Qaaf 50:18

Qaaf · from ayah 18

50:18

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ ۟مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ

کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Man does not utter any word except that with him is an observer prepared [to record].

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:18

کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(انسان) منھ سے کوئی لفﻆ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ مُنہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ کوئی بھی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک تیار نگران ہوتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کوئی بات منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہوتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ کوئی لفظ بھی نہیں بولتا ہے مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہوتا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ منہ سے کوئی بات بھی نکالنے نہیں پاتا مگر اس کے پاس ایک حاضر باش نگران موجود رہتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالنے پاتا مگر یہ کہ اس کے آس پاس ہی ایک تاک میں لگا رہنے والا تیار ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ کوئی لفظ بھی نہیں بولتا ہے مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہوتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He utters not a word, but there is a vigilant watcher at hand.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Not a single word is uttered by one but there is a watcher near him, ready (to record).

— Muhammad Taqi Usmani

Not a single word is uttered by one but there is a watcher near him, ready (to record).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Not a word does he (or she) utter but there is a watcher by him ready (to record it).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He uttereth no word but there is with him an observer ready.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Man does not utter any word except that with him is an observer prepared [to record].

— Saheeh International

The human being will certainly experience the agony of death

— Muhammad Sarwar

He utters not a word but there is by him a watcher at hand.

— Muhammad Habib Shakir

Not a word he uttereth but there is with him a watcher ready.

— Abdul Majid Daryabadi

Not a word does he utter but there is a sentinel by him, ready (to note it).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–22

دائیں اور بائیں دو فرشتے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہی انسان کا خالق ہے اور اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے یہاں تک کہ انسان کے دل میں جو بھلے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں انہیں بھی وہ جانتا ہے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل میں جو خیالات آئیں ان سے درگذر فرما لیا ہے جب تک کہ وہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ کریں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں یعنی ہمارے فرشتے اور بعض نے کہا ہے ہمارا علم ان کی غرض یہ ہے کہ کہیں حلول اور اتحاد نہ لازم آجائے جو بالاجماع اس رب کی مقدس ذات سے بعید ہے اور وہ اس سے بالکل پاک ہے لیکن لفظ کا اقتضاء یہ نہیں ہے اس لئے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 21 یعنی ایک طرف تو ہم خود براہ راست انسان کی حرکات و سکنات اور اس کے خیالات کو جانتے ہیں، دوسری طرف ہر انسان پر دو فرشتے مامور ہیں جو اس کی ایک ایک بات کو نوٹ کر رہے ہیں اور اس کا کوئی قول و فعل ان کے ریکارڈ سے نہیں چھوٹتا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کی عدالت میں انسان کی پیشی ہوگی اس وقت اللہ کو خود بھی معلوم ہوگا کہ کون کیا کر کے آیا ہے، اور اس پر شہادت دینے کے لیے دو گواہ بھی موجود ہوں گے جو اس کے اعمال کا دستاویزی ثبوت لا کر سامنے رکھ دیں گے۔ یہ دستاویزی ثبوت کس نوعیت کا ہوگا، اس کا ٹھیک ٹھیک تصور کرنا تو ہمارے لیے مشکل ہے۔ مگر جو حقائق آج ہمارے سامنے آ رہے ہیں انہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

انسان کا ہر قول ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَـدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ (یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگران فرشتہ محفوظ نہ کرلیتا ہو، حضرت حسن بصری اور قتادہ نے فرمایا کہ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ صرف وہ کلمات لکھے جاتے ہیں جن پر کوئی ثواب یا عتاب ہو، ابن کثیر نے یہ دونوں قول نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ آیت قرآن کے عموم سے پہلی ہی بات کی ترجیح معلوم ہوتی ہے، کہ ہر ہر لفظ لکھا جاتا ہے، پھر علی بن ابی طلحہ کی ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فرمائی جس میں یہ دونوں قول جمع…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 17–18

