Al-Hujuraat 49:4

Al-Hujuraat · from ayah 4

49:4

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ يُنَادُوۡنَكَ مِنۡ وَّرَآءِ الۡحُجُرٰتِ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ

جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر بےعقل ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who call you, [O Muhammad], from behind the chambers - most of them do not use reason.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hujuraat

All translations of 49:4

اے نبیؐ، جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر بےعقل ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر (بالکل) بے عقل ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) جو لوگ تمہیں حجروں کے پیچھے سے آواز دیتے ہیں ان میں سے اکثر کو عقل نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر (آپ کے بلند مقام و مرتبہ اور آدابِ تعظیم کی) سمجھ نہیں رکھتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جو تجھے دیواروں کے باہر سے آوازیں دیتے ہیں ان کے اکثر نہیں سمجھتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی ﷺ !) جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ رکھنے والے نہیں ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ جو لوگ پکارتے ہیں آپ کو (اے پیغمبر !) حجروں کے باہر سے ان میں سے اکثر بےعقل ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو لو گآپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بیشک وہ لوگ جو آپ ﷺ کو پکارتے ہیں حجروں کے پیچھے سے ان میں سے اکثر وہ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے نبی ﷺ جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں۔ ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely most of those who call out to you, (O Prophet), from behind the apartments, are devoid of understanding.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for those who call you from behind the chambers, most of them have no sense.

— Muhammad Taqi Usmani

As for those who call you from behind the chambers, most of them have no sense.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who call you from behind the dwellings, most of them have no sense.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who call thee from behind the private apartments, most of them have no sense.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who call you, [O Muhammad], from behind the chambers - most of them do not use reason.

— Saheeh International

Most of those who call you from behind the private chambers do not have any understanding.

— Muhammad Sarwar

(As for) those who call out to you from behind the private chambers, surely most of them do not understand.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who call aloud Unto thee from without the inner apartments, most of them reflect not."

— Abdul Majid Daryabadi

Those who shout out to thee from without the inner apartments - most of them lack understanding.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 49:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–5

آداب خطاب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت بیان کرتا ہے جو آپ کے مکانوں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں جس طرح اعراب میں دستور تھا تو فرمایا کہ ان میں سے اکثر بےعقل ہیں پھر اس کی بابت ادب سکھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ چاہیے تھا کہ آپ کے انتظار میں ٹھہر جاتے اور جب آپ مکان سے باہر نکلتے تو آپ سے جو کہنا ہوتا کہتے۔ نہ کہ آوازیں دے کر باہر سے پکارتے۔ دنیا اور دین کی مصلحت اور بہتری اسی میں تھی پھر حکم دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کو توبہ استغفار کرنا چاہیے کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ یہ آیت حضرت اقرع بن حابس تمیمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 3–4

سورة الْحُجُرٰت 5 یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آزمائشوں میں پورے اترے ہیں اور ان آزمائشوں سے گزر کر جنہوں نے ثابت کردیا ہے کہ ان کے دلوں میں فی الواقع تقویٰ موجود ہے وہی لوگ اللہ کے رسول کا ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہیں۔ اس ارشاد سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ جو دل رسول ﷺ کے احترام سے خالی ہے وہ درحقیقت تقویٰ سے خالی ہے، اور رسول کے مقابلے میں کسی کی آواز کا بلند ہونا محض ایک ظاہری بد تہذیبی نہیں ہے۔ بلکہ باطن میں تقویٰ نہ ہونے کی علامت ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–5

