Qaaf 50:21

Qaaf · from ayah 21

50:21

وَجَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآىِٕقٌ وَّشَهِیْدٌ ۟وَجَآءَتۡ كُلُّ نَفۡسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّشَهِيۡدٌ

اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا۔ ایک (فرشتہ) اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اس کے عملوں کی) گواہی دینے والا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And every soul will come, with it a driver and a witness.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:21

ہر شخص اِس حال میں آ گیا کہ اُس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا۔ ایک (فرشتہ) اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اس کے عملوں کی) گواہی دینے والا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ﻻنے واﻻ ہوگا اور ایک گواہی دینے واﻻ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا، اور ایک گواہی دینے والا

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہر جان یوں حاضر ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہر جان (ہمارے حضور اس طرح) آئے گی کہ اُس کا ایک ہانکنے والا (فرشتہ) اور (دوسرا اعمال پر) گواہ ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہر شخص آئے گا، اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہی دینے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن ہر شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہی دینے والا (فرشتہ) ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ جان اس طرح حاضر ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہو گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آگیا ہر شخص (میدان حشر میں اپنے کئے کرائے کا حساب دینے کو) اس حال میں کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا اور ایک گواہ

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ ایک (فرشتہ) تو اس کے ساتھ ہمراہ لانے والا ہوگا اور ایک (فرشتہ) گواہ ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہر جان آئے گی (اس حالت میں کہ) اس کے ساتھ ہوگا ایک دھکیلنے والا اور ایک گواہ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہر شخص ہمارے سامنے آئے گا ایک فرشتہ اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک اس کے عملوں کی گواہی دینے والا

— محترمہ رفعت اعجاز

Everyone has come, each attended by one who will drive him on, and another who will bear witness.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And everybody will come, along with one (angel) to drive (him to the field of reckoning) and one (angel) to testify (about his deeds).

— Muhammad Taqi Usmani

And everybody will come, along with one (angel) to drive (him to the field of reckoning) and one (angel) to testify (about his deeds).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And every person will come forth along with a Sa'iq and a Shahid.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And every soul cometh, along with it a driver and a witness.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And every soul will come, with it a driver and a witness.

— Saheeh International

Every soul will be accompanied (by an angel) behind him and another as a witness.

— Muhammad Sarwar

And every soul shall come, with it a driver and a witness.

— Muhammad Habib Shakir

And there shall come every soul therewith shall be a driver and a witness.

— Abdul Majid Daryabadi

And there will come forth every soul: with each will be an (angel) to drive, and an (angel) to bear witness.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–22

دائیں اور بائیں دو فرشتے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہی انسان کا خالق ہے اور اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے یہاں تک کہ انسان کے دل میں جو بھلے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں انہیں بھی وہ جانتا ہے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل میں جو خیالات آئیں ان سے درگذر فرما لیا ہے جب تک کہ وہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ کریں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں یعنی ہمارے فرشتے اور بعض نے کہا ہے ہمارا علم ان کی غرض یہ ہے کہ کہیں حلول اور اتحاد نہ لازم آجائے جو بالاجماع اس رب کی مقدس ذات سے بعید ہے اور وہ اس سے بالکل پاک ہے لیکن لفظ کا اقتضاء یہ نہیں ہے اس لئے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 25 اغلب یہ ہے کہ اس سے مراد وہی دو فرشتے ہیں جو دنیا میں اس شخص کے قول و عمل کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے مامور رہے تھے۔ قیامت کے روز جب صور کی آواز بلند ہوتے ہی ہر انسان اپنے مرقد سے اٹھے گا تو فوراً وہ دونوں فرشتے آ کر اسے اپنے چارج میں لے لیں گے۔ ایک اسے عدالت گاہ خداوندی کی طرف ہانکتا ہوا لے چلے گا اور دوسرا اس کا نامۂ اعمال ساتھ لیے ہوئے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

