Explained with ayahs 23–29
ہمارے اعمال کے گواہ
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم وکاست حاضر ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہوگا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔ (القیا) تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو (تثنیہ) کردیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا…
Read the full tafseer →سورة قٓ 27
بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ " ساتھی " سے مراد وہ فرشتہ ہے جسے آیت نمبر 21 میں " گواہی دینے والا " فرمایا گیا ہے۔ وہ کہے گا کہ یہ اس شخص کا نامۂ اعمال میرے پاس تیار ہے۔ کچھ دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ " ساتھی " سے مراد وہ شیطان ہے جو دنیا میں اس شخص کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ وہ عرض کرے گا کہ یہ شخص جس کو میں نے اپنے قابو میں کر کے جہنم کے لیے تیار کیا تھا اب آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ مگر سیاق وسباق سے زیادہ مناسبت رکھنے والی تفسیر وہ ہے جو قتادہ اور ابن زید سے منقول ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ساتھی سے مراد ہانک کر لانے والا فرشتہ ہے اور وہی عدالت الٰہی میں پہنچ کر عرض کرے گا کہ یہ شخص…
Read the full tafseer →(آیت) قَالَ قَرِيْنُهٗ ھٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌ، یہاں قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جو انسان کے ساتھ اس کے اعمال لکھنے کے لئے رہتا تھا اور پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ کاتب اعمال دو فرشتے ہوتے ہیں، مگر قیامت میں انسان کی حاضری کے وقت ایک کو سائق دوسرے کو شہید اس سے پہلی آیت میں فرمایا ہے، اس لئے نسق کلام سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ کاتب اعمال دو فرشتوں کو میدان حشر میں اس کی حاضری کے وقت دو کام سپرد کردیئے گئے ہیں ایک کے ذمہ اس کے پیچھے رہ کر اس کو میدان حشر میں پہنچانا لگایا گیا، جس کو آیت میں سائق کا نام دیا گیا ہے دوسرے کے سپرد اس کے نامہ اعمال کردیئے گئے جس کو شہید کے نام سے تعبیر کیا گیا، تو میدان حشر…
Read the full tafseer →وقال قرینہ ھذا مالدی عتید 23
جرم کی پیشی عدالت میں
قرینہ دلیل ہے کہ قرین سے مراد انہی دو میں سے کوئی ایک ہے جو سآئق اور شھید کی حیثی سے اس کو لے کر عدالت الٰہی میں حاضر ہوں گے۔ بعض لوگوں نے اس سے اس شیطان کو مراد لیا ہے جو اللہ تعالیٰ سے اعراض کرنے والے پر مسلط کردیا جاتا ہے، لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ یہ شیطان نہ تو کسی کے بارے میں یہ کہہ سکنے کے پوزیشن میں ہوگا کہ یہ شخص جو میری تحویل میں تھا حاضر ہے اور نہ وہ اس دن کسی کو بہکانے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے گا۔ آگے اس کا وقل آ رہا ہے کہ جب اس کے جال میں پھنسے ہوئے لوگ اپنی گمراہی کی ذمہ داری اس پر ڈالنی چ ہیں گے تو وہ صاف اعلان برأت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
23۔ 1 یعنی فرشتہ انسان کا سارا ریکارڈ سامنے رکھ دے گا اور کہے گا کہ یہ تیری فرد عمل ہے کو جو میرے پاس تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
8: یہاں (ہم نشین) ساتھی سے مراد وہی فرشتہ ہے جو ہر وقت انسان کے ساتھ رہ کر اس کے اعمال لکھا کرتا تھا اور قبر سے اس کے ساتھ گواہ بن کر آیا تھا۔
