Qaaf 50:16

Qaaf · from ayah 16

50:16

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ ۖۚ— وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ۟وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِهٖ نَفۡسُهٗ ۖۚ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ

اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں۔ اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have already created man and know what his soul whispers to him, and We are closer to him than [his] jugular vein

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:16

ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں ابھرنے والے وسوسوں تک کو ہم جانتے ہیں ہم اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ اُس سے قریب ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں۔ اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیاﻻت اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیاده اس سے قریب ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور اس کے دل میں جو خیالات آتے ہیں، ان (تک) سے ہم خوب واقف ہیں، اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اُن وسوسوں کو (بھی) جانتے ہیں جو اس کا نفس (اس کے دل و دماغ میں) ڈالتا ہے۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلا شبہ یقینا ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم ان چیزوں کو جانتے ہیں جن کا وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو کچھ اس کے دل میں وسوسہ گزرتا ہے، ہم تو اسے بھی جانتے ہیں اور اس کے گلے کی رگ سے بھی زیادہ اسکے قریب ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انسان کو ہم نے پیدا کیا ہے اور ہم جانتے ہیں اس کے دل میں جو وسوسے گزرتے ہیں اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا ہے انسان کو اور ہم پوری طرح جانتے ہیں اس کے ان وسوسوں کو جو اس کے دل میں گزرتے ہیں اور ہم اس سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم (خوب) جانتے ہیں ان وسوسوں (تک) کو جو اس کے جی میں آتے رہتے ہیں ہم تو اس کی رگ گردن سے بھی بڑھ کر اس کے قریب ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم خوب جانتے ہیں جو اس کا نفس وسوسے ڈالتا ہے اور ہم تو اس سے اس کی رَگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں (ہم ان کو جانتے ہیں) اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely We have created man, and We know the promptings of his heart, and We are nearer to him than even his jugular vein.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed We have created man, and We know whatever thoughts his inner self develops, and We are closer to him than (his) jugular vein,

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed We have created man, and We know whatever thoughts his inner self develops, and We are closer to him than (his) jugular vein,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We have created man, and We know what his self whispers to him. And We are nearer to him than his jugular vein.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We verily created man and We know what his soul whispereth to him, and We are nearer to him than his jugular vein.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have already created man and know what his soul whispers to him, and We are closer to him than [his] jugular vein

— Saheeh International

We swear that We have created the human being and We know what his soul whispers to him. We are closer to him than even his jugular vein.

— Muhammad Sarwar

And certainly We created man, and We know what his mind suggests to him, and We are nearer to him than his life-vein.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We have created man and We know whatsoever his soul whispereth Unto him, and We are nigher Unto him than his jugular vein.

— Abdul Majid Daryabadi

It was We Who created man, and We know what dark suggestions his soul makes to him: for We are nearer to him than (his) jugular vein.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–22

دائیں اور بائیں دو فرشتے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہی انسان کا خالق ہے اور اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے یہاں تک کہ انسان کے دل میں جو بھلے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں انہیں بھی وہ جانتا ہے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل میں جو خیالات آئیں ان سے درگذر فرما لیا ہے جب تک کہ وہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ کریں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں یعنی ہمارے فرشتے اور بعض نے کہا ہے ہمارا علم ان کی غرض یہ ہے کہ کہیں حلول اور اتحاد نہ لازم آجائے جو بالاجماع اس رب کی مقدس ذات سے بعید ہے اور وہ اس سے بالکل پاک ہے لیکن لفظ کا اقتضاء یہ نہیں ہے اس لئے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–17

سورة قٓ 19 آخرت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم چاہے اس آخرت کو مانو یا اس کا انکار کرو، بہرحال اس کو آنا ہے اور یہ ایک ایسا امر واقعہ ہے جو تمہارے انکار کے باوجود پیش آکر رہے گا۔ انبیاء کی پیشگی تنبیہ کو مان کر اس وقت کے لیے پہلے سے تیاری کرلو گے تو اپنا بھلا کرو گے۔ نہ مانو گے تو خود ہی اپنی شامت بلاؤ گے۔ تمہارے نہ ماننے سے آخرت آتے آتے رک نہیں جائے گی اور خدا کا قانون عدل معطل نہ ہوجائے گا۔ سورة قٓ 20 یعنی ہماری قدرت اور ہمارے علم نے انسان کا اندر اور باہر سے اس طرح گھیر رکھا ہے کہ اس کی رگ گردن بھی اس سے اتنی قریب نہیں ہے جتنا ہمارا علم اور ہماری قدرت اس سے قریب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (اوپر قیامت میں مردوں کے زندہ ہونے کا امکان ثابت ہوچکا ہے آگے اس کے وقوع کا بیان ہے اور وقوع موقوف ہے علم کامل اور قدرت کاملہ پر، اس لئے اول اس کو بتلاتے ہیں کہ) اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے (جو اعلیٰ درجہ کی دلیل ہے قدرت پر) اور اس کی جی میں جو خیالات آتے ہیں ہم ان (تک) کو (بھی) جانتے ہیں (تو جو افعال ان کے ہاتھ پاؤں اور زبان سے صادر ہوں ان کو جاننا تو بدرجہ اولیٰ ہے) اور (بلکہ ہم کو تو اس کے احوال کا ایسا علم ہے کہ اس کو خود بھی اپنے احوال کا ایسا علم نہیں پس باعتبار علم کے) ہم انسان کے اس قدر قریب ہیں کہ اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ (جس کے قطع ہونے سے انسان مر جاتا ہے، اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