انسان کو میدان حشر میں لانے والے دو فرشتے (آیت) وَجَاۗءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَاۗىِٕقٌ وَّشَهِيْدٌ، اس آیت سے اوپر قیامت قائم ہونے کا ذکر ہے، اس آیت میں میدان حشر میں تمام انسانوں کے حاضر ہونے کی ایک خاص کیفیت بیان کی گئی ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک سائق ہوگا، سائق کہتے ہیں اس شخص کو جو جانوروں کے یا کسی جماعت کے پیچھے رہ کر اس کو کسی خاص جگہ پر پہنچانا چاہتا ہے اور شہید کے معنی گواہ کے ہیں، سائق کا فرشتہ ہونا تو باتفاق روایات سے ثابت ہے، شہید کے بارے میں علماء تفسیر کے اقوال مختلف ہیں، بعض کے نزدیک وہ بھی ایک فرشتہ ہی ہوگا، اس طرح سائق اور شہید دو فرشتے ہوگئے، ایک کا کام اس کو میدان حشر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وجآءت کل نفس معھا سائق وشھید (21) یہ نفح صور کے بعد کا مرحلہ ہے۔ اس دن ہر جان اپنے رب کے آگے پیشی کے لئے اس طرح حاضر کی جائے گی کہ ایک فرشتہ اس کے پیچھے سے اس کو ہانکنے کے لئے مامور ہوگا اور دوسرا اس کے قوال و اعمال کے ریکارڈ کے ساتھ گواہی کے لئے یہی مفہوم آیت سے متبادر بھی ہوتا ہے اور یہی سلف سے منقول بھی ہے۔ عض لوگوں نے سائق اور شھید دونوں سے ایک ہی فرشتہ مراد لیا ہے کہ وہی ہانک کر لائے گا بھی اور وہی گواہی بھی دے گا۔ بعض لوگوں نے سائق سر فرشتہ کو مراد لیا ہے لیکن شھید سے آدمی اور اس کے عمل کو یہ دونوں قول ہمارے نزدیک کمزور ہیں۔ پہلا عربیت کے پہلو سے کمزور ہے اور دوسرے میں صریح تکلف ہے جس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 21–22

21۔ 1 سَائِق (ہانکنے والا) اور شھید (گواہ) کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام طبری کے نزدیک دو فرشتے ہیں۔ ایک انسان کو محشر تک ہانک کر لانے والا اور دوسرا گواہی دینے والا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–21

7: یعنی جب قبروں سے نکل کر انسان میدان حشر کی طرف جائیں گے تو دو فرشتے ہر ایک کے ساتھ ہوں گے، ان میں سے ایک تو انہیں میدان حشر کی طرف ہانک کرلے جائے گا، اور ایک فرشتہ اس لئے ہوگا کہ وہ حساب و کتاب کے وقت اس کے اعمال کی گواہی دے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ وہی دو فرشتے ہوں گے جو دنیا میں اس کا اعمال نامہ لکھا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وجاءت کل نفس معھا سائق وشھید (50 : 21) ” ہر شخص اس حال میں آگیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا “۔ وہ آیا ، وہ جس کا حساب کی جا رہا ہے ، جسے سزا ہونے والی ہے۔ ایک چلا کر لانے والا ہے اور ایک شہادت دینے والا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں لکھنے والے اور دنیا میں اس کی حفاظت کرنے والے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اور فرشتے ہوں۔ لیکن پہلی تفسیر راجح ہے۔ عدالت میں پیشی کا یہ بہترین طریقہ ہے لیکن یہ اللہ جبار کی عدالت ہے۔ ایسے مشکل وقت میں اسے یہ کہا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی محشر میں اس طرح حاضر کیے جائیں گے کہ ایک فرشتہ پیشی کے میدان کی طرف دھکیلتا ہوگا اور دوسرا اعمالنامہ لیے ہوگا۔ جس میں اس کی زندگی کے سب احوال درج ہوں گے۔ شاید یہ وہ ہی دو فرشتے ہوں جو " کراماً کاتبین " کہلاتے ہیں۔ اور جن کی نسبت فرمایا تھا۔ (اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ) 50 ۔ ق :17) اور ممکن ہے کوئی اور ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 { وَجَآئَ تْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّشَہِیْدٌ۔ } ”اور ہر جان آئے گی اس حالت میں کہ اس کے ساتھ ہوگا ایک دھکیلنے والا اور ایک گواہ۔“ دنیا میں ہر انسان کے ساتھ جو دو فرشتے کِرَامًا کَاتِبِیْنَ مامور ہیں وہی قیامت کے دن اسے لا کر اللہ کی عدالت میں پیش کریں گے۔ ان میں سے ایک فرشتہ اس کا اعمال نامہ اٹھائے ہوئے ہوگا جب کہ دوسرا اسے عدالت کی طرف دھکیل رہا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 اس سے مراد غالباً وہی دو فرشتے ہیں جو اس کا ریکارڈ ثبت کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک تو اسے پیچھے سے ہانک کر اللہ کے سامنے پیش کردے گا اور کہے گا کہ مجرم حاضر ہے۔ دوسرا اس کا پوری زندگی کا ریکارڈ سامنے لاحاضر کرے گا۔ یعنی مجرم بھی حاضر اور گواہی بھی حاضر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ یہ دونوں فرشتے وہی کاتب اعمال ہوں گے۔ عرف عام میں انہیں کو کراما کاتبین کہتے ہیں۔ ان فرشتوں اور ان کی کارروائیوں کا استحضار اگر قلب میں رہے تو انسان سے بھلا کوئی لغزش کسی وقت بھی صادر ہوسکے ؟ ان کی طرف سے غفلت ہی تو بڑی چھوٹی ہر برائی کی طرف لے جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 18–29

