Explained with ayahs 16–22
دائیں اور بائیں دو فرشتے
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہی انسان کا خالق ہے اور اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے یہاں تک کہ انسان کے دل میں جو بھلے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں انہیں بھی وہ جانتا ہے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل میں جو خیالات آئیں ان سے درگذر فرما لیا ہے جب تک کہ وہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ کریں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں یعنی ہمارے فرشتے اور بعض نے کہا ہے ہمارا علم ان کی غرض یہ ہے کہ کہیں حلول اور اتحاد نہ لازم آجائے جو بالاجماع اس رب کی مقدس ذات سے بعید ہے اور وہ اس سے بالکل پاک ہے لیکن لفظ کا اقتضاء یہ نہیں ہے اس لئے کہ…
Read the full tafseer →سورة قٓ 24
اس سے مراد وہ نفخ صور ہے جس کے ساتھ ہی تمام مرے ہوئے لوگ دوبارہ حیات جسمانی پا کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، الانعام، حاشیہ 47۔ جلد دوم، ابراہیم، حاشیہ 57۔ جلد سوم، طہٰ ، حاشیہ 78۔ الحج، حاشیہ۔ 1۔ جلد چہارم، یٰس، حواشی 46۔ 47۔ الزُّمر، حاشیہ 79۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سکرات الموت
(آیت) وَجَاۗءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بالْحَقِّ ۭ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ ، سکرة الموت کے معنی موت کی شدت اور غشی جو موت کے وقت پیش آتی ہے، ابوبکر بن الانباری نے اپنی سند کے ساتھ حضرت مسروق سے روایت یہ کی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر پر موت کے آثار شروع ہوئے تو صدیقہ عائشہ کو بلایا، وہ پہنچیں تو یہ حالت دیکھ کر بےساختہ ایک شعر زبان سے نکلا۔
اذا حشرجت یوما و ضاق بھا الصدر
”یعنی جب روح ایک دن مضطرب ہوگی اور سینہ اس سے تنگ ہوجائے گا“
حضرت صدیق اکبر نے سنا تو فرمایا کہ تم نے فضول یہ شعر پڑھا، یوں کیوں نہ کہا (وَجَاۗءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بالْحَقِّ ۭ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ…
Read the full tafseer →ونفح فی الصور ذلک یوم الوعید 20
یعنی اس کے بعد بس نفخ صور ہی کا مرحلہ ہے۔ صور پھونکا جائے گا اور وہ دن ظاہر ہوجائے گا جس سے تم کو ڈرایا جا رہا ہے اور تم اس کی تکذیب کئے جا رہے ہو۔ اس کو بھی اس کی قطعیت کے اظہار کے لئے ماضی کے صیغہ سے ادا کیا ہے تاکہ نگاہوں کے سامنے مصور ہوجائے۔ مطل بیہ ہے کہ اس مغالطہ میں نہ رہو کہ زندگی، پھر موت، پھر برزخ پھر حشر و نشر بہت دور کی بات ہے جب صور پھونکا جائے گا تو ایسا محسوس کرو گے کہ جس مدت کو تم بہت دراز سمجھتے تھے وہ پلک جھپکتے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19۔ 1 تَحِیْدُ ، تَمِیْلُ عَنْہُ وَتَفِرُّتو اس موت سے بدکتا اور بھاگتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
7: یعنی جب قبروں سے نکل کر انسان میدان حشر کی طرف جائیں گے تو دو فرشتے ہر ایک کے ساتھ ہوں گے، ان میں سے ایک تو انہیں میدان حشر کی طرف ہانک کرلے جائے گا، اور ایک فرشتہ اس لئے ہوگا کہ وہ حساب و کتاب کے وقت اس کے اعمال کی گواہی دے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ وہی دو فرشتے ہوں گے جو دنیا میں اس کا اعمال نامہ لکھا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →اب سکرات الموت سے ذرا آگے میدان حشر میں حساب و کتاب کی ہولناکیاں !
