Explained with ayahs 12–15
ان کو شامت اعمال ہی شد تھی
اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں جیسے کہ نوح کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کردیا اور اصحاب رس جن کا پورا قصہ سورة فرقان کی تفسیر میں گذر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنادیا یہ سب کیا تھا ؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں، سورة دخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں فالحمد للہ۔ ان تمام…
Read the full tafseer →سورة قٓ 18
یہ آخرت کے حق میں عقلی استدلال ہے۔ جو شخص خدا کا منکر نہ ہو اور حماقت کی اس حد تک نہ پہنچ گیا ہو کہ اس منظم کائنات اور اس کے اندر انسان کی پیدائش کو محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دینے لگے، اس کے لیے یہ مانے بغیر چارہ نہیں ہے کہ خدا ہی نے ہمیں اور اس پوری کائنات کو پیدا کیا ہے۔ اب یہ امر واقعہ کہ ہم اس دنیا میں زندہ موجود ہیں اور زمین و آسمان کا یہ سارا کارخانہ ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے، آپ ہی اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ خدا ہمیں اور اس کائنات کو پیدا کرنے سے عاجز نہ تھا۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ قیامت برپا کرنے کے بعد وہی خدا ایک دوسرا نظام عالم نہ بنا سکے گا، اور موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِایکہ گھنے جنگل اور بن کو کہتے ہیں، یہ لوگ ایسے ہی مقام پر آباد تھے، حضرت شعیب ؑ ان کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے، انہوں نے نافرمانی کی، بالآخر عذاب الٰہی سے تباہ و برباد ہوئے۔
وَقَوْمُ تُبَّعٍتبع یمن کے ایک بادشاہ کا لقب ہے، جس کی ضروری تحقیق جلد ہفتم میں سورة دخان کے تحت گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →قوم تبع کا ذکر سورة خان کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ افعیینا بالخلق الاول ط بل ھم فی لبس من خلق جدید 15
نقاش نقش ثانی بہتر کشد زاول
اوپر کی آیات 11-6 میں آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے خاص اہتمام کے ساتھ اپنی اس قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے جو آسمان و زمین کے ہر گوشے سے نمایاں ہے اور مقصود اس سے جیسا کہ ہم نے اوپر شا ارہ کیا، ان لوگوں کو قائل کرنا تھا جو مرنے کے بعد از سر نو اٹھا کھڑے کئے جانے کو بعید از امکان تصور کرتے تھے۔ یہ انہی لوگوں کے سامنے سوال رکھا ہے کہ یہ لوگ ہمارے آسمانوں اور ہماری زمین کو دیکھ کر بتائیں کہ کیا پہلی بار ہم ان کو بنانے سے عاجز رہے۔ اعیی بالامر کے معنی کی وضاحت اہل…
Read the full tafseer →15۔ 1 کہ قیامت والے دن دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لیے مشکل ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ جب پہلی مرتبہ پیدا کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں تھا تو دوبارہ زندہ کرنا تو پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ) 30۔ الروم :27) (وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ ۭ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ 78 قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْٓ اَنْشَاَهَآ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِـيْمُۨ 79ۙ) 36۔ یس :79-78) میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ اور حدیث قدسی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
5: کسی بھی چیز کو پہلی بار پیدا کرنا اسے عدم سے وجود میں لانا ہمیشہ زیادہ مشکل ہوتا ہے، بہ نسبت اس کے کہ اسے دوبارہ ویسا ہی بنادیا جائے، جب اللہ تعالیٰ کو پہلی بار پیدا کرنے میں کوئی دشواری یا تھکن لاحق نہیں ہوئی تو دوبارہ پیدا کرنے میں کیوں کوئی مشکل ہوگی۔
