Qaaf 50:19

Qaaf · from ayah 19

50:19

وَجَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ— ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ ۟وَ جَآءَتۡ سَكۡرَةُ الۡمَوۡتِ بِالۡحَـقِّ‌ؕ ذٰلِكَ مَا كُنۡتَ مِنۡهُ تَحِيۡدُ

اور موت کی بےہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی۔ (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the intoxication of death will bring the truth; that is what you were trying to avoid.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:19

پھر دیکھو، وہ موت کی جاں کنی حق لے کر آ پہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور موت کی بےہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی۔ (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور موت کی سختی سچ مچ آنے ہی والی ہے۔ (اے انسان) یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آپہنچی۔ (اے انسان!) یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور موت کی بےہوشی حق کے ساتھ آئے گی۔ یہ ہے وہ جس سے تو بھاگتا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ حقیقت کھولنے کے لئے موت کی بےہوشی آپہنچی، یہی وہ بات ہے جس سے تو (اے انسان) گریز کرتا رہا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور موت کی غشی شدنی کے ساتھ آپہنچی ! یہ ہے وہ چیز جس سے تو کتراتا رہا تھا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (یہ لو) آپہنچی سختی موت کی حق کے ساتھ (تب کہا جائے گا اس غافل انسان سے کہ) یہ ہے وہ چیز جس سے تو بھاگتا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپہنچی موت کی بےہوشی سچائی کے ساتھ۔ یہی وہ (حقیقت) ہے جس سے تو بدکتا رہتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور بالآخر موت کی بےہوشی کا وقت آن پہنچا ہے حق کے ساتھ۔ یہی ہے نا وہ چیز جس سے تو بھاگا کرتا تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور موت کی بےہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی (اے انسان) یہی وہ حالت ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Lo, the agony of death has indeed come with the Truth. That is what you had sought to avoid.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The daze of death has (to) come with truth. That is what you tried to escape.

— Muhammad Taqi Usmani

The daze of death has (to) come with truth. That is what you tried to escape.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the stupor of death will come in truth: "This is what you have been avoiding!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the agony of death cometh in truth. (And it is said unto him): This is that which thou wast wont to shun.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the intoxication of death will bring the truth; that is what you were trying to avoid.

— Saheeh International

and (the human being will be told), "This is what you had been trying to run away from".

— Muhammad Sarwar

And the stupor of death will come in truth; that is what you were trying to escape.

— Muhammad Habib Shakir

And the stupor of death will come in truth: this is that which thou hast been shunning.

— Abdul Majid Daryabadi

And the stupor of death will bring Truth (before his eyes): "This was the thing which thou wast trying to escape!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–22

دائیں اور بائیں دو فرشتے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہی انسان کا خالق ہے اور اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے یہاں تک کہ انسان کے دل میں جو بھلے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں انہیں بھی وہ جانتا ہے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل میں جو خیالات آئیں ان سے درگذر فرما لیا ہے جب تک کہ وہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ کریں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں یعنی ہمارے فرشتے اور بعض نے کہا ہے ہمارا علم ان کی غرض یہ ہے کہ کہیں حلول اور اتحاد نہ لازم آجائے جو بالاجماع اس رب کی مقدس ذات سے بعید ہے اور وہ اس سے بالکل پاک ہے لیکن لفظ کا اقتضاء یہ نہیں ہے اس لئے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 22 حق لے کر آ پہنچنے سے مراد یہ ہے کہ موت کی جانکنی وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں سے وہ حقیقت کھلنی شروع ہوجاتی جس پر دنیا کی زندگی میں پردہ پڑا ہوا تھا۔ اس مقام سے آدمی وہ دوسرا عالم صاف دیکھنے لگتا ہے جس کی خبر انبیاء (علیہم السلام) نے دی تھی۔ یہاں آدمی کو یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ آخرت بالکل برحق ہے، اور یہ حقیقت بھی اس کو معلوم ہوجاتی ہے کہ زندگی کے اس دوسرے مرحلے میں وہ نیک بخت کی حیثیت سے داخل ہو رہا ہے یا بد بخت کی حیثیت سے۔ سورة قٓ 23 یعنی یہ وہی حقیقت ہے جس کو ماننے سے تو کنی کتراتا تھا۔ تو چاہتا تھا کہ دنیا میں نتھے بیل کی طرح چھوٹا پھرے اور مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہو جس میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–20

