Explained with ayahs 16–22
دائیں اور بائیں دو فرشتے
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہی انسان کا خالق ہے اور اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے یہاں تک کہ انسان کے دل میں جو بھلے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں انہیں بھی وہ جانتا ہے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل میں جو خیالات آئیں ان سے درگذر فرما لیا ہے جب تک کہ وہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ کریں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں یعنی ہمارے فرشتے اور بعض نے کہا ہے ہمارا علم ان کی غرض یہ ہے کہ کہیں حلول اور اتحاد نہ لازم آجائے جو بالاجماع اس رب کی مقدس ذات سے بعید ہے اور وہ اس سے بالکل پاک ہے لیکن لفظ کا اقتضاء یہ نہیں ہے اس لئے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة قٓ 19
آخرت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم چاہے اس آخرت کو مانو یا اس کا انکار کرو، بہرحال اس کو آنا ہے اور یہ ایک ایسا امر واقعہ ہے جو تمہارے انکار کے باوجود پیش آکر رہے گا۔ انبیاء کی پیشگی تنبیہ کو مان کر اس وقت کے لیے پہلے سے تیاری کرلو گے تو اپنا بھلا کرو گے۔ نہ مانو گے تو خود ہی اپنی شامت بلاؤ گے۔ تمہارے نہ ماننے سے آخرت آتے آتے رک نہیں جائے گی اور خدا کا قانون عدل معطل نہ ہوجائے گا۔
سورة قٓ 20
یعنی ہماری قدرت اور ہمارے علم نے انسان کا اندر اور باہر سے اس طرح گھیر رکھا ہے کہ اس کی رگ گردن بھی اس سے اتنی قریب نہیں ہے جتنا ہمارا علم اور ہماری قدرت اس سے قریب…
Read the full tafseer →ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے
(آیت) اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ ، تلقی کے لغوی معنی اخذ کرنے لے لینے اور حاصل کرلینے کے آتے ہیں (آیت) فتلقی آدم من ربہ کلمت ”یعنی لے لئے اور حاصل کر لئے آدم ؑ نے اپنے رب سے چند کلمات“ اس آیت میں متلقیان سے مراد وہ دو فرشتے ہیں جو ہر انسان کے ساتھ اس کے اعمال لکھنے کے لئے ہر وقت اس کے ساتھ رہتے ہیں اور اس کے اعمال کو اپنے صحیفوں میں لکھتے رہتے ہیں، عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ ”یعنی ان میں ایک اس کے داہنی طرف رہتا ہے (جو اس کے اعمال صالحہ کو لکھتا ہے) دوسرا اس کے بائیں جانب (جو اس کی سیئات کو لکھتا ہے) قعید بمعنی القاعدہ ہے مفرد و جمع دونوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
اذیتلقی الستلقٰین عن الیمین وعن الشمال قیعد، مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (18-17)
لوگوں کے اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھنے کے لئے مزید اہتمام
عن الیمین وعن الشمال تعید میں تالف کلام یوں ہے، عن الیمین قعیلا وعن الشمال قعید (ایک داہنے بیٹھا ہوا، دوسرا بائیں بیٹھا ہوا) عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق بتقاضیء ایجاز ایک جگہ لفظ قعید، محذوف ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
یہ اس مزید اہتمام کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اقوال و اعمال کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لئے کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اول تو بذات خود ہر شخص کے وساوس و خطرات قلب تک سے اچھی طرح باخبر ہے، مزید برآں اس نے اتمام حجت کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
1 6 ۔ 1 یعنی انسان جو کچھ چھپاتا اور دل میں مستور رکھتا ہے وہ سب ہم جانتے ہیں وسوسہ دل میں گزرنے والے خیالات کو کہا جاتا ہے جس کا علم اس انسان کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا لیکن اللہ ان وسوسوں کو بھی جانتا ہے اسی لیے حدیث میں آتا ہے اللہ تعالیٰ نے میری امت سے دل میں گزرنے والے خیالات کو معاف فرما دیا ہے یعنی ان پر گرفت نہیں فرمائے گا جب تک وہ زبان سے ان کا اظہار یا ان پر عمل نہ کرے۔ البخاری کتاب الایمان۔
