Explained with ayahs 6–8
فاسق کی خبر پر اعتماد نہ کرو
اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ فاسق کی خبر کا اعتماد نہ کرو جب تک پوری تحقیق و تفتیش سے اصل واقعہ صاف طور پر معلوم نہ ہوجائے کوئی حرکت نہ کرو ممکن ہے کہ کسی فاسق شخص نے کوئی جھوٹی بات کہہ دی ہو یا خود اس سے غلطی ہوئی ہو اور تم اس کی خبر کے مطابق کوئی کام کر گذرو تو اصل اس کی پیروی ہوگی اور مفسد لوگوں کی پیروی حرام ہے اسی آیت کو دلیل بنا کر بعض محدثین کرام نے اس شخص کی روایت کو بھی غیر معتبر بتایا ہے جس کا حال نہ معلوم ہو اس لئے کہ بہت ممکن ہے یہ شخص فی الواقع فاسق ہو گو بعض لوگوں نے ایسے مجہول الحال راویوں کی روایت لی بھی ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں فاسق کی خبر…
Read the full tafseer →سورة الْحُجُرٰت 9
یہ بات سیاق وسباق سے بھی مترشح ہوتی ہے، اور متعدد مفسرین نے بھی اس آیت سے یہ سمجھا ہے کہ بنی المصطلق کے معاملہ میں ولید بن عقبہ کی دی ہوئی اطلاع پر نبی ﷺ ان کے خلاف فوجی اقدام کرنے میں متأمل تھے، مگر بعض لوگوں نے اصرار کیا کہ ان پر فوراً چڑھائی کردی جائے۔ اس پر ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی گئی کہ تم اس بات کو بھول نہ جاؤ کہ تمہارے درمیان رسول اللہ ﷺ موجود ہیں جو تمہارے مصالح کو تم سے زیادہ جانتے ہیں۔ تمہارا یہ چاہنا کہ اہم معاملات میں جو رائے تمہیں مناسب نظر آتی ہے آپ اسی پر عمل کیا کریں، سخت بےجا جسارت ہے۔ اگر تمہارے کہنے پر عمل کیا جانے لگے تو بکثرت مواقع پر ایسی غلطیاں ہوں گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
خلاصہ تفسیر
اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ ﷺ تشریف فرما) ہیں (جو خدا کی بڑی نعمت ہیں کما قال تعالیٰ (آیت) لقد من اللہ الخ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ کسی بات میں تم آپ کے خلاف مت کرو گو دنیوی ہی کیوں نہ ہو اور اس فکر میں مت پڑو کہ امور دنیویہ میں خود حضور ہماری رائے کی موافقت فرمایا کریں کیونکہ) بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ اس میں تمہارا کہنا مانا کریں تو تم کو بڑی مضرت پہنچے (کیونکہ وہ مصلحت کے خلاف ہو تو ضرور اس کے موافق عمل کرنے میں مضرت ہو بخلاف اس کے کہ آپ کی رائے پر عمل کیا جائے کیونکہ امر دنیوی ہونے کے باوجود اس میں خلاف مصلحت ہونے کا احتمال گو فی نفسہ مستبعد اور خلاف شان نبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
واعلموآ ان فیکم رسول اللہ لو یطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم ولکن اللہ جب الیکم الایمان وزینہ فی قلوبکم وکرہ الیکم الکفروا الفسوق و العصیان اولٓئک ھم الرشدون، فضلاً من اللہ و نعمۃ ط واللہ علیم حکیم (8-7)
صحیح رویہ
یہ اسی تنبیہ کی مزید توکید ہے کہ جب تمہارے اندر اللہ کا رسول موجود ہے تو تمہیں اپنی رایوں اور اپنے مشوروں کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہئے کہ رسول کو اپنے پیچھے چلان ی کی کوشش کرو بلکہ تمہیں ان کے پیچھے چلنا ہے۔ وہ جو قدم بھی اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں اٹھاتے ہیں اس وجہ سے تمہاری دنیا اور آخرت کی فلاح ان کی پیروی میں ہے نہ کہ اپنے جذبات کی پیروی میں، اگر تمہیں کوئی رائے پیش…
Read the full tafseer →7۔ 1 جس کا تقاصا یہ ہے کہ ان کی تعظیم اور اطاعت کرو اس لیے کہ وہ تمہاے مصالح زیادہ بہتر جاتنے ہیں کیونکہ ان پر وحی اترتی ہے پس تر ان کے پیچھے چلو ان کو اپنے پیچھے چلانے کی کوشش مت کرو اس لیے کہ اگر وہ تمہاری پسند کی باتیں ماننا شروع کردیں تو اس سے تم خود ہی زیادہ مشقت میں پڑ جاو گے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَهْوَاۗءَهُمْ لَــفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ) 23۔ المؤمنون :71)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
4: سورت کے شروع میں جو حکم دیا گیا تھا، اور جس کی تشریح اوپر حاشیہ نمبر 1 میں گذری ہے، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ صحابہ کرام کبھی کوئی رائے ہی پیش نہ کریں، بلکہ رائے قائم کر کے اس پر اصرار سے منع فرمایا گیا تھا، اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ مناسب موقع پر کوئی رائے دینے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیه وسلم کے لیے ضروری نہیں ہے کہ تمہاری ہر رائے پر عمل ضرور کریں، بلکہ آپ مصلحت کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے، اور اگر وہ تمہاری رائے کے خلاف ہو، تب بھی تمہیں اس پر راضی رہنا چاہیے، کیونکہ تمہاری ہر بات پر عمل کرنے سے خود تمہیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