2 آگے آیات 35-16 کا مضمون آگے کی آیات میں پہلے اس اہتمام کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے اقوال و اعمال کا ریکارڈ رکھنے کے لئے کر رکھا ہے۔ اس کے بعد قیامت کے ظہور اور مجرمین کے حاضر کئے جانے کی تصویر کھینچی ہے۔ اس کے بعد مجرمین کے جہنم میں ڈالے جاین اور ان کے باہمی لعن طعن کا بیان ہے۔ پھر اس فضل و انعام کی تفصیل ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں پر فرمائے گا۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -3 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ولقد خلقنا الانسان و نعلم ماتوسوس بہ نفسہ ونحن اقرب الیہ من حبل الورید 16 اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو محیط ہے قیامت کے باب میں جہاں نادانوں کو یہ شبہ لاحق ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

1 6 ۔ 1 یعنی انسان جو کچھ چھپاتا اور دل میں مستور رکھتا ہے وہ سب ہم جانتے ہیں وسوسہ دل میں گزرنے والے خیالات کو کہا جاتا ہے جس کا علم اس انسان کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا لیکن اللہ ان وسوسوں کو بھی جانتا ہے اسی لیے حدیث میں آتا ہے اللہ تعالیٰ نے میری امت سے دل میں گزرنے والے خیالات کو معاف فرما دیا ہے یعنی ان پر گرفت نہیں فرمائے گا جب تک وہ زبان سے ان کا اظہار یا ان پر عمل نہ کرے۔ البخاری کتاب الایمان۔ 16۔ 1 ورید شہ رگ یا رگ جان کو کہا جاتا ہے جس کے کٹنے سے موت واقع ہوجاتی ہے یہ رگ حلق کے ایک کنارے سے انسان کے کندھے تک ہوتی ہے ہم انسان کے بالکل بلکہ اتنے قریب ہیں کہ اس کے نفس کی باتوں کو بھی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–17