16۔ 1 ورید شہ رگ یا رگ جان کو کہا جاتا ہے جس کے کٹنے سے موت واقع ہوجاتی ہے یہ رگ حلق کے ایک کنارے سے انسان کے کندھے تک ہوتی ہے ہم انسان کے بالکل بلکہ اتنے قریب ہیں کہ اس کے نفس کی باتوں کو بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
6: یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کے تمام اچھے برے کاموں کو ریکارڈ کرنے کے لئے دو فرشتے مقرر فرمارکھے ہیں جوہر وقت اسکے دائیں اور بائیں موجود ہوتے ہیں، لیکن یہ انتظام صرف اس لئے کیا گیا ہے تاکہ انسان کے اعمال نامے کو قیامت کے دن خود اس کے سامنے حجت کے طور پر پیش کیا جاسکے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو انسان کے اعمال جاننے کے لئے کسی اور کی مدد کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ ہر انسان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات تک سے خوب واقف ہے، اور انسان کی شہہ رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ الترجمۃ مبنیۃ علی ان ”اذ“ ظرف لہ ”اقرب“ کما فی روح المعانی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
اذ یتلقی المتلقین عن الیمین وعن الشمال قعید (50 : 17) ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (50 : 18) ” دو کاتب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہیں۔ ہر چیز ثبت کر رہے ہیں ۔ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لئے ایک حاضر باش نگران موجود نہ ہو “ ۔ یعنی جو نگران ہے وہ حاضر باش ہے۔ یعنی عتید رقیب کی صفت ہے۔ یہ مفہوم نہیں ہے جس طرح ذہن میں آتا ہے کہ دو نگرانوں میں سے ایک کا نام رقیب ہے اور دوسرے کا عتید ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کس طرح ریکارڈ کرتے ہیں ؟ اس سلسلے میں انسان کو اپنے تخیلات پیش نہ کرنا چاہئے ۔ یہ غیبی امور ہیں اور ان کو اسی طرح قبول کرنا چاہئے جس طرح قرآن میں مذکور ہیں۔ مفہوم پر…
Read the full tafseer →4 یعنی دو فرشتے خدا کے حکم سے ہر وقت اس کی تاک میں لگے رہتے ہیں جو لفظ اس کے منہ سے نکلے وہ لکھ لیتے ہیں۔ نیکی داہنے والا، اور بدی بائیں والا۔
Read the full tafseer →آیت 17{ اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ۔ } ”جبکہ لیتے جاتے ہیں دو لینے والے جو دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہوتے ہیں۔“
یعنی اللہ تعالیٰ خود بھی ہر جگہ ‘ ہر آن موجود ہے۔ اس کے علاوہ اس نے ہر انسان کے دائیں بائیں دو فرشتے بھی مقرر کر رکھے ہیں جو اس کے ہر فعل اور عمل کو ریکارڈ کر رہے ہیں۔ سورة الانفطار ‘ آیت 11 میں ان فرشتوں کو ’ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ ‘ کا نام دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →20 کراماً کاتبین کا ریکارڈ رکھنا :۔ ان میں سے ایک نیکی اور بھلائی کے اقوال و افعال ریکارڈ کر رہا ہے اور دوسرا جو بائیں طرف ہے وہ بدی کو ریکارڈ کر رہا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ فرشتے قلم اور دوات لے کر ہر بات کو قلمبند کر رہے ہوں۔ بلکہ اس کے اور بھی کئی طریقے ممکن ہیں۔ آج کا انسان ویڈیو کیسٹ تیار کرچکا ہے۔ جس کے ذریعہ انسان کے اقوال و افعال حرکات و سکنات، تصویر، لب و لہجہ غرض ہر چیز ایسی ریکارڈ ہوتی ہے کہ اصل اور نقل میں ذرہ بھر فرق نہیں رہتا اور اللہ کے فرشتوں کے وسائل تو انسان کے وسائل سے بہت زیادہ ہیں۔ عین ممکن ہے کہ انسان کے اپنے بدن پر، اس کے اعضاء پر، قرب و جوار کے مقامات پر اور فضا کے…