انسان کا ہر قول رکارڈ کیا جاتا ہے : مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگران فرشتہ محفوظ نہ کرلیتا ہو، حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ اور قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ صرف وہ کلمات لکھتے ہیں کہ جن میں کوئی ثواب یا عقاب کی بات ہو۔ علی بن ابی طلحہ نے ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فرمائی جس میں یہ دونوں قول جمع ہوجاتے ہیں، اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو ہر کلمہ لکھا جاتا ہے خواہ اس میں کوئی ثواب و عقاب کی بات ہو یا نہ ہو، مگر ہفتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و جاءت کل نفس معھا سائق و شھید . اور ہر شخص (اس طرح میدان قیامت میں) آئے گا کہ ایک (فرشتہ) اس کو ہنکا کر لانے والا ہوگا اور ایک اس کے اعمال پر گواہی دینے والا ہوگا۔ وَجَآءَ تْ : اور اس روز ہر شخص مؤمن ہو یا کافر آئے گا۔ سعید بن منصور ‘ عبدالرزاق ‘ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیروں میں اس آیت کی تشریح کے سلسلے میں حضرت عثمان کا قول نقل کیا ہے کہ ایک ہنکانے والا ہر شخص کو اللہ کے حکم کی طرف ہنکا کرلے جائے گا اور ایک شاہد اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ کا قول بیان کیا ہے کہ ہنکانے والا فرشتہ ہوگا اور شہید آدمی کا عمل۔ سیوطی نے کتاب البرزخ میں حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 20–23

(20۔ 23) اور صور پھونکا جائے گا جس سے سب زندہ ہوجائیں گے یہی اولیں و آخریں کی وعید کا دن ہوگا جس میں سب جمع کیے جائیں گے اور میدان حشر میں قیامت کے دن ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے جن میں سے وہ فرشتہ جو اس کی برائیاں لکھتا تھا وہ اسے اپنے پروردگار کی طرف ساتھ لائے گا اور دوسرا فرشتہ جو اس کی نیکیاں لکھا کرتا تھا وہ پروردگار کے سامنے اس پر گواہ ہوگا خطاب ہوگا کہ اے انسان تو اس دن سے بیخبر اور غافل تھا سو اب ہم نے تیرے اعمال پر سے پردہ غفلت ہٹا دیا جو تیرے لیے دار دنیا میں حجاب بنا ہوا تھا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے یا یہ کہ بعث بعد الموت کے بارے میں آج تو تیرا علم بڑا وسیع…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وجآء ت کل نفس معھا سآئق و شھید :”سآئق“ ”ساق یسوق سوفاً“ سے اسم فاعل ہے، ہانکنے والا جو جانوروں کو یا کسی گروہ کو ہانک کر کسی جگہ پہنچاتا ہے۔ ”شھید“ شہادت دینے اولا۔ یعنی قبر سے نکلتے ہی ہر کافر کے ساتھ ایک فرشتہ ہانکنے والا ہوگا جو اسے ہانک کر محشر کی طرف لے جائے گا اور ایک اس کے اعمال بد کی شہادت دینے ولا ہوگا۔ یہ فرشتہ کراماً کاتبین میں سے بیھ ہوسکتا ہے جو اس کا نامہ اعمال لے کر شہادت کے لئے حاضر ہوگا۔ گویا مجرم بھی حاضر ہوگا اور اس کے خلاف مکمل شہادتیں بھی حاضر ہوں گی۔”کل نفس“ سے مراد یہاں ہر کافر و مشرک ہے، کیونکہ اس اہانت اور تذلیل کے ساتھ کفار ہی کو لے جایا جائے گا۔ بعد کی آیات سے بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–22