واعلموا ان فیکم رسول اللہ (49 : 7) “ خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے ”۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضور ﷺ اس وقت موجود تھے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ ایک عظیم حقیقت ہے ۔ کیا کوئی یہ بات تصور کرسکتا ہے کہ آسمان کا زمین کے ساتھ دائمی رابطہ ہوجائے اور یہ رابطہ ہر وقت بحال رہے اور لوگوں کو نظر آئے۔ اور ہم یہ کہیں کہ ارادۂ الٰہی اہل زمین کے لئے متوجہ ہے ۔ لوگوں کو ان کے حالات بتائے جارہے ہیں۔ ان کی خفیہ باتیں ان کو بتائی جارہی ہیں۔ ان کی ظاہری باتوں سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے اور ان کی غلطیوں کو فوراً درست کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنے دل کی بات…
Read the full tafseer →3 یعنی اگر رسول اللہ ﷺ تمہاری کسی خبر یا رائے پر عمل نہ کریں تو برا نہ مانو۔ حق لوگوں کی خواہشوں یا رایوں کے تابع نہیں ہوسکتا۔ ایسا ہو تو زمین و آسمان کا سارا کارخانہ ہی درہم برہم ہوجائے کما قال تعالیٰ (وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَهْوَاۗءَهُمْ لَــفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ) 23 ۔ المؤمنون :71) الغرض خبروں کی تحقیق کیا کرو اور حق کو اپنی خواہش اور رائے کے تابع نہ بناؤ بلکہ اپنی خواہشات کو حق کے تابع رکھو۔ اس طرح تمام جھگڑوں کی جڑ کٹ جائے گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی تمہارا مشورہ قبول نہ ہو تو برا نہ مانو، رسول عمل کرتا ہے اللہ کے حکم پر، اسی میں تمہارا بھلا ہے، اگر تمہاری بات نہ…
Read the full tafseer →آیت 7 { وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ } ”اور جان لو کہ تمہارے مابین اللہ کا رسول موجود ہے۔“
انسانی سطح پر حضور ﷺ کے مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف رشتے تھے۔ مثلاً بعض خواتین کے آپ ﷺ شوہر اور بعض کے باپ تھے۔ مردوں میں سے بعض کے آپ ﷺ داماد تھے ‘ بعض کے بھتیجے اور بعض کے سسر تھے۔ چناچہ اس حساس معاملے میں دو ٹوک انداز میں متنبہ کردیا گیا کہ خبردار ! تم میں سے کوئی کسی وقت یہ حقیقت نہ بھولنے پائے کہ محمد بن عبداللہ جو تمہارے درمیان موجود ہیں یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ کی یہ حیثیت تم میں سے ہر ایک کے سامنے ہر حال میں مقدم رہنی چاہیے۔ آپ ﷺ کا کوئی رشتہ دار محض اپنے کسی مخصوص رشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8 اپنی خواہش کو حق کے پیچھے چلانے کی ادا سیکھو :۔ یعنی تم لوگوں کے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے۔ ایسی خبریں تم ان تک پہنچا دو اور خود رائے زنی نہ کرنے لگ جاؤ۔ بلکہ ان کے پیچھے پیچھے چلو جو وہ کہیں اسے تسلیم کرو۔ اگر وہ تمہارا مشورہ قبول نہیں کرتے تو اس کا برا نہ مانو۔ اگر وہ تم سب کے مشورے اور آراء قبول کرنے لگیں تو تمہاری بھی آراء آپس میں مختلف اور متضاد ہوتی ہیں۔ اس صورت میں تو تم پر اور کئی مصیبتیں پڑجائیں گی۔ لہذا حق کو اپنی خواہشات کے پیچھے نہ چلاؤ۔ بلکہ اپنی خواہشات اور آراء کو حق کے تابع کردینے کی ادا سیکھو۔
9 تم پر یہ اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ تمہیں کفر اور اللہ اور اس کے رسول کی…
Read the full tafseer →8۔ (اور اس وقت الٹے خود تم ہی کو ندامت ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے بجائے اپنی رائے مبارک پر عمل کے ناحق ہم لوگوں کے مشورے سے موافقت کی) (آیت) ” واعلموا ...... اللہ “۔ (اور رسول اللہ ﷺ کا تمہارے درمیان میں موجود ہونا ایک انتہائی نعمت ہے، جس کے ادائے حقوق میں یہ بھی داخل ہے کہ کسی معاملہ میں آپ ﷺ کی رائے کے خلاف عمل نہ کیا جائے) (آیت) ” واعلموا “۔ علم ظاہر ہے کہ بیان استحضار کے مفہوم میں ہے۔ (آیت) ” لو .... الامر “۔ ظاہر ہے کہ یہ احتمال صرف امور دنیوی وتجربی سے متعلق ہوسکتا ہے۔ ورنہ احکام شریعت میں تو اس کی گنجائش سرے سے تھی ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم (آلایۃ) اس سے پہلے آیت میں حضرت ولید بن عقبہ اور بنو مصطلق کا واقعہ مذکور تھا، جس میں ولید بن عقبہ ؓ نے یہ خبر دیدی تھی کہ بنی مصطلق مرتد ہوگئے اور زکوۃ دینے سے بھی انکار کردیا، اس پر صحابہ کرام میں بھی اشعتال پیدا ہوا، ان کی رائے یہ تھی کہ ان لوگوں پر جہاد کے لئے مجاہدین کو بھیج دیا جائے، مگر آنحضرت ﷺ نے ولید بن عقبہ کی خبر کو قرآئن قویہ کی وجہ سے خلاف واقعہ سمجھ کر قبول نہ کیا اور تحقیقات کے لئے حضرت خالد بن ولید کو مامور ﷺ نے ولید بن عقبہ کی خبر کو قرآئن قویہ کی وجہ سے خلاف واقعہ سمجھ کر قبول نہ کیا اور تحقیقات کے لئے حضرت خالد بن ولید کو مامور فرمایا،…
Read the full tafseer →واعلموا ان فیکم رسول اللہ لو یطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم .
اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ ﷺ ہیں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ اس میں تمہارا کہنا مانا کریں تو تم کو بڑی مضرت پہنچ جائے۔
لَعَنِتُّمْ : یعنی تم گناہ اور ہلاکت میں پڑجاتے۔
صحابہ ؓ نے چونکہ ولید بن عقبہ سے بنی مصطلق کے مرتد ہوجانے کی خبر سنی تھی (اور ان کو یقین آگیا تھا) اس لیے بنی مصطلق پر ان کو غصہ تھا اور یہ غصہ صرف اللہ کے دین کی حمایت کے لیے تھا لیکن سابق کلام کی رفتار سے یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ بنی مصطلق پر غصہ کرنے والے صحابی گناہ گار قرار پائے۔ اس خیال اور وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا :
ولکن اللہ حبب الیکم…
Read the full tafseer →اور اے گروہ مومنین جان لو کہ تم میں رسول اکرم موجود ہیں اور بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ اس میں تمہاری رائے پر عمل کرلیا کریں تو تمہیں بڑا نقصان پہنچے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان کامل کی محبت دی ہے اور اس کو تمہارے دلوں میں مرغوب کردیا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت اور نفاق اور تمام گناہوں سے تمہیں نفرت دے دی۔
Read the full tafseer →(1) واعلموا ان فیکم رسول اللہ : ظاہر ہے کہ ہر صحابی یہ جانتا تھا کہ اللہ کا رسول ہم میں موجود ہے، اس کے باوجود فرمایا :”اور جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول ہے۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی میں رسول اللہ ﷺ کے بنفس نفیس موجود ہونے اور آپ کی وفات کے بعد کتاب و سنت کے موجود ہونے کے باوجود جو شخص اپنی رائے پر اصرار کرتا ہے اور آپ ﷺ اور آپ کی حدیث سے رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے اپنی بات منوانا چاہتا درحقیقت وہ اس بات سے جاہل ہے کہ ہم میں اللہ کا رسول موجود ہے، ہمیں ہر معاملے میں ان کی بات ماننی چاہیے، کیونکہ اگر اسے یہ بات معلوم ہوتی تو وہ رسول کی اطاعت کرتا اور رسول کو اپنی اطاعت کروانے کی کوشش نہ کرتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول ہے تو تم اس کو نہ جھٹلائو اللہ تعالیٰ اسے تمہاری خبریں بتا دے گا۔ کہ تم ذلیل و رسوا ہو جائو گے
اگر معاملہ ظاہر ہونے سے پہلے اس امر کی طرف جلدی کرے جس کا تم ارادہ کرو تو تمہارے لئے اس میں مشقت اور گناہ ہوگا کیونکہ اگر آپ اس قوم کو قتل کریں جس کی چغلی ولید بن عقبہ نے کھائی ہے تو وہ خطا ہوگی جو آدمی باہمی دشمنی کی وجہ سے انہیں ہلاک کرنے کا ارادہ کرنے کا ارادہ کرتا تو وہ گناہ گار ہوتا رسول اللہ ﷺ کی ان کی اطاعت سے مراد یہ ہے کہ آپ ان کی وہ بات مان لیں جو وہ لوگوں کے بارے میں آپ کو پہنچاتے ہیں یا ان سے سنتے ہیں عنت کا معنی گناہ ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے عنت الرحجل آدمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
اماقولہ تعالیٰ : (آیت ) ” واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم “
12:۔ عبد بن حمید والترمذی (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے ابو نصرہ (رح) سے روایت کیا کہ ابوسعید خدری ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم “ (اور جان رکھو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں اگر وہ اس میں تمہارا کہا جانا کریں تو تم کو بڑی مضرت پہنچ جائے) فرمایا یہ تمہارے نبی ہیں کہ ان کی طرف وحی کی جاتی ہے اور تم تمام امتوں میں افضل ہوتی ہو اور اگر وہ انکی بات مان لیں بہت کاموں میں تو وہ مشقت میں پڑجائیں تو آج تمہارے لئے کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔
13:۔…
Read the full tafseer →وَاعْلَمُوْٓا [ تم لوگ جان لو ] اَنَّ فِيْكُمْ [ کہ تم لوگوں (کے درمیان ) میں ] رَسُوْلَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے رسول ہیں ] لَوْ يُطِيْعُكُمْ [ اگر وہ کہا مانیں تمہارا ] فِيْ كَثِيْرٍ [اکثر میں ] مِّنَ الْاَمْرِ [ معاملات میں سے ] لَعَنِتُّمْ [ تو ضرور تم لوگ مشکل میں پڑوگے ] وَلٰكِنَّ اللّٰهَ [ اور لیکن اللہ نے ] حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ [ پیارا بنایا تمہارے لیے ایمان کو ] وَزَيَّنَهٗ [ اور اس نے سجادیا اس کو ] فِيْ قُلُوْبِكُمْ [تمہارے دلوں میں ] وَكَرَّهَ اِلَيْكُمُ [ اور اس نے ناگوار کردیا تمہارے لیے ] الْكُفْرَ [کفر کو ] وَالْفُسُوْقَ [ اور غیر محتاط رویوں کو ] وَالْعِصْيَانَ ۭ[ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و انعام سے تمہارے دلوں میں ایمان کو مزین فرما دیا اور کفر و فسوق اور عصیان کو مکروہ بنا دیا
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے امت مسلمہ کو اپنا ایک بہت بڑا انعام یاد دلایا اور فرمایا کہ دیکھو تمہارے اندر اللہ کا رسول موجود ہے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ تمہارے اندر اپنے رسول کو مبعوث فرما دیا وھذا کقولہ تعالیٰ ﴿ لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ ﴾ دوسری بات یہ بتائی کہ ہمارا رسول جو عمل کرتا ہے اور تمہیں جو حکم دیتا ہے اس میں ان کی اپنی مصلحت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی مدد بھی ہوتی ہے بعض مواقع میں تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
تنبیہ وتہدید بر بےتمیزی وبیحرمتی دربارگاہ رسالت وتلقین آداب تعظیم و اطاعت :
(ربط) گذشتہ آیات میں ان حقوق وآداب کا ذکر تھا جو رسول ﷺ کی ذات اقدس کے لیے امت پر عائد اور فرض ہیں اور ان حقوق میں کوتاہی پر وعید وتنبیہ تھی اور یہ کہ یہ ایسی خطرناک تقصیر وغلطی ہے کہ مسلمان سرمایہ اعمال سے ہی محروم ہوسکتا ہے، جو اس نے اپنی زندگی میں کمایا تو اب ان آیات میں بعض ایسی گستاخیوں اور بےتمیزیوں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جو جہلاء اور کم عقل لوگوں سے پیش آتی تھیں اور اس پر تنبیہ کی گئی اور یہ بتایا جارہا ہے کہ پیغمبر خدا ﷺ کو مخاطب بنانے اور آپ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر بات کرنے کا کیا طریقہ ہے ادب اور تعظیم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ٖف 7:۔ ” واعلموا ان فیکم “ یہ پہلے قانون سے متعلق ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت نہ کرو۔ آپ پر تمہاری اطاعت ضروری نہیں، بلکہ تم پر آپ کی اطاعت لازم و فرض ہے۔ اگر پیغمبر (علیہ السلام) تم میں سے ہر ایک کے مشورے پر عمل کرنے لگیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے بعض خلاف صواب مشوروں پر عمل کرنے کی وجہ سے تم کئی مشقتوں میں پڑجاؤ گے۔ تم میں اللہ کا رسول موجود ہے اس لیے تم آپ کے احکام کی پیروی کرو اور اپنی ہر بات منوانے پر زور نہ دو ۔ جب آنحضرت ﷺ کو بنی مصطلق کے ارتداد کی خبر ملی جو خلاف واقع تھی۔ اس وقت بہت سے صحابہ ؓ نے یہ رائے دی کہ فورًا ان پر چڑھا کرنی چاہئے، لیکن آپ نے پہلے کشف حقیقت اور تحقیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ربط آیات
مسلمانوں کی جماعتی اور اجتماعی زندگی کو درست رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں بڑے اہم ضوابط بیان کیے ہیں ۔ پہلا ضابطہ یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے آگے نہ بڑھو اور دوسرا یہ کہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یعنی تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ نے تیسرا ضابطہ یہ دیا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی آواز سے اپنی آواز کو بلند نہ کرو اور آپ کے جانشینوں کے ساتھ بھی اسی ادب و احترام کا سلوک کرو ، گویا کہ جب تم نبی سے گفتگو کرو تو اپنی آواز کو پست رکھو اور اس طرح کڑک کر نہ بولو جس طرح آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بلند آواز سے گفتگو رتے ہو ۔ اگر ایسا کرو گے تو تمہارے…