Read the full tafseer →افعیینا بالخلق الاول (50 : 15) ” کیا پہلی بار کی تخلیق سے ہم عاجز تھے “۔ یعنی ان کے سامنے کیا یہ شہادت موجود نہ تھی ، تخلیق چونکہ موجود تھی اس لیے جواب نہ دیا۔
بل ھم فی لبس من خلق جدید (50 : 15) ” بلکہ ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے تھے “ ۔ یہ دیکھتے نہ تھے کہ ان کے سامنے یہ عمل موجود ہے۔ شہادت موجود ہے لہٰذا ان کا علاج ہی یہی تھا جو ہوا۔
Read the full tafseer →1 یعنی دوبارہ نئے سرے سے پیدا کرنے میں انہیں فضول دھوکا لگ رہا ہے۔ جس نے پہلی بار پیدا کیا دوسری مرتبہ پیدا کردینا کیا مشکل ہے ؟ کیا یہ گمان کرتے ہو کہ (معاذ اللہ) وہ پہلی دفعہ دنیا کو بنا کر تھک گیا ہوگا ؟ اس قادر مطلق کی نسبت ایسے توہمات قائم کرنا سخت جہالت اور گستاخی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 15{ اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ ط } ”تو کیا ہم پہلی مرتبہ پیدا کر کے عاجز آگئے ہیں !“
کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہماری تخلیقی صلاحیتیں creative potential اب ختم ہو کر رہ گئی ہیں اور اب ہم انہیں دوبارہ پیدا نہیں کرسکیں گے۔ یہی مضمون سورة الاحقاف میں اس طرح آیا ہے :
{ اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِییَ الْمَوْتٰیط بَلٰٓی اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ }
”کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی اور ان کی تخلیق سے تھکا نہیں ‘ وہ اس پر قادر ہے کہ…
Read the full tafseer →17 اللہ تعالیٰ کو کسی انسان یا کسی جاندار مخلوق کی مثل قرار دینا ہی بنیادی غلطی ہے جس سے کئی طرح کی گمراہیوں کی راہیں کھلتی ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ہم کام کرتے کرتے تھک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی اتنی بڑی کائنات پیدا کرنے کے بعد تھک چکا ہے۔ لہذا وہ آئندہ دوسری بار کیسے اس کائنات کو پیدا کرے گا۔ اس کا ایک جواب تو قرآن میں مختلف مقامات پر یہ دیا گیا ہے کہ تمہارے نزدیک بھی ایک چیز کو دوسری بار بنانا پہلی بار سے آسان تر ہوتا ہے تو پھر اللہ کے لئے دوسری بار پیدا کرنا کیسے مشکل ہوگا ؟ اور یہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ اصل بات یہ نہیں۔ وہ ہمیں تھکا ماندہ اور عاجز نہیں سمجھتے بلکہ ان کی عقل یہ…
Read the full tafseer →10۔ (یوں ہی بلا کسی شبہ معقول یا کسی دلیل صحیح کے) (آیت) ” افعیینا بالخلق الاول “۔ یعنی بار اول میں عد م محض سے تو سب چیزوں کا ہمارا خالق ہونا تو تمہیں خود تسلیم ہے، تو پھر کیا یہ مانتے ہو کہ اب ہماری قدرت تخلق جواب دے گئی ہے اور اب ہم تخلیق ثانی پر قادر نہیں رہے۔ ؟ (آیت) ” افعیینا “۔ بعض گمراہ قوموں نے واقعۃ بھی خستگی اور تھکن کو حق تعالیٰ کی جانب منسوب کردیا ہے۔ یہاں تک کہ یہود اور نصرانیوں نے بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
اصحاب الایکہ :
ایکۃ گھنے جنگل اور جھاڑیوں کو ہتے ہیں یہ لوگ ایسے ہی مقام پر آدمی تھے، حضرت شعیب (علیہ الصلوۃ والسلام) ان کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے، ان کی قوم نے نافرمانی کی بالآخر عذاب الٰہی سے تباہ و برباد ہوئے۔ (معارف القرآن)
قوم تبع :
تبع یمن کے بادشاہوں کا لقب ہے جس طرح کہ قیصر و کسریٰ روم وفارس کے بادشاہوں کا لقب ہے اس کی ضروری تشریح سورة دخان میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →افعیینا بالخلق الاول بل ھم فی لبس من خلق جدید . کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے میں تھک گئے بلکہ یہ لوگ از سرِ نو پیدا کرنے کی طرف سے (بلا دلیل) شبہ میں ہیں۔
قاموس میں ہے عَیَّ بالْاَمْرِ اس نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا راستہ نہیں پایا یا حصول مقصود سے عاجز ہوگیا اور طاقت نہیں رہی
