Qaaf 50:24

Qaaf · from ayah 24

50:24

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍ ۟ۙاَلۡقِيَا فِىۡ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيۡدٍۙ

(حکم ہوگا کہ) ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah will say], "Throw into Hell every obstinate disbeliever,

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:24

حکم دیا گیا "پھینک دو جہنم میں ہر گٹے کافر کو جو حق سے عناد رکھتا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(حکم ہوگا کہ) ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

ڈال دو جہنم میں ہر کافر سرکش کو

— مولانا محمد جوناگڑہی

(حکم دیا جائے گا کہ) تم دونوں ہر اس شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کٹر کافر اور حق کا پکا دشمن تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

حکم ہوگا تم دونوں جہنم میں ڈال دو ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(حکم ہوگا): پس تم دونوں (ایسے) ہر ناشکرگزار سرکش کو دوزخ میں ڈال دو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جہنم میں پھینک دو تم دونوں (فرشتے) ہر زبردست ناشکرے کو، جو بہت عناد رکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(سائق اور شہید دونوں فرشتوں کو حکم ہوگا کہ) ہر سرکش کافر کو جہنم میں پھینک دو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم جھونک دو ، جہنم میں ہر ناشکرے، معاند ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(حکم ہوگا کہ) ڈال دو جہنم (کی اس دہکتی بھڑکتی آگ) میں ہر کٹے کافر کو جو عناد (اور دشمنی) رکھنے والا تھا (حق اور اہل حق سے)

— مولانا اسحاق مدنی

ڈال دو تم دونوں جہنم میں ہر ایسے شخص کو جو کفر کرنے والا ہو ضد رکھنے ولا ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ تعالیٰ فرمائے گا) جھونک دو جہنم میں ہر ناشکرے سرکش کو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

حکم ہوگا کہ ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The command was given: “Cast into Hell every hardened, stubborn unbeliever,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Then it will be said,) :Cast, (O two angels,) into Jahannam (Hell) every obstinate disbeliever

— Muhammad Taqi Usmani

(Then it will be said,) :Cast, (O two angels,) into Jahannam (Hell) every obstinate disbeliever

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Allah will say to the angels:) "Both of you throw into Hell every stubborn disbeliever"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(And it is said): Do ye twain hurl to hell each rebel ingrate,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah will say], "Throw into Hell every obstinate disbeliever,

— Saheeh International

(They will be told,) "Throw into hell every persistent disbelievers,

— Muhammad Sarwar

Do cast into hell every ungrateful, rebellious one,

— Muhammad Habib Shakir

Cast ye twain into Hell every Person rebellious, contumacious.

— Abdul Majid Daryabadi

(The sentence will be:) "Throw, throw into Hell every contumacious Rejecter (of Allah)!-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–29

ہمارے اعمال کے گواہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم وکاست حاضر ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہوگا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔ (القیا) تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو (تثنیہ) کردیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 28 اصل الفاظ میں اَلْقِیَا فِیْ جَھَنَّمَ ، " پھینک دو جہنم میں تم دونوں "۔ سلسلہ کلام خود بتارہا ہے کہ یہ حکم ان دونوں فرشتوں کو دیا جائے گا جنہوں نے مرقد سے اٹھتے ہی مجرم کو گرفتار کیا تھا اور لا کر عدالت میں حاضر کردیا تھا۔ سورة قٓ 29 اصل میں لفظ " کَفَّار " استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی ہیں۔ ایک، سخت ناشکرا۔ دوسرے سخت منکر حق۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–26

(آیت) اَلْقِيَا فِيْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍ ، لفظ القیا تثنیہ کا صیغہ ہے جو دو شخصوں کے لئے بولا جاتا ہے اس آیت میں جن دو فرشتوں کو خطاب ہے وہ کون ہیں، ظاہر یہ ہے کہ یہی دو فرشتے جن کو پہلے سائق اور شہید کہا گیا ہے اس کے مخاطب ہیں، بعض حضرات مفسرین نے دوسری توجیہات بھی لکھی ہیں (از ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

