Explained with ayahs 6–8
فاسق کی خبر پر اعتماد نہ کرو
اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ فاسق کی خبر کا اعتماد نہ کرو جب تک پوری تحقیق و تفتیش سے اصل واقعہ صاف طور پر معلوم نہ ہوجائے کوئی حرکت نہ کرو ممکن ہے کہ کسی فاسق شخص نے کوئی جھوٹی بات کہہ دی ہو یا خود اس سے غلطی ہوئی ہو اور تم اس کی خبر کے مطابق کوئی کام کر گذرو تو اصل اس کی پیروی ہوگی اور مفسد لوگوں کی پیروی حرام ہے اسی آیت کو دلیل بنا کر بعض محدثین کرام نے اس شخص کی روایت کو بھی غیر معتبر بتایا ہے جس کا حال نہ معلوم ہو اس لئے کہ بہت ممکن ہے یہ شخص فی الواقع فاسق ہو گو بعض لوگوں نے ایسے مجہول الحال راویوں کی روایت لی بھی ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں فاسق کی خبر…
Read the full tafseer →سورة الْحُجُرٰت 8
اکثر مفسرین کا بیان ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ قبیلہ بنی المصطلِق جب مسلمان ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ کو بھیجا تاکہ ان لوگوں سے زکوٰۃ وصول کر لائیں۔ یہ ان کے علاقے میں پہنچے تو کسی وجہ سے ڈر گئے اور اہل قبیلہ سے ملے بغیر مدینہ واپس جا کر رسول اللہ ﷺ سے شکایت کردی کہ انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ہے اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔ حضور یہ خبر سن کر سخت ناراض ہوئے اور آپ نے ارادہ کیا کہ ان لوگوں کی سرکوبی کے لیے ایک دستہ روانہ کریں بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ نے وہ دستہ روانہ کردیا تھا اور بعض میں یہ بیان…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے (جس میں کسی کی شکایت ہو) تو (بدون تحقیق کے اس پر عمل نہ کیا کرو بلکہ اگر عمل کرنا مقصود ہو تو) خوب تحقیق کرلیا کرو کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضرر نہ پہنچا دو پھر اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔
معارف و مسائل
شان نزول
اس آیت کے نزول کا واقعہ ابن کثیر نے بحوالہ مسند احمد یہ نقل کیا ہے کہ قبیلہ بنی المصطلق کے رئیس حارث بن ضرار بن ابی ضرار جن کی صاحبزادی حضرت جویریہ بنت حارث امہات المومنین میں سے ہیں یہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور زکوٰة ادا کرنے کا حکم دیا، میں نے اسلام…
Read the full tafseer →یا یھا الذین امنوآ ان جآء کم فاسق بنیاء فتبینوآ ان تصیبوا قومآ بجھالۃ فتصبحوا علی مافعلتم ندمین (6)
خبر کے قبول کرنے کے معاملہ میں احتیاط کی تاکید
یہ مرکز (یعنی مدینہ) کے مسلمانوں کو اس طرح کے لوگوں کی طرف سے ایک سیاسی خطرہ سے آگاہ فرمایا گیا ہے۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ اطراف مدینہ کے بدوی قبائل کے بعض سرداروں کا رویہ بیان ہوا ہے۔ ان کے اندر تربیت سے محرومی کے باعث جس طرح نبی ﷺ کی عظمت کا صحیح شعور مفقود تھا اسی طرح اسلامی اخوت کے صحیح اسح اس سے بھی یہ لوگ ابھی نا آشنا باقی تھے۔ یہ لوگ مدینہ آتے تو ان میں سے بعض اپنے حریفوں کے خلاف غلط فحیح اطلاعات دے کر نبی ﷺ کو بھی بدگمان کرنے کی کوشش…
Read the full tafseer →6 ۔ 2 یہ آیت اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت ولید بن عقبہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے بنو المصطلق کے صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا لیکن انہوں نے آ کر یوں ہی رپورٹ دے دی کہ انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا جس پر آپ ﷺ نے ان کے خلاف فوج کشی کا ارادہ فرما لیا تاہم پھر پتہ لگ گیا کہ یہ بات غلظ تھی اور ولید ؓ تو وہاں گئے ہی نہیں لیکن سند اور امر واقعہ دونوں اعتبار سے یہ روایت صحیح نہیں ہے اس لیے اسے ایک صحابی رسول ﷺ پر چسپاں کرنا صحیح نہیں ہے تاہم شان نزول کی بحث سے قطع نظر اس میں ایک نہایت ہی اہم اصول بیان فرمایا گیا ہے جس کی انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر نہایت اہمیت ہے ہر…