اَفَعَیِیْنَا : میں ہمزہ انکاری ہے اور فَ عاطفہ تعقیبیہ ہے۔ آیت : اَفَلَمْ یَنْظُرُوْا اِلَی السَّمَآ ءِ سے مَآءٍ..... پر اس کا عطف ہے اور کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ : سے آخر تک معترضہ جملے ہیں ‘ خلاصہ مطلب اس طرح ہوگا ‘ ہم نے آسمان کو بغیر کسی شگاف اور رخنہ کے بنایا۔ زمین کو پھیلایا ‘ پہاڑوں کو جمایا۔ آسمان سے پانی برسایا۔…
Read the full tafseer →سو کیا ہم ان کو پہلی بار پیدا کرنے میں تھک گئے کہ جس کی وجہ سے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ نہ کرسکیں گے بلکہ یہ قریش مرنے کے بعد زندہ کرنے کے بارے میں فضول ہی شک میں پڑے ہوئے ہیں
Read the full tafseer →(1) افعیینا بالخلق الاول : یہ خلاصہ اور نتیجہ ہے اس دلیل کا جس کی تفصیل سورت کے شروع سے آرہی ہے کہ جب ہم نے اس وقت جب کچھ بھی نہیں تھا آسمان و زمین، بارش اور اوپر مذکور تمام چیزیں پیدا کرلیں اور ہمیں ان کے پیدا کرنے سے کوئی تھکاوٹ لاحق نہیں ہوئی تو کیا یہ بےچارہ انسان ضعیف البنیان ہی ایسی مخلوق ہے جسے پہلی دفعہ پیدا کر کے ہم تھک گئے ہیں اور اسے دوبارہ زندہ نہیں کرسکتے، حالانکہ ہمارا تخلیق کا عمل مسلسل جاری ہے اور وہ دوبارہ زندگی تو پہلی دفعہ کے مقابلے میں نفاق بات ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے مختلف انداز سے کئی جگہ بیان فرمائی ہے، دیکھیے سورة روم (27) یٰسین (78، 79) ، نازعات (27) اور سورة ق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12 ۔ 15:۔ کذبت قبلھم قوم نوح یعنی جس طرح انہوں نے جھٹلایا ہے اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا تھا تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ ان کے سامنے ان جھٹلانے والوں کا ذکر کیا اور جس عذاب نے انہیں
اپنی گرفت میں لیا تھا اس سے انہیں ڈرایا۔ ہم نے ان کے واقعات کئی مواقع پر ذکر کیے ہیں، جہاں بھی ان کا تذکرہ ہوا۔ کل کذب الرسل یعنی ان جھٹلانے والی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا۔
فحق و عید تو ان پر میری وعید اور عقاب ثابت ہوگیا۔ افعیینا بالخلق الاول کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کی وجہ سے تھک گئے تھے کہ ہم دوبارہ اٹھانے سے تھک جائیں گے۔ یہ بعث کے
منکروں کو شرمندہ کرنے کے لئے ہے اور ان کے قول ذلک رجع بعید کا جواب ہے۔ یہ جملہ…
Read the full tafseer →:۔ ابن المنذر (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فحق وعید '' (سو میری وعید یعنی عذاب ان پر واقع ہوگیا) یعنی وہ اس کے ذریعہ ہلاک نہیں ہو کئے گئے (صرف) ان کو ڈرانے کے لئے (ایسا فرمایا) (آیت) '' افعیینا بالخلق الاول '' (کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے تھک گئے) یعنی کیا ہم پر تھکان ہوگئی۔ جب ہم نے تم کو پیدا کیا (آیت) '' بل ھم فی لبس من خلق جدید '' (بلکہ یہ لوگ از سر نو پیدا کرنے کی طرف بلادلیل شبہ میں ہیں یعنی وہ شک کررہے ہیں موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے سے۔
2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' افعیینا بالخلق الاول '' یعنی ہم پہلی…
Read the full tafseer →اَفَعَيِيْنَا [ تو کیا ہم تھک گئے ] بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ ۭ [ پہلی بار پیدا کرنے سے ] بَلْ هُمْ فِيْ لَبْسٍ [ بلکہ یہ لوگ ایک شبہ میں ہیں ] مِّنْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ [ نئے (دوبارہ ) پیدا کرنے سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
اقوام سابقہ ہالکہ کے واقعات سے عبرت حاصل کریں
