Explained with ayahs 23–29
ہمارے اعمال کے گواہ
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم وکاست حاضر ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہوگا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔ (القیا) تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو (تثنیہ) کردیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا…
Read the full tafseer →سورة قٓ 30
خیر کا لفظ عربی زبان میں مال کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور بھلائی کے لیے بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مال میں سے کسی کا حق ادا نہ کرتا تھا۔ نہ خدا کا نہ بندوں کا۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ وہ بھلائی کے راستے سے خود ہی رک جانے پر اکتفا نہ کرتا تھا بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکتا تھا۔ دنیا میں خیر کے لیے سدِّ راہ بنا ہوا تھا۔ اپنی ساری قوتیں اس کام میں صرف کر رہا تھا کہ نیکی کسی طرح پھیلنے نہ پائے۔
سورة قٓ 31
یعنی اپنے ہر کام میں اخلاق کی حدیں توڑ دینے والا تھا۔ اپنے مفاد اور اپنی اغراض اور خواہشات کی خاطر سب کچھ کر گزرنے کے لیے تیار تھا۔ حرام طریقوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(آیت) اَلْقِيَا فِيْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍ ، لفظ القیا تثنیہ کا صیغہ ہے جو دو شخصوں کے لئے بولا جاتا ہے اس آیت میں جن دو فرشتوں کو خطاب ہے وہ کون ہیں، ظاہر یہ ہے کہ یہی دو فرشتے جن کو پہلے سائق اور شہید کہا گیا ہے اس کے مخاطب ہیں، بعض حضرات مفسرین نے دوسری توجیہات بھی لکھی ہیں (از ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
مناع اللخیر معتد مریب الذی جعل مع اللہ الھا اخرفا لقیہ فی العذاب الشدید 26-25)
خدا کے حقوق کے منر لازماً بندوں کے حقوق کے بھی منکر ہوں گے
جو خدا کے حقوق کے منکر و معاند ہوں گے لازماً وہ اس کے بندوں کے حقوق کے معاملے میں بھی نہایت بخیل و ممسک اور دوسروں کو ان سے روکنے والے ہوں گے اور ساتھ ہی وہ معتدی یعنی حدود سے تجاوز کرنے والے حقوق کو غصب کرنے والے بھی ہوں گے۔ لفظ خیر یوں تو تمام نیکیوں اور بھلائیوں کے لئے عام ہے لیکن انفاق کی نیکی کے لئے یہ معروف ہے جس کا تعلق بندوں سے ہے۔ لفظ مناع میں رکنے اور روکنے دونوں کا مفہوم موجود ہے۔ جو لوگ بخیل ہوتے ہیں وہ صرف خود ہی بخیل بننے پر قانع نہیں رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
23۔ 1 یعنی فرشتہ انسان کا سارا ریکارڈ سامنے رکھ دے گا اور کہے گا کہ یہ تیری فرد عمل ہے کو جو میرے پاس تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
10: یہاں (ہم نشین) ساتھی سے مراد شیطان ہے، کیونکہ وہ بھی ہر وقت انسان کو بہکانے کے لئے اسکے ساتھ رہتا تھا، کافر لوگ چاہیں گے کہ اپنے حصے کی سزا یہ کہہ کر اپنے سرداروں پر اور خاص طور سے شیطان پر ڈالیں کہ اس نے ہمیں گمراہ کیا تھا، اس کے جواب میں شیطان یہ کہے گا کہ میں نے گمراہ نہیں کیا، کیونکہ مجھے کوئی ایسا اختیار نہیں تھا کہ اسے زبردستی گمراہی کے راستے پر ڈالوں، زیادہ سے زیادہ میں نے انہیں ترغیب دی تھی، گمراہی میں تو یہ خود اپنے اختیار سے پڑا تھا، شیطان کے اس جواب کی تفصیل سورة ابرہیم (14۔ 22) میں ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
القیا فی جھنم کل کفار عنید (50 : 24) مناع اللخیر معتد مریب (50 : 25) الذی جعل ۔۔۔۔ العذاب الشدید ۔ (50 : 26) ” حکم دیا گیا ، پھینک دو جہنم میں ہر کٹے کافر کو جو حق سے عناد رکھتا تھا ۔ خیر کو روکنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا ، شک میں پڑا ہوا تھا اور اللہ کے سوا کسی دوسرے کو خدا بنائے بیٹھا تھا ، ڈال دو اسے سخت عذاب میں “۔
