Qaaf 50:22

Qaaf · from ayah 22

50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ ۟لَقَدۡ كُنۡتَ فِىۡ غَفۡلَةٍ مِّنۡ هٰذَا فَكَشَفۡنَا عَنۡكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الۡيَوۡمَ حَدِيۡدٌ

(یہ وہ دن ہے کہ) اس سے تو غافل ہو رہا تھا۔ اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اُٹھا دیا۔ تو آج تیری نگاہ تیز ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[It will be said], "You were certainly in unmindfulness of this, and We have removed from you your cover, so your sight, this Day, is sharp."

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:22

اِس چیز کی طرف سے تو غفلت میں تھا، ہم نے وہ پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑا ہوا تھا اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ وہ دن ہے کہ) اس سے تو غافل ہو رہا تھا۔ اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اُٹھا دیا۔ تو آج تیری نگاہ تیز ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً تو اس سے غفلت میں تھا لیکن ہم نے تیرے سامنے سے پرده ہٹا دیا پس آج تیری نگاه بہت تیز ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ تو اس واقعے کی طرف سے غفلت میں پڑا ہوا تھا، اب ہم نے تجھ سے وہ پردہ ہٹا دیا ہے جو تجھ پر پڑا ہوا تھا۔ چنانچہ آج تیری نگاہ خوب تیز ہوگئی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک تو اس سے غفلت میں تھا تو ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھایا تو آج تیری نگاہ تیز ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

حقیقت میں تُو اِس (دن) سے غفلت میں پڑا رہا سو ہم نے تیرا پردۂ (غفلت) ہٹا دیا پس آج تیری نگاہ تیز ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلا شبہ یقینا تو اس سے بڑی غفلت میں تھا، سو ہم نے تجھ سے تیرا پردہ دور کردیا، تو تیری نگاہ آج بہت تیز ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ تو اس دن سے غافل رہا سو آج ہم نے تیری آنکھوں سے پردہ اٹھا دیا ہے اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ایک گواہ تو اس سے غفلت میں پڑا رہا تو ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا تو آج تو تیری نظر بہت تیز ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(کہا جائے گا کہ) تو تو اس سے بالکل غفلت میں تھا پس ہٹا دیا ہم نے تجھ سے تیرا پردہ سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے

— مولانا اسحاق مدنی

تو اسی دن سے بیخبر تھا سو ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اللہ فرمائے گا : اے انسان !) تو اس دن سے غفلت میں رہا تھا نا۔ تو آج ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا ہے تو آج تمہاری نگاہ کتنی تیز ہوگئی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ دن ہے کہ اس سے تو غافل ہو رہا تھا اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

You were heedless of this. Now We have removed your veil and so your vision today is sharp.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

:You were heedless of this. Now We have removed your veil from you; so your sight today is sharp.

— Muhammad Taqi Usmani

:You were heedless of this. Now We have removed your veil from you; so your sight today is sharp.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(It will be said to the sinners): "Indeed you were heedless of this. Now We have removed from you, your covering, and sharp is your sight this Day!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(And unto the evil-doer it is said): Thou wast in heedlessness of this. Now We have removed from thee thy covering, and piercing is thy sight this day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[It will be said], "You were certainly in unmindfulness of this, and We have removed from you your cover, so your sight, this Day, is sharp."

— Saheeh International

(He will be told), "You were completely heedless of this day. We have removed the veil from your eyes and your vision will now be sharp and strong".

— Muhammad Sarwar

Certainly you were heedless of it, but now We have removed from you your veil, so your sight today is sharp.

— Muhammad Habib Shakir

Assuredly thou wast in neglect thereof; now We have removed from off thee thy veil, so thy sight Today is piercing.

— Abdul Majid Daryabadi

(It will be said:) "Thou wast heedless of this; now have We removed thy veil, and sharp is thy sight this Day!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–22

دائیں اور بائیں دو فرشتے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہی انسان کا خالق ہے اور اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے یہاں تک کہ انسان کے دل میں جو بھلے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں انہیں بھی وہ جانتا ہے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل میں جو خیالات آئیں ان سے درگذر فرما لیا ہے جب تک کہ وہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ کریں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں یعنی ہمارے فرشتے اور بعض نے کہا ہے ہمارا علم ان کی غرض یہ ہے کہ کہیں حلول اور اتحاد نہ لازم آجائے جو بالاجماع اس رب کی مقدس ذات سے بعید ہے اور وہ اس سے بالکل پاک ہے لیکن لفظ کا اقتضاء یہ نہیں ہے اس لئے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 26 یعنی اب تو تجھے خوب نظر آ رہا ہے کہ وہ سب کچھ یہاں موجود ہے جس کی خبر خدا کے نبی تجھے دیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

