Al-Hujuraat 49:8

Al-Hujuraat · from ayah 8

49:8

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعْمَةً ؕ— وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ۟فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً  ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ

(یعنی) خدا کے فضل اور احسان سے۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[It is] as bounty from Allah and favor. And Allah is Knowing and Wise.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hujuraat

All translations of 49:8

ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل و احسان سے راست رو ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) خدا کے فضل اور احسان سے۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ کے احسان وانعام سے اور اللہ دانا اور باحکمت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کا نتیجہ ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ کا فضل اور احسان، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ) اﷲ کے فضل اور (اس کی) نعمت (یعنی تم میں رسولِ اُمّی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور موجودگی) کے باعث ہے، اور اﷲ خوب جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کی وجہ سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اور یہ) اللہ کا فضل اور اس کا احسان ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہی لوگ ہیں جو اللہ کے فضل و انعام سے راہ راست پانے والے بنے۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

محض اللہ کے فضل اور اس کے احسان سے اور اللہ سب کچھ جانتا نہایت حکمت والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ کے فضل اور انعام سے۔ اور اللہ خوب جاننے والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ کی طرف سے بہت بڑے فضل اور انعام کی بنا پر۔ اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا کمال حکمت والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ سب سے زیادہ جاننے والا اور دانائی والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

by Allah's favour and bounty. Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

as a grace from Allah, and as a blessing. And Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

as a grace from Allah, and as a blessing. And Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

This is a grace from Allah and His favor. And Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(It is) a bounty and a grace from Allah; and Allah is Knower, Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[It is] as bounty from Allah and favor. And Allah is Knowing and Wise.

— Saheeh International

as a favor and a blessing from God. God is All-knowing and All-wise.

— Muhammad Sarwar

By grace from Allah and as a favor; and Allah is Knowing, Wise.

— Muhammad Habib Shakir

Through grace from Allah and His favour; and Allah is Knowing, Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

A Grace and Favour from Allah; and Allah is full of Knowledge and Wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 49:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–8

فاسق کی خبر پر اعتماد نہ کرو اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ فاسق کی خبر کا اعتماد نہ کرو جب تک پوری تحقیق و تفتیش سے اصل واقعہ صاف طور پر معلوم نہ ہوجائے کوئی حرکت نہ کرو ممکن ہے کہ کسی فاسق شخص نے کوئی جھوٹی بات کہہ دی ہو یا خود اس سے غلطی ہوئی ہو اور تم اس کی خبر کے مطابق کوئی کام کر گذرو تو اصل اس کی پیروی ہوگی اور مفسد لوگوں کی پیروی حرام ہے اسی آیت کو دلیل بنا کر بعض محدثین کرام نے اس شخص کی روایت کو بھی غیر معتبر بتایا ہے جس کا حال نہ معلوم ہو اس لئے کہ بہت ممکن ہے یہ شخص فی الواقع فاسق ہو گو بعض لوگوں نے ایسے مجہول الحال راویوں کی روایت لی بھی ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں فاسق کی خبر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحُجُرٰت 10 مطلب یہ ہے کہ پوری جماعت مومنین اس غلطی کی مرتکب نہیں ہوئی جس کا صدور ان چند لوگوں سے ہوا جو اپنی خام رائے پر رسول اللہ ﷺ کو چلانا چاہتے تھے۔ اور جماعت مومنین کے راہ راست پر قائم رہنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فضل و احسان سے ایمان کی روش کو ان کے لیے محبوب و دل پسند بنادیا ہے اور کفر و فسق اور نافرمانی کی روش سے انہیں متنفر کردیا ہے۔ اس آیت کے دو حصوں میں روئے سخن دو الگ الگ گرہوں کی طرف ہے۔ لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ کا خطاب پوری جماعت صحابہ سے نہیں بلکہ ان خاص اصحاب سے ہے جو بنی المصطلق پر چڑھائی کردینے کے لیے اصرار کر رہے تھے۔ اور وَلٰکِنَّ اللہَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

خلاصہ تفسیر اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ ﷺ تشریف فرما) ہیں (جو خدا کی بڑی نعمت ہیں کما قال تعالیٰ (آیت) لقد من اللہ الخ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ کسی بات میں تم آپ کے خلاف مت کرو گو دنیوی ہی کیوں نہ ہو اور اس فکر میں مت پڑو کہ امور دنیویہ میں خود حضور ہماری رائے کی موافقت فرمایا کریں کیونکہ) بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ اس میں تمہارا کہنا مانا کریں تو تم کو بڑی مضرت پہنچے (کیونکہ وہ مصلحت کے خلاف ہو تو ضرور اس کے موافق عمل کرنے میں مضرت ہو بخلاف اس کے کہ آپ کی رائے پر عمل کیا جائے کیونکہ امر دنیوی ہونے کے باوجود اس میں خلاف مصلحت ہونے کا احتمال گو فی نفسہ مستبعد اور خلاف شان نبوت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–8