القیافی جھنم کل کفار عنید 24 ایک سوال اور اس کا جواب القیامثنیٰ کا صیغہ ہے اس وجہ سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حکم کن دو فرشتوں کو دیا جائے گا۔ عام طور پر ارباب تاویل نے اس کا مخاطب انہی دو فرشتوں کو قرار دیا ہے جن کا ذکر اوپر سائق اور شہید کے الفاظ سے زگر چکا ہے۔ انہی کو حکم ہوگا کہ ہر ناشکرے معاند کو جہنم میں پھونک دو۔ اس تاویل میں بظاہر کوئی ضعف نظر نہیں آتا۔ ان دونوں کو یہ حکم دینے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ وہی اس کو جہنم میں ڈالیں بھی۔ یہ محض حکم کا بیان ہے اس کی عتمیل میں وہ مجرم کو جہنم میں جھونکنے والے فرشتوں کے حوالہ کردیں گے اور وہ اس کو جہنم کے اس طبقے میں، جو اس درجے کے مجرمین کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 23–25

23۔ 1 یعنی فرشتہ انسان کا سارا ریکارڈ سامنے رکھ دے گا اور کہے گا کہ یہ تیری فرد عمل ہے کو جو میرے پاس تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 24–26

القیا فی جھنم کل کفار عنید (50 : 24) مناع اللخیر معتد مریب (50 : 25) الذی جعل ۔۔۔۔ العذاب الشدید ۔ (50 : 26) ” حکم دیا گیا ، پھینک دو جہنم میں ہر کٹے کافر کو جو حق سے عناد رکھتا تھا ۔ خیر کو روکنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا ، شک میں پڑا ہوا تھا اور اللہ کے سوا کسی دوسرے کو خدا بنائے بیٹھا تھا ، ڈال دو اسے سخت عذاب میں “۔ ان صفات کے ذکر سے ، اس مشکل وقت کی مشکلات میں گرفتار لوگوں کے خوف و ہراس میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ پہلے سے مشکل میں گرفتار مجرموں پر اللہ جبار وقہار کے غضب کا ڈر پیدا ہوجاتا ہے۔ کیونکہ یہ تمام صفات اس بات کی مستحق ہیں کہ مجرم کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔ سخت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 24–25

12 بارگاہ ایزدی سے یہ حکم دو فرشتوں کو ہوگا کہ ایسے لوگوں کو جہنم میں جھونک دو (اعاذنا اللہ منہا)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24{ اَلْقِیَا فِیْ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیْدٍ۔ } ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا جھونک دو جہنم میں ہر ناشکرے سرکش کو۔“ یہ حکم گویا اس انسان اور اس کے ساتھی شیطان دونوں کے لیے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

28 یعنی وہ خود ہی کفر کے جرم کا مرتکب نہ تھا۔ بلکہ رسولوں کی تعلیم سے عناد بھی رکھتا تھا۔ اور اسلام کی راہ روکنے کے لئے معاندانہ سرگرمیوں میں بھی مصروف رہتا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 24–26

20۔ یہ سب قیامت کے دن فرشتوں کو حکم ہوگا، ہر قسم کے کافر کے لیے، (آیت) ” القیا “۔ اس کے معنی تو صیغہ تثنیہ ہی کے ہیں۔ ” یعنی اے دونوں فرشتو ! تم ڈال دو “۔ لیکن اس صیغہ کا ایک استعمال واحد کے لیے بھی بقصد تاکید ہے، ایسے موقع پر القیا مرادف الق۔ الق (مکرر) کا ہوتا ہے۔ یجوز ان یکون خطابا للواحد علی وجھین احدھما قول المبرد ان تشنیۃ الفاعل نزلت منزلۃ تثنیۃ الفعل لا تحاعدھما کانہ قیل الق الق للتاکید (کشاف) (آیت) ” کفار “۔ یعنی عقائد حق سے انکار کرنے والا۔ (آیت) ” عنید “۔ یعنی حق سے ایسی ضد رکھنے والا کہ اس کے بار بار وضوح کے باوجود بھی اسے قبول نہ کیا۔ (آیت) ” معتد “۔ یعنی حدود عبدیت سے باہر نکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 18–29