مرنے کے بعد آنکھیں وہ سب کچھ دیکھیں گی جو زندگی میں نہ دیکھ سکتی تھیں (آیت) فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ (یعنی ہم نے تمہاری آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا آج تمہاری نگاہ بڑی تیز ہے) اس کا مخاطب کون ہے، اس میں بھی مفسرین کے اقوال مختلف ہیں، مگر راجح یہی ہے کہ عام انسان مخاطب ہیں، جن میں مومن، کافر، متقی، فاسق، سب داخل ہیں، اسی تفسیر کو ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ نے اختیار فرمایا ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ دنیا کی مثال خواب کی سی زندگی کی ہے اور آخرت کی مثال بیداری کی، جیسے خواب میں آدمی کی آنکھیں بند ہوتی ہیں کچھ نہیں دیکھتا اسی طرح انسان ان حقائق کو جن کا تعلق عالم آخرت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لقد کنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک غطآءک فبصرک الیوم حدید (22) پیشی کے وقت ایک تنبیہ اس وقت اس کو اللہ تعالیٰ متنبہ فرمائے گا کہ اس دن سے تم غفلت میں پڑے رہے تو آج ہم نے تمہاری آنکھوں کے آگے سے پردہ ہٹا دیا۔ فبصرک الیوء حدید یہ فقرہ اس کی تفضیح کے لئے طنز کے انداز میں ہوگا کہ آج تو تمہاری نگاہیں بہت تیز ہیں ! جس چیز کا امکان تمہیں کہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہا تھا آج اس کا ہر گوشہ کس طرح تمہارے آگے بےنقاب ہوگیا ہے ؟ یہ آیت اس آیت کے معارض نہیں ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ آیات الٰہی کے انکار کرنے والے قیامت کے دن اندھے اٹھائے جائیں گے ان دونوں مکا موقع و محل ہم واضح کرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 21–22

21۔ 1 سَائِق (ہانکنے والا) اور شھید (گواہ) کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام طبری کے نزدیک دو فرشتے ہیں۔ ایک انسان کو محشر تک ہانک کر لانے والا اور دوسرا گواہی دینے والا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–23

8: یہاں (ہم نشین) ساتھی سے مراد وہی فرشتہ ہے جو ہر وقت انسان کے ساتھ رہ کر اس کے اعمال لکھا کرتا تھا اور قبر سے اس کے ساتھ گواہ بن کر آیا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لقد کنت فی ۔۔۔۔ الیوم حدید (50 : 22) ” اس چیز کی طرف سے تو غفلت میں تھا۔ ہم نے پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑا ہوا تھا ، اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے “ ۔ آج تیری نظر بڑی تیز ہے اور پردوں کو پار کر کے بھی دیکھ رہی ہے ۔ کام کرنے کی جگہ میں تو نے غفلت برتی۔ تو نے اس وقت کا خیال ہی نہ رکھا ۔ یہ ہے وہ انجام جس کی تو توقع ہی نہ رکھتا تھا۔ آج دیکھتا جاتا۔ آج تیری نظر تیز ہے۔ اب اس کا ساتھی آگے بڑھتا ہے۔ راجح یہ ہے کہ یہ وہ گواہ ہے جس کے پاس اس کا اعمال نامہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی اس وقت کہا جائے گا کہ دنیا کے مزوں میں پڑ کر تو آج کے دن سے بیخبر تھا اور تیری آنکھوں کے سامنے شہوات و خواہشات کا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ پیغمبر جو سمجھاتے تھے۔ تجھے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ آج ہم نے تیری آنکھ سے وہ پردے ہٹا دیے اور نگاہ خوب تیز کردی۔ اب دیکھ لے جو باتیں کہی گئی تھیں، صحیح ہیں یا غلط۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22 { لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہٰذَا } ”اللہ فرمائے گا : اے انسان ! تو اس دن سے غفلت میں رہاتھانا !“ { فَـکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآئَ کَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ۔ } ”تو آج ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا ہے ‘ تو آج تمہاری نگاہ کتنی تیز ہوگئی ہے۔“ دنیا میں رہتے ہوئے بہت سے حقائق تمہارے لیے پردہ غیب میں تھے۔ وہاں تجھ سے مطالبہ تھا کہ ان حقائق پر بغیر دیکھے ایمان لائو۔ آج غیب کا پردہ اٹھا دیا گیا ہے اور اب تمہاری نظر ہرچیز کو دیکھ سکتی ہے ‘ حتیٰ کہ آج تم اپنے ساتھ آنے والے فرشتوں کو بھی دیکھ رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 یعنی دنیا کی دلفریبیوں میں مست اور مگن رہا۔ محاسبہ کے دن کا تیرے سامنے ذکر ہوتا تو فوراً اس کا انکار کردیتا اور اس پر غور کرنا تو درکنار ایسی بات سننا بھی گوارا نہ کرتا تھا۔ آج ہم نے تیری آنکھوں کے سامنے سے غیب کے پردے اٹھا دیئے ہیں۔ اور آج تمہیں وہ سب باتیں ٹھیک نظر آرہی ہیں جن سے تو جان بوجھ کر غافل بنا رہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