Read the full tafseer →3: اس آیت کے شان نزول میں حافظ ابن جریر اور دوسرے مفسرین نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ کو حضور اقدس ﷺ نے قبیلہ بنومصطلق کے پاس زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ جب یہ ان کی بستی کے قریب پہنچے تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کے بھیجے ہوئے ایلچی کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں بستی کے باہر جمع ہوگئے۔ ولید بن عقبہ یہ سمجھے کہ یہ لوگ لڑائی کے لیے باہر نکل آئے ہیں۔ بعض روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ ان کے اور بنو مصطلق کے درمیان جاہلیت کے زمانے میں کچھ دشمنی بھی تھی۔ اس لیے حضرت ولید کو یہ خطرہ ہوا کہ وہ لوگ اس پرانی دشمنی کی بناء پر ان سے لڑنے کے لیے نکل آئے ہیں۔ چنانچہ وہ بستی میں داخل ہونے کے…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ فعلتم ندمین (49 : 6) “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پشیمان ہو ”۔
اہل ایمان کو پہلی پکار یہ تھی کہ تم نے رہنمائی کہاں سے لینی ہے اور تمہاری قیادت کہاں ہے ۔ دوسری پکار۔
یایھا الذین امنوا کے ساتھ یہ تھی کہ اس قیادت کے حقوق اور ملنے کے آداب یہ ہیں۔ یہ دونوں باتیں تو اس سورت کی بیشتر ہدایات اور آداب اور قوانین کی بنیاد تھیں۔ کیونکہ مسلمانوں کو یہ بتانا بھی ضروری تھا کہ ہدایت و ارشاد کا سر چشمہ کہاں ہے۔ اور یہ بھی بتانا ضروری تھا کہ…
Read the full tafseer →2 اکثر نزاعات و مناقشات کی ابتداء جھوٹی خبروں سے ہوتی ہے۔ اس لیے اول اختلاف و تفریق کے اسی چشمہ کو بند کرنے کی تعلیم دی یعنی کسی خبر کو یوں ہی بےتحقیق قبول نہ کرو۔ فرض کیجیے ایک بےراہرو اور تکلیف دہ آدمی نے اپنے کسی خیال اور جذبہ سے بےقابو ہو کر کسی قوم کی شکایت کی۔ تم محض اس کے بیان پر اعتماد کر کے اس قوم پر چڑھ دوڑے، بعدہ ' ظاہر ہوا کہ اس شخص نے غلط کہا تھا، تو خیال کرو اس وقت کس قدر پچھتانا پڑے گا۔ اور اپنی جلد بازی پر کیا کچھ ندامت ہوگی اور اس کا نتیجہ جماعت اسلام کے حق میں کیسا خراب ہوگا۔
Read the full tafseer →آئندہ آیات میں آٹھ خصوصی احکام کا ذکر ہے۔ ان میں دو بڑے احکام ہیں اور چھ چھوٹے۔ بڑے اور چھوٹے کی یہ تقسیم میں نے اس بنیاد پر کی ہے کہ ان میں دو احکام ایسے ہیں جن میں سے پہلے حکم کے لیے تین اور دوسرے کے لیے دو آیات مختص کی گئی ہیں ‘ جبکہ بعد کے چھ احکام مجموعی طور پر دو آیات میں بیان ہوئے ہیں ‘ یعنی ان میں سے تین تین احکام کو ایک ایک آیت میں جمع کردیا گیا ہے۔ ان تمام احکام کا تعلق اسلامی معاشرے اور غلبہ دین کے لیے کھڑی ہونے والی تنظیم کو مضبوط اور مربوط رکھنے سے ہے۔ اگر کوئی تنظیم خود مضبوط و مربوط نہیں ہوگی تو ظاہر ہے اس کی جدوجہد بھی کمزور اور غیر موثر رہے گی۔ بہر حال ان آٹھ احکام میں ایسے…
Read the full tafseer →7 خبر کی تحقیق کی ضرورت اس صورت میں ہے جب خبردینے والے کا کردار پوری طرح معلوم نہ ہو :۔ بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ قبیلہ بنی مصطلق جب مسلمان ہوا تو رسول اللہ نے ولید بن عقبہ کو ان سے زکوٰۃ لینے کے لئے بھیجا۔ ولید بن عقبہ کے قبیلہ اور بنی مصطلق میں پہلے سے دشمنی چلی آرہی تھی۔ جب ولید بن عقبہ ان کے ہاں گئے تو کسی وجہ سے ڈر گئے اور واپس آکر آپ سے کہہ دیا کہ وہ زکوٰۃ دینے سے انکاری ہیں۔ بلکہ وہ تو مجھے بھی قتل کردینا چاہتے تھے۔ بعض لوگوں نے یہ رائے دی کہ ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے ان پر چڑھائی کرنا چاہئے مگر آپ اس معاملہ میں متأمل تھے۔ اسی دوران بنی مصطلق کا سردار حارث بن ضرار (ام المومنین سیدنا…
Read the full tafseer →7۔ (تو ایسے امکانات جب رسول اللہ ﷺ کی خود حیات مبارک میں تھے تو اب تو ظاہر ہے کہ یہ احتمالات بہت زائد ہیں) (آیت) ” بنبا “ نباء سے اس سیاق میں مراد ایسی چیز ہے جس میں کسی کی شکایت نکلتی ہو، اور اس پر عمل کرنے سے کسی کا ضرر لازم آتا ہو۔ (آیت) ” فتبینوا “۔ یعنی بلاتحقیق عمل نہ کربیٹھو، بلکہ عمل سے قبل خوب چھان بین کرلو۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ اس اجمالی حکم تحقیق کے اندر چند تفصیلات ہیں :۔
(1) تحقیق واجب۔ مثلا خلیفہ جب یہ سنے کہ فلاں شخص مرتد ہورہا ہے یا فلاں شخص قتل و غارت کا اقدام کررہا ہے وقس علی ہذا۔ ایسے موقع پر تحقیق نہ کرنے سے کسی واجب کا فوت لازم آتا ہے۔
(2) تحقیق جائز۔ مثلا کسی نے یہ…
Read the full tafseer →شان نزول :