انسان کا ہر قول رکارڈ کیا جاتا ہے : مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگران فرشتہ محفوظ نہ کرلیتا ہو، حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ اور قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ صرف وہ کلمات لکھتے ہیں کہ جن میں کوئی ثواب یا عقاب کی بات ہو۔ علی بن ابی طلحہ نے ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فرمائی جس میں یہ دونوں قول جمع ہوجاتے ہیں، اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو ہر کلمہ لکھا جاتا ہے خواہ اس میں کوئی ثواب و عقاب کی بات ہو یا نہ ہو، مگر ہفتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

القیافی جھنم کل کفار عنید ہر ایسے شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کفر کرنے والا ہو ‘ حق سے ضد رکھتا ہے اَلْقِیَا : تم دونوں ڈال دو ۔ دونوں سے مراد ہیں سائق اور شہید یا دوزخ پر مامور فرشتوں میں سے دو فرشتے یا مخاطب حقیقت میں کوئی ایک ہے لیکن بصیغۂ تثنیہ ذکر کرنے سے تثنیہ فعل مراد ہے اور تکرار فعل برائے تاکید ہوتی ہے لہٰذا تکرار واحد یعنی مخاطب واحد کو بصیغہ تثنیہ ذکر کرنے سے تثنیہ ذکر کرنے سے بھی تاکید فعل ہوگئی یا یہ صیغہ واحد ہی کا ہے اور الف تثنیہ کا نہیں ہے بلکہ نون تاکید خفیفہ کو الف سے بدل دیا گیا ہے۔ اصل میں اَلْقَیْن تھا۔ بعض قراءتوں میں اَلْقَیْن آیا بھی ہے۔ عَنِیْدٍ : حق سے عناد رکھنے والا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 24–26

(24۔ 26) حکم الہی ہوگا ہر ایسے شخص مثلا ولید بن مغیرہ مخزومی کو دوزخ میں ڈال دو جو کہ کفر کرنے والا اور ایمان سے اعراض کرنے والا ہو اور اپنی اولاد در اولاد اور رشتہ داروں کو ایمان لانے سے روکتا ہو دھوکا باز اور ظالم ہو شبہ پیدا کرنے والا ہو اللہ تعالیٰ پر بہتان لگانے والا ہو جس نے معاذ اللہ اللہ کے لیے اولاد اور شریک تجویز کیا ہو پھر اس کاتب اعمال کو حکم ہوگا کہ ایسے شخص کو سخت عذاب میں ڈال دو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 24–26

القیافی جھنم کل کفار عبید…: اللہ تعالیٰ ان دونوں فرشتوں سے فرمائے گا کہ ہر ایسے شخص کو جہنم میں پھینک دو جو سخت نا شکرا ، بہت عناد رکھنے والا، خیر کو بہت روکنے والا، حد سے گزرنے والا اور شک کرنے والا ہے جس نے اللہ کے ساتھ اور معبود بنا رکھا تھا، سو اسے شدید عذاب میں پھینک دو۔ اس میں اسے جہنم میں پھینکنے کے فیصلے کے ساتھ اس فیصلے کی وجہ اور اس کے دلائل بھی بیان فرما دیئے ہیں اور یہ بھی کہ صرف ایک کو نہیں بلکہ ان جرائم کے مرتکب تمام مجرموں کو جہنم میں پھینک دو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–29

قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جس کو اس پر مقرر کیا گیا جاتا ہے یہ حضرت حسن بصری قتادہ اور ضحاک کا قول ہے یعنی اس کے اعمال جو لکھے گئے ہیں وہ میرے پاس محفوظ اور تیار ہیں مجاہد نے کہا وہ کہے گا یہ وہ چیز ہے جس کی تو نے مجھے بنی آدم کے متعلق ذمہ داری سونپی تھی میں اس انسان اور اس کے نامہ اعمال کو حاضر کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا معنی ہے میرے پاس جو عذاب ہے حاضر ہے مجاہد نے قول بھی کیا ہے اس کے قرین سے مرا وہ شیطان ہے جو اس پر مسلط کیا گیا ابن زیدنے کہا ابن وہب نے اسے روایت نقل کی ہے مراد انسانوں میں سے اس کا دوست ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھی سے فرمائے گا خلیل اور اخفش نے کہا یہ عربوں کا فصیح کلام ہے کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–27