ان آیات میں قرآن کریم کے مخاطبین کو تنبیہ فرمائی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ اپنے کفر اور تکذیب کے باوجود یہ لوگ مطمئن ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم صحیح راہ پر ہیں اور ہمارا مواخذہ نہ ہوگا یہ ان لوگوں کی غلطی ہے ان سے پہلے کتنی قومیں گزر چکی ہیں۔ جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا (جس میں وقوع قیامت کا انکار بھی تھا لہٰذا یہ لوگ ہلاک کردیئے گئے) جن لوگوں کی ہلاکت و بربادی کا اجمالی تذکرہ فرمایا ہے ان کی ہلاکت کے تفصیلی حالات متعدد سورتوں میں گزر چکے ہیں۔ اصحاب الرس کا تزکرہ سورة ٴ فرقان میں اور اصحابہ الایکہ کا تذکرہ سورة ٴ الشعراء میں اور قوم تبع کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
تنبیہ وتہدید کفار قریش پر انکار آخرت وحوالہ تاریخ ہلاکت امم سابقہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کذبت قبلھم قوم نوح ...... الی ...... من خلق جدید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مسئلہ آخرت اور حشر جسمانی کا ذکر تھا اور اس پر دلائل و شواہد بیان فرمائے گئے اور کفار قریش کے انکار وتعجب کا رد کیا گیا کہ بعث بعد الموت کا انکار عقلا وطبعا ممکن ہی نہیں اب اس کے بعد بطور عبرت اجمالا امم سابقہ کی ہلاکت و بربادی کی تاریخ دہرائی جارہی ہے کہ کس قدر طاقت در قومیں تھیں لیکن عذاب خداوندی نے ان کو تباہ وبرباد کرڈالا۔
ارشاد فرمایا جھٹلاچکے ہیں ان سے پہلے قوم نوح اور اصحاب الرس یعنی کنوئیں والے اور ثمود وعادوعاد اور…
Read the full tafseer →9:َ ” افعیینا۔ الایۃ “ یہ زجر ہے۔ منکرین قیامت، بعث بعد الموت کو نہیں مانتے۔ کیا ان کا خیال ہے کہ ہم مخلوق کو پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے اور اب دوبارہ پیدا کرنے کی ہم میں قدرت باقی نہیں رہی ؟ بل ھم فی لبس الخ، نہیں یہ بات نہیں، ہماری قدرت میں تو کوئی فرق نہیں آیا۔ بلکہ وہ خود ہی دوسری پیدائش یعنی بعث بعد الموت کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور اسے بعید از قیاس سمجھے بیٹھے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
ربط آیات
ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت اور وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ، اور فرمایا کہ یہ کون سی تعجب کی بات ہے کہ اللہ نے انہی میں سے ایک شخص کو منذر بنا کر بھیجا ہے اور اس کے ذریعے اپنا پیغام مخلوق تک پہنچایا ہے۔ انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ انسانوں ہی سے رسول بنا کر ان کی طرف بھیجتا رہا ۔ اب اللہ کا آخری رسول بھی انہی میں سے تو یہ کوئی عجیب بات تو نہیں ہے۔ اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے ۔ اور ہمارے اجسام ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں رل مل جائیں گے تو ہم دوبارہ…
Read the full tafseer →اَفَعَيِيْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ 0 ۭ بَلْ ہُمْ فِيْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ 15 ۧ
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…
Read the full tafseer →اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ ط بَلْ ھُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ (قٓ: 15)
(کیا ہم پہلی بار تخلیق کرنے سے عاجز رہے بلکہ یہ لوگ نئی تخلیق کی طرف سے شک میں مبتلا ہیں۔ )
نقشِ اول سے نقش ثانی کے وجود پر استدلال