یہ ایک ایسا منظر ہے کہ اس کا ذہن میں تازہ کرنا ہی کافی ہے۔ اگر یہ تازہ کرلیا جائے تو اس زمین کی پوری زندگی احتیاط ، ڈر اور انتظار میں کٹ جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں کس طرح عیش کرسکتا ہوں جب کہ سینگ والے نے سینگ منہ کے ساتھ لگایا ہوا ہے اور اپنے ماتھے کو جھکایا ہوا اور انتظار میں ہے کہ اسے حکم دیا جائے۔ صحابہ کرام ؓ نے فرمایا پس ہم کیا کہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ، کہو۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل لوگوں نے کہنا شروع کردیا۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل (ترمذی)
Read the full tafseer →8 چھوٹی قیامت تو موت کے وقت ہی آچکی تھی۔ اس کے بعد بڑی قیامت حاضر ہے۔ بس صور پھونکا گیا اور وہ ہولناک دن آموجود ہوا۔ جس سے انبیاء و رسل برابر ڈراتے چلے آتے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 20 { وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِط ذٰلِکَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ۔ } ”اور صور میں پھونکا جائے گا ‘ یہ ہے وعدے کا دن !“
پہلے انفرادی موت کی بات کی گئی تھی۔ اب اس آیت میں پوری دنیا کی اجتماعی موت کا ذکر ہے۔ جب کسی شخص کو موت آتی ہے تو اس کے لیے تو گویا وہی قیامت ہے۔ اس لیے انسان کی انفرادی موت کو قیامت ِصغریٰ اور تمام انسانوں کی اجتماعی موت کو قیامت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ چناچہ گزشتہ آیت میں قیامت صغریٰ کا بیان تھا ‘ اب یہاں قیامت کبریٰ کا نقشہ دکھایا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →24 نفخہ صور ثانی :۔ اس سے مراد وہ نفخہ صور ہے۔ جب سب مردہ انسان اپنی اپنی قبروں سے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے یعنی قیامت کے دن جب سب انسانوں کی اللہ کے حضور پیشی ہوگی اور فیصلہ کے دن مجرموں کو عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →16۔ موت کے بعداب ذکر قیامت کا شروع ہوا۔ (آیت) ” ونفخ فی الصور “۔ نفخ صور سے یہاں مراد نفخ ثانی ہے جس سے سب مردے زندے ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–29
انسان کا ہر قول رکارڈ کیا جاتا ہے :
مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگران فرشتہ محفوظ نہ کرلیتا ہو، حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ اور قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ صرف وہ کلمات لکھتے ہیں کہ جن میں کوئی ثواب یا عقاب کی بات ہو۔
علی بن ابی طلحہ نے ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فرمائی جس میں یہ دونوں قول جمع ہوجاتے ہیں، اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو ہر کلمہ لکھا جاتا ہے خواہ اس میں کوئی ثواب و عقاب کی بات ہو یا نہ ہو، مگر ہفتہ…
Read the full tafseer →و نفخ فی الصور ذلک یوم الوعید . اور (قیامت کے دن دوبارہ) صور پھونکا جائیگا یہی دن ہوگا وعید کا
وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ : اور صور پھونکی جائے گی یعنی قبروں سے زندہ کر کے اٹھانے کے لیے صور پھونکی جائے گی۔
ذٰلِکَ : یعنی اس صور پھونکنے کا دن وعید کا دن ہوگا۔
ابو نعیم نے حلیہ میں لکھا ہے کہ عکرمہ نے کہا : جو لوگ سمندر میں ڈوب جاتے ہیں۔ لاشوں کا گوشت مچھلیاں بانٹ لیتی ہیں ‘ صرف ہڈیاں رہ جاتی ہیں ‘ سمندر کی لہریں ہڈیوں کو خشکی پر لا ڈالتی ہیں پھر ہڈیاں خشک ہو کر اتنی بوسیدہ ہوجاتی ہیں کہ ان کو اونٹ چبا جاتے ہیں اور اونٹ کے پیٹ کے اندر پہنچ کر ان کی مینگنیاں بن جاتی ہیں۔ اونٹ مینگیاں کردیتا ہے ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
