49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو پیش قدمی مت کرنا تم اللہ اور اس کے رسول کے (حکم کے) آگے اور (ہمیشہ اور ہر حال) میں ڈرتے رہا کرو تم اللہ سے بیشک اللہ (ہر کسی کی) سنتا (سب کچھ) جانتا ہے1

[ 1] اللہ اور اس کے رسول سے پیش قدمی کرنے کی ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہیں بڑھنا "۔ یعنی ان کا حکم ملنے سے پہلے تم اپنی رائے اور اپنی مرضی سے کوئی حکم ازخود طے نہ کیا کرو۔ پس تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تمہارا کوئی حکم قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اس کے بعد اس کے رسول کی سنت اور پھر قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد، جیسا کہ سنن ترمذی، سنن ابو داؤد، اور سنن ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت معاذ بن جبل ؓ والی حدیث میں تسریح ہے کہ سب سے پہلے اللہ کی کتاب سے، پھر اس کے رسول کی سنت سے، حکم معلوم کیا جائے۔ اور اس کے بعد قیاس و اجتہاد سے کام لیا جائے۔ نیز الفاظ کے عموم کے مطابق آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کے دوران ان کے سامنے کسی بھی طرح کی پیش قدمی نہ کی جائے۔ جیسا کہ صحابہ کرام کا طریقہ تھا کہ وہ اپنی بات چیت میں، اپنے چلنے پھرنے میں، اپنے کھانے پینے میں، غرضیکہ کسی بھی کام میں اور کسی بھی حال میں آنحضرت ﷺ سے پہل نہیں کرتے تھے کہ یہ تقاضائے ادب و احترام کے خلاف ہے۔ اور آپ ﷺ کے انتقال و وصال کے بعد اب قیامت تک کے لئے کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی طرف رجوع کیا جائے کہ اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول صادق و مصدوق ﷺ ۔ کی مرضی و خوشنودی جاننے کے لئے اب یہی دو ماخذ ہیں جو قیامت تک باقی و برقرار رہیں گے۔ اور اگر کسی چیز کے بارے میں خود علم نہ ہو تو حضرات اہل علم سے پوچھا جائے اور ان کی طرف رجوع کیا جائے۔ [ روح، قرطبی، مراغی اور ابن کثیر وغیرہ ] ۔ " بین یدی اللّٰہ رسولہ "۔ کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا معاملہ الگ نہیں بلکہ ایک ہی ہے۔ پس رسول کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا اللہ کی بات پر اپنی بات مقد کرنا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور پھر معاملے کا تعلق چونکہ بندے کے دین و ایمان، اور اس کے قلب و باطن سے ہے، جس کا علم بندے کو خود ہوتا ہے یا پھر اس کے خالق ومالک کو جو کہ دلوں کے بھید جانتا ہے، اس لئے " واتقو اللّٰہ " کے حکم و ارشاد سے اس بارے تنبیہ اور تذکیر فرمائی گئی کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، اور اس کے ساتھ اپنا معاملہ صحیح رکھنے کی فکر و کوشش کیا کرو، بیشک اللہ ہر کسی کی سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔ پس مومن کا کام تقدم و پیش قدمی نہیں اطاعت و اتباع ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو بلند نہیں کرنا اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے اور نہ ہی ان سے ایسی اونچی آواز میں بات کرنا جس طرح کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ اکارت ہوجائیں تمہارے سب عمل اور تمہیں خبر بھی نہ ہوف 2