واعلموآ ان فیکم رسول اللہ لو یطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم ولکن اللہ جب الیکم الایمان وزینہ فی قلوبکم وکرہ الیکم الکفروا الفسوق و العصیان اولٓئک ھم الرشدون، فضلاً من اللہ و نعمۃ ط واللہ علیم حکیم (8-7) صحیح رویہ یہ اسی تنبیہ کی مزید توکید ہے کہ جب تمہارے اندر اللہ کا رسول موجود ہے تو تمہیں اپنی رایوں اور اپنے مشوروں کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہئے کہ رسول کو اپنے پیچھے چلان ی کی کوشش کرو بلکہ تمہیں ان کے پیچھے چلنا ہے۔ وہ جو قدم بھی اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں اٹھاتے ہیں اس وجہ سے تمہاری دنیا اور آخرت کی فلاح ان کی پیروی میں ہے نہ کہ اپنے جذبات کی پیروی میں، اگر تمہیں کوئی رائے پیش…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 یہ آیت میں بھی صحابہ کرام کی فضیلت، ان کے ایمان اور ان کے رشد و ہدایت پر ہونے کی واضح دلیل ہے ولو کرہ الکافرون۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–10

4: سورت کے شروع میں جو حکم دیا گیا تھا، اور جس کی تشریح اوپر حاشیہ نمبر 1 میں گذری ہے، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ صحابہ کرام کبھی کوئی رائے ہی پیش نہ کریں، بلکہ رائے قائم کر کے اس پر اصرار سے منع فرمایا گیا تھا، اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ مناسب موقع پر کوئی رائے دینے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیه وسلم کے لیے ضروری نہیں ہے کہ تمہاری ہر رائے پر عمل ضرور کریں، بلکہ آپ مصلحت کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے، اور اگر وہ تمہاری رائے کے خلاف ہو، تب بھی تمہیں اس پر راضی رہنا چاہیے، کیونکہ تمہاری ہر بات پر عمل کرنے سے خود تمہیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جیسا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–8

واعلموا ان فیکم رسول اللہ (49 : 7) “ خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے ”۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضور ﷺ اس وقت موجود تھے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ ایک عظیم حقیقت ہے ۔ کیا کوئی یہ بات تصور کرسکتا ہے کہ آسمان کا زمین کے ساتھ دائمی رابطہ ہوجائے اور یہ رابطہ ہر وقت بحال رہے اور لوگوں کو نظر آئے۔ اور ہم یہ کہیں کہ ارادۂ الٰہی اہل زمین کے لئے متوجہ ہے ۔ لوگوں کو ان کے حالات بتائے جارہے ہیں۔ ان کی خفیہ باتیں ان کو بتائی جارہی ہیں۔ ان کی ظاہری باتوں سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے اور ان کی غلطیوں کو فوراً درست کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنے دل کی بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی اگر تم یہ چاہتے ہو کہ پیغمبر (علیہ السلام) تمہاری ہر بات مانا کریں تو بڑی مشکل ہوئی لیکن اللہ کا شکر کرو کہ اس نے اپنے فضل و احسان سے مومنین قانتین کے دلوں میں ایمان کو محبوب بنادیا۔ اور کفر و معصیت کی نفرت ڈال دی جس سے وہ ایسی بیہودگی کے پاس بھی نہیں جاسکتے۔ جس مجمع میں اللہ کا رسول جلوہ افروز ہو وہاں کسی کی رائے و خواہش کی پیروی کہاں ہوسکتی ہے۔ آج گو حضور ﷺ ہمارے درمیان میں نہیں مگر حضور ﷺ کی تعلیم اور آپ کے وارثو نائب یقینا موجود ہیں اور رہیں گے۔ 5 یعنی وہ سب کی استعداد کو جانتا ہے اور ہر ایک کو اپنی حکمت سے وہ احوال و مقامات مرحمت فرماتا ہے جو اس کی استعداد کے مناسب ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 { فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَنِعْمَۃً } ”اللہ کی طرف سے بہت بڑے فضل اور انعام کی بنا پر۔“ { وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ} ”اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ‘ کمال حکمت والا ہے۔“ اس کے بعد اب دوسرا حکم دیا جا رہا ہے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