Read the full tafseer →وقال قرینۃ ھذا ما لدی عتید (50 : 23) ” اس کے ساتھی نے عرض کیا ، یہ جو میری سپردگی میں تھا حاضر ہے تیار “۔ عتید کے معنی ہیں حاضر ، تیار۔ یعنی اب کوئی نئی چیز تیار نہیں کرتی ہے پہلے سے تیار ہے۔
یہاں اب اس ریکارڈ کو پڑھا نہیں جاتا ہے پس عدالت سے جلدی کے ساتھ ڈگری صادر ہوتی ہے اور نافذ ہوتی ہے۔ فوراً بارگاہ رب العزت سے اس سابق اور شہید کو حکم دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →11 یعنی فرشتہ اعمالنامہ حاضر کرے گا۔ اور بعض نے " قرین " سے مراد شیطان لیا ہے۔ یعنی شیطان کہے گا کہ یہ مجرم حاضر ہے جس کو میں نے اغواء کیا اور دوزخ کے لیے تیار کر کے لایا ہوں۔ مطلب یہ کہ اغواء تو میں نے کیا۔ مگر میرا ایسا زور تسلط نہ تھا کہ زبرستی اس کو شرارت میں ڈال دیتا۔ یہ اپنے ارادہ اختیار سے گمراہ ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 23{ وَقَالَ قَرِیْنُہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌ۔ } ”اور اس کا ساتھی کہے گا : پروردگار ! یہ جو میری تحویل میں تھا ‘ حاضر ہے !“
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں ”ساتھی“ سے فرشتہ مراد ہے ‘ لیکن میں ان لوگوں سے متفق ہوں جو اس سے شیطان مراد لیتے ہیں۔ دراصل خیر اور شر کی قوتیں انسان کے اندر بھی موجود ہیں اور خارج میں بھی۔ اندر سے انسان کا نفس اسے برائی پر ابھارتا ہے ‘ جبکہ خارج میں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان بھی مامور ہے جو اس کے نفس میں ہر وقت وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کے اندر اس کی روح ”داعی ٔ خیر“ کے طور پر موجود ہے جبکہ خارج میں اس حوالے سے فرشتے اس کی مدد کرتے ہیں۔ سورة…
Read the full tafseer →27 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو ترجمہ سے واضح ہے کہ گواہ فرشتہ مجرم کو پیش کرکے کہے گا کہ مجرم بھی حاضر ہے اور گواہی بھی حاضر ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہانکنے والا فرشتہ اللہ کے دربار میں حاضر ہو کر کہے گا کہ جو مجرم میری سپردگی میں تھا۔ پیشی کے لئے حاضر ہے۔
Read the full tafseer →19۔ یعنی نامہ اعمال۔ (آیت) ” وقال قرینہ “ َ حدیث میں آتا ہے کہ ہر انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی ایک فرشتہ اور ایک شیطان بھی اس کے ساتھ کردیا جاتا ہے۔ فرشتہ نیکیوں کی راہ دکھاتا رہتا ہے۔ اور شیطان بدیوں کی راہ سمجھاتا رہتا ہے اس آیت میں قول فرشتہ کا نقل ہورہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–29
انسان کا ہر قول رکارڈ کیا جاتا ہے :
مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگران فرشتہ محفوظ نہ کرلیتا ہو، حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ اور قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ صرف وہ کلمات لکھتے ہیں کہ جن میں کوئی ثواب یا عقاب کی بات ہو۔
علی بن ابی طلحہ نے ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فرمائی جس میں یہ دونوں قول جمع ہوجاتے ہیں، اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو ہر کلمہ لکھا جاتا ہے خواہ اس میں کوئی ثواب و عقاب کی بات ہو یا نہ ہو، مگر ہفتہ…
Read the full tafseer →و قال قرینہ ھذا ما لدی عتید . اور اس کا ساتھی (فرشتہ) کہے گا یہ وہ (روزنامچہ) ہے جو میرے پاس تیار ہے۔
