Al-Hujuraat 49:5

Al-Hujuraat · from ayah 5

49:5

وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ ؕ— وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟وَلَوۡ اَنَّهُمۡ صَبَرُوۡا حَتّٰى تَخۡرُجَ اِلَيۡهِمۡ لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

اور اگر وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ تم خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if they had been patient until you [could] come out to them, it would have been better for them. But Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hujuraat

All translations of 49:5

اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لیے بہتر تھا، اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ تم خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر یہ لوگ یہاں تک صبر کرتے کہ آپ خود سے نکل کر ان کے پاس آجاتے تو یہی ان کے لئے بہتر ہوتا، اور اللہ غفور ورحیم ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر یہ لوگ اس وقت تک صبر کرتے جب تک تم خود باہر نکل کر ان کے پاس آجاتے، تو ان کے لیے بہتر ہوا اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر وہ لوگ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود ہی ان کی طرف باہر تشریف لے آتے تو یہ اُن کے لئے بہتر ہوتا، اور اﷲ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر بیشک وہ صبر کرتے، یہاں تک کہ تو ان کی طرف نکلتا تو یقینا ان کے لیے بہتر ہوتا اور اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر یہ لوگ صبر کرتے تاآنکہ آپ ان کی طرف نکلتے تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔ اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر یہ لوگ صبر کے ساتھ اتنا انتظار کرلیتے کہ تم خود ان کے پاس نکل کے آجاتے تو یہ بات ان کے حق میں بہتر ہوتی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر یہ لوگ صبر سے کام لیتے یہاں تک کہ آپ ﷺ خود ہی ان کے پاس نکل آتے تو یہ زیادہ بہتر ہوتا خود ان کے لئے اور اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا انتہائی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود ان کے پاس باہر آجاتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور اللہ بڑا مغفرت والا بڑا رحم والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود ان کے پاس نکل کر آجاتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ بہرحال اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر وہ آپ کے باہر آنے تک صبر کرتے تو انہی کے لیے بہتر تھا۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

If they were patient until you went out to them, that would have been better for them. Allah is Most Forgiving, Most Merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Had they remained patient until you come out to them, it would have been much better for them. And Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Had they remained patient until you come out to them, it would have been much better for them. And Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if they had patience till you could come out to them, it would have been better for them. And Allah is Forgiving, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if they had had patience till thou camest forth unto them, it had been better for them. And Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if they had been patient until you [could] come out to them, it would have been better for them. But Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Had they exercised patience until you had come out, it would have been better for them. God is All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

And if they wait patiently until you come out to them, it would certainly be better for them, and Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

And had they had patience till thou camest forth Unto them, it had surely been best for them; and Allah is Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

If only they had patience until thou couldst come out to them, it would be best for them: but Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 49:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–5

آداب خطاب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت بیان کرتا ہے جو آپ کے مکانوں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں جس طرح اعراب میں دستور تھا تو فرمایا کہ ان میں سے اکثر بےعقل ہیں پھر اس کی بابت ادب سکھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ چاہیے تھا کہ آپ کے انتظار میں ٹھہر جاتے اور جب آپ مکان سے باہر نکلتے تو آپ سے جو کہنا ہوتا کہتے۔ نہ کہ آوازیں دے کر باہر سے پکارتے۔ دنیا اور دین کی مصلحت اور بہتری اسی میں تھی پھر حکم دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کو توبہ استغفار کرنا چاہیے کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ یہ آیت حضرت اقرع بن حابس تمیمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحُجُرٰت 6 حضور ﷺ کے عہد مبارک میں جن لوگوں نے آپ کی صحبت میں رہ کر اسلامی آداب و تہذیب کی تربیت پائی تھی وہ تو آپ کے اوقات کا ہمیشہ لحاظ رکھتے تھے۔ ان کو پورا احساس تھا کہ آپ اللہ کے کام میں کس قدر مصروف زندگی بسر فرماتے ہیں، اور ان تھکا دینے والی مصروفیتوں کے دوران میں لازماً کچھ وقت آپ کے آرام کے لیے اور کچھ وقت آپ کی اہم مشغولیتوں کے لیے اور کچھ وقت اپنی خانگی زندگی کے معاملات کی طرف توجہ کرنے کے لیے بھی ہونا چاہیے۔ اس لیے وہ آپ سے ملاقات کے لیے اسی وقت حاضر ہوتے تھے جب آپ باہر تشریف فرما ہوں، اور اگر کبھی وہ آپ کو مجلس میں موجود نہ پاتے تو بیٹھ کر آپ کے برآمد ہونے کا انتظار کرتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–5