8 اپنی خواہش کو حق کے پیچھے چلانے کی ادا سیکھو :۔ یعنی تم لوگوں کے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے۔ ایسی خبریں تم ان تک پہنچا دو اور خود رائے زنی نہ کرنے لگ جاؤ۔ بلکہ ان کے پیچھے پیچھے چلو جو وہ کہیں اسے تسلیم کرو۔ اگر وہ تمہارا مشورہ قبول نہیں کرتے تو اس کا برا نہ مانو۔ اگر وہ تم سب کے مشورے اور آراء قبول کرنے لگیں تو تمہاری بھی آراء آپس میں مختلف اور متضاد ہوتی ہیں۔ اس صورت میں تو تم پر اور کئی مصیبتیں پڑجائیں گی۔ لہذا حق کو اپنی خواہشات کے پیچھے نہ چلاؤ۔ بلکہ اپنی خواہشات اور آراء کو حق کے تابع کردینے کی ادا سیکھو۔ 9 تم پر یہ اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ تمہیں کفر اور اللہ اور اس کے رسول کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ (اور ایسے ہی خلفاء، خلفاء راشدین کہلانے کے مستحق ہیں) (آیت) ” ولکن ..... نعمۃ “۔ یعنی تم میں تو یہ ساری خوبیاں موجود ہیں، اور انہیں کے تقاضہ سے تمہیں ہر وقت رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی رہتی ہے اور یہی تمہیں بڑی مصیبتوں سے بچائے رکھتی ہے۔ اور یہ سراسر اللہ ہی کے فضل وکرم کا نتیجہ تو ہے۔ ساری آیت ایک قرآنی مدح صحابہ ہے۔ (آیت) ” الایمان “۔ ایمان۔ سے اس سیاق میں مراد ایمان کامل ہے۔ (آیت) ” الفسوق “۔ یعنی بڑے گناہ۔ (آیت) ” العصیان “۔ یعنی چھوٹے گناہ۔ 10۔ چناچہ اپنے اس علم کامل و محیط کی بناء پر وہی ہر ہر حکم کی حکمتوں اور مصلحتوں کو بھی خوب جانتا ہے اور اپنی صفت حکمت کاملہ ہی کے تقاضہ سے اس نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–8

واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم (آلایۃ) اس سے پہلے آیت میں حضرت ولید بن عقبہ اور بنو مصطلق کا واقعہ مذکور تھا، جس میں ولید بن عقبہ ؓ نے یہ خبر دیدی تھی کہ بنی مصطلق مرتد ہوگئے اور زکوۃ دینے سے بھی انکار کردیا، اس پر صحابہ کرام میں بھی اشعتال پیدا ہوا، ان کی رائے یہ تھی کہ ان لوگوں پر جہاد کے لئے مجاہدین کو بھیج دیا جائے، مگر آنحضرت ﷺ نے ولید بن عقبہ کی خبر کو قرآئن قویہ کی وجہ سے خلاف واقعہ سمجھ کر قبول نہ کیا اور تحقیقات کے لئے حضرت خالد بن ولید کو مامور ﷺ نے ولید بن عقبہ کی خبر کو قرآئن قویہ کی وجہ سے خلاف واقعہ سمجھ کر قبول نہ کیا اور تحقیقات کے لئے حضرت خالد بن ولید کو مامور فرمایا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ایسے ہی صفات والے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعام سے سیدھے راستے پر ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی بزرگی کو جاننے والا اور حکمت والا ہے کہ اس نے ایمان کامل تمہیں عطا کیا اور کفر و فسوق اور عصیان سے تمہارے دلوں میں نفرت پیدا کردی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فضلاً من اللہ ونعمۃ : یہ ”الرشدون“ کا مفعول لہ ہے، یعنی یہ لوگ اللہ کے فضل اور اس کی نعمت کی وجہ سے کامل ہدایت والے ہیں۔ یہ ”حبب“ اور ”کرہ“ کا مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے۔ (2) واللہ علیکم حکیم : یعنی اللہ تعالیٰ نے اندھا دھند نہیں بلکہ اپنے کمال علم و حکمت کی بنا پر انہیں اپنے نبی ﷺ کی صحبت کے لئے منتخب فرمایا۔ ان کے دلوں میں ایمان کو محبوب و مزین کردیا، کفر و فسوق اور عصیان کو ناپسندیدہ بنادیا اور انہیں راہ راست پر گامزن فرما دیا، کیونکہ وہ ان کی استعداد و اہلیت پوری طرح جانتا تھا اور سا کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ انہیں اس مقام پر فائز فرمائے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–8

جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول ہے تو تم اس کو نہ جھٹلائو اللہ تعالیٰ اسے تمہاری خبریں بتا دے گا۔ کہ تم ذلیل و رسوا ہو جائو گے اگر معاملہ ظاہر ہونے سے پہلے اس امر کی طرف جلدی کرے جس کا تم ارادہ کرو تو تمہارے لئے اس میں مشقت اور گناہ ہوگا کیونکہ اگر آپ اس قوم کو قتل کریں جس کی چغلی ولید بن عقبہ نے کھائی ہے تو وہ خطا ہوگی جو آدمی باہمی دشمنی کی وجہ سے انہیں ہلاک کرنے کا ارادہ کرنے کا ارادہ کرتا تو وہ گناہ گار ہوتا رسول اللہ ﷺ کی ان کی اطاعت سے مراد یہ ہے کہ آپ ان کی وہ بات مان لیں جو وہ لوگوں کے بارے میں آپ کو پہنچاتے ہیں یا ان سے سنتے ہیں عنت کا معنی گناہ ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے عنت الرحجل آدمی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–8