18۔ ( اور آج ہر حقیقت تجھ پر بےپردہ منکشف ہورہی ہے) یہ خطاب کافر سے ہوگا، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کشف بلامجاہدہ تو کافروں تک کو حاصل ہوجائے گا، سو محض کشف جو کافروں میں مشترک ہے، مومن کا مطلوب یقیناً نہ ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 18–29

انسان کا ہر قول رکارڈ کیا جاتا ہے : مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگران فرشتہ محفوظ نہ کرلیتا ہو، حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ اور قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ صرف وہ کلمات لکھتے ہیں کہ جن میں کوئی ثواب یا عقاب کی بات ہو۔ علی بن ابی طلحہ نے ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فرمائی جس میں یہ دونوں قول جمع ہوجاتے ہیں، اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو ہر کلمہ لکھا جاتا ہے خواہ اس میں کوئی ثواب و عقاب کی بات ہو یا نہ ہو، مگر ہفتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لقد کنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک غطاءک فبصرک الیوم حدید . تو اس دن سے بیخبر تھا۔ اب ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ (غفلت کا) ہٹا دیا ‘ سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔ لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا : یعنی اس سے کہا جائے گا کہ آج جو حالات تیرے سامنے آئے ‘ ان سے دنیا میں تو غافل تھا۔ غِطَآءَ کَ : یعنی امور معاد کو مخفی رکھنے والا پردہ۔ اس سے مراد ہے غفلت۔ محسوسات میں ڈوب جانا اور ان سے محبت کرنا اور غور کرنے سے نظر کو کوتاہ رکھنا اور دل کی سیاہی اور زنگ ‘ اللہ نے اسی غطاء کو غشاوۃ اور رین (زنگ) فرمایا ہے۔ ایک آیت میں آیا ہے : کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ . حَدِیْدٌ : آج تیری نظر خوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 20–23

(20۔ 23) اور صور پھونکا جائے گا جس سے سب زندہ ہوجائیں گے یہی اولیں و آخریں کی وعید کا دن ہوگا جس میں سب جمع کیے جائیں گے اور میدان حشر میں قیامت کے دن ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے جن میں سے وہ فرشتہ جو اس کی برائیاں لکھتا تھا وہ اسے اپنے پروردگار کی طرف ساتھ لائے گا اور دوسرا فرشتہ جو اس کی نیکیاں لکھا کرتا تھا وہ پروردگار کے سامنے اس پر گواہ ہوگا خطاب ہوگا کہ اے انسان تو اس دن سے بیخبر اور غافل تھا سو اب ہم نے تیرے اعمال پر سے پردہ غفلت ہٹا دیا جو تیرے لیے دار دنیا میں حجاب بنا ہوا تھا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے یا یہ کہ بعث بعد الموت کے بارے میں آج تو تیرا علم بڑا وسیع…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) لقد کنت فی عقلہ من ھذا :”غفلۃ“ میں تنوین تعظیم کے لئے ہے، اس لئے ترجمہ ”بڑی غفلت“ کیا گیا ہے۔ یہاں یہ الفاظ محذوف ہیں کہ ”ہر کافر و مشرک سے کہا جائے گا کہ …۔“ یہ آیت بھی دلیل ہے کہ ”کل نفس“ سے مراد کفار ہیں، کیونکہ وہی آخرت سے غافل ہیں، مومن تو آخرت کا یقین رکھتے ہیں اور اس کی فکر میں رہتے ہیں۔ کفار کو یہ بات ذلیل کرنے کے لئے طنز کے طور پر کہی جائے گی۔ (2) فکشفنا عنک عطآء ک…: یعنی تیری آنکھوں پر پڑا ہوا غفلت کا پردہ، جس کی وجہ سے تو آخرت کا انکار کرتا تھا، وہ پردہ اب ہم نے دور کردیا ہے، اس لئے تیری نظر تیز ہوچکی ہے اور تو اپنی آنکھوں کے ساتھ ان تمام حقیقتوں کو دیکھ سکتا ہے جن کا انکار…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–22