یا ایھا الذین امنوا ان جاء کم فسق بنباً (آلایۃ) اس آیت کے نزول کا واقعہ ابن کثیر نے بحوالہ مسند احمد یہ نقل کیا ہے کہ قبیلہ بنی مصطلق کے رئیس حارث بن ضرار جن کی صاحبزادی حضرت میمونہ بنت حارث امہات المومنین میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا، میں نے اسلام قبول کیا اور زکوۃ ادا کرنے کا اقرار کیا اور عرض کیا کہ اب میں اپنی قوم میں جا کر اپنی قوم کو اسلام اور ادائے زکوۃ کی دعوت دوں گا، جو لوگ میرے بات مان لیں گے اور زکوۃ ادا کریں گے میں ان کی زکوۃ جمع کر لوگں، اور آپ فلاں مہینہ کی فلاں تاریخ تک اپنا…
Read the full tafseer →یا یھا الذین امنوا ان جاء کم فاسق بنبا فتبینموا ان تصیبوا قوما بجھالۃ فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین . اے ایمان والو ! اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (کہیں) کسی قوم کو انجانے
میں ضرر نہ پہنچا دو ۔ پھر اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔ طبرانی نے بھی ایسی ہی حدیث حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے اور علقمہ بن ناحیہ اور حضرت ام سلمہ ؓ کے حوالہ سے نقل کی ہے۔ ابن جریر نے بھی بوساطت عوفی حضرت ابن عباس کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ طبرانی نے حضرت ام سلمہ کی روایت سے نیز بغوی نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے حق میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے ولید کو بنی…
Read the full tafseer →یہ آیت بھی ایک واقعہ کے تحت نازل ہوئی ہے وہ یہ کہ رسول اکرم نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنی مصطلق سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، یہ راستہ ہی سے واپس آگئے اور اپنے خیال کے مطابق کہ دیا کہ وہ لوگ تو میرے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں یہ سن کر رسول اکرم اور صحابہ کرام نے ان لوگوں سے لڑائی کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا اور یہ حکم دیا کہ اے ایمان والو اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے جیسا کہ ولید بن مصطلق کی خبر لایا ہے تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو کہ صحیح ہے یا غلط، کہیں کسی قوم کو اپنی نادانی سے کوئی نقصان نہ پہنچا دو پھر اس لیے پچھتانا پڑے۔
شان نزول : يٰٓاَيُّهَا…
Read the full tafseer →(1) یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنبا فتبینوا : ”فاسق“ جو دین کی کسی حد سے یا تمام حدوں سے نکل جائے، جن کی پابندی لازم ہے۔ اس کا اشتقاق ”فسق الرطب“ (تازہ کھجور چھلکے سے باہر نکل گئی، یعنی پھٹ گئی) سے ہے۔ اس کا اکثر استعمال نافرمانی کے مرتکب مسلمان پر ہوتا ہے، کافر پر بھی یہ لفظ بول لیا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(افمن کان مومنا کمن کان فاسقاً لایستون) (السجدۃ :18)”تو کیا وہ شخص جو مومن ہو وہ اس کی طرح ہے جو نافرمان ہو ؟ برابر نہیں ہوتے۔“”نبا“ کوئی اہم خبر۔ راغب نے فرمایا :”خبر کو ”نبا“ اس وقت کہتے ہیں جب اس سے کوئی عظیم فائدہ حاصل ہوتا ہو، ایسی ہی خبر سے کسی بات کا یقین یا غلبہ ظن حاصل ہوتا…
Read the full tafseer →اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ کے حق میں نازل ہوء اس کا سبب وہ ہے جسے قتادہ سے روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ولید بن عقبہ کو بنی مطلق کے صدقات وصول کرنے والا بنا کر بھیجا جب بنی مطقطق نے اسے دیکھا تو استقبال کے لئے آگے بڑھے تو یہ ان سے خوفزدہ ہوگیا ایک روایت میں ہے یہ اس کینہ کی وجہ سے تھا جو ان کے اور بنی مصطلق کے درمیان تھا۔ وہ نبی کریم ﷺ کی طرف لوٹ آیا اس نے نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ وہ مرتد ہوگئے ہیں نبی کریم ﷺ نے حضرت خالد بن ولید کو بھیجا اور انہیں حکم دیا : کہ ”‘ وہ چھان بین کے حملہ میں جلدی نہ کرے ‘ حضرت خالد چلے جہاں تک کہ رات کے…
Read the full tafseer →کسی خبر پر بلاتحقیق عمل کرنا جائز نہیں :