قَرِیْنُہٗ : قرین سے مراد وہ فرشتہ جو انسان کے اعمال پر مقرر ہے۔
ھٰذَا کا اشارہ یا شخص کی طرف ہے یا اس کے اعمالنامے کی طرف۔ یعنی یہ اعمالنامہ جو میرے پاس ہے حاضر ہے یا میرے پاس جو شخص ہے حاضر ہے۔ اللہ فرمائے گا :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
(20۔ 23) اور صور پھونکا جائے گا جس سے سب زندہ ہوجائیں گے یہی اولیں و آخریں کی وعید کا دن ہوگا جس میں سب جمع کیے جائیں گے اور میدان حشر میں قیامت کے دن ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے جن میں سے وہ فرشتہ جو اس کی برائیاں لکھتا تھا وہ اسے اپنے پروردگار کی طرف ساتھ لائے گا اور دوسرا فرشتہ جو اس کی نیکیاں لکھا کرتا تھا وہ پروردگار کے سامنے اس پر گواہ ہوگا خطاب ہوگا کہ اے انسان تو اس دن سے بیخبر اور غافل تھا سو اب ہم نے تیرے اعمال پر سے پردہ غفلت ہٹا دیا جو تیرے لیے دار دنیا میں حجاب بنا ہوا تھا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے یا یہ کہ بعث بعد الموت کے بارے میں آج تو تیرا علم بڑا وسیع…
Read the full tafseer →(وقال قرینہ ھذا مالدی عبید :”قرین“ ساتھی۔ یعنی وہ فرشتہ جو اسے ہانک کر محشر میں لانے پر مقرر تھا کہے گا، اے رب ! وہ مجرم جسے لانے پر تو نے مجھے مقرر فرمایا تھا یہ میرے پاس حاضری کے لئے تیار ہے اور وہ فرشتہ جو شہادت کے لئے ساتھ تھا کہے گا، اس کے متعلق جس جس شہادت کی ضرورت ہے وہ یہ ہے جو میرے پاس تیار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جس کو اس پر مقرر کیا گیا جاتا ہے یہ حضرت حسن بصری قتادہ اور ضحاک کا قول ہے یعنی اس کے اعمال جو لکھے گئے ہیں وہ میرے پاس محفوظ اور تیار ہیں مجاہد نے کہا وہ کہے گا یہ وہ چیز ہے جس کی تو نے مجھے بنی آدم کے متعلق ذمہ داری سونپی تھی میں اس انسان اور اس کے نامہ اعمال کو حاضر کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا معنی ہے میرے پاس جو عذاب ہے حاضر ہے مجاہد نے قول بھی کیا ہے اس کے قرین سے مرا وہ شیطان ہے جو اس پر مسلط کیا گیا ابن زیدنے کہا ابن وہب نے اسے روایت نقل کی ہے مراد انسانوں میں سے اس کا دوست ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھی سے فرمائے گا خلیل اور اخفش نے کہا یہ عربوں کا فصیح کلام ہے کہ…
Read the full tafseer →19:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقال قرینہ '' (اس کا ساتھی کہے گا) یعنی شیطان۔
20:۔ الفریابی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقال قرینہ '' یعنی وہ شیطان کہے گا جو اس کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔
21:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقال قرینہ '' (یعنی اس کا ساتھی) اس کا فرشتہ (آیت ) '' ھذا ما لدی عتید '' (یہ وہ اعمال نامہ ہے جو میرے پاس تیار ہے) یعنی جو میرے پاس تیار ہے انسان کے لئے میں نے اس کی حفاظت کی یہاں تک کہ میں اس کو لے آیا (آیت ) '' وقال قرینہ ھذا ما لدی عتید '' (وہ شیطان جو اس کا ساتھی تھا کہے گا اے ہمارے رب میں نے اس کو…
Read the full tafseer →و َقَالَ قَرِيْنُهٗ [ اور کہے گا اس کا ہمنشین (فرشتہ )] ھٰذَا مَا [ یہ وہ ہے جو ] لَدَيَّ [ میرے پاس تھا ] عَتِيْدٌ [ تیار (حاضر) ہے ]