20 ۔ 22:ـ'' اور صور پھونکا جائے گا یہی وعید کا دن ہوگا اور حاضر ہوگا ہر شخص اس طرح کہ اس کے ہمراہ ایک (اسے) ہانکنے والا اور ایک گواہ ہوگا۔ تو عمر بھرغافل رہا اس دن سے پس ہم نے اٹھا دیا ہے تیری آنکھوں سے تیرا پردہ سو تیری بینائی بڑی تیز ہے۔ و نفخ فی الصور اس ففحہ سے مراد دوسرا نفحہ ہے جو دوبارہ اٹھانے کے لئے ہوگا۔ ذلک یوم الوعید۔ یعنی وہ دن جس کی اللہ تعالیٰ نے کفار کو دھمکی دی ہے کہ اس دن میں اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دے گا۔ صورپھونکنے کے بارے میں گفتگو پہلے مفصل گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ وجاءت کل نفس معھا ساء یق و شہید، ساء یق اور شہید میں اختلاف کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سائق فرشتوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

15:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لقد کنت فی غفلۃ من ھذا '' (کہ تو اس سے غفلت میں تھا یعنی کافر سے کہا جائے گا) 16:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکشفنا عنک غطآءک '' (کہ ہم تجھ سے اپنے پردے کو کھول دیں گے) سے موت کے بعد زندگی مراد ہے۔ 17:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکشفنا عنک غطآءک '' (اب ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے) یعنی اس نے آخرت کو دیکھا اور اس چیز کی طرف دیکھے گا جو اللہ تعالیٰ نے اس سے وعدہ کیا تھا تو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَقَدْ كُنْتَ [ یقینا تو رہ چکا ہے ] فِيْ غَفْلَةٍ [ غفلت میں ] مِّنْ ھٰذَا [ اس (دن) سے ] فَكَشَفْنَا [ تو ہم نے کھول دیا ] عَنْكَ غِطَاۗءَكَ [تجھ سے تیرا پردہ ] فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ [ نتیجۃ تیری بصارت آج کے دن ] حَدِيْدٌ [ تیز (Sharp) ہے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 22 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مثال خواب کی سی ہے اور آخرت کی مثال بیداری کی سی ہے ۔ جیسے خواب میں آدمی کی آنکھیں بند ہوتی ہیں اور وہ حقائق کو نہیں دیکھ پاتا ، اسی طرح انسان ان حقائق کو جن کا تعلق عالم آخرت سے ہے ان کو وہ اس دنیا میں آنکھوں سے نہیں دیکھتا ۔ مگر یہ ظاہری آنکھیں بند ہوتے ہی وہ خواب کا عالم ختم ہوجاتا ہے اور بیداری کا عالم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس دن اس سے خطاب کر کے کہا جائے گا ﴿ لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا ﴾ (تو اس دن کے واقع ہونے کی طرف سے غافل تھا) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ خطاب کافر کو ہوگا۔ ﴿فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ ﴾ (سو ہم نے تیرا پردہ اٹھا دیا) جس نے تجھے ڈھانک رکھا تھا۔ ﴿فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ0022﴾ (سو اج تیری نظر تیز ہے) دنیا میں جو کچھ ایمان کی طرف دعوت دی جاتی تھی اور کفر و شرک سے روکا جاتا تھا اور معاصی کا عذاب بتایا جاتا تھا تو، تو متوجہ نہیں ہوتا تھا اور غفلت کے پردوں نے تجھے ڈھانپ رکھا تھا آج وہ پردے ہٹ گئے جو کچھ سمجھایا بتایا جاتا تھا سامنے آگیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