1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن منذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے جید سند کے ساتھ حارث بن ضرار خزاعی ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی میں نے اسے قبول کرلیا اور میں نے اس کا اقرار بھی کرلیا اور آپ نے زکوٰۃ کی طرف بلایا میں نے اس کا بھی اقرار کرلیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی قوم کی طرف جاتا ہوں اور ان کو اسلام قبول کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے پر دعوت دوں گا جنہوں نے میری دعوت کو قبول کرلیا تو میں زکوٰۃ کو جمع کرلوں گا پھر یا رسول اللہ ﷺ آپ میرے پاس ایک قاصد بھیج دیجئے اس طرح اور اس طرح اس کی وضاحت…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْٓا [ایمان لائے ] اِنْ جَاۗءَكُمْ [ اگر آئے تمہارے پاس ] فَاسِقٌۢ [ کوئی احتیاط نہ کرنے والا ] بِنَبَاٍ [کسی خبر کے ساتھ ] فَتَبَيَّنُوْٓا [ تو تحقیق کرلو ] اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا [ کہیں تم لوگ جالگو کسی قوم کو ] بِجَــهَالَةٍ [ غلط خیالات کے سبب سے ] فَتُصْبِحُوْا [ نتیجۃ تم لوگ ہوجاؤ] عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ [ اس پر جو تم لوگوں نے کیا ] نٰدِمِيْنَ [پشیمان ہونے والے ]
Read the full tafseer →کوئی فاسق خبر دے تو اچھی طرح تحقیق کرلو ایسا نہ ہو کہ نادانی کی وجہ سے کسی قوم کو ضرر پہنچا دو
معالم التنزیل 212 ج 4 میں لکھا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی واقعہ یوں پیش آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو قبیلہ بنی المصطلق کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا جب ان لوگوں کو پتہ چلا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک شخص ہمارے قبیلہ کی زکوٰۃ وصول کرنے کے پہنچ رہا ہے تو لوگوں نے آبادی سے باہر آکر اکرام کے طور پر ان کا استقبال کیا چونکہ زمانہ جاہلیت میں ولید بن عقبہ اور قبیلہ مذکورہ کے درمیان عداوت تھی اس لیے شیطان کو ان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالنے کا موقع مل گیا کہ لوگ تمہیں قتل کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
تنبیہ وتہدید بر بےتمیزی وبیحرمتی دربارگاہ رسالت وتلقین آداب تعظیم و اطاعت :
(ربط) گذشتہ آیات میں ان حقوق وآداب کا ذکر تھا جو رسول ﷺ کی ذات اقدس کے لیے امت پر عائد اور فرض ہیں اور ان حقوق میں کوتاہی پر وعید وتنبیہ تھی اور یہ کہ یہ ایسی خطرناک تقصیر وغلطی ہے کہ مسلمان سرمایہ اعمال سے ہی محروم ہوسکتا ہے، جو اس نے اپنی زندگی میں کمایا تو اب ان آیات میں بعض ایسی گستاخیوں اور بےتمیزیوں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جو جہلاء اور کم عقل لوگوں سے پیش آتی تھیں اور اس پر تنبیہ کی گئی اور یہ بتایا جارہا ہے کہ پیغمبر خدا ﷺ کو مخاطب بنانے اور آپ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر بات کرنے کا کیا طریقہ ہے ادب اور تعظیم و…
Read the full tafseer →6:۔ ” یا ایہا الذین امنوا ان جاء کم “ یہ تیسرا قانون ہے کہ جب تمہیں کسی قوم کے بارے میں مخالفت کی خبر ملے تو اس کے خلاف کسی قسم کی جنگی کارروائی کرنے سے پہلے اس خبر کی پوری تحقیق کرلو ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کسی قوم کو نقصان پہچنا دو اور بعد میں تمہیں اپنے کیے پر نادم و پشیمان ہونا پڑے۔ ” ان تصیبوا ای لئلا تصیبوا او کراھیۃ ان تصیبوا “ (روح) ۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ولید بن عقبہ ؓ کو بنی مصطلق میں صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب بنی مصطلق کو ان کی آمد کا علم ہوا تو وہ استقبال کے لیے گاؤں سے باہر نکل آئے۔ اسلام سے پہلے ان کے اور ولید بن عقبہ ؓ کے درمیان مخالفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ربط آیات
مسلمانوں کی جماعتی اور اجتماعی زندگی کو درست رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں بڑے اہم ضوابط بیان کیے ہیں ۔ پہلا ضابطہ یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے آگے نہ بڑھو اور دوسرا یہ کہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یعنی تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ نے تیسرا ضابطہ یہ دیا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی آواز سے اپنی آواز کو بلند نہ کرو اور آپ کے جانشینوں کے ساتھ بھی اسی ادب و احترام کا سلوک کرو ، گویا کہ جب تم نبی سے گفتگو کرو تو اپنی آواز کو پست رکھو اور اس طرح کڑک کر نہ بولو جس طرح آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بلند آواز سے گفتگو رتے ہو ۔ اگر ایسا کرو گے تو تمہارے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ 6