(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاۗءِ الْحُـجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ ، اس آیت میں نبی کریم ﷺ کا ایک تیسرا ادب سکھلایا گیا ہے کہ جس وقت آپ اپنے مکان اور آرام گاہ میں تشریف فرما ہوں اس وقت باہر کھڑے ہو کر آپ کو پکارنا خصوصاً گنوارپن کے ساتھ کہ نام لے کر پکارا جائے یہ بےادبی ہے عقل والوں کے لیے یہ کام نہیں۔ حجرات، حجرہ کی جمع ہے اصل لغت میں حجرہ ایک چار دیواری سے گھرے ہوئے مکان کو کہتے ہیں جس میں کچھ صحن ہو کچھ مسقف عمارت ہو۔ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات مدینہ طیبہ میں نو تھیں ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک حجرہ الگ الگ تھا جن میں آپ باری باری تشریف فرما ہوتے تھے۔ حجرات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولوا نھم صبروا حتی تخرج الیھم لکان خیرالھم واللہ غفور رحیم (5) یہ ان کو صحیح ادب کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اگر وہ صبر کے ساتھ تمہارے نکلنے تک انتظار کرلیتے تو یہ چیز ان کے لئے بڑے خیر و برکت کا موجب ہوتی ! آیت کا اسلوب ان کی محرومی پر اظہار حسرت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جس چشمہ فیض پر پہنچے تھے اگر انہوں نے اس کی صحیح قدر پہچانی ہوتی تو اس سے سیراب ہو کر لوٹتے لیکن یہ ان کی محرومی ہے کہ وہاں سے کچھ پانا تو درکنار اپنی نادانی و ناقدر شناسی کے باعث یہ کچھ وھو کے پلٹے ! واللہ غفور رحیم یہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اپنی صفات غفور رحیم کی یاد دہانی فرمائی ہے اور مقصود اس سے نہایت لطیف اناز میں اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 یعنی آپ ﷺ کے نکلنے کا انتظار کرتے اور آپ ﷺ کو آواز دینے میں جلدی نہ کرتے تو دین اور دنیا دونوں لحاظ سے بہتر ہوتا۔ 5۔ 2 اس لیے مواخذہ نہیں فرمایا بلکہ آئندہ کے لیے ادب و تعظیم کی تاکید بیان فرما دی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–5

2: تمیم کے جس وفد کا ابھی ذکر کیا گیا، وہ دوپہر کے وقت مدینہ منورہ پہنچا تھا جبکہ حضور نبی کریم ﷺ آرام فرما رہے تھے۔ یہ لوگ آداب سے واقف نہیں تھے، اس لیے ان میں سے کچھ لوگوں نے آپ کے گھر کے باہر ہی سے آپ کو پکارنا شروع کردیا۔ اس پر اس آیت میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–5

ان الذین ینادونک ۔۔۔۔۔۔۔ لا یعقلون (49 : 4) ولو انھم ۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم (49 : 5) “ اے نبی ؐ جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔ اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لئے بہتر تھا۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان میں سے اکثر عقلمند نہیں ہیں ۔ اور ان کی اس حرکت کو ان کے لئے مکروہ کردیا کیونکہ وہ اسلامی آداب کے خلاف تھی اور نبی ﷺ کی ذات اور آپ کے مقام کے ساتھ جس قدر احترام کا تعلق ہونا چاہئے تھا ، یہ اس کے خلاف تھا ۔ آپ مسلمانوں کے قائد اور مربی تھے اور خدا کے نبی تھے۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ ان کے لئے مناسب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

1 بنی تمیم ملنے کو آئے، حضور ﷺ حجرہ مبارک میں تشریف رکھتے تھے، وہ لوگ باہر سے آوازیں دینے لگے کہ " یا محمد اخرج الینا " (اے محمد ﷺ باہر آئیے) یہ بےعقلی اور بےتہذیبی کی بات تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے مرتبہ کو نہیں سمجھتے تھے۔ کیا معلوم ہے اس وقت آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ یا کسی اور اہم کام میں مشغول ہوں۔ آپ ﷺ کی ذات منبع البرکات تو مسلمانوں کے تمام دینی و دنیاوی امور کا مرکز و ملجاء تھی۔ کسی معمولی ذمہ دار آدمی کے لیے بھی کام کرنا سخت مشکل ہوجائے اگر اس کا کوئی نظام الاوقات نہ ہو۔ اور آخر پیغمبر کا ادب و احترام بھی کوئی چیز ہے چاہیے تھا کہ کسی کی زبانی اندر اطلاع کراتے اور آپ ﷺ کے باہر تشریف لانے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ وَلَوْ اَنَّہُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْہِمْ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} ”اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود ان کے پاس نکل کر آجاتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ بہرحال اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت رحم کرنے والا ہے۔“ چونکہ یہ لوگ آداب معاشرت سے نا آشنا ہیں اور یہ خلافِ ادب حرکت وہ جان بوجھ کر نہیں کرتے رہے ہیں اس لیے اپنے گزشتہ طرز عمل کے حوالے سے تو انہیں معافی کی توقع رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے ‘ لیکن آئندہ کسی سے ایسی کوئی حرکت سرزد نہیں ہونی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 گھر سے بلانے میں ادب کے تقاضے نبی سے انداز گفتگو شائستہ ہونا چاہئے :۔ بنو تمیم کے کچھ لوگ عین دوپہر کے وقت آپ کے ہاں آئے جب آپ آرام فرما رہے تھے۔ اور زور سے چلانے لگے : یامحمد ﷺ ! ) باہر ہمارے پاس آئیے۔ ہماری بڑی اچھی شہرت ہے اور ہماری بڑائی بڑی ہے ۔ ان کے پکارنے کے انداز سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ بدو غیر مہذب اور اجڈ قسم کے جنگلی لوگ تھے۔ جنہیں نہ گھر سے بلانے کا سیلقہ آتا تھا اور نہ گفتگو کرنے کا وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو ہی بہت کچھ سمجھتے تھے۔ غالباً یہ لوگ مسلمان ہوچکے تھے اور اپنے قبیلے کے لئے ایک سردار کی تقرری کی درخواست لے کر آئے تھے۔ جیسا کہ اسی سورة کے حاشیہ نمبر 2 میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔ (اس لیے وہ لوگ اب بھی توبہ کرلیں تو معام ہوجائیں گے) (آیت) ” لکان خیرا لھم “۔ یہ بات ان کے حق میں بہتر اس لیے ہے کہ یہ ان کے ادب واحترام کا ثبوت ہوتا۔ (آیت) ” الیھم “۔ یعنی آپ ﷺ خاص انہیں سے ملنے کو باہر تشریف لائیں، یہ نہیں کہ آپ ﷺ کسی بھی ضرورت سے باہر تشریف لے آئیں، اور یہ لوگ آپ ﷺ پر ہجوم کرنے لگیں۔ رسول کے ادب واحترام کے علاوہ عام افراد امت کو انضباط اوقات کی تعلیم بھی آیت سے ملتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ تک لیے بایں خوش اخلاقی یہ ممکن نہ تھا کہ خلقت سے چوبیس گھنٹہ گھرے ہوئے رہیں اور اپنے لیے کوئی فارغ وقت سرے سے رکھیں ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–5