سکرات الموت (آیت) وَجَاۗءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بالْحَقِّ ۭ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ ، سکرة الموت کے معنی موت کی شدت اور غشی جو موت کے وقت پیش آتی ہے، ابوبکر بن الانباری نے اپنی سند کے ساتھ حضرت مسروق سے روایت یہ کی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر پر موت کے آثار شروع ہوئے تو صدیقہ عائشہ کو بلایا، وہ پہنچیں تو یہ حالت دیکھ کر بےساختہ ایک شعر زبان سے نکلا۔ اذا حشرجت یوما و ضاق بھا الصدر ”یعنی جب روح ایک دن مضطرب ہوگی اور سینہ اس سے تنگ ہوجائے گا“ حضرت صدیق اکبر نے سنا تو فرمایا کہ تم نے فضول یہ شعر پڑھا، یوں کیوں نہ کہا (وَجَاۗءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بالْحَقِّ ۭ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قیامت ایک شدنی ہے وجآءت سکرۃ الموت بالحق ط ذلک ماکنت منہ تحید 19 حق سے مراد ہی قیامت ہے جس کی قرآن خبر دے رہا تھا اور جس کی تکذیب کا ذکر اوپر آیت 5 میں گزر چکا ہے چونکہ وہ ایک شدنی اور ایک اٹل حقیقت ہے، اس وجہ سے اس کو حق سے تعبیر فرمایا ہے۔ مضای کا صیغہ اس کی قطعیت کے اظہار کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو بہت دور نہ خیال کرو بلکہ ایک آئی ہوئی چیز سمجھو۔ جتنے دن زندگی کے باقی ہیں بس اتنی ہی دیر قیامت کے آنے میں ہے۔ جونہی موت کی بےہوشی طاری ہوئی قیامت گویا اس کے ساتھ ہی لگی کھڑی ہے۔ اس وقت صورت حال خود تمہیں بتا دے گی کہ جس چیز سے تم کتراتے رہے تھے بالآخر وہ آہی گی۔ قیامت ہر آدمی کی موت کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–20

19۔ 1 تَحِیْدُ ، تَمِیْلُ عَنْہُ وَتَفِرُّتو اس موت سے بدکتا اور بھاگتا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–21

7: یعنی جب قبروں سے نکل کر انسان میدان حشر کی طرف جائیں گے تو دو فرشتے ہر ایک کے ساتھ ہوں گے، ان میں سے ایک تو انہیں میدان حشر کی طرف ہانک کرلے جائے گا، اور ایک فرشتہ اس لئے ہوگا کہ وہ حساب و کتاب کے وقت اس کے اعمال کی گواہی دے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ وہی دو فرشتے ہوں گے جو دنیا میں اس کا اعمال نامہ لکھا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ تو ہیں کتاب زندگی کے صفحات اور آخری صفحہ اس دنیا کی زندگی کا الٹایا جا رہا ہے۔ وجاءت سکرۃ ۔۔۔۔۔ منہ تحید (50 : 19) ” پھر دیکھو ، وہ موت کی جان کنی حق لے کر آپہنچی ، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا “۔ موت وہ حقیقت ہے جس سے اللہ کی تمام مخلوقات ڈرتی ہے۔ اور ہر شخص موت کا تصور اپنے ذہن سے محو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن یہ کس طرح ممکن ہے۔ موت ایک ایسا طلبگار ہے جو مطالبے سے تھکتا نہیں۔ یہ اپنی رفتار سے انسان کے قریب ہوتی رہتی ہے۔ اور اس کے قدموں کی رفتار کبھی سست نہیں پڑتی ۔ اور اس کے مقررہ وقت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ موت کے آخری لمحات جنہیں سکرات الموت کہا جاتا ہے۔ اس کے تصور ہی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی لو ! ادھر مسل تیار ہوئی، ادھر موت کی گھڑی آپہنچی۔ اور مرنے والا نزع کی بیہوشیوں اور جاں کنی کی سختیوں میں ڈبکیاں کھانے لگا۔ اس وقت وہ سب سچی باتیں نظر آنا شروع ہوگئیں جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی تھی۔ اور میت کی سعادت و شقاوت سے پردہ اٹھنے لگا اور ایسا پیش آنا قطعی اور یقینی تھا۔ کیونکہ حکیم مطلق کی بہت سی حکمتیں اس سے متعلق تھیں۔ 7 یعنی آدمی نے موت کو بہت کچھ ٹلانا چاہا۔ اور اس ناخوشگوار وقت سے بہت کچھ بھاگتا اور کتراتا رہا پر یہ گھڑی ٹلنے والی کہاں تھی۔ آخر سر پر آکھڑی ہوئی کوئی تدبیر اور حیلہ دفع الوقتی کا نہ چل سکا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19{ وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّط } ”اور بالآخر موت کی بےہوشی کا وقت آن پہنچا ہے حق کے ساتھ۔“ موت کا آنا تو قطعی اور برحق ہے ‘ اس سے کسی کو انکار نہیں۔ اللہ کے منکر تو بہت ہیں لیکن موت کا منکر کوئی نہیں۔ { ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ۔ } ”یہی ہے نا وہ چیز جس سے تو بھاگا کرتا تھا !“ اس بات کا انسان کی نفسیات کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یہ ہر انسان کی نفسیاتی کمزوری ہے کہ موت کو برحق جانتے ہوئے بھی وہ اس کے تصور کو حتی الوسع اپنے ذہن سے دور رکھنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ وقتی طور پر اگر کسی عزیز کی موت اور تجہیز و تکفین کے موقع پر اپنی موت اور قبر کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آتا بھی ہے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