Read the full tafseer →12۔ حدیث میں آتا ہے کہ دو فرشتے ہر وقت اور ہر حال میں انسان کے ساتھ رہتے اور اس کے ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل کو نیک ہو یا بد، دیکھتے رہتے ہیں، اور کسی حال میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے، یہاں تک کہ انسان کی ناپاکی وغیرہ کے اوقات میں جس سے فرشتے طبعی انقیاض کی بناء پر اس سے جسما الگ بھی ہوجاتے ہیں، ان اوقات میں انسان جو کچھ عمل کرتا رہتا ہے اس کی علامتیں کچھ ایسی اس پر نقش ہوجاتی ہیں کہ فرشتے انہیں کو پڑھ کر انہیں اپنے رجسٹر میں درج کرلیتے ہیں۔ (آیت) ” عن الیمین وعن الشمال “۔ داہنی طرف کا فرشتہ نیکی کے اعمال لکھتا رہتا ہے اور بائیں طرف کا بدی کے اعمال۔ (آیت) ” قعید “۔ یعنی بیٹھے رہنے والے یہ انسانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ترجمہ : اور ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم اس کے دل میں نفس کے وسوسہ ڈالنے کو بھی جانتے ہیں (نعلم) نحن کی تقدیر کے ساتھ حال ہے، (بہ) میں باء زئادہ ہے یا تعدیہ کے لئے ہے اور (بہ) کی ضمیر انسان کی طرف لوٹ رہی ہے اور ہم انسان کے علم کے اعتبار سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں (حبل الورید) میں اضافت بیانیہ ہے، وریدان گردن کی دونوں طرف دو رگیں ہیں اور جب اخذ کرلیتے ہیں اور لکھ لیتے ہیں دو اخذ کرنے والے اس کے عمل کو دو فرشتے جو انسان پر مقرر ہیں، انسان کے دائیں جانب اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے ہیں (اذ) کا ناصب اذکر مقدر ہے (قعید) بمعنی قاعدان ہے، یہ متبداء ہے اس کا ماقبل اس کی خبر ہے (انسان) کوئی…
Read the full tafseer →اذ یتلقی المتلقین عن الیمین و عن الشمال قعید
اور جب (آدمی کے قول و عمل کو) یا لینے والے دونوں (فرشتے اس کے قول و عمل کو) لے لیتے ہیں جو کہ دائیں اور بائیں (دونوں طرف) بیٹھے رہتے ہیں
اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلّقِّیٰنِ : جب دو لینے والے دو فرشے جو انسان پر مقرر ہیں ‘ آدمی کے عمل و قول کو لے لیتے ہیں۔ یَتَلَقَّی کا مفعول محذوف ہے۔ یعنی آدمی کے قول و عمل کو لے لیتے ہیں اور حفاظت کے ساتھ اس کو لکھ لیتے ہیں۔
عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ : جار مجرور کا تعلق قعید سے ہے اور قعید المتلقیان سے بدل ہے اور عن الیمین کے بعد قعید محذوف ہے یعنی دائیں طرف ایک بیٹھا رہتا ہے اور بائیں طرف ایک…
Read the full tafseer →جب دو اخذ کرنے والے فرشتے انسان کے اعمال کو جو اس سے صادر ہوتے ہیں لکھتے رہتے ہیں جو اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(1) اذ یتلقی الم تلقین عن الیمین :”تلقی یتلقی“ (تفعل) لینا، استقبال کرنا۔”یتلقی“ اور ”الم تلقین“ کا مفعول محذوف ہے :”ای جمیع اقوالہ وافعالہ“”اذا“ پچھلی آیت میں ”اقرب“ کا ظرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان کے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے دو فرشتے اس کے ہر قول و فعل کو لے کر لکھ رہے ہوتے ہیں تو اس وقت ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں اور اس کے دل میں آنے والے وسوسے اور سینے کے راز بھی خوب جانتے ہوتے ہیں۔
(2)”قعید“ بمعنی ”مقاعد“ ہے، جیسے ”جلیس“ بمعنی ”مجالس“ ہے۔ یعنی وہ انسان کے ساتھ لازم رہتے ہیں۔ (قعید“ (ساتھ بیٹھے ہوئے) کا لفظ ان کے بیدار اور ہشیار رہنے کی کیفیت کے بیان کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
16 ۔ 19:۔ ولقد خلقنا الانسان، الانسان سے مراد لوگ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ ونعلم ماتوسوس بہ لفسہ یعنی اس کے سر، اس کے دل اور ضمیر میں جو کھٹکتا ہے۔ اس میں ان نافرمانیوں پر جھڑ کا جا رہا ہے جن کو انسان چھپاتا ہے۔ جس نے کہا : انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذات ہے تو نفس نے جو وسوسہ ڈالا تھا وہ درخت سے کھانا تھا۔ پھر ان کی اولاد کے لئے عام ہے۔ وسوسہ سے مراد حدیث نفس ہے جو نفی کلام کے قائم مقام ہوتی ہے۔ اعمش نے کہا : تسمع للحلی و سواسا اذا انصرفت جب وہ واپس جاتی ہے تو تو زیورات کی خفی آواز سنتا ہے۔ سورة الاعراف میں معنی گزر چکا ہے۔