اماقولہ تعالیٰ : (آیت ) ” واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم “ 12:۔ عبد بن حمید والترمذی (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے ابو نصرہ (رح) سے روایت کیا کہ ابوسعید خدری ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم “ (اور جان رکھو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں اگر وہ اس میں تمہارا کہا جانا کریں تو تم کو بڑی مضرت پہنچ جائے) فرمایا یہ تمہارے نبی ہیں کہ ان کی طرف وحی کی جاتی ہے اور تم تمام امتوں میں افضل ہوتی ہو اور اگر وہ انکی بات مان لیں بہت کاموں میں تو وہ مشقت میں پڑجائیں تو آج تمہارے لئے کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ 13:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ [ فضل ہوتے ہوئے اللہ (کی طرف) سے ] وَنِعْمَةً ۭ [اور نعمت ہوتے ہوئے ] وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ [ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–8

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و انعام سے تمہارے دلوں میں ایمان کو مزین فرما دیا اور کفر و فسوق اور عصیان کو مکروہ بنا دیا ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے امت مسلمہ کو اپنا ایک بہت بڑا انعام یاد دلایا اور فرمایا کہ دیکھو تمہارے اندر اللہ کا رسول موجود ہے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ تمہارے اندر اپنے رسول کو مبعوث فرما دیا وھذا کقولہ تعالیٰ ﴿ لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ ﴾ دوسری بات یہ بتائی کہ ہمارا رسول جو عمل کرتا ہے اور تمہیں جو حکم دیتا ہے اس میں ان کی اپنی مصلحت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی مدد بھی ہوتی ہے بعض مواقع میں تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–8

تنبیہ وتہدید بر بےتمیزی وبیحرمتی دربارگاہ رسالت وتلقین آداب تعظیم و اطاعت : (ربط) گذشتہ آیات میں ان حقوق وآداب کا ذکر تھا جو رسول ﷺ کی ذات اقدس کے لیے امت پر عائد اور فرض ہیں اور ان حقوق میں کوتاہی پر وعید وتنبیہ تھی اور یہ کہ یہ ایسی خطرناک تقصیر وغلطی ہے کہ مسلمان سرمایہ اعمال سے ہی محروم ہوسکتا ہے، جو اس نے اپنی زندگی میں کمایا تو اب ان آیات میں بعض ایسی گستاخیوں اور بےتمیزیوں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جو جہلاء اور کم عقل لوگوں سے پیش آتی تھیں اور اس پر تنبیہ کی گئی اور یہ بتایا جارہا ہے کہ پیغمبر خدا ﷺ کو مخاطب بنانے اور آپ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر بات کرنے کا کیا طریقہ ہے ادب اور تعظیم و…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

ٖف 7:۔ ” واعلموا ان فیکم “ یہ پہلے قانون سے متعلق ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت نہ کرو۔ آپ پر تمہاری اطاعت ضروری نہیں، بلکہ تم پر آپ کی اطاعت لازم و فرض ہے۔ اگر پیغمبر (علیہ السلام) تم میں سے ہر ایک کے مشورے پر عمل کرنے لگیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے بعض خلاف صواب مشوروں پر عمل کرنے کی وجہ سے تم کئی مشقتوں میں پڑجاؤ گے۔ تم میں اللہ کا رسول موجود ہے اس لیے تم آپ کے احکام کی پیروی کرو اور اپنی ہر بات منوانے پر زور نہ دو ۔ جب آنحضرت ﷺ کو بنی مصطلق کے ارتداد کی خبر ملی جو خلاف واقع تھی۔ اس وقت بہت سے صحابہ ؓ نے یہ رائے دی کہ فورًا ان پر چڑھا کرنی چاہئے، لیکن آپ نے پہلے کشف حقیقت اور تحقیق…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–8

ربط آیات مسلمانوں کی جماعتی اور اجتماعی زندگی کو درست رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں بڑے اہم ضوابط بیان کیے ہیں ۔ پہلا ضابطہ یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے آگے نہ بڑھو اور دوسرا یہ کہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یعنی تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ نے تیسرا ضابطہ یہ دیا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی آواز سے اپنی آواز کو بلند نہ کرو اور آپ کے جانشینوں کے ساتھ بھی اسی ادب و احترام کا سلوک کرو ، گویا کہ جب تم نبی سے گفتگو کرو تو اپنی آواز کو پست رکھو اور اس طرح کڑک کر نہ بولو جس طرح آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بلند آواز سے گفتگو رتے ہو ۔ اگر ایسا کرو گے تو تمہارے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَنِعْمَۃً۝ 0 ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۝ 8 فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–10