22 موت پر سب حقائق کا انکشاف :۔ اس کے دو مطلب ہیں یعنی موت، اس کی بےہوشیاں اور سختیاں تو وہ ان سب حقیقتوں کو ساتھ ہی لے آئیں جن کی انبیائے کرام (علیہم السلام) اطلاع دیتے رہے۔ موت کے ساتھ ہی اسے معلوم ہوجائے گا کہ جس محاسبہ اور برے انجام سے وہ ڈرایا کرتے تھے اس کا آغاز ہوگیا ہے۔ موت کا فرشتہ، دیکھتے ہی اس پر سب پیش آنے والی حقیقتیں ظاہر ہونے لگیں گی۔ 23 حاد بمعنی سیدھے راستے سے پہلو تہی کرنا، کنی کترانا، سمت بدل لینا اور دور بھاگنا ہے۔ سیدھا راستہ پیغمبروں نے یہ بتایا تھا کہ تمہیں مر کر دوبارہ جی اٹھنا ہے اور تمہارا محاسبہ ہونے والا ہے۔ تو اس بارے میں مشکوک ضرور تھا۔ تیرے نزدیک دونوں احتمال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

14۔ یعنی موت کی بیہوشی کا آنا تو بالکل برحق ہے۔ (آیت) ” سکرۃ “۔ کے معنی بیہوشی کے ہیں۔ السکرحالۃ تعترض بین المرء وعقلہ (راغب) اس ایک ذرا سے لفظ کے اندر موت کی پوری حقیقت آگئی، موت بذات خود کوئی ڈرنے کی چیز نہیں۔ وہ تو نیند کی طرح صرف ایک احسان وادراک کے ذہول کا نام ہے، فرق یہ ہے کہ نیند کی کیفیت ہلکی اور عارضی ہوتی ہے اور موت کی یہ کیفیت مستقل اور زیادہ قومی ہوگی، اس کو ” بیہوشی “۔ حواس دنیوی کی نسبت اور تعلق سے کہا گیا ہے ورنہ اس موت ناسوتی کے طاری ہونے میں معادوسرے اور ان سے کہیں لطیف و برتر قسم کے ہوش و حواس عطا ہوجاتے ہیں۔ 15۔ یعنی اس وقت کی آمد سے وحشت کرتا تھا۔ اور اس سے کترا کر نکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 18–29

انسان کا ہر قول رکارڈ کیا جاتا ہے : مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگران فرشتہ محفوظ نہ کرلیتا ہو، حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ اور قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ صرف وہ کلمات لکھتے ہیں کہ جن میں کوئی ثواب یا عقاب کی بات ہو۔ علی بن ابی طلحہ نے ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فرمائی جس میں یہ دونوں قول جمع ہوجاتے ہیں، اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو ہر کلمہ لکھا جاتا ہے خواہ اس میں کوئی ثواب و عقاب کی بات ہو یا نہ ہو، مگر ہفتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجاءت سکرۃ الموت بالحق ذلک ما کنت منہ تحید اور موت کی سختی قریب آپہنچی یہ موت وہی ہے جس سے تو بدکتا تھا سَکْرَۃُ الْمَوْتِ : موت کی بیہوشی اور سختی جو آدمی پر چھا جاتی ہے اور اس کی عقل کو زائل کردیتی ہے۔ ان آیات میں جَآءَ تْ اور نُفِخَ اور کَشَفْنَا کے تمام صیغے ماضی کے ذکر کیے گئے ‘ حالانکہ یہ واقعات مستقبل میں پیش آئیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واقعات یقینی ہیں ‘ ضرور پیش آئیں گے اور ایسے موقع پر ماضی کا صیغہ استعمال کرنے سے اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ یہ واقعات اتنے یقینی الوقوع ہیں کہ گویا ان کا وقوع ہو ہی گیا۔ بِالْحَقِّ : ب تعدیہ کے لیے ہے بالحق جآءت کا مفعول بہ ہے۔ دنیا اور دنیا کی ہر چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 18–19