Read the full tafseer →﴿وَ قَالَ قَرِيْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌؕ0023﴾ (اور اس کا ساتھی کہے گا کہ یہ وہ ہے جو میرے پاس تیار ہے) قرین یعنی ساتھی سے کون مراد ہے ؟ اس کے بارے میں حضرت حسن (بصری) نے تو یہ فرمایا کہ اس سے اس کی برائیوں کا لکھنے والا کاتب مراد ہے وہ اپنے لکھے ہوئے صحیفہ کی طرف اشارہ کر کرے کہے گا کہ یہ اس کے اعمال ناموں کا کتابچہ ہے جو میرے پاس لکھا ہوا تیار ہے اور حضرت مجاہد نے فرمایا کہ اس سے وہ شیطان مراد ہے جو ہر انسان کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس کا ایک ساتھی جنات میں اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے مقرر نہ کیا گیا ہو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
کمال قدرت خداوندی از روئے علم واحاطہ باحوال انسانی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد خلقنا الانسان ...... الی ..... وما انا بظلام للعبید “۔
(ربط) ما قبل آیات میں منکرین حشر ونشر کا ذکر تھا اسی کے ساتھ پہلی امتوں کی عبرت ناک تاریخ دہرائی گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں مختلف انواع و اقسام کے عذاب ان پر نازل ہوئے اور ان کو ہلاک کردیا گیا تو اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ومخالفت کرنے والی قوم کفار قریش کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے سزا دنیا چوں کہ دو چیزوں پر موقوف ہے ایک علم پر کہ مجرم کے جرم کا علم ہو دوسرے قدرت پر کہ مجرم کو سزا دینے پر قادر ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
13:۔ ” وقال قرینۃ۔ الایۃ “ قرین سے مراد فرشتہ ہے جو آدمی کے اعمال پر مؤکل ہے وہ کافر کا اعمالنامہ پیش کر کے عرض کرے گا کہ میرے پاس تو یہی اس کے اعمال ہیں جو کمی بیشی کے بغیر حاضر ہیں۔ ” القیا فی جہنم “ بعض کے نزدیک القیا صیغہ واحد ہے اور الف نون ثقیلہ سے مبدل ہے۔ اور بعض کے نزدیک تثنیہ تکرار کے لیے ہے برائے افادہ تاکید (روح) اور بعض کے نزدیک صیغہ تثنیہ ہے لیکن خطاب واحد کو ہے کیونکہ عرب عام طور پر واحد کو صیغہ تثنیہ سے خطاب کرتے ہیں (ابن کثیر) ۔ امام ابن جریر اور دیگر حضرات کے نزدیک خطاب تثنیہ سائق اور شہید سے ہے (ابن جریر) ۔ اور حضرت الشیخ قدس سرہ فرماتے ہیں تثنیہ حقیقت پر محمول ہے اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے دلائل ذکر کیے اور اس کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ۔ پھر انسان کی تخلیق اور اس کی مخفی باتوں تک جاننے کا ذکر کیا ۔ نیز فرمایا کہ ہم تو انسان کی رگ گردن سے بھی اس کے زیادہ قریب ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے تمام اعمال کی حفاظت کے لیے ہر شخص کے دائیں بائیں دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو انسان کا ہر قول و فعل نوٹ کر رہے ہیں ۔ آگے یقینا جزائے عمل پیش آنے والی ہے اور اس کا زیادہ تر انحصار فرشتوں کی انہی رپورٹوں پر ہوگا ۔ پھر فرمایا جب انسان کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس پر موت کی غشی طاری ہوجاتی ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کو انسان عمر بھر ٹالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے…
Read the full tafseer →وَقَالَ قَرِيْنُہٗ ھٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌ 23 ۭ
قرین
الِاقْتِرَانُ کالازدواج في كونه اجتماع شيئين، أو أشياء في معنی من المعاني . قال تعالی: أَوْ جاءَ مَعَهُ الْمَلائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ [ الزخرف/ 53] .