ترکیب : ان تصیبوا مفعول لہ ای خشیۃ ذلک بجہالۃ حال من الفاعل ای جاھلین۔ لویطیعکم مستانف ویجوزان یکون فی موضع الحال و العامل فیہ الاستقرار کقولک مررت برجل لوکلمۃ کلمنی فکما جاز و قوعہ صفۃ للنکرۃ جاز وقوعہ حالا فضلا مفعول لہ طائفتان فاعل فعل محذوف اخویکم بالتثنیۃ والجمع الاخوۃ جمع الاخ۔ چوتھا حکم : یا ایہا الذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنبافتبینوا کہ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لاوے تو جانچ لیا کرو یہ نہیں کہ جو کسی سے سنا یقین کرلیا اور اس پر کاربند ہوگئے کیونکہ ایسی صورتوں میں باہم لڑانے کے لیے بہت سے جھوٹے افسانے غماز بنا لایا کرتے ہیں ان پر باور کر کے کسی سے لڑ پڑے یا رنجیدہ ہو کر ان کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ط لَوْیُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْـکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ ط اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الرّٰشِدُوْنَ ۔ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَنِعْمَۃً ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (الحجرات : 7، 8) (اور خوب جان لو کہ تم میں اللہ تعالیٰ کے رسول موجود ہیں، اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم پر مشکل پڑے مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی، اور اس کو تمہارے دلوں میں مزین کردیا اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–8

فہم القرآن ربط کلام : نبی محترم ﷺ کے احترام کا یہ بھی تقاضا ہے کہ جب مسلمانوں میں کوئی بدگمانی یا افواہ پھیل جائے تو اسے نبی ﷺ کے سامنے پیش کریں تاکہ اس کا بروقت تدارک ہوسکے۔ نبی ﷺ کے بعد مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ہر چیز کی تصدیق کرلیا کریں۔ اس آیت کے شان نزول میں بعض مفسرین نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کا واقعہ نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ ٹھیک نہیں، بہرحال بنیادی اصول یہ ہے کہ جب کوئی فاسق یا غیر ذمہ دار شخص کسی مسلمان کے بارے میں بدگمانی پیدا کرے یا کوئی ملک و ملت کے خلاف افواہ اڑائے تو ہر حال میں اس کی تحقیق کرلینی چاہیے تاکہ مسلمان اس کے نقصان اور پریشانی سے محفوظ رہیں۔ اس اصول کے پیش نظر ایک دفعہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 8 : فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَنِعْمَۃً (اللہ تعالیٰ کے فضل و انعام سے) فضل و نعمت۔ افضال و انعام کے معنی میں ہیں۔ نحو : یہ مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ حبب و کرہ للفضل والنعمۃ اس افضال و انعام کے لئے ایمان محبوب بنایا اور کفر و فسق و عصیان کو مبغوض بنایا ہے۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ (اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے) ایمان والوں کے حالات اور ان کے باہمی تفاضل و امتیاز کو جانتا ہے۔ حَکِیْمٌ (حکمت والا ہے) جبکہ وہ افاضل پر اپنی توفیق سے فضل و انعام کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” واعلموا ان فیکم رسول اللہ “ پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اس سے کہ تم باطل بات یا جھوٹ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو خبر دے دیں گے اور وہ تمہارے احوال پہچان جائیں گے۔ پس تم رسوا ہوجائو گے۔ ” لو یطیعکم “ یعنی رسول اللہ ﷺ ” فی کثیر من الامر “ جن کی تم ان کو خبر دیتے ہو۔ پس تمہاری رائے پر فیصلہ کردیں۔ ” لعنتم “ تم گناہگار ہوجائو اور ہلاک ہوجائو، لعنت گناہ اور ہلاک ہونا۔ ” ولکن اللہ حبب الیکم الایمان “ پس اس کو تمہاری طرف تمام ادیان سے زیادہ محبوب کردیا۔ ” وزینہ “ کو اچھا کردیا۔ ” فی قلوبکم “ حتی کہ تم نے اس کو اختیار کیا اور تم نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی ہے۔ ” وکرہ الیکم الکفر والفسوق “ ابن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–8

7۔ 8۔ معتبر سند سے ترمذی 3 ؎ میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابو سعید ؓ خدری اس آیت کو پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت کی حیات کے زمانہ میں اعلیٰ درجہ کے صحابہ کو ملا کر اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اگر اللہ کے رسول تم لوگوں کے کہنے پر چلیں گے بڑی خرابی آجائے اب تو وہ اعلیٰ درجہ کے صحابہ بھی نہ رہے آج کل کے لوگ اگر خواہ مخواہ کلام رسول کو اپنی مرضی کے مطابق کرنا چاہیں تو خرابی در خرابی ہے حضرت ابو سعید ؓ خدری نے پایا ہے اس زمانہ میں ان کا کلام رسول کی مخالفت یا بےتوقیری کی نسبت وہ خیال تھا حال زمانہ میں جو صحابہ کا زمانہ ہے نہ تابعیوں کا نہ تبع تابعیوں کا اس زمانہ میں جو کلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–8

تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ تمہارے اندر موجود ہیں وہ ایسے رسول ہیں، جو صاحب کرم، نیک طینت اور راہ راست دکھانے والے ہیں، جو تمہاری بھلائی چاہتے ہیں اور تمہارے خیر خواہ ہیں جبکہ تم اپنے لئے شر اور ضرر چاہتے ہو، جس پر رسول تمہاری موافقت نہیں کرسکتے۔ اگر رسول ﷺ بہت سے معاملات میں تمہاری اطاعت کرنے لگے تو تم مشقت میں پر جاؤ گے اور ہلاکت میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ مگر رسول اللہ ﷺ تمہیں رشدو ہدایت کی راہ دکھاتے ہیں، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ایمان کو محبوب بناتا ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں مزین کرتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں حق کی محبت اور اس کی ترجیح و دیعت کی ہے، اس نے حق پر جو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–8

فاسق کی دی ہوئی خبر کا حکم قول باری ہے (یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالۃ۔ اے ایمان لانے والو ! اگر فاسق شخص تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تم تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ کہیں تم نادانی سے کسی قوم کو ضرر پہنچادو) تا آخر آیت۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی۔ انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے ولید ؓ بن عقبہ کو بنو المصطلق کی طرف بھیجا۔ ولید ؓ ان کے پاس پہنچے تو وہ لوگ انہیں خوش آمدید کہنے کے لئے باہر نکل آئے۔ یہ دیکھ کر ولید ؓ ڈر گئے اور واپس حضور ﷺ کے پاس آگئے اور آکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 19] نور حق و ہدایت اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " محض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اس کے احسان سے "۔ یعنی یہ بخشش و عطا محض اس کا کرم و احسان ہے نہ کہ کسی کا اس پر کوئی حق کہ نوازنا اور کرم و احسان فرمانا اس کی شان ہے۔ جل و علا۔ البتہ وہ اس سے نوازتا انہی کو ہے جو اس کے اہل ہوتے ہیں اور اس کیلئے طلب صادق رکھتے ہیں۔ پس یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا انعام و احسان ہے جو اس نے ان اصحاب صدق و صفا پر فرمایا جس سے ان کے دل ایمان کے نور سے منور اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–8

صحابہ کرام کے ایمان کی گواہی تشریح : ان آیات کا تعلق بھی تھوڑا سا قبیلہ بنی المصطلق کے واقعہ سے ہے۔ جب صحابہ نے نبی کریم ﷺ کو فوج کشی کا مشورہ دیا تو رب الاعلیٰ نے فرمایا کہ تم اچھی طرح سوچ لو کہ نبی اکرم ﷺ ہر لحاظ سے تم سے زیادہ محترم، کامل اور معاملہ فہم ہیں اس لیے تم لوگ ان کو کسی بھی فیصلہ پر مجبور نہ کرو۔ کیونکہ اب اگر تمہارے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے فوجی اقدام کرلیا جاتا تو تم سب کو کس قدر مشکلات، نقصان اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ؟ پھر ان صحابہ کرام کا ذکر ہے کہ جنہوں نے اس مشورہ دینے میں حصہ نہ لیا تھا۔ ان کی تعریف میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔ کہ صحابہ کرام جن کے دل ایمان و یقین سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ نیز اصلاح عالم کی جہاد کی غرض یہی ہے کہ پہلے اصلاح نفس کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ادب واحترام نبوی پر ہے چہ جائیکہ کوئی اطاعت وغلامی میں پس وپیش کرے۔ حد ادب یہ ہے کہ کبھی کسی کام میں یا کسی بات میں رسول اللہ پر سبقت نہ کیا کرو کہ یہ ایسے ہے جیسے اللہ کی ذات پر کسی نے سبقت کی کہ آپ کا ارشاد ہی اللہ کا ارشاد ہے اور اس معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے ۔ اصلاح نفس کی بنیاد ادب ہے بارگاہ نبوی میں اس کی ضرورت قرآن نے بتادی علماء مشائخ وارث نبوت ہو کر ادب کے مستحق ہیں۔ نیز اپنی آواز کو پست رکھا کرو اور کبھی بھی نبی کریم کی آواز سے بلندآواز میں بات نہ کرو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–9