[ 2] پیغمبر (علیہ السلام) سے حسن تخاطب کے متعلق ایک اہم ہدایت : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے بلند نہیں کرنا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ پیغمبر کی آواز پر اپنی آوازوں کو بلند نہیں کرنا "۔ یعنی جب پیغمبر تم سے بات کر رہے ہوں تو تمہاری آواز ان کی آواز کے مقابلے میں اونچی اور بلند نہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ ان کی آواز کے مقابلے میں تمہاری آواز پست اور دھیمے انداز کی رہنی چاہئے۔ [ مراغی وغیرہ ] سو پیغمبر کے سامنے اور ان کو خطاب کرتے وقت تمہاری آواز متواضعانہ ہو، اور ادب و احترام کے تقاضوں کے عین مطابق ہو۔ اس طرح کی آواز ہو جو اپنے برابر کے شخص کیلئے ہوتی ہے اور نہ اس طرح کا انداز ہو۔ اور آپ ﷺ کو آپ کے نام نامی کے ساتھ نہ پکارا جائے جس طرح کہ کسی عام آدمی کو پکارا جاتا ہے۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کو آپ کے اوصاف کریمہ میں سے کسی خاص وصف کے ساتھ پکارا جائے۔ جیسے " یایھا الرسول " " یایھا النبی " اور " یایھا المزمل " وغیرہ اور اسی طرح تم لوگوں کی آواز متواضعانہ اور آداب رسالت کے تقاضوں کے عین مطابق ہونی چاہئے کہ آنجناب ﷺ کی شان و رسالت و نبوت کا تقاضا یہی ہے۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ شان رسالت کے تقاضوں اور آداب کی رعایت اور ان کی پاسداری کی توفیق بخشے اور ہمیشہ اپنا ہی بنائے رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، [ 3] پیغمبر (علیہ السلام) کے سامنے آواز اونچی کرنے کی ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انکے سامنے اونچی آواز سے بات نہیں کرنا۔ یعنی جب پیغمبر خاموش ہوں اور تمہیں ان کے حضور بات کرنا ہو تو تو ترم ایسے انداز اور ایسی اونچی آواز میں ان سے بات نہیں کرنا جس طرح کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ پس پیغمبر کے حضور بات کرتے وقت ان آداب کا بطور خاص خیال رکھنا تاکہ ان کے حضور تمہاری آواز بلند ہو کر بےادبی اور گستاخی کی حدود میں داخل نہ ہوجائے۔ اور اس طرح تمہارے اعمال حبط نہ ہوجائیں۔ اور تمہارا کیا کرایا اس طرح اکارت چلا جائے کہ تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ سبحان اللّٰہ ! کیا کہنے حضرت رسالت مآب ﷺ کی عظمت شان اور جلالت مقام کے۔ مگر یہاں یہ بھی دیکھئے کہ کہاں حضرت رسالت مآب ﷺ کے حضور حقوق و آداب کی نزاکت کا یہ عالم، اور کہاں ہمارے یہاں کے اہل بدعت کا یہ حال کی پیغمبر کے حاضر و ناظر اور ہر جگہ موجود ہونے کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں۔ بلکہ بعض جگہوں میں وہ اپنی مجلسوں میں ایک خالی کرسی بھی رکھتے ہیں کہ حضور ﷺ اس پر تشریف فرما ہیں۔ اور پھر لاؤڈ سپیکر فل سپیڈ پر کھول کر ایسا شور ڈالتے ہیں کہ کانوں پر پڑی آواز کا سنائی دینا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ سو ایسے لوگوں کو ان قرآنی ہدایات و اشارات کی روشنی میں اپنے بارے میں سوچنا چاہئے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔ اور ان کو اپنے اس طرز عمل کے بارے میں بھی خود غور کرنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ و انجام کیا ہوسکتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ صحیح بخاری اور مسند امام احمد وغیرہ میں مروی ہے کہ حضرت ثابت بن قیس بن شماس ؓ ۔ جو ایک بلند آواز صحابی تھے وہ اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بعد غمگین ہو کر اپنے گھر میں بیٹھ گئے۔ اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں مجلس میں آنا ہی چھوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے جب دیکھا کہ وہ مجلس میں نہیں آرہے تو آپ ﷺ نے ان کے بارے میں پتہ کرایا۔ اور ایک آدمی کو ان کے گھر بھیجا کہ وہ مجلس سے کیوں غیر حاضر ہیں۔ تو یہ صاحب جب ان کے گھر گئے تو دیکھا کہ وہ گھر میں سر جھکائے غمگین بیٹھے ہیں۔ تو پوچھنے پو انہوں نے بتایا کہ میں تو اللہ کے رسول کے سامنے بلند آواز سے بولا کرتا تھا کہ میری آواز بلند تھی۔ اس لئے میرے تو اسب اعمال حبط ہوگئے اور میں دوزخی ہوگیا۔ ان صاحب نے جب واپس آکر آنحضرت ﷺ کو ان سے متعلق یہ ماجرا سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا " لا بل ھو من اہل الجنۃ " نہیں بلکہ وہ تو جنتی ہیں " راوی حدیث حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد جب ہم ان کو اپنے درمیان چلتا پھرتا دیکھتے تو ہم کہتے یہ جنتی شخص جا رہا ہے یہاں تک کہ انہوں نے جنگ یمامہ میں جام شہادت نوش فرمایا۔ [ ابن جریر، ابن کثیر، مراغی، فتح، روح اور قرطبی وغیرہ ] سبحان اللّٰہ ! کیسی عظمت شان کے مالک تھے یہ حضرات صحابہ کرام ؓ عنھم وارضاھم۔ اللہ تعالیٰ ان کی محبت اور اتباع و پیروی سے ہمیشہ سرشار رکھے اور ہر حال میں ان کی پیروی نصیب فرمائے۔ اور زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین [ 4] پیغمبر (علیہ السلام) کی عظمت شان کے ایک اور تقاضے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ ان کے سامنے اس طرح کی اونچی آواز سے بات نہیں کرنا جس طرح کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو "۔ بلکہ ان کے سامنے بنوت و رسالت کے منصب عالی اور مقام رفیع کا لحاظ کرتے ہوئے بات کیا کرو۔ امام تفسیر حضرت مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ اس میں یہ بھی داخل ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کو ان کے نام نامی کے ساتھ نہیں بلکہ وصف نبوت و رسالت کے ساتھ پکارا کرو۔ پس " یا محمد " نہیں بلکہ " یا نبی اللّٰہ " اور " یا رسول اللّٰہ " جیسے صفت کے الفاظ سے پکارا کرو۔ اسی لئے پورے قرآن مجید میں کسی ایک جگہ بھی آنحضرت ﷺ کو آپ ﷺ کے نام نامی سے نہیں پکارا گیا۔ یعنی " یا محمد " نہیں فرمایا گیا بلکہ " یایھا النبی "، " یا ایھا الرسول "، " یا ایھا المزمل " جیسے اوصاف سے پکارا گیا ہے۔ سو اس سے ایک بڑا اہم معاشرتی ادب اور درس بھی ملتا ہے کہ کسی بڑی ہستی کو صریح نام کے ساتھ بلانا، پکارنا ادب کے تقاضوں کے خلاف اور مہذب طریقہ سے ہٹا ہوا انداز تخاطب ہے۔ سو ہر کسی کو اس کے اس وصف خاص کے ساتھ ہی پکارا اور بلایا جائے جو اس کیلئے وجہ امتیاز ہو۔ دیگر اس کے باوجود آج کے جاہل مسلمان کو " یا محمد " کہنے پر اصرار ہے۔ سو وہ ایسے ہی کہتا ہے اور لکھتا ہے، اور اس پر زور دیتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر ﷺ کے سامنے اس طرح بات مت کرو جیسا کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال اکارت نہ ہوجائیں۔ اور اس طور پر کہ تمہیں اس کا شعور و احساس ہی نہ ہو۔ اور ظاہر ہے کہ یہ ایک بڑا ہی ہولناک خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ویجار علیہ، [ 5] پیغمبر (علیہ السلام) کے سامنے آواز بلند کرنے سے اعمال کے ضیاع کا خطرہ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کے سامنے اپنی آواز بلند کرنا اور ان کی شان میں، سوئِ ادبی سے کام لینا حبط اعمال کا باعث ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ پیغمبر کے سامنے اس طرح اونچی آواز سے بات بھی نہ کرنا جس طرح کہ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو کہ اس کے نتیجے میں تمہارے اعمال اس طرح اکارت چلے جائیں کہ تمہیں اس کا شعور و احساس تک نہ ہو۔ اس سے شان پیغمبر کی نزاکت کا ایک اہم اور امتیازی پہلو سامنے آتا ہے " حبط " دراصل اس کو کہا جاتا ہے کہ کوئی جانور۔ حد سے زیادہ کھانے کی وجہ سے افارے میں مبتلا ہو کر مرجائے۔ اور یہ لفظ یہاں پر بہت ہی معنیٰ خیز ہے۔ کیونکہ ایسا جانور کھاتے وقت یہ سمھنا ہے کہ وہ اپنے لئے بہتری کا سامان کر رہا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ اپنے لئے خود موت کا سامان کر رہا ہوتا ہے سو اسی طرح ایک بدعتی اور مشرک شخص بسا اوقات ایسے اعمال و افعال کو محبت کا تقاضا سمجھ کر رکتا ہے مگر اس کے برعکس بسا اوقات ہوتا یہ ہے کہ شرک و بدعت اور مکالفت دین کی وجہ سے اس کے اعمال حبط ہوجاتے ہیں۔ اور اس کا کیا کرایا اکارت چلا جاتا ہے۔ مگر اس کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس سے شان پیغمبر کی عظمت اور اس کی نزاکت کا ایک اہم اور امتیازی پہلو واضح ہوجاتا ہے کہ آنجناب ﷺ کے حضور سوئِ ادبی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ حبط اعمال کا باعث ہوسکتی ہے۔ اور اس طور پر کہ آدمی کو اس کا شعور و احساس ہی نہ ہو جو کہ بڑا ہی ہولناک خسارہ ہے۔ " والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوئُُ " و انحراف بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ اللہ پاک ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ فکر وعمل کی ہر کنجی، اور زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، سبحانہ و تعالیٰ جل وعلا،
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

بیشک جو لوگ پست رکھتے ہیں اپنی آوازوں کو اللہ کے رسول کے حضور اللہ نے جانچ (اور پرکھ) لیا ان کے دلوں کو قوی (و پرہیزگاری) کے لئے ایسے (خوش نصیب) لوگوں کے لئے عظیم الشان بخشش بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی

[ 6] پیغمبر (علیہ السلام) کے معاملے میں صحیح ادب کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو اس سے پیغمبر کے بارے میں صحیح رب کی تعلیم دی گئی کہ سامنے اپنی آوازوں کو پست رکھا جائے۔ ان کے ادب و احترام کے تقاضوں کے مطابق۔ اسی لئے حضرت علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اسی طرح آپ ﷺ کی قبر مبارک کے پاس بھی آواز بلند کرنا درست نہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ اپنی موت کے بعد بھی ایسے ہی قابل احترام ہیں جس طرح کہ اپنی حیات طیبہ میں تھے۔ " لانہ محترم حیا ومیتا و فی قبرہ ﷺ " [ ابن کثیر وغیرہ ] ۔ چناچہ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ ؓ نے جب دو آدمیوں کو مسجد نبوی میں اونچی آواز سے بات کرتے ہوئے سنا تو ان سے فرمایا کہ " تم جانتے ہو کہ تم کہاں ہو ؟ "۔ " اتدریان این انتما "۔ پھر ان سے پوچھا " تم کہاں کے ہو ؟ " " من این انتما " تو انہوں نے کہا " طائف سے " آئے ہیں۔ تب آپ ؓ نے فرمایا کہ " اگر تم یہاں کے ہوتے تو میں تمہاری ٹھکائی کرتا "۔ " لو کنتما من اہل البلد لاو جعتکما ضربا " [ ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، خازن، مدارک وغیرہ ] ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس صحیح ادب کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے جو پیغمبر ﷺ کے مقابلے میں ہر مسلمان کو اپنانا لازم ہے۔ کیونکہ یہ دین متین کا ایک اہم اور بنیادی تقاضا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ [ 7] اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل امتحان دلوں کا ہوتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ کے رسول کے سامنے اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کا اللہ نے امتحان لیا ہے تقویٰ کیلئے اور ان کو اس نے تقویٰ کی تخم ریزی اور اس کو افزائش کیلئے موزوں پایا اسی لئے اس نے ان کو تقویٰ و پرہیزگاری سے سرفراز فرمایا سو اس سے واضح فررما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کا امتحان دلوں کا امتحان ہوتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے جانچ پرکھ لیا ان کے دلوں کو تقویٰ و پرہیزگاری کیلئے "۔ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں معاملہ محض ظاہرداری پر مبنی نہیں ہوتا، بلکہ وہاں پر ظاہر سے پہلے باطن کا امتحان ہوتا ہے۔ سو ان حضرات صحابہ کرام ؓ کے دلوں کو تقویٰ و پرہیزگاری کے اہل اور لائق پانے اور بنانے کے بعد ان خاص عنایات سے نوازا گیا۔ دلوں کے امتحان کے ذکر سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر دل تقویٰ کی تخم ریزی اور اس کی افزائش کیلئے موزوں نہیں ہوتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اس کیلئے امتحان کرکے دلوں کا انتخاب کرتا ہے۔ اور اس امتحان میں اصل چیز جو ترجیح دینے والی بنتی ہے وہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی کے اندر اللہ اور اس کے رسول کیلئے انقیاد و اطاعت کا سچا جذبہ اور ان کے آگے عجزو فرقتنی کا صحیح شعور موجود ہے یا نہیں۔ یہ چیز جس کے اندر جتنی زیادہ ہوتی ہے اس کو اسی قدر تقویٰ و پرہیزگاری کی نعمت زیادہ عطا ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اس شعور سے جتنے عاری ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ وہ اتنے ہی تقویٰ و پرہیزگاری سے بعید اور محروم ہوتے ہیں پس انسان کے بنائے و بگاڑ کا اصل دارومدار اس کے قلب و باطن پر ہوتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ من کل زیغ وضلال، وسوئٍ و انحراف بکل حال من الاحوال۔ [ 8] ادب رسالت کی پاسداری موجب بخشش خداوندی : سو اس ارشاد سے ادب رسالت کا پاس ولحاظ رکھنے والوں کے لیے مغفرت و بخشش کا اعلان فرما دیا گیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگوں کیلئے ایک عظیم الشان بخشش ہے "۔ یعنی [ مغفرۃٌ] کی تنوین تعظیم و تفحیم کیلئے ہے۔ یعنی ان قدسی صفت حضرات کو ایسی عطٰإ الشان مغفرت و بخشش سے نوازا جائے گا جو ان کی شان اور ان کے مرتبہ و مقام کے لائق ہوگی۔ سو اوپر ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا گیا ہے جو پیغمبر ﷺ کی آواز کے مقابلے میں اپنی آواز کو بلند کرنے کی جسارت کرتے تھے کہ ایسوں کے اعمال حبط اور ایسے اکارت چلے جائیں گے کہ ان کو اس کی خبر بھی نہ ہوگی۔ والعیاذ باللّٰہ، اس کے مقابلے میں یہ ان لوگوں کا اجر وثواب بیان ہر رہا ہے جو ادب رسالت کا پاس و احترام کرتے ہوئے اپنی آواز کو رسول کی آواز کے آگے پست رکھتے ہیں۔ فرمایا گیا کہ " ان کے کیلئے عظیم الشان بخشش بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی “ َ یعنی ان کی لغزشوں اور کوتاہیوں کو معاف فرما دیا جائے گا جو بشری تقاضوں کی بنا پر ان سے سرزد ہوگئی ہونگی۔ کہ انہوں نے ادب رسالت کا حق ادا کیا۔ اور انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے حضور عاجزی اور فروتنی کی روش اختیار کی۔ اور کسی ناروا گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو ان سے بڑا سمجھنے کی جسارت نہیں کی۔ اسلئے ان کی اس فروتنی اور اس ادب و احترام کا انعام اور صلہ ان کو یہ ملا کی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کی افزائش کے لیے منتخب فرما لیا جو کہ ظاہر ہے کہ بہت بڑا شرف و اعزاز ہے۔ اور مزید یہ کہ ان کے لیے عظیم الشان بخشش اور بہت بڑے اجر کا اعلان بھی فرما دیا۔ کہ اس واہب مطلق جل و جلالہ کی شان ہی عطاء بخشش کی ہے فایاہ نسال التوفیق لما یحب ویرضی جل و علا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، سبحانہ و تعالیٰ ۔ [ 9] ادب رسالت کے پاسداروں کیلئے اجر عظیم کی بشارت : چناچہ ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے لیے بہت بڑا اجر بھی ہے "۔ یعنی جنت اور اس کی بےبہا اور لازوال و سدا بہار نعمتیں۔ روایات میں ہے کہ اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد حضرت سیدنا صدیق اکبر اور حضرت سیدنا عمر ؓ خاص طور پر اس قدر پست اور دھیمی آواز سے بولتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کو دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا۔ پس اس ارشاد میں ان دونوں حضرات کے لئے خاص طور پر بہت بڑی بشارتیں ہیں کہ ان کے دلوں کو قدرت نے تقویٰ کے لئے خاص فرما دیا تھا۔ ان کے لئے عظیم بخشش بھی ہے اور بہت بڑا اجر وثواب بھی۔ شیاد اسی بنا پر دنیا کے علاوہ برزخ میں بھی ان دونوں حضرات کو پیغمبر کی معیت نصیب ہوئی کہ ان کی قبریں آنحضرت ﷺ کی قبر کے ساتھ ہیں۔ اور جنت میں بھی ان کو یہ معیت ورفاقت نصیب ہوگی۔ پس بڑے ہی بدبخت اور منحوس ہیں وہ لوگ جو ان دونوں بزرگوں کی شان میں گستاخیاں کرتے اور ان کے دین و ایمان تک میں کیڑے نکالتے ہیں۔ ایسے مومن کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ [ قاتلہم اللّٰہ انی یوفکون ] ۔ بہرکیف ایسے حضرات نے اللہ اور اس کے رسول کے سامنے عاجزی اور فروتنی کی روش اختیار کی اور کسی گھمنڈ میں مبتلا ہو کر آپ کے سامنے خواہ مخواہ بڑا بننے کی جسارت نہیں کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس فروتنی اور عاجزی کا انعام ان کو یہ دیا کہ ان کے دلوں کو تقویٰ و پرہیزگاری اور اس کی افزائش کیلئے منتخب فرمایا جس کا اجر و صلہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت بڑا ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔
Ayah 49:4

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ پکارتے ہیں آپ کو (اے پیغمبر ! ) حجروں کے باہر سے ان میں سے اکثر بےعقل ہیں