ان صفات کے ذکر سے ، اس مشکل وقت کی مشکلات میں گرفتار لوگوں کے خوف و ہراس میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ پہلے سے مشکل میں گرفتار مجرموں پر اللہ جبار وقہار کے غضب کا ڈر پیدا ہوجاتا ہے۔ کیونکہ یہ تمام صفات اس بات کی مستحق ہیں کہ مجرم کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔ سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
12 بارگاہ ایزدی سے یہ حکم دو فرشتوں کو ہوگا کہ ایسے لوگوں کو جہنم میں جھونک دو (اعاذنا اللہ منہا)
Read the full tafseer →آیت 25{ مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِ۔ } ”جو خیر سے روکنے والا ‘ حد سے بڑھنے والا اور شکوک و شبہات میں مبتلا رہنے والا ہے۔“
Read the full tafseer →29 یر کے معنی مال و دولت بھی ہے اور بھلائی بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتا تھا نہ اللہ کے حقوق ادا کرتا تھا اور نہ اس کے بندوں کے۔ بس ہر جائز و ناجائز طریقے سے مال جمع کرنے میں ہی مصروف رہتا تھا۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ نہ صرف خود ہی بھلائی کے کاموں سے رکا رہتا تھا بلکہ دوسروں کو بھی روکتا رہتا تھا۔ اس کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ دنیا میں بھلائی کہیں پھیلنے نہ پائے۔
30 یعنی اپنی ذاتی اغراض اور خواہشات کی خاطر تمام اخلاقی اور قانونی حدود کو توڑنے والا تھا۔ لوگوں کے حقوق پر دست درازیاں کرتا، جائز و ناجائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
20۔ یہ سب قیامت کے دن فرشتوں کو حکم ہوگا، ہر قسم کے کافر کے لیے، (آیت) ” القیا “۔ اس کے معنی تو صیغہ تثنیہ ہی کے ہیں۔ ” یعنی اے دونوں فرشتو ! تم ڈال دو “۔ لیکن اس صیغہ کا ایک استعمال واحد کے لیے بھی بقصد تاکید ہے، ایسے موقع پر القیا مرادف الق۔ الق (مکرر) کا ہوتا ہے۔ یجوز ان یکون خطابا للواحد علی وجھین احدھما قول المبرد ان تشنیۃ الفاعل نزلت منزلۃ تثنیۃ الفعل لا تحاعدھما کانہ قیل الق الق للتاکید (کشاف) (آیت) ” کفار “۔ یعنی عقائد حق سے انکار کرنے والا۔ (آیت) ” عنید “۔ یعنی حق سے ایسی ضد رکھنے والا کہ اس کے بار بار وضوح کے باوجود بھی اسے قبول نہ کیا۔ (آیت) ” معتد “۔ یعنی حدود عبدیت سے باہر نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–29
انسان کا ہر قول رکارڈ کیا جاتا ہے :
مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگران فرشتہ محفوظ نہ کرلیتا ہو، حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ اور قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ صرف وہ کلمات لکھتے ہیں کہ جن میں کوئی ثواب یا عقاب کی بات ہو۔
علی بن ابی طلحہ نے ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فرمائی جس میں یہ دونوں قول جمع ہوجاتے ہیں، اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو ہر کلمہ لکھا جاتا ہے خواہ اس میں کوئی ثواب و عقاب کی بات ہو یا نہ ہو، مگر ہفتہ…
Read the full tafseer →مناع للخیر معتد مریب
اور نیک کام سے روکتا ہو
اور حد (عبدیت) سے باہر جانے والا ہو اور دین میں شبہ کرنے والا ہو
لِلْخَیْرِ : خیر سے مراد ہے فرض زکوٰۃ اور ہر وہ مالی حق جس کا ادا کرنا واجب ہے۔
مُعْتَدٍ : ظالم جو اللہ کی توحید کا اقرار نہیں کرتا۔
مُرِیْبٍ : اللہ کی ذات ‘ صفات اور اس کے دین میں شک کرنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(24۔ 26) حکم الہی ہوگا ہر ایسے شخص مثلا ولید بن مغیرہ مخزومی کو دوزخ میں ڈال دو جو کہ کفر کرنے والا اور ایمان سے اعراض کرنے والا ہو اور اپنی اولاد در اولاد اور رشتہ داروں کو ایمان لانے سے روکتا ہو دھوکا باز اور ظالم ہو شبہ پیدا کرنے والا ہو اللہ تعالیٰ پر بہتان لگانے والا ہو جس نے معاذ اللہ اللہ کے لیے اولاد اور شریک تجویز کیا ہو پھر اس کاتب اعمال کو حکم ہوگا کہ ایسے شخص کو سخت عذاب میں ڈال دو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
