Explained with ayahs 1–3
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنے نبی کے آداب سکھاتا ہے کہ تمہیں اپنے نبی کی توقیر و احترام عزت و عظمت کا خیال کرنا چاہیے تمام کاموں میں اللہ اور رسول کے پیچھے رہنا چاہیے، اتباع اور تابعداری کی خو ڈالنی چاہیے حضرت معاذ کو جب رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو دریافت فرمایا اپنے احکامات کے نفاذ کی بنیاد کسے بناؤ گے جواب دیا اللہ کی کتاب کو فرمایا اگر نہ پاؤ ؟ جواب دیا سنت کو فرمایا اگر نہ پاؤ ؟ جواب دیا اجتہاد کروں گا تو آپ نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے قاصد کو ایسی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہو (ابو داؤد و ترمذی ابن ماجہ) یہاں اس حدیث کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة الْحُجُرٰت 5
یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آزمائشوں میں پورے اترے ہیں اور ان آزمائشوں سے گزر کر جنہوں نے ثابت کردیا ہے کہ ان کے دلوں میں فی الواقع تقویٰ موجود ہے وہی لوگ اللہ کے رسول کا ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہیں۔ اس ارشاد سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ جو دل رسول ﷺ کے احترام سے خالی ہے وہ درحقیقت تقویٰ سے خالی ہے، اور رسول کے مقابلے میں کسی کی آواز کا بلند ہونا محض ایک ظاہری بد تہذیبی نہیں ہے۔ بلکہ باطن میں تقویٰ نہ ہونے کی علامت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(آیت) وَلَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ، یہ دوسرا ادب مجلس نبوی کا بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ کی آواز سے زیادہ آواز بلند کرنا یا بلند آواز سے اس طرح گفتگو کرنا جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بےمحابا کیا کرتے ہیں ایک قسم کی بےادبی گستاخی ہے، چناچہ اس آیت کے نزول سے صحابہ کرام کا یہ حال ہوگیا کہ حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ قسم ہے کہ اب مرتے دم تک آپ سے اس طرح بولوں گا جیسے کوئی کسی سے سرگوشی کرتا ہو (در منشور عن البیہقی) اور حضرت عمر اس قدر آہستہ بولنے لگے کہ بعض اوقات دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا (کذا فی الصحاح) اور حضرت ثابت بن قیس طبعی طور پر بہت…
Read the full tafseer →ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اللہ اولٓئک الذین امتحن اللہ قلوبھم اللتقویٰ ط لھم مغفرۃ واجر عظیم 3
رسول کے معاملے میں صحی ادب کی تعلیم
یہ اس صحیح ادب کی تعلیم ہے جو رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں ہر صاحب ایمان کو اتخیار کرنا لازم ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے رسول کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کی افزائش کے لئے متنخب فرمایا ہے۔ لفظ امتحن یہاں اصطفی یا اس کے ہم معنی کسی لفظ پر متضمن ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر دلتقویٰ کی تخم ریزی اور اس کی افزائش کے لئے موزوں نہیں ہوتا بلکہ اس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ امتحان کر کے دلوں…
Read the full tafseer →3۔ 1 اس میں ان لوگوں کی تعریف ہے جو رسول اللہ ﷺ کی عظمت و جلالت کا خیال رکھتے ہوئے اپنی آوازیں پست رکھتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: سورت کی یہ ابتدائی پانچ آیتیں ایک خاص موقع پر نازل ہوئی تھیں، حضور اقدس ﷺ کے پاس عرب کے قبائل کے بہت سے وفد آتے رہتے تھے، اور آنحضرت ﷺ ان میں سے کسی کو آئندہ کے لئے قبیلے کا امیر مقرر فرما دیتے تھے، ایک مرتبہ قبیلہ تمیم کا ایک وفد آپ کی خدمت میں آیا، ابھی آپ نے ان میں سے کسی کو امیر نہیں بنایا تھا، اور نہ اس سلسلے میں کوئی بات کی تھی، لیکن آپ کی موجودگی میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ نے یہ مشورہ شروع کردیا کہ ان میں سے کس کو امیر بنایا جائے، حضرت ابوبکر نے ایک نام لیا اور حضرت عمر نے دوسرا، پھر ان دونوں بزرگوں نے اپنی اپنی رائے کی تائید اس طرح شروع کردی کہ کچھ بحث کا سا انداز پیدا ہوگیا،…
Read the full tafseer →ان الذین یغضون اصواتھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واجر عظیم (49 : 3) “ جو لوگ رسول خدا کے ہاں بات کرتے ہوئے اپنی آواز کو پست رکھتے ہیں وہ درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے جانچ لیا ہے ۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے ”۔