[ 10] نادانوں کو ان کے ایک ناشائستہ طریقے پر تنبیہ : سو اس ارشاد سے پیغمبر کو آپ ﷺ کے حجرات کے باہر سے پکارنے والوں کے ناشائستہ طرز عمل کا ذکر کرکے ان کو تنبیہ فرمائی گئی ہے اور جن حجرات میں آپ کی ازواج مطہرات رہا کرتی تھیں وہ تعداد میں نو تھے۔ ہر زوجہ مطہرہ کے لئے علیحدہ حجرہ تھا۔ یہ کچے حجرے تھے۔ ان کی چھتوں کو ہاتھ لگتے تھے۔ اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک کے دور میں ان کو سرکاری حکم سے مسمار کرکے مسجد نبوی کی توسیع میں شامل کردیا گیا جس پر مدینہ منورہ کے لوگ رو پڑے۔ حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ اگر ان حجروں کو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھا جاتا تو اچھا ہوتا تاکہ آئندہ چل کر لوگ ان کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ کی سادہ اور زاہدانہ زندگی کا اندازہ کرسکتے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ آپ کو اے پیغمبر ﷺ ان حجرات کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں "۔ اس طرح تو کسی عام آدمی کو بھی اس کے گھر کے باہر سے چیخ چیخ کر پکارنا ایک بھونڈا، ناشائستہ اور غیر مہذب طریقہ ہے۔ چہ جائیکہ اللہ کے رسول کو اس طرح پکارا جائے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو اس سے ایسے نادانوں کو ان کے ناشائستہ اور غیر مہذب طریقے پر تنبیہ فرمائی گئی۔ والحمدللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ [ 11] نادانوں کے لیے تنبیہ اور درگزر کا اشارہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان میں سے اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے "۔ اس لئے یہ بڑوں کے اور خاص کر آنحضرت ﷺ کے آداب کا خیال نہیں رکھتے۔ روایات کے مطابق کچھ بدوقسم کے عرب جن میں بنو تمیم وغیرہ کے لوگ شامل تھے آنحضرت ﷺ سے ملنے کے لئے دوپہر کے وقت آپ ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپ ﷺ آرام فرما رہے تھے۔ اور باہر سے آوازیں لگانے لگے۔ " یامحمد اکرج الینا "۔ اے محمد ہمارے لئے باہر آؤ "۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں ایسے لوگوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی اور اس طرح تنبیہ فرمائی گئی۔ اور ان کے توسط سے ساری امت کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ دوسروں کے اور خاص کرکے پیغمبر ﷺ کے آداب کا خیال رکھیں۔ اور کسی کے آرام و راحت میں خلل اندازی کا باعث نہ بنیں۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کسی کو اس کے گھر کے باہر سے چیخ چیخ کر پکارنا اور اس کو اس کے صریح نام سے بلانا اسلامی تعلیمات کے خلاف اور ایک غیر مہذب و ناشائستہ فعل ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ نیز اس ارشاد میں جہاں ان نادانوں کے لیے تنبیہ ہے وہیں اس میں ان کے لیے معذوری اور ان سے درگزر کا اشارہ بھی ہے۔ کہ یہ لوگ عقل اور سمجھ نہیں رکھتے۔ اس لیے یہ معذور ہیں۔ اس لیے یہ درگزر کے لائق ہیں کہ یہلوگ نہ پیغمبر کے مرتبہ و مقام سے آگاہ ہیں اور نہ ہی اپنی اس حرکت کے نتیجہ و انجام سے۔ اس لیے یہ تربیت کے محتاج اور عفو و درگزر کے لائق ہیں۔
Ayah 49:5

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ صبر سے کام لیتے یہاں تک کہ آپ ﷺ خود ہی ان کے پاس نکل آتے تو یہ زیادہ بہتر ہوتا خود ان کے لئے اور اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا انتہائی مہربان ہے

[ 12] ادب صحیح کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر یہ لوگ صبر سے کام لیتے تو یہ خود انہی کیلئے بہتر ہوتا "۔ کہ یہ حضرت رسالت مآب ﷺ کے ادب کا تقاضا ہے۔ اسی سے حضرات مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ اپنے اساتذہ و مشائخ کے بارے میں بھی یہی ادب ملحوظ رکھنا چاہیے اور حضرات اسلاف کرام کا طریقہ و معمول بھی یہی تھا۔ چناچہ ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی عالم کے دروازے پر جاکر ان کو دستک نہیں دی بلکہ اس بات کا انتظار کیا کہ وہ خود باہر تشریف لائیں تو ملاقات کروں گا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ ما جب کسی صحابی سے کوئی حدیث دریافت کرنے کیلئے جانتے تو ان کے انتظار میں ان کے دروازے پر بیٹھ جاتے۔ اور کوئی آواز یا دستک وغیرہ نہ دیتے۔ یہاں تک کہ جب وہ خود باہر نکلتے اور وہ آپ کو اپنے دروازے پر بیٹھا ہوا پاتے تو کہتے کہ پیغمبر ﷺ کے چچا زاد ! آپ نے ہمیں دستک وغیرہ کے ذریعے اطلاع کیوں نہ دی ؟ تو حضرت ابن عباس ؓ اس کے جواب میں یہی آیت کریمہ تلاوت فرما کر اسی ادب رفیع کا حوالہ دے دیتے۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں اس ادب عالی کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے جو حضرت رسالت مآب ﷺ کے بارے میں بندہ مومن کو اختیار کرنا چاہیے۔ اور یہی وہ ادب مطلوب و محمود ہے جو انسان کو اس کے بعد اپنے بڑوں اور اساتذہ و مشائخ کے بارے میں اختیار کرنا چاہئے کہ اس میں بڑوں کے ادب و احترام کے تقاضے بھی ملحوظ ہیں۔ اور یہی چیز تہذیب و شائستگی اور تفاوت مراتب و درجات کے لائق ہے جس کی بنیاد یہ ہے کہ انسان یہ کہے کہ مجھ سے دوسروں کو فائدہ اور آرام تو پہنچے مگر مجھ سے کسی دوسرے کو تکلیف اور ایذا نہ پہنچے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، [ 13] اللہ تعالیٰ کی بخشش و رحمت کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا انتہائی مہربان ہے "۔ اس لئے وہ نہ صرف یہ کہ خطاؤں اور لغزشوں کو معاف فرماتا ہے بلکہ رحم بھی فرماتا ہے کہ وہ غفور کے ساتھ رحیم بھی ہے۔ اور اس کا کام اور اس کی شان ہی کرم فرمانا اور رحمتوں پر رحمتوں سے نوازنا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اس کے حضور توبہ و رجوع صدق دل سے ہونا چاہئے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس موقع پر " غفور " اور " رحیم " کی ان دو صفتوں کے ذکر اور ان کی یاد دہانی سے مقصود بڑے ہی لطیف انداز میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اگرچہ ان لوگوں کی ایسی حرکتیں ادب رسالت کے خلاف اور نہایت ناگوار ہیں لیکن یہ لوگ چونکہ صحیح سمجھ بوجھ رکھنے والے نہیں ہیں اس لیے ان سے عفو و درگزر ہی سے کام لو۔ کیونکہ جب وہ اللہ غفور و رحیم ہے اور وہ بڑا ہی درگزر کرنے والا انتہائی مہربان ہے تو اس کے رسول کے بھی شایان شان بھی یہی ہے کہ وہ بھی عفودرگزر ہی سے کام لیں۔ اور اسی طرح اس رسول کریم کے امتیوں اور خاص کر علماء و دعاۃ کی بھی یہی شان ہوتی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق۔ بہرکیف اس میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت و بخشش کی تذکیر و یاد دہانی اور اس کی طرف صدق دل سے رجوع کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ فاغفرلی وارحمنی یا من مغفرتہ اوسع من ذنوبی، ورحمتہ ارجٰی عندی من عملی، فانک انت الا عن الاکرم، تبارکت وتعالیت۔
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو اگر کوئی فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لایا کرے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کوئی نقصان پہنچا بیٹھو کسی قوم کو جہالت (و نادانی) کی بناء پر تو پھر اس کے نتیجے میں تمہیں خود اپنے کئے پر ندامت اٹھانا پڑجائے

