اصحاب الرس “ یہ لوگ ایک کنوئیں پر آباد تھے اور بت پرستی کرتے تھے۔ ان کی طرح حضرت حنظلہ بن صفوان (علیہ السلام) مبعوث ہوئے (بیضاوی، روح) ۔ اصحاب الایکۃ، ان کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ ” قوم تبع “ تبع حمیری مراد ہے جو ایمان لا چکا تھا، لیکن اس کی دعوت اور کوشش کے باوجود اس کی قوم ایمان نہ لائی۔ ” کل کذب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

ربط آیات ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت اور وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ، اور فرمایا کہ یہ کون سی تعجب کی بات ہے کہ اللہ نے انہی میں سے ایک شخص کو منذر بنا کر بھیجا ہے اور اس کے ذریعے اپنا پیغام مخلوق تک پہنچایا ہے۔ انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ انسانوں ہی سے رسول بنا کر ان کی طرف بھیجتا رہا ۔ اب اللہ کا آخری رسول بھی انہی میں سے تو یہ کوئی عجیب بات تو نہیں ہے۔ اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے ۔ اور ہمارے اجسام ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں رل مل جائیں گے تو ہم دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاَصْحٰبُ الْاَيْكَۃِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ۝ 0 ۭ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَـــقَّ وَعِيْدِ۝ 14 صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–14

کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّاَصْحٰبُ الرَّسِّ وَثَمُوْدُ ۔ وَعَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍ ۔ وَاَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ط کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ ۔ (قٓ: 12 تا 14) ( ان سے پہلے قوم نوح، اصحابُ الرس، ثمود۔ عاد، فرعون، لوط کے بھائی۔ اور ایکہ والے اور تبع کی قوم کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں، ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا، تو ہماری وعید ان پر چسپاں ہو کر رہ گئی۔ ) تاریخ سے استشہاد کرتے ہوئے قریش کو تہدید اس آیت میں قریش کو تہدید کی گئی ہے اور تاریخ کا آئینہ دکھا کر انھیں اپنے رویئے پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یعنی تم نے جس طرح آنحضرت ﷺ کی نبوت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–15

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں بارش کا ذکر کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ جس طرح بارش کے بعد زمین سے بیج نکلتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن زمین سے نکال لے گا اور تمہیں اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ یہ اتنی واضح حقیقت ہونے کے باوجود افراد ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی اقوام نے قیامت کے دن کا انکار کیا جس وجہ سے ان کا دنیا میں بھی برا انجام ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دلائل دیتے ہوئے انسان کو باربار سمجھایا ہے کہ اے انسان ! تو نے مرنے کے بعد ہر صورت زندہ ہو کر میری بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا اور اپنے اعمال کا جواب دینے کا عقیدہ ہی انسان کو درست رکھتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 13–14

احوال تکذیب ِاقوام : آیت 13 : وَعَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ (اور ثمود اور عاد اور فرعون نے) نمبر 1۔ فرعون سے قوم فرعون مراد ہے۔ جیسا کہ فرمایا من فرعون وملائہم۔ ] یونس : 83[ نمبر 2۔ کیونکہ معطوف علیہ قوم نوح ہے اور معطوفات جماعتیں ہیں۔ وَاِخْوَانُ لُوطٍ وَّاَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ (اور قوم لوط اور بن والے) اخوان لوط کہنے کی وجہ یہ ہے کہ لوط ( علیہ السلام) اور ان کے درمیان قرابت نسبی پائی جاتی تھی۔ وَقَوْمُ تُبَّعٍ (اور تبع کی قوم) یہ یمن کا مسلمان بادشاہ گزرا۔ اس نے اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلایا۔ انہوں نے جھٹلا دیا۔ اسکو تُبَّع کثرت پیروکاروں کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ کُلٌّ (ان میں سے ہر ایک نے) کَذَّبَ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–15