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
ترکیب : ان تصیبوا مفعول لہ ای خشیۃ ذلک بجہالۃ حال من الفاعل ای جاھلین۔ لویطیعکم مستانف ویجوزان یکون فی موضع الحال و العامل فیہ الاستقرار کقولک مررت برجل لوکلمۃ کلمنی فکما جاز و قوعہ صفۃ للنکرۃ جاز وقوعہ حالا فضلا مفعول لہ طائفتان فاعل فعل محذوف اخویکم بالتثنیۃ والجمع الاخوۃ جمع الاخ۔
چوتھا حکم : یا ایہا الذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنبافتبینوا کہ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لاوے تو جانچ لیا کرو یہ نہیں کہ جو کسی سے سنا یقین کرلیا اور اس پر کاربند ہوگئے کیونکہ ایسی صورتوں میں باہم لڑانے کے لیے بہت سے جھوٹے افسانے غماز بنا لایا کرتے ہیں ان پر باور کر کے کسی سے لڑ پڑے یا رنجیدہ ہو کر ان کے…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَآئَ کُمْ فَاسِقٌ م بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًا م بِجَھَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ ۔ (الحجرات : 6)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی اہم خبر لائے تو تحقیق کرلیا کرو، مبادا کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو پھر تمہیں اپنے کیے پر پشیمانی ہو۔ )
مسلمانوں کی اجتماعیت کو نقصان سے بچانے کے لیے ایک ہدایت
مسلمانوں کی اجتماعیت کو ایسے نقصان سے بچانے کے لیے جس سے ان کی شیرازہ بندی کو نقصان پہنچ سکتا ہے اس آیت میں ایک ہدایت فرمائی گئی ہے کہ مدینہ اس وقت چونکہ اعدائے دین سے گھرا ہوا ہے، قرب و جوار کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فہم القرآن
ربط کلام : نبی محترم ﷺ کے احترام کا یہ بھی تقاضا ہے کہ جب مسلمانوں میں کوئی بدگمانی یا افواہ پھیل جائے تو اسے نبی ﷺ کے سامنے پیش کریں تاکہ اس کا بروقت تدارک ہوسکے۔ نبی ﷺ کے بعد مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ہر چیز کی تصدیق کرلیا کریں۔
اس آیت کے شان نزول میں بعض مفسرین نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کا واقعہ نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ ٹھیک نہیں، بہرحال بنیادی اصول یہ ہے کہ جب کوئی فاسق یا غیر ذمہ دار شخص کسی مسلمان کے بارے میں بدگمانی پیدا کرے یا کوئی ملک و ملت کے خلاف افواہ اڑائے تو ہر حال میں اس کی تحقیق کرلینی چاہیے تاکہ مسلمان اس کے نقصان اور پریشانی سے محفوظ رہیں۔ اس اصول کے پیش نظر ایک دفعہ…
Read the full tafseer →ولید بن عقبہ کی بدگمانی :
آیت 6 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِنْ جَآئَ کُمْ فَاسِقٌم بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْا (اے ایمان والو ! اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اچھی طرح تحقیق کرو) اس بات پر مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ ولید بن عقبہ کے متعلق نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ کی وصولیابی کیلئے عامل مقرر فرمایا۔ ان کے اور بنو مصطلق کے درمیان زمانہ جاہلیت میں چپقلش تھی۔ پس جب وہ ان کے گھروں کے قریب پہنچا تو وہ ان کا استقبال کرنے نکلے۔ اس نے گمان کیا کہ وہ اس سے لڑنے نکلے ہیں۔ وہاں سے واپس رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لوٹ کر کہہ دیا۔ وہ تو مرتد ہوگئے اور انہوں نے…
Read the full tafseer →5 ۔ ان الذین ینادونک ……………………غفوررحیم ۔ بغوی نے قتادہ اور جابر کی روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے کہ یہ آیت (یعنی یہ آیت اور اس کے بعد کی عبارت) بنی تمیم کے کچھ خانہ بدوش، بدویوں کے متعلق نازل ہوئی جنہوں نے دروازہ پر (پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کو) آوازیں دی تھیں۔ حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے کہ دروازہ پر پہنچ کر انہوں نے پکار مچائی : محمد ! (ﷺ ) باہر نکل کر آئو۔ ہماری طرف سے (کسی کی) تعریف (اس کے لئے) باعث زینت ہے اور ہماری طرف سے (کسی کی) مذمت موجب عیب ہے۔ آواز سن کر حضور ﷺ یہ کہتے ہوئے باہر تشریف لائے کہ ایسا تو بس اللہ ہے جس کی طرف سے کسی کی ستائش موجب زینت اور مذمت موجب عیب ہے۔ دیہاتی بولے :…