ف 7 یعنی دونوں کو سمجھائو اور حق بات ماننے کے لئے کہو۔ یہ خطاب ان مسلمانوں سے ہے جو دونوں گروہوں میں شامل نہ ہوں۔ صحیحین میں حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت ایک مرتبہ ایک گدھے پر سوار ہو کر انصار کی ایک مجلس میں گئے جس میں عبداللہ بن ابی منافق بھی تھا۔ وہ بدبخت کہنے لگا ذرا ہٹ کر بیٹھو مجھے تمہارے گدننے کی بدبو سے تکلف ہو رہی ہے۔ ای کا نصاری کہنے لگا ” خ دا کی قسم ! آنحضرت کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے۔ عبداللہ یہ سن کر غصہ میں آگیا اور دونوں طرف کے لوگ جھڑپوں، جوتوں اور گھونسوں سے باہم مار پٹائی کرنے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (شوکانی) یہ حدیث مختلف الفاظ اور سیاق کے ساتھ کتب حدیث میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(49:8) فضلا من اللّٰہ ونعمۃ : فضلا و نعمۃ مفعول لہ ہیں حبب، زین ، کرہ کے۔ یعنی اللہ کی طرف سے تجیب، تزئین، تکریہہ ، اس کے فضل اور نعمت کے لئے تھی۔ یعنی فضل و نعمت کی وجہ سے تھی۔ بیضاوی لکھتے ہیں :۔ فضلا من اللّٰہ ونعمۃ تعلیل لکرہ او حبب وما بینھما اعتراض۔ فضلا من اللّٰہ ونعمتۃ تعلیل ہے کرہ کی یا حبب کی اور دونوں کے مابین جملہ معترضہ ہے۔ واللّٰہ علیہ حکیم : اور اللہ مؤمنین کے احوال کو خوب جانتا ہے اور حکیم مسلمانوں پر فضل و انعام (کا مصلحت شناس ہے) بتوفیق اسباب کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 6–8

لغار القرآن آیت نمبر ( 6 تا 8) ۔ نبا (خبر) ۔ تبینو ا (چھان بین کرلیا کرو) ۔ ان تصیبوا (یہ کہ تم پہنچ جاؤ۔ یہ کہ تم جا پڑو) ۔ جھالتہ (نادانی۔ ناوقفیت) ۔ فعلتم (تم نے کیا) ۔ لعنتم (البتہ تم مصیبت میں پڑجاتے) ۔ حبب (محبوب بنا دیا۔ محبت ڈال دی) ۔ زینہ (اس کو خوبصورت بنادیا) ۔ کرہ (نفرت ڈال دی) ۔ الفسوق (گناہ۔ نافرمانی) ۔ العصیان (نافرمانی) ۔ راشدون (راہ پائے ہوئے) ۔ تشریح : آیت نمبر (6 تا 8) ۔ ” عام آدمی کی لغزش، غلطی اور نافرمانی کو گناہ اور فسق کہا جاتا ہے لیکن بعض ایسی با عظمت اور اہم شخصیات جو دوسروں کے لئے نمونہ ہوتی ہیں ان کی ممولی سی بات لغزش اور بھول بھی بڑی بات سمجھی جاتی ہے اور ان کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–8

(ف 1) اے مسلمانو۔ یہ خوب سمجھ لو کہ تم کو خوئی کوئی امر طے کرلینے کا اختیار نہیں تم میں خدا کے رسول موجود ہیں، تم ان کا کہا مانو، ان کی رائے پر اپنے کام سونپ دو اور اگر وہ تمہاری رائے کے مطابق حکم دیدیں تو مشکل میں پڑجاؤ، اور تم ندامت اٹھاؤ، مگر خدا کی رحمت تو یہ ہے کہ اس نے تم کو توفیق اطاعت رسول دی ، ایمان کو تصدیق خدا اور رسول کو تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا ہے اور کفر یعنی انکا رسول اور فسق یعنی نفاق اور کل گناہ تم کو ناپسند کردیے، جو لوگ ایسے ہیں وہ سچے مخلص راہ پائے ہوئے ہیں یہ ان پر اللہ کا فضل وکرم ہے نعمت ورحمت ہے اللہ مسلمانوں کے ثواب و کرامت کا عالم ہے حکمت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–8

[6] یہ لفظ یوں تو قرآن میں کفر کی جگہ بھی استعمال ہوا ہے لیکن کیونکہ یہاں کفر کے ساتھ آیا ہے اس وجہ سے اس سے اللہ تعالیٰ کی وہ حکم عدولی ہوگی جس کا ارتکاب کوئی شخص ایمان کا مدعی ہوتے ہوئے کرے۔ [7] عصیان سے مراد چھوٹے گناہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–9