اذیتلقی الستلقٰین عن الیمین وعن الشمال قیعد، مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (18-17) لوگوں کے اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھنے کے لئے مزید اہتمام عن الیمین وعن الشمال تعید میں تالف کلام یوں ہے، عن الیمین قعیلا وعن الشمال قعید (ایک داہنے بیٹھا ہوا، دوسرا بائیں بیٹھا ہوا) عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق بتقاضیء ایجاز ایک جگہ لفظ قعید، محذوف ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ یہ اس مزید اہتمام کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اقوال و اعمال کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لئے کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اول تو بذات خود ہر شخص کے وساوس و خطرات قلب تک سے اچھی طرح باخبر ہے، مزید برآں اس نے اتمام حجت کے لئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 رَقِیْب محافظ، نگران اور انسان کے قول اور عمل کا انتظار کرنے والا عَتِیْد حاضر اور تیار۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–21

7: یعنی جب قبروں سے نکل کر انسان میدان حشر کی طرف جائیں گے تو دو فرشتے ہر ایک کے ساتھ ہوں گے، ان میں سے ایک تو انہیں میدان حشر کی طرف ہانک کرلے جائے گا، اور ایک فرشتہ اس لئے ہوگا کہ وہ حساب و کتاب کے وقت اس کے اعمال کی گواہی دے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ وہی دو فرشتے ہوں گے جو دنیا میں اس کا اعمال نامہ لکھا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

اذ یتلقی المتلقین عن الیمین وعن الشمال قعید (50 : 17) ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (50 : 18) ” دو کاتب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہیں۔ ہر چیز ثبت کر رہے ہیں ۔ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لئے ایک حاضر باش نگران موجود نہ ہو “ ۔ یعنی جو نگران ہے وہ حاضر باش ہے۔ یعنی عتید رقیب کی صفت ہے۔ یہ مفہوم نہیں ہے جس طرح ذہن میں آتا ہے کہ دو نگرانوں میں سے ایک کا نام رقیب ہے اور دوسرے کا عتید ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کس طرح ریکارڈ کرتے ہیں ؟ اس سلسلے میں انسان کو اپنے تخیلات پیش نہ کرنا چاہئے ۔ یہ غیبی امور ہیں اور ان کو اسی طرح قبول کرنا چاہئے جس طرح قرآن میں مذکور ہیں۔ مفہوم پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی لکھنے کو تیار ہے (تنبیہ) دونوں فرشتے کہاں رہتے ہیں ؟ اور علاوہ اقوال کے کیا کیا کچھ لکھتے ہیں ؟ اس کی تفصیل احادیث و آثار سے ملے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18 { مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ۔ } ”وہ کوئی لفظ بھی نہیں بولتا ہے مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہوتا ہے۔“ یعنی کوئی انسان جو لفظ بھی اپنی زبان سے بولتا ہے متعلقہ فرشتہ اس کو فوراً ریکارڈ کرلیتا ہے اور ظاہر ہے فرشتوں کی یہ ریکارڈنگ بھی عالم امر کی چیز ہے ‘ اس لیے اس کی کیفیت بھی ہمارے تصور میں نہیں آسکتی۔ ریکارڈنگ کے شعبے میں گزشتہ چند دہائیوں میں انسانی سطح پر جو ترقی دیکھنے میں آئی ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب انسان کی ”ریکارڈنگ“ کا معیار یہ ہے اور اس معیار میں مزید ترقی بھی رکنے کا نام نہیں لے رہی تو اللہ کی قدرت سے جو ریکارڈنگ ہو رہی ہے اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

21 یعنی انسان کا کوئی قول، کوئی فعل، کوئی حرکت، کوئی اشارہ ایسا نہیں ہوتا جسے ریکارڈ میں لانے والا فرشتہ ہر وقت اس کے پاس موجود نہ رہتا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ اعمال کے بعد اب ذکر اقوال کا ہورہا ہے۔ منہ سے ادھر بات نکلی نہیں کہ ادھر کاتب فرشتوں نے اسے نوٹ کرلیا۔ بات اگر اچھی ہے تو اسے بھی اور بری ہے تو اسے بھی ! اللہ اکبر ! کیا ٹھکانا ہے انسان کی ذمہ داریوں کا، وہ اللہ کا نائب بنا کر دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ وہ دن رات کے چوبیس گھنٹوں کے لیے۔ گھنٹے کے ہر منٹ کے ہر پل کے لیے ذمہ دار ہے۔ غفلت کی مہلت اسے ایک پل کے لیے بھی نہیں۔ آیت کا استحضار رہے تو مسلمان سے کبھی بھی گناہ صادر ہوسکے ؟ اللہ نے اپنے ہاں کا یہ ضابطہ بتا کر مسلمان کے لئے راہ عمل کتنی آسان کردی ہے۔ !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 18–29