(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاۗءِ الْحُـجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ ، اس آیت میں نبی کریم ﷺ کا ایک تیسرا ادب سکھلایا گیا ہے کہ جس وقت آپ اپنے مکان اور آرام گاہ میں تشریف فرما ہوں اس وقت باہر کھڑے ہو کر آپ کو پکارنا خصوصاً گنوارپن کے ساتھ کہ نام لے کر پکارا جائے یہ بےادبی ہے عقل والوں کے لیے یہ کام نہیں۔ حجرات، حجرہ کی جمع ہے اصل لغت میں حجرہ ایک چار دیواری سے گھرے ہوئے مکان کو کہتے ہیں جس میں کچھ صحن ہو کچھ مسقف عمارت ہو۔ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات مدینہ طیبہ میں نو تھیں ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک حجرہ الگ الگ تھا جن میں آپ باری باری تشریف فرما ہوتے تھے۔ حجرات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان الذین ینادونک من ورآء الحجرات اکثرھم لایعقلون 4 کم عقلوں کے ایک ناشائستہ طریقہ پر ان کو تنبیہ یہ لوگ جس طرح مجلس میں نبی ﷺ سے بات کرنے میں غیر مہذب تھے اسی طرح یہ حرکت بھی وہ کرتے کہ جب دیکھتے کہ نبی ﷺ مجلس میں موجود نہیں ہیں تو آتے ہی ازواج مطہرات کے حجروں کے باہر ہی سے آپ کو چیخ چیخ کر پکارنا شروع کردیتے۔ اس قسم کی حرکت بجائے خود بھی نہایت ناشائستہ ہے لیکن اس کا باطنی محرک اس کے ظاہر سے بھی زیادہ مکروہ تھا۔ یہ لوگ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا اور آگے اس کی پوری وضاحت آئے گی، اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ انہوں نے بغیر لڑے بھڑے جو اسلام قبول کرلیا تو یہ اسلام اور پیغمبر ﷺ پر ان کا بہت بڑا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 یہ آیت قبیلہ بنو تمیم کے بعض اعرابیوں (گنوار قسم کے لوگوں) کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے ایک روز دوپہر کے وقت، جو کہ نبی ﷺ کے قیلولے کا وقت تھا، حجرے سے باہر کھڑے ہو کر عامیانہ انداز میں یا محمد یا محمد کی آوازیں لگائیں تاکہ آپ ﷺ باہر تشریف لے آئیں (مسند احمد 84۔ 318) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی اکثریت بےعقل ہے، آپ ﷺ کے اداب و احترام کے تقاضوں کا خیال نہ رکھنا، بےعقلی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–5

2: تمیم کے جس وفد کا ابھی ذکر کیا گیا، وہ دوپہر کے وقت مدینہ منورہ پہنچا تھا جبکہ حضور نبی کریم ﷺ آرام فرما رہے تھے۔ یہ لوگ آداب سے واقف نہیں تھے، اس لیے ان میں سے کچھ لوگوں نے آپ کے گھر کے باہر ہی سے آپ کو پکارنا شروع کردیا۔ اس پر اس آیت میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–5

ان الذین ینادونک ۔۔۔۔۔۔۔ لا یعقلون (49 : 4) ولو انھم ۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم (49 : 5) “ اے نبی ؐ جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔ اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لئے بہتر تھا۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان میں سے اکثر عقلمند نہیں ہیں ۔ اور ان کی اس حرکت کو ان کے لئے مکروہ کردیا کیونکہ وہ اسلامی آداب کے خلاف تھی اور نبی ﷺ کی ذات اور آپ کے مقام کے ساتھ جس قدر احترام کا تعلق ہونا چاہئے تھا ، یہ اس کے خلاف تھا ۔ آپ مسلمانوں کے قائد اور مربی تھے اور خدا کے نبی تھے۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ ان کے لئے مناسب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

1 بنی تمیم ملنے کو آئے، حضور ﷺ حجرہ مبارک میں تشریف رکھتے تھے، وہ لوگ باہر سے آوازیں دینے لگے کہ " یا محمد اخرج الینا " (اے محمد ﷺ باہر آئیے) یہ بےعقلی اور بےتہذیبی کی بات تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے مرتبہ کو نہیں سمجھتے تھے۔ کیا معلوم ہے اس وقت آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ یا کسی اور اہم کام میں مشغول ہوں۔ آپ ﷺ کی ذات منبع البرکات تو مسلمانوں کے تمام دینی و دنیاوی امور کا مرکز و ملجاء تھی۔ کسی معمولی ذمہ دار آدمی کے لیے بھی کام کرنا سخت مشکل ہوجائے اگر اس کا کوئی نظام الاوقات نہ ہو۔ اور آخر پیغمبر کا ادب و احترام بھی کوئی چیز ہے چاہیے تھا کہ کسی کی زبانی اندر اطلاع کراتے اور آپ ﷺ کے باہر تشریف لانے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 { اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَآئِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ } ”بیشک وہ لوگ جو آپ ﷺ کو پکارتے ہیں حجروں کے پیچھے سے ان میں سے اکثر وہ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔“ بعض اوقات جب حضور ﷺ اپنے حجرہ مبارک میں تشریف فرما ہوتے تو بدو ّقسم کے لوگ باہر کھڑے ہو کر آپ ﷺ کو آوازیں دینا شروع کردیتے : ”یَا مُحَمَّد اُخْرُجْ اِلَیْنَا“۔ حضور ﷺ کے گھر تشریف لے جانے ‘ آرام فرمانے اور گھر سے باہر رونق افروز ہونے کے اپنے معمولات تھے۔ لہٰذا یہاں دو ٹوک انداز میں بتادیا گیا کہ وقت بےوقت گھر سے باہر کھڑے ہو کر لوگوں کا آپ ﷺ کو بےباکانہ انداز میں آوازیں دینے کا یہ طرز عمل اللہ تعالیٰ کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–4