6: یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کے تمام اچھے برے کاموں کو ریکارڈ کرنے کے لئے دو فرشتے مقرر فرمارکھے ہیں جوہر وقت اسکے دائیں اور بائیں موجود ہوتے ہیں، لیکن یہ انتظام صرف اس لئے کیا گیا ہے تاکہ انسان کے اعمال نامے کو قیامت کے دن خود اس کے سامنے حجت کے طور پر پیش کیا جاسکے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو انسان کے اعمال جاننے کے لئے کسی اور کی مدد کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ ہر انسان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات تک سے خوب واقف ہے، اور انسان کی شہہ رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ الترجمۃ مبنیۃ علی ان ”اذ“ ظرف لہ ”اقرب“ کما فی روح المعانی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 248 ایک نظر میں یہ اس سورت کا دوسرا سبق ہے۔ اس میں بھی بعث بعد الموت کی بحث ہے جس طرح پہلے حصے کا موضوع بھی یہی تھا۔ تکذیب کرنے والوں کے سامنے کچھ مزید موثر دلائل رکھے گئے ہیں۔ لیکن یہ دلائل ذرا دھمکی آمیز انداز میں ہیں اور خوفناک مناظر پر مشتمل ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے جس طرح سورت کے آغاز میں تھا۔ پھر سکرات موت کا ذکر ہے ، پھر حساب و کتاب اور ہر کسی کے اعمال نامے کی پیشی کا ذکر ہے اور پھر جہنم کا منہ کھلا ہوگا اور جب بھی اس میں اس کی انسانی خوراک کی کوئی قسط پھینکی جائے گی تو وہ منہ چاٹ کر اور اسے چکھ کر کہے گی۔ ھل من مزید (50 : 30) ” کیا اور بھی ہے “۔ غرض یہ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اس کے ہر قول و فعل سے ہم خبردار ہیں حتی کہ جو وساوس و خطرات اس کے دل میں گزرتے ہیں ان کا بھی ہم کو علم ہے۔ " (اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ۭ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ ) 67 ۔ الملک :14) 3 گردن کی رگ مراد ہے جسے " شہ رگ " کہتے ہیں اور جس کے کٹنے سے انسان مرجاتا ہے۔ شاید یہ کنایہ ہو جان اور روح سے۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم (باعتبار علم کے) اس کی روح اور نفس سے بھی نزدیک تر ہیں۔ یعنی جیسا علم انسان کو اپنے احوال کا ہے ہم کو اس کا علم خود اس سے بھی زیادہ ہے۔ نیز علت اور منشاء کو معلول اور ناشئی کے ساتھ وہ قرب حاصل ہوتا ہے جو معلول اور ناشئی کو خود اپنے نفس سے بھی نہیں ہوتا۔ اس کا کچھ مختصر بیان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 { وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ ج } ”اور ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم خوب جانتے ہیں جو اس کا نفس وسوسے ڈالتا ہے۔“ یہ اس قوت شرکا ذکر ہے جو انسان کے اندر ہے۔ نفس انسانی کے شر کا ذکر سورة یوسف میں یوں آیا ہے : { وَمَـآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْج اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ م بِالسُّوْٓ ئِ اِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّیْط اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ } ”اور میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتا ‘ یقینا انسان کا نفس تو برائی ہی کا حکم دیتا ہے سوائے اس کے جس پر میرا ربّ رحم فرمائے۔ یقینا میرا ربّ بہت بخشنے والا ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ فطری طور پر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 شیطان کا انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑنا :۔ چونکہ ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اس لئے اس کی فطرت کو سب سے زیادہ جاننے والا ہمارے علاوہ اور کون ہوسکتا ہے ہم تو اس کے دل کے خیال اور اس میں پیدا ہونے والے برے خیالوں یا وساوس تک کو بھی جانتے ہیں۔ ویسے یہ وساوس کیونکر پیدا ہوتے ہیں۔ یہ درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے : ام المومنین سیدہ صفیہ ؓ فرماتی ہیں کہ وہ مسجد نبوی میں آپ سے ملنے آئی جبکہ آپ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے جب میں واپس آنے لگی تو آپ میرے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ (تاکہ مجھے گھر تک پہنچا آئیں) جب ہم ام سلمہ ؓ کے دروازہ کے قریب پہنچے تو دو انصاری مرد (اسید بن حضیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ (جو منتہائے ہے کمال قرب کا) انسانی محاورہ میں انتہائے قرب کا کامل ترین تصور یہی ہے کہ اسے رگ جان کے برابر قریب سمجھا جائے۔ آیت کا مضمون ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی بڑھ کر قریب ہے۔ گویا ہر انسان کے تخیل سے بھی قریب تر۔ یہ قرب تکوینی عام ہے نیک وبد۔ بلکہ ہر مخلوق کے لیے۔ قرب مرتبہ البتہ مخصوص ہے مقبولین کیلیے (آیت) ” حب الورید “۔ اس رگ کا نام ہے جو سارے جسم میں خون پہنچاتی ہے۔ استعارۃ مراد عین جان ہے۔ اے من روحہ (راغب) (آیت) ” نحن ....... الورید “۔ اس میں ان جاہل، مشرک قوموں کی ترید آگئی، جو خدائے تعالیٰ کو بندوں سے دور اور بہت دور سمجھے رہتے ہیں۔ (آیت) ” ولقد خلقنا الانسان “۔ اس میں مضمون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–17