Read the full tafseer →وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ فِيْكُمْ رَسُوْلَ اللہِ 0 ۭ لَوْ يُطِيْعُكُمْ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰكِنَّ اللہَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَہٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّہَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الرّٰشِدُوْنَ 7 ۙ
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
ترکیب : ان تصیبوا مفعول لہ ای خشیۃ ذلک بجہالۃ حال من الفاعل ای جاھلین۔ لویطیعکم مستانف ویجوزان یکون فی موضع الحال و العامل فیہ الاستقرار کقولک مررت برجل لوکلمۃ کلمنی فکما جاز و قوعہ صفۃ للنکرۃ جاز وقوعہ حالا فضلا مفعول لہ طائفتان فاعل فعل محذوف اخویکم بالتثنیۃ والجمع الاخوۃ جمع الاخ۔
چوتھا حکم : یا ایہا الذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنبافتبینوا کہ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لاوے تو جانچ لیا کرو یہ نہیں کہ جو کسی سے سنا یقین کرلیا اور اس پر کاربند ہوگئے کیونکہ ایسی صورتوں میں باہم لڑانے کے لیے بہت سے جھوٹے افسانے غماز بنا لایا کرتے ہیں ان پر باور کر کے کسی سے لڑ پڑے یا رنجیدہ ہو کر ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ط لَوْیُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْـکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ ط اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الرّٰشِدُوْنَ ۔ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَنِعْمَۃً ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (الحجرات : 7، 8)
(اور خوب جان لو کہ تم میں اللہ تعالیٰ کے رسول موجود ہیں، اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم پر مشکل پڑے مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی، اور اس کو تمہارے دلوں میں مزین کردیا اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فہم القرآن
ربط کلام : نبی محترم ﷺ کے احترام کا یہ بھی تقاضا ہے کہ جب مسلمانوں میں کوئی بدگمانی یا افواہ پھیل جائے تو اسے نبی ﷺ کے سامنے پیش کریں تاکہ اس کا بروقت تدارک ہوسکے۔ نبی ﷺ کے بعد مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ہر چیز کی تصدیق کرلیا کریں۔
اس آیت کے شان نزول میں بعض مفسرین نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کا واقعہ نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ ٹھیک نہیں، بہرحال بنیادی اصول یہ ہے کہ جب کوئی فاسق یا غیر ذمہ دار شخص کسی مسلمان کے بارے میں بدگمانی پیدا کرے یا کوئی ملک و ملت کے خلاف افواہ اڑائے تو ہر حال میں اس کی تحقیق کرلینی چاہیے تاکہ مسلمان اس کے نقصان اور پریشانی سے محفوظ رہیں۔ اس اصول کے پیش نظر ایک دفعہ…
Read the full tafseer →بنو مصطلق اور ولید کے واقعہ میں مبالغہ نہ کرنے والوں کی تعریف :
آیت 7 : وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ (اور تم جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ ہیں) پس ان سے جھوٹ مت کہو۔ اللہ تعالیٰ ان کو اطلاع دے دیں گے پھر جھوٹے کا پردہ چاک ہوجائے گا۔ نمبر 2۔ ان کی طرف رجوع کرو اور ان کی رائے طلب کرو۔ پھر جملہ مستانفہ لائے اور فرمایا۔ لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ (بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر اس میں تمہارا کہنا مانا کریں تو تم کو بڑی مضرت پہنچے) تو تم مشقت و ہلاکت میں پڑ جائو۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بعض مسلمانوں نے واقعہ بنو مصطلق کے مبتلا ہونے اور ولید…