4 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ نبی کا ادب و احترام وہی لوگ کرسکتے ہیں جو پہلے تقویٰ کی بنا پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا امتحان دے چکے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ نبی کا ادب و احترام کرنا ہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں تقویٰ موجود ہے اور ان کے اس عمل سے اللہ ان کے تقویٰ کو مزید بڑھاتا چلا جائے گا۔ اس آیت اور مذکور بالا حدیث سے صحابہ کی کمال فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (ورنہ ایسی جسارت نہ کرتے) شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ بنی تمیم کا ایک وفد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ مکان کے اندر تشریف رکھتے تھے، ان لوگوں نے باہر ہی سے آپ ﷺ کو پکارنا شروع کردیا وہ بھی محض نام لے کر کہ ” یا محمد اخرج الینا “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور امت کو ہمیشہ کے لیے ادب کی تعلیم عملی مل گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–5

شان نزول : ان الذین ینادونک من وراء الحجرات یہ آیت بنو تمیم کے بعض گنوار قسم کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی، جنہوں نے ایک روز دوپہر کے وقت جو کہ آنحضرت ﷺ کے قیلو لے کا وقت تھا، حجرے سے باہر کھڑے ہو کر عامیانہ انداز سے، یا محمد یا محمد کی آوازیں لگائیں تاکہ آپ باہر تشریف لے آئیں (مسند احمد) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی اکثریت بےعقل ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ کی جلالت شان اور آپ ﷺ کے ادب و احترام کے تقاضوں کا خیال نہ رکھنا بےعقلی ہے، امام بغوی نے بروایت قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ ذکر کیا ہے کہ قبیلہ بنو تمیم کے لوگ جو آپ کے خدمت میں حاضر ہوئے تھے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے، یہ لوگ دوپہر کے وقت مدینہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین ینادونک من وراء الحجرات اکثرھم لا یعقلون . جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ ﷺ کو پکارتے ہیں ‘ بلاشبہ ‘ ان میں اکثر کو عقل نہیں۔ حجرت اور حجرت حجرۃ کی جمع ہے۔ بغوی نے لکھا ہے حجرات حجر کی اور حجر حجرۃ کی جمع ہے۔ حجرۃ زمین کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جس کا دیواروں سے گھیراؤ کردیا گیا ہو (چھت ہو یا نہ ہو) یہ لفظ حَجْر سے ماخوذ ہے اور حجر کا معنی ہے روک۔ الحجرات . سے امہات المؤمنین کے حجرے مراد ہیں۔ من ابتدائیہ ہے یعنی حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اندر تھے۔ اگر واقعات متعدد مانے جائیں تو یہ مطلب ہوگا کہ کبھی ایک حجرہ کے باہر سے اور کبھی دوسرے حجرہ کے باہر سے پکارتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جو لوگ ازواج مطہرات کے حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں وہ حکم الہی اور توحید الہی اور رسول اکرم کے احترام کو نہیں سمجھتے۔ شان نزول : اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ (الخ) امام طبرانی نے اور ابو یعلی نے سند حسن کے ساتھ زید بن ارقم سے روایت کیا کہ عربوں میں سے کچھ لوگ رسول اکرم کے حجروں پر آئے اور آکر یا محمد یا محمد کہہ کر پکارنے لگے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور عبدالرزاق نے بواسطہ معمر قتادہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے محمد میری تعریف شاندار ہے اور میری مذمت بری ہے، آپ نے فرمایا یہ شان اللہ تعالیٰ کی ہے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی،…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت :”حجرۃ“ زمین کا وہ قطعہ جس کے گرد دیوار بنی ہوئی ہو، گھر کے صحن کی چار دیواری۔ طبری نے فرمایا :”حجرۃ“ کی جمع ”حجر“ ہے اور اس کی جمع ”حجرات“ ہے۔“ روح المعانی میں ان حجرات کی کیفیت بیان کی گئی ہے :”یہ نو حجرے تھے، ہر بیوی کے پاس ایک حجرہ تھا اور جیسا کہ ابن سعد نے عطاء خراسانی سے روایت کی ہے، یہ کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، ان کے دروازوں پر سیاہ بالوں کے ٹاٹ کے پردے تھے۔ بخاری نے ”الادب المفرد“ میں اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے داؤد بن قیس سے بیان کیا ہے، انہوں نے فرمایا :”میں نے وہ حجرے دیکھے ہیں، کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، جنہیں باہر کی جانب سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا : یہ آیت بنی تمیمم کے بدئوئوں کے بارے میں نازل ہوئی ان کا ایک وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ مسجد میں داخل ہوئے اور حجرہ کے باہر سے نبی کریم ﷺ کو آواز دی کہ ہمارے پاس باہر آئیں کیونکہ ہماری مدح زینت ہے اور ہماری مذمت عیب ہے وہ ستر افراد تھے انہوں نے اپنے بچوں کا فدیہ پیش کیا نبی کریم ﷺ قیلولہ کرنے کے لئے سوئے ہوئے تھے۔ روایت کی گئی ہے کہ جس ندا کی تھی وہ اقرع بن حابس تھا اسی نے بات کی تھی۔ میری مدح زینت اور میری مذمت عیب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ذاک اللہ (2) وہ ذات اللہ تعالیٰ کی ہے امام ترمذی نے اسے حضرت براء بن عاذب سے بھی ذکر کیا ہے۔ حضرت زید بن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–5