(18۔ 19) کہ انسان کوئی لفظ بھی منہ سے نکالنے نہیں پاتا خواہ نیک ہو یا برا مگر اس کے پاس ایک تاک لگانے والا موجود رہتا ہے کہ دائیں طرف کا فرشتہ نیکی اور بایاں فرشتہ بدی لکھتا رہتا ہے موت کی سختی شقاوت اور سعادت کے ساتھ آپہنچی یہ وہ چیز ہے کہ جس سے تو اے انسان بدکتا اور بھاگتا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وجآء ت سکرۃ الموت : یہ ذکر کرنے کے بعد کہ انسان جو کچھ کرتا ہے سب اللہ کو معلوم ہے اور انسان کی کتاب اعمال میں بھی لکھا ہوا اور محفوظ ہے اور اس کے سامنے پیش آنے والا ہے، اب اس حقیقت کے انسان کے سامنے آنے کے دو وقت بیان فرمائے، پہلا موت کا وقت اور دوسرا قیامت کا وقت۔ اس آیت میں موت کا ذکر ہے، موت کی بےہوشی سے مراد اس کی سختی اور شدت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں موت اور قیامت کے لئے ماضی کے صیغے استعمال فرمائے ہیں یعنی ”وجآء ت سکرۃ الموت“ (اور موت کی بےہوشی آگئی) اور ”نفخ فی الصور“ (اور صور میں پھونکا گیا) حالانکہ یہ کام آئندہ ہونے والے ہیں، تو مقصد وہ نقشہ سامنے لانا اور یہ باور کروانا ہے کہ ان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 16–19

16 ۔ 19:۔ ولقد خلقنا الانسان، الانسان سے مراد لوگ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ ونعلم ماتوسوس بہ لفسہ یعنی اس کے سر، اس کے دل اور ضمیر میں جو کھٹکتا ہے۔ اس میں ان نافرمانیوں پر جھڑ کا جا رہا ہے جن کو انسان چھپاتا ہے۔ جس نے کہا : انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذات ہے تو نفس نے جو وسوسہ ڈالا تھا وہ درخت سے کھانا تھا۔ پھر ان کی اولاد کے لئے عام ہے۔ وسوسہ سے مراد حدیث نفس ہے جو نفی کلام کے قائم مقام ہوتی ہے۔ اعمش نے کہا : تسمع للحلی و سواسا اذا انصرفت جب وہ واپس جاتی ہے تو تو زیورات کی خفی آواز سنتا ہے۔ سورة الاعراف میں معنی گزر چکا ہے۔ ونحن اقرب الیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–20

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے بیان کیا کہ (آیت ) '' وجآءت سکرۃ الموت بالحق '' (اور موت کی سختی قریب آپہنچی سے مراد ہے موت کی شدت۔ رسول اللہ ﷺ پر موت کی سختی : 2:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والبخاری والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے آگے لکڑی یا چمڑے کا ایک برتن پڑا ہوا تھا جس میں پانی ہوتا تھا آپ اپنا ہاتھ مبارک پانی میں ڈالتے تھے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرہ مبارک پر پھیرتے تھے اور مسح کرتے تھے اور فرماتے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں بلاشبہ یہ موت کی سختیاں ہیں۔ 3:۔ الحاکم (وصححہ) نے قاسم بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ (آیت ) '' وجآءت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَجَاۗءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ [اور آئی موت کی مدہوشی ] بِالْحَقِّ ۭ [ حق کے ساتھ ] ذٰلِكَ مَا [ یہ وہ ہے ] كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ [ تو جس سے کنی کتراتا تھا ] ح ی د : (ض) حیدا کسی چیز سے ہٹنا ۔ پہلو تہی کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 19 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

موت کی سختی کا تذکرہ : چوتھی آیت میں موت کی سختی کا تذکرہ فرمایا ہے ﴿ وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بالْحَقِّ 1ؕ﴾ (اور حق کے ساتھ موت کی سختی آجائے گی) ۔ ﴿ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ 0019﴾ (نافرمان لوگ جو موت سے گھبراتے ہیں ان سے کہا جائے گا دیکھو یہ وہ موت ہے جس سے تم بچتے اور گھبراتے تھے آخر اس نے تمہیں پکڑ ہی لیا، اللہ تعالیٰ نے جو موت آنے کا فیصلہ فرما دیا ہے اس سے کسی کو چھٹکارہ نہیں اس کے بعد جو برزخ اور حشر کے احوال ہیں وہ بھی انسانوں پر گزریں گے ان سے بھی چھٹکارہ نہیں آئندہ آیات میں ایام قیامت کے بعض مظاہر بیان فرمائے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