القیافی جھنم کل کفار عبید…: اللہ تعالیٰ ان دونوں فرشتوں سے فرمائے گا کہ ہر ایسے شخص کو جہنم میں پھینک دو جو سخت نا شکرا ، بہت عناد رکھنے والا، خیر کو بہت روکنے والا، حد سے گزرنے والا اور شک کرنے والا ہے جس نے اللہ کے ساتھ اور معبود بنا رکھا تھا، سو اسے شدید عذاب میں پھینک دو۔ اس میں اسے جہنم میں پھینکنے کے فیصلے کے ساتھ اس فیصلے کی وجہ اور اس کے دلائل بھی بیان فرما دیئے ہیں اور یہ بھی کہ صرف ایک کو نہیں بلکہ ان جرائم کے مرتکب تمام مجرموں کو جہنم میں پھینک دو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جس کو اس پر مقرر کیا گیا جاتا ہے یہ حضرت حسن بصری قتادہ اور ضحاک کا قول ہے یعنی اس کے اعمال جو لکھے گئے ہیں وہ میرے پاس محفوظ اور تیار ہیں مجاہد نے کہا وہ کہے گا یہ وہ چیز ہے جس کی تو نے مجھے بنی آدم کے متعلق ذمہ داری سونپی تھی میں اس انسان اور اس کے نامہ اعمال کو حاضر کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا معنی ہے میرے پاس جو عذاب ہے حاضر ہے مجاہد نے قول بھی کیا ہے اس کے قرین سے مرا وہ شیطان ہے جو اس پر مسلط کیا گیا ابن زیدنے کہا ابن وہب نے اسے روایت نقل کی ہے مراد انسانوں میں سے اس کا دوست ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھی سے فرمائے گا خلیل اور اخفش نے کہا یہ عربوں کا فصیح کلام ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
22:۔ ابن المنذر (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کل کفار عنید '' (ہر کفر کرنے والا حق سے ضد رکھنے والا) سے مراد ہے حق سے دور بھاگنے والے۔
23:۔ سعید بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' القیا فی جھنم کل کفار عنید '' (ہر ایسے شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کفر کرنے والا ہو حق سے ضد رکھتا ہو) یعنی جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنے والے تھے جو اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری سے سرکشی اختیار کرنے والے تھے نیکی سے روکنا اس کا حق تھا پھر فرمایا فرض زکوٰۃ میں حد سے بڑھنے والا (آیت ) '' معتد مریب '' (حق عبادت سے باہر جانے والا اور دین میں شک کرنے والا) یعنی اپنی بات…
Read the full tafseer →مَّنَّاعٍ لِّــلْخَيْرِ [ (ہر ایک ) بھلائی سے منع کرنے والے کو ] مُعْتَدٍ [ (ہر) حد سے بڑھنے والے کو ] مُّرِيْبِۨ [ (ہر ) شبہہ ڈالنے والے کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ہر ضدی کافر کو دوزخ میں ڈال دو :
مزید ارشاد فرمایا ﴿ اَلْقِيَا فِيْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍۙ0024 مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيْبِۙ0025 ا۟لَّذِيْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ یعنی ہر کافر کو ضرور دوزخ میں ڈال دو جو حق کو قبول نہیں کرتا تھا خیر کو روکنے والا تھا (یعنی دوسرے لوگوں کو اسلام لانے سے روکتا تھا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ زکوٰۃ نہیں دیتا تھا) حد سے بڑھ جانے والا تھا شک میں ڈالنے والا تھا اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں اور اس کے دین کے بارے میں اور قیامت واقع ہونے کے بارے میں لوگوں کو شک میں ڈالتا تھا اور مشرک بھی تھا۔ جس نے اللہ کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
کمال قدرت خداوندی از روئے علم واحاطہ باحوال انسانی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد خلقنا الانسان ...... الی ..... وما انا بظلام للعبید “۔