1:۔ احمد وابن جریر (رح) ابوالقاسم البغوی ابن مردویہ (رح) الطبرانی بسند صحیح من طریق ابی سلمۃ بن عبد الرحمن اقرع بن جابس ؓ سے روایت کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آواز دے، اے محمد ہماری طرف باہر تشریف لایئے آپ نے کوئی جواب نہیں دیا اس نے پھر کہا اے محمد ﷺ میرا تعریف کرنا زینت ہے اور میرا مذمت کرنا عیب ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کے اختیار میں ہے اس پر یہ (آیت) نازل ہوئی ” ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت “ (جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں) ابن منیع نے کہا میں نہیں جانتا کہ اقرع کی یہ روایت اس سند کے بغیر بھی بیان کی گی ہے۔ 2:۔ الترمذی (وحسنہ) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ [ بیشک جو لوگ پکارتے ہیں آپ کو ] مِنْ وَّرَاۗءِ الْحُـجُرٰتِ [ کمروں کے پیچھے سے ] اَكْثَرُهُمْ [ان کے اکثر ] لَا يَعْقِلُوْنَ [ عقل نہیں کرتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–5

اَمْتَحَنَ لفظ امْتحان سے ماضی کا صیغہ ہے جس کا ترجمہ ” جانچ کرنا “ کیا گیا ہے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں : اِمْتَحَنَ اَخْلَصَ کے معنی میں ہے جس طرح سونے کو پگھلا کر خالص کردیا جاتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے قلوب کو تقویٰ کے لیے خالص کردیا ہے ان کے قلوب میں تقویٰ ہی تقویٰ ہے۔ حضرات صحابہ ؓ کے آداب و احترام کو دیکھو اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کو اور مدح اور توصیف کو دیکھو اور شیعوں کے بغض اور دشمنی کو دیکھو وہ کہتے ہیں کہ تین چار صحابہ کے علاوہ سب کافر تھے۔ (العیاذ باللہ) فائدہ : حضرات علماء کرام نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی قبر شریف کے سامنے بھی آواز بلند کرنا مکروہ ہے جیسا کہ آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–8

تنبیہ وتہدید بر بےتمیزی وبیحرمتی دربارگاہ رسالت وتلقین آداب تعظیم و اطاعت : (ربط) گذشتہ آیات میں ان حقوق وآداب کا ذکر تھا جو رسول ﷺ کی ذات اقدس کے لیے امت پر عائد اور فرض ہیں اور ان حقوق میں کوتاہی پر وعید وتنبیہ تھی اور یہ کہ یہ ایسی خطرناک تقصیر وغلطی ہے کہ مسلمان سرمایہ اعمال سے ہی محروم ہوسکتا ہے، جو اس نے اپنی زندگی میں کمایا تو اب ان آیات میں بعض ایسی گستاخیوں اور بےتمیزیوں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جو جہلاء اور کم عقل لوگوں سے پیش آتی تھیں اور اس پر تنبیہ کی گئی اور یہ بتایا جارہا ہے کہ پیغمبر خدا ﷺ کو مخاطب بنانے اور آپ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر بات کرنے کا کیا طریقہ ہے ادب اور تعظیم و…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