12۔ 15۔ اہل مکہ نے حشر اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کا جو انکار کیا تھا اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی تسکین فرمائی کہ سرکش لوگوں کا انبیاء کو جھٹلانا حشر کی باتوں کو مسخرا پن ٹھہرانا سب نبیوں کے زمانہ میں تھا تمہارے زمانہ میں یہ بات کچھ نئی نہیں ہے۔ پھر فرمایا جیسا ان لوگوں نے کیا ویسا پایا کہ آخر کو سب طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو وہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا ہر کام کا پہلے پہل کرنا مشکل ہوتا ہے بغیر کسی نمونہ کے جب ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے سب عالم کو پیدا کردیا تو پھر اسی نمونہ پر انسان کو دوبارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–15

یعنی ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں نے بھی اپنے انبیائے عظام اور مرسلین کرام کو جھٹلایا، جیسے نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم نے جھٹلایا، ثمود نے حضرت صالح ( علیہ السلام) کی تکذیب کی، عاد نے ہود ( علیہ السلام) کو جھٹلایا، لوط کی قوم نے لوط ( علیہ السلام) کو اور اصھاب ایکہ نے شعیب ( علیہ السلام) کو جھوٹا سمجھا۔ زمانہ اسلام سے قبل یمن کے ہر بادشاہ کو (تبع) کہا جاتا تھا، چناچہ تبع کی قوم نے اپنے رسول کی تکذیب کی جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ نہیں فرمایا کہ وہ رسول کون تھا اور اسے کس (تبع) کے زمانے میں مبعوث کیا گیا ؟ کیونکہ۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ وہ رسول عربوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 18] منکرین کے دلوں پر ایک دستک کا ذکر وبیان : سو بعث بعد الموت کے منکروں کے دلوں پر دستک دینے اور ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کیلئے ان سے سوال کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم عاجز آگئے پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں، تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کردینا ہمارے لئے آخر کیا اور کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو تمہارا بھلا اور تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ تم لوگ ایمان و یقین کی دولت سے سرشار ہو کر حیات بعد الممات کیلئے تیاری کرو اور ابدی خسارے اور دائمی نقصان سے بچ جاؤ، کہ زمین و آسمان کا یہ سارا کارخانہء ہست و بود تمہارے سامھے موجود ہے، اور نہایت ہی منظم اور پر حکمت طریقے سے مسلسل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

آیات 1 تا 15۔ اسرار ومعارف۔ ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–14

ف 7 ہر ایک نے اگرچہ اپنے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا لیکن چونکہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا سبھی پیغمبروں کو جھٹلانا ہے اسی لئے ہر ایک نے گویا بھی پیغمبروں کو جھٹلایا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:14) واصحب الایکۃ۔ اس کا عطف آیت نمبر 12 پر ہے۔ اور ایکہ کے رہنے والے اور قوم تبع نے بھی (حق کو) جھٹلایا۔ اصحب الایکۃ مضاف مضاف الیہ۔ ایکہ کے لوگ، ایکہ کے رہنے والے۔ یہ کم تولنے کے گناہ میں ملوث تھے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پندو نصائح کی تکذیب میں دھرلئے گئے اور ہلاک کر دئیے گئے۔ وقوم تبع : مضاف مضاف الیہ۔ اور تبع کی قوم نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا۔ تبع یمن کے بادشاہوں میں سے ایک خمیری بادشاہ تھا۔ یہ قوم آتش پرست تھی یہ تبع بعد میں اسلام لایا اور اپنی قوم کو بھی اسلام کی دعوت دی۔ کل۔ یعنی ہر ایک شخص نے یا ہر امت نے باب نے پیغمبروں کی تکذیب کی۔ چونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب تمام پیغمبروں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 : عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔ تشریح : آیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–15

رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام۔ (ف 1) کفار مکہ نے حشر اور نبی ﷺ کی نبوت کا جوانکار کیا تھا جس کا اوپر کی آیت میں ذکر تھا، ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی یہ تسکین فرمائی کہ جیسے تمہاری تکذیب یہ کافر کتے ہیں اور قیامت کو نہیں مانتے یوں ہی ان سے پہلے جو کافر گزرے انہوں نے اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی، حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نوح کو جھٹلایا ، اصحاب رس نے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا ثمود نے صالح کو، عاد نے ہود کو فرعون اور اس کی قوم نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو، قوم لوط (علیہ السلام) ، اصحاب الایکہ نے شعیب (علیہ السلام) کو، اور قوم تبع نے اپنے رسول کو، اے محبوب ان سب قوموں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–18