شان نزول : ان الذین ینادونک من وراء الحجرات یہ آیت بنو تمیم کے بعض گنوار قسم کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی، جنہوں نے ایک روز دوپہر کے وقت جو کہ آنحضرت ﷺ کے قیلو لے کا وقت تھا، حجرے سے باہر کھڑے ہو کر عامیانہ انداز سے، یا محمد یا محمد کی آوازیں لگائیں تاکہ آپ باہر تشریف لے آئیں (مسند احمد) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی اکثریت بےعقل ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ کی جلالت شان اور آپ ﷺ کے ادب و احترام کے تقاضوں کا خیال نہ رکھنا بےعقلی ہے، امام بغوی نے بروایت قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ ذکر کیا ہے کہ قبیلہ بنو تمیم کے لوگ جو آپ کے خدمت میں حاضر ہوئے تھے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے، یہ لوگ دوپہر کے وقت مدینہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولوانھم صبروا حتی تخرج الیھم لکان خیر الیھم وا اللہ غفور رحیم اور اگر یہ لوگ (ذرا) صبر اور انتظار کرتے کہ آپ خود باہر ان کے پاس آجاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اور اللہ غفور ‘ رحیم ہے۔ وَلَوْ اَنَّھُمْ صَبَرُوْا : رسول اللہ ﷺ سے ان کے ملنے کی ضرورت اور آپ ﷺ سے اپنا مقصد حاصل کرنے کی حاجت تھی۔ اس لیے عقل کا تقاضا تھا کہ ایسی شخصیت جس کی عظمت مرتبہ اللہ کی طرف سے بےمثال تھی۔ اس کی وہ لوگ تعظیم کرتے اور نفسانی اغراض کے زیر اثر جو کار برآری میں عجلت پسندی کی تھی ‘ اس سے اپنے آپ کو روکے رکھتے اور اس وقت تک اپنے مقصد کو پیش کرنے سے رکے رہتے کہ حضور ﷺ (مقررہ وقت پر قیلولہ کے بعد اٹھ کر) باہر تشریف لے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ بنی عنبر کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی واقعہ یہ پیش آیا کہ رسول اکرم نے ان کی طرف ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور ان پر عیینہ بن حصن کو امیر بنایا، چناچہ جب یہ لشکر ان کے پاس پہنچا تو یہ سب اپنے اہل و عیال اور اموال چھوڑ کر بھاگ گئے۔ چناچہ ان کی اولاد قید کر کے رسول اکرم کی خدمت میں لائی گئی تو یہ لوگ اس غرض سے مدینہ منورہ آئے کہ فدیہ دے کر اپنی اولاد کو چھڑالیں۔ چناچہ دوپہر آرام کے وقت جبکہ آپ آرام فرما رہے تھے آپ کو حجرے کے باہر سے پکارا کہ محمد ہمارے پاس آؤ، اللہ تعالیٰ نے ان کی اس حرکت کی مذمت فرمائی اور فرمایا اگر یہ لوگ کچھ انتظار کرتے یہاں تک کہ آپ نماز کے لیے خود…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ولم الھم صبروا حتی تخرج الیھم…: یعنی اگر وہ آوازیں دینے کے بجائے صبر کرتے اور آپ ﷺ کے تشریف لانے کا انتظار کرتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا، کیونکہ اس صبر و اتنظار میں اور آپ ﷺ کا ادب محلوظ رکھنے میں انہیں اجر و ثواب ملتا، رسول اللہ ﷺ زیادہ خوش دلی کے ساتھ ان سے ملتے اور زیادہ بہتر طریقے سے ان کی ضرورتیں پوری فرماتے۔ ظاہر ہے جس شخص پر پوری امت کی ذمہ داری کا بوجھ ہے اور وہ ہر وقت اسی فکر و عمل میں مصروف ہے، اگر اس وقت جب وہ گھر میں ہے یہ خیال کئے بغیر کہ اس وقت وہ آرام کر رہا ہے یا گھر کے کسی کام میں مصروف ہے، آوازیں دینا شروع کردیا جائے تو اس خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی جو صبر و انتظار کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یعنی اگر وہ آپ ﷺ کے باہر آنے کا انتظار کرتے تو یہ ان کی دنیا کے لئے موزوں ہوتا۔ نبی کریم ﷺ لوگوں سے حجاب نہ کرتے مگر چند اوقات میں جن میں ضرورت مصروف ہوتے ان اوقات میں آپ کو پریشان کرنا سوء اوبی ہوتی ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ بنو عنبر کے قیدیوں کی سفارش کے لئے آئے تھے رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے نصف کو آزاد کردیا اگر وہ صبر کرتے تو بغیر فدیہ کے آپ سب کو آزاد کردیتے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–5