5:۔ ” ان الذین ینادونک “ یہ دیہاتیوں کی ایک جماعت پر زجر ہے۔ بنی تمیم کے اعرابیوں کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوا۔ جب وہ لوگ مسجد نبوی میں پہنچے اس وقت آپ اپنے کسی حجرے میں تشریف فرما تھے انہوں نے آپ کی حجرہ شریفہ سے باہر تشریف آوری کا انتظار کیے بغیر ہی باہر سے یا محمد اخرج الینا کہنا شروع کردیا۔ یعنی اے محمد ! آپ باہر آئیں۔ ان کی تنبیہہ کیلئے یہ آیتیں نازل ہوئیں (روح) جو لوگ حجروں سے باہر کھڑے ہو کر آوازیں دیتے ہیں ان میں اکثر نادان ہیں اور آداب نبوت سے بیخبر ہیں۔ اگر وہ ذرا صبر و تحمل سے کام لیتے اور آپ کی باہر تشریف آوری کا انتظار کرتے تو یہ ان کے لیے بہت بہتر بات تھی جس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 2–5

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں وہ اصول اور قوانین بیان کیے گئے ہیں جن پر عمل کر کے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی امن و سکون کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ ان کے جماعتی نظم و نسق میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور ان کے امور سلطنت بہتر طریقے سے انجام دیے جاسکتے ہیں ۔ گزشتہ آیت کریمہ میں دو اصولوں کا تذکرہ ہوچکا ہے ، پہلا اصول یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے اور حکم سے پہلے پیش قدمی نہ کرو ، بلکہ ہر حالت میں انہی کے فیصلے پر سر تسلیم خم کر دو ۔ اور دوسرا اصول یہ بیان ہوا کہ تقویٰ اختیار کرو یعنی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ نبی کا ادب و احترام اب تیسرے نمبر پر نبی (علیہ السلام) کے ادب و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاۗءِ الْحُـجُرٰتِ اَكْثَرُہُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ۝ 4 ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

تفسیر : یہ سورة بالاتفاق مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ سورة فتح کے اخیر میں صحابہ ؓ کا مرتبہ اور ان کی بزرگی بیان ہوئی تھی اس لیے اس سورة میں چند آداب تعلیم کرتا ہے تاکہ ان کے برخلاف عمل کرنے سے اس بزرگی میں فرق نہ آوے۔ اس سورة میں تمدن کے متعلق وہ احکام بیان فرمائے ہیں کہ جن سے قوت اعوانیہ و طاقت اجتماعیہ جو اتفاق و محبت باہمی پر مبنی ہے قائم رہے۔ اور سب سے اول مسئلہ سردار کی تعظیم و عظمت کا ہے کیونکہ اس کی عزت دل میں ہوگی تو اس کے احکام کی تعمیل بھی ہوگی وہی تو اس قوت کا جمع رکھنے والا ہے۔ اوّل حکم : اس لیے سب سے اول رسول اللہ ﷺ کی جناب سے ادب ملحوظ رکھنے کے احکام صادر فرمائے۔ فقال یا ایہا الذین…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَـکَ مِنْ وَّرَآئِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ ۔ وَلَوْ اَنَّھُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْھِمْ لَـکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (الحجرات : 4، 5) (بےشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ رکھنے والے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ صبر کرتے حتیٰ کہ آپ خود ان کے پاس نکل کے جاتے تو یہ بات ان کے لیے بہتر ہوتی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ) آپ ﷺ کے غائب ہونے کی صورت میں ملحوظ رکھا جانے والا ادب صحابہ کرام ( رض) کا عام معمول یہ تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے اس وقت ملنے کے لیے آتے جب آپ مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوتے۔ اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–5