[ 14] خبر کے قبول کرنے کے بارے میں احتیاط اور تحقیق کی ہدایت : سو اس ارشاد سے فاسق کی خبر پر عمل سے پہلے اس کی تحقیقی کی ضرورت کو بیان فرمایا گیا ہے۔ روایات کے مطابق آنحضرت ﷺ نے حضرت ولید بن عقبہ ؓ کو بنو مصطلق سے زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا۔ اور ان کے ساتھ ان لوگوں کو اسلام سے پہلے کی کوئی عداوت چلی آرہی تھی۔ اس بنا پر ان کے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ شاید وہ لوگ مجھے قتل کردیں۔ تو یہ راستے سے ہی واپس لوٹ کر آگئے۔ اور بعض روایات کے مطابق آپ وہاں پہنچے تو وہ لوگ آپ ؓ کے استقبال کیلئے نکل آئے۔ مگر انہوں نے سمجھا کہ شاید یہ مجھے قتل کرنے کی غرض سے نکلے ہیں۔ اس لئے یہ بھاگ کر واپس آگئے۔ اور آکر آنحضرت ﷺ کو رپورٹ دی کہ وہ لوگ تو نعوذ باللّٰہ۔ اسلام سے پھرگئے ہیں۔ اور مجھے قتل کرنے کیلئے نکل پڑے۔ جس پر حضور ﷺ کو بہت صدمہ ہوا اور غصہ آیا۔ اور ایسا ہونا بھی چاہیے تھا۔ تو آپ ﷺ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو تحقیق حال کے لئے بھیجا۔ اور بعض روایات کے مطابق فوج کا ایک دستہ بھی ان کی سربراہی میں ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے بھیج دیا۔ مگر مدینہ منورہ کے باہر ہی آپ کی ملاقات بنو مصطلق کے اس وفد سے ہوگئی جو کہ صورت حال کی وضاحت کیلئے حضور ﷺ کی خدمت میں ازخود حاضری دینے کو آرہا تھا۔ تو آنحضرت ﷺ کو پوچھنے پر ان لوگوں نے قسم اٹھا کر کہا کہ نہ تو ہم مرتد ہوئے ہیں اور نہ ہی آپ ﷺ کا کوئی قاصد ہمارے پاس گیا ہے۔ تو اس موقع پر یہ آیر کریمہ نازل ہوئی جس میں تحقیق کے بعد قدم اٹھانے کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہاں پر فاسق سے مراد حضرت ولید بن عقبہ نہیں ہیں کہ وہ تو رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے۔ اور حضور ﷺ کے صحابہ کرام سب کے سب عدول اور ہر طرح کے فسق و فجور سے پاک و نفور تھے۔ اسی بنا پر امام رازی (رح) نے اس روایت ہی کی تضعیف بیان کی ہے اور صحابہ کرام ؓ کو تو رضائے الٰہی کی سند قرآن پاک میں صاف وصریح طور پر مل چکی ہے۔ اور یوں بھی حضرت ولید ؓ سے یہاں پر زیادہ سے زیادہ ایک خطا ہوئی تھی اور بس۔ اس سے فسق لازم نہیں آتا۔ پس حق اور سچ یہ ہے کہ یہاں پر مطلقاً ایک عمومی قاعدہ و ضابطہ اور قانون بیان فرمایا گیا ہے کہ جب بھی کبھی کوئی فاسق کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو۔ اور بلا تحقیق اس پر عمل نہ کیا کرو۔ یہ نہیں کہ اس آیت کریمہ میں حضرت ولید کو فاسق قرار دیا گیا ہے۔ سو معاشرتی امن و استقرار کیلئے یہ ایک بڑا اہم درس اور ٹھوس ضابطہ ہے کہ کسی بھی خبر پر تحقیق کئے بغیر عمل مت کرو۔ کتنے ہی فتنے اور فساد ایسے ہوتے ہیں جو تحقیق نہ کرنے کی بنا پر معاشرے میں جنم لیتے ہیں۔ اور بات بگڑ کر کہیں جا پہنچتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اگر کسی خبر پر عمل کرنے سے اس کے بارے میں تحقیق کرلینے کے اس حکم خداوندی پر پوری طرح عمل کیا جائے تو بہت سے فتنوں کا دروازہ بند ہوسکتا ہے۔
Ayah 49:7

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے اگر وہ بہت سی باتوں میں تمہارا کہنا مان لیا کرے تو تم لوگ خود ہی سخت مشکلات میں پڑجاؤ لیکن اللہ نے تم کو (اس سے بچا کر) ایمان کی محبت سے نواز دیا اور اس کو مزین (و محبوب) بنادیا تمہارے دلوں میں اور تمہارے اندر نفرت (و کراہیت) پیدا کردی کفر نافرمانی اور گناہ سے ایسے ہی لوگ راہ راست پر ہیں1