(20۔ 23) اور صور پھونکا جائے گا جس سے سب زندہ ہوجائیں گے یہی اولیں و آخریں کی وعید کا دن ہوگا جس میں سب جمع کیے جائیں گے اور میدان حشر میں قیامت کے دن ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے جن میں سے وہ فرشتہ جو اس کی برائیاں لکھتا تھا وہ اسے اپنے پروردگار کی طرف ساتھ لائے گا اور دوسرا فرشتہ جو اس کی نیکیاں لکھا کرتا تھا وہ پروردگار کے سامنے اس پر گواہ ہوگا خطاب ہوگا کہ اے انسان تو اس دن سے بیخبر اور غافل تھا سو اب ہم نے تیرے اعمال پر سے پردہ غفلت ہٹا دیا جو تیرے لیے دار دنیا میں حجاب بنا ہوا تھا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے یا یہ کہ بعث بعد الموت کے بارے میں آج تو تیرا علم بڑا وسیع…
Read the full tafseer →ونفخ فی الصور…: موت کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب انسان کے سامنے یہ حقیقت کھل کر آجائے گی کہ وہ جو کچھ کرتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اور کراماً کاتبین کے ذریعے سے محفوظ ہو رہا تھا۔ یہاں صور میں پھونکے جانے سے مراد دوسری دفعہ پھونکا جانا ہے، جب ہر آدمی قبر سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوجائے گا۔“ وعید“ دھمکی اور سزا کے وعدے کو کہتے ہیں، یعنی تمہیں نافرمانی پر جو وعید سنائی گئی تھی یہ اس کے پورے ہونے کا دن ہے۔“ نفح صور“ کے لئے دیکھیے سورة ابراہیم (47 تا 51) طہ (102) ، حج (1) ، یٰسین (51) اور سورة زمر (68)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
20 ۔ 22:ـ'' اور صور پھونکا جائے گا یہی وعید کا دن ہوگا اور حاضر ہوگا ہر شخص اس طرح کہ اس کے ہمراہ ایک (اسے) ہانکنے والا اور ایک گواہ ہوگا۔ تو عمر بھرغافل رہا اس دن سے پس ہم نے اٹھا دیا ہے تیری آنکھوں سے تیرا پردہ سو تیری بینائی بڑی تیز ہے۔ و نفخ فی الصور اس ففحہ سے مراد دوسرا نفحہ ہے جو دوبارہ اٹھانے کے لئے ہوگا۔ ذلک یوم الوعید۔ یعنی وہ دن جس کی اللہ تعالیٰ نے کفار کو دھمکی دی ہے کہ اس دن میں اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دے گا۔ صورپھونکنے کے بارے میں گفتگو پہلے مفصل گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔
وجاءت کل نفس معھا ساء یق و شہید، ساء یق اور شہید میں اختلاف کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سائق فرشتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے بیان کیا کہ (آیت ) '' وجآءت سکرۃ الموت بالحق '' (اور موت کی سختی قریب آپہنچی سے مراد ہے موت کی شدت۔
رسول اللہ ﷺ پر موت کی سختی :
2:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والبخاری والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے آگے لکڑی یا چمڑے کا ایک برتن پڑا ہوا تھا جس میں پانی ہوتا تھا آپ اپنا ہاتھ مبارک پانی میں ڈالتے تھے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرہ مبارک پر پھیرتے تھے اور مسح کرتے تھے اور فرماتے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں بلاشبہ یہ موت کی سختیاں ہیں۔
3:۔ الحاکم (وصححہ) نے قاسم بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ (آیت ) '' وجآءت…
Read the full tafseer →وَنُفِخَ [ اور پھونکا جائے گا ] فِي الصُّوْرِ ۭ [ صور میں ] ذٰلِكَ [ (پھر کہا جائے گا ) یہ ہے ] يَوْمُ الْوَعِيْدِ [ وعدہ (عذاب ) کا دن ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
نفخ صور اور میدان حشر میں حاضر ہونے والوں کا ذكر