انسان کا ہر قول رکارڈ کیا جاتا ہے : مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگران فرشتہ محفوظ نہ کرلیتا ہو، حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ اور قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ صرف وہ کلمات لکھتے ہیں کہ جن میں کوئی ثواب یا عقاب کی بات ہو۔ علی بن ابی طلحہ نے ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فرمائی جس میں یہ دونوں قول جمع ہوجاتے ہیں، اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو ہر کلمہ لکھا جاتا ہے خواہ اس میں کوئی ثواب و عقاب کی بات ہو یا نہ ہو، مگر ہفتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید ‘ آدمی کوئی بات منہ سے نکالنے بھی نہیں پاتا کہ ایک تاک لگائے رکھنے والا (فرشتہ اس کے لینے کو) تیار (بیٹھا) ہوتا ہے۔ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ : انسان اپنے منہ سے کوئی لفظ نکالتا بھی نہیں ہے کہ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ : رقیب سے مراد نگران فرشتہ ہے جو آدمی کے عمل کی چوکسائی کرتارہتا ہے۔ عَتِیْد : حاضر (موجود) حسن نے کہا فرشتے دو حالتوں میں انسان سے الگ ہوجاتے ہیں۔ رفع حاجت کے قریب اور جماع کے وقت۔ مجاہد نے کہا دونوں فرشتے آدمی کے عمل لکھتے ہیں یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں بھی۔ عکرمہ نے کہا : صرف وہی اقوال و اعمال لکھتے ہیں جو ثواب یا عذاب کا باعث ہوتے ہیں۔ بغوی نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 18–19

(18۔ 19) کہ انسان کوئی لفظ بھی منہ سے نکالنے نہیں پاتا خواہ نیک ہو یا برا مگر اس کے پاس ایک تاک لگانے والا موجود رہتا ہے کہ دائیں طرف کا فرشتہ نیکی اور بایاں فرشتہ بدی لکھتا رہتا ہے موت کی سختی شقاوت اور سعادت کے ساتھ آپہنچی یہ وہ چیز ہے کہ جس سے تو اے انسان بدکتا اور بھاگتا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عبید :”رقیب“ نگرانی کرنے والا اور ”عبید“ تیار۔ اس آیت کے مفہوم کے قریب یہ آیات ہیں :(وان علیکم لحفظین، کراماً کاتبین، یعلمون ماتفعلون) (الانفطار : 10 تا 12)”حالانکہ بلاشبہ تم پر یقینا نگہبان (مقرر) ہیں۔ جو بہت عزت والے ہیں، لکھنے والے ہیں۔ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔“ اگرچہ انسان کا ہر قول و فعل اور ارادہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے، مگر فرشتوں کے ذریعے سے کتاب اعمال کی تیاری قیامت کے دن اس پر حجت قائم کرنے کیلئے ہے، فرمایا :(ونخرج لہ یوم القیمۃ کتباً یلفسہ منشوراً ، اقرا کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیباً) (بنی اسرائیل : 13، 13)”اور قیامت کے دن ہم اس کے لئے ایک کتاب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 16–19

16 ۔ 19:۔ ولقد خلقنا الانسان، الانسان سے مراد لوگ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ ونعلم ماتوسوس بہ لفسہ یعنی اس کے سر، اس کے دل اور ضمیر میں جو کھٹکتا ہے۔ اس میں ان نافرمانیوں پر جھڑ کا جا رہا ہے جن کو انسان چھپاتا ہے۔ جس نے کہا : انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذات ہے تو نفس نے جو وسوسہ ڈالا تھا وہ درخت سے کھانا تھا۔ پھر ان کی اولاد کے لئے عام ہے۔ وسوسہ سے مراد حدیث نفس ہے جو نفی کلام کے قائم مقام ہوتی ہے۔ اعمش نے کہا : تسمع للحلی و سواسا اذا انصرفت جب وہ واپس جاتی ہے تو تو زیورات کی خفی آواز سنتا ہے۔ سورة الاعراف میں معنی گزر چکا ہے۔ ونحن اقرب الیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

5:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مایلفظ من قول '' (آدمی کوئی بات منہ سے نکالنے بھی نہیں پاتا) یعنی لکھ لیا جاتا ہے ہر بات کو جو وہ بات کرتا ہے خیر میں سے یا شر میں سے یہاں تک کہ اس کمی بات بھی لکھ لی جاتی ہے کہ میں نے کھایا میں نے پیا میں گیا میں آیا میں نے دیکھا یہاں تک کہ جب خمیس کا دن ہوتا ہے اس کی بات کو اور اس کے عمل کو پیش کیا جاتا ہے اور جو کچھ اس میں خیر یا شر ہو اس سے اس کا اقرارلیا جاتا ہے پھر ان سب کو رکھ دیا جاتا ہے اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' یمحواللہ ما یشآء ویثبت '' (اللہ تعالیٰ مٹا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور باقی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مَا يَلْفِظُ [ وہ (انسان ) منہ سے نہیں نکالتا ] مِنْ قَوْلٍ [ کوئی بھی بات ] اِلَّا لَـدَيْهِ [ مگر (یہ کہ ) اس کے پاس ] رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ [ ایک چوکس نگران ہوتا ہے ] لظ : (ض) لفظ منہ سے پھینکنا ، منہ سے بامعنی آواز نکالنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 18 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

تیسری آیت میں فرمایا کہ انسان جو بھی کوئی لفظ بولتا ہے اس کے پاس انتظار کرنے والا فرشتہ تیار رہتا ہے جو منہ سے نکلتے ہی لکھ لیتا ہے اگر کلمہ خیر ہو تو دائیں طرف والا فرشتہ لکھتا ہے اور اگر شر ہو تو بائیں طرف والا فرشتہ لکھ لیتا ہے۔ الفاظ کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر عمل لکھا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ فرشتے خیر اور شر کی باتیں لکھتے ہیں جن پر عقاب وثواب کا دار و مدار ہوتا ہے، مباحات کو نہیں لکھتے اور حضرت ابن عباس ؓ کا ایک یہ قول ہے کہ لکھا تو سب کچھ جاتا ہے پھر ہر جمعرات کو بارگاہِ الٰہی میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں خیر اور شر کو باقی رکھا جاتا ہے باقی اعمال یعنی مباح کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

کمال قدرت خداوندی از روئے علم واحاطہ باحوال انسانی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد خلقنا الانسان ...... الی ..... وما انا بظلام للعبید “۔ (ربط) ما قبل آیات میں منکرین حشر ونشر کا ذکر تھا اسی کے ساتھ پہلی امتوں کی عبرت ناک تاریخ دہرائی گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں مختلف انواع و اقسام کے عذاب ان پر نازل ہوئے اور ان کو ہلاک کردیا گیا تو اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ومخالفت کرنے والی قوم کفار قریش کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے سزا دنیا چوں کہ دو چیزوں پر موقوف ہے ایک علم پر کہ مجرم کے جرم کا علم ہو دوسرے قدرت پر کہ مجرم کو سزا دینے پر قادر ہو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–18

ٖ 10:۔ ” ولقد خلقنا۔ تا۔ وتقول ھل من مزید “۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ نفسہ کے بعد نحاسبہ مقدر ہے قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ یعنی ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم اس کے دل کے وساوس و خطرات کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہم اس کا محاسبہ کریں گے۔ حبل الورید میں اضافت بیانی ہے اور اس سے مراد رگ حیات ہے جو سر سے شروع ہو کر حلق سے گذرتی ہوئی دل تک پہنچتی ہے۔ ” اذ یتلقی میں اذ، اقرب سے متعلق ہے۔ یعنی جب آدمی کے دائیں بیٹھے ہوئے کراماً کاتبین اس کی باتیں لکھ رہے ہوتے ہیں اس وقت ہم اس کی رگ حیات سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں۔ ” ما یلفظ من قول الخ “ آدمی جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے اسے لکھنے کیلئے ایک نگران ہر وقت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–22