1:۔ احمد وابن جریر (رح) ابوالقاسم البغوی ابن مردویہ (رح) الطبرانی بسند صحیح من طریق ابی سلمۃ بن عبد الرحمن اقرع بن جابس ؓ سے روایت کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آواز دے، اے محمد ہماری طرف باہر تشریف لایئے آپ نے کوئی جواب نہیں دیا اس نے پھر کہا اے محمد ﷺ میرا تعریف کرنا زینت ہے اور میرا مذمت کرنا عیب ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کے اختیار میں ہے اس پر یہ (آیت) نازل ہوئی ” ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت “ (جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں) ابن منیع نے کہا میں نہیں جانتا کہ اقرع کی یہ روایت اس سند کے بغیر بھی بیان کی گی ہے۔ 2:۔ الترمذی (وحسنہ) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَوْ اَنَّهُمْ [ اور اگر یہ کہ وہ لوگ ] صَبَرُوْا حَتّٰى [ صبر کرتے یہاں تک کہ ] تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ [ آپ نکلتے ان کی طرف ] لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ۭ [ تو یقینا بہتر ہوتا ان کے لیے ] وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ [ اور اللہ بےانتہا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–5

اَمْتَحَنَ لفظ امْتحان سے ماضی کا صیغہ ہے جس کا ترجمہ ” جانچ کرنا “ کیا گیا ہے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں : اِمْتَحَنَ اَخْلَصَ کے معنی میں ہے جس طرح سونے کو پگھلا کر خالص کردیا جاتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے قلوب کو تقویٰ کے لیے خالص کردیا ہے ان کے قلوب میں تقویٰ ہی تقویٰ ہے۔ حضرات صحابہ ؓ کے آداب و احترام کو دیکھو اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کو اور مدح اور توصیف کو دیکھو اور شیعوں کے بغض اور دشمنی کو دیکھو وہ کہتے ہیں کہ تین چار صحابہ کے علاوہ سب کافر تھے۔ (العیاذ باللہ) فائدہ : حضرات علماء کرام نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی قبر شریف کے سامنے بھی آواز بلند کرنا مکروہ ہے جیسا کہ آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–8

تنبیہ وتہدید بر بےتمیزی وبیحرمتی دربارگاہ رسالت وتلقین آداب تعظیم و اطاعت : (ربط) گذشتہ آیات میں ان حقوق وآداب کا ذکر تھا جو رسول ﷺ کی ذات اقدس کے لیے امت پر عائد اور فرض ہیں اور ان حقوق میں کوتاہی پر وعید وتنبیہ تھی اور یہ کہ یہ ایسی خطرناک تقصیر وغلطی ہے کہ مسلمان سرمایہ اعمال سے ہی محروم ہوسکتا ہے، جو اس نے اپنی زندگی میں کمایا تو اب ان آیات میں بعض ایسی گستاخیوں اور بےتمیزیوں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جو جہلاء اور کم عقل لوگوں سے پیش آتی تھیں اور اس پر تنبیہ کی گئی اور یہ بتایا جارہا ہے کہ پیغمبر خدا ﷺ کو مخاطب بنانے اور آپ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر بات کرنے کا کیا طریقہ ہے ادب اور تعظیم و…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