20 ۔ 22:ـ'' اور صور پھونکا جائے گا یہی وعید کا دن ہوگا اور حاضر ہوگا ہر شخص اس طرح کہ اس کے ہمراہ ایک (اسے) ہانکنے والا اور ایک گواہ ہوگا۔ تو عمر بھرغافل رہا اس دن سے پس ہم نے اٹھا دیا ہے تیری آنکھوں سے تیرا پردہ سو تیری بینائی بڑی تیز ہے۔ و نفخ فی الصور اس ففحہ سے مراد دوسرا نفحہ ہے جو دوبارہ اٹھانے کے لئے ہوگا۔ ذلک یوم الوعید۔ یعنی وہ دن جس کی اللہ تعالیٰ نے کفار کو دھمکی دی ہے کہ اس دن میں اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دے گا۔ صورپھونکنے کے بارے میں گفتگو پہلے مفصل گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ وجاءت کل نفس معھا ساء یق و شہید، ساء یق اور شہید میں اختلاف کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سائق فرشتوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

اما قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' وجآءت کل نفس معھا سآئق وشھید '' 9:۔ عبدالرزاق (رح) والفریابی و سعید (رح) بن منصور (رح) وابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم فی الکنی وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) فی البعث والنشور وابن عساکر نے عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ (آیت) پڑھی '' وجآءت کل نفس معھا سآئق وشھید '' (اور ہر شخص اس طرح میدان قیامت میں) آئے گا ایک فرشتہ اس کو بہکا کر لانے والا ہوگا اور ایک اس کے اعمال پر گواہی دینے والا ہوگا) فرمایا کہ ایک ہانکنے والا ہے جو اس کو اللہ کے حکم کی طرف ہانکتا ہے اور رغبت دلاتا ہے اور شہید سے مراد ہے جو اس کے خلاف…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَجَاۗءَتْ كُلُّ نَفْسٍ [ اور آئے گی ہر جان ] مَّعَهَا [ اس کے ساتھ ] سَاۗىِٕقٌ [ ایک ہانکنے والا ] وَّشَهِيْدٌ [ اور ایک گواہ ہوگا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–21

نفخ صور اور میدان حشر میں حاضر ہونے والوں کا ذكر ان آیات میں نفخ صور اور اس کے بعد کے بعض حالات ذکر فرمائے ہیں ارشاد فرمایا ﴿ ذٰلِكَ يَوْمُ الْوَعِيْدِ 0020﴾ (یہ وہ دن ہوگا جس میں وعید کا ظہور ہوگا) یعنی دنیا میں جو وعیدیں بتادی گئی تھیں آج ان کا ظہور ہوگا۔ ﴿ وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآىِٕقٌ وَّ شَهِيْدٌ0021﴾ (اور ہر شخص اس حالت میں حاضر ہوگا کہ اس کے ساتھ ایک سائق اور ایک شہید ہوگا) سائق ساتھ لانے والا فرشتہ اور شہید گواہی دینے والا فرشتہ۔ صاحب روح المعانی نے یہ تفسیر حضرت عثمان ؓ سے نقل کی ہے اور حافظ ابو نعیم کی کتاب حلیۃ الاولیاء سے حدیث مرفوع نقل کی ہے کہ یہ وہی دو فرشتے ہوں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

کمال قدرت خداوندی از روئے علم واحاطہ باحوال انسانی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد خلقنا الانسان ...... الی ..... وما انا بظلام للعبید “۔ (ربط) ما قبل آیات میں منکرین حشر ونشر کا ذکر تھا اسی کے ساتھ پہلی امتوں کی عبرت ناک تاریخ دہرائی گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں مختلف انواع و اقسام کے عذاب ان پر نازل ہوئے اور ان کو ہلاک کردیا گیا تو اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ومخالفت کرنے والی قوم کفار قریش کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے سزا دنیا چوں کہ دو چیزوں پر موقوف ہے ایک علم پر کہ مجرم کے جرم کا علم ہو دوسرے قدرت پر کہ مجرم کو سزا دینے پر قادر ہو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–21