[ 15] سلامتی کی راہ رسول ﷺ کی اطاعت و اتباع : سو اس سے بنیادی امر کو واضح فرما دیا گیا کہ صحت و سلامتی کی راہ صرف رسول کی اطاعت و اتباع میں ہے اور بس۔ پس رسول کی موجودگی میں کسی اور کے مشورے اور اس کی رائے کی کوئی حیثیت نہیں ہوسکتی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یقین جانو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے "۔ پس تم لوگوں کو ان کی موجودگی میں اپنی رائے اور اپنے مشوروں کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہئے کہ تم رسول کو اپنے پیچھے چلانے کو کوشش کرنے لگو۔ بلکہ تم لوگوں کو ہمیشہ ان کے پیچھے چلنا چاہیے کیونکہ وہ جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں وہ سب حق اور سچ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی وحی کی روشنی میں ہوتا ہے، کہ وہ اپنی خواہش سے بولتے بھی نہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا { وما ینطق عن الھوٰی ان ھو الا وحی یوحٰی } [ النجم : 4-5 پ 27] پس تم تم لوگ ان کی صدق دل سے تعظیم و تکریم کرو اور انہی کے حکم و ارشاد پرچلو کہ وہ اللہ کی مخلوق میں تم سب پر سب سے بڑھ کر مہربان بھی ہیں اور سب سے زیادہ تمہارے خیرخواہ بھی۔ پس خیر کامل خیر اور آپ ﷺ کی اطاعت و اتباع ہی میں مضمر ہے۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ۔ سو جب تمہارے اندر اللہ کا رسول موجود ہے تو تمہیں انہی کے قول و فعل کی اتباع اور پیروی کرنی چاہیے نہ کہ تم لوگ اس کوشش میں لگ جاؤ کہ وہ تمہاری آراء اور تمہارے مشوروں پر چلیں۔ کیونکہ وہ جو بھی قدم اٹھاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور راہنمائی میں اٹھاتے ہیں۔ اس لیے تمہاری دنیا و آخرت کی فلاح و بہبود ان کی اتباع اور پیروی میں ہے نہ کہ اپنے جذبات اور خواہشات کی پیروی میں۔ اور یہ ارشاد اس وقت سے متعلق ہے جبکہ پیغمبر اپنی حیات طیبہ میں بذات خود موجود تھے۔ اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد کتاب و سنت کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے خود فرمایا کہ میرے بعد اللہ کی کتاب اور میری سنت کی طرف رجوع کرنا۔ جب تک تم نے ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تم کبھی گمراہ نہیں ہوؤگے۔ لہٰذا تم ان دونوں کو اپنے دانتوں کی ڈاڑھوں سے مضبوط پکڑے رکھنا۔ پس اہل بدعت جو اس آیت کریمہ سے اپنے شرکیہ عقائد کیلئے دلیل کشید کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ باطل اور مردود ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ رسول کی موجودگی میں کسی اور کی رائے اور مشورے کی کوئی حیثیت نہیں۔ رسول کی اتباع اور پیروی ہی پر صلاح و فلاح اور نجات کا مدار ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل۔ [ 16] رسول کی بات کو اپنی رائے کے تابع کرنا باعث ہلاکت۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر وہ بہت سی باتوں میں تمہاری بات ماننے لگیں تو تم لوگ سخت مشکل میں پڑجاؤ "۔ کیونکہ جو کچھ وہ دیکھتے ہیں وہ تم نہیں دیکھ سکتے۔ جو کچھ ان کے علم میں ہے وہ تمہارے علم میں نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے پاس حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ لہٰذا ان کا ہر قول و فعل حجت اور حق پر ہی ہوتا ہے۔ جبکہ تمہاری بات بالعموم خواہشات کی پیروی پر مبنی ہوتی ہے۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی بات کے سامنے اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہوسکتی۔ اور حق و ہدایت کو چھوڑ کر ھویٰ و ہوس کی پیروی میں بہرحال تباہی اور بربادی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ لہٰذا تم اس کی خواہش نہ کیا کرو کہ پیغمبر لازماً تمہاری ہر بات مانیں۔ ان پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے جو کہ تم لوگوں کیلئے ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ لہٰذا اس نعمت کی قدر کرو۔ پس اگر کوئی رائے پیش کرنی ہوا کرے تو تم اس کو پورے ادب و احترام سے پیش کرکے فیصلہ رسول کی صواب دیدی ہی پر چھوڑ دیا کرو۔ تمہاری بہت سی آراء خام ہوتی ہیں اگر اللہ کا رسول ان کو مان لے تو تم لوگ خود بری مشکلات میں پھنس جاؤ گے اور اس کے نتیجے میں تم ہدایت کی روشنی سے نکل کر ہوی و ہوس کی ظلمتوں میں گر اور گھر جاؤ گے جو خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، وسوء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔ [ 17] محبت ایمان سے سرفرازی ایک عظیم الشان انعام خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو ایمان کی محبت سے نواز دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں مزین فرما دیا اور کفر و نافرمانی اور معصیت سے تمہارے دلوں میں نفرت بٹھادی "۔ پس معلوم ہوا کہ ایمان و یقین کی محبت اور دلوں میں اس کا جاگزیں ہوجانا اللہ پاک کی ایک خاص عنایت ہے کہ اس کے بعد ایسے خوش نصیب حضرات سے قول و فعل اور عمل و کردار کی دنیا میں وہی کچھ صادر ہوتا ہے جو حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی رضا و خوشنودی کا ذریعہ بنتا ہے۔ اور وہ انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہیں کھولتا ہے۔ اللّٰہم فحبب الینا الایمان وزینہٗ فی قلوبنا وکرہ الینا الکفر والفسوق والعصیان واجعلنا من الراشدین الھادین المھدیین بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین۔ سو یہ ایمان و یقین کی عظیم الشان برکات ہی ہیں جو انسان کو سعادت دارین سے سرفراز کرتی ہیں۔ سو ایمان کو حضرات صحابہ کرام ؓ کے دلوں میں مزین و محبوب بنادینا اور کفر و فسوق و عصیان سے ان کو متنفر کردینا ایک عظیم الشان انعام و احسان تھا جس سے حضرت حق۔ جل مجدہ۔ نے ان کو بطور خاص نوازا تھا۔ کیونکہ دور جاہلیت میں تمام اقدار بالکل تلپٹ ہوگئے تھے۔ شیطان نے اپنے طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے ایمان کو لوگوں کی نگاہوں میں مکروہ اور مبغوض بنادیا تھا۔ اور اس کے برعکس کفر و فسوق کو ان کے یہاں محبوب و مطلوب بنادیا تھا۔ اور ایمان کو اس طرح تہ پردوں کے اندر محجوب و مستور کردیا گیا تھا کہ ان کو چاک کرکے ایمان کے حقیقی حسن و جمال کو لوگوں کے سامنے بےنقاب کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف بن گیا تھا۔ اور اس کے برعکس کفر و فسوق کو ابلیس لعین نے مصنوعی طریقے سے اس طرح ملمع کردیا تھا اور اس کو لوگوں کے سامنے اس طرح پر فریب بنادیا تھا کہ اس کی اصل اور گھناؤنی شکل و صورت لوگوں کو دکھانا ایک قسم کا محال عادی بن گیا تھا۔ اللہ نے حضرت امام الانبیاء کی بعثت کے ذریعے ایمان کو اس کی اصل اور محبوب شکل میں لوگوں کو دکھا دیا اور کفر کے چہرے سے مصنوعی غازوں کو اتار کر اس کی اصل مکروہ اور گھناؤنی شکل سے لوگوں کو آشنا کردیا۔ فالحمدللّٰۃ جل وعلا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، سبحانہ و تعالیٰ ۔ [ 18] راست رو لوگوں کی نشاندہی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ ہیں راہ راست والے "۔ سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ حق و ہدایت اور راہ صدق و صواب پر یہی حضرات ہیں جس کی یہ اور یہ صفات بیان ہوئیں۔ اور جن کا اولین اور کامل مصداق حضرات صحابہ کرام ہیں۔ رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین۔ پھر ان کے بعد قیامت تک جو بھی کوئی ان کے نقش قدم پر چلے گا اور ان صفات و خصال کو اپنے اندر پیدا کرے گا وہی راہ حق و صواب پر ہوگا۔ اور اس حقیقت کی آنحضرت ﷺ نے طرح طرح سے تصریح و توضیح فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ حق و ہدایت کا طریقہ اور نجات کی راہ وہی ہے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ " ما انا علیہ واصحابی "۔ علیہم الرحمۃ والرضوان۔ پس جو کوئی حضرات صحابہ کرام سے بغض وعناد رکھے گا اور ان کے ایمان و یقین میں شک کرے گا اس کا اپنا ایمان و یقین بہرحال باقی نہیں رہ سکتا کہ وہ ایسی نصوص کا منکر قرار پائے گا جو کہ ظاہر ہے کھلا ہوا کفر ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف، جل وعلا۔
Ayah 49:8

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

محض اللہ کے فضل اور اس کے احسان سے اور اللہ سب کچھ جانتا نہایت حکمت والا ہے

[ 19] نور حق و ہدایت اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " محض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اس کے احسان سے "۔ یعنی یہ بخشش و عطا محض اس کا کرم و احسان ہے نہ کہ کسی کا اس پر کوئی حق کہ نوازنا اور کرم و احسان فرمانا اس کی شان ہے۔ جل و علا۔ البتہ وہ اس سے نوازتا انہی کو ہے جو اس کے اہل ہوتے ہیں اور اس کیلئے طلب صادق رکھتے ہیں۔ پس یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا انعام و احسان ہے جو اس نے ان اصحاب صدق و صفا پر فرمایا جس سے ان کے دل ایمان کے نور سے منور اور اس کے جمال سے مزین ہوگئے۔ اور ایسے حضرات کفر و انکار فسق و فجور اور معاصی وذنوب کی ظلمتوں اور ان کے ہر شائبے سے محفوظ اور ان سے بیزار و نفور ہوگئے۔ اس لیے ان کو اس پر ہمیشہ اپنے رب کا شکر گزار رہنا چاہئے اور خام کاروں کی طرح ان کو کبھی اس وہم میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ یہ سب کچھ ان کو ازخود یونہی مل گیا۔ یا یہ ان کے کسی استحقاق کا نتیجہ تھا وغیرہ۔ سو اس طرح کی کوئی بات نہ ہے نہ بلکہ یہ کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم ہی سے ہوا نور حق و ہدایت سے سرفرازی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال۔ [ 20] اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ سب کچھ جانتا نہایت ہی حکمت والا ہے "۔ پس وہ جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے کہ کون اس کے فضل و کرم کا مستحق ہے اور کس قدر مستحق ہے۔ کتنے کا تحمل وہ کرسکتا ہے اور اس کے ظرف محدود میں کتنی اور کس قدر گنجائش ہے۔ نیز چونکہ وہ حکیم بھی ہے اس لئے وہ جو بھی کچھ کرتا ہے اپنی حکمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق ہی کرتا ہے۔ جس کا احاطہ بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس فوز و فلاح اور رشد و صلاح صرف اسی وحدہ لاشریک کے فرامین و ارشادات پر ایمان و یقین اور ان کی پیروی و اتباع میں ہے۔ علیم اور حکیم کی ان دو صفتوں کے حوالے سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل اس کے علم اور حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کی تقسیم کسی اندھے کی تقسیم کی طرح نہیں۔ وہ اپنے دین کی نعمت سے انہی لوگوں کو نوازتا ہے جن کو وہ اس کا اہل پاتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس پس بندوں کو اس کے ہر حکم و ارشاد پر مطمئن رہنا چاہیے کہ اسی میں ہماری بہتری ہے، نیز اس سے یہ درس بھی ملتا ہے کہ بندے کو اپنا تعلق ہمیشہ اس علیم و حکیم رب قدوس کے ساتھ صحیح اور درست رکھنا چاہیے تاکہ اس کی طرف سے علم اور حکمت کی دولت سے سرفراز ہو سکے۔ وباللّٰہ التوفیق، اللّٰہم فخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام۔
Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو تم ان کے درمیان صلح کرا دیا کرو پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو تم اس سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف پھر اگر وہ لوٹ آئے پس تم صلح کرا دو ان دونوں کے درمیان عدل (و انصاف) کے ساتھ اور یوں بھی انصاف ہی کیا کرو کہ بیشک اللہ محبت کرتا ہے انصاف کرنے والوں کے ساتھ