ونحن اقرب الیہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اذ یتلقی المتلقین '' (جب لینے والے دونوں فرشتے اس کے قول وعمل کو) لے لیتے ہیں یعنی ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں ایک فرشتہ اس کی داہنی طرف اور دوسرا بائیں طرف ہوتا ہے جو اس کے داہنی طرف ہوتا ہے وہ نیکیاں لکھتا ہے اور جو اس کے بائیں طرف ہوتا ہے وہ برائیاں لکھتا ہے۔
2:۔ ابونعیم والدیلمی (رح) نے معاذ بن جبل ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ دو حفاظت کرنے والے فرشتوں کو بہت لطیف بناتا ہے یہاں تک کہ اس نے ان دونوں کو دو داڑھوں پر بٹھا دیا ہے اور انسان کی زبان کو ان کی قلمیں اور اس کے لعاب کو ان کی روشنائی بنادیا ہے۔
3:۔ ابونعیم نے…
Read the full tafseer →اِذْ يَتَلَقَّى [ جب لے لیتے ہیں ] الْمُتَلَقِّيٰنِ [ دو لینے والے ] عَنِ الْيَمِيْنِ [ دائیں طرف سے ] وَعَنِ الشِّمَالِ [ اور بائیں طرف سے ] قَعِيْدٌ [ (وہ دونوں) ہمیشہ نگران ہیں ]
ترکیب (آیت ۔ 17) یتلقی مادہ ” ل ق ی “ سے باب تفعل کا مضارع ہے اور اس سے پہلے اذ آیا ہے اس لیے قاعدے کے لحاظ سے اس کا ترجمہ ماضی میں ہونا چاہیے تھا (دیکھیں آیت 2:11، نوٹ ۔ 1) لیکن یہاں پر آفاقی صداقت کا بیان ہورہا ہے ۔ اس لیے اس کا ترجمہ حال میں کیا جائے گا ۔ قعید کی رفع بتارہی ہے کہ یہ حال نہیں ہوسکتا بلکہ یہ خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھما محذوف ہے۔ ھما کی ضمیر الم تلقین کے لیے ہے اور چونکہ قعید مذکر مؤنث ، واحد جمع ،…
Read the full tafseer →انسانوں پر اعمال لکھنے والے فرشتے مقرر ہیں :
دوسری آیت میں اعمال نامے لکھنے والے فرشتوں کا تذکرہ فرمایا اور اس میں یہ بتایا کہ انسان کی طبیعت اور احوال کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ہی اس علم کے ساتھ ساتھ اس نے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے بھی مقرر فرما رکھے ہیں جو انسان کے اعمال کو لکھتے ہیں جیسے ہی کوئی بات کرتا ہے یا کوئی عمل کرتا ہے اسے لے کر فرشتے لکھ لیتے ہیں ایک فرشتہ دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے۔
سورة الانفطار میں فرمایا ہے ﴿وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَۙ0010 كِرَامًا كَاتِبِيْنَۙ0011 يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ 0012 ﴾ (اور تمہارے اوپر یاد رکھنے والے معزز لکھنے والے مقرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
کمال قدرت خداوندی از روئے علم واحاطہ باحوال انسانی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد خلقنا الانسان ...... الی ..... وما انا بظلام للعبید “۔
(ربط) ما قبل آیات میں منکرین حشر ونشر کا ذکر تھا اسی کے ساتھ پہلی امتوں کی عبرت ناک تاریخ دہرائی گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں مختلف انواع و اقسام کے عذاب ان پر نازل ہوئے اور ان کو ہلاک کردیا گیا تو اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ومخالفت کرنے والی قوم کفار قریش کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے سزا دنیا چوں کہ دو چیزوں پر موقوف ہے ایک علم پر کہ مجرم کے جرم کا علم ہو دوسرے قدرت پر کہ مجرم کو سزا دینے پر قادر ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ٖ 10:۔ ” ولقد خلقنا۔ تا۔ وتقول ھل من مزید “۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ نفسہ کے بعد نحاسبہ مقدر ہے قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ یعنی ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم اس کے دل کے وساوس و خطرات کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہم اس کا محاسبہ کریں گے۔ حبل الورید میں اضافت بیانی ہے اور اس سے مراد رگ حیات ہے جو سر سے شروع ہو کر حلق سے گذرتی ہوئی دل تک پہنچتی ہے۔ ” اذ یتلقی میں اذ، اقرب سے متعلق ہے۔ یعنی جب آدمی کے دائیں بیٹھے ہوئے کراماً کاتبین اس کی باتیں لکھ رہے ہوتے ہیں اس وقت ہم اس کی رگ حیات سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں۔ ” ما یلفظ من قول الخ “ آدمی جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے اسے لکھنے کیلئے ایک نگران ہر وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