11:۔ ” وجاءت۔ الایۃ “ یہ سکرات الموت کا منظر ہے۔ ذلک سے پہلے یقال لہ مقدر ہے۔ بالھق ای حقیقۃ الامر (بیضاوی) ۔ یعنی موت کی شدت حقیقۃ اور واقعۃ ضرور آئے گی اس وقت منکرین بعث سے کہا جائے گا کہ یہی وہ موت ہے جس سے تم بھاگتے تھے اور جو قیامت اور حشر و نشر کا دیباچہ ہے۔ ” ونفخ فی الصور الخ “ اس کے بعد صورت پھونکا جائیگا اور یہ وعید عذاب کے پورا ہونے کا دن ہوگا۔ اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے جس سے ساری مخلوق ایک دم جی اٹھے گی۔ ” وجاءت کل نفس۔ الایۃ “ اس کے بعد ہر شخص میدانِ حشر میں حاضر ہوگا اور ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے ایک اسے میدان حشر کی طرف لے کر جائیگا اور دوسرا اس کے اعمال کا گواہ ہوگا۔ ایک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–22

ربط آیات پہلے اللہ نے نبوت و رسالت کے منکرین کا شکوہ کیا ، پھر قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس پر عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ پھر عبرت کے طور پر اللہ نے چند سابقہ اقوام کا حال ذکر کیا کہ انہوں نے نبوت و رسالت اور وقوع قیامت کو جھٹلایا تو ان کا انجام بھی بہت برا ہوا ۔ اللہ کا ڈرانا بر حق ثابت ہوا اور یہ لوگ مبتلائے عذاب ہوئے وقوع قیامت اور بعث بعد الموت کے متعلق فرمایا کہ کیا ہم مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کر کے تھک گئے تھے کہ دوبارہ پیدا کرنا محال ہوجائے گا ؟ اس میں کون سی خلاف عقل اور تعجب انگیز بات ہے ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَاۗءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَہَا سَاۗىِٕقٌ وَّشَہِيْدٌ۝ 21 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–29

ترکیب : مالدی ان جعلت ماموصوفہ فعتید صف تھا وان جعلت موصولۃ فبدلھا اوخبر بعد خبر او خبر محذوف الذی جعل مبتداء متضمن معنی الشرط فالقیاہ خبرہ او بدل من کل کفار۔ تفسیر : علامہ محی الدین ابن العربی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ دائیں طرف بیٹھنے والے سے مراد اس کی وہ قوت ہے جو اس کو نیک اعمال پر آمادہ کرتی ہے اور بائیں طرف والے سے مراد وہ قوت جو شر کی طرف بر انگیختہ کرتی ہے۔ یہ خدا کی طرف کے دو موکل ہیں جو ہر روز ملتے ہیں، یعنی ان کا مقابلہ رہتا ہے اور ان دونوں قوتوں سے جو جو خطرات اس کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ان کو ہم جانتے ہیں، کیونکہ اس کی رگ گردن تو اس کے دل سے دور ہے اور ہمارا اس کے دل سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَجَآئَ تْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَھَا سَآئِقٌ وَّشَھِیْدٌ۔ (قٓ: 21) (ہر شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا اور ایک گواہی دینے والا۔ ) محشر میں حاضری کا منظر یعنی جیسے ہی نفخ صور کے بعد لوگ اپنے مرقدوں سے اٹھیں گے تو وہی دونوں فرشتے جو ان کے اقوال و اعمال کا ریکارڈ تیار کرنے پر مقرر تھے لپک کر اپنے اپنے آدمی کا چارج لے لیں گے۔ ان میں سے ایک سائق بن جائے گا اور دوسرا شہید۔ سائق سے مراد یہ ہے کہ وہ اسے ہانکتا ہوا محشر میں لے جائے گا۔ اور شہید سے مراد وہ گواہ ہے جس کے پاس اس کے اقوال و اعمال کا پورا ریکارڈ ہوگا۔ بعض لوگوں نے اس سے مختلف معنی بھی مراد لیے ہیں لیکن اس سے کوئی فرق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–23