Read the full tafseer →6 ۔” یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنیا فتبینوا “ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو جنگ کے بعد بنوالمصطلق کی طرف بھیجا۔ اس کے اور بنوالمصطلق کے درمیان دور جاہلیت میں دشمنی تھی۔ جب ان لوگوں نے اس کے آنے کی خبر سنی تو رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے اس کی تعظیم کی۔ شیطان نے اس کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ یہ لوگ اس کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں تو وہ خوفزدہ ہوگیا اور راستہ سے ہی رسول اللہ ﷺ کے پاس آگیا اور کہا بنو المصطلق نے صدقات دینے سے انکار کردیا ہے اور مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ کو سخت غصہ آیا اور پختہ ارادہ فرمایا کہ ان سے لڑائی کریں۔ ادھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7۔ 8۔ معتبر سند سے ترمذی 3 ؎ میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابو سعید ؓ خدری اس آیت کو پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت کی حیات کے زمانہ میں اعلیٰ درجہ کے صحابہ کو ملا کر اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اگر اللہ کے رسول تم لوگوں کے کہنے پر چلیں گے بڑی خرابی آجائے اب تو وہ اعلیٰ درجہ کے صحابہ بھی نہ رہے آج کل کے لوگ اگر خواہ مخواہ کلام رسول کو اپنی مرضی کے مطابق کرنا چاہیں تو خرابی در خرابی ہے حضرت ابو سعید ؓ خدری نے پایا ہے اس زمانہ میں ان کا کلام رسول کی مخالفت یا بےتوقیری کی نسبت وہ خیال تھا حال زمانہ میں جو صحابہ کا زمانہ ہے نہ تابعیوں کا نہ تبع تابعیوں کا اس زمانہ میں جو کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ تمہارے اندر موجود ہیں وہ ایسے رسول ہیں، جو صاحب کرم، نیک طینت اور راہ راست دکھانے والے ہیں، جو تمہاری بھلائی چاہتے ہیں اور تمہارے خیر خواہ ہیں جبکہ تم اپنے لئے شر اور ضرر چاہتے ہو، جس پر رسول تمہاری موافقت نہیں کرسکتے۔ اگر رسول ﷺ بہت سے معاملات میں تمہاری اطاعت کرنے لگے تو تم مشقت میں پر جاؤ گے اور ہلاکت میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ مگر رسول اللہ ﷺ تمہیں رشدو ہدایت کی راہ دکھاتے ہیں، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ایمان کو محبوب بناتا ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں مزین کرتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں حق کی محبت اور اس کی ترجیح و دیعت کی ہے، اس نے حق پر جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فاسق کی دی ہوئی خبر کا حکم
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالۃ۔ اے ایمان لانے والو ! اگر فاسق شخص تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تم تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ کہیں تم نادانی سے کسی قوم کو ضرر پہنچادو) تا آخر آیت۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی۔ انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے ولید ؓ بن عقبہ کو بنو المصطلق کی طرف بھیجا۔ ولید ؓ ان کے پاس پہنچے تو وہ لوگ انہیں خوش آمدید کہنے کے لئے باہر نکل آئے۔ یہ دیکھ کر ولید ؓ ڈر گئے اور واپس حضور ﷺ کے پاس آگئے اور آکر…
Read the full tafseer →[ 15] سلامتی کی راہ رسول ﷺ کی اطاعت و اتباع :
سو اس سے بنیادی امر کو واضح فرما دیا گیا کہ صحت و سلامتی کی راہ صرف رسول کی اطاعت و اتباع میں ہے اور بس۔ پس رسول کی موجودگی میں کسی اور کے مشورے اور اس کی رائے کی کوئی حیثیت نہیں ہوسکتی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یقین جانو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے "۔ پس تم لوگوں کو ان کی موجودگی میں اپنی رائے اور اپنے مشوروں کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہئے کہ تم رسول کو اپنے پیچھے چلانے کو کوشش کرنے لگو۔ بلکہ تم لوگوں کو ہمیشہ ان کے پیچھے چلنا چاہیے کیونکہ وہ جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں وہ سب حق اور سچ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی وحی کی روشنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
صحابہ کرام کے ایمان کی گواہی
تشریح : ان آیات کا تعلق بھی تھوڑا سا قبیلہ بنی المصطلق کے واقعہ سے ہے۔ جب صحابہ نے نبی کریم ﷺ کو فوج کشی کا مشورہ دیا تو رب الاعلیٰ نے فرمایا کہ تم اچھی طرح سوچ لو کہ نبی اکرم ﷺ ہر لحاظ سے تم سے زیادہ محترم، کامل اور معاملہ فہم ہیں اس لیے تم لوگ ان کو کسی بھی فیصلہ پر مجبور نہ کرو۔ کیونکہ اب اگر تمہارے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے فوجی اقدام کرلیا جاتا تو تم سب کو کس قدر مشکلات، نقصان اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ؟ پھر ان صحابہ کرام کا ذکر ہے کہ جنہوں نے اس مشورہ دینے میں حصہ نہ لیا تھا۔ ان کی تعریف میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔
کہ صحابہ کرام جن کے دل ایمان و یقین سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
نیز اصلاح عالم کی جہاد کی غرض یہی ہے کہ پہلے اصلاح نفس کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ادب واحترام نبوی پر ہے چہ جائیکہ کوئی اطاعت وغلامی میں پس وپیش کرے۔ حد ادب یہ ہے کہ کبھی کسی کام میں یا کسی بات میں رسول اللہ پر سبقت نہ کیا کرو کہ یہ ایسے ہے جیسے اللہ کی ذات پر کسی نے سبقت کی کہ آپ کا ارشاد ہی اللہ کا ارشاد ہے اور اس معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے ۔
اصلاح نفس کی بنیاد ادب ہے بارگاہ نبوی میں اس کی ضرورت قرآن نے بتادی علماء مشائخ وارث نبوت ہو کر ادب کے مستحق ہیں۔
نیز اپنی آواز کو پست رکھا کرو اور کبھی بھی نبی کریم کی آواز سے بلندآواز میں بات نہ کرو…
Read the full tafseer →ف 5 ” اس لئے کسی کام میں جلدی نہ کرو بلکہ پیغمبر کی طرف رجوع کرو اور جو ارشاد وہاں سے پائو اس پر عمل کرو۔ “ شاہ صاحب لکھتے ہیں، یعنی تمہارا مشورہ قبول نہ ہو تو برا نہ مانو، رسول عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اسی میں تمہارا بھلا ہے اگر تمہاری بات مانا کرے تو ہر کوئی اپنے بھلے کی کہے پھر کس کس کی بات پر چلے۔ (موضع)
6 ” اس لئے بعض اوقات بتقاضائے بشریت تم سے غلطی ہوجاتی ہے مگر ایمان کی بدلوت جلد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوتے ہو اور نافرمانی اور گناہوں سے باز رہتے ہو۔ “
Read the full tafseer →(49:7) واعلموا ان فیکم رسول اللّٰہ۔ اس کا عطف ماقبل پر ہے واؤ عاطفہ۔ اعلموا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ علم (باب سمع) مصدر۔ تم جان لو۔ تم (اچھی طرح) ذہن نشین کرلو۔ تم خوب جان لو۔ ان بمعنی یقینا۔ بےشک۔ رسول منصوب بوجہ عمل ان اور خوب جان لو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے ۔ فارجعوا الیہ واطلبوا رأیہ۔ پس ہر مار میں اس کی طرف رجوع کرو۔ اور اس کی رائے طلب کرو۔ اوقدروا حق قدرہ اور اس کی کما حقہ قدر کرو۔ (اس کی قدر اس امر کی مقتضی ہے کہ اس کی ہر تدبیر کو تسلیم کیا جاوے کیونکہ وہ وحی بالہام من اللہ ہے اور تمہارے لئے اس میں خیر ہی خیر ہے) ۔
لم یطیعکم فی کثیر من الامر جملہ شرط۔ لعنتم جواب شرط ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
لغار القرآن آیت نمبر ( 6 تا 8) ۔
نبا (خبر) ۔ تبینو ا (چھان بین کرلیا کرو) ۔ ان تصیبوا (یہ کہ تم پہنچ جاؤ۔ یہ کہ تم جا پڑو) ۔ جھالتہ (نادانی۔ ناوقفیت) ۔ فعلتم (تم نے کیا) ۔ لعنتم (البتہ تم مصیبت میں پڑجاتے) ۔ حبب (محبوب بنا دیا۔ محبت ڈال دی) ۔ زینہ (اس کو خوبصورت بنادیا) ۔ کرہ (نفرت ڈال دی) ۔ الفسوق (گناہ۔ نافرمانی) ۔ العصیان (نافرمانی) ۔ راشدون (راہ پائے ہوئے) ۔
تشریح : آیت نمبر (6 تا 8) ۔ ” عام آدمی کی لغزش، غلطی اور نافرمانی کو گناہ اور فسق کہا جاتا ہے لیکن بعض ایسی با عظمت اور اہم شخصیات جو دوسروں کے لئے نمونہ ہوتی ہیں ان کی ممولی سی بات لغزش اور بھول بھی بڑی بات سمجھی جاتی ہے اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(ف 1) اے مسلمانو۔ یہ خوب سمجھ لو کہ تم کو خوئی کوئی امر طے کرلینے کا اختیار نہیں تم میں خدا کے رسول موجود ہیں، تم ان کا کہا مانو، ان کی رائے پر اپنے کام سونپ دو اور اگر وہ تمہاری رائے کے مطابق حکم دیدیں تو مشکل میں پڑجاؤ، اور تم ندامت اٹھاؤ، مگر خدا کی رحمت تو یہ ہے کہ اس نے تم کو توفیق اطاعت رسول دی ، ایمان کو تصدیق خدا اور رسول کو تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا ہے اور کفر یعنی انکا رسول اور فسق یعنی نفاق اور کل گناہ تم کو ناپسند کردیے، جو لوگ ایسے ہیں وہ سچے مخلص راہ پائے ہوئے ہیں یہ ان پر اللہ کا فضل وکرم ہے نعمت ورحمت ہے اللہ مسلمانوں کے ثواب و کرامت کا عالم ہے حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
[6] یہ لفظ یوں تو قرآن میں کفر کی جگہ بھی استعمال ہوا ہے لیکن کیونکہ یہاں کفر کے ساتھ آیا ہے اس وجہ سے اس سے اللہ تعالیٰ کی وہ حکم عدولی ہوگی جس کا ارتکاب کوئی شخص ایمان کا مدعی ہوتے ہوئے کرے۔
[7] عصیان سے مراد چھوٹے گناہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