ربط آیات پہلے اللہ نے نبوت و رسالت کے منکرین کا شکوہ کیا ، پھر قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس پر عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ پھر عبرت کے طور پر اللہ نے چند سابقہ اقوام کا حال ذکر کیا کہ انہوں نے نبوت و رسالت اور وقوع قیامت کو جھٹلایا تو ان کا انجام بھی بہت برا ہوا ۔ اللہ کا ڈرانا بر حق ثابت ہوا اور یہ لوگ مبتلائے عذاب ہوئے وقوع قیامت اور بعث بعد الموت کے متعلق فرمایا کہ کیا ہم مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کر کے تھک گئے تھے کہ دوبارہ پیدا کرنا محال ہوجائے گا ؟ اس میں کون سی خلاف عقل اور تعجب انگیز بات ہے ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَـدَيْہِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ۝ 18 ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–19

ترکیب : ونعلم حال مقدرۃ بتقدیرنحن ویجوزان یکون مستانفاً ، والضمیر فی بہ یرجع الی ما ان جعلت موصولۃ والباء زائدۃ کمافی قولہ صوت بکذا اوللتعدیۃ او یرجع الی الانسان ان جعلت مامصدریہ۔ والباء للتعدیۃ۔ والوسوستہ الصوت الخفی والمراد بھاھھنامایتختلج فی قلبہ اذا مقدرباذکر اومتعلق باقرب اوبنعلم قعید فعیل یطلق علی الواحد والمتعدد۔ مبتدء عن الیمین عن الشمال خبرہ۔ بالحق حال او مفعول۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا۔ انسان کے حال سے اب اپنے بےانتہا علم وقدرت پر دلیل لاتا ہے۔ انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اس لیے آسمانوں و زمین کو ایک جگہ اور ان کے مقابلہ میں دوسری جگہ اس کو ذکر کیا۔ اور درحقیقت انسان خدائے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–18

اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ۔ مَایَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلاَّ لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ۔ (قٓ: 17، 18) (جبکہ دو اخذ کرنے والے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے اخذ کرتے رہتے ہیں۔ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہوتا ہے۔ ) لوگوں کے اعمال و اقوال کو ریکارڈ رکھنے کا اہتمام یوں تو اللہ تعالیٰ کا اپنا علم تمام انسانوں کے اقوال و افعال کا ریکارڈ رکھنے کے لیے سب سے مستند ذریعہ ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ دنیا کے عدالتی طریق کار کی طرح جس کا انسان عادی ہے یہ اہتمام بھی کیا کہ کوئی شخص بھی جب کوئی عمل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے انکار کے پیچھے منکرین قیامت کا ایک تصور یہ بھی ہے کہ اس طرح ہمارے گناہ چھپ جائیں گے انہیں یہ بات باور کروائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ انسان کے دل میں خیالات ابھرتے اور جذبات پائے جاتے ہیں اور وہ انسان کی شہ رگ سے بھی اس کے زیادہ قریب ہے۔ انسان جو کام کرتا ہے اس کے دائیں بائیں ساتھ رہنے والے فرشتے اس کی ہر بات اور کام کو ضبط تحریر میں لائے جاتے ہیں۔ انسان کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکلتا مگر اسے لکھنے والا ہر وقت موجود ہوتا ہے جو اسے رات دن تحریر کرتارہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کرامًا کاتبین کا اعمال لکھنا : آیت 18 : مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ (وہ کوئی لفظ منہ سے نکالنے نہیں پاتا) جو وہ بولتا اور منہ سے نکالتا ہے۔ اِلاَّ لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ (مگر اس کے پاس ایک حافظ تیار ہے) عتید : حاضر۔ پھر یہ کہا گیا کہ وہ ہر چیز لکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرض کی انین بھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ بات لکھتے ہیں جس میں اجر یا گناہ ہوتا ہے۔ ایک تیسرا قول ہے۔ فرشتے اس سے الگ نہیں ہوتے سوائے دو حالتوں۔ (1) پاخانہ ( 2) جماع کے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17 ۔” اذ یتلقی المتلقیان “ جب وہ ملے اور وہ دو فرشتے جو انسان پر نگران بنائے گئے ہیں وہ اس کے عمل اور گفتگو کو لیں اس کی حفاظت و کتابت کریں۔ ” عن الیمین وعن الشمال “ یعنی ان میں سے ایک اس کے دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب ہے۔ پس دائیں جانب والا نیکیاں لکھتا ہے اور جو بائیں جانب ہے وہ برائیاں لکھتا ہے۔ ” قعید “ یعنی بیٹھا ہوا۔ ” قعیدان “ نہیں کہا اس لئے کہ مرادیہ ہے کہ دائیں جانب بھی قعید (بیٹھا) ہے اور بائیں جانب بھی قعید ہے تو ان میں سے ایک کے ذریعے دوسرے سے اکتفاء کیا گیا ہے۔ یہ اہل بصرہ رحمہم اللہ کا قول ہے اور اہل کوفہ فرماتے ہیں قعوداً مراد ہے رسول کی طرح دو اور جمع کے لئے بنایا گیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–22