5:۔ ” ان الذین ینادونک “ یہ دیہاتیوں کی ایک جماعت پر زجر ہے۔ بنی تمیم کے اعرابیوں کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوا۔ جب وہ لوگ مسجد نبوی میں پہنچے اس وقت آپ اپنے کسی حجرے میں تشریف فرما تھے انہوں نے آپ کی حجرہ شریفہ سے باہر تشریف آوری کا انتظار کیے بغیر ہی باہر سے یا محمد اخرج الینا کہنا شروع کردیا۔ یعنی اے محمد ! آپ باہر آئیں۔ ان کی تنبیہہ کیلئے یہ آیتیں نازل ہوئیں (روح) جو لوگ حجروں سے باہر کھڑے ہو کر آوازیں دیتے ہیں ان میں اکثر نادان ہیں اور آداب نبوت سے بیخبر ہیں۔ اگر وہ ذرا صبر و تحمل سے کام لیتے اور آپ کی باہر تشریف آوری کا انتظار کرتے تو یہ ان کے لیے بہت بہتر بات تھی جس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 2–5

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں وہ اصول اور قوانین بیان کیے گئے ہیں جن پر عمل کر کے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی امن و سکون کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ ان کے جماعتی نظم و نسق میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور ان کے امور سلطنت بہتر طریقے سے انجام دیے جاسکتے ہیں ۔ گزشتہ آیت کریمہ میں دو اصولوں کا تذکرہ ہوچکا ہے ، پہلا اصول یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے اور حکم سے پہلے پیش قدمی نہ کرو ، بلکہ ہر حالت میں انہی کے فیصلے پر سر تسلیم خم کر دو ۔ اور دوسرا اصول یہ بیان ہوا کہ تقویٰ اختیار کرو یعنی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ نبی کا ادب و احترام اب تیسرے نمبر پر نبی (علیہ السلام) کے ادب و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ اَنَّہُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْہِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّہُمْ۝ 0 ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝ 5 لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

تفسیر : یہ سورة بالاتفاق مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ سورة فتح کے اخیر میں صحابہ ؓ کا مرتبہ اور ان کی بزرگی بیان ہوئی تھی اس لیے اس سورة میں چند آداب تعلیم کرتا ہے تاکہ ان کے برخلاف عمل کرنے سے اس بزرگی میں فرق نہ آوے۔ اس سورة میں تمدن کے متعلق وہ احکام بیان فرمائے ہیں کہ جن سے قوت اعوانیہ و طاقت اجتماعیہ جو اتفاق و محبت باہمی پر مبنی ہے قائم رہے۔ اور سب سے اول مسئلہ سردار کی تعظیم و عظمت کا ہے کیونکہ اس کی عزت دل میں ہوگی تو اس کے احکام کی تعمیل بھی ہوگی وہی تو اس قوت کا جمع رکھنے والا ہے۔ اوّل حکم : اس لیے سب سے اول رسول اللہ ﷺ کی جناب سے ادب ملحوظ رکھنے کے احکام صادر فرمائے۔ فقال یا ایہا الذین…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَـکَ مِنْ وَّرَآئِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ ۔ وَلَوْ اَنَّھُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْھِمْ لَـکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (الحجرات : 4، 5) (بےشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ رکھنے والے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ صبر کرتے حتیٰ کہ آپ خود ان کے پاس نکل کے جاتے تو یہ بات ان کے لیے بہتر ہوتی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ) آپ ﷺ کے غائب ہونے کی صورت میں ملحوظ رکھا جانے والا ادب صحابہ کرام ( رض) کا عام معمول یہ تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے اس وقت ملنے کے لیے آتے جب آپ مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوتے۔ اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–5

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں نبی ﷺ کا ادب و احترام سکھلایا گیا ہے اور اب ان لوگوں کی سرزنش کی گئی ہے جنہوں نے آپ ﷺ کے احترام کے منافی حرکت کی تھی۔ رسول معظم ﷺ کے مقام اور احترام سے جو لوگ واقف نہیں تھے یا جن کے دلوں میں منافقت اور اپنے بڑے پن کا خنّاس تھا۔ وہ جب آپ کی خدمت میں آتے تو آپ سے اس طرح مخاطب ہوتے جس طرح اپنے جیسے یا اپنے سے چھوٹے آدمی کے ساتھ مخاطب ہوا جاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی رائے پر اصرار بھی کیا کرتے تھے۔ اسی قبیل کے لوگوں سے قبیلہ بنوتمیم کے کچھ لوگ تھے۔ جب وہ آپ کی ملاقات کے لیے مدینہ آئے تو آپ دوپہر کے وقت اپنے گھر میں آرام فرما تھے۔ اخلاق اور احترام کا تقاضا تھا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