22:۔ ابن المنذر (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کل کفار عنید '' (ہر کفر کرنے والا حق سے ضد رکھنے والا) سے مراد ہے حق سے دور بھاگنے والے۔ 23:۔ سعید بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' القیا فی جھنم کل کفار عنید '' (ہر ایسے شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کفر کرنے والا ہو حق سے ضد رکھتا ہو) یعنی جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنے والے تھے جو اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری سے سرکشی اختیار کرنے والے تھے نیکی سے روکنا اس کا حق تھا پھر فرمایا فرض زکوٰۃ میں حد سے بڑھنے والا (آیت ) '' معتد مریب '' (حق عبادت سے باہر جانے والا اور دین میں شک کرنے والا) یعنی اپنی بات…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلْقِيَا [ تم دونوں ڈال دو ] فِيْ جَهَنَّمَ [ جہنم میں ] كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍ [ ہر ناشکرے مخالف کو ] ترکیب : (آیت ۔ 24) یہاں القیا تثنیہ کا صیغہ کیوں آیا ہے ۔ گرامر والوں (نحویوں) کا کہنا ہے کہ یہ عربوں کے رواج کے مطابق ہے۔ اونٹ کے بڑے ریوڑ کو چرانے کے لیے عموما تین آدمی جاتے تھے، ان میں سے کسی کو جب اپنے کسی ساتھی کو بلانا ہوتا تھا توعموما وہ تثینہ کے صیغے میں پکارتا تھا کہ دونوں میں سے کوئی بھی سن لے ۔ اس طرح ان کی یہ عادت ہوگئی کہ کسی ایک کو مخاطب کرنے کے لیے وہ تثنیہ کا صیغہ استعمال کرلیتے تھے ، ایک کو دو کے صیغے میں پکارنا عربوں کا محاورہ ہے (حافظ احمد یار صاحب کے کیسٹ سے ماموخوذ ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–26

ہر ضدی کافر کو دوزخ میں ڈال دو : مزید ارشاد فرمایا ﴿ اَلْقِيَا فِيْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍۙ0024 مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيْبِۙ0025 ا۟لَّذِيْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ یعنی ہر کافر کو ضرور دوزخ میں ڈال دو جو حق کو قبول نہیں کرتا تھا خیر کو روکنے والا تھا (یعنی دوسرے لوگوں کو اسلام لانے سے روکتا تھا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ زکوٰۃ نہیں دیتا تھا) حد سے بڑھ جانے والا تھا شک میں ڈالنے والا تھا اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں اور اس کے دین کے بارے میں اور قیامت واقع ہونے کے بارے میں لوگوں کو شک میں ڈالتا تھا اور مشرک بھی تھا۔ جس نے اللہ کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

کمال قدرت خداوندی از روئے علم واحاطہ باحوال انسانی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد خلقنا الانسان ...... الی ..... وما انا بظلام للعبید “۔ (ربط) ما قبل آیات میں منکرین حشر ونشر کا ذکر تھا اسی کے ساتھ پہلی امتوں کی عبرت ناک تاریخ دہرائی گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں مختلف انواع و اقسام کے عذاب ان پر نازل ہوئے اور ان کو ہلاک کردیا گیا تو اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ومخالفت کرنے والی قوم کفار قریش کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے سزا دنیا چوں کہ دو چیزوں پر موقوف ہے ایک علم پر کہ مجرم کے جرم کا علم ہو دوسرے قدرت پر کہ مجرم کو سزا دینے پر قادر ہو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–25