کمال قدرت خداوندی از روئے علم واحاطہ باحوال انسانی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد خلقنا الانسان ...... الی ..... وما انا بظلام للعبید “۔ (ربط) ما قبل آیات میں منکرین حشر ونشر کا ذکر تھا اسی کے ساتھ پہلی امتوں کی عبرت ناک تاریخ دہرائی گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں مختلف انواع و اقسام کے عذاب ان پر نازل ہوئے اور ان کو ہلاک کردیا گیا تو اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ومخالفت کرنے والی قوم کفار قریش کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے سزا دنیا چوں کہ دو چیزوں پر موقوف ہے ایک علم پر کہ مجرم کے جرم کا علم ہو دوسرے قدرت پر کہ مجرم کو سزا دینے پر قادر ہو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12:۔ ” لقد کنت۔ الایۃ “ اس سے پہلے ” یقال لہ “ مقدر ہے (روح) ۔ ھذا سے کتاب اعمال (حضرت الشیخ) یا یوم حشر مراد ہے مجرم کے ہاتھ میں اس کا اعمالنامہ تھما کر اس سے کہا جائیگا کہ تو اب تک اس سے بیخبر رہا یا یوم حشر سے غافل رہا آج ہم نے تیری آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا ہے اور تیری نظر تیز ہوچکی ہے اور تو اپنا اعمالنماہ خود پڑھ سکتا ہے اور شدائد حشر اور انواع عذاب کا خود مشہادہ کر رہا ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر کافر کو بھی بصیرت حاصل ہوجائے گی اور وہ حق کو مان لیں گے لیکن باوجود کل احد یکون یوم القیامۃ مستبصرا حتی الکفار فی الدنیا یکونون یوم القیامۃ علی الاستقامۃ لکن لاینفعہم ذلک (ابن کثیر ج 4 ص…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–22

ربط آیات پہلے اللہ نے نبوت و رسالت کے منکرین کا شکوہ کیا ، پھر قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس پر عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ پھر عبرت کے طور پر اللہ نے چند سابقہ اقوام کا حال ذکر کیا کہ انہوں نے نبوت و رسالت اور وقوع قیامت کو جھٹلایا تو ان کا انجام بھی بہت برا ہوا ۔ اللہ کا ڈرانا بر حق ثابت ہوا اور یہ لوگ مبتلائے عذاب ہوئے وقوع قیامت اور بعث بعد الموت کے متعلق فرمایا کہ کیا ہم مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کر کے تھک گئے تھے کہ دوبارہ پیدا کرنا محال ہوجائے گا ؟ اس میں کون سی خلاف عقل اور تعجب انگیز بات ہے ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ۝ 22 غفل الغَفْلَةُ : سهو يعتري الإنسان من قلّة التّحفّظ والتّيقّظ، قال تعالی: لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] ( غل ) الغفلتہ ۔ اس سہو کو کہتے ہیں جو قلت تحفظ اور احتیاط کی بنا پر انسان کو عارض ہوجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] بیشک تو اس سے غافل ہو رہا تھا كشف كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، ويقال : كَشَفَ غمّه . قال تعالی: وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] ( ک ش) الکشف كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–29

ترکیب : مالدی ان جعلت ماموصوفہ فعتید صف تھا وان جعلت موصولۃ فبدلھا اوخبر بعد خبر او خبر محذوف الذی جعل مبتداء متضمن معنی الشرط فالقیاہ خبرہ او بدل من کل کفار۔ تفسیر : علامہ محی الدین ابن العربی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ دائیں طرف بیٹھنے والے سے مراد اس کی وہ قوت ہے جو اس کو نیک اعمال پر آمادہ کرتی ہے اور بائیں طرف والے سے مراد وہ قوت جو شر کی طرف بر انگیختہ کرتی ہے۔ یہ خدا کی طرف کے دو موکل ہیں جو ہر روز ملتے ہیں، یعنی ان کا مقابلہ رہتا ہے اور ان دونوں قوتوں سے جو جو خطرات اس کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ان کو ہم جانتے ہیں، کیونکہ اس کی رگ گردن تو اس کے دل سے دور ہے اور ہمارا اس کے دل سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا فَـکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَـآئَ کَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ۔ (قٓ: 22) (تو اس سے غفلت میں تھا ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا اور آج تیری نگاہ بہت تیز ہے۔ ) پیشی کے وقت ایک تنبیہ انسان جب محشر میں کھڑا قیامت کے ماحول کو دیکھے گا تو اللہ تعالیٰ اسے تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمائے گا کہ تم اس دن سے غفلت میں پڑے رہے، اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور ان کے راستوں پر چلنے والوں نے ہرچند تمہیں سمجھایا لیکن تمہاری نگاہوں سے پردہ نہ اٹھ سکا۔ تم قیامت اور اس کے وقوع کو عقل سے بعید سمجھتے رہے۔ آج ہم نے تیری آنکھوں سے پردہ اٹھا دیا۔ اب دیکھ تیری نظر کتنی تیز ہے کس طرح اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–23