صبر کا مفہوم : آیت 5 : وَلَوْ اَنَّہُمْ صَبَرُوْا (اور اگر یہ لوگ صبر کرتے) یعنی اگر ان کا صبر قائم رہتا۔ یہ محل رفع میں فاعلیت کی بناء پر واقع ہے۔ الصبر : نفس کی خواہش کو روک کر رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا۔ واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم۔ ] الکہف : 28[ اور عرب کا قول صبر عن کذا۔ اس سے نفس کو جو کہ مفعول ہے حذف کیا گیا ہے۔ مشہور محاورہ ہے۔ الصبر مرّ لا یتجرّعہ الاحرٌ۔ صبر تلخ است مگر بر شیریں دارد۔ حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْہِمْ (یہاں تک کہ آپ خود ان کے پاس باہر آجاتے) لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ (تو ان کے لئے بہتر تھا) اس سے یہ فائدہ معلوم ہوتا ہے۔ کہ اگر آپ باہر تشریف لاتے اور آپ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” ان الذین…………………یعقلون ۔ “ (جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ ﷺ کو پکارتے ہیں، بلا شبہ ان میں اکثر کو عقل نہیں) ۔ حجرت اور حجرت حجرۃ کی جمع ہے۔ بغوی نے لکھا ہے حجرات حجر کی اور حجر حجرۃ کی جمع ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (قبیلہ) ابن العنبرہ کی طرف ایک جہادی دستہ عینیہ بن حصین فزاری ؓ کے زیر کمانڈ روانہ کیا۔ جب ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ عیینہ کا رخ ہماری طرف ہے تو وہ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ عیینہ نے ان کے اہل و عیال کو قید کرلیا اور لاکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔ کچھ وقفہ کے بعد ان کے مرد اپنے بچوں کو زر فدیہ ادا کرکے رہا کرانے کے لئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–5

4۔ 5۔ صحیح سند سے مسند 2 ؎ امام احمد طبرانی میں اقرع ؓ بن حابس تمیمی سے روایت ہے کہ اسلام لانے سے پہلے اقرع ؓ بن حابس اپنی قوم بنی تمیم کے کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے۔ یہ لوگ مدینہ میں ایسے وقت پہنچے کہ وہ وقت اللہ کے رسول ﷺ کے آرام کا تھا ان لوگوں نے یہ انتظار نہیں کیا کہ آپ زنانہ حجروں میں سے باہر آئیں حجروں کی دیوار کے پیچھے سے آپ کا نام پکارنا شروع کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ان آیتوں کی شان نزول کی ہی حدیث براء بن العازب کی روایت سے ترمذی 1 ؎ میں معتبر سند سے ہے لیکن اس میں اقرع ؓ بن حابس کا نام نہیں ہے حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ گاؤں کے رہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–5

یہ آیت کریمہ، اعراب (یعنی عرب دیہاتیوں) میں سے، چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے جفا سے موصوف کیا ہے۔ وہ اس لائق ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حدود کو نہ جانیں جو اس نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں۔ یہ عرب دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وفد بن کر آئے اور انہوں نے آپ کو اپنے گھر میں اپنی ازواج مطہرات کے پاس پایا تو انہوں نے ادب کو ملحوظ نہ رکھا اور آپ کے باہر تشریف لانے تک انتظار نہ کرسکے اور پکارنا شروع کردیا ” اے محمد ! اے محمد ! ﷺ ہمارے پاس آؤ “۔۔۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی عدم عقل کی بنا پر مذمت کی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے ساتھ ادب و…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 2–5

حضور ﷺ کی تعظیم ضروری ہے قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ۔ اے ایمان لانے والو ! اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کیا کرو) اس میں حضور ﷺ کی تعظیم کرنے اور اپٓ کی توقیر بجا لانے کا حکم ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (لسومنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ وتوقروہ ۔ تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو، اس کی مدد کرو اور اس کی توقیر بجا لائو) ایک روایت کے مطابق آیت کا نزول ان لوگوں کے بارے میں ہوا تھا جن کی عادت یہ تھی کہ جب وہ حضور ﷺ سے کوئی بات پوچھی جاتی تو اس کے متعلق آپ سے پہلے ہی بول اٹھتے تھے۔ نیز ایک شخص کے بولنے کے دوران اگر آواز بلند کی جائے تو اس سے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 12] ادب صحیح کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر یہ لوگ صبر سے کام لیتے تو یہ خود انہی کیلئے بہتر ہوتا "۔ کہ یہ حضرت رسالت مآب ﷺ کے ادب کا تقاضا ہے۔ اسی سے حضرات مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ اپنے اساتذہ و مشائخ کے بارے میں بھی یہی ادب ملحوظ رکھنا چاہیے اور حضرات اسلاف کرام کا طریقہ و معمول بھی یہی تھا۔ چناچہ ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی عالم کے دروازے پر جاکر ان کو دستک نہیں دی بلکہ اس بات کا انتظار کیا کہ وہ خود باہر تشریف لائیں تو ملاقات کروں گا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ ما جب کسی صحابی سے کوئی حدیث دریافت کرنے کیلئے جانتے تو ان کے انتظار میں ان کے دروازے پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–5