تقویٰ اور خدا خوفی اللہ کی ایک عظیم بخشش ہے۔ اللہ ہی اس اعزاز اور نعمت کے لئے دلوں کا انتخاب کرتا ہے ۔ اس امتحان اور اختیار اور خلوص اور طہارت قلبی کے بعد پھر ان دلوں کو تقویٰ دیا جاتا ہے ، لہٰذا یہ نعمت انہی دلوں کو دی جاتی ہے جو اس کے لئے تیار ہوں اور یہ ثابت ہوجائے کہ یہ دل تقویٰ کے مستحق ہیں اور جو لوگ اپنی آوازیں رسول اللہ ﷺ کے ہاں نیچی رکھتے ہیں ایسے لوگوں کو…
Read the full tafseer →9 یعنی جو لوگ نبی ﷺ کی مجلس میں تواضع اور ادب و تعظیم سے بولتے اور نبی کی آواز کے سامنے اپنی آوازوں کو پست کرتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے ادب کی تخم ریزی کے لیے پرکھ لیا اور مانجھ کر خالص تقویٰ و طہارت کے واسطے تیار کردیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ چار چیزیں اعظم شعائر اللہ سے ہیں۔ قرآن، پیغمبر، کعبہ، نماز۔ ان کی تعظیم وہ ہی کرے گا جس کا دل تقویٰ سے مالا مال ہو۔ (ذٰلِكَ ۤ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ ) 22 ۔ الحج :32) یہاں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جب حضور ﷺ کی آواز سے زیادہ آواز بلند کرنا خلاف ادب ہے تو آپ ﷺ…
Read the full tafseer →آیت 3 { اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی } ”بیشک وہ لوگ جو اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے ‘ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے جانچ پرکھ کر ُ چن لیا ہے تقویٰ کے لیے۔“
پچھلی آیت میں جو حکم منفی انداز میں دیا گیا ہے اسی حکم کو اب شاباش کے لیے مثبت انداز میں دہرایا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنے رسول ﷺ کے ادب کے حوالے سے آپ ﷺ کے صحابہ کرام رض کا طرز عمل اس قدر پسند آیا ہے کہ اس بنیاد پر اس نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے نور سے خصوصی طور پر منور کرنے کے لیے منتخب کرلیا ہے۔
{ لَہُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
4 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ نبی کا ادب و احترام وہی لوگ کرسکتے ہیں جو پہلے تقویٰ کی بنا پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا امتحان دے چکے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ نبی کا ادب و احترام کرنا ہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں تقویٰ موجود ہے اور ان کے اس عمل سے اللہ ان کے تقویٰ کو مزید بڑھاتا چلا جائے گا۔ اس آیت اور مذکور بالا حدیث سے صحابہ کی کمال فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →4۔ (تو تم جو اجر ومغفرت کے حریص ہو، کیوں نہ اسی امتحان میں پورے اتروگے) احادیث صحیح میں آتا ہے کہ آیہ (آیت) ” لاترفعوا اصواتکم “۔ الخ کے نزول کے بعد سے فلاں اور فلاں صحابی اس باب میں بڑے خائف اور محتاط ہوگئے تھے اور غایت احتیاط سے کام لینے لگے تھے۔ (آیت) ” الذین ..... للتقوی “۔ یعنی اس باب میں دو صفت کمال تقوی کے ساتھ موصوف ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، اب اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو قدم بمعنی تقدم سے مشتق ہے یعنی قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسول پر جو اس کا پیغامبر ہے پیش قدمی نہ کرو یعنی ان دونوں کی اجازت کے بغیر اور اللہ سے ڈرت رہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہاری باتوں کو سننے والا تمہارے کاموں کو جاننے والا ہے، یہ آیت آنحضرت ﷺ کے حضور ابوبکر و عمر ؓ کے اقرع ابن حابس یا قعقاع بن معبد کو امیر بنانے میں نزاع کے بارے میں نازل ہوئی اور (آئندہ آیت) اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی کہ جس نے اپنی آواز کو آپ ﷺ کے حضور بلند کیا، اے ایمان والو ! جب تم گفتگو کیا کرو تو نبی کی آواز…
Read the full tafseer →ان الذین یعضون اصواتھم عند رسول اللہ اولئک الذین امتحن اللہ قلوبھم للتقوی لھم مغفرِۃ واجر عظیم . بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے پست رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں
جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے خالص کردیا ہے۔ ان لوگوں کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔
یَغُضُّوْنَ : یعنی اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں۔