13:۔ ” وقال قرینۃ۔ الایۃ “ قرین سے مراد فرشتہ ہے جو آدمی کے اعمال پر مؤکل ہے وہ کافر کا اعمالنامہ پیش کر کے عرض کرے گا کہ میرے پاس تو یہی اس کے اعمال ہیں جو کمی بیشی کے بغیر حاضر ہیں۔ ” القیا فی جہنم “ بعض کے نزدیک القیا صیغہ واحد ہے اور الف نون ثقیلہ سے مبدل ہے۔ اور بعض کے نزدیک تثنیہ تکرار کے لیے ہے برائے افادہ تاکید (روح) اور بعض کے نزدیک صیغہ تثنیہ ہے لیکن خطاب واحد کو ہے کیونکہ عرب عام طور پر واحد کو صیغہ تثنیہ سے خطاب کرتے ہیں (ابن کثیر) ۔ امام ابن جریر اور دیگر حضرات کے نزدیک خطاب تثنیہ سائق اور شہید سے ہے (ابن جریر) ۔ اور حضرت الشیخ قدس سرہ فرماتے ہیں تثنیہ حقیقت پر محمول ہے اور اس سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–29

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے دلائل ذکر کیے اور اس کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ۔ پھر انسان کی تخلیق اور اس کی مخفی باتوں تک جاننے کا ذکر کیا ۔ نیز فرمایا کہ ہم تو انسان کی رگ گردن سے بھی اس کے زیادہ قریب ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے تمام اعمال کی حفاظت کے لیے ہر شخص کے دائیں بائیں دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو انسان کا ہر قول و فعل نوٹ کر رہے ہیں ۔ آگے یقینا جزائے عمل پیش آنے والی ہے اور اس کا زیادہ تر انحصار فرشتوں کی انہی رپورٹوں پر ہوگا ۔ پھر فرمایا جب انسان کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس پر موت کی غشی طاری ہوجاتی ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کو انسان عمر بھر ٹالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلْقِيَا فِيْ جَہَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍ۝ 24 ۙ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–29

ترکیب : مالدی ان جعلت ماموصوفہ فعتید صف تھا وان جعلت موصولۃ فبدلھا اوخبر بعد خبر او خبر محذوف الذی جعل مبتداء متضمن معنی الشرط فالقیاہ خبرہ او بدل من کل کفار۔ تفسیر : علامہ محی الدین ابن العربی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ دائیں طرف بیٹھنے والے سے مراد اس کی وہ قوت ہے جو اس کو نیک اعمال پر آمادہ کرتی ہے اور بائیں طرف والے سے مراد وہ قوت جو شر کی طرف بر انگیختہ کرتی ہے۔ یہ خدا کی طرف کے دو موکل ہیں جو ہر روز ملتے ہیں، یعنی ان کا مقابلہ رہتا ہے اور ان دونوں قوتوں سے جو جو خطرات اس کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ان کو ہم جانتے ہیں، کیونکہ اس کی رگ گردن تو اس کے دل سے دور ہے اور ہمارا اس کے دل سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 24–26

اَلْقِیَا فِیْ جَھَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیْدٍ ۔ مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِ نِ ۔ الَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰـہُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ ۔ (قٓ: 24 تا 26) (تم دونوں پھینک دو جہنم میں ہر ناشکرے کو جو حق سے عناد رکھنے والا ہے۔ خیر سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے اور مبتلائے شک کو۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود بنایا، پس تم پھینک دو ان کو سخت عذاب میں۔ ) جب ایک ایک شخص کو فرشتے اپنی نگرانی میں میدانِ حشر میں پہنچا دیں گے جن میں سے ایک ہانکنے والا ہوگا اور دوسرا ان کا نامہ عمل اٹھائے ہوئے ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو حکم دے گا کہ اب تم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–26