ربط آیات
پہلے اللہ نے نبوت و رسالت کے منکرین کا شکوہ کیا ، پھر قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس پر عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ پھر عبرت کے طور پر اللہ نے چند سابقہ اقوام کا حال ذکر کیا کہ انہوں نے نبوت و رسالت اور وقوع قیامت کو جھٹلایا تو ان کا انجام بھی بہت برا ہوا ۔ اللہ کا ڈرانا بر حق ثابت ہوا اور یہ لوگ مبتلائے عذاب ہوئے وقوع قیامت اور بعث بعد الموت کے متعلق فرمایا کہ کیا ہم مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کر کے تھک گئے تھے کہ دوبارہ پیدا کرنا محال ہوجائے گا ؟ اس میں کون سی خلاف عقل اور تعجب انگیز بات ہے ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ دوبارہ…
Read the full tafseer →اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ 17
( لقی) تلقی
السّماحة منه والنّدى خلقاویقال : لَقِيتُه بکذا : إذا استقبلته به، قال تعالی: وَيُلَقَّوْنَ فِيها تَحِيَّةً وَسَلاماً [ الفرقان/ 75] ، وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11] . وتَلَقَّاهُ كذا، أي : لقيه . قال : وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ [ الأنبیاء/ 103] ، وقال : وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ [ النمل/ 6]
وتلقی السماحۃ منہ والندیٰ خلقا سخاوت اور بخشش کرنا اس کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہے ۔ لقیت بکذا ۔ میں فلاں چیز کے ساتھ اس کے سامنے پہنچا۔ قرآن میں ہے : وَيُلَقَّوْنَ فِيها تَحِيَّةً وَسَلاماً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ترکیب : ونعلم حال مقدرۃ بتقدیرنحن ویجوزان یکون مستانفاً ، والضمیر فی بہ یرجع الی ما ان جعلت موصولۃ والباء زائدۃ کمافی قولہ صوت بکذا اوللتعدیۃ او یرجع الی الانسان ان جعلت مامصدریہ۔ والباء للتعدیۃ۔ والوسوستہ الصوت الخفی والمراد بھاھھنامایتختلج فی قلبہ اذا مقدرباذکر اومتعلق باقرب اوبنعلم قعید فعیل یطلق علی الواحد والمتعدد۔ مبتدء عن الیمین عن الشمال خبرہ۔ بالحق حال او مفعول۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا۔ انسان کے حال سے اب اپنے بےانتہا علم وقدرت پر دلیل لاتا ہے۔ انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اس لیے آسمانوں و زمین کو ایک جگہ اور ان کے مقابلہ میں دوسری جگہ اس کو ذکر کیا۔ اور درحقیقت انسان خدائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ۔ مَایَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلاَّ لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ۔ (قٓ: 17، 18)
(جبکہ دو اخذ کرنے والے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے اخذ کرتے رہتے ہیں۔ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہوتا ہے۔ )
لوگوں کے اعمال و اقوال کو ریکارڈ رکھنے کا اہتمام
یوں تو اللہ تعالیٰ کا اپنا علم تمام انسانوں کے اقوال و افعال کا ریکارڈ رکھنے کے لیے سب سے مستند ذریعہ ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ دنیا کے عدالتی طریق کار کی طرح جس کا انسان عادی ہے یہ اہتمام بھی کیا کہ کوئی شخص بھی جب کوئی عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے انکار کے پیچھے منکرین قیامت کا ایک تصور یہ بھی ہے کہ اس طرح ہمارے گناہ چھپ جائیں گے انہیں یہ بات باور کروائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ انسان کے دل میں خیالات ابھرتے اور جذبات پائے جاتے ہیں اور وہ انسان کی شہ رگ سے بھی اس کے زیادہ قریب ہے۔ انسان جو کام کرتا ہے اس کے دائیں بائیں ساتھ رہنے والے فرشتے اس کی ہر بات اور کام کو ضبط تحریر میں لائے جاتے ہیں۔ انسان کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکلتا مگر اسے لکھنے والا ہر وقت موجود ہوتا ہے جو اسے رات دن تحریر کرتارہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →آیت 17 : اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیٰنِ (جب (قول وعمل کو) لینے والے فرشتے لیتے رہتے ہیں) متلقیان سے محافظ فرشتے مراد ہیں۔
عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ (جو کہ دا ہنی اور بائیں طرف بیٹھے رہتے ہیں) التلقی : حفظ و کتابت سے اس کو اخذ کرنا۔ القعید اور المقاعد یہ الجلیس بمعنی مجالس کے آتا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ عن الیمین قعید وعن الشمال قعید من المتلقیٰن۔ تو ایک کا ذکر چھوڑ دیا کیونکہ دوسرے کی دلالت اس پر موجود ہے۔ جیسا شاعر کے اس قول میں۔ رمانی بامرکنت منہ و والدی۔ بریئًا ومن اجل الطوی رمانی۔ تو اصل کلام میں رمانی بامر کنت منہ بریئًا وکان والدی بریئًا مگر بری کا لفظ ایک مرتبہ…
Read the full tafseer →16 ۔” ولقد خلقنا الانسان ونعلم ماتوسوس بہ نفسہ “ جو اس کے دل میں خیال آتا ہے۔ پس ہم پر اس کے دل کی پوشیدہ باتیں بھی مخفی نہیں ہیں۔ ” ونحن اقرب الیہ “ اس کو زیادہ جاننے والے ہیں۔ ” من حبل الورید “ اس لئے کہ اس کے اجزاء ایک دوسرے کو چھپائے ہوئے ہیں اور اللہ کے علم کو کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی اور حبل الورید گردن کی رگ اور یہ حلقوم اور علبارین کے درمیان ہوتی ہے سارے بدن میں پھیلی ہوئی ہوتی ہے اور حبل وہی ورید ہے پس اس کی اپنی طرف اضافت کی گئی ہے دونوں لفظوں کے اختلاف کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
16۔ 22۔ اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ انسان کے مرجانے کے بعد جنگل میں دریا میں جہاں کہیں اس کی خاک ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی جگہ کی خاک باہر نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا کہ خاک تو ظاہر آنکھوں سے نظر آتی ہوئی چیز ہے اللہ تعالیٰ کا علم تو ایسا بڑا ہے کہ وہ انسان کے دل کے خطرے تک کو جانتا ہے۔ صحیح مسلم 3 ؎ کی حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ ہر ایک انسان کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات رہتا ہے فرشتہ نیک کام کرنے کا خیال دل میں ڈالتا رہتا ہے اور شیطان بد کام کرنے کا وسوسہ ڈالتا رہتا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس صحیح حدیث کو اس آیت کی تفسیر قرار دیا ہے اور معنی آیت کے یہ کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ انسان کی جنس مرد اور عورت کو پیدا کرنے میں وہ تنہا ہے۔ وہ انسان کے تمام احوال کو، جنہیں وہ چھپاتا ہے اور اس کا نفس اسے وسوسے میں مبتلا کرتا ہے، خوب جانتا ہے اور وہ (اقرب الیہ من حبل الورید) ” اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے۔ “ جو انسان کے سب سے زیادہ قریب والی رگ ہے۔ اس سے مراد وہ رگ ہے جس نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے۔ یہ چیز انسان کو اپنے خالق کے مراقبے کی دعوت دیتی ہے، جو اس کے ضمیر اور اس کے باطن سے مطلع ہے اور اس کے تمام احوال میں اس کے قریب رگ ہے۔ اس لئے انسان کو چاہیے کہ ایسے کام کے ارتکاب سے حیا کرے جس کام سے اللہ نے اس کو روکا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
[ 23] نگران فرشتوں کے بارے میں تنبیہ و آگہی :
سو اس سے نگرانی کرنے اور ریکارڈ تیار کرنے والے فرشتوں کے بارے میں تنبیہ و آگہی فرما دی گئی۔ سو ریکارڈ تیار کرنے والے ان دو فرشتوں کی موجودگی کے بارے میں آگہی بخشے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے ایک اس کے دائیں بیٹھا ہوتا ہے اور دوسرا اس کے بائیں۔ یعنی دائیں اور بائیں جانب کے دو فرشتے جن میں سے دائیں طرف والا فرشتہ نیکیاں لکھنے پر مامور ہوتا ہے، اور بائیں طرف والا اس کی برائیوں کو قلم بند کرنے کے لئے، [ روح، خازن، مدارک وغیرہ ] اور پھر کرم بالائے کرم ملاحظہ ہو کہ حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دائیں طرف والا فرشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