معاشرتی آداب تشریح : یہ مدنی سورت ہے اخلاقی آداب کے سلسلے میں یہاں ایک شائستہ ادب سکھایا جا رہا ہے۔ شان نزول اس آیت کا اسطرح ہے کہ عموماً اطراف عرب سے لوگ آپ ﷺ سے ملنے چلے آتے اور وہ اس بات کا خیال نہ کرتے تھے کہ ملنے کے لیے وقت مناسب ہے یا کہ نہیں۔ بس وہ وقت بےوقت آجاتے اور حجرات نبوی کا چکر کاٹنے لگتے اور بےادب جاہلوں کی طرح باہر سے آوازیں لگانے لگتے۔ یا محمد یامحمد حالانکہ ان کو مہذب شہریوں کی طرح اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تھا کہ بجائے آپ ﷺ کو بےآرام کرنے کے اس وقت کا انتظار کرتے جب کہ آپ ﷺ آرام سے فارغ ہو کر باہر تشریف لے آتے تو پھر آپ سے ملاقات کرتے بات چیت کرتے۔ کیونکہ رسول کریم ﷺ بڑے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ نیز اصلاح عالم کی جہاد کی غرض یہی ہے کہ پہلے اصلاح نفس کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ادب واحترام نبوی پر ہے چہ جائیکہ کوئی اطاعت وغلامی میں پس وپیش کرے۔ حد ادب یہ ہے کہ کبھی کسی کام میں یا کسی بات میں رسول اللہ پر سبقت نہ کیا کرو کہ یہ ایسے ہے جیسے اللہ کی ذات پر کسی نے سبقت کی کہ آپ کا ارشاد ہی اللہ کا ارشاد ہے اور اس معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے ۔ اصلاح نفس کی بنیاد ادب ہے بارگاہ نبوی میں اس کی ضرورت قرآن نے بتادی علماء مشائخ وارث نبوت ہو کر ادب کے مستحق ہیں۔ نیز اپنی آواز کو پست رکھا کرو اور کبھی بھی نبی کریم کی آواز سے بلندآواز میں بات نہ کرو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–6

ف 4 تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت والید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی جسے آنحضرت نے قبیلہ اپنی المصلق سے زکوۃ وصول کرنے بھیجا یہ راستہ میں کسی وجہ سے ڈر گیا (غالباً ) اس وجہ سے کہ زمانہ جاہلیت سے بنی المطلق اور اس کے قبیلہ میں دشمنی چلی آتی تھی اور وہیں سے مدینہ واپس ہو کر آنحضرت سے شکایت کی کہ نبی المطلق نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا ہے بلکہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔ آنحضرت نے یہ سن کر بنی المطلق ادھر سے بنی المطلق کے سردار حارث بن ضرار ام المومنین حضرت جویریہ کے والد اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آتے نظر آئے۔ قریب پہنچ کر انہوں نے لشکر والوں سے دریافت کیا کہ آپ لوگ کدھر جا رہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(49:5) ولو انھم صبروا حتی تخرج الیہم لکان خیرا لہم : جواب شرط۔ واو عاطفہ ہے لو حرف شرط۔ حتی حرف جر ہے الیٰ کی طرح انتہاء غایت کے لئے آتا ہے ۔ بمعنی تک۔ ، جب تک۔ یہاں تک۔ یہ جب مضارع پر داخل ہوتا ہے تو ان مقدرہ کی وجہ سے مضارع منصوب ہوجاتا ہے جیسا کہ آیت ہذا میں ہے۔ (مضارع تخرج منصوب ہے) اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ لن نبرح علیہ عکفین حتی یرجع الینا موسیٰ (20:91) جب تک حضرت موسیٰ ہمارے پاس واپس نہیں آئیں گے ہم تو اس (کی پوجا) پر قائم رہیں گے۔ لکان میں لام جواب شرط کے لئے ہے۔ کان فعل ناقص الصبر اسم کان محذوف خیرا۔ خبر کان کی۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب وفد کے ارکان کی طرف راجع ہے جنہوں نے حضور ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 5) ۔ لا تقد موا (تم آگے نہ بڑھو) ۔ لا تر فعوا (بلند مت کرو) ۔ اصوات (صوت) (آوازیں) ۔ لا تجھروا (چلاؤمت۔ شور مت کرو) ۔ تحبط (ضائع کرتا ہے) ۔ یغضون (دھیما کرتے ہیں۔ نیچی کرتے ہیں) ۔ امتحن ( امتحان لیا۔ آزمایا) ۔ ینادون (وہ آوازیں دیتے ہیں) ۔ وراء (پیچھے) ۔ الحجرات (الحجرۃ) (حجرے۔ کمرے) ۔ تشریح : آیت نمبر ( 1 تا 5 ) ۔” سورة الحجرات میں اہل ایمان کو رسول اللہ ﷺ سے ملنے اور آپ کی خدمت میں حاضری کے آداب و احکامات، آپ ﷺ سے محبت اور اصلاح نفس کے بنیادی اصول سکھائے گئے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت سے دنیا اور آخرت کی تمام…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–5

(ف 1) شان نزول۔ یہ آیت وفد بنی تمیم کے حق میں نازل ہوئی کہ نبی ﷺ کی خدمت میں دوپہر کے وقت پہنچے جب کہ حضور آرام فرما رہے تھے ان لوگوں نے حجروں کے باہر سے حضور اقدس کو پکارنا شروع کیا، حضور تشریف لائے ان لوگوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اجلال شان رسول اللہ کا بیان فرمایا گیا کہ بارگاہ اقدس میں اس طرح پکارنا جہل و بےعقلی ہے اور ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] روایات میں ہے کہ قبیلہ بنی تمیم کا ایک وفد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے آیا۔ رسول اکرم ﷺ حجرہ مبارک میں تشریف رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے بدتہذیبی کے ساتھ نام لے لے کر آپ کو پکارنا شروع کیا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور امت کو ہمیشہ کے لئے ادب کی تعلیم مل گئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–9