کمال قدرت خداوندی از روئے علم واحاطہ باحوال انسانی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد خلقنا الانسان ...... الی ..... وما انا بظلام للعبید “۔ (ربط) ما قبل آیات میں منکرین حشر ونشر کا ذکر تھا اسی کے ساتھ پہلی امتوں کی عبرت ناک تاریخ دہرائی گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں مختلف انواع و اقسام کے عذاب ان پر نازل ہوئے اور ان کو ہلاک کردیا گیا تو اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ومخالفت کرنے والی قوم کفار قریش کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے سزا دنیا چوں کہ دو چیزوں پر موقوف ہے ایک علم پر کہ مجرم کے جرم کا علم ہو دوسرے قدرت پر کہ مجرم کو سزا دینے پر قادر ہو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–21

11:۔ ” وجاءت۔ الایۃ “ یہ سکرات الموت کا منظر ہے۔ ذلک سے پہلے یقال لہ مقدر ہے۔ بالھق ای حقیقۃ الامر (بیضاوی) ۔ یعنی موت کی شدت حقیقۃ اور واقعۃ ضرور آئے گی اس وقت منکرین بعث سے کہا جائے گا کہ یہی وہ موت ہے جس سے تم بھاگتے تھے اور جو قیامت اور حشر و نشر کا دیباچہ ہے۔ ” ونفخ فی الصور الخ “ اس کے بعد صورت پھونکا جائیگا اور یہ وعید عذاب کے پورا ہونے کا دن ہوگا۔ اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے جس سے ساری مخلوق ایک دم جی اٹھے گی۔ ” وجاءت کل نفس۔ الایۃ “ اس کے بعد ہر شخص میدانِ حشر میں حاضر ہوگا اور ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے ایک اسے میدان حشر کی طرف لے کر جائیگا اور دوسرا اس کے اعمال کا گواہ ہوگا۔ ایک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–22

ربط آیات پہلے اللہ نے نبوت و رسالت کے منکرین کا شکوہ کیا ، پھر قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس پر عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ پھر عبرت کے طور پر اللہ نے چند سابقہ اقوام کا حال ذکر کیا کہ انہوں نے نبوت و رسالت اور وقوع قیامت کو جھٹلایا تو ان کا انجام بھی بہت برا ہوا ۔ اللہ کا ڈرانا بر حق ثابت ہوا اور یہ لوگ مبتلائے عذاب ہوئے وقوع قیامت اور بعث بعد الموت کے متعلق فرمایا کہ کیا ہم مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کر کے تھک گئے تھے کہ دوبارہ پیدا کرنا محال ہوجائے گا ؟ اس میں کون سی خلاف عقل اور تعجب انگیز بات ہے ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَاۗءَتْ سَكْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ۝ 0 ۭ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْہُ تَحِيْدُ۝ 19 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–19

ترکیب : ونعلم حال مقدرۃ بتقدیرنحن ویجوزان یکون مستانفاً ، والضمیر فی بہ یرجع الی ما ان جعلت موصولۃ والباء زائدۃ کمافی قولہ صوت بکذا اوللتعدیۃ او یرجع الی الانسان ان جعلت مامصدریہ۔ والباء للتعدیۃ۔ والوسوستہ الصوت الخفی والمراد بھاھھنامایتختلج فی قلبہ اذا مقدرباذکر اومتعلق باقرب اوبنعلم قعید فعیل یطلق علی الواحد والمتعدد۔ مبتدء عن الیمین عن الشمال خبرہ۔ بالحق حال او مفعول۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا۔ انسان کے حال سے اب اپنے بےانتہا علم وقدرت پر دلیل لاتا ہے۔ انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اس لیے آسمانوں و زمین کو ایک جگہ اور ان کے مقابلہ میں دوسری جگہ اس کو ذکر کیا۔ اور درحقیقت انسان خدائے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ط ذٰلِکَ مَاکُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ ۔ (قٓ: 19) (اور موت کی جاں کنی حق لے کر آگئی، یہ ہے وہ چیز جس سے تو بھاگتا تھا۔ ) قیامت کی ایک شہادت حق سے مراد وہی قیامت ہے جس کی خبر دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول تشریف لاتے ہیں اور مخالفین ہمیشہ اس کا انکار کرتے ہیں۔ مخالفین کے اشکالات کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ زندگی میں تم جیسے چاہو قیامت کا انکار کرو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی موت آتی ہے اور نزع کا کیفیت طاری ہوتی ہے۔ اس جاں کنی کے وقت میں انسان کو ان حقائق کا ادراک ہونے لگتا ہے جن کا وہ انکار کرتا تھا۔ وہ اپنے سامنے موت کے فرشتوں کو دیکھتا ہے، اسے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–23