Read the full tafseer →6۔ مسند امام 2 ؎ احمد طبرانی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں معتبر سند سے حارث بن ضرار خزاعی کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہماری قوم میں ولید ؓ بن عقبہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا قوم کے لوگ ولید کے آنے کی خبر سند کر ولید کی پیشوائی کو بستی کے باہرنکلے تو ولید نے قوم کے اسلام سے پھرجانے کا اندیشہ کرکے مدینہ کا راستہ پکڑا اور مدینہ میں یہ خبر مشہور کردی کہ حارث کی قوم مرتد ہوگئی۔ حارث کہتے ہیں کہ ولید کے پیچھے پیچھے میں بھی مدینہ کو آیا اور اللہ کے رسول ﷺ سے ساراماجرا بیان کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمایا اے ایمان والو جھوٹی خبر کا حال ذرا دریافت کرلیا کرو تاکہ بےبنیاد…
Read the full tafseer →یہ بھی ان آداب میں شامل ہے جن پر عقل مند لوگ عمل پیرا ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی فاسق شخص خبر لے کر آئے تو وہ اس کی خبر کی تحقیق کرلیا کریں اور تحقیق کے بغیر اس پر عمل نہ کریں، کیونکہ اس میں بہت بڑے خطرے اور گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے، کیونکہ جب فاسق و فاجر شخص کی خبر کو صادق اور عادل شخص کی خبر کے طور پر لیا جائے، اور اس کے موجب اور تقاضے کے مطابق حکم لگایا جائے، تو اس خبر کے سبب سے ناحق جان و مال کا اتلاف ہوگا جو ندامت کا باعث ہوگا۔ فاسق و فاجر کی دی ہوئی خبر سننے کے بعد اس کی تحقیق و تبین واجب ہے۔ اگر دلائل اور قرائن اس کی صداقت پر دلالت کرتے ہوں تو اس پر عمل کیا جائے اور اس کی تصدقی کی جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فاسق کی دی ہوئی خبر کا حکم
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالۃ۔ اے ایمان لانے والو ! اگر فاسق شخص تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تم تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ کہیں تم نادانی سے کسی قوم کو ضرر پہنچادو) تا آخر آیت۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی۔ انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے ولید ؓ بن عقبہ کو بنو المصطلق کی طرف بھیجا۔ ولید ؓ ان کے پاس پہنچے تو وہ لوگ انہیں خوش آمدید کہنے کے لئے باہر نکل آئے۔ یہ دیکھ کر ولید ؓ ڈر گئے اور واپس حضور ﷺ کے پاس آگئے اور آکر…
Read the full tafseer →[ 14] خبر کے قبول کرنے کے بارے میں احتیاط اور تحقیق کی ہدایت :
سو اس ارشاد سے فاسق کی خبر پر عمل سے پہلے اس کی تحقیقی کی ضرورت کو بیان فرمایا گیا ہے۔ روایات کے مطابق آنحضرت ﷺ نے حضرت ولید بن عقبہ ؓ کو بنو مصطلق سے زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا۔ اور ان کے ساتھ ان لوگوں کو اسلام سے پہلے کی کوئی عداوت چلی آرہی تھی۔ اس بنا پر ان کے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ شاید وہ لوگ مجھے قتل کردیں۔ تو یہ راستے سے ہی واپس لوٹ کر آگئے۔ اور بعض روایات کے مطابق آپ وہاں پہنچے تو وہ لوگ آپ ؓ کے استقبال کیلئے نکل آئے۔ مگر انہوں نے سمجھا کہ شاید یہ مجھے قتل کرنے کی غرض سے نکلے ہیں۔ اس لئے یہ بھاگ کر واپس آگئے۔ اور آکر…
Read the full tafseer →خبر کی تحقیق ضروری ہے
تشریح : اس آیت کا شان نزول مولانا مودودی صاحب تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں کہ اکثر مفسرین کا بیان ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ واقعہ اس طرح ہے کہ قبیلہ بنی المصطلق جب مسلمان ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ کو ان لوگوں سے زکوٰۃ لینے بھیجا۔ مگر وہ کسی وجہ سے وہاں نہیں گئے اور واپس آکر کہہ دیا کہ وہ زکوٰۃ دینے سے انکار کررہے ہیں اور مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ خبر سن کر نبی اکرم ﷺ نے فوج کشی کا ارادہ کرلیا مگر قبیلہ کے سردار حارث بن ضرار آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے اور بتایا کہ ” ولید بن عقبہ تو وہاں گئے تک نہیں ہم لوگ اپنے عہد پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