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں نبی ﷺ کا ادب و احترام سکھلایا گیا ہے اور اب ان لوگوں کی سرزنش کی گئی ہے جنہوں نے آپ ﷺ کے احترام کے منافی حرکت کی تھی۔ رسول معظم ﷺ کے مقام اور احترام سے جو لوگ واقف نہیں تھے یا جن کے دلوں میں منافقت اور اپنے بڑے پن کا خنّاس تھا۔ وہ جب آپ کی خدمت میں آتے تو آپ سے اس طرح مخاطب ہوتے جس طرح اپنے جیسے یا اپنے سے چھوٹے آدمی کے ساتھ مخاطب ہوا جاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی رائے پر اصرار بھی کیا کرتے تھے۔ اسی قبیل کے لوگوں سے قبیلہ بنوتمیم کے کچھ لوگ تھے۔ جب وہ آپ کی ملاقات کے لیے مدینہ آئے تو آپ دوپہر کے وقت اپنے گھر میں آرام فرما تھے۔ اخلاق اور احترام کا تقاضا تھا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وفد بنو تمیم کی نادانی : آیت 4 : اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَآئِ الْحُجُرٰتِ (بیشک جو لوگ حجروں کے باہر آپ کو پکارتے ہیں) یہ آیت وفد بنو تمیم کے متعلق نازل ہوئی۔ وہ خدمت نبوی میں دوپہر کے وقت پہنچے جبکہ آپ آرام فرما تھے۔ ان میں اقرع بن حابس ٗ عیینہ بن حصن بھی تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو حجرات کے باہر سے آوازیں دیں اور کہنے لگے۔ اے محمد ! آپ باہر نکل کر آئیں ! ہماری مدح زینت اور ہماری مذمت عیب دار بنا دیتی ہے۔ پس آپ بیدار ہو کر باہر تشریف لائے۔ (ابن اسحاق فی السیرۃ) الوراء : ہر وہ جانب جو تم سے کسی شخص کو اس کے سایے کے ساتھ چھپالے خواہ وہ آگے ہو یا پیچھے۔ من۔ یہ ابتدائے غایت کیلئے ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3 ۔” ان الذین یغضون…………………واجر عظیم۔ حضرت انس ؓ نے فرمایا : ہم اپنے سامنے جنتی یعنی ثابت بن قیس ؓ ؓ کو جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی چلتے پھرتے دیکھتے تھے کہ یہ زندہ جنتی ہیں اور ان ہی سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا تم قابل ستائش زندگی گزارو گے اور شہادت کی موت مارے جائو گے اور جنت میں چلے جائو گے۔ حضرت ثابت کی شہادت اور آپ کی وصیت جب جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب سے مقابلہ ہوا تو ثابت کو (شروع میں) مسلمانوں میں کچھ شکست کی حالت نظر آئی بلکہ ایک جماعت تو شکست کھا کر بھاگ بھی پڑی۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت ثابت ؓ نے کہا : ان لوگوں پر افسوس ہے۔ پھر حضرت سالم ؓ سے فرمایا : اللہ کے رسول ﷺ کی ہمرکابی میں تو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–5

4۔ 5۔ صحیح سند سے مسند 2 ؎ امام احمد طبرانی میں اقرع ؓ بن حابس تمیمی سے روایت ہے کہ اسلام لانے سے پہلے اقرع ؓ بن حابس اپنی قوم بنی تمیم کے کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے۔ یہ لوگ مدینہ میں ایسے وقت پہنچے کہ وہ وقت اللہ کے رسول ﷺ کے آرام کا تھا ان لوگوں نے یہ انتظار نہیں کیا کہ آپ زنانہ حجروں میں سے باہر آئیں حجروں کی دیوار کے پیچھے سے آپ کا نام پکارنا شروع کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ان آیتوں کی شان نزول کی ہی حدیث براء بن العازب کی روایت سے ترمذی 1 ؎ میں معتبر سند سے ہے لیکن اس میں اقرع ؓ بن حابس کا نام نہیں ہے حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ گاؤں کے رہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–5

یہ آیت کریمہ، اعراب (یعنی عرب دیہاتیوں) میں سے، چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے جفا سے موصوف کیا ہے۔ وہ اس لائق ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حدود کو نہ جانیں جو اس نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں۔ یہ عرب دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وفد بن کر آئے اور انہوں نے آپ کو اپنے گھر میں اپنی ازواج مطہرات کے پاس پایا تو انہوں نے ادب کو ملحوظ نہ رکھا اور آپ کے باہر تشریف لانے تک انتظار نہ کرسکے اور پکارنا شروع کردیا ” اے محمد ! اے محمد ! ﷺ ہمارے پاس آؤ “۔۔۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی عدم عقل کی بنا پر مذمت کی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے ساتھ ادب و…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 2–5