ترجمہ : اور ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم اس کے دل میں نفس کے وسوسہ ڈالنے کو بھی جانتے ہیں (نعلم) نحن کی تقدیر کے ساتھ حال ہے، (بہ) میں باء زئادہ ہے یا تعدیہ کے لئے ہے اور (بہ) کی ضمیر انسان کی طرف لوٹ رہی ہے اور ہم انسان کے علم کے اعتبار سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں (حبل الورید) میں اضافت بیانیہ ہے، وریدان گردن کی دونوں طرف دو رگیں ہیں اور جب اخذ کرلیتے ہیں اور لکھ لیتے ہیں دو اخذ کرنے والے اس کے عمل کو دو فرشتے جو انسان پر مقرر ہیں، انسان کے دائیں جانب اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے ہیں (اذ) کا ناصب اذکر مقدر ہے (قعید) بمعنی قاعدان ہے، یہ متبداء ہے اس کا ماقبل اس کی خبر ہے (انسان) کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد خلقنا الانسان و نعلم ما تو سوس بہ نفسہ و نحن اقرب الیہ من حبل الورید . اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے جی میں جو خیالات آتے ہیں ‘ ہم ان کو جانتے ہیں اور اس کے اتنے قریب ہیں کہ اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ۔ مَاتُوَسْوِسُ : وسوسہ کا لغوی معنی ہے پوشیدہ (چپکے کی) آواز۔ اس جگہ مراد ہے دل میں پیدا ہونے والا خیال۔ یعنی ہم نے انسان کو اور ہر چیز کو خواہ جوہر ہو یا عرض اپنے ارادہ اور اختیار سے پیدا کیا اور تخلیق بالارادہ اسی وقت ہوسکتی ہے جب اس سے پہلے اس کا علم ہو (علم کے بغیر ارادے کا کوئی معنی نہیں) ۔ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ : حبل (رسّی) یعنی رگ۔ ورید حبل کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے تمام اولاد آدم کو یا یہ کہ ابو جہل کو پیدا کیا اور اس کے دل میں جو خیالات آتے ہیں ہم ان کو بھی جانتے ہیں سو ہم علم اور قدرت کے اعتبار سے انسان کے اس قدر قریب ہیں کہ اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ کیونکہ اس رنگ میں انسان کو بااعتبار روح کے قریب زائد ہوتا ہے اور اس کے کاٹنے سے انسان مرجاتا ہے اور حبل اور ورید دونوں ایک ہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ولقد خلقنا الانسان ونعلم ماتوسوس بہ نفسہ : وسوسہ کا اصل معنی وہ ہلکی یا دبی ہوئی حرکت یا آواز ہے جو عام طور پر محسوس نہ ہوتی ہو۔ اس سے مراد وہ بات بھی ہوتی ہے جو بالکل آہستہ آواز سے کسی کے کان میں کہی جائے اور صرف اسی کو سنائے دے اور وہ بات بھی جو بغیر آواز کے کسی کے دل میں ڈال دی جائے، جیسے شیطان یا نفس انسان کے دل میں وسوسہ ڈلاتا ہے۔ قیامت کے منکروں کے اس شبہ کا جواب کہ جب ہم مر کر مٹی ہوگئے تو دوبارہ کیسے زندہ کئے جائیں گے، اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ ہم انسان کے مٹی ہوجانے والے ہر ذرے کو جانتے ہیں کہ وہ کہاں ہے، وہ نہ ہمارے علم سے باہر ہے اور نہ ہماری دسترس اور قدرت سے، ہم جب چاہیں گے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 16–19

16 ۔ 19:۔ ولقد خلقنا الانسان، الانسان سے مراد لوگ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ ونعلم ماتوسوس بہ لفسہ یعنی اس کے سر، اس کے دل اور ضمیر میں جو کھٹکتا ہے۔ اس میں ان نافرمانیوں پر جھڑ کا جا رہا ہے جن کو انسان چھپاتا ہے۔ جس نے کہا : انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذات ہے تو نفس نے جو وسوسہ ڈالا تھا وہ درخت سے کھانا تھا۔ پھر ان کی اولاد کے لئے عام ہے۔ وسوسہ سے مراد حدیث نفس ہے جو نفی کلام کے قائم مقام ہوتی ہے۔ اعمش نے کہا : تسمع للحلی و سواسا اذا انصرفت جب وہ واپس جاتی ہے تو تو زیورات کی خفی آواز سنتا ہے۔ سورة الاعراف میں معنی گزر چکا ہے۔ ونحن اقرب الیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان کو بلند ترین مقام عطا فرمایا اور وہ خود اس کی گردن کی رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں اور وہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور وہ ہر جانور کی پیشانی کے بالوں کو پکڑے ہوئے ہے اور وہ ان کے ساتھ ہیں جہاں بھی وہ ہوں۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے جویبر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ضحاک (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' ونحن اقرب الیہ من حبل الورید '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا ابن آدم سے کوئی چیز بھی زیادہ قریب نہیں اس کی گردن کی رگ سے اور اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ انسان کے قریب ہیں۔ 3:۔ ابن جریر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ خَلَقْنَا [ اور یقینا ہم نے (ہی ) پیدا کیا ہے ] الْاِنْسَانَ [ انسان کو ] وَنَعْلَمُ [ اور ہم جانتے ہیں ] مَا [ اس (تک ) کو جو ] تُوَسْوِسُ [ وسوسہ ڈالتا ہے ] بِهٖ [ اس (کے ذھن ) میں ] نَفْسُهٗ ښ [ اس کا نفس ] وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ [ اور ہم زیادہ قریب ہیں اس کے ] مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ [ بہ نسبت (اس کی ) شہ رگ کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ انسان کے وساوس نفسانیہ سے پوری طرح واقف ہے اور انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے یہ چار آیتوں کر ترجمہ ہے پہلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے جی میں جو وسوسے آتے رہتے ہیں (جو بہت ہی زیادہ مخفی چیز ہے) ہم ان سب کو جانتے ہیں، پھر فرمایا کہ انسان کی گردن کی جو رگ ہے ہم انسان سے اس سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ مطلب یہ ہے ہم انسان کے تمام احوال سے باخبر ہیں اس کی کوئی بھی حالت جو پوشیدہ سے پوشیدہ ہو اور اس کی بات جو آہستہ سے بھی آہستہ ہو اس میں سے کچھ بھی ہم پر پوشیدہ نہیں ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت علم کو بیان فرمایا ہے ﴿ حَبْلِ الْوَرِيْدِ 0016﴾ گردن کی رگ کو کہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