يقال : قَرَنْتُ البعیر بالبعیر : جمعت بينهما، ويسمّى الحبل الذي يشدّ به قَرَناً ، وقَرَّنْتُهُ علی التّكثير قال : وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفادِ [ ص/ 38] وفلان قِرْنُ فلان في الولادة، وقَرِينُهُ وقِرْنُهُ في الجلادة «1» ، وفي القوّة، وفي غيرها من الأحوال . قال تعالی: إِنِّي كانَ لِي قَرِينٌ [ الصافات/ 51] ، وَقالَ قَرِينُهُ هذا ما لَدَيَّ [ ق/ 23] إشارة إلى شهيده . قالَ قَرِينُهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
ترکیب : مالدی ان جعلت ماموصوفہ فعتید صف تھا وان جعلت موصولۃ فبدلھا اوخبر بعد خبر او خبر محذوف الذی جعل مبتداء متضمن معنی الشرط فالقیاہ خبرہ او بدل من کل کفار۔
تفسیر : علامہ محی الدین ابن العربی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ دائیں طرف بیٹھنے والے سے مراد اس کی وہ قوت ہے جو اس کو نیک اعمال پر آمادہ کرتی ہے اور بائیں طرف والے سے مراد وہ قوت جو شر کی طرف بر انگیختہ کرتی ہے۔ یہ خدا کی طرف کے دو موکل ہیں جو ہر روز ملتے ہیں، یعنی ان کا مقابلہ رہتا ہے اور ان دونوں قوتوں سے جو جو خطرات اس کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ان کو ہم جانتے ہیں، کیونکہ اس کی رگ گردن تو اس کے دل سے دور ہے اور ہمارا اس کے دل سے…
Read the full tafseer →وَقَالَ قَرِیْنُـہٗ ھٰذَا مَالَدَیَّ عَتِیْدٌ۔ (قٓ: 23)
(اور اس کا ساتھی کہے گا یہ جو میری تحویل میں تھا حاضر ہے۔ )
قرین سے مراد ؟
قرین سے مراد اس کا ساتھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہاں ساتھی سے مراد کیا ہے ؟ اس سے مختلف مفہوم مراد لیے گئے ہیں۔ لیکن جو بات سیاق وسباق سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے اور جو قتادہ اور ابن زید سے منقول بھی ہے وہ یہ ہے کہ اس سے مراد وہ فرشتہ ہے جسے اس سے پہلے سائق کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی اسے اپنے مرقد سے اٹھتے ہی اس نے اپنی تحویل میں لے لیا، گویا اس کا محشر تک پہنچانا اس کی ذمہ داری ٹھہرا۔ چناچہ وہ ہانکتا ہوا اسے محشر میں لے گیا۔ اب اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قربت اور قدرت کا ذکر فرما کر انسان کو نیک بنانے کی کوشش فرمائی ہے مگر اکثر انسان اپنے رب کے تابعدار بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہاں تک کہ موت انہیں آلیتی ہے۔
موت برحق ہے جو نہ نیک کو چھوڑتی ہے اور نہ برے آدمی سے ٹلتی ہے۔ ہر انسان کو موت کے وقت اپنے کیے کا احساس ہوتا ہے۔ انسان جب اپنی موت کو اپنے سامنے دیکھتا ہے تو پھر اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اب میرا بچنا محال ہے۔ اس وقت دل ہی دل میں آرزو کرتا ہے کہ کاش مجھے مہلت مل جائے اور میں اللہ کی راہ میں صدقہ دے کر اپنے آپ کو بچا سکوں۔ لیکن جب موت وارد ہوتی ہے تو وہ کسی کو ایک لمحہ بھی مہلت نہیں دیتی۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →قرین کی مراد :
آیت 23 : وَقَالَ قَرِیْنُہٗٗ (اور اس کا ساتھی کہے گا) قول جمہور : یہ ہے۔ وہ فرشتہ ہے جو اس کے اعمال لکھنے پر مقرر ہے وہ اس پر گواہ ہوگا۔ ہٰذَا کا اشارہ دیوان عمل کی طرف ہے۔ قول مجاہد : اس سے اس کا وہ شیطان مراد ہے جو اس پر مقرر کیا گیا۔ جو ارشاد الٰہی میں ہے۔ نقیض لہ شیطانا فہو لہ قرین۔ ] الزخرف۔ 36[ ہٰذَا یعنی یہ وہ شخص ہے جس پر مجھے مقرر کیا گیا۔
مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌ (یہ وہ ہے جو میرے پاس تیار ہے) نحو : ہذا مبتدأ اور ما نکرہ ہے جو شیٔ کا معنی دے رہا ہے۔ بعد والا ظرف ما کی صفت ہے۔ اسی طرح عتید بھی صفت ہے۔ ما اپنی صفت سے مل کر خبر اور ہذا مبتدأ۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ ہذا شیٔ ثابت…