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قربت اور قدرت کا ذکر فرما کر انسان کو نیک بنانے کی کوشش فرمائی ہے مگر اکثر انسان اپنے رب کے تابعدار بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہاں تک کہ موت انہیں آلیتی ہے۔ موت برحق ہے جو نہ نیک کو چھوڑتی ہے اور نہ برے آدمی سے ٹلتی ہے۔ ہر انسان کو موت کے وقت اپنے کیے کا احساس ہوتا ہے۔ انسان جب اپنی موت کو اپنے سامنے دیکھتا ہے تو پھر اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اب میرا بچنا محال ہے۔ اس وقت دل ہی دل میں آرزو کرتا ہے کہ کاش مجھے مہلت مل جائے اور میں اللہ کی راہ میں صدقہ دے کر اپنے آپ کو بچا سکوں۔ لیکن جب موت وارد ہوتی ہے تو وہ کسی کو ایک لمحہ بھی مہلت نہیں دیتی۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

غفلت کا پردہ چاک ہوا : آیت 22 : لَقَدْ کُنْتَ (تو تھا) یعنی اس کو کہا جائے گا۔ لقد کنت۔ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہٰذَا (اس دن سے بیخبر ) یہ دن جو تجھ پر اتر پڑا ہے۔ فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآئَ کَ (پس اب ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا) پس تیری غفلت کو اس سے دور کردیا جس کا تو مشاہدہ کر رہا ہے۔ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ (پس آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے) آیت میں غفلت کو پردہ کی طرح قرار دیا۔ گویا وہ پردہ ہے جس نے اس کے سارے جسم کو ڈھانپ رکھا ہے۔ یا وہ ایسا پردہ ہے جو اس کی آنکھوں کو ڈھانپنے والا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ کچھ بھی دیکھنے نہیں پاتا۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور غفلت و غطاء ہر چیز زائل ہو کر چھٹ جائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 ۔” وجآء ت “ یہ دن ” کل نفس معھا سائق “ جو اس کو محشر کی طرف ہانگے گا۔ ” وشھید “ جو اس کے اعمال کو گواہی دے گا اور وہ اس کا عمل ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ سائق فرشتوں میں سے ہوگا اور شاہد خود انہی کے ہاتھوں پائوں سے اور یہی عطیہ عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ یہ دونوں فرشتوں میں سے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–22

16۔ 22۔ اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ انسان کے مرجانے کے بعد جنگل میں دریا میں جہاں کہیں اس کی خاک ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی جگہ کی خاک باہر نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا کہ خاک تو ظاہر آنکھوں سے نظر آتی ہوئی چیز ہے اللہ تعالیٰ کا علم تو ایسا بڑا ہے کہ وہ انسان کے دل کے خطرے تک کو جانتا ہے۔ صحیح مسلم 3 ؎ کی حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ ہر ایک انسان کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات رہتا ہے فرشتہ نیک کام کرنے کا خیال دل میں ڈالتا رہتا ہے اور شیطان بد کام کرنے کا وسوسہ ڈالتا رہتا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس صحیح حدیث کو اس آیت کی تفسیر قرار دیا ہے اور معنی آیت کے یہ کئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 19–22