آیات 16 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے انسان کو پیدا کیا اس کی ایک ایک صفت اس میں پیدا کی لہذا اس کے دل میں بھی جو خیال گزرتا ہے ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔
شہ رگ سے قریب تر ہونا۔
اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مفسرین کرام کے مطابق یہاں قرب علمی مراد ہے کہ بات اس کے احوال اور دل میں گزرنے والے خیالات تک کی ہورہی ہے قرب مسافت مراد نہیں کہ اس کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے مگر تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ احاطہ عملی بھی ہر شے سے ہے اور انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال بلاکیف موجود ہے جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا جس کے دلائل قرآن حدیث میں موجود ہیں اور جس پر مولوی رومی…
Read the full tafseer →ف 2 مراد کرام کا تبین فرشتے ہیں جن میں سے دائیں طرف والا فرشتہ نیکیاں اور بائیں طرف والا برائیاں لکھتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ بندے کے تمام اعمال کے ریکارڈ رکھنے کا اہتمام اتمام حجت کے لئے ہے کہ قیامت کے دن انسان اپنے کسی عمل سے مکر نہ سکے
Read the full tafseer →(50:17) اذ یتلقی الم تلقین عن الیمین وعن الشمال قعید۔ اذ سے قبل فعل اذکر محذوف ہے۔ یعنی یاد کرو جب۔ (یا اذکر الامر اذ اس امر کو (بات) کو یاد کرو جب) یتلقی مضارع واحد مذکر غائب تلقی تفعل مصدر بمعنی ملاقات کرنا سامنے سے کسی چیز کو لے لینا۔ پالینا۔ یہاں لے لینے یا پالینے سے مراد لکھ کر کسی چیز کو لے لینا ۔ یا محفوظ کرلینا ہے۔ اسی سے المتلقیان اسم فاعل تثنیہ۔ وہ (لکھ کر) پالینے والے۔ مراد وہ دو فرشتے جو انسان کے دائیں بائیں تعینات ہیں اس کے اقوال و افعال کو لکھنے کے لئے۔
علامہ پانی پتی اس آیت کی ترکیب میں فرماتے ہیں کہ :۔
اذ یتلقی المتلقیان۔ جب لینے والے دو فرشتے جو انسان پر مقرر ہیں انسان کے عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 29 :
توسوس (چپکے سے وسوسہ ڈالتا ہے) ‘ حبل الورید (شہہ رگ) ‘ قعید (بیٹھا ہوا) ‘ ما یلفظ ( کوئی لفظ نہیں نکلتا) ‘ رقیب (نگہبان۔ نگرانی کرنے والا) سکرۃ الموت (موت کی بےہوشی) ‘ تحید (کتراتا ہے) ‘ یوم الوعید ( ڈرنے کا دن) ‘ سائق (چلانے والا) ‘ غطائ (پردہ) ‘ حدید (بہت تیز) ‘ قرین (ساتھی) ‘ لدی (میرے پاس) القیا (تم دونوں ڈال دو ) ‘ عنید (ضدی) ‘ مناع ( روکنے والا) ‘ معتد (حد سے آگے بڑھ جانے والا) ‘ مریب (شک و شبہ ڈالنے والا) ‘ اطغیت (میں نے سرکشی کی) ‘ لاتختصموا (تم نہ جھگڑو) ۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 29 :
ان آیات میں موت اور قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا، کہ انسان کے مرجانے کے بعد جنگل میں ، دریا میں، جہاں کہیں اس کی خاک ہوگی، اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی جگہ کی خاک باہر نہیں ہے، ان آیتوں میں فرمایا کہ خاک تو ظاہر آنکھوں سے نظر آتی ہوئی چیز ہے، اللہ تعالیٰ کا علم تو ایسا بڑا ہے کہ وہ انسان کے دل کے خطرہ تک کو چاہتا ہے ، اللہ کا علم اس کی قدرت آدمی کو گھیرے ہوئے ہے ہر ہر ذرہ میں آدمی کے ہر رونگٹے میں جلوہ گر ہے پھر اس سے بھاگ کر آدمی کہاں جائے گا، آگے فرمایا کہ بندہ خدا کو دور جانتا ہے خیال کرتا ہے کہ اس کی بری باتوں کو کون دیکھے گا کون پرسش کرے گا، حالانکہ خدا کے دو موکل فرشتے ہر دم ساتھ ہیں، وہ جو کام کرتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
[3] مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الٰہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا۔ یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت و قصد بھی اس کا رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