نیز اصلاح عالم کی جہاد کی غرض یہی ہے کہ پہلے اصلاح نفس کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ادب واحترام نبوی پر ہے چہ جائیکہ کوئی اطاعت وغلامی میں پس وپیش کرے۔ حد ادب یہ ہے کہ کبھی کسی کام میں یا کسی بات میں رسول اللہ پر سبقت نہ کیا کرو کہ یہ ایسے ہے جیسے اللہ کی ذات پر کسی نے سبقت کی کہ آپ کا ارشاد ہی اللہ کا ارشاد ہے اور اس معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے ۔
اصلاح نفس کی بنیاد ادب ہے بارگاہ نبوی میں اس کی ضرورت قرآن نے بتادی علماء مشائخ وارث نبوت ہو کر ادب کے مستحق ہیں۔
نیز اپنی آواز کو پست رکھا کرو اور کبھی بھی نبی کریم کی آواز سے بلندآواز میں بات نہ کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 4 تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت والید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی جسے آنحضرت نے قبیلہ اپنی المصلق سے زکوۃ وصول کرنے بھیجا یہ راستہ میں کسی وجہ سے ڈر گیا (غالباً ) اس وجہ سے کہ زمانہ جاہلیت سے بنی المطلق اور اس کے قبیلہ میں دشمنی چلی آتی تھی اور وہیں سے مدینہ واپس ہو کر آنحضرت سے شکایت کی کہ نبی المطلق نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا ہے بلکہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔ آنحضرت نے یہ سن کر بنی المطلق ادھر سے بنی المطلق کے سردار حارث بن ضرار ام المومنین حضرت جویریہ کے والد اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آتے نظر آئے۔ قریب پہنچ کر انہوں نے لشکر والوں سے دریافت کیا کہ آپ لوگ کدھر جا رہے…
Read the full tafseer →(49:6) ان جاء کم فاسق بنیا۔ جملہ شرط ہے فتبینوا جواب شرط ہے ۔ ان حرف شرط ہے فاسق اسم فاعل۔ واحد ذکر۔ فسق (باب نصر و ضرب) مصدر۔ بدکردار۔ دوستی سے نکل جانے والا۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا۔ بدچلن۔ شریعت کی اصطلاح میں حدود شریعت سے نکل جانے والا۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل جانیوالا۔
فسقت الرطبۃ عن قشرھا۔ کھجور اپنے چھلکے سے باہر نکل آئی۔ اسی سے فاسق بنایا گیا ہے کیونکہ وہ بھی خیر سے باہر نکل آتا ہے۔ نبا۔ خبر۔ ایسی خبر کہ جس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہوں۔ (ن ب ء مادہ) ۔ فتبینوا :جواب شرط کے لئے ہے تبینوا فعل امر جمع مذکر حاضر، تبین (تفعل) مصدر۔ تم تحقیق کرلو۔ تم کھول لو۔
ان مصدریہ ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
لغار القرآن آیت نمبر ( 6 تا 8) ۔
نبا (خبر) ۔ تبینو ا (چھان بین کرلیا کرو) ۔ ان تصیبوا (یہ کہ تم پہنچ جاؤ۔ یہ کہ تم جا پڑو) ۔ جھالتہ (نادانی۔ ناوقفیت) ۔ فعلتم (تم نے کیا) ۔ لعنتم (البتہ تم مصیبت میں پڑجاتے) ۔ حبب (محبوب بنا دیا۔ محبت ڈال دی) ۔ زینہ (اس کو خوبصورت بنادیا) ۔ کرہ (نفرت ڈال دی) ۔ الفسوق (گناہ۔ نافرمانی) ۔ العصیان (نافرمانی) ۔ راشدون (راہ پائے ہوئے) ۔
تشریح : آیت نمبر (6 تا 8) ۔ ” عام آدمی کی لغزش، غلطی اور نافرمانی کو گناہ اور فسق کہا جاتا ہے لیکن بعض ایسی با عظمت اور اہم شخصیات جو دوسروں کے لئے نمونہ ہوتی ہیں ان کی ممولی سی بات لغزش اور بھول بھی بڑی بات سمجھی جاتی ہے اور ان کی…
Read the full tafseer →(ف 2) شان نزول۔
یہ آیت ولید بن عقبہ کے حق میں نازل ہوئی نبی ﷺ نے ان کو بنی مصطلق سے صدقات وصول کرنے بھیجا تھا اور زمانہ جاہلیت میں ان کے اور ان کے درمیان عداوت تھی جب ولید ان کے دیار کے قریب پہنچے اور انہیں خبر ہوئی تو اس خیال سے کہ وہ نبی ﷺ کے بھیجے ہوئے ہیں بہت سے لوگ تعظیما ان کے استقبال کے واسطے آئے، ولید نے گمان کیا کہ یہ پرانی عداوت سے مجھے قتل کرنے آرہے ہیں یہ خیال کرکے ولید واپس ہوگئے اور نبی ﷺ سے عرض کیا کہ حضور ان لوگوں نے صدقہ کو منع کردیا ہے اور میرے قتل کے درپے ہوگئے حضور نے خالد بن ولید کو تحقیق حال کے لیے بھیجا، حضرت خالد نے دیکھا کہ وہ لوگ اذانیں کہتے ہیں نماز پڑھتے ہیں ، اور…
Read the full tafseer →[5] فاسق سے مراد ہے شریعت کے حدودوقیود سے بےپروا مسلمان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