ف 1: عنیہ بن حصن انفراری اور اقرع بن حابس کوئی ستر آدمیوں کے ساتھ حضور ﷺ سے ملنے کے لئے آئے ۔ حضور ﷺ اس وقت حرم میں تشریف فرما تھے یہ لگے زور زور سے آوازیں دینے ، اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ اس طرح آپ کو مخاطب کرنا بےادبی اور بےعقلی ہے ۔ ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ اطلاع کرادیتے اور پھر انتظار کرتے حتیٰ کہ حضور ﷺ تشریف لے آتے اور ان کی معروضات کو توجہ سے سن لیتے ۔ یاد رہے کہ یہ حکم اس وقت پیغمبر جلالت قدر کے تحفظ کے لئے ضروری تھا ۔ اور اسلام چونکہ ہر زمانے کے لئے موجب خیروبرکت ہے اس لئے اب اس کے یہ معنے ہونگے ۔ کہ دین میں خواہ مخواہ موشگافیاں کرنا درست نہیں ہیں جب تک کہ سنت خود کسی مسئلہ کی…
Read the full tafseer →(7) اور یہ بات خوب جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہیں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ رسول ان میں تمہاری رائے پر عمل کرنے لگے تو تم بڑی مشقت میں پڑ جائو لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب بنادیا اور ایمان کو تمہارے دلوں میں خوشنما اور مستحسن کردیا اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم کو نفرت دی یہی لوگ سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
ف 3۔ اس کے نزول کا واقعہ اس طرح ہوا (اور پھر حکم عام ہے) کہ حضور ﷺ نے ولید بن عقبہ کو قبیلہ بنو مصطلق سے زکوٰة وصول کرنے کے لئے بھیجا، اور ایک روایت میں بنی وکیعہ آیا ہے، ولید میں اور ان میں زمانہ جاہلیت میں کچھ عداوت تھی، ولید کو ہاں جاتے ہوئے کچھ اندیشہ ہوا، ان لوگوں نے سن کر استقبال کیا، ولید کو یہ گمان ہوا کہ یہ لوگ بارداہ قتل آئے ہیں، واپس آکر اپنے خیال کے موافق کہہ دیا کہ وہ تو مخالفت اسلام ہوگئے، آپ ﷺ نے حضرت خالد کو تحقیق حال کے لئے بھیجا اور فرمادیا کہ خوب تحقیق کرنا، اور جلدی مت کرنا، چناچہ انہوں نے وہاں بجز اطاعت اور خیر کے کچھ نہ دیکھا، آکر آپ ﷺ کا اطمینان کردیا، اس پر یہ حکم نازل…
Read the full tafseer →واقعہ کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ اور ہدایت حاصل کرنے کا صحیح طریقہ
7 ۔ بنی المصطلق کے سردار حارث بن ابی الضرار کا واقعہ جس کی طرف گزشتہ آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیا آپ ﷺ نے اس کو دوسرے ارکان اسلام تلقین کیے زکوۃ ادا کرنے کا حکم بھی دیا اس نے تسلیم کرلیا اور وعدہ کیا کہ میں واپس اپنے قبیلہ کے پاس جائوں گا تو انہیں اسلام کی دعوت دوں گا جن لوگوں نے یہ دعوت قبول کی ان کی اور اپنی زکوٰۃ کو اکٹھا کرلوں گا آپ ﷺ کسی آدمی کو روانہ فرما کر وہ جمع شدہ زکوٰۃ وصول کرالیں آپ ﷺ نے اس مقصد کے لیے ایک صاحب کو روانہ کیا اتفاق سے جو صاحب زکوٰۃ وصول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
The Holy Prophet's ﷺ Decision is Better
According to the previous verse, Walid Ibn 'Uqbah ؓ reported that Banul-Mustaliq had turned apostate and refused to pay Zakah. At this, the blessed Companions were disturbed and infuriated. They expressed the view that jihad should be declared on them immediately, but the Holy Prophet ﷺ rejected his report on the basis of strong circumstantial evidence to the contrary. He sent Khalid Ibn Walid for investigation. In the foregoing verse, the Qur’ an enjoined that if there are strong reasons to doubt the report conveyed by any person, it is not lawful to…
Read the full tafseer →9 This is evident from the context as well as understood by several commentators from this verse that the Holy Prophet was hesitant to take any military action against the Bani al-Mustaliq on the report given by Walid bin 'Uqbah in their case, but some of the people insisted that they should be attacked at once. At this those people were warned that they should not forget that the Holy Prophet was present among them, who understood them better than they did. Therefore, their thinking that the Holy prophet should act according to their counsel in important matters was undue boldness. For if he…
Read the full tafseer →