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قربت اور قدرت کا ذکر فرما کر انسان کو نیک بنانے کی کوشش فرمائی ہے مگر اکثر انسان اپنے رب کے تابعدار بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہاں تک کہ موت انہیں آلیتی ہے۔ موت برحق ہے جو نہ نیک کو چھوڑتی ہے اور نہ برے آدمی سے ٹلتی ہے۔ ہر انسان کو موت کے وقت اپنے کیے کا احساس ہوتا ہے۔ انسان جب اپنی موت کو اپنے سامنے دیکھتا ہے تو پھر اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اب میرا بچنا محال ہے۔ اس وقت دل ہی دل میں آرزو کرتا ہے کہ کاش مجھے مہلت مل جائے اور میں اللہ کی راہ میں صدقہ دے کر اپنے آپ کو بچا سکوں۔ لیکن جب موت وارد ہوتی ہے تو وہ کسی کو ایک لمحہ بھی مہلت نہیں دیتی۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 21 : وَجَآئَ تْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّشَہِیْدٌ (اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک اس کو اپنے ہمراہ لائے گا اور ایک گواہ ہوگا) یعنی دو فرشتے ہونگے۔ ایک اس کو حشر کی طرف ہنکا کر لائے گا۔ اور دوسرا اس کے عمل کا گواہ ہوگا۔ نحو : معہا سائق محلًا منصوب ہے۔ یہ کلٌ سے حال ہے۔ کیونکہ وہ جو حکم معرفہ میں ہے اس کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے معرفہ بن گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20 ۔” ونفخ فی الصور “ یعنی اٹھانے کا نفخہ۔ ” ذلک یوم الوعید “ یعنی یہ دن اس وعید کا دن ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے کفار سے وعدہ کیا ہے کہ ان کو اس میں عذاب دے گا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ وعید سے عذاب مراد ہے یعنی وعید واقع ہونے کا دن۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–22

16۔ 22۔ اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ انسان کے مرجانے کے بعد جنگل میں دریا میں جہاں کہیں اس کی خاک ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی جگہ کی خاک باہر نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا کہ خاک تو ظاہر آنکھوں سے نظر آتی ہوئی چیز ہے اللہ تعالیٰ کا علم تو ایسا بڑا ہے کہ وہ انسان کے دل کے خطرے تک کو جانتا ہے۔ صحیح مسلم 3 ؎ کی حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ ہر ایک انسان کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات رہتا ہے فرشتہ نیک کام کرنے کا خیال دل میں ڈالتا رہتا ہے اور شیطان بد کام کرنے کا وسوسہ ڈالتا رہتا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس صحیح حدیث کو اس آیت کی تفسیر قرار دیا ہے اور معنی آیت کے یہ کئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 19–22

(وجاء ت) ” اور آئی “ یعنی اس غافل اور آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والے کے پاس (سکرۃ الموت بالحق) ” موت کی بےہوشی حق کے ساتھ “ جس سے لوٹنا اور بچنا ممکن نہیں۔ (ذلک ماکنت منہ تحید) یہ وہی چیز ہے جس سے پیچھے ہٹتے اور اس سے دور بھاگتے تھے۔ (ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید) ” اور صور میں پھونکا جائیگا، یہی وعید کا دن ہے۔ “ یہ وہ دن ہے جس دن ظالموں کو عذاب دیا جائے گا، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا اور مومنوں کو ثواب عطا کیا جائے گا جس کا اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ (وجاءت کل نفس معھا سائق) ” اور ہر شخص آئے گا، ایک اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا۔ “ جو اسے قیامت کے میدان کی طرف ہانک کرلے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 28] روز قیامت کی پیشی کی تصویر : سو اس روز مہیب یعنی روز قیامت کی حاضری کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ حاضر ہوگیا ہر شخص اس حال میں کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا اور ایک گواہ۔ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق یہ دونوں فرشتے ہوں گے، ایک محشر کی طرف ہانک کرلے جانے کے لئے، اور دوسرا گواہی دینے کے لئے اور طبری و ابن کثیر وغیرہ نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ [ ابن کثیر، صفوۃ وغیرہ ] یہ نفخ صور کے بعد کے مرحلے کا بیان ہے سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز ہر شخص اپنے رب کے حضور پیشی کیلئے اس طرح حاضر ہوگا کہ ایک فرشتہ اس کو پیچھے سے ہانکنے کیلئے مامور ہوگا اور دوسرا اس کے اعمال…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–29