آیت گیارہ کے مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اولاً تو دلائل کے ساتھ ہم آخرت کے وقوع کو واضح کرچکے ہیں۔ لیکن جو لوگ اب بھی اس سامنے کی بات کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ہمارا ان سے سوال یہ ہے کہ تم خود اس بات کے قائل ہو کہ زمین اور آسمانوں کے خالق ہم ہیں۔ کائنات کی کوئی مخلوق ایسی نہیں جسے ہمارے سوا کسی اور نے پیدا کیا ہو۔ تو کیا ہم جب پہلی مرتبہ کائنات کو تخلیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں بارش کا ذکر کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ جس طرح بارش کے بعد زمین سے بیج نکلتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن زمین سے نکال لے گا اور تمہیں اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ یہ اتنی واضح حقیقت ہونے کے باوجود افراد ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی اقوام نے قیامت کے دن کا انکار کیا جس وجہ سے ان کا دنیا میں بھی برا انجام ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دلائل دیتے ہوئے انسان کو باربار سمجھایا ہے کہ اے انسان ! تو نے مرنے کے بعد ہر صورت زندہ ہو کر میری بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا اور اپنے اعمال کا جواب دینے کا عقیدہ ہی انسان کو درست رکھتا ہے۔…
Read the full tafseer →آیت 15 : اَفَعَیِیْنَا (کیا ہم پہلی مرتبہ پیدا کرنے میں تھک گئے ہیں) اعیٰی بالامر اس وقت بولتے ہیں جب اپنے مقصد کو پانے کے لئے راہ نہ پائے۔ نحو : ہمزہ انکار کے لئے ہے فاء عاطفہ تعقیبیہ ہے۔ بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ (یعنی ہم پہلی مرتبہ پیدا کر کے تھک نہیں گئے) پھر دوسری سے ہم کیسے عاجز ہونگے۔ اور خلق اول کا اعتراف تو خود اعادہ کا اعتراف ہے۔
بعثت کے متعلق یہ شک میں پڑے ہیں :
بَلْ ہُمْ فِیْ لَبْسٍ (بلکہ یہ لوگ شبہ میں پڑے ہیں) یہ لوگ خلط ملط اور اشتباہ میں ہیں شیطان نے ان کو التباس و حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ان کے لئے تسویل شیطانی یہ ہے کہ مردوں کو زندہ کرنا عادت کے خلاف ہے۔ پس اس بات کی وجہ سے انہوں…
Read the full tafseer →14 ۔” واصحاب الایکۃ وقوم تبع “ یہ تبع حمیری ہے۔ اس کا نام اسعد ابوکرب ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی قوم کی مذمت کی ہے اور اس کی مذمت نہیں کی۔ ہم نے اس کا قصہ سورة الدخان میں ذکر کردیا ہے۔ ” کل کذب الرسل “ یعنی ان مذکورین میں سے ہر ایک نے رسولوں کی تکذیب کی۔ ” فحق وعید “ ان کے لئے میرا عذاب واجب ہوگیا۔ پھر ان کے قول ” ذلک رجع بعید “ کا جواب نازل کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12۔ 15۔ اہل مکہ نے حشر اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کا جو انکار کیا تھا اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی تسکین فرمائی کہ سرکش لوگوں کا انبیاء کو جھٹلانا حشر کی باتوں کو مسخرا پن ٹھہرانا سب نبیوں کے زمانہ میں تھا تمہارے زمانہ میں یہ بات کچھ نئی نہیں ہے۔ پھر فرمایا جیسا ان لوگوں نے کیا ویسا پایا کہ آخر کو سب طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو وہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا ہر کام کا پہلے پہل کرنا مشکل ہوتا ہے بغیر کسی نمونہ کے جب ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے سب عالم کو پیدا کردیا تو پھر اسی نمونہ پر انسان کو دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
یعنی ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں نے بھی اپنے انبیائے عظام اور مرسلین کرام کو جھٹلایا، جیسے نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم نے جھٹلایا، ثمود نے حضرت صالح ( علیہ السلام) کی تکذیب کی، عاد نے ہود ( علیہ السلام) کو جھٹلایا، لوط کی قوم نے لوط ( علیہ السلام) کو اور اصھاب ایکہ نے شعیب ( علیہ السلام) کو جھوٹا سمجھا۔ زمانہ اسلام سے قبل یمن کے ہر بادشاہ کو (تبع) کہا جاتا تھا، چناچہ تبع کی قوم نے اپنے رسول کی تکذیب کی جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ نہیں فرمایا کہ وہ رسول کون تھا اور اسے کس (تبع) کے زمانے میں مبعوث کیا گیا ؟ کیونکہ۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ وہ رسول عربوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