حضور ﷺ کی تعظیم ضروری ہے قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ۔ اے ایمان لانے والو ! اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کیا کرو) اس میں حضور ﷺ کی تعظیم کرنے اور اپٓ کی توقیر بجا لانے کا حکم ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (لسومنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ وتوقروہ ۔ تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو، اس کی مدد کرو اور اس کی توقیر بجا لائو) ایک روایت کے مطابق آیت کا نزول ان لوگوں کے بارے میں ہوا تھا جن کی عادت یہ تھی کہ جب وہ حضور ﷺ سے کوئی بات پوچھی جاتی تو اس کے متعلق آپ سے پہلے ہی بول اٹھتے تھے۔ نیز ایک شخص کے بولنے کے دوران اگر آواز بلند کی جائے تو اس سے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 10] نادانوں کو ان کے ایک ناشائستہ طریقے پر تنبیہ : سو اس ارشاد سے پیغمبر کو آپ ﷺ کے حجرات کے باہر سے پکارنے والوں کے ناشائستہ طرز عمل کا ذکر کرکے ان کو تنبیہ فرمائی گئی ہے اور جن حجرات میں آپ کی ازواج مطہرات رہا کرتی تھیں وہ تعداد میں نو تھے۔ ہر زوجہ مطہرہ کے لئے علیحدہ حجرہ تھا۔ یہ کچے حجرے تھے۔ ان کی چھتوں کو ہاتھ لگتے تھے۔ اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک کے دور میں ان کو سرکاری حکم سے مسمار کرکے مسجد نبوی کی توسیع میں شامل کردیا گیا جس پر مدینہ منورہ کے لوگ رو پڑے۔ حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ اگر ان حجروں کو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھا جاتا تو اچھا ہوتا تاکہ آئندہ چل کر لوگ ان کو دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–5

معاشرتی آداب تشریح : یہ مدنی سورت ہے اخلاقی آداب کے سلسلے میں یہاں ایک شائستہ ادب سکھایا جا رہا ہے۔ شان نزول اس آیت کا اسطرح ہے کہ عموماً اطراف عرب سے لوگ آپ ﷺ سے ملنے چلے آتے اور وہ اس بات کا خیال نہ کرتے تھے کہ ملنے کے لیے وقت مناسب ہے یا کہ نہیں۔ بس وہ وقت بےوقت آجاتے اور حجرات نبوی کا چکر کاٹنے لگتے اور بےادب جاہلوں کی طرح باہر سے آوازیں لگانے لگتے۔ یا محمد یامحمد حالانکہ ان کو مہذب شہریوں کی طرح اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تھا کہ بجائے آپ ﷺ کو بےآرام کرنے کے اس وقت کا انتظار کرتے جب کہ آپ ﷺ آرام سے فارغ ہو کر باہر تشریف لے آتے تو پھر آپ سے ملاقات کرتے بات چیت کرتے۔ کیونکہ رسول کریم ﷺ بڑے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ نیز اصلاح عالم کی جہاد کی غرض یہی ہے کہ پہلے اصلاح نفس کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ادب واحترام نبوی پر ہے چہ جائیکہ کوئی اطاعت وغلامی میں پس وپیش کرے۔ حد ادب یہ ہے کہ کبھی کسی کام میں یا کسی بات میں رسول اللہ پر سبقت نہ کیا کرو کہ یہ ایسے ہے جیسے اللہ کی ذات پر کسی نے سبقت کی کہ آپ کا ارشاد ہی اللہ کا ارشاد ہے اور اس معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے ۔ اصلاح نفس کی بنیاد ادب ہے بارگاہ نبوی میں اس کی ضرورت قرآن نے بتادی علماء مشائخ وارث نبوت ہو کر ادب کے مستحق ہیں۔ نیز اپنی آواز کو پست رکھا کرو اور کبھی بھی نبی کریم کی آواز سے بلندآواز میں بات نہ کرو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قبیلہ بنی تمیم کے کچھل وگ تھے جو ایک روز عین دوپہر کے وقت آپ کے حجرے پر آئے اور آپ کا نام لے کرچلانے لگے۔ ” اے محمد باہر نکلو، دیکھو ہماریتعریف موجب زینت اور ہماری مذمت موجب عیب ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ادب سکھانے کے لئے یہ اور اس سے اگلی آیت نازل فرمائی۔ ابن کثیر