ف 1: عنیہ بن حصن انفراری اور اقرع بن حابس کوئی ستر آدمیوں کے ساتھ حضور ﷺ سے ملنے کے لئے آئے ۔ حضور ﷺ اس وقت حرم میں تشریف فرما تھے یہ لگے زور زور سے آوازیں دینے ، اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ اس طرح آپ کو مخاطب کرنا بےادبی اور بےعقلی ہے ۔ ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ اطلاع کرادیتے اور پھر انتظار کرتے حتیٰ کہ حضور ﷺ تشریف لے آتے اور ان کی معروضات کو توجہ سے سن لیتے ۔ یاد رہے کہ یہ حکم اس وقت پیغمبر جلالت قدر کے تحفظ کے لئے ضروری تھا ۔ اور اسلام چونکہ ہر زمانے کے لئے موجب خیروبرکت ہے اس لئے اب اس کے یہ معنے ہونگے ۔ کہ دین میں خواہ مخواہ موشگافیاں کرنا درست نہیں ہیں جب تک کہ سنت خود کسی مسئلہ کی…
Read the full tafseer →(6) اے ایمان والو اگر کوئی گناہ گار اور شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس خبر کی خوب چھان بین کرلیا کرو اور تحقیق کرلیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنی لاعلمی اور نادانی سے کسی قوم کو ضرر پہنچا دو پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے پھرو۔ اور پشیمان ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
ف 3۔ اس کے نزول کا واقعہ اس طرح ہوا (اور پھر حکم عام ہے) کہ حضور ﷺ نے ولید بن عقبہ کو قبیلہ بنو مصطلق سے زکوٰة وصول کرنے کے لئے بھیجا، اور ایک روایت میں بنی وکیعہ آیا ہے، ولید میں اور ان میں زمانہ جاہلیت میں کچھ عداوت تھی، ولید کو ہاں جاتے ہوئے کچھ اندیشہ ہوا، ان لوگوں نے سن کر استقبال کیا، ولید کو یہ گمان ہوا کہ یہ لوگ بارداہ قتل آئے ہیں، واپس آکر اپنے خیال کے موافق کہہ دیا کہ وہ تو مخالفت اسلام ہوگئے، آپ ﷺ نے حضرت خالد کو تحقیق حال کے لئے بھیجا اور فرمادیا کہ خوب تحقیق کرنا، اور جلدی مت کرنا، چناچہ انہوں نے وہاں بجز اطاعت اور خیر کے کچھ نہ دیکھا، آکر آپ ﷺ کا اطمینان کردیا، اس پر یہ حکم نازل…
Read the full tafseer →ایک بات کو سن کر اس کے صحیح یا غلط ہونے کی جانچ کرنا بھی ایمان والوں کے لیے ضروری ہے
6 ۔ یہ بات بھی ان باتوں میں سے ہے جن کا مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ تم ایسا اور ایسا ضرور کیا کرو اور اسی طرح ایسا اور ایسا بالکل نہ کیا کرو یعنی نفی اور اثبات دونوں طرح کے احکام ہیں ان میں سے یک یہ حکم بھی ہے کہ جب تم کسی شخص سے کوئی بات سنو تو سنتے ہی آگے مت پہنچائو بلکہ توقف کرو یہاں تک کہ اس کے صحیح یا غلط ہونے کی تصدیق ہوجائے پھر یہ بھی کہ باتوں کی اپنی اپنی اہمیت ہوتی ہے جتنی بات اہم ہوگی اتنی ہی اس کی احتیاط زیادہ ہوگی اس طرح بعض باتیں انفرادی ہوتی ہیں اور بعض اجتماعی ، قومی اور انفرادی باتوں کی…
Read the full tafseer →Background of Revelation
According to Ibn Kathir, it is reported in Musnad of Ahmad that Harith Ibn Dirar Ibn Abi Dirar, the leader of the tribe of Banul-Mustaliq, whose daughter Sayyidah Juwairiyah ؓ was one of the blessed wives of the Holy Prophet ﷺ ، came up to the Holy Prophet ﷺ ، and he called him towards Islam and asked him to pay his Zakah. He says, "I embraced Islam and pledged to pay Zakah, and said to the Holy Prophet ﷺ that I would go to my people, call them towards Islam and ask them to pay Zakah. Those who would accept my invitation and pay the compulsory alms, I would collect…
Read the full tafseer →8 Most of the commentators have expressed the view that this verse was sent down concerning Walid bin 'Uqbah bin Abi Mu'ait. Its background is this: When the tribe of the Bani al-Mustaliq embraced Islam, the Holy Prophet sent Walid bin `Uqbah to collect the zakat from them. When he arrived in their territory, he became scared due to some reason and without visiting the people of the tribe returned to Madinah and complained to the Holy Prophet that they had refused to pay the zakat and had even wanted to kill him. On hearing this the Holy Prophet became very angry and he made up his mind to…
Read the full tafseer →