آیات 16 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے انسان کو پیدا کیا اس کی ایک ایک صفت اس میں پیدا کی لہذا اس کے دل میں بھی جو خیال گزرتا ہے ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ شہ رگ سے قریب تر ہونا۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مفسرین کرام کے مطابق یہاں قرب علمی مراد ہے کہ بات اس کے احوال اور دل میں گزرنے والے خیالات تک کی ہورہی ہے قرب مسافت مراد نہیں کہ اس کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے مگر تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ احاطہ عملی بھی ہر شے سے ہے اور انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال بلاکیف موجود ہے جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا جس کے دلائل قرآن حدیث میں موجود ہیں اور جس پر مولوی رومی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 آیت کا یہی مطلب حضرت عثمان اسی کے مطابق شاہ صاحب فرماتے ہیں، ایک فرشتہ ہانک لاتا ہے اور ایک (کے) پاس نامہ اعمال ساتھ ہے۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:21) معھا : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کل نفس کے لئے ہے (ہر نفس کے ساتھ) یہ جملہ معھا سابق وشھید حال ہے کل نفس سے درآں حالیکہ ایک (فرشتہ) ہانکنے والا اور ایک (فرشتہ) بطور گواہ اس کے ساتھ ہوگا۔ سابق۔ ہانکنے والا۔ اسم فاعل کا سیغہ واحد مذکر سوف (باب نصر) مصدر۔ شھید۔ گواہ ۔ یہاں اس کا استعمال بطور گواہ ہی آیا ہے ۔ شرع کی اصطلاح میں شھید وہ ہے جو کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا ہو۔ حق تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے بھی شھید آیا ہے اس وقت اس کے معنی ہوں گے وہ ذات جس کے علم سے کوئی چیز غائب نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–29

لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 29 : توسوس (چپکے سے وسوسہ ڈالتا ہے) ‘ حبل الورید (شہہ رگ) ‘ قعید (بیٹھا ہوا) ‘ ما یلفظ ( کوئی لفظ نہیں نکلتا) ‘ رقیب (نگہبان۔ نگرانی کرنے والا) سکرۃ الموت (موت کی بےہوشی) ‘ تحید (کتراتا ہے) ‘ یوم الوعید ( ڈرنے کا دن) ‘ سائق (چلانے والا) ‘ غطائ (پردہ) ‘ حدید (بہت تیز) ‘ قرین (ساتھی) ‘ لدی (میرے پاس) القیا (تم دونوں ڈال دو ) ‘ عنید (ضدی) ‘ مناع ( روکنے والا) ‘ معتد (حد سے آگے بڑھ جانے والا) ‘ مریب (شک و شبہ ڈالنے والا) ‘ اطغیت (میں نے سرکشی کی) ‘ لاتختصموا (تم نہ جھگڑو) ۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 29 : ان آیات میں موت اور قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–29

نیک وبد کا انجام۔ (ف 1) جب صور پھ کے گا، قیامت قائم ہوگی، سب مجمع حشر میں اکٹھے ہوں گے تو وہ دن سزا جزا کا ہوگا، اولین وآخرین سب جمع ہوں گے ، وہ دن جس کی خبر دہشت ناک سنائی گئی ہے۔ ظاہر ہوگا یعنی روز جزا ہر آدمی زندہ ہوگا، اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہوگا، جو اس کو لے کرجاکردرباررب العزت میں کھڑا کرے گا، اور دوسرا اعمال نامہ کے لیے ہوگا جس میں اس کی زندگی کے سب احوال درج ہوں گے۔ اس وقت کہا جائے گا دنیا کے مزوں میں پڑ کر توآج کے دن سے بیخبر تھا اور تیری آنکھوں کے سامنے شہوات اور خواہشات کا اندھیرا چھایا ہوا تھ ارسول جو سمجھاتے تھے تجھے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا آج ہم نے تیری آنکھ سے وہ پردہ ہٹا دیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[6] یعنی ایک فرشتہ اس کے پیچھے پیچھے اس کو ہانکنے کے لئے ہوگا اور دوسرا اس کے آگے آگے تمام اقوال و اعمال کے ریکارڈ کے ساتھ گواہی کے لئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–21