ف 1: عنیہ بن حصن انفراری اور اقرع بن حابس کوئی ستر آدمیوں کے ساتھ حضور ﷺ سے ملنے کے لئے آئے ۔ حضور ﷺ اس وقت حرم میں تشریف فرما تھے یہ لگے زور زور سے آوازیں دینے ، اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ اس طرح آپ کو مخاطب کرنا بےادبی اور بےعقلی ہے ۔ ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ اطلاع کرادیتے اور پھر انتظار کرتے حتیٰ کہ حضور ﷺ تشریف لے آتے اور ان کی معروضات کو توجہ سے سن لیتے ۔ یاد رہے کہ یہ حکم اس وقت پیغمبر جلالت قدر کے تحفظ کے لئے ضروری تھا ۔ اور اسلام چونکہ ہر زمانے کے لئے موجب خیروبرکت ہے اس لئے اب اس کے یہ معنے ہونگے ۔ کہ دین میں خواہ مخواہ موشگافیاں کرنا درست نہیں ہیں جب تک کہ سنت خود کسی مسئلہ کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) اور اگر یہ لوگ ذرا صبر کرتے اور صبر سے کام لیتے یہاں تک کہ آپ خود حجرے سے نکل کر ان کے پاس تشریف لے آتے تو یہ ان کے لئے بہترہوتا اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والا بہت مہربان ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نبی تیمم آئے ملنے کو حضرت گھر میں تھے باہر سے لگے پکارنے چاہیے تھا کہ آدمی کی زبانی خبر کرتے۔ یہ بھی ایک ادب کی بات سکھائی کہ اگر کبھی پیغمبر کی خدمت میں آئو اور پیغمبر کسی ضرورت سے مکان میں تشریف رکھتے ہوں تو آپ کو یا محمد اخرج الیناکہہ کر پکارنا مناسب اور آپ کی شان کے خلاف ہے۔ اطلاع کے اور ذرائع بھی ہوسکتے ہیں یا یہ کہ صبر اور انتظار کرو یہاں تک کہ حضور ﷺ خود ہی باہر تشریف لائیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–5

ف 1۔ مطلب یہ کہ متقی کامل ہیں۔ 2۔ اگلی آیتوں کا واقعہ یہ ہے کہ وہی بنی تمیم جب آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے آئے تو اس وقت آپ دولت خانہ میں تشریف رکھتے تھے، انہوں نے باہر سے بوجہ قلت تہذیب کے آپ کو نام لے لے کر پکارنا شروع کیا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر ایسے لوگ ذرا توقف کریں اور آپ ﷺ کے باہر آنے کا انتظار کریں تو بہت اچھا ہو 5 ۔ ایسے کم عقل اور ناسمجھ لوگوں کو ڈانٹ پلانے سے ان کے مزید بگڑنے کا اندیشہ ضرور ہوتا ہے اس لیے ان کو نہایت نرمی اور پیار کے لہجہ میں سمجھایا جارہا ہے کہ اگر یہ لوگ صبر وثبات سے کام لیتے اور اتنی جلدی نہ کرتے بلکہ آپ ﷺ کا گھر سے نکلنے کا انتظار کرلیتے تو ان کے لیے بہت بہتر ہوتا کہ خود بھی بےآرام نہ ہوتے اور دوسروں کو بھی بےآرام نہ کرتے اور خصوصاً نبی کریم ﷺ کے گھر سے باہر آنے کا انتظار کرتے تو یہ بات ان کے حق میں بہت اچھی ہوتی کہ وہ (لایعقلون) کے خطب سے بچتے اور اعمال کے ضائع ہونے کا خطرہ بھی مول نہ لیتے بہرحال ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَ‌اءِ الْحُجُرَ‌اتِ أَكْثَرُ‌هُمْ لَا يَعْقِلُونَ (As for those who call you from behind the apartments, most of them lack understanding. - 49:4) In this verse, Allah Ta’ ala has mentioned a third etiquette about dealing with the Holy Prophet ﷺ . It is directed that when he is at home, one should not call him from outside. Particularly calling him by his name is an unmannered attitude. Reasonable persons would not do it. The term hujurat (translated above as 'apartments' ) is the plural of hujrah. Lexically, it refers to a four-walled apartment or dwelling,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 The people who in the blessed time of the Holy Prophet had received training in Islamic etiquette and manners under the Holy Prophet himself had a full regard for his person. They fully realized how busy he remained in performing the mission entrusted to him by Allah; they also understood full well that during those tiresome activities he must necessarily have some time for rest, time for his important occupations and also time for attending to his domestic affairs. Therefore, they would come to visit him only at the time when he was available outside his house, and if ever they did not…

Read the full tafseer →