(ربط) ما قبل آیات میں منکرین حشر ونشر کا ذکر تھا اسی کے ساتھ پہلی امتوں کی عبرت ناک تاریخ دہرائی گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں مختلف انواع و اقسام کے عذاب ان پر نازل ہوئے اور ان کو ہلاک کردیا گیا تو اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ومخالفت کرنے والی قوم کفار قریش کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے سزا دنیا چوں کہ دو چیزوں پر موقوف ہے ایک علم پر کہ مجرم کے جرم کا علم ہو دوسرے قدرت پر کہ مجرم کو سزا دینے پر قادر ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
13:۔ ” وقال قرینۃ۔ الایۃ “ قرین سے مراد فرشتہ ہے جو آدمی کے اعمال پر مؤکل ہے وہ کافر کا اعمالنامہ پیش کر کے عرض کرے گا کہ میرے پاس تو یہی اس کے اعمال ہیں جو کمی بیشی کے بغیر حاضر ہیں۔ ” القیا فی جہنم “ بعض کے نزدیک القیا صیغہ واحد ہے اور الف نون ثقیلہ سے مبدل ہے۔ اور بعض کے نزدیک تثنیہ تکرار کے لیے ہے برائے افادہ تاکید (روح) اور بعض کے نزدیک صیغہ تثنیہ ہے لیکن خطاب واحد کو ہے کیونکہ عرب عام طور پر واحد کو صیغہ تثنیہ سے خطاب کرتے ہیں (ابن کثیر) ۔ امام ابن جریر اور دیگر حضرات کے نزدیک خطاب تثنیہ سائق اور شہید سے ہے (ابن جریر) ۔ اور حضرت الشیخ قدس سرہ فرماتے ہیں تثنیہ حقیقت پر محمول ہے اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے دلائل ذکر کیے اور اس کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ۔ پھر انسان کی تخلیق اور اس کی مخفی باتوں تک جاننے کا ذکر کیا ۔ نیز فرمایا کہ ہم تو انسان کی رگ گردن سے بھی اس کے زیادہ قریب ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے تمام اعمال کی حفاظت کے لیے ہر شخص کے دائیں بائیں دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو انسان کا ہر قول و فعل نوٹ کر رہے ہیں ۔ آگے یقینا جزائے عمل پیش آنے والی ہے اور اس کا زیادہ تر انحصار فرشتوں کی انہی رپورٹوں پر ہوگا ۔ پھر فرمایا جب انسان کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس پر موت کی غشی طاری ہوجاتی ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کو انسان عمر بھر ٹالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے…
Read the full tafseer →مَّنَّاعٍ لِّــلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيْبِۨ 25 ۙ
خير
الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه :
الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ،
( خ ی ر ) الخیر
۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔
اور خیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
ترکیب : مالدی ان جعلت ماموصوفہ فعتید صف تھا وان جعلت موصولۃ فبدلھا اوخبر بعد خبر او خبر محذوف الذی جعل مبتداء متضمن معنی الشرط فالقیاہ خبرہ او بدل من کل کفار۔
تفسیر : علامہ محی الدین ابن العربی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ دائیں طرف بیٹھنے والے سے مراد اس کی وہ قوت ہے جو اس کو نیک اعمال پر آمادہ کرتی ہے اور بائیں طرف والے سے مراد وہ قوت جو شر کی طرف بر انگیختہ کرتی ہے۔ یہ خدا کی طرف کے دو موکل ہیں جو ہر روز ملتے ہیں، یعنی ان کا مقابلہ رہتا ہے اور ان دونوں قوتوں سے جو جو خطرات اس کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ان کو ہم جانتے ہیں، کیونکہ اس کی رگ گردن تو اس کے دل سے دور ہے اور ہمارا اس کے دل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
اَلْقِیَا فِیْ جَھَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیْدٍ ۔ مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِ نِ ۔ الَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰـہُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ ۔ (قٓ: 24 تا 26)
(تم دونوں پھینک دو جہنم میں ہر ناشکرے کو جو حق سے عناد رکھنے والا ہے۔ خیر سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے اور مبتلائے شک کو۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود بنایا، پس تم پھینک دو ان کو سخت عذاب میں۔ )