[3] مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الٰہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا۔ یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت و قصد بھی اس کا رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–15

خدا رگ جان سے بھی قریب ہے 1: رگ جان سے بھی اللہ کے قریب ہونے کے معنی یہ ہیں کہ نفس کی ادنیٰ ترین تحریکات سے بھی وہ آگاہ ہے ۔ اور اس کو خوب معلوم ہے ۔ کہ الحادوزندقہ کے اثراث کس طرح ہوتے ہیں ۔ اور سای طرح بڑھتے ہیں ۔ اس کا علم اتنا وسیع ہے ۔ کہ بعض دفعہ ان خواطر کو خود ہم کو بھی محسوس ہیں ہوتے وہ جانتا ہے اور نہ صرف جانتا ہے بلکہ اس کے فرشتوں کے پاس ان کا کامل مرقع موجود ہے ۔ وہ فرشتے مامور ہیں ۔ کہ کسی بات کو ضائع نہ جانے دیں اور فورات جب کوئی شخص کلمہ خیر یا شر کہے ۔ وہ اس کو محفوظ کرلیں ۔ یہ نظریہ حفظ صورت کا نظریہ ہے سا کے معنے یہ ہیں ۔ کہ کوئی آواز فضا میں ضائع نہیں ہوتی ۔ اسی نظریہ کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) اور بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم تکذیب کا شیوہ اختیار کرچکے ہیں ان میں سے ہر قوم نے اپنے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا اور ہر ایک نے رسولوں کی تکذیب کی سو میرے عذاب کا وعدہ ان پر ثابت اور سچا ہوکر رہا۔ اس تہدید میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ جس طرح سابقہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام ہوا اور ان پر میرے وعید ثابت ہوئی۔ اسی طرح آپ کی تکذیب کرنے والوں کا بھی ایسا ہی انجام ہوگا، کنویں والے وہی ہیں جن کا ذکر سورة فرقان میں گزرچکا ہے۔ کہتے ہیں عدن کی نواحی میں کوئی چھوٹی سی ریاست تھی انہوں نے اپنے بادشاہ کی پرستش شروع کردی تھی اس زمانے کے نبی نے ان کو سمجھایا لیکن وہ نہ مانے آخر وہ کنواں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–15

ف 1۔ یعنی ان سب پر عذاب نازل ہوا، اسی طرح ان مکذبین پر عذاب آئے گا، خواہ دنیا میں بھی یا صرف آخرت میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 13–14

عاد ، فرعون اور لوط کے بھائی ، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے جھٹلا کر کیا حاصل کیا ؟ 14 ۔ 13 ۔ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ فرعون ، موسیٰ (علیہ السلام) کا ہم عصر تھا اور آپ ہی کو فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا اور عاد صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی جن کا تفصیلی تذکرہ سورة ہود میں گزر چکا اور اسی طرح ثمود کا حال ہوا جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی اور لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کا تذکرہ بھی آپ پڑھ چکے کہ کس طرح ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی اور زلزلہ اور آندھی نے ان کو آلیا ان کی بستیوں کا اوپر کا حصہ نیچے کو دبا کر رکھ دیا اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم جو ایک کے بعد دوسری قوم کی طرف معبوث…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–15

Dwellers of Aikah Aikah means a dense bush; wood; forest; jungle, These people resided in such a place. Holy Prophet Shu'aib (علیہ السلام) was sent to this nation. They disobeyed him and were destroyed by Divine punishment. People of Tubba' Tubba' was the title of the king of Yemen. The necessary explanation has been given in volume seven in Surah Ad-Dukhan under [ 44:37].

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 For explanation, see E.N. 37 of Surah Saba; E.N, 32 of Surah Dukhan. 15 That is, they all denied the apostleship of their Messengers as well as the news given by them that they will be raised back to life after death. 16 Although every nation denied only the Messenger who was sent to it, as it denied the news which all the Messengers have been presenting unanimously, denying one Messenger, therefore, amounted to denying all of them. Moreover, these nations did not merely deny the apostleship of the Messenger who had come to them, but they were not at all inclined to believe that a mere…

Read the full tafseer →