فہم القرآن ربط کلام : جو شخص تابعدار نہ بنا اور اس نے اللہ تعالیٰ کے فرامین اور اس کی قدرت کی نشانیوں کو بصیرت کی آنکھ سے نہ دیکھا اور اپنے اعمال کی درستگی نہ کی اسے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ قیامت کے دن رب ذوالجلال کے حضور ہر شخص کو اس کے اعمال نامے کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ مجرم اپنے اعمال نامے کا انکار کریں گے اس پر گواہ پیش کیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ انبیائے کرام (علیہ السلام) بھی اپنی امتوں کے بارے میں گواہی دیں گے لیکن مجرم نہ صرف اپنے اعمال نامے کا انکار کریں گے بلکہ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی گواہی کو بھی مسترد کردیں گے۔ جس پر حکم ہوگا کہ ان کے مونہوں پر مہریں ثبت کردی جائیں۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 24 : پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ اَلْقِیَا نمبر 1۔ یہ سائق و شہید کو خطاب ہے۔ نمبر 2۔ مالک فرشتے کو خطاب ہے۔ اصل میں الق۔ الق ہے۔ اس کی جگہ القیا لایا گیا ہے۔ کیونکہ فاعل فعل کے جزو کی طرح ہوتا ہے۔ فاعل کا تثنیہ آنا تکرار فعل کا نائب ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس کی اصل اَلْقِیَنْہے۔ اور الف نون سے بدل دیا گیا وصل کو وقف کے قائم مقام کرتے ہوئے۔ اس کی دلیل حسن کی یہ قراءت ہے۔ القیَن۔ فِیْ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ (ہر اس شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کفر کرنے والا) نعمتوں اور منعم کا۔ عَنِیْدٍ (ضد کرنے والا) حق سے پہلوتہی اختیار کرنے والا اہل حق کا دشمن۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23 ۔” وقال قرینہ “ وہ فرشتہ جو اس کا نگران بنایا گیا ہے۔ ” ھذا مالدی عتید “ تیار کیا ہوا حاضر کیا ہوا اور کہا گیا ہے کہ ” ما “ من کے معنی میں ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ فرشتہ کہے گا یہ وہ ابن آدمی جس کا آپ نے مجھے نگران بنایا تھا، میرے پاس حاضر ہے۔ تحقیق میں نے اس کو اور اس کے اعمال کے دفتر کو حاضر کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–29

23۔ 29۔ اوپر جن دو فرشتوں کا ذکر تھا کہ ایک اللہ کے رو برو لے جانے والا اور دوسرا عملوں کی گواہی دینے والا ‘ ہر شخص کے ساتھ یہ دو فرشتے ہوں گے۔ ان آیتوں میں ساتھ والا ان ہی دونوں کو فرمایا ہے ان میں سے ایک تو اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کرے گا کہ جس انسان پر میں تعینات تھا وہ حاضر ہے۔ دوسرا یہ عرض کرے گا کہ یہ اس انسان کا عمل حاضر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کے جواب میں دو زخمیوں کے اوصاف بیان فرما کر حکم دے گا کہ ان اوصاف کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دو ۔ کفار کے معنی بڑا کفر کرنے والا عنید کے معنی حق بات سے عناد رکھنے والا مناع للخیر کے معنی نیک کام سے روکنے اور ممانعت کرنے والا معتدی بری کاموں میں حد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–29

اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : (وقال قرینہ) اس جھٹلانے اور روگردانی کرنے والے کا فرشتوں میں سے وہ ساتھی، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی اور اس کے اعمال کی حفاظت کے لئے مقرر کیا ہے، قیامت کے روز اس کے سامنے موجود ہوگا اور اس کے اعمال کو اس کے سامنے پیش کرے گا اور کہے گا : (ھذا ما لدی عتید) ” یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے۔ “ یعنی میں نے وہ سب کچھ پیش کردیا ہے جس کی حفاظت اور اس کے عمل کو محفوظ رکھنے پر مجھے مقرر کیا گیا تھا پس اب اس کے عمل کی جزا دی جائے گی۔ جو کوئی جہنم کا مستحق ہوگا اسے کہا جائے گا : (القیا فی جھنم کل کفار عنید) ” ہر ناشکرے، سرکش کو جہنم میں ڈال دو ۔ “ یعنی جو بہت زیادہ کفر کرنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 23–24