16۔ 22۔ اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ انسان کے مرجانے کے بعد جنگل میں دریا میں جہاں کہیں اس کی خاک ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی جگہ کی خاک باہر نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا کہ خاک تو ظاہر آنکھوں سے نظر آتی ہوئی چیز ہے اللہ تعالیٰ کا علم تو ایسا بڑا ہے کہ وہ انسان کے دل کے خطرے تک کو جانتا ہے۔ صحیح مسلم 3 ؎ کی حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ ہر ایک انسان کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات رہتا ہے فرشتہ نیک کام کرنے کا خیال دل میں ڈالتا رہتا ہے اور شیطان بد کام کرنے کا وسوسہ ڈالتا رہتا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس صحیح حدیث کو اس آیت کی تفسیر قرار دیا ہے اور معنی آیت کے یہ کئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–18

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ انسان کی جنس مرد اور عورت کو پیدا کرنے میں وہ تنہا ہے۔ وہ انسان کے تمام احوال کو، جنہیں وہ چھپاتا ہے اور اس کا نفس اسے وسوسے میں مبتلا کرتا ہے، خوب جانتا ہے اور وہ (اقرب الیہ من حبل الورید) ” اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے۔ “ جو انسان کے سب سے زیادہ قریب والی رگ ہے۔ اس سے مراد وہ رگ ہے جس نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے۔ یہ چیز انسان کو اپنے خالق کے مراقبے کی دعوت دیتی ہے، جو اس کے ضمیر اور اس کے باطن سے مطلع ہے اور اس کے تمام احوال میں اس کے قریب رگ ہے۔ اس لئے انسان کو چاہیے کہ ایسے کام کے ارتکاب سے حیا کرے جس کام سے اللہ نے اس کو روکا ہے،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

[ 23] نگران فرشتوں کے بارے میں تنبیہ و آگہی : سو اس سے نگرانی کرنے اور ریکارڈ تیار کرنے والے فرشتوں کے بارے میں تنبیہ و آگہی فرما دی گئی۔ سو ریکارڈ تیار کرنے والے ان دو فرشتوں کی موجودگی کے بارے میں آگہی بخشے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے ایک اس کے دائیں بیٹھا ہوتا ہے اور دوسرا اس کے بائیں۔ یعنی دائیں اور بائیں جانب کے دو فرشتے جن میں سے دائیں طرف والا فرشتہ نیکیاں لکھنے پر مامور ہوتا ہے، اور بائیں طرف والا اس کی برائیوں کو قلم بند کرنے کے لئے، [ روح، خازن، مدارک وغیرہ ] اور پھر کرم بالائے کرم ملاحظہ ہو کہ حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دائیں طرف والا فرشتہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–29