کمال قدرت خداوندی از روئے علم واحاطہ باحوال انسانی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد خلقنا الانسان ...... الی ..... وما انا بظلام للعبید “۔ (ربط) ما قبل آیات میں منکرین حشر ونشر کا ذکر تھا اسی کے ساتھ پہلی امتوں کی عبرت ناک تاریخ دہرائی گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں مختلف انواع و اقسام کے عذاب ان پر نازل ہوئے اور ان کو ہلاک کردیا گیا تو اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ومخالفت کرنے والی قوم کفار قریش کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے سزا دنیا چوں کہ دو چیزوں پر موقوف ہے ایک علم پر کہ مجرم کے جرم کا علم ہو دوسرے قدرت پر کہ مجرم کو سزا دینے پر قادر ہو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–18

ٖ 10:۔ ” ولقد خلقنا۔ تا۔ وتقول ھل من مزید “۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ نفسہ کے بعد نحاسبہ مقدر ہے قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ یعنی ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم اس کے دل کے وساوس و خطرات کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہم اس کا محاسبہ کریں گے۔ حبل الورید میں اضافت بیانی ہے اور اس سے مراد رگ حیات ہے جو سر سے شروع ہو کر حلق سے گذرتی ہوئی دل تک پہنچتی ہے۔ ” اذ یتلقی میں اذ، اقرب سے متعلق ہے۔ یعنی جب آدمی کے دائیں بیٹھے ہوئے کراماً کاتبین اس کی باتیں لکھ رہے ہوتے ہیں اس وقت ہم اس کی رگ حیات سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں۔ ” ما یلفظ من قول الخ “ آدمی جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے اسے لکھنے کیلئے ایک نگران ہر وقت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–22

ربط آیات پہلے اللہ نے نبوت و رسالت کے منکرین کا شکوہ کیا ، پھر قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس پر عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ پھر عبرت کے طور پر اللہ نے چند سابقہ اقوام کا حال ذکر کیا کہ انہوں نے نبوت و رسالت اور وقوع قیامت کو جھٹلایا تو ان کا انجام بھی بہت برا ہوا ۔ اللہ کا ڈرانا بر حق ثابت ہوا اور یہ لوگ مبتلائے عذاب ہوئے وقوع قیامت اور بعث بعد الموت کے متعلق فرمایا کہ کیا ہم مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کر کے تھک گئے تھے کہ دوبارہ پیدا کرنا محال ہوجائے گا ؟ اس میں کون سی خلاف عقل اور تعجب انگیز بات ہے ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ۝ 0 ۚ ۖ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ۝ 16 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–19