ان آیات میں نفخ صور اور اس کے بعد کے بعض حالات ذکر فرمائے ہیں ارشاد فرمایا ﴿ ذٰلِكَ يَوْمُ الْوَعِيْدِ 0020﴾ (یہ وہ دن ہوگا جس میں وعید کا ظہور ہوگا) یعنی دنیا میں جو وعیدیں بتادی گئی تھیں آج ان کا ظہور ہوگا۔ ﴿ وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآىِٕقٌ وَّ شَهِيْدٌ0021﴾ (اور ہر شخص اس حالت میں حاضر ہوگا کہ اس کے ساتھ ایک سائق اور ایک شہید ہوگا) سائق ساتھ لانے والا فرشتہ اور شہید گواہی دینے والا فرشتہ۔
صاحب روح المعانی نے یہ تفسیر حضرت عثمان ؓ سے نقل کی ہے اور حافظ ابو نعیم کی کتاب حلیۃ الاولیاء سے حدیث مرفوع نقل کی ہے کہ یہ وہی دو فرشتے ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
کمال قدرت خداوندی از روئے علم واحاطہ باحوال انسانی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد خلقنا الانسان ...... الی ..... وما انا بظلام للعبید “۔
(ربط) ما قبل آیات میں منکرین حشر ونشر کا ذکر تھا اسی کے ساتھ پہلی امتوں کی عبرت ناک تاریخ دہرائی گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں مختلف انواع و اقسام کے عذاب ان پر نازل ہوئے اور ان کو ہلاک کردیا گیا تو اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ومخالفت کرنے والی قوم کفار قریش کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے سزا دنیا چوں کہ دو چیزوں پر موقوف ہے ایک علم پر کہ مجرم کے جرم کا علم ہو دوسرے قدرت پر کہ مجرم کو سزا دینے پر قادر ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
11:۔ ” وجاءت۔ الایۃ “ یہ سکرات الموت کا منظر ہے۔ ذلک سے پہلے یقال لہ مقدر ہے۔ بالھق ای حقیقۃ الامر (بیضاوی) ۔ یعنی موت کی شدت حقیقۃ اور واقعۃ ضرور آئے گی اس وقت منکرین بعث سے کہا جائے گا کہ یہی وہ موت ہے جس سے تم بھاگتے تھے اور جو قیامت اور حشر و نشر کا دیباچہ ہے۔ ” ونفخ فی الصور الخ “ اس کے بعد صورت پھونکا جائیگا اور یہ وعید عذاب کے پورا ہونے کا دن ہوگا۔ اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے جس سے ساری مخلوق ایک دم جی اٹھے گی۔ ” وجاءت کل نفس۔ الایۃ “ اس کے بعد ہر شخص میدانِ حشر میں حاضر ہوگا اور ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے ایک اسے میدان حشر کی طرف لے کر جائیگا اور دوسرا اس کے اعمال کا گواہ ہوگا۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
ربط آیات
پہلے اللہ نے نبوت و رسالت کے منکرین کا شکوہ کیا ، پھر قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس پر عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ پھر عبرت کے طور پر اللہ نے چند سابقہ اقوام کا حال ذکر کیا کہ انہوں نے نبوت و رسالت اور وقوع قیامت کو جھٹلایا تو ان کا انجام بھی بہت برا ہوا ۔ اللہ کا ڈرانا بر حق ثابت ہوا اور یہ لوگ مبتلائے عذاب ہوئے وقوع قیامت اور بعث بعد الموت کے متعلق فرمایا کہ کیا ہم مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کر کے تھک گئے تھے کہ دوبارہ پیدا کرنا محال ہوجائے گا ؟ اس میں کون سی خلاف عقل اور تعجب انگیز بات ہے ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ دوبارہ…
Read the full tafseer →وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ 0 ۭ ذٰلِكَ يَوْمُ الْوَعِيْدِ 20
نفخ
النَّفْخُ : نَفْخُ الرِّيحِ في الشیءِّ. قال تعالی: يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/ 102] ، وَنُفِخَ فِي الصُّورِ [ الكهف/ 99] ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرى[ الزمر/ 68] ، وذلک نحو قوله : فَإِذا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ [ المدثر/ 8] ومنه نَفْخُ الرُّوح في النَّشْأَة الأُولی، قال : وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي
[ الحجر/ 29]
( نخ ) النفخ
کے معنی کسی چیز میں پھونکنے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/ 102] ، اور جس دن صور پھونکا جائیگا ۔ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ [ الكهف/ 99] اور جس وقت ) صؤر پھونکا جائے گا ۔ ثُمَّ نُفِخَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
ترکیب : مالدی ان جعلت ماموصوفہ فعتید صف تھا وان جعلت موصولۃ فبدلھا اوخبر بعد خبر او خبر محذوف الذی جعل مبتداء متضمن معنی الشرط فالقیاہ خبرہ او بدل من کل کفار۔
تفسیر : علامہ محی الدین ابن العربی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ دائیں طرف بیٹھنے والے سے مراد اس کی وہ قوت ہے جو اس کو نیک اعمال پر آمادہ کرتی ہے اور بائیں طرف والے سے مراد وہ قوت جو شر کی طرف بر انگیختہ کرتی ہے۔ یہ خدا کی طرف کے دو موکل ہیں جو ہر روز ملتے ہیں، یعنی ان کا مقابلہ رہتا ہے اور ان دونوں قوتوں سے جو جو خطرات اس کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ان کو ہم جانتے ہیں، کیونکہ اس کی رگ گردن تو اس کے دل سے دور ہے اور ہمارا اس کے دل سے…
Read the full tafseer →وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ ۔ (قٓ: 20)
(اور صور پھونکا جائے گا، وہ ہماری وعید کا دن ہوگا۔ )
موت کے بعد انسان کو عالم آخرت کا احساس تو ہوجاتا ہے لیکن عالم آخرت کے آنے تک وہ عالم برزخ میں ایک طویل انتظار میں رکھا جاتا ہے اب اسے عالم برزخ سے اس وقت اٹھنا ہے جب نفخ صور ہوگا۔ موت کے ساتھ چونکہ مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے، اور کسی بھی عمل کے کرنے کا امکان باقی نہیں رہتا۔ اب تو صرف اپنے اعمال و اقوال پر جزاء و سزا کا انتظار ہوتا ہے۔ گویا یوں سمجھئے کہ وہ جزاء و سزا جس کا وقوع قیامت کے دن ہوگا حقیقت میں وہ اسی دن شروع ہوجاتا ہے جب آدمی موت کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے حضور ﷺ نے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قربت اور قدرت کا ذکر فرما کر انسان کو نیک بنانے کی کوشش فرمائی ہے مگر اکثر انسان اپنے رب کے تابعدار بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہاں تک کہ موت انہیں آلیتی ہے۔
موت برحق ہے جو نہ نیک کو چھوڑتی ہے اور نہ برے آدمی سے ٹلتی ہے۔ ہر انسان کو موت کے وقت اپنے کیے کا احساس ہوتا ہے۔ انسان جب اپنی موت کو اپنے سامنے دیکھتا ہے تو پھر اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اب میرا بچنا محال ہے۔ اس وقت دل ہی دل میں آرزو کرتا ہے کہ کاش مجھے مہلت مل جائے اور میں اللہ کی راہ میں صدقہ دے کر اپنے آپ کو بچا سکوں۔ لیکن جب موت وارد ہوتی ہے تو وہ کسی کو ایک لمحہ بھی مہلت نہیں دیتی۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →تذکرئہ قیامت :
آیت 20 : وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ (اور صور پھونکا جائے گا) اس سے مراد نفخہ بعث مراد ہے۔ ذٰلِکَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ (یہ دن ہوگا وعید کا) یعنی اس وعید کا وقت۔ گویا مضاف محذوف ہے اور ذلک کا اشارہ نَفَخَ کے مصدر کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →19 ۔” وجآء ت سکرۃ الموت “ اس کی سختی اور شدت جو انسان کو ڈھانپ لے گی اور اس کی عقل پر غالب آجائے گی۔ ” بالحق “ یعنی موت کی حقیقت کے ساتھ اور کا گیا ہے آخرت کے معاملہ سے حق کے ساتھ حتیٰ کہ انسانکے سامنے واضح ہوجائے اور وہ اس کا مشاہدہ دیکھ لے اور کہا گیا ہے کہ انسان کے انجام کا جو انجام ہوگا سعادت و شقاوت میں سے اور کہا گیا ہے اس شخص کے لئے جس کو سکرات موت آئے۔ ” ذلک ماکنت منہ تحید “ تو اعراض کرتا ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں تو بھاگتا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تو ناپسند کرتا اور حید کی اصل مائل ہونا۔ کہا جاتا ہے ” وحدت عن الشیء احید حیدا ومحیدا “ جب تو اس سے اعراض کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
16۔ 22۔ اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ انسان کے مرجانے کے بعد جنگل میں دریا میں جہاں کہیں اس کی خاک ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی جگہ کی خاک باہر نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا کہ خاک تو ظاہر آنکھوں سے نظر آتی ہوئی چیز ہے اللہ تعالیٰ کا علم تو ایسا بڑا ہے کہ وہ انسان کے دل کے خطرے تک کو جانتا ہے۔ صحیح مسلم 3 ؎ کی حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ ہر ایک انسان کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات رہتا ہے فرشتہ نیک کام کرنے کا خیال دل میں ڈالتا رہتا ہے اور شیطان بد کام کرنے کا وسوسہ ڈالتا رہتا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس صحیح حدیث کو اس آیت کی تفسیر قرار دیا ہے اور معنی آیت کے یہ کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
(وجاء ت) ” اور آئی “ یعنی اس غافل اور آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والے کے پاس (سکرۃ الموت بالحق) ” موت کی بےہوشی حق کے ساتھ “ جس سے لوٹنا اور بچنا ممکن نہیں۔ (ذلک ماکنت منہ تحید) یہ وہی چیز ہے جس سے پیچھے ہٹتے اور اس سے دور بھاگتے تھے۔
(ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید) ” اور صور میں پھونکا جائیگا، یہی وعید کا دن ہے۔ “ یہ وہ دن ہے جس دن ظالموں کو عذاب دیا جائے گا، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا اور مومنوں کو ثواب عطا کیا جائے گا جس کا اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ (وجاءت کل نفس معھا سائق) ” اور ہر شخص آئے گا، ایک اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا۔ “ جو اسے قیامت کے میدان کی طرف ہانک کرلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →[ 27] یوم الوعید کی تذکیر و یاددہانی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ صور میں پھونک دیا جائے گا اور وہ یوم وعید ظاہر ہوجائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جن جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا۔ حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے، اس کی رحمت و عنایت کی بناء پر، تاکہ تم لوگ اس کے لئے تیاری کرسکو، مگر تم نے حق کو سن کر ہی نہ دیا، سو اب تم لوگ چکھو مزہ اپنے کئے کرائے کا، اور ہمیشہ کے لئے چکھتے رہو۔ والعیاذ باللّٰہ کیونکہ اس کے بعد کمائی اور تلافیء مافات کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، کیونکہ وہ جہاں کمائی کا نہیں بدلے اور جزا و سزا کا جہاں ہوگا اور دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو کمائی کیلئے مرحمت فرمائی گئی ہے اس وقت پاتھ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
آیات 16 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے انسان کو پیدا کیا اس کی ایک ایک صفت اس میں پیدا کی لہذا اس کے دل میں بھی جو خیال گزرتا ہے ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔
شہ رگ سے قریب تر ہونا۔
اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مفسرین کرام کے مطابق یہاں قرب علمی مراد ہے کہ بات اس کے احوال اور دل میں گزرنے والے خیالات تک کی ہورہی ہے قرب مسافت مراد نہیں کہ اس کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے مگر تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ احاطہ عملی بھی ہر شے سے ہے اور انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال بلاکیف موجود ہے جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا جس کے دلائل قرآن حدیث میں موجود ہیں اور جس پر مولوی رومی…
Read the full tafseer →ف 5 اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے یعنی وہ جس کے ساتھ ہی تمام مرے ہوئے لوگ دوبارہ زندہ ہو کر جزا و سزا کے لئے اٹھ کھڑے ہونگے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں بےفکر کیسے رہوں حالانکہ فرشتے نے ” صور “ ‘ سنبھال یا ہے اور گردن جھکالیا ہے اور وہ اجازت ملنے کے انتظار میں ہے۔ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! تو ہم کیا کہا کریں، فرمایا یہ کہا کرو : حسبنا اللہ ونعم الوکیل ” ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی اچھا کار ساز ہے۔ “ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(50:20) ونفخ فی الصور واؤ عاطفہ نفخ ماضی مجہول واحد مذکر غائب نفخ باب نصر مصدر۔ پھونکا گیا۔ یا پھونکا جائے گا (بمعنی مستقبل) اس سے مراد نفحہ دوم ہے یعنی نفخۃ البعث۔ اسی معنی میں آیت ونفخ فی الصور فاذاھم من الاجداث الی ربھم ینسلون (36:51) اور آیت ونفخ فی الصور فجمعنم جمعا (18:99) میں استعمال ہوا ہے۔ اور قیامت کے دن (دوبارہ) صور پھونکا جائے گا۔
ذلک : مضاف الیہ جس کا مضاف محذوف ہے ای وقت ذلک النفخ اس صور کے پھونکنے کا وقت یوم الوعید ہوگا۔ ذلک کا اشارہ نفخ کی طرف ہے۔
یوم الوعید مضاف مضاف الیہ۔ وعید کا دن۔ عذاب کا دن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 29 :
توسوس (چپکے سے وسوسہ ڈالتا ہے) ‘ حبل الورید (شہہ رگ) ‘ قعید (بیٹھا ہوا) ‘ ما یلفظ ( کوئی لفظ نہیں نکلتا) ‘ رقیب (نگہبان۔ نگرانی کرنے والا) سکرۃ الموت (موت کی بےہوشی) ‘ تحید (کتراتا ہے) ‘ یوم الوعید ( ڈرنے کا دن) ‘ سائق (چلانے والا) ‘ غطائ (پردہ) ‘ حدید (بہت تیز) ‘ قرین (ساتھی) ‘ لدی (میرے پاس) القیا (تم دونوں ڈال دو ) ‘ عنید (ضدی) ‘ مناع ( روکنے والا) ‘ معتد (حد سے آگے بڑھ جانے والا) ‘ مریب (شک و شبہ ڈالنے والا) ‘ اطغیت (میں نے سرکشی کی) ‘ لاتختصموا (تم نہ جھگڑو) ۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 29 :
ان آیات میں موت اور قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
نیک وبد کا انجام۔
(ف 1) جب صور پھ کے گا، قیامت قائم ہوگی، سب مجمع حشر میں اکٹھے ہوں گے تو وہ دن سزا جزا کا ہوگا، اولین وآخرین سب جمع ہوں گے ، وہ دن جس کی خبر دہشت ناک سنائی گئی ہے۔ ظاہر ہوگا یعنی روز جزا ہر آدمی زندہ ہوگا، اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہوگا، جو اس کو لے کرجاکردرباررب العزت میں کھڑا کرے گا، اور دوسرا اعمال نامہ کے لیے ہوگا جس میں اس کی زندگی کے سب احوال درج ہوں گے۔ اس وقت کہا جائے گا دنیا کے مزوں میں پڑ کر توآج کے دن سے بیخبر تھا اور تیری آنکھوں کے سامنے شہوات اور خواہشات کا اندھیرا چھایا ہوا تھ ارسول جو سمجھاتے تھے تجھے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا آج ہم نے تیری آنکھ سے وہ پردہ ہٹا دیا اور…