عِنْدَ رَسُوْلِ اللہ ِ : رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ ﷺ کی تعظیم کی وجہ سے۔
اِمْتَحَنَ اللہ قُلُوْبَھُمْ للتُّقْوٰی : صاحب قاموس نے لکھا ہے یعنی ان کے دلوں کو تقویٰ کیلئے کشادہ کردیا اور کھول دیا۔ یہ بھی صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ : مَحَنَہ ‘ فُتَحَ اور ضَرَبَسے اور اِمْتَحَنَہ بمعنی اِخْتَبَرَہَ…
Read the full tafseer →بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اکرم کے سامنے نیچی رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقوی اور توحید کے لیے خالص کردیا ہے ان کے دنیوی گناہوں کے لیے مغفرت اور آخرت میں اجر عظیم ہے، یہ آیت بھی حضرت ثابت بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کی تعریف فرمائی ہے، کیونکہ انہوں نے ممانعت کے بعد آواز بالکل آہستہ کردی تھی۔
شان نزول : اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ (الخ)
نیز محمد بن ثابت بن قیس سے روایت ہے کہ جس وقت یہ آیت لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ نازل ہوئی تو حضرت ثابت بن قیس رستہ میں بیٹھ کر رونے لگے، حضرت عاصم بن…
Read the full tafseer →ان الذین یغضون اصواتھم …: اس میں ان لوگوں کی تعریف ہے جو رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و تکریم کا خیال رکھتے ہوئے آپ کے پاس اپنی آواز پست رکھتے تھے، جیسا کہ عمر ؓ کے متعلق گزرا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے تقویٰ کا امحتان کر کے دیکھ لیا کہ وہ پرہیز گاری کے امتحان میں پوری طرح کامیاب ہیں، جیسے سونے کو آگ میں ڈال کر دیکھا جاتا ہے اور وہ خالص نکلتا ہے، تو کہا جاتا ہے کہ ہم نے اس کے خلاص ہونے کی آزمائش کرلی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی آواز پست نہیں رکھتا اس کا دل تقویٰ سے خالی ہے، پھر جو شخص آپ ﷺ کی حدیث سننے کے بعد اس کے خلاف آواز اٹھائے وہ تقویٰ اور ایمان سے کس قدر دور…
Read the full tafseer →جب وہ آپ ﷺ کی موجودگی پر کسی اور بات سے کرتے ہیں تو آپ کی تعظیم کی خاطر اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے (2) جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی نے کہا : اللہ کی قسم : میں آواز کو بلند نہیں کروں گا مگر رازداری کرنے والے کی طرح۔ سنید نے ذکر کیا : عباد بن عوام، محمد بن عمرو سے وہ ابو سلمہ سے رایت نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی : تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں آپ سے کلام نہیں کروں گا مگر جس طرح رازداری کرنے والا کلام کرتا ہے (3) عبداللہ بن زبیر نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی حضرت عمر نے نبی کریم ﷺ سے اس کے بعد…
Read the full tafseer →16:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا جب یہ (آیت ) ” اولئک الذین لمتحن اللہ قلوبھم للتقوی “ (یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقوی کے لئے خاص کردیا) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان میں سے ثابت قیس بن شماس بھی ہیں۔
17:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” امتحن “ سے مراد ہے خالص یعنی خالص کرنا۔
18:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو خالص کردیا ان چیزوں میں جس کو وہ پسند فرماتے تھے۔
19:۔ احمد (رح) نے الزھد…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ [ بیشک جو لوگ نیچی رکھتے ہیں ] اَصْوَاتَهُمْ [ اپنی آوازوں کو ] عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ [ اللہ کے رسول کے پاس ] اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] امْتَحَنَ اللّٰهُ [ امتحان لے لیا اللہ نے ] قُلُوْبَهُمْ [ جن کے دلوں کا ] لِلتَّقْوٰى ۭ [تقوی کے لیے ] لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ [ ان کے لیے مغفرت ہے ] وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ [ اور اجر عظیم ہے ]
م ح ن : (ف) محنا ۔ آزمانا۔ (افتعال ) امتحانا ۔ اہتمام سے آزمانا ۔ امتحان لینا ، ٹیسٹ کرنا ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 3 ۔
امتحن ۔ فعل امر ہے ۔ تو امتحان لے ۔ تو جانچ لے ۔ آیت ۔ اِذَا جَاۗءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