اس وقت آنکھیں کھلیں گی ؟ 1: دلائل کی قسموں میں سے ایک قسم یہ ہے ۔ کہ مدلول کو اس طرح ممثل اور واضح کرکے پیش کیا جائے ۔ کہ اس کے سب امکانات خود بخود روشن ہوجائیں قرآن حکیم نے اثبات دعویٰ کے لئے اکثر اس نوع کے دلائل سے کام لیا ہے اس کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ سننے والا کم ازکم نفیس واقعہ کی ضروری تفصیلات سے آگاہ ہوجاتا ہے اور اس کو معلوم ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کو پیش کرنے والا اس کا کامل مرقع اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے ۔ اور وہ ایسی چیز کی طرف دعوت نہیں دے رہا ہے ۔ کہ جس کو وہ خود پوری طرح نہ سمجھتا ہو ۔ پھر بعض طبائع جن میں قبولیت کی صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں ۔ وہ اس عبرت آفرین توضح وتشریح کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) اور ہر شخص اس طرح آئے گا کو دو فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے ایک ہانکنے والا اور ہمراہ لانے والا اور ایک گواہی دینے والا اور احوال بتانے والا۔ یہ دونوں فرشتے یا تو وہی کراماً کاتبین ہیں یا دوسرے دو فرشتے ہوں گے ایک نیکی کا فرشتہ جس کو شہید فرمایا اور ایک بدی لکھنے والا جس کو سائق کہا گیا ہے۔ بہرحال مفسرین کے کئی قول ہیں اسی طرح کل نفس میں بھی علماء کے دو قول ہیں ایک یہ کہ آیت عام ہے ہر مسلمان اور کافر اسی طرح آئے گا دوسرا قول یہ ہے کہ کل نفسی سے مراد صرف منکر اور کافر ہیں۔ بہرحال آگے کی آیت کا تعلق صرف منکروں کے ساتھ ہے کہ میدان حشر میں دین حق کے منکروں سے کہا جائیگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہر ایک کے ساتھ اس کا ہانگ کر لانے والا فرشتہ اور گواہی دینے والا موجود ہوگا 21 ۔ گزشتہ آیت میں نفخ صور کا ذکر تھا اور زیر نظر آیت میں نفخ صور کے بعد کا مرحلہ ذکر کیا جارہا ہے کہ جونہی صور پھونکا جائے گا تو ہانک کر لانے والے فرشتے اور گواہی دینے والے سب کے سب کھڑے ہوں اور اس جگہ ان کو (سائق) اور (شہید) کے نام سے موسوم کیا گیا۔ (سائق) ہانکنے والا سوق سے جس کے معنی ہانکنے کے ہیں اسم فاعل کا صیغہ واحد اور مذکر ۔ یہاں وہ فرشتہ مراد ہے جو حشر میں کھینچ کر لائے گا یا ہانک کر لانے والا ہے ( شہید ) گواہ ، شاہد ، نگران ، احوال کہنے والا ، اقرار کرنے والا۔ شہید ، شاہد کو بھی کہتے ہیں اور کسی چیز کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Two Angels to Lead Man to the Plane of Hashr وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ (And everybody will come, along with one [ angel ] to drive [ him to the field of reckoning ] and one [ angel ] to testify [ about his deeds ] 50:21). The verse before this depicts the way the Day of Judgment will be established. This verse describes the way in which all human beings will be brought to the plane of Hashr. With every man there will be a Sa'iq and a Shahid. Sa'iq, literally, denotes a person who remains behind a herd of animals or behind a group of people and drives them to a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

25 Most probably this implies the same two angels who had been appointed for compiling the record of the words and deeds of the person in the world. On the Day of Resurrection, when every man will rise from his grave on the sounding of the Trumpet, the two angels will come forth immediately and take him into their custody. One of them will drive him to the Divine Court and the other will be carrying his record.

Read the full tafseer →