[ 32] مجرم کی عدالت میں پیشی کے منظر کا ذکر وبیان، والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر اسکا ساتھی کہے گا کہ یہ ہے جو میرے پاس حاضر و موجود تھا، اور اس قرین [ ساتھی ] سے مراد وہ فرشتہ ہے جو انسان پر اس کے اعمال کو ضبط کرنے کے لئے مقرر ہوتا ہے، یہی متبادر بھی ہے، اور یہی حضرت مجاہد وغیرہ کا قول بھی ہے، سو وہ فرشتہ کہے گا کہ یہ ہے وہ شخص جس کی نگرانی کا کام میرے ذمے لگایا گیا تھا، اور یہ ہے اس کا وہ نامہ اعمال جس کی تیاری کا کام مجھے سونپا گیا تھا، جب کہ دوسرا قول اس قرین کے بارے میں یہ ہے کہ اس سے مراد وہ شیطان ہے جو ایسے انسان پر مقرر کیا جاتا ہے، جیسا کہ سورة زخرف میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–29

آیات 16 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے انسان کو پیدا کیا اس کی ایک ایک صفت اس میں پیدا کی لہذا اس کے دل میں بھی جو خیال گزرتا ہے ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ شہ رگ سے قریب تر ہونا۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مفسرین کرام کے مطابق یہاں قرب علمی مراد ہے کہ بات اس کے احوال اور دل میں گزرنے والے خیالات تک کی ہورہی ہے قرب مسافت مراد نہیں کہ اس کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے مگر تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ احاطہ عملی بھی ہر شے سے ہے اور انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال بلاکیف موجود ہے جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا جس کے دلائل قرآن حدیث میں موجود ہیں اور جس پر مولوی رومی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 23–24

ف 8 یہ حکم ہے جو اس روز اللہ تعالیٰ ہانکنے والے اور گواہی دینے والے فرشتے کو دے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:24) القیانی جھنم کل کفار عنید : ای قیل القیافی ۔۔ الخ۔ القیا فعل امر حاضر تثنیہ مذکر۔ القاء (افعال) مصدر۔ تم دونوں ڈال دو ۔ کل مضاف کفار عنید موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول القیا کا۔ کفار مبالغہ کا صیغہ، بڑا کافر۔ عنید عناد رکھنے والا ۔ مخالف۔ ضدی۔ علامہ ناصر بن عبد السید مطرزی نے لکھے ہیں کہ : عنید اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانتے پہچانتے ٹکرائے۔ یہ عنود سے ہے جس کے معنی راستہ سے ادھر ادھر ہٹ جانے کے ہیں بروزن فعیل بمعنی فاعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اس کی جمع عند ہے۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ (اور حکم ہوگا) ہر کافر ضد رکھنے والے کو تم دونوں جہنم میں ڈال دو ۔ القاء امر کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–29

لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 29 : توسوس (چپکے سے وسوسہ ڈالتا ہے) ‘ حبل الورید (شہہ رگ) ‘ قعید (بیٹھا ہوا) ‘ ما یلفظ ( کوئی لفظ نہیں نکلتا) ‘ رقیب (نگہبان۔ نگرانی کرنے والا) سکرۃ الموت (موت کی بےہوشی) ‘ تحید (کتراتا ہے) ‘ یوم الوعید ( ڈرنے کا دن) ‘ سائق (چلانے والا) ‘ غطائ (پردہ) ‘ حدید (بہت تیز) ‘ قرین (ساتھی) ‘ لدی (میرے پاس) القیا (تم دونوں ڈال دو ) ‘ عنید (ضدی) ‘ مناع ( روکنے والا) ‘ معتد (حد سے آگے بڑھ جانے والا) ‘ مریب (شک و شبہ ڈالنے والا) ‘ اطغیت (میں نے سرکشی کی) ‘ لاتختصموا (تم نہ جھگڑو) ۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 29 : ان آیات میں موت اور قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–29