آیات 16 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے انسان کو پیدا کیا اس کی ایک ایک صفت اس میں پیدا کی لہذا اس کے دل میں بھی جو خیال گزرتا ہے ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ شہ رگ سے قریب تر ہونا۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مفسرین کرام کے مطابق یہاں قرب علمی مراد ہے کہ بات اس کے احوال اور دل میں گزرنے والے خیالات تک کی ہورہی ہے قرب مسافت مراد نہیں کہ اس کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے مگر تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ احاطہ عملی بھی ہر شے سے ہے اور انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال بلاکیف موجود ہے جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا جس کے دلائل قرآن حدیث میں موجود ہیں اور جس پر مولوی رومی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی جونہی انسان منہ سے کوئی بات نکالتا ہے فرشتہ لکھ لیتا ہے۔ نیز دیکھیے لفظ 12 ۔ 10) ابن عباس کہتے ہیں کہ فرشتہ اس کی ہر بات لکھتا ہے حتی کہ اس کا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھانا کھایا میں نے پانی پیا وغیرہ پھر جمعرات کے روز وہ اپنا لکھا ہوا ریکارڈ خدا کے سامنے پیش کرتا ہے اور پھر انہی باتوں کو باقی رکھتا ہے جن کا تعلق ثواب یا عقاب سے ہوتا ہے اور دوسری باتوں کو مٹا دیتا ہے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا یمحواللہ مایشاء ویبت کہ اللہ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے صحیحین میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس امت کے دل میں آنے والے خیال معاف کردیئے جب تک…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:18) مایلفظ من قول : مضارع منفی واحد مذکر غائب لفظ (باب ضرب) مصدر وہ منہ سے نہیں نکالتا ہے ۔ من قول کوئی بات لفظ مصدر متعدی بنفسہ وبواسطۃ ب۔ کوئی چیز منہ سے باہر پھینکنا۔ لفظ بالکلام۔ اس نے منہ سے کوئی بات نکالی۔ لفظ بات۔ تلفظ بات کہنا۔ ردیہ : لدی اسم ظرف مضاف۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اس کے پاس اس کے نزدیک۔ ضمیر کا مرجع الانسان ہے رقیب۔ نگہبان، محافظ ، فعیل کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے۔ عتید تیار۔ عتاد سے جس کے معنی ضرورت سے پہلے کسی چیز کے ذخیرہ کرلینے کے ہیں۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل اور کبھی بمعنی مفعول آتا ہے چناچہ آیت ہذا میں بمعنی فاعل استعمال ہوا ہے یعنی وہ منہ سے کوئی بات نکالنے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–29

لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 29 : توسوس (چپکے سے وسوسہ ڈالتا ہے) ‘ حبل الورید (شہہ رگ) ‘ قعید (بیٹھا ہوا) ‘ ما یلفظ ( کوئی لفظ نہیں نکلتا) ‘ رقیب (نگہبان۔ نگرانی کرنے والا) سکرۃ الموت (موت کی بےہوشی) ‘ تحید (کتراتا ہے) ‘ یوم الوعید ( ڈرنے کا دن) ‘ سائق (چلانے والا) ‘ غطائ (پردہ) ‘ حدید (بہت تیز) ‘ قرین (ساتھی) ‘ لدی (میرے پاس) القیا (تم دونوں ڈال دو ) ‘ عنید (ضدی) ‘ مناع ( روکنے والا) ‘ معتد (حد سے آگے بڑھ جانے والا) ‘ مریب (شک و شبہ ڈالنے والا) ‘ اطغیت (میں نے سرکشی کی) ‘ لاتختصموا (تم نہ جھگڑو) ۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 29 : ان آیات میں موت اور قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–19

(ف 1) اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا، کہ انسان کے مرجانے کے بعد جنگل میں ، دریا میں، جہاں کہیں اس کی خاک ہوگی، اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی جگہ کی خاک باہر نہیں ہے، ان آیتوں میں فرمایا کہ خاک تو ظاہر آنکھوں سے نظر آتی ہوئی چیز ہے، اللہ تعالیٰ کا علم تو ایسا بڑا ہے کہ وہ انسان کے دل کے خطرہ تک کو چاہتا ہے ، اللہ کا علم اس کی قدرت آدمی کو گھیرے ہوئے ہے ہر ہر ذرہ میں آدمی کے ہر رونگٹے میں جلوہ گر ہے پھر اس سے بھاگ کر آدمی کہاں جائے گا، آگے فرمایا کہ بندہ خدا کو دور جانتا ہے خیال کرتا ہے کہ اس کی بری باتوں کو کون دیکھے گا کون پرسش کرے گا، حالانکہ خدا کے دو موکل فرشتے ہر دم ساتھ ہیں، وہ جو کام کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–18

[3] مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الٰہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا۔ یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت و قصد بھی اس کا رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–21