[ 21] مسلمانوں کے درمیان باہمی لڑائی سے متعلق ہدایات : سو اس ارشاد سے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان تصادم کی صورت میں اصلاح احوال کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ارتکاب کبیرہ سے خروج عن الدین لازم نہیں آتا جس طرح کہ معتزلہ وغیرہ کہتے ہیں۔ یہاں پر قتال بین المسلمین جیسے کبیرہ کے ارتکاب کے باوجود ان دونوں گروہوں کو مومن قرار دیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہ اس کی بنا پر ان سے وصف ایمان کو سلب کرلیا گیا ہو۔ والعیاذ باللّٰہ۔ چناچہ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی اپنی صحیح میں معتزلہ کے خلاف اس آیت کریمہ سے یہی استدلال کیا ہے۔ بہرکیف اس میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان باہم تصادم اور قتال واقع ہوجائے تو حکومت وقت یا دوسرے معتبر مسلمانوں کے ذمے یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان کے درمیان اصلاح کرا دیں کہ اصلاح ذات البین کی دین حق میں بڑی اہمیت ہے اور اصلاح معاشرہ کی یہ اہم بنیاد ہے۔ [ 22] مسلمانوں کے درمیان صلح و صفائی کرانے کا حکم و ارشاد : سو اس سے مسلمانوں کے درمیان لڑائی کی صورت میں صلح کرانے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپش میں لڑپڑیں تو تم ان کے درمیان صلح کرا دیا کر "۔ ہمدردی و خیر خواہی کے ساتھ۔ اور کتاب و سنت کے حکم کی طرف بلاکر۔ خواہ وہ کسی کے حق میں جائے یا اس کے خلاف پڑے۔ معلوم ہوا کہ دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانا ایک اہم اور ضروری امر ہے کہ اس کا اس طرح صاف وصریح طور پر حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اور یہ اس لئے کہ مسلمانوں کا باہمی افتراق و انتشار اور اختلاف و نزاع بہت نقصان دہ امر ہے۔ چناچہ نبی اکرم ﷺ نے فساد ذات البین یعنی آپس کے باہمی بگاڑ کو " حالقہ "۔ " مونڈھ دینے والی آفت " قرار دیا ہے۔ اور پھر فرمایا { ولا اقول انھا تحلق الشعر ولکنھا تحلق الدین }۔ یعنی " میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بالوں کو مونڈتی ہے بلکہ یہ دین کو مونڈ کر رکھ دیتی ہے " والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ صحیحین وغیرہ میں مروی ہے کہ ایک موقع پر رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول نے آنحضرت ﷺ کی شان میں یہ گستاخانہ الفاظ استعمال کیے کہ " مجھ سے دور ہوجاؤ کہ تمہارے گدھے کی بدبو سے مجھے تکلیف پہنچ رہی ہے " تو ایک انصاری صحابی نے اس کے جواب میں اس سے کہا کہ " اللہ کی قسم ! حضور ﷺ کے گدھے کی بو تم سے کہیں بڑھ کر عمدہ ہے " تو اس پر دونوں طرف سے کچھ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور نوبت جوتوں اور لاٹھیوں کے تبادلے تک پہنچ گئی۔ تو اس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور دونوں فریقوں کے درمیان صلح کرا دی گئی۔ [ ابن جریر، ابن کثیر، خازن، جامع، روح، قرطبی وغیرہ ] بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑپڑیں تو تم ان کے درمیان صلح کرادیا ہرو "۔ تاکہ اس طرح فساد و بگاڑ کی راہیں بند ہو سکیں۔ [ 23] زیادتی کرنے والے گروہ کے خلاف لڑنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے "۔ اور وہ صلح پر آمادہ نہ ہو۔ یا صلح کرنے کے بعد اس کی شرائط کی خلاف ورزی کرے۔ اور اللہ کے حکم اور اس کے فیصلے کے آگے جھکنے کو تیار نہ ہو۔ [ صفوۃ البیان وغیرہ ] یعنی یا تو وہ مصالحت پر آمادہ ہی نہ ہو یا مصالحت کے بعد اس کی شرائط پوری نہ کرے اور دوسری پارٹی پر زیادتی اور تعدی سے باز نہ آئے۔ تو ایسی صورت میں تم اس سے لڑو جو زیادتی کرے۔ سو ایسی صورت میں حکومت وقت یا دوسرے مسلمانوں کو تعدی اور زیادتی کرنے والی پارٹی سے جنگ کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ وہ حق کے آگے جھکنے پر مجبور ہوجائے۔ اور اس طرح فساد اور بگاڑ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوجائے۔ سو اس میں زیادتی کرنے والے گروہ کے خلاف لڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہ اس کو یونہی چھوڑ دیا جائے اور اس کو ظلم اور زیادتی کرنے کے لیے جھوٹ دے دی جائے۔ کہ اس کے نتیجے میں معاشرہ فساد و بگاڑ کا شکار ہوجائے گا والعیاذ باللّٰہ۔ سو اصلاح احوال حسب استطاعت سب کی ذمہ داری ہے۔ وباللّٰہ التوفیق۔ [ 24] باغی فرقے کے خلاف لڑائی کی حد کا ذکر وبیان : سو باغی فرقے کے خلاف لڑائی کی تحدید کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " تم اس کے خلاف لڑو۔ یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف "۔ یعنی صلح کی طرف، کہ وہ اللہ پاک کی طرف سے ایک مطلوب و مامور امر ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ { یسئلونک عن الانفال ط قل الانفال للّٰہ والرسول ج فاتقوا اللّٰہ واصلحوا ذات بینکم ص واطیعوا اللّٰہ و رسولہ ان کنتم مؤمنین } [ الانفال : 1 پ 9] بہرکیف اللہ کے حکم کی طرف لوٹنے سے مراد اس فیصلے کے آگے جھکنا ہے جو مصالحت کرانے والوں نے دونوں فریقوں کے سامنے رکھا ہو۔ سو اس کے آگے جھکنے سے گریز و فرار ایسے ہی متصور ہوگا جیسے اللہ کے حکم سے گریز و فرار ہوتا ہے کہ اس مصالحت کا حکم اللہ ہی نے دیا ہے۔ اس لئے اس کی حیثیت امر اللہ ہی کی ہوگی۔ پس جب تک وہ باغی اور زیادتی کرنیوالا گروہ اللہ کے حکم کے آگے جھکنے اور زیادتی کو ترک کرنے کیلئے تیار نہ ہو تو تم اس کے خلاف لڑو۔ تاکہ معاشرہ ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنے والے عناصر اور ان کی ظلم و زیادتی سے پاک ہوجائے۔ اور اس میں امن وامان کا دور دورہ ہو اور یہ ایک اجتماعی اور معاشرتی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا اس میں ہر شخص کو اپنی ہمت اور حیثیت کے مطابق حصہ لینا چاہئے۔ [ 25] فیصلہ عدل وانصاف کے تقاضوں کے مطابق : سو اس سے عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر وہ باغی گروہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے اور صلح و صفائی کے لیے آمادہ اور تیار ہوجائے تو تم ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرا دو عدل و انصاف کے ساتھ "۔ اور کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ تم غصے اور لڑائی یا کسی اور امر کی وجہ سے عدل و انصاف کی راہ سے ہٹ جاؤ اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دو ۔ [ جامع البیان وغیرہ ] سو عدل و انصاف ہر حال میں مطلوب ہے۔ اور پائیدار حکم و فیصلہ وہی ہوسکتا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو کہ اس میں نہ کسی فریق کی کوئی رورعایت ہو اور نہ کسی سے کسی طرح کی زیادتی۔ اور جس فریق کا نقصان ہوا ہو اس کے نقصان کی تلافی ٹھیک ٹھیک عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق کردی جائے کہ عدل و انصاف کے تقاضوں کی تکمیل ہی سے معاشرے میں امن قائم ہوسکتا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، [ 26] عدل وانصاف سے کام لینے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور عدل و انصاف کا صریح حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ عدل و انصاف ہی سے کام لیا کرو "۔ یعنی ہر حال اور ہر معاملے میں۔ اور ہر کسی کے ساتھ۔ کیونکہ عدل و انصاف بہرحال مطلوب و محمود اور ایک عظیم الشان صفت ہے۔ چناچہ حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انصاف کرنے والے قیامت کے روز عرش کی دائیں طرف نور کے منبروں پر ہوں گے۔ وہ جو کہ دنیا میں اپنے حکم و فیصلے میں عدل و انصاف سے کام لیتے تھے۔ اور اپنے متعلقین اور ماتحتوں میں انصاف کیا کرتے تھے [ ابن کثیر وحیرہ ] سو [ اقسطوا ] کے اس حکم و ارشاد سے عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے کہ نہ اس میں کسی کی کوئی بےجا رورعایت ہو اور نہ کسی سے ظلم و زیادتی ہو۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال، [ 27] انصاف کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور حرف تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ محبت فرماتا ہے انصاف کرنے والوں سے " اس لئے وہ ان کو بہترین صلہ و بدلہ سے نوازے گا۔ { اللّٰہم ایاک نسال التوفیق لما تحب وترضی }۔ سو اس سے عدل و انصاف کے قیام کی اہمیت اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی عظمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اول تو صاف وصریح طور پر عدل و انصاف کے قائم کرنے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا، پھر اس حقیقت سے آگہی بخشی گئی کہ عدل و انصاف کے قائم کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی محبت نصیب ہوتی ہے۔ اور جس کو اللہ تعالیٰ کی محبت نصیب ہوگئی اس کو پھر اور کیا چاہیے ؟ کہ ایسے میں اس طرح کا خوش نصیب انسان تو اس پوری کائنات کے خالق ومالک کا محبوب بن گیا۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