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قربت اور قدرت کا ذکر فرما کر انسان کو نیک بنانے کی کوشش فرمائی ہے مگر اکثر انسان اپنے رب کے تابعدار بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہاں تک کہ موت انہیں آلیتی ہے۔ موت برحق ہے جو نہ نیک کو چھوڑتی ہے اور نہ برے آدمی سے ٹلتی ہے۔ ہر انسان کو موت کے وقت اپنے کیے کا احساس ہوتا ہے۔ انسان جب اپنی موت کو اپنے سامنے دیکھتا ہے تو پھر اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اب میرا بچنا محال ہے۔ اس وقت دل ہی دل میں آرزو کرتا ہے کہ کاش مجھے مہلت مل جائے اور میں اللہ کی راہ میں صدقہ دے کر اپنے آپ کو بچا سکوں۔ لیکن جب موت وارد ہوتی ہے تو وہ کسی کو ایک لمحہ بھی مہلت نہیں دیتی۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

علم وقدرت کے بعد مقدمہ قیامت کو ذکر کیا : آیت 19 : جب ان کے انکار بعث کا تذکرہ ہوچکا۔ تو اپنے علم وقدرت سے ان پر حجت قائم کی۔ اور ان کو خبردار کیا کہ وہ جس کا انکار کر رہے ہیں عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے کہ موت اور قیام ساعت کے وقت ان کے پاس کچھ بھی طاقت نہ ہوگی۔ ایسے وقت کے قریب آجانے پر ان کو متنبہ کرتے ہوئے لفظ ماضی سے تعبیر فرمائی۔ وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ (اور موت کی سختی آپہنچی) سکرت سے ایسی شدت مراد ہے جو عقل کو ہو ّا کر دے۔ بِالْحَقِّ (حقیقۃً ) واقع میں یا حکمت کے ساتھ۔ باء تعدیہ ہے یہ مفعول ہے۔ ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ (یہ وہ ہے جس سے تو بدکتا تھا) ذلک کا مشارٌ الیہ موت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18 ۔” ما یلفظ من قول “ کوئی کلام نہیں کرتا۔ پس اس کو اپنے منہ سے پھینک دے۔ ” الا لدیہ رقیب “ حفاظت کرنے والا۔ ” عتید “ حاضر جہاں بھی ہو۔ حسن (رح) فراتے ہیں کہ فرشتے انسان سے دو حالتوں میں الگ ہوتے ہیں اس کے قضائے حاجت کے وقت اور اس کے جماع کرنے کے وقت اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ دونوں سب کچھ لکھتے ہیں حتیٰ کہ حالت مرض میں اس کی آہ وبکاء بھی اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ صرف وہی لکھتے ہیں جس پر اجر ملنا ہو یا گناہ ملنا ہو اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ ان کی مجلس بالوں کے نیچے گلے پر ہے اور اس کی مثل حسن (رح) سے ہے اور حسن (رح) کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ وہ بچہ داڑھی کو صاف رکھیں۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–22

16۔ 22۔ اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ انسان کے مرجانے کے بعد جنگل میں دریا میں جہاں کہیں اس کی خاک ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی جگہ کی خاک باہر نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا کہ خاک تو ظاہر آنکھوں سے نظر آتی ہوئی چیز ہے اللہ تعالیٰ کا علم تو ایسا بڑا ہے کہ وہ انسان کے دل کے خطرے تک کو جانتا ہے۔ صحیح مسلم 3 ؎ کی حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ ہر ایک انسان کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات رہتا ہے فرشتہ نیک کام کرنے کا خیال دل میں ڈالتا رہتا ہے اور شیطان بد کام کرنے کا وسوسہ ڈالتا رہتا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس صحیح حدیث کو اس آیت کی تفسیر قرار دیا ہے اور معنی آیت کے یہ کئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 19–22

(وجاء ت) ” اور آئی “ یعنی اس غافل اور آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والے کے پاس (سکرۃ الموت بالحق) ” موت کی بےہوشی حق کے ساتھ “ جس سے لوٹنا اور بچنا ممکن نہیں۔ (ذلک ماکنت منہ تحید) یہ وہی چیز ہے جس سے پیچھے ہٹتے اور اس سے دور بھاگتے تھے۔ (ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید) ” اور صور میں پھونکا جائیگا، یہی وعید کا دن ہے۔ “ یہ وہ دن ہے جس دن ظالموں کو عذاب دیا جائے گا، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا اور مومنوں کو ثواب عطا کیا جائے گا جس کا اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ (وجاءت کل نفس معھا سائق) ” اور ہر شخص آئے گا، ایک اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا۔ “ جو اسے قیامت کے میدان کی طرف ہانک کرلے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 25] " سکرَۃُ الْمَوْت " کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے موت کی تذکیر و یاددہانی اور اس وقت انسان کی حالت کا ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ غافل و بےفکر انسان چونک کر اٹھ کھڑا ہو اور اس کے لئے تیاری کی فکر و کوشش میں لگ جائے، سو ارشاد فرمایا گیا اور آگئی موت کی سختی حق کے ساتھ اور اس وقت منکر انسان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس سے تو بھاگتا اور کترایا کرتا تھا اور تو چاہتا تھا کہ موت نہ آئے اور تو اسی طرح دنیا کے مزے اڑاتا اور خرمستیاں کرتا رہے، اور ہر کافر و منکر اور دنیا دار انسان کا یہی حال ہوتا ہے کہ یہ دنیا ہی اس کیلئے جنت ہے، بخلاف مومن صادق کے، کہ اس کیلئے یہ دنیا تو ایک قید خانہ ہے جس سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–29