اس وقت آنکھیں کھلیں گی ؟ 1: دلائل کی قسموں میں سے ایک قسم یہ ہے ۔ کہ مدلول کو اس طرح ممثل اور واضح کرکے پیش کیا جائے ۔ کہ اس کے سب امکانات خود بخود روشن ہوجائیں قرآن حکیم نے اثبات دعویٰ کے لئے اکثر اس نوع کے دلائل سے کام لیا ہے اس کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ سننے والا کم ازکم نفیس واقعہ کی ضروری تفصیلات سے آگاہ ہوجاتا ہے اور اس کو معلوم ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کو پیش کرنے والا اس کا کامل مرقع اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے ۔ اور وہ ایسی چیز کی طرف دعوت نہیں دے رہا ہے ۔ کہ جس کو وہ خود پوری طرح نہ سمجھتا ہو ۔ پھر بعض طبائع جن میں قبولیت کی صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں ۔ وہ اس عبرت آفرین توضح وتشریح کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) وہ کوئی لفظ زبان سے نہیں نکالنے پاتا مگر یہ کہ اس کے پاس ہی ایک انتظار کرنے والا تیارہتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو اس کے منہ سے نکلا وہ لکھ لیتے ہیں نیکی داہنی والا اور بدی بائیں والا۔ پھر شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی لکھنے کو تیار ہے۔ خلاصہ : دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ ہر انسان کے اعمال کی نگرانی دو فرشتے کرتے رہتے ہیں ایک داہنی جانب ایک بائیں جانب جہاں کوئی بات منہ سے نکالی اور اس کے لینے اور لکھنے کو ایک منتظر فرشتہ تیار بیٹھا ہے اور اس تاک میں لگا ہوا ہے کہ یہ منہ سے کہے اور میں لکھوں۔ پہلی آیت میں صرف لینے اور اخذ کرنے کا ذکر تھا اور دوسری آیت میں ان کی تیاری اور انتظار ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

ف 2۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم باعتبار علم کے اس کی روح اور نفس سے بھی نزدیک تر ہیں، یعنی جیسا علم انسان کو اپنے احوال کا ہے ہم کو اس کا علم خود اس سے بھی زیادہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جونہی اس کی زبان سے کچھ نکلا تو گویا محفوظ کرنے والے نے اس کو محفوظ کرلیا 18 ۔ آج اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں رہا کہ انسان کی سری حرکات و سکنات کس طرح محفوظ ہوتی چلی جارہی ہیں اس کو استعارات اور اشارات میں سمجھایا گیا لیکن آج یہ استعارات و اشارات اس کے مشاہدہ میں آچکے ہیں للہ رب ذوالجلال والا کرام کا کامل علم اپنی جگہ محفوظ ہے اور پھر گواہی دینے کے لیے دو گواہ ہر ایک انسان پر مقرر کیے گئے ہیں جو اس کی حرکات و سکنات اور اس کی ساری ہوں ہاں کو محفوظ کر رہے ہیں اور جب انسان کو عدالت الٰہی میں پیش کیا جائے گا تو ضرورت ہوئی تو یہ ساری گواہیاں اور شہادتیں بھی اس پر پیش کردی جائیں گی اور اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Every Utterance of Man is recorded مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَ‌قِيبٌ عَتِيدٌ (Not a single word is uttered by one, but there is a watcher near him, ready [ to record ]...50:18) In other words, there is always a supervising angel [ the scribe ] whose responsibility is to record any word that the human utters or speaks. Sayyidna Hasan Basri and Qatadah رحمۃ اللہ علیہما said that this angel records every single word - whether or not it is sinful or reward-able. Ibn ` Abbas ؓ said that only those utterances are recorded that are sinful or rewardable. Ibn Kathir, having quoted both…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

21 That is, "On the one hand, We Our self directly know man's actions and movements, even his hidden thoughts; on the other, every man has two angels appointed over him, who are recording whatever he does and says; none of his actions or words is left unrecorded. " This means that when man is produced in the Court of Allah, Allah at that time Himself also will be knowing what each person has done in the world; besides, there will also be two witnesses who will produce documentary evidence of the person's actions and deeds. As to what will be the nature of this documentary evidence, it is…

Read the full tafseer →