اس وقت آنکھیں کھلیں گی ؟
1: دلائل کی قسموں میں سے ایک قسم یہ ہے ۔ کہ مدلول کو اس طرح ممثل اور واضح کرکے پیش کیا جائے ۔ کہ اس کے سب امکانات خود بخود روشن ہوجائیں قرآن حکیم نے اثبات دعویٰ کے لئے اکثر اس نوع کے دلائل سے کام لیا ہے اس کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ سننے والا کم ازکم نفیس واقعہ کی ضروری تفصیلات سے آگاہ ہوجاتا ہے اور اس کو معلوم ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کو پیش کرنے والا اس کا کامل مرقع اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے ۔ اور وہ ایسی چیز کی طرف دعوت نہیں دے رہا ہے ۔ کہ جس کو وہ خود پوری طرح نہ سمجھتا ہو ۔ پھر بعض طبائع جن میں قبولیت کی صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں ۔ وہ اس عبرت آفرین توضح وتشریح کو…
Read the full tafseer →(17) جب دولینے والے فرشتے لیتے رہتے ہیں جو کہ دائیں اور بائیں جانب بیٹھے رہتے ہیں۔ اپنے قرب کے بعد اور اتصال علمی کے بعد دو فرشتے جن کو کراماً کا تبین کہا جاتا ہے اور جو بندے کے اعمال پر نگراں ہیں اور ہر عمل لکھتے رہتے ہیں ان کا ذکر فرمایا جیسا کہ سورة جاثیہ میں گزرچکا ہے۔
انا کنا نستنسخ ماکنتم تعملون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 2۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم باعتبار علم کے اس کی روح اور نفس سے بھی نزدیک تر ہیں، یعنی جیسا علم انسان کو اپنے احوال کا ہے ہم کو اس کا علم خود اس سے بھی زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →دو ملاقات کرنے والے اس کے دائیں اور بائیں موجود بیٹھے ہیں
17 ۔ (یتلقیٰ ) واحد مذکر غائب ” لے لیتا ہے “ یا ” ملاقات کرتا ہے “ (المتلقیان) اسم فاعل تثنیہ مذکر مرفوع ” دو لینے والے “ یا ” دو ملاقات کرنے والے “ ان کا صل ل ق ی ہے۔ المتلقیان۔ الملکان المر کلان بمراقبۃ العمرء و تسجیل ما یا خذانہ عنہ من اقوال و افعال اس جگہ اعمال لکھنے والے دو فرشتے مراد ہیں جو انسان کے سارے اعمال و اقوام ضبط کرلیتے ہیں جس طرح اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ یہ سب استعارات ہیں جو محض تفہیم کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں انسانوں میں مختلف ذہن و فکر کے لوگ ہوتے ہیں اور جو آدمی جس ذہن کا ملک ہو اس کو اس کے ذہن کے مطابق تفہیم کرائی…
Read the full tafseer →The Two Recording Angels with every Man
إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ (when the two receiving angels receive (every human act to record it - 50:17) In the phrase idh yatalaqq al-mutalaqqiyani, (when the two receiving angels receive) the verb yatalaqqa is aorist from the infinitive talaqqi which denotes to take, to accept, to receive, to learn as in the verse فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ " Thereafter 'Adam received a few words from his Lord (2:37) ". The word mutalaqqiyani in the verse is the dual of al-mutalaqqi and refers to the two angels that accompany every human being…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
19 After presenting the arguments for the Hereafter, it is being stated: `Whether you believe in the Hereafter, or deny it, it has to come in any case, and it is such a factual reality, which will certainly come about in spite of your denial. If you heed the warning given by the Prophets in advance and prepare for it, you will be doing good to yourselves; if you do not believe in it, you will be inviting your own doom. Your denial will not prevent the Hereafter from taking place and God' s Law of justice will not became suspended. "
20 That is, "Our power and Our knowledge has so encompassed…
Read the full tafseer →