Read the full tafseer →22 ۔ پس اللہ تعالیٰ اس کو کہیں گے ” لقد کنت فی غفلہ من ھذا “ آج کے دن دنیا میں ” فکشفنا عنک غطاء ک “ جو دنیا میں تیرے دل، تیرے کانوں اور آنکھوں پر تھا۔ ” فبصرک الیوم حدید “ جاری ہونے والی ہے جس کا تو دنیا میں انکار کرتا تھا۔ اس کو دیکھنے والی ہے اور مجاہد (رح) سے روایت کیا گیا ہے یعنی تیری نظر تیرے میزان کی زبان کی طرف جب تیری نیکیاں اور برائیاں وزن کی جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
23۔ 29۔ اوپر جن دو فرشتوں کا ذکر تھا کہ ایک اللہ کے رو برو لے جانے والا اور دوسرا عملوں کی گواہی دینے والا ‘ ہر شخص کے ساتھ یہ دو فرشتے ہوں گے۔ ان آیتوں میں ساتھ والا ان ہی دونوں کو فرمایا ہے ان میں سے ایک تو اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کرے گا کہ جس انسان پر میں تعینات تھا وہ حاضر ہے۔ دوسرا یہ عرض کرے گا کہ یہ اس انسان کا عمل حاضر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کے جواب میں دو زخمیوں کے اوصاف بیان فرما کر حکم دے گا کہ ان اوصاف کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دو ۔ کفار کے معنی بڑا کفر کرنے والا عنید کے معنی حق بات سے عناد رکھنے والا مناع للخیر کے معنی نیک کام سے روکنے اور ممانعت کرنے والا معتدی بری کاموں میں حد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : (وقال قرینہ) اس جھٹلانے اور روگردانی کرنے والے کا فرشتوں میں سے وہ ساتھی، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی اور اس کے اعمال کی حفاظت کے لئے مقرر کیا ہے، قیامت کے روز اس کے سامنے موجود ہوگا اور اس کے اعمال کو اس کے سامنے پیش کرے گا اور کہے گا : (ھذا ما لدی عتید) ” یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے۔ “ یعنی میں نے وہ سب کچھ پیش کردیا ہے جس کی حفاظت اور اس کے عمل کو محفوظ رکھنے پر مجھے مقرر کیا گیا تھا پس اب اس کے عمل کی جزا دی جائے گی۔ جو کوئی جہنم کا مستحق ہوگا اسے کہا جائے گا : (القیا فی جھنم کل کفار عنید) ” ہر ناشکرے، سرکش کو جہنم میں ڈال دو ۔ “ یعنی جو بہت زیادہ کفر کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
[ 32] مجرم کی عدالت میں پیشی کے منظر کا ذکر وبیان، والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر اسکا ساتھی کہے گا کہ یہ ہے جو میرے پاس حاضر و موجود تھا، اور اس قرین [ ساتھی ] سے مراد وہ فرشتہ ہے جو انسان پر اس کے اعمال کو ضبط کرنے کے لئے مقرر ہوتا ہے، یہی متبادر بھی ہے، اور یہی حضرت مجاہد وغیرہ کا قول بھی ہے، سو وہ فرشتہ کہے گا کہ یہ ہے وہ شخص جس کی نگرانی کا کام میرے ذمے لگایا گیا تھا، اور یہ ہے اس کا وہ نامہ اعمال جس کی تیاری کا کام مجھے سونپا گیا تھا، جب کہ دوسرا قول اس قرین کے بارے میں یہ ہے کہ اس سے مراد وہ شیطان ہے جو ایسے انسان پر مقرر کیا جاتا ہے، جیسا کہ سورة زخرف میں فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
آیات 16 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے انسان کو پیدا کیا اس کی ایک ایک صفت اس میں پیدا کی لہذا اس کے دل میں بھی جو خیال گزرتا ہے ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔
شہ رگ سے قریب تر ہونا۔
اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مفسرین کرام کے مطابق یہاں قرب علمی مراد ہے کہ بات اس کے احوال اور دل میں گزرنے والے خیالات تک کی ہورہی ہے قرب مسافت مراد نہیں کہ اس کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے مگر تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ احاطہ عملی بھی ہر شے سے ہے اور انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال بلاکیف موجود ہے جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا جس کے دلائل قرآن حدیث میں موجود ہیں اور جس پر مولوی رومی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 8 یہ حکم ہے جو اس روز اللہ تعالیٰ ہانکنے والے اور گواہی دینے والے فرشتے کو دے گا۔
Read the full tafseer →(50:23) وقال قرینہ واؤ عاطفہ ہے قرینہ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کا ساتھی۔ ہ ضمیر واحد مذکر کا مرجع وہ شخص ہے جس سے لقد کنت فی غفلۃ میں خطاب ہے۔
قرین : ق ر ن مادہ۔ باب افتعال سے الاقتران کے معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے کسی معنی میں باہم مجتمع ہونے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین (43:53) یا یہ ہوتا کہ فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے۔
وہ آدمی جو دوسرے کا ہم پلہ ہو بہادری۔ قوت اور دیگر اوصاف میں اسے اس کا قرن کہا جاتا ہے اور ہم پلہ یا ہمسر کو قرین بھی کہتے ہیں چناچہ محاورہ ہے فلان قرن فلان او قرینہ فلاں اس کا ہم عمر یا ہمسر ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے انی کان لی قرین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 29 :
توسوس (چپکے سے وسوسہ ڈالتا ہے) ‘ حبل الورید (شہہ رگ) ‘ قعید (بیٹھا ہوا) ‘ ما یلفظ ( کوئی لفظ نہیں نکلتا) ‘ رقیب (نگہبان۔ نگرانی کرنے والا) سکرۃ الموت (موت کی بےہوشی) ‘ تحید (کتراتا ہے) ‘ یوم الوعید ( ڈرنے کا دن) ‘ سائق (چلانے والا) ‘ غطائ (پردہ) ‘ حدید (بہت تیز) ‘ قرین (ساتھی) ‘ لدی (میرے پاس) القیا (تم دونوں ڈال دو ) ‘ عنید (ضدی) ‘ مناع ( روکنے والا) ‘ معتد (حد سے آگے بڑھ جانے والا) ‘ مریب (شک و شبہ ڈالنے والا) ‘ اطغیت (میں نے سرکشی کی) ‘ لاتختصموا (تم نہ جھگڑو) ۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 29 :
ان آیات میں موت اور قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
نیک وبد کا انجام۔
(ف 1) جب صور پھ کے گا، قیامت قائم ہوگی، سب مجمع حشر میں اکٹھے ہوں گے تو وہ دن سزا جزا کا ہوگا، اولین وآخرین سب جمع ہوں گے ، وہ دن جس کی خبر دہشت ناک سنائی گئی ہے۔ ظاہر ہوگا یعنی روز جزا ہر آدمی زندہ ہوگا، اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہوگا، جو اس کو لے کرجاکردرباررب العزت میں کھڑا کرے گا، اور دوسرا اعمال نامہ کے لیے ہوگا جس میں اس کی زندگی کے سب احوال درج ہوں گے۔ اس وقت کہا جائے گا دنیا کے مزوں میں پڑ کر توآج کے دن سے بیخبر تھا اور تیری آنکھوں کے سامنے شہوات اور خواہشات کا اندھیرا چھایا ہوا تھ ارسول جو سمجھاتے تھے تجھے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا آج ہم نے تیری آنکھ سے وہ پردہ ہٹا دیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
[8] مراد ہانک کر لانے والا فرشتہ ہے جو عدالت الٰہی میں پہنچ کر عرض کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
ف 1: اس وقت غیب سے آواز آئیگی کہ دنیا میں تمہاری آنکھیں بند تھیں ۔ اس پر دولت ، عزت اور جہالت کے حجاب چھا رہے تھے ۔ آج وہ نقاب اتاردیا گیا ہے ۔ آج تیری نگاہیں تیزی کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں ۔ بتا کہ یہی وہ چیزیں نہ تھیں ۔ جن کو تیرے سامنے پیش کیا جاتا تھا ۔ اور نوازراہ کبروغرور ان کا انکار کردیتا تھا ۔ کیا یہی وہ حقائق نہیں ہیں ۔ جن سے تجھے آگاہ کیا جاتا تھا اور تو ان کو بڑی بےپروائی سے ٹھکرادیتا تھا ۔ آج یہ چیزیں تیری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں ؟ کیا آج بھی انکار کی جرات ہے ؟ کیا اس وقت بھی جھٹلاتے ہو ؟ فرشتہ شہادت دیگا ۔ کہ اس کے اعمال میرے روزنامچہ میں ہیں ۔ یہ لکھے ہوئے…