جب ایک ایک شخص کو فرشتے اپنی نگرانی میں میدانِ حشر میں پہنچا دیں گے جن میں سے ایک ہانکنے والا ہوگا اور دوسرا ان کا نامہ عمل اٹھائے ہوئے ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو حکم دے گا کہ اب تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
فہم القرآن
ربط کلام : جو شخص تابعدار نہ بنا اور اس نے اللہ تعالیٰ کے فرامین اور اس کی قدرت کی نشانیوں کو بصیرت کی آنکھ سے نہ دیکھا اور اپنے اعمال کی درستگی نہ کی اسے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔
قیامت کے دن رب ذوالجلال کے حضور ہر شخص کو اس کے اعمال نامے کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ مجرم اپنے اعمال نامے کا انکار کریں گے اس پر گواہ پیش کیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ انبیائے کرام (علیہ السلام) بھی اپنی امتوں کے بارے میں گواہی دیں گے لیکن مجرم نہ صرف اپنے اعمال نامے کا انکار کریں گے بلکہ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی گواہی کو بھی مسترد کردیں گے۔ جس پر حکم ہوگا کہ ان کے مونہوں پر مہریں ثبت کردی جائیں۔ اس کے…
Read the full tafseer →آیت 25 : مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ (وہ نیک کام سے روکتا ہو) مال کو اس کے حقوق سے بہت زیادہ روک کر رکھنے والا یا نمبر 2۔ جنس خیر کو اس کے مستحقوں تک پہنچنے سے رکاوٹ بننے والا۔ مُعْتَدٍ (حد سے گزرنے والا) ظالم حق کی حدود کو پھاندنے والا۔ مُّرِیْبِ نِ (شبہ پیدا کرنے والا) اللہ تعالیٰ اور اس کے دین میں شک کرنے والا۔
Read the full tafseer →24 ۔” پس اللہ تعالیٰ اس کے قرین کو کہیں گے۔ ” القیا فی جھنم “ یہ تثنیہ کے لفظ سے واحد کو خطاب ہے عرب کی عادت پر۔ وہ کہتے ہیں ” ویلک ارحلاھا، وازجراھا وخذاھا واطلقاھا “ ایک کے لئے۔ فراء (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی اصل یہ ہے کہ آدمی کے سفر میں اس کے اونٹ اور بکریوں میں کم سے کم دو مددگار ہوتے ہیں۔
پس ایک کی کلام کو اس کے دونوں صاحبوں پر جاری کیا ہے اور اسی سے ان کا قول ہے ایک کو شعر میں کہتے ہیں خلیلی۔ اور زجاج (رح) فرماتے ہیں یہ امر سائق اور شاہد کو ہے اور کہا گیا ہے کہ ملنے والوں کو ہے۔ ” کل کفار عنید “ نافرمان حق سے اعراض کرنے والا ۔ عکرمہ اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں حق سے ایک طرف اللہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
23۔ 29۔ اوپر جن دو فرشتوں کا ذکر تھا کہ ایک اللہ کے رو برو لے جانے والا اور دوسرا عملوں کی گواہی دینے والا ‘ ہر شخص کے ساتھ یہ دو فرشتے ہوں گے۔ ان آیتوں میں ساتھ والا ان ہی دونوں کو فرمایا ہے ان میں سے ایک تو اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کرے گا کہ جس انسان پر میں تعینات تھا وہ حاضر ہے۔ دوسرا یہ عرض کرے گا کہ یہ اس انسان کا عمل حاضر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کے جواب میں دو زخمیوں کے اوصاف بیان فرما کر حکم دے گا کہ ان اوصاف کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دو ۔ کفار کے معنی بڑا کفر کرنے والا عنید کے معنی حق بات سے عناد رکھنے والا مناع للخیر کے معنی نیک کام سے روکنے اور ممانعت کرنے والا معتدی بری کاموں میں حد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : (وقال قرینہ) اس جھٹلانے اور روگردانی کرنے والے کا فرشتوں میں سے وہ ساتھی، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی اور اس کے اعمال کی حفاظت کے لئے مقرر کیا ہے، قیامت کے روز اس کے سامنے موجود ہوگا اور اس کے اعمال کو اس کے سامنے پیش کرے گا اور کہے گا : (ھذا ما لدی عتید) ” یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے۔ “ یعنی میں نے وہ سب کچھ پیش کردیا ہے جس کی حفاظت اور اس کے عمل کو محفوظ رکھنے پر مجھے مقرر کیا گیا تھا پس اب اس کے عمل کی جزا دی جائے گی۔ جو کوئی جہنم کا مستحق ہوگا اسے کہا جائے گا : (القیا فی جھنم کل کفار عنید) ” ہر ناشکرے، سرکش کو جہنم میں ڈال دو ۔ “ یعنی جو بہت زیادہ کفر کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →[ 33] دوزخیوں کو دوزخ میں ڈالنے کے حکم و ارشاد کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حکم ہوگا کہ ڈال دو دوزخ میں ہر بڑے ناشکرے، ہٹ دھرم کو جو بھلائی سے روکنے والا تھا۔ یعنی جو لوگوں کو حق و ہدایت اور توحید سے روکتا اور اہل حق سے ورغلاتا، اور اسی طرح وہ اپنے مال کو راہ حق میں خرچ کرنے سے روکتا تھا کہ الخیر کا عموم ان سب ہی امور کو شامل ہے، اور اہل باطل اور گم کردگان راہ حق کا ہمیشہ سے یہی طریقہ ووطیرہ رہا ہے، کہ وہ سادہ لوح عوام کو طرح طرح سے راہ حق سے روکتے، اور اس بارہ ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔ اور وہ جھوٹے پروپیگنڈوں کے ذریعے عام لوگوں کو اہل حق سے روکتے اور ان سے متنفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
آیات 16 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے انسان کو پیدا کیا اس کی ایک ایک صفت اس میں پیدا کی لہذا اس کے دل میں بھی جو خیال گزرتا ہے ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔
شہ رگ سے قریب تر ہونا۔
اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مفسرین کرام کے مطابق یہاں قرب علمی مراد ہے کہ بات اس کے احوال اور دل میں گزرنے والے خیالات تک کی ہورہی ہے قرب مسافت مراد نہیں کہ اس کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے مگر تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ احاطہ عملی بھی ہر شے سے ہے اور انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال بلاکیف موجود ہے جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا جس کے دلائل قرآن حدیث میں موجود ہیں اور جس پر مولوی رومی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ف 9 اس لئے اسے انبیاء کی کوئی بات پسند نہ آئی اور وہ میرے بھرے میں آگیا۔
Read the full tafseer →(50:25) مناع : منع باب فتح سے مبالغہ کا صیغہ، بہت منع کرنے والا۔ بہت روک رکھنے والا۔ نیکی کے کام سے یا مال کے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے۔ للخیر میں خیر سے مراد نیکی بھی ہے اور مال بھی۔ خیر سے بہت روکنے والا۔
معتد : اسم فاعل واحد مذکر حد سے بڑھنے والا۔ اصل میں معتدی تھا ۔ اعتداء (افتعال) مصدر سے، حدود حق سے ہٹ جانا۔ تجاوز کرنا۔ اس میں عدو کا مفہوم ہے دل سے اگر ایک دوسرے کی طرف سے ہٹ جائے تو عدوان اور عدو ہے اسی سے عدو اور معادی بمعنی دشمن ہے اور ظلم وتعدی میں، تعدی بمعنی دوسرے کی طرف تجاوز کرنا۔
مریب۔ اسم فاعل واحد مذکر ارابۃ (افعال) مصدر۔ ریب مادہ۔ متردد بنا دینے والا متردد کرنے والا۔ بےچین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 29 :
توسوس (چپکے سے وسوسہ ڈالتا ہے) ‘ حبل الورید (شہہ رگ) ‘ قعید (بیٹھا ہوا) ‘ ما یلفظ ( کوئی لفظ نہیں نکلتا) ‘ رقیب (نگہبان۔ نگرانی کرنے والا) سکرۃ الموت (موت کی بےہوشی) ‘ تحید (کتراتا ہے) ‘ یوم الوعید ( ڈرنے کا دن) ‘ سائق (چلانے والا) ‘ غطائ (پردہ) ‘ حدید (بہت تیز) ‘ قرین (ساتھی) ‘ لدی (میرے پاس) القیا (تم دونوں ڈال دو ) ‘ عنید (ضدی) ‘ مناع ( روکنے والا) ‘ معتد (حد سے آگے بڑھ جانے والا) ‘ مریب (شک و شبہ ڈالنے والا) ‘ اطغیت (میں نے سرکشی کی) ‘ لاتختصموا (تم نہ جھگڑو) ۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 29 :
ان آیات میں موت اور قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
نیک وبد کا انجام۔