ترکیب : ونعلم حال مقدرۃ بتقدیرنحن ویجوزان یکون مستانفاً ، والضمیر فی بہ یرجع الی ما ان جعلت موصولۃ والباء زائدۃ کمافی قولہ صوت بکذا اوللتعدیۃ او یرجع الی الانسان ان جعلت مامصدریہ۔ والباء للتعدیۃ۔ والوسوستہ الصوت الخفی والمراد بھاھھنامایتختلج فی قلبہ اذا مقدرباذکر اومتعلق باقرب اوبنعلم قعید فعیل یطلق علی الواحد والمتعدد۔ مبتدء عن الیمین عن الشمال خبرہ۔ بالحق حال او مفعول۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا۔ انسان کے حال سے اب اپنے بےانتہا علم وقدرت پر دلیل لاتا ہے۔ انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اس لیے آسمانوں و زمین کو ایک جگہ اور ان کے مقابلہ میں دوسری جگہ اس کو ذکر کیا۔ اور درحقیقت انسان خدائے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بُہٖ نَفْسُہٗ صلے ج وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ۔ (قٓ: 16) (اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم جانتے ہیں جو وسوسے اس کے جی میں گزرتے ہیں، اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ ) مشرکین کے اشتباہات کو رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے علم سے استدلال قیامت کو تسلیم کرنے کی راہ میں مشرکین کے لیے جو خیالات رکاوٹ بنے ہوئے تھے ان میں سے ایک تو یہ تھا کہ بیشمار انسان مختلف وقتوں میں مرکھپ چکے ہیں اور ان میں سے بیشتر کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں دفن ہوئے اور ان کے جسم کے اجزا کہاں کہاں بکھر گئے۔ اور پھر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے انکار کے پیچھے منکرین قیامت کا ایک تصور یہ بھی ہے کہ اس طرح ہمارے گناہ چھپ جائیں گے انہیں یہ بات باور کروائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ انسان کے دل میں خیالات ابھرتے اور جذبات پائے جاتے ہیں اور وہ انسان کی شہ رگ سے بھی اس کے زیادہ قریب ہے۔ انسان جو کام کرتا ہے اس کے دائیں بائیں ساتھ رہنے والے فرشتے اس کی ہر بات اور کام کو ضبط تحریر میں لائے جاتے ہیں۔ انسان کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکلتا مگر اسے لکھنے والا ہر وقت موجود ہوتا ہے جو اسے رات دن تحریر کرتارہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

علمی قرب کو حبل الورید کی مثال ذکر کیا : آیت 16 : وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ (ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے جی میں جو خیالات آتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں) الوسوسۃ : مخفی آواز اور وسوسۃ النفس جو انسان کے دل میں پیدا ہو اور حدیث نفس میں سے جو خیال اس کے ضمیر میں آئے۔ اس میں باء کا معنی وہی ہے جو صوّت بکذا میں ہے۔ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (اور ہم انسان کے اس قدر قریب ہیں کہ اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ) قرب سے قرب علمی مراد ہے۔ حبل الورید یہ انتہائی قرب کی مثال ہے۔ الورید : گردن کے اندر کی رگ۔ الحبل : رگ ٗ رسی۔ یہ اضافت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔” افعیینا بالخلق الاول “ یعنی ہم عاجز ہوگئے جب ہم نے ان کو پہلے پیدا کیا۔ پھر ہم اعادہ سے تھک جائیں گے اور یہ ان کی تقریر ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے پہلی تخلیق کا اعتراف کیا اور بعث کا انکار کیا اور ہر وہ شخص جو کسی چیز سے عاجز ہوجائے اس کو کہا جاتا ہے ” عیی بہ “…” بل ھم فی لبس “ شک میں ” من خلق جدید “ اور وہ بعث ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–22

16۔ 22۔ اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ انسان کے مرجانے کے بعد جنگل میں دریا میں جہاں کہیں اس کی خاک ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی جگہ کی خاک باہر نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا کہ خاک تو ظاہر آنکھوں سے نظر آتی ہوئی چیز ہے اللہ تعالیٰ کا علم تو ایسا بڑا ہے کہ وہ انسان کے دل کے خطرے تک کو جانتا ہے۔ صحیح مسلم 3 ؎ کی حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ ہر ایک انسان کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات رہتا ہے فرشتہ نیک کام کرنے کا خیال دل میں ڈالتا رہتا ہے اور شیطان بد کام کرنے کا وسوسہ ڈالتا رہتا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس صحیح حدیث کو اس آیت کی تفسیر قرار دیا ہے اور معنی آیت کے یہ کئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–18

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ انسان کی جنس مرد اور عورت کو پیدا کرنے میں وہ تنہا ہے۔ وہ انسان کے تمام احوال کو، جنہیں وہ چھپاتا ہے اور اس کا نفس اسے وسوسے میں مبتلا کرتا ہے، خوب جانتا ہے اور وہ (اقرب الیہ من حبل الورید) ” اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے۔ “ جو انسان کے سب سے زیادہ قریب والی رگ ہے۔ اس سے مراد وہ رگ ہے جس نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے۔ یہ چیز انسان کو اپنے خالق کے مراقبے کی دعوت دیتی ہے، جو اس کے ضمیر اور اس کے باطن سے مطلع ہے اور اس کے تمام احوال میں اس کے قریب رگ ہے۔ اس لئے انسان کو چاہیے کہ ایسے کام کے ارتکاب سے حیا کرے جس کام سے اللہ نے اس کو روکا ہے،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 15–16