آیات 16 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے انسان کو پیدا کیا اس کی ایک ایک صفت اس میں پیدا کی لہذا اس کے دل میں بھی جو خیال گزرتا ہے ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ شہ رگ سے قریب تر ہونا۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مفسرین کرام کے مطابق یہاں قرب علمی مراد ہے کہ بات اس کے احوال اور دل میں گزرنے والے خیالات تک کی ہورہی ہے قرب مسافت مراد نہیں کہ اس کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے مگر تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ احاطہ عملی بھی ہر شے سے ہے اور انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال بلاکیف موجود ہے جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا جس کے دلائل قرآن حدیث میں موجود ہیں اور جس پر مولوی رومی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی آخرت کی جن باتوں کی انبیاء (علیہم السلام) نے خبر دی تھی موت آتے ہی بندہ انہیں آنکھوں سے دیکھنا شروع کر دے گا اور ان کے بارے میں اسے کسی قسم کا شبہ نہ رہے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:19) سکرۃ الموت مضاف مضاف الیہ۔ سکرۃ بےہوشی، مدہوشی، موت کی سختی جو آدمی پر چھا جاتی ہے اور اس کی عقل کو زائل کردیتی ہے۔ بالحق : ب تعدیہ کے لئے ہے بالحق جاءت کا مفعول یہ ہے ۔ موت کی بیہوشی حقیقت لے کر آئے گی۔ دنیا کی ہر چیز بےاصل اور بےحقیقت ہے مرنے کے بعد جو احوال اور واقعات پیش آئیں گے وہ مبنی بر حقیقت اور محقق ثابت ہیں۔ ذلک : یعنی یہ موت اور اس کے بعد کی حقیقتیں۔ ما موصولہ اگل اجملہ اس کا صلہ منہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب موت کیلئے ہے۔ تحید۔ مضارع واحد مذکر حاضر حید (باب ضرب) مصدر۔ کنارہ کرنا۔ مڑنا۔ کنت منہ تحید۔ جس سے تو کنارہ کیا کرتا تھا اور بھاگا کرتا تھا۔ یہاں خطاب مطلق انسان سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–29

لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 29 : توسوس (چپکے سے وسوسہ ڈالتا ہے) ‘ حبل الورید (شہہ رگ) ‘ قعید (بیٹھا ہوا) ‘ ما یلفظ ( کوئی لفظ نہیں نکلتا) ‘ رقیب (نگہبان۔ نگرانی کرنے والا) سکرۃ الموت (موت کی بےہوشی) ‘ تحید (کتراتا ہے) ‘ یوم الوعید ( ڈرنے کا دن) ‘ سائق (چلانے والا) ‘ غطائ (پردہ) ‘ حدید (بہت تیز) ‘ قرین (ساتھی) ‘ لدی (میرے پاس) القیا (تم دونوں ڈال دو ) ‘ عنید (ضدی) ‘ مناع ( روکنے والا) ‘ معتد (حد سے آگے بڑھ جانے والا) ‘ مریب (شک و شبہ ڈالنے والا) ‘ اطغیت (میں نے سرکشی کی) ‘ لاتختصموا (تم نہ جھگڑو) ۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 29 : ان آیات میں موت اور قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–19

(ف 1) اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا، کہ انسان کے مرجانے کے بعد جنگل میں ، دریا میں، جہاں کہیں اس کی خاک ہوگی، اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی جگہ کی خاک باہر نہیں ہے، ان آیتوں میں فرمایا کہ خاک تو ظاہر آنکھوں سے نظر آتی ہوئی چیز ہے، اللہ تعالیٰ کا علم تو ایسا بڑا ہے کہ وہ انسان کے دل کے خطرہ تک کو چاہتا ہے ، اللہ کا علم اس کی قدرت آدمی کو گھیرے ہوئے ہے ہر ہر ذرہ میں آدمی کے ہر رونگٹے میں جلوہ گر ہے پھر اس سے بھاگ کر آدمی کہاں جائے گا، آگے فرمایا کہ بندہ خدا کو دور جانتا ہے خیال کرتا ہے کہ اس کی بری باتوں کو کون دیکھے گا کون پرسش کرے گا، حالانکہ خدا کے دو موکل فرشتے ہر دم ساتھ ہیں، وہ جو کام کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] یعنی وہ سب سچی باتیں ظاہر ہونا شروع ہوگئیں جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی تھی اور میت کی سعادت یا شقاوت سے پردہ اٹھنے لگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–21