(وجاء ت) ” اور آئی “ یعنی اس غافل اور آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والے کے پاس (سکرۃ الموت بالحق) ” موت کی بےہوشی حق کے ساتھ “ جس سے لوٹنا اور بچنا ممکن نہیں۔ (ذلک ماکنت منہ تحید) یہ وہی چیز ہے جس سے پیچھے ہٹتے اور اس سے دور بھاگتے تھے۔ (ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید) ” اور صور میں پھونکا جائیگا، یہی وعید کا دن ہے۔ “ یہ وہ دن ہے جس دن ظالموں کو عذاب دیا جائے گا، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا اور مومنوں کو ثواب عطا کیا جائے گا جس کا اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ (وجاءت کل نفس معھا سائق) ” اور ہر شخص آئے گا، ایک اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا۔ “ جو اسے قیامت کے میدان کی طرف ہانک کرلے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 31] منکرین کی قیامت کے روز کی تیز نگاہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد کیا گیا کہ اس روز ایسے منکر سے کہا جائے گا کہ آج تو تمہاری نگاہ بڑی تیز ہے۔ اور آج ان غیبی حقائق کو تو اپنی آنکھوں سے خود دیکھ رہا ہے جن کا دنیا میں تو انکار کرتا رہا تھا بلکہ تو ان کو ناممکن سمجھتا تھا۔ مگر آج کے اس دیکھنے اور جاننے اور ماننے سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا کہ یہ ایمان بالشہود یعنی دیکھنے کے بعد کا ایمان ہے، جب کہ اصل مطلوب ایمان بالغیب تھا اور اس کا وقت گزر چکا، معلوم ہوا کہ اس روز اہل کفر کی نگاہیں بھی بہت تیز ہوجائیں گی۔ جیسا کہ سورة مریم میں بھی ارشاد فرمایا گیا { اسمع بھم وابصر یوم یاتوننا لکن الظلمون…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–29

آیات 16 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے انسان کو پیدا کیا اس کی ایک ایک صفت اس میں پیدا کی لہذا اس کے دل میں بھی جو خیال گزرتا ہے ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ شہ رگ سے قریب تر ہونا۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مفسرین کرام کے مطابق یہاں قرب علمی مراد ہے کہ بات اس کے احوال اور دل میں گزرنے والے خیالات تک کی ہورہی ہے قرب مسافت مراد نہیں کہ اس کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے مگر تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ احاطہ عملی بھی ہر شے سے ہے اور انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال بلاکیف موجود ہے جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا جس کے دلائل قرآن حدیث میں موجود ہیں اور جس پر مولوی رومی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:22) لقد کنت فی غفلۃ من ھذا ۔۔ الجنۃ استئناف ، بنی علی سوال نشأ مما قبلہ کانہ قیل : فما ذا یکون بعد النفخ ومحی کل نفس معھا سائق وشھید ؟ فقیل یقال للکافر الغافل ۔۔ نیا جملہ ہے جو پہلے مضمون سے ایک نئے سوال پر مبنی ہے جیسا کہ کہا جاوے صور پھونکنے اور ہر شخص کے بمعیت سائق و شہید (میدان قیامت میں) آنے کے بعد کیا ہوگا ؟ جواب ہوگا کہ ہر کافر غافل یا ہر شخص سے (خطاب عام ہونے کی صورت میں) یہ کہا جاوے گا۔ لقد کنت فی غفلۃ من ھذا ۔۔ حدید۔ لقد تحقیق کے معنی میں ہے کنت ای کنت فی الدنیا فی غفلۃ من ھذا۔ من ھذا۔ یعنی جو کچھ تو نے آج اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ کشفنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ کشف (باب ضرب) مصدر۔ ہم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–29

لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 29 : توسوس (چپکے سے وسوسہ ڈالتا ہے) ‘ حبل الورید (شہہ رگ) ‘ قعید (بیٹھا ہوا) ‘ ما یلفظ ( کوئی لفظ نہیں نکلتا) ‘ رقیب (نگہبان۔ نگرانی کرنے والا) سکرۃ الموت (موت کی بےہوشی) ‘ تحید (کتراتا ہے) ‘ یوم الوعید ( ڈرنے کا دن) ‘ سائق (چلانے والا) ‘ غطائ (پردہ) ‘ حدید (بہت تیز) ‘ قرین (ساتھی) ‘ لدی (میرے پاس) القیا (تم دونوں ڈال دو ) ‘ عنید (ضدی) ‘ مناع ( روکنے والا) ‘ معتد (حد سے آگے بڑھ جانے والا) ‘ مریب (شک و شبہ ڈالنے والا) ‘ اطغیت (میں نے سرکشی کی) ‘ لاتختصموا (تم نہ جھگڑو) ۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 29 : ان آیات میں موت اور قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–29