سوائے اس کے نہیں کہ ایمان والے آپس میں بھائی ہیں پس (اختلاف کی صورت میں) تم صلح کرا دیا کرو اپنے دونوں بھائیوں کے درمیان اور (ہر حال میں) ڈرتے رہا کرو تم لوگ اللہ سے (اور بچتے رہا کرو اس کی نافرمانی سے) تاکہ تم پر رحم کیا جائے

[ 28] ایمان والے آپس میں بھائی بھائی : سو ارشاد فرمایا گیا اور " انما " کے کلمہ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ دینی و ایمانی اخوت کی بنا پر۔ جو کہ نسبی اخوت سے بھی کہیں بڑھ کر بڑی چیز اور قوی رشتہ ہے۔ پس اسلام گویا بمنزلہ باپ کے ہے اور سب مسلمان بمنزلہ اس کی اولاد کے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے کہ " جب لوگ قیس و تمیم۔ اپنے آباؤ واجداد۔ پر فخر کریں گے تو میں صرف اسلام پر فخر کروں گا کہ وہی میرا باپ ہے۔ اس کے سوا میرا کوئی باپ نہیں "۔ ابی الاسلام لا اب لی سواہ۔ اذا افتخروا بقیس اوتمیم۔ سو اخوت اسلامی بہت بڑی چیز ہے اور یہ رشتہ بڑا ہی مبارک و مسعود رشتہ ہے جو دوسرے سب رشتوں پر فائق ہے۔ اسکا ہمیشہ پاس ولحاظ کرنا چاہیے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، [ 29] اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرانے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اختلاف و نزاع کی صورت میں تم لوگ صلح کرا دیا کرو اپنے بھائیوں کے درمیان "۔ اور فریقین میں صلح صفائی کے دوران عدل و انصاف سے کام لیا کرو۔ نہ کہ کسی طرح کی جانبداری سے۔ اور یہاں پر [ بینھم ] کی بجائے [ بین اخویکم ] فرما کر اس کی مزید تاکید فرما دی گئی کہ وہ دونوں تمہارے بھائی ہیں اور جب تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ان کے درمیان کسی نزاع کا پیدا ہونا ہی اول تو ان کی باہمی اخوت کے منافی اور دینی تقاضوں کے خلاف ہے۔ لیکن اگر کبھی کسی شیطانی انگیخت سے ایسا ہوجائے تو مسلمانوں کو ان کے درمیان مصالحت کروا دینی چاہئے۔ یہ تمہاری دینی اور ایمانی اخوت کا تقاضا ہے۔ اور اسی میں تمہارے لیے بھلا اور بہتری ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، کہ اسی سے معاشرتی بگاڑ سے حفاظت ہوگی اور تم لوگوں کو امن و سلامتی کی برکتوں بھری فضا نصیب ہوگی۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، [ 30] تقویٰ وسیلہء سعادت و سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقویٰ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں سے سرفرازی کا ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور تم لوگ ہمیشہ ڈرتے رہا کرو اللہ سے تاکہ تم پر رحم کیا جائے "۔ سو تقویٰ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور رحم فرمانے کی اس عنایت کو یہاں پر اور اسی طرح اس جیسے دوسرے مقامات پر بھی حرف ترجی یعنی " لعل " کے ساتھ تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جو " شاید " اور " امید " کے معنی میں آتا ہے۔ سو اللہ پاک کے کلام میں اس کے استعمال کے دو پہلو اور وہ اعتبار ہیں۔ ایک یہ کہ یہ شاہانہ کلام کا ایک خاص اسلوب و انداز ہوتا ہے، جو کہ شاہی وعدہ کیلئے ایک مشہور و معروف انداز ہے۔ پس کوئی بادشاہ اگر اس طرح کے الفاظ اپنے کلام میں استعمال کرے تو اس کے معنی یقین و وجوب دہی کے ہوتے ہیں۔ اور یہاں تو معاملہ بادشاہوں کے بادشاہ اور شہنشاہ حقیقی حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کے کلام کا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اسلئے حضرات علمائے کرام کا کہنا ہے کہ " لعل من اللّٰہ للوجوب " کہ " اللہ پاک کے کلام میں لفظ [ لعل ] کا استعمال یقین و وجوب کیلئے ہوتا ہے "۔ یعنی ایسا ضرور ہوگا اور ہو کر رہے گا۔ جبکہ اس میں دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ پاک کا وعدہ تو یقینا سچا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا تقویٰ اس قابل ہے اور اس معیار پر پورا اتر سکتا ہے کہ اس ذات اقدس و اعلیٰ کے حضور شرف قبولیت سے مشرف ہوسکے ؟ سو [ لعل ] کے کلمہ ترجیّ کے استعمال میں ہمارے لیے یہ اہم درس بھی ہے کہ اپنے عمل کو اس قابل بنانے کی فکر و سعی کرتے رہنا چاہیے کہ وہ حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کے حضور شرف قبولیت پاس کے اور ہر شائبہ شرک و ریاکاری سے پاک و صاف ہو۔ اپنی نیت اور ارادے کو بھی درست رکھا جائے اور اپنے عمل و کردار کو بھی۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وھو الھادی الی سواء السبیل جل جلالہٗ وعم نوالہٗ فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