[ 19] منکرین کے سبب انکار کی تعیین و تشخیص کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے سبب انکار کی تشخیص کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ دراصل نئی پیدائش کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی نہ تو یہ لوگ ہماری قدرت کا انکار کرسکتے ہیں، اور نہ ہی ان کا انکار کسی اساس و بنیاد پر قائم ہوسکتا ہے، کہ حق و حقیقت کے انکار کی کوئی اسا و بنیاد ہو ہی نہیں سکتی، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ نئی پیدائش کے بارے میں شک میں پڑے ہیں، کہ اس کا کوئی حسی اور ظاہری نمونہ اس کے سامنے موجود نہیں، اس لئے یہ شکوک و شبہات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہ لوگ یہ کہنے کی تو جرات نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–29

آیات 16 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے انسان کو پیدا کیا اس کی ایک ایک صفت اس میں پیدا کی لہذا اس کے دل میں بھی جو خیال گزرتا ہے ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ شہ رگ سے قریب تر ہونا۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مفسرین کرام کے مطابق یہاں قرب علمی مراد ہے کہ بات اس کے احوال اور دل میں گزرنے والے خیالات تک کی ہورہی ہے قرب مسافت مراد نہیں کہ اس کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے مگر تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ احاطہ عملی بھی ہر شے سے ہے اور انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال بلاکیف موجود ہے جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا جس کے دلائل قرآن حدیث میں موجود ہیں اور جس پر مولوی رومی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 شاہ صاحب لکھتے ہیں ” گردن کی رگ مراد ہے جس میں جا نپھرتی ہے دل سے دماغ تک اس کے کٹنے سے موت ہے اللہ اندر سے نزدیک ہے اور رگ آخر باہر سے جان سے (موضح) حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہاں ہم سے مراد فرشتے ہیں۔ (دیکھیے سورة واقعہ آیت 85)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:16) ولقد واؤ عاطفہ۔ لام تاکید کا ۔ قد ماضی کے ساتھ تاکید کے معنی دیتا ہے لقد بلاشبہ، تحقیق ، بےشک۔ ما توسوس بہ نفسہ : ما موصولہ ۔ باقی جملہ اس کا صلہ۔ توسوس مضارع واحد مؤنث غائب۔ وسوسۃ (فعللۃ) مصدر جس کے معنی بری بات کے جہ میں ڈالنے کے ہیں۔ وہ وسوسہ ڈالتی ہے وہ خیال ڈالتی ہے۔ نفسہ مضاف مضاف الیہ اس کا نفس ، ہ ضمیر انسان کی طرف راجع ہے۔ ہم خوب جانتے ہیں اس کا نفس جو وسوسے ڈالتا ہے۔ اقرب الیہ۔ اقرب قرب سے افعل التفضیل کا سیغہ ہے زیادہ قریب ، زیادہ نزدیک۔ الیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب الانسان کے لئے ہے۔ حبل الورید، مضاف مضاف الیہ ۔ حبل بمعنی رسی۔ ورید گردن کی رگ۔ شہ رگ جس میں جان پھرتی ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–29

لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 29 : توسوس (چپکے سے وسوسہ ڈالتا ہے) ‘ حبل الورید (شہہ رگ) ‘ قعید (بیٹھا ہوا) ‘ ما یلفظ ( کوئی لفظ نہیں نکلتا) ‘ رقیب (نگہبان۔ نگرانی کرنے والا) سکرۃ الموت (موت کی بےہوشی) ‘ تحید (کتراتا ہے) ‘ یوم الوعید ( ڈرنے کا دن) ‘ سائق (چلانے والا) ‘ غطائ (پردہ) ‘ حدید (بہت تیز) ‘ قرین (ساتھی) ‘ لدی (میرے پاس) القیا (تم دونوں ڈال دو ) ‘ عنید (ضدی) ‘ مناع ( روکنے والا) ‘ معتد (حد سے آگے بڑھ جانے والا) ‘ مریب (شک و شبہ ڈالنے والا) ‘ اطغیت (میں نے سرکشی کی) ‘ لاتختصموا (تم نہ جھگڑو) ۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 29 : ان آیات میں موت اور قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–19

(ف 1) اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا، کہ انسان کے مرجانے کے بعد جنگل میں ، دریا میں، جہاں کہیں اس کی خاک ہوگی، اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی جگہ کی خاک باہر نہیں ہے، ان آیتوں میں فرمایا کہ خاک تو ظاہر آنکھوں سے نظر آتی ہوئی چیز ہے، اللہ تعالیٰ کا علم تو ایسا بڑا ہے کہ وہ انسان کے دل کے خطرہ تک کو چاہتا ہے ، اللہ کا علم اس کی قدرت آدمی کو گھیرے ہوئے ہے ہر ہر ذرہ میں آدمی کے ہر رونگٹے میں جلوہ گر ہے پھر اس سے بھاگ کر آدمی کہاں جائے گا، آگے فرمایا کہ بندہ خدا کو دور جانتا ہے خیال کرتا ہے کہ اس کی بری باتوں کو کون دیکھے گا کون پرسش کرے گا، حالانکہ خدا کے دو موکل فرشتے ہر دم ساتھ ہیں، وہ جو کام کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–18