[ 19] منکرین کے سبب انکار کی تعیین و تشخیص کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے سبب انکار کی تشخیص کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ دراصل نئی پیدائش کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی نہ تو یہ لوگ ہماری قدرت کا انکار کرسکتے ہیں، اور نہ ہی ان کا انکار کسی اساس و بنیاد پر قائم ہوسکتا ہے، کہ حق و حقیقت کے انکار کی کوئی اسا و بنیاد ہو ہی نہیں سکتی، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ نئی پیدائش کے بارے میں شک میں پڑے ہیں، کہ اس کا کوئی حسی اور ظاہری نمونہ اس کے سامنے موجود نہیں، اس لئے یہ شکوک و شبہات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہ لوگ یہ کہنے کی تو جرات نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیات 1 تا 15۔
اسرار ومعارف۔
ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…
Read the full tafseer →ف 8 کہ پھر دوسری بار آخرت میں پیدا نہ کرسکیں گے ؟
9 یعنی یہ اس چیز کے منکر نہیں ہیں کہ ان کو پہلی بار ہمیں نے پیدا کیا اور یہ کہ پہلی با رپیدا کر کے ہم تھک کر نہیں رہ گئے لیکن اس کے باوجود انہیں شک ہے کہ ہم دوبارہ بھی پیدا کرسکیں گے یا نہیں حالانکہ معمولی غور و فکر سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ ہمیں اگر ہمیں دشواری پیش آتی تو پہلی بار پیدا کرنے میں آتی، دوسری بار پیدا کرنے کا کام تو پہلی بار کی بہ نسبت کہیں آسان ہے۔ ( سورة روم :27)
Read the full tafseer →(50:15) افعیینا بالخلق الاول۔ اس میں ہمزہ انکاری ہے اورعاطفہ تعقیبیہ ہے۔ اس کا عطف افلم ینظروا الی السماء پر ہے۔ اور کذبت قبلہم سے آخر تک معترضہ جملے ہیں۔ (مظہری) نیز ملاحظہ ہو 2:44 ۔
عیینا۔ ماضی جمع متکلم۔ عی (باب سمع) مصدر سے جس کے معنی تھکنے اور عاجز ہونے کے ہیں۔ ہم تھک گئے۔ ہم عاجز آگئے۔ تو کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے ٹھک گئے (نہیں) ۔
بل۔ حرف اضراب ہے یعنی وہ پہلی بار پیدا کرنے میں ہماری قدرت کے منکر نہیں بلکہ ہم فی لبس من خلق جدید۔ یہ لوگ ازسر تو پیدا کرنے کے بارے میں شبہ میں ہیں۔
لبس اس کے اصل معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں اور قرآن مجید میں اکثر ان معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 :
عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔
تشریح : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام۔
(ف 1) کفار مکہ نے حشر اور نبی ﷺ کی نبوت کا جوانکار کیا تھا جس کا اوپر کی آیت میں ذکر تھا، ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی یہ تسکین فرمائی کہ جیسے تمہاری تکذیب یہ کافر کتے ہیں اور قیامت کو نہیں مانتے یوں ہی ان سے پہلے جو کافر گزرے انہوں نے اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی، حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نوح کو جھٹلایا ، اصحاب رس نے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا ثمود نے صالح کو، عاد نے ہود کو فرعون اور اس کی قوم نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو، قوم لوط (علیہ السلام) ، اصحاب الایکہ نے شعیب (علیہ السلام) کو، اور قوم تبع نے اپنے رسول کو، اے محبوب ان سب قوموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
[3] مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الٰہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا۔ یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت و قصد بھی اس کا رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
خدا رگ جان سے بھی قریب ہے