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(49:4) ان الذین ینادونک من وراء الحجرات اکثرہم لا یعقلون : ان حرف مشبہ بالفعل الذین اسم موصول ینادونک من وراء الحجرات صلہ۔ موصول الذین اسم ان ۔ اکثرہم لا یعقلون خبر ان۔ ینادون مضارع جمع مذکر غائب مناداۃ (مفاعلۃ) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ تم کو پکارتے ہیں۔ من ابتدائیہ وراء اصل میں مصدر ہے جس کو بطور ظرف استعمال کیا جاتا ہے۔ آڑ، حد فاصل ۔ کسی چیز کا آگے ہونا۔ پیچھے ہونا۔ چاروں طرف ہونا۔ علاوہ اور سوا ہونا۔ یہاں آیت ہذا میں بمعنی باہر ہے اور مضاف ہے۔ الحجرات مضاف الیہ۔ الحجرات بروزن فعلۃ حجرۃ کی جمع ہے جیسے ظلمات جمع ہے ظلمۃ کی اور غرفت جمع ہے غرفۃ کی۔ حجرہ۔ گھر، خلوت خانہ جس کی چار…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 5) ۔ لا تقد موا (تم آگے نہ بڑھو) ۔ لا تر فعوا (بلند مت کرو) ۔ اصوات (صوت) (آوازیں) ۔ لا تجھروا (چلاؤمت۔ شور مت کرو) ۔ تحبط (ضائع کرتا ہے) ۔ یغضون (دھیما کرتے ہیں۔ نیچی کرتے ہیں) ۔ امتحن ( امتحان لیا۔ آزمایا) ۔ ینادون (وہ آوازیں دیتے ہیں) ۔ وراء (پیچھے) ۔ الحجرات (الحجرۃ) (حجرے۔ کمرے) ۔ تشریح : آیت نمبر ( 1 تا 5 ) ۔” سورة الحجرات میں اہل ایمان کو رسول اللہ ﷺ سے ملنے اور آپ کی خدمت میں حاضری کے آداب و احکامات، آپ ﷺ سے محبت اور اصلاح نفس کے بنیادی اصول سکھائے گئے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت سے دنیا اور آخرت کی تمام…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–5

(ف 1) شان نزول۔ یہ آیت وفد بنی تمیم کے حق میں نازل ہوئی کہ نبی ﷺ کی خدمت میں دوپہر کے وقت پہنچے جب کہ حضور آرام فرما رہے تھے ان لوگوں نے حجروں کے باہر سے حضور اقدس کو پکارنا شروع کیا، حضور تشریف لائے ان لوگوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اجلال شان رسول اللہ کا بیان فرمایا گیا کہ بارگاہ اقدس میں اس طرح پکارنا جہل و بےعقلی ہے اور ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–4

[3] یعنی اہل ایمان کو چاہئے کہ آپ ﷺ سے بات چیت میں آپ ﷺ کا انتہائی احترام ملحوظ رکھیں اور اپنی آواز آپ ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کریں۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی احادیث سننے کے وقت بھی یہی ادب چاہئے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) بلا شبہ جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر ایسے ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–5

ف 1۔ مطلب یہ کہ متقی کامل ہیں۔ 2۔ اگلی آیتوں کا واقعہ یہ ہے کہ وہی بنی تمیم جب آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے آئے تو اس وقت آپ دولت خانہ میں تشریف رکھتے تھے، انہوں نے باہر سے بوجہ قلت تہذیب کے آپ کو نام لے لے کر پکارنا شروع کیا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

معاشرہ کے اندر جہاں آزمائے گئے لوگ ہوتے ہیں وہاں کم ظرفوں کی بھی کمی نہیں ہوتی 4 ۔ محاورہ ہے کہ ” پانچوں انگلیاں کبھی برابر نہیں ہوتیں “ مطلب یہی ہے کہ سارے انسان ایک جیسی عقل و فکر اور ایک جیسی طبع نہیں رکھتے جہاں وہ لوگ موجود ہوتے ہیں جو اشاروں ہی اشاروں میں سب کچھ سمجھ جاتے ہیں وہاں ایسے بھی ہوتے ہیں جو سمجھانے سے بھی نہیں سمجھتے اس طرح جہاں ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے دل میں بغض و اعناد ہوتا ہے اور اس بغض وعناد کے باعث ان سے اس طرح کی حرکتیں سرزد ہوتی ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کے دلوں میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتا لیکن عقل کے کوتاہ ہوتے ہیں اس لیے ان سے اس طرح کی کوتاہیاں سرزد ہوتتی رہتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَ‌اءِ الْحُجُرَ‌اتِ أَكْثَرُ‌هُمْ لَا يَعْقِلُونَ (As for those who call you from behind the apartments, most of them lack understanding. - 49:4) In this verse, Allah Ta’ ala has mentioned a third etiquette about dealing with the Holy Prophet ﷺ . It is directed that when he is at home, one should not call him from outside. Particularly calling him by his name is an unmannered attitude. Reasonable persons would not do it. The term hujurat (translated above as 'apartments' ) is the plural of hujrah. Lexically, it refers to a four-walled apartment or dwelling,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–4

5 That is, "Only those people give due reverence to the Messenger of Allah, who have passed successfully through the tests and trials set by Allah and proved by their steadfastness that their hearts indeed possess tagva (piety). " From this it follows automatically that the heart which is devoid of reverence for the Holy Prophet is, in fact, devoid of tagva, and a person's raising his voice louder than the Holy Prophet's is not only an uncivilized act outwardly but also a sign of the absence of tagva in his heart.

Read the full tafseer →