(ف 1) جب صور پھ کے گا، قیامت قائم ہوگی، سب مجمع حشر میں اکٹھے ہوں گے تو وہ دن سزا جزا کا ہوگا، اولین وآخرین سب جمع ہوں گے ، وہ دن جس کی خبر دہشت ناک سنائی گئی ہے۔ ظاہر ہوگا یعنی روز جزا ہر آدمی زندہ ہوگا، اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہوگا، جو اس کو لے کرجاکردرباررب العزت میں کھڑا کرے گا، اور دوسرا اعمال نامہ کے لیے ہوگا جس میں اس کی زندگی کے سب احوال درج ہوں گے۔ اس وقت کہا جائے گا دنیا کے مزوں میں پڑ کر توآج کے دن سے بیخبر تھا اور تیری آنکھوں کے سامنے شہوات اور خواہشات کا اندھیرا چھایا ہوا تھ ارسول جو سمجھاتے تھے تجھے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا آج ہم نے تیری آنکھ سے وہ پردہ ہٹا دیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
[8] مراد ہانک کر لانے والا فرشتہ ہے جو عدالت الٰہی میں پہنچ کر عرض کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
ف 1: اس وقت غیب سے آواز آئیگی کہ دنیا میں تمہاری آنکھیں بند تھیں ۔ اس پر دولت ، عزت اور جہالت کے حجاب چھا رہے تھے ۔ آج وہ نقاب اتاردیا گیا ہے ۔ آج تیری نگاہیں تیزی کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں ۔ بتا کہ یہی وہ چیزیں نہ تھیں ۔ جن کو تیرے سامنے پیش کیا جاتا تھا ۔ اور نوازراہ کبروغرور ان کا انکار کردیتا تھا ۔ کیا یہی وہ حقائق نہیں ہیں ۔ جن سے تجھے آگاہ کیا جاتا تھا اور تو ان کو بڑی بےپروائی سے ٹھکرادیتا تھا ۔ آج یہ چیزیں تیری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں ؟ کیا آج بھی انکار کی جرات ہے ؟ کیا اس وقت بھی جھٹلاتے ہو ؟ فرشتہ شہادت دیگا ۔ کہ اس کے اعمال میرے روزنامچہ میں ہیں ۔ یہ لکھے ہوئے…
Read the full tafseer →(25) اور نیکی سے روکنے والا حد سے تجاوز کرنے والا دین میں شبہ پیدا کرنے والا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
ف 3۔ یعنی ہر شخص کی موت قریب ہے۔
Read the full tafseer →یہ خیر کو روکنے والا ، حد سے بڑھنے والا اور شک میں پڑنے والا تھا
25 ۔ یہ وہ شخص ہے جو بھلائی سے روکنے والا تھا اور جو فرائض اس کے ذمہ لازم و ضروری قرار دیئے گئے تھے ان حقوق کو وہ پورا نہیں کرتا تھا اور پھر صرف یہی نہیں کہ خود پورا نہیں کرتا تھا بلکہ دوسروں کے دلوں میں بھی شکوک و شبہات پیدا کرتا تھا اور ہاتھ سے دینا تو اس کے لیے حرام تھا اور فرائض کی کوئی اہمیت اس کے دل میں موجود ہی نہ تھی ظالم تھا کہ حد سے تجاوز کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا (معتد) اسم فاعل واحد مذکر اور اص ل میں معتدی تھا (اعتداء) مصدر یعنی حد سے تجاوز کرنے والا۔ حد سے آگے بڑھنے والا اور دشمن اور ظالم کے معنوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ (Cast, both of you [ 0 angels,] into Jahannam every stubborn disbeliever.... 50:24]. The verb alqiya is grammatically dual in number, that is, addressed to two persons. It appears that Allah will say these words to the Sa'iq and Shahid angels; Allah will order them to throw him in the fire of Hell. Some other scholars explain it differently (Ibn Kathir).
Read the full tafseer →30 "Khair" in Arabic is used both for wealth and for goodness. According to the first meaning, the sentence means that he paid no one his dues from his wealth, neither the dues of Allah nor of the people. According. to the second meaning, it would mean that he did not only withhold himself from the path of goodness but forbade others also to follow it. He had become a hindrance for the people in the way of goodness and exerted his utmost to sec that goodness did not spread.
31 That is, "He transgressed the bounds of morality in every-thing he did. He was ever ready to do anything and…
Read the full tafseer →