ف 1: عنیہ بن حصن انفراری اور اقرع بن حابس کوئی ستر آدمیوں کے ساتھ حضور ﷺ سے ملنے کے لئے آئے ۔ حضور ﷺ اس وقت حرم میں تشریف فرما تھے یہ لگے زور زور سے آوازیں دینے ، اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ اس طرح آپ کو مخاطب کرنا بےادبی اور بےعقلی ہے ۔ ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ اطلاع کرادیتے اور پھر انتظار کرتے حتیٰ کہ حضور ﷺ تشریف لے آتے اور ان کی معروضات کو توجہ سے سن لیتے ۔ یاد رہے کہ یہ حکم اس وقت پیغمبر جلالت قدر کے تحفظ کے لئے ضروری تھا ۔ اور اسلام چونکہ ہر زمانے کے لئے موجب خیروبرکت ہے اس لئے اب اس کے یہ معنے ہونگے ۔ کہ دین میں خواہ مخواہ موشگافیاں کرنا درست نہیں ہیں جب تک کہ سنت خود کسی مسئلہ کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعام و احسان کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔ ولید بن عتبہ کو نبی کریم ﷺ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بنی مصطلق روانہ کیا۔ سوء اتفاق سے ولید میں اور بنی مصطلق میں زمانہ جاہلیت سے ایک خون کے متعلق عداوت چلی آتی تھی بنی مصطلق کے مسلمان ان کے استقبال کو نکلے یہ سمجھے کہ میرے قتل کو نکلے یہ ڈر کر بھاگ آئے یہاں آکر انہوں نے اطلاع دی کہ وہ قوم تو مرتد ہوگئی۔ زکوٰۃ سے انکار کیا اور انہوں نے میرے قتل کا ارادہ کیا یہ خبر سن کر بعض لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے مشورہ دیا کہ حضور ﷺ ان پر فوج کشی کریں اور ان کو سزا دیں لیکن حضور ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–10

ف 3۔ اس کے نزول کا واقعہ اس طرح ہوا (اور پھر حکم عام ہے) کہ حضور ﷺ نے ولید بن عقبہ کو قبیلہ بنو مصطلق سے زکوٰة وصول کرنے کے لئے بھیجا، اور ایک روایت میں بنی وکیعہ آیا ہے، ولید میں اور ان میں زمانہ جاہلیت میں کچھ عداوت تھی، ولید کو ہاں جاتے ہوئے کچھ اندیشہ ہوا، ان لوگوں نے سن کر استقبال کیا، ولید کو یہ گمان ہوا کہ یہ لوگ بارداہ قتل آئے ہیں، واپس آکر اپنے خیال کے موافق کہہ دیا کہ وہ تو مخالفت اسلام ہوگئے، آپ ﷺ نے حضرت خالد کو تحقیق حال کے لئے بھیجا اور فرمادیا کہ خوب تحقیق کرنا، اور جلدی مت کرنا، چناچہ انہوں نے وہاں بجز اطاعت اور خیر کے کچھ نہ دیکھا، آکر آپ ﷺ کا اطمینان کردیا، اس پر یہ حکم نازل…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال تھا کہ اس نے تم کو ایک بہت بڑی غلطی سے بچالیا 8 ۔ اسلام کی ہدایت مسلمانوں کی زندگیوں کو سنوارنے کے لیے یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان سے کوئی اچھا کام ، کوئی اچھا اقدام ہو تو وہ اس کو اللہ کا فضل و احسان سمجھے اور اسی طرح اگر کسی جگہ کوئی غلطی اور کوئی برائی ہونے کا امکان ہو اور وہ اس غلطی اور برائی سے بچ جائے تو اس کو بھی اللہ کی نعمت و رحمت خیال کرے کہ اس نے اس غلطی اور برائی سے اس کو بچالیا اور اچھائی کرکے یا برائی سے بچ کر اپنی ذات پر نہ اترائے اور نہ اس طرح کا انداز گفتگو اختیار کرے جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ اپنی ذات کے بل بوتے پر ایسا کر پایا جیسا اکثر ہوتا ہے کہ آدمی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

The Holy Prophet's ﷺ Decision is Better According to the previous verse, Walid Ibn 'Uqbah ؓ reported that Banul-Mustaliq had turned apostate and refused to pay Zakah. At this, the blessed Companions were disturbed and infuriated. They expressed the view that jihad should be declared on them immediately, but the Holy Prophet ﷺ rejected his report on the basis of strong circumstantial evidence to the contrary. He sent Khalid Ibn Walid for investigation. In the foregoing verse, the Qur’ an enjoined that if there are strong reasons to doubt the report conveyed by any person, it is not lawful to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

10 It means this: The whole community of the believers has not committed the error that was committed by those few people who wanted the Holy Prophet to act as they counseled, and the believing community s remaining steadfast on the right path was due to the reason that Allah by His bounty and grace had endeared to them the path of the Faith and made unbelief, wrongdoing and disobedience abhorrent to them. The addressees in the two parts of this verse are two separate groups. The sentence beginning with lau yuti'ukum is not addressed to the entire class of the Companions but only to those…

Read the full tafseer →