نیک وبد کا انجام۔ (ف 1) جب صور پھ کے گا، قیامت قائم ہوگی، سب مجمع حشر میں اکٹھے ہوں گے تو وہ دن سزا جزا کا ہوگا، اولین وآخرین سب جمع ہوں گے ، وہ دن جس کی خبر دہشت ناک سنائی گئی ہے۔ ظاہر ہوگا یعنی روز جزا ہر آدمی زندہ ہوگا، اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہوگا، جو اس کو لے کرجاکردرباررب العزت میں کھڑا کرے گا، اور دوسرا اعمال نامہ کے لیے ہوگا جس میں اس کی زندگی کے سب احوال درج ہوں گے۔ اس وقت کہا جائے گا دنیا کے مزوں میں پڑ کر توآج کے دن سے بیخبر تھا اور تیری آنکھوں کے سامنے شہوات اور خواہشات کا اندھیرا چھایا ہوا تھ ارسول جو سمجھاتے تھے تجھے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا آج ہم نے تیری آنکھ سے وہ پردہ ہٹا دیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–27

[8] مراد ہانک کر لانے والا فرشتہ ہے جو عدالت الٰہی میں پہنچ کر عرض کرے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–29

ف 1: اس وقت غیب سے آواز آئیگی کہ دنیا میں تمہاری آنکھیں بند تھیں ۔ اس پر دولت ، عزت اور جہالت کے حجاب چھا رہے تھے ۔ آج وہ نقاب اتاردیا گیا ہے ۔ آج تیری نگاہیں تیزی کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں ۔ بتا کہ یہی وہ چیزیں نہ تھیں ۔ جن کو تیرے سامنے پیش کیا جاتا تھا ۔ اور نوازراہ کبروغرور ان کا انکار کردیتا تھا ۔ کیا یہی وہ حقائق نہیں ہیں ۔ جن سے تجھے آگاہ کیا جاتا تھا اور تو ان کو بڑی بےپروائی سے ٹھکرادیتا تھا ۔ آج یہ چیزیں تیری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں ؟ کیا آج بھی انکار کی جرات ہے ؟ کیا اس وقت بھی جھٹلاتے ہو ؟ فرشتہ شہادت دیگا ۔ کہ اس کے اعمال میرے روزنامچہ میں ہیں ۔ یہ لکھے ہوئے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) فرشتوں کو حکم ہوگا تم دونوں ہر ایسے شخص کو جہنم میں جھونک دو اور ڈال دو جو ناسپاس سرکش ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حکم الٰہی ہوگا کہ اس کو جہنم میں پھینک دو کہ یہ کفر کرنے والا اور عناد رکھنے والا تھا 24 ۔ (القیا) تثنیہ کا صیغہ ہے یعنی تم دونوں ہی اس کو اٹھا کر دوزخ میں پھینک دو اور اس طرح گویا تم نے جو ذمہ داری اپنے ذمہ لی تھی یا جو ذمہ داری تم دونوں کے ذمہ لازم کی گئی تھی اس کو پورا کردیا اور اب تمہاری ذمہ داری سے وہ نکل کر دربان دوزخ کی ذمہ داری میں چلا گیا اس سے بھی یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ گزشتہ آیت میں بھی وہی فرشتہ مراد تھا جس کو آیت 21 میں (سائق) کہا گیا تھا اور اب جبکہ اس کو دوزخ مںٓ پھینکنے کا حکم دیا گیا تو بھی انہی دونوں کو دیا گیا جو انسان کے نامہ اعمال لکھنے کے لیے مقرر کئے گئے ہیں اور پھر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–26

أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ‌ عَنِيدٍ (Cast, both of you [ 0 angels,] into Jahannam every stubborn disbeliever.... 50:24]. The verb alqiya is grammatically dual in number, that is, addressed to two persons. It appears that Allah will say these words to the Sa'iq and Shahid angels; Allah will order them to throw him in the fire of Hell. Some other scholars explain it differently (Ibn Kathir).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

28 As the context shows this command will be given to the two angels who had taken the culprit into their custody as soon as he had risen from the grave, and then brought him before the Court. " 29 The word kaffar" as used in the Text means an ungrateful person as well as a denier of the truth.

Read the full tafseer →