1: رگ جان سے بھی اللہ کے قریب ہونے کے معنی یہ ہیں کہ نفس کی ادنیٰ ترین تحریکات سے بھی وہ آگاہ ہے ۔ اور اس کو خوب معلوم ہے ۔ کہ الحادوزندقہ کے اثراث کس طرح ہوتے ہیں ۔ اور سای طرح بڑھتے ہیں ۔ اس کا علم اتنا وسیع ہے ۔ کہ بعض دفعہ ان خواطر کو خود ہم کو بھی محسوس ہیں ہوتے وہ جانتا ہے اور نہ صرف جانتا ہے بلکہ اس کے فرشتوں کے پاس ان کا کامل مرقع موجود ہے ۔ وہ فرشتے مامور ہیں ۔ کہ کسی بات کو ضائع نہ جانے دیں اور فورات جب کوئی شخص کلمہ خیر یا شر کہے ۔ وہ اس کو محفوظ کرلیں ۔ یہ نظریہ حفظ صورت کا نظریہ ہے سا کے معنے یہ ہیں ۔ کہ کوئی آواز فضا میں ضائع نہیں ہوتی ۔ اسی نظریہ کی…
Read the full tafseer →(15) کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے عاجز ہوگئے اور تھک گئے نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ نئی پیدائش کے بارے میں اور نئے بننے کی طرف سے شبہ میں اور دھوکے میں پڑے ہوتے ہیں۔ یعنی شیطان نے ان کو شبہ میں ڈال دیا ہے کہ مر کر زندہ ہونا عادت کے خلاف ہے اس لئے اس دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں کہ کوئی دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا چونکہ یہ شبہ کیا جاسکتا تھا کہ محل قابل حیات بھی اور فاعل یعنی زندہ کرنے والا قادر بھی ہو لیکن تھک جانے کی وجہ سے تنفیذ کی قدرت باقی نہ رہی ہو۔
اس احتمال کا جواب ہے کہ ہم عاجز نہیں ہوتے اور تھکتے نہیں کیونکہ جو صفات مستفاد من الغیرنہ ہوں اس میں نقص محال ہے وہقادر بالذات ہے یہ وصف کسی غیر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 1۔ یعنی ان سب پر عذاب نازل ہوا، اسی طرح ان مکذبین پر عذاب آئے گا، خواہ دنیا میں بھی یا صرف آخرت میں۔
Read the full tafseer →کیا ہم سب کو پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں یا ان کفار کا شک ہی نکل نہیں رہا ؟
15 ۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اپنے ان ہم وطنوں اور ہم قوم لوگوں سے ذرا دریافت تو کریں کیا ہم ان سارے لوگوں کو پیدا کرکے تھک چکے ہیں کہ اب ہم ان کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتے اور اب ہم نے یہ کام دوسروں کے سپرد کردیا ہے یا یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کا شبہ ہی زائل نہیں ہورہا ہے ؟ آخر کوئی بات تو ہے جس نے ان کو بدستور شک میں ڈال رکھا ہے ۔ ہاں ! جو کچھ تم نے سمجھا ہے اس کے متعلق اپنی وضاحت تم کردو تمہارے سامنے وقوع قیامت پر اور اللہ تعالیٰ کی توحید و ربوبیت پر قابل تردید دلائل پیش کئے جاچکے ہیں اور تم میں نہ تو اس بات کی سکت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
Dwellers of Aikah
Aikah means a dense bush; wood; forest; jungle, These people resided in such a place. Holy Prophet Shu'aib (علیہ السلام) was sent to this nation. They disobeyed him and were destroyed by Divine punishment.
People of Tubba'
Tubba' was the title of the king of Yemen. The necessary explanation has been given in volume seven in Surah Ad-Dukhan under [ 44:37].
Read the full tafseer →18 This is a rational argument for the Hereafter. The person who is not a denier of God and is also not so foolish as to regard this excellently ordered Universe and the creation of man in it as a mere accident, cannot help but admit that God alone has created man and this whole Universe. Now this actual fact that we exist alive in this world and this great work-house of the earth and heavens is functioning before us, by itself is an obvious proof that God was in no way powerless in creating us and this Universe. Yet if a man says that after bringing about Resurrection the same God will not…
Read the full tafseer →