اس وقت آنکھیں کھلیں گی ؟ 1: دلائل کی قسموں میں سے ایک قسم یہ ہے ۔ کہ مدلول کو اس طرح ممثل اور واضح کرکے پیش کیا جائے ۔ کہ اس کے سب امکانات خود بخود روشن ہوجائیں قرآن حکیم نے اثبات دعویٰ کے لئے اکثر اس نوع کے دلائل سے کام لیا ہے اس کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ سننے والا کم ازکم نفیس واقعہ کی ضروری تفصیلات سے آگاہ ہوجاتا ہے اور اس کو معلوم ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کو پیش کرنے والا اس کا کامل مرقع اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے ۔ اور وہ ایسی چیز کی طرف دعوت نہیں دے رہا ہے ۔ کہ جس کو وہ خود پوری طرح نہ سمجھتا ہو ۔ پھر بعض طبائع جن میں قبولیت کی صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں ۔ وہ اس عبرت آفرین توضح وتشریح کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) اور موت کی سختی اور بےہوشی حقیقتہً قریب آپہنچی یہی تو وہ چیز ہے جس سے تو بچتا اور بدکتا پھرتا تھا۔ یعنی یہ لوگ تو دوبارہ زندہ ہونے کو بہت بعید کہتے ہیں حالانکہ اس کے آثار اور اس کی ابتداء تو موت سے ہی شروع ہوجاتی ہے اور وہ حقیقتہً قریب ہے یا یہ مطلب ہے کہ موت کی بےہوشی بہت حقائق اور امور داقعیہ کو اپنے ساتھ لے آئی اور جو چیزیں موت کے بعدآنے والی ہیں اور آخرت میں جو احوال اور جو اہوال پیش آنے والے ہیں وہ ظاہر ہونے شروع ہوجائیں گے۔ اور یہ جو فرمایا ذلک ماکنت منہ تحید اگر یہ صرف منکر قیامت کو کہا جائے تب تو ظاہر ہے کہ کافر موت سے بہت گھبراتا ہے اور اگر عام لیا جائے تو یہ اس لئے فاسق فاجر…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موت کی بےہوشی تو ہر حال میں آکر رہے گی اور یہ وہی ہے جس کا تو انکار کرتا تھا 19 ۔ موت انسان کا وہ ساتھی ہے جو پیدا ہوتے ہی اس کے ساتھ موجود ہے اور ہر حال موجود رہتا ہے تا آنکہ اس کے ظاہر ہونے کا وقت جو مقرر ہے آجاتا ہے اور اس کو اللہ کے حکم سے دبوچ لیتا ہے اور اس دبوچ لینے کی سختی اور شدت کو (سکرۃ الموت) کا نام دیا گیا ہے اور اس کو ” جان کنی “ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اس کے اچانک آجانے کا وقت کتنا ہی کم کیوں نہ ہو تاہم ایک لحظ بھی نہایت شدت کا لحظ ہوتا ہے اور اگر ٹائم ذرا لمبا ہوجائے تو جو کیفیت ہوتی ہے وہ بھی بیان اور تحریر میں احاطہ نہیں کی جاسکتی ۔ ( جاء ت) ماضی ہے اور یہ واقعہ مستقبل کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–20

Daze of Death وَجَاءَتْ سَكْرَ‌ةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ (And the daze of death has [ to ] come with truth. That is what you tried to escape...50:19) The phrase sakrat-ul-maut denotes the agony and the stupor or daze of death that a dying person experiences. Abu Bakr Ibn-ul-Anbari (رح) with his own transmitting authorities reports from Masruq that when the signs of death appeared on Sayyidna Abu Bakr Siddiq ؓ ، Siddiqah ` A'ishah ؓ was called. She came and when she saw her father's condition, she spontaneously versified and recited: اذا حَشرَجَت یَوماً وَ ضاقَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

22 "To come with the truth" implies that the agony of death is the starting point when the reality which had remained concealed in the world, begins to be uncovered. At this point man starts seeing clearly the other world of which the Prophet had forewarned him. Here, man also comes to know that the Hereafter is the very truth, and also this whether he is entering this second stage of life as favored or damned. 23 That is, "This is the same reality which you refused to believe. You desired that you should live and go about as an unbridled rogue in the world, and there should be no other life…

Read the full tafseer →