Read the full tafseer →[5] یعنی وعدہ عذاب کے ظہور کا دن۔ موت کے بعد اب ذکر قیامت شروع ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
اس وقت آنکھیں کھلیں گی ؟
1: دلائل کی قسموں میں سے ایک قسم یہ ہے ۔ کہ مدلول کو اس طرح ممثل اور واضح کرکے پیش کیا جائے ۔ کہ اس کے سب امکانات خود بخود روشن ہوجائیں قرآن حکیم نے اثبات دعویٰ کے لئے اکثر اس نوع کے دلائل سے کام لیا ہے اس کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ سننے والا کم ازکم نفیس واقعہ کی ضروری تفصیلات سے آگاہ ہوجاتا ہے اور اس کو معلوم ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کو پیش کرنے والا اس کا کامل مرقع اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے ۔ اور وہ ایسی چیز کی طرف دعوت نہیں دے رہا ہے ۔ کہ جس کو وہ خود پوری طرح نہ سمجھتا ہو ۔ پھر بعض طبائع جن میں قبولیت کی صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں ۔ وہ اس عبرت آفرین توضح وتشریح کو…
Read the full tafseer →(20) اور صور پھونکا جائے گا یہی دن ہوگا عذاب کے وعدے کا۔ یہ دوسرا نفخہ صور ہوگا جس سے تمام لوگ اپنی قبروں سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہوں گے۔ ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ صور میں پھونکا جائے گا اور فرشتے کہیں گے یہی تو وہ وعدہ عذاب کا دن ہے۔
وعدہ اور وعید کا فرق ہم پہلے بیان کرچکے ہیں وعید اس وعدے کو کہتے ہیں جس میں دھمکی اور تخویف ہو وعدہ وہ وعدہ ہے جس میں عام طور سے بھلائی اور منافع کا وعدہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
ف 3۔ یعنی ہر شخص کی موت قریب ہے۔
Read the full tafseer →صور پھونکا جائے گا یہ وہ دن ہے جس کا خوف دلایا جاتا تھا
20 ۔ جب وہ گھڑی قریب آگئی جس کو قیامت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے تو ایک بگل بجایا جائے گا جس کو نرسنگھا اور صور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے اور یہ علامت ہوگی اسی دن کی جس دن کے آنے سے وہ انکار کرتے تھے اور مسلسل لوگ تکذیب کیے چلے جا رہے تھے اور اس کے قطعی اظہار کے لیے ہر جگہ ماضی کے صیغے استعال کئے گئے ہیں جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے بس جوں ہی صور پھونکا جائے گا اور وہ دن ظاہر ہوجائے گا جس دن سے آج تک کو ڈرایا جارہا ہے اور تم اس کا مسلسل مذاق اڑاتے چلے جا رہے ہو اور تم کو خیال ہے کہ یہ سب کچھ من گھڑت باتیں ہیں جن کا کوئی سر اور پیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
Daze of Death
وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ (And the daze of death has [ to ] come with truth. That is what you tried to escape...50:19) The phrase sakrat-ul-maut denotes the agony and the stupor or daze of death that a dying person experiences. Abu Bakr Ibn-ul-Anbari (رح) with his own transmitting authorities reports from Masruq that when the signs of death appeared on Sayyidna Abu Bakr Siddiq ؓ ، Siddiqah ` A'ishah ؓ was called. She came and when she saw her father's condition, she spontaneously versified and recited:
اذا حَشرَجَت یَوماً وَ ضاقَ…
Read the full tafseer →24 This implies that blowing of the Trumpet at which alI dead men will rise back to life in their own physical bodies. For explanation, see E.N. 47 of AIAn'am, E.N. 57 of Ibrahim, E.N. 78 of Ta. Ha, E.N.1 of AI-Hajj, E.N.'s 46,47 of Ya Sin, and E.N. 79 of Az-Zumar.
Read the full tafseer →