Read the full tafseer →(23) اور اس کا ساتھی کہے گا اس کے اعمال کا وہ دفتر جو میرے پاس تھا یہ حاضر ہے - قرین یہ شاید وہی فرشتہ ہے جس کو اوپر شہید کہا گیا ہے یہ نامہ اعمال پیش کرتے ہوئے عرض کرے گا ھذا مالدی عتید کہ جو اس کی مسل اور روزنامچہ اور نامہ اعمال میرے پاس تھا وہ یہ حاضر ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ فرشتہ اعمال حاضر کرے گا۔
خلاصہ : یہ کہ وہ دو فرشتے جو ساتھ ہوں گے ایک سائق اور ایک شہید وہی پیش کریں گے اور اسی وقت فیصلہ کردیا جائے گا حضرت مجاہد نے اس قرین سے وہ شیطان مراد لیا ہے جس کا ذکر سورة زخرف میں گزرچکا ہے وہ یہ کہے گا کہ میں اس پر متعین تھا یہی وہ شخص ہے اس کو میں حاضر کررہا ہوں چونکہ یہ قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
ف 3۔ یعنی ہر شخص کی موت قریب ہے۔
Read the full tafseer →اس کا ساتھی کہے گا کہ یہ جو میری سپردگی میں تھا وہ حاضر ہے
23 ۔ (قرین) کے معنی ساتھی کے ہیں لیکن اس جگہ کون سا ساتھی مراد ہے ؟ اس میں تین طرح کے احتمال بیان کیے گئے ہیں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہی فرشتہ ہے جس کو دوسری جگہ (سائق) کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جو ہر انسان کے ساتھ اس کے برے اعمال لکھنے پر مقرر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ فرشتہ ہے جس کو شہید کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور جس کا بیان آیت 21 میں گزر چکا ہے اور وہ کہے گا کہ یہ وہ شخص ہے جس کا اعمال نامہ میرے پاس تیار ہے اور بعض دوسرے مفسرین نے اس جگہ قرین سے مراد وہ شیطان لیا ہے جو انسان کو برائی پر آمادہ کرتا ہے اور کہا…
Read the full tafseer →قَالَ قَرِينُهُ هَـٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌ (And his companion will say, "This is what I have with me, ready (to be presented as his record of deeds)... 50:23]. The word qarin (translated above as 'companion) refers to the recording angel that accompanies man all the time. Earlier we have learnt that there are two angels that record deeds. In the preceding verse they were referred to as Sa'iq and Shahid. The context indicates that, on the Day of Resurrection, the two scribes will be entrusted with two different tasks. One, named as Sa'iq, will drive the people to the gathering place, and the…
Read the full tafseer →27 Some commentators say that "the companion" implies the angel who has been referred to as "a witness" in verse 21. He will say: "I have this person's record ready with me here" . Some other commentators say that "the companion" implies the satan who was attached to the person in the world. He will say: "This person whom I was controlling and preparing for Hell, is now presented before You. " But the commentary that is more relevant to the context is the one that has been reported from Qatadah and Ibn Zaid. They say that the companion implies the angel who drove and brought the person to…
Read the full tafseer →