نیک وبد کا انجام۔ (ف 1) جب صور پھ کے گا، قیامت قائم ہوگی، سب مجمع حشر میں اکٹھے ہوں گے تو وہ دن سزا جزا کا ہوگا، اولین وآخرین سب جمع ہوں گے ، وہ دن جس کی خبر دہشت ناک سنائی گئی ہے۔ ظاہر ہوگا یعنی روز جزا ہر آدمی زندہ ہوگا، اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہوگا، جو اس کو لے کرجاکردرباررب العزت میں کھڑا کرے گا، اور دوسرا اعمال نامہ کے لیے ہوگا جس میں اس کی زندگی کے سب احوال درج ہوں گے۔ اس وقت کہا جائے گا دنیا کے مزوں میں پڑ کر توآج کے دن سے بیخبر تھا اور تیری آنکھوں کے سامنے شہوات اور خواہشات کا اندھیرا چھایا ہوا تھ ارسول جو سمجھاتے تھے تجھے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا آج ہم نے تیری آنکھ سے وہ پردہ ہٹا دیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[7] یعنی اب تو تجھے خوب دکھائی دے رہا ہے کہ وہ سب کچھ یہاں موجود ہے جس کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–29

ف 1: اس وقت غیب سے آواز آئیگی کہ دنیا میں تمہاری آنکھیں بند تھیں ۔ اس پر دولت ، عزت اور جہالت کے حجاب چھا رہے تھے ۔ آج وہ نقاب اتاردیا گیا ہے ۔ آج تیری نگاہیں تیزی کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں ۔ بتا کہ یہی وہ چیزیں نہ تھیں ۔ جن کو تیرے سامنے پیش کیا جاتا تھا ۔ اور نوازراہ کبروغرور ان کا انکار کردیتا تھا ۔ کیا یہی وہ حقائق نہیں ہیں ۔ جن سے تجھے آگاہ کیا جاتا تھا اور تو ان کو بڑی بےپروائی سے ٹھکرادیتا تھا ۔ آج یہ چیزیں تیری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں ؟ کیا آج بھی انکار کی جرات ہے ؟ کیا اس وقت بھی جھٹلاتے ہو ؟ فرشتہ شہادت دیگا ۔ کہ اس کے اعمال میرے روزنامچہ میں ہیں ۔ یہ لکھے ہوئے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(22) یقینا تو اس دن سے بیخبر اور بڑی غفلت میں تھا اب ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز بیں ہے۔ یعنی تو انکار کرتا تھا اور مانتا نہ تھا قیامت کو جھٹلاتا تھا اور عالم برزخ کی کسی چیز کا قائل نہ تھا اب معائنہ کرلیا اور تجھ کو معلوم ہوگیا کہ پیغمبر جو کچھ کہا کرتے تھے وہ سب سچ تھا آج بڑا تیزبیں ہے کہ کوئی چیز مانع ادراک نہیں اگر دنیا ہی میں اس پردے کو ہٹا دیتا اور ان چیزوں پر ایمان لے آتا تو تیرے حق میں کیا اچھا ہوتا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے الناس نیام اذا ماتواذا نتبھوا یعنی لوگ سو رہے ہیں جب مرجائیں گے تو بیدار ہوجائیں گے دنیا میں انسان پر غفلت کی نیند طاری ہے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس بات سے تو غفلت میں تھا لیکن اب تیری آنکھوں سے ہم نے پردہ ہٹا دیا 22 ۔ اس روز اس کو کہا جائے گا کہ ارے صاحب ! دنیا میں جس چیز کا تم کو یقین نہیں آرہا تھا یہ وہی دن ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے اور اس کو تسلیم کرنے کے لیے تم تیار نہیں تھے اب بتائو اب بھی یقین آیا ہے یا نہیں ؟ ذرا جاگ کر بتائو کہ ابھی سوئے ہوئے ہو یا ندنو آپ کی کھل گئی ہے اچھی طرح آنکھیں کھولو اور غفت کی چادر اتارو ہم نے تمہاری انکھ سے تمہاری غفلت کے پردے کو ہٹا دیا ہے اور آج آپ کی بینائی کو تیز کردیا ہے گویا تمہارے چودہ طبق روشن ہوچکے ہیں اور تم کو دور دور تک انسان ہی انسان نظر آرہے ہیں ہاں ! تم تو انکار کرنے کے بڑے ماہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Unseen World Becomes Visible at Death فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُ‌كَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ (Now We have removed your veil from you; so your sight today is sharp...50:22). There is a difference of opinion regarding the addressees of this verse. The preferred opinion is that Allah addresses mankind in general. This includes the believers, the unbelievers, the pious and the wicked. Ibn Jarir, Ibn Kathir and others have adopted this interpretation. The analogy drawn here is that this world is like the dream-world and the Hereafter is like the state of wakefulness. When man is in the…

Read the full tafseer →