[3] مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الٰہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا۔ یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت و قصد بھی اس کا رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–21

اس وقت آنکھیں کھلیں گی ؟ 1: دلائل کی قسموں میں سے ایک قسم یہ ہے ۔ کہ مدلول کو اس طرح ممثل اور واضح کرکے پیش کیا جائے ۔ کہ اس کے سب امکانات خود بخود روشن ہوجائیں قرآن حکیم نے اثبات دعویٰ کے لئے اکثر اس نوع کے دلائل سے کام لیا ہے اس کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ سننے والا کم ازکم نفیس واقعہ کی ضروری تفصیلات سے آگاہ ہوجاتا ہے اور اس کو معلوم ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کو پیش کرنے والا اس کا کامل مرقع اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے ۔ اور وہ ایسی چیز کی طرف دعوت نہیں دے رہا ہے ۔ کہ جس کو وہ خود پوری طرح نہ سمجھتا ہو ۔ پھر بعض طبائع جن میں قبولیت کی صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں ۔ وہ اس عبرت آفرین توضح وتشریح کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) اور انسان کو یقینا ہم نے بنایا ہے اور اس کے دل میں جو خیالات آتے ہیں اور جو باتیں اس کے جی میں آتی ہیں اور جو چیزیں اس کا نفس خاطر میں لاتا ہے ان کو ہم جانتے ہیں اور ہم انسان سے اس کی شہ رگ سے اور اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ درید اگرچہ وہ رگ ہے جس کے قطع ہوجانے سے انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے علم کے اعتبار سے ہر انسان کی روح اور اس کے نفس سے بھی زیادہ قریب ہیں فقہ میں جن عروق کا ذکر آتا ہے اور ذبح کی شرط کہاجاتا ہے وہ حلقوم مری اور دو جان ہیں ان عروق کی اکثریت کا کٹ جانا ذبیحہ کو حلال کردیتا ہے لیکن یہاں رگ جان سے شریان سمجھنا چاہیے۔ حضرت شاہ صاحب (رح)…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

ف 2۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم باعتبار علم کے اس کی روح اور نفس سے بھی نزدیک تر ہیں، یعنی جیسا علم انسان کو اپنے احوال کا ہے ہم کو اس کا علم خود اس سے بھی زیادہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم ہی نے تو انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اس کے وساوس سے بھی اچھی طرح واقف ہیں 16 ۔ انسان کیا ہے ؟ ہماری تخلیق ہی تو ہے یعنی ہم نے اس کو پیدا کیا انسان اول آدم (علیہ السلام) کو بھی اور اس کی نسل کو بھی پھر کیا ہم اس کی حقیقت کو نہیں جانتے کہ وہ کیا چیز ہے ؟ نہیں نہیں ہم تو اس کے دل کے رازوں اور دماغ کے احساسوں سے بھی واقف ہیں اور اس کے اندر جو تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں اور وہ اپنے کیے کو بھول جاتا ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ بھول سکتا ہے اور اس کے نفس کے کتنے ہی گوشے ہیں جو اس کی اپنی نگاہ سے بھی اوجھل رہ سکتے ہیں لیکن ہمارا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Linkage The preceding verses purported to quell the doubt of those who denied the possibility of Resurrection and who thought that raising the dead was inconceivable. As a result, the unbelievers drew a false analogy between their finite knowledge and power and the infinite knowledge and power of Allah. Therefore, the perplexity arose in their mind: 'after we die, disintegrate, with our organs torn apart, our bodies reduced to particles of dust and scattered or spread all over the world, how is it possible to gather them together and recompose them back into our original shape and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

19 After presenting the arguments for the Hereafter, it is being stated: `Whether you believe in the Hereafter, or deny it, it has to come in any case, and it is such a factual reality, which will certainly come about in spite of your denial. If you heed the warning given by the Prophets in advance and prepare for it, you will be doing good to yourselves; if you do not believe in it, you will be inviting your own doom. Your denial will not prevent the Hereafter from taking place and God' s Law of justice will not became suspended. " 20 That is, "Our power and Our knowledge has so encompassed…

Read the full tafseer →