اَمْتَحَنَ لفظ امْتحان سے ماضی کا صیغہ ہے جس کا ترجمہ ” جانچ کرنا “ کیا گیا ہے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں : اِمْتَحَنَ اَخْلَصَ کے معنی میں ہے جس طرح سونے کو پگھلا کر خالص کردیا جاتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے قلوب کو تقویٰ کے لیے خالص کردیا ہے ان کے قلوب میں تقویٰ ہی تقویٰ ہے۔ حضرات صحابہ ؓ کے آداب و احترام کو دیکھو اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کو اور مدح اور توصیف کو دیکھو اور شیعوں کے بغض اور دشمنی کو دیکھو وہ کہتے ہیں کہ تین چار صحابہ کے علاوہ سب کافر تھے۔ (العیاذ باللہ)
فائدہ : حضرات علماء کرام نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی قبر شریف کے سامنے بھی آواز بلند کرنا مکروہ ہے جیسا کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
حقوق آداب و عظمت رسول اکرم ﷺ وانحصار فلاح وسعادت درانقیاد و اطاعت پیش فرامین بارگاہ رسالت :
(ربط) سورة فتح کا اختتام حضرات صحابہ ؓ کے خصوصی اوصاف و فضائل وکمالات کے ذکر پر ہوا تھا تو اب اس سورت میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ امت پر رسول خدا ﷺ کے کیا کیا حقوق عائد ہیں۔
اور حضرات صحابہ ؓ کو اللہ نے جو ایسے فضائل و کمالات سے نوازا تھا وہ ان کے انقعادواطاعت ہی کے باعث تھا، دلوں کے تقوی کے ساتھ ظاہری آداب اور حقوق عظمت کا کس قدر لحاظ تھا کہ مجلس میں جب بیٹھتے تو وہی شان ہوتی جو احادیث میں فرمائی گئی کہ کان علی رؤسنا الطیر گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں تو ان مضامین کا آغاز رسول اعظم کے حق تعظیم…
Read the full tafseer →4:۔ ” ان الذین یغضون “ یہ آواز پست رکھنے والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ ” امتحن اللہ الخ “ اللہ نے ان کے دلوں کو امتحان و ابتلا میں ڈال کر غل و غش اور کھوٹ سے پاک اور کھرا کر کے ان کو تقوی اور خوف خدا کے لیے مخصوص کردای ہے۔ قال الفراء ای اخلصہا للتوقوی وقال ابن عباس طھرھم من کل قبیح، وجعل فی قلوھم الخوف من اللہ والتقوی (قرطبی ج 16 ص 308) ۔ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی مجلس کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کے سامنے آواز پست رکھتے ہیں ان کے دلوں کو اللہ نے تقوی سے لبریز کردیا ہے اور آداب رسول اللہ ﷺ کی مجلس کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کے سامنے آواز پست رکھتے ہیں ان کے دلوں کو اللہ نے تقوی سے لبریز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں وہ اصول اور قوانین بیان کیے گئے ہیں جن پر عمل کر کے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی امن و سکون کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ ان کے جماعتی نظم و نسق میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور ان کے امور سلطنت بہتر طریقے سے انجام دیے جاسکتے ہیں ۔ گزشتہ آیت کریمہ میں دو اصولوں کا تذکرہ ہوچکا ہے ، پہلا اصول یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے اور حکم سے پہلے پیش قدمی نہ کرو ، بلکہ ہر حالت میں انہی کے فیصلے پر سر تسلیم خم کر دو ۔ اور دوسرا اصول یہ بیان ہوا کہ تقویٰ اختیار کرو یعنی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔
نبی کا ادب و احترام
اب تیسرے نمبر پر نبی (علیہ السلام) کے ادب و…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰى 0 ۭ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ 3
غض
الغَضُّ : النّقصان من الطّرف، والصّوت، وما في الإناء . يقال : غَضَّ وأَغَضَّ. قال تعالی:
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصارِهِمْ [ النور/ 30] ، وَقُلْ لِلْمُؤْمِناتِ يَغْضُضْنَ [ النور/ 31] ، وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ [ لقمان/ 19] ، وقول الشاعر : فَغُضَّ الطّرفَ إنّك من نمیر فعلی سبیل التّهكّم، وغَضَضْتُ السّقاء : نقصت ممّا فيه، والْغَضُّ : الطّريّ الذي لم يطل مكثه .
( ع ض ض ) الغض ( ن ) کے معنی کمی کرنے کے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
تفسیر : یہ سورة بالاتفاق مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ سورة فتح کے اخیر میں صحابہ ؓ کا مرتبہ اور ان کی بزرگی بیان ہوئی تھی اس لیے اس سورة میں چند آداب تعلیم کرتا ہے تاکہ ان کے برخلاف عمل کرنے سے اس بزرگی میں فرق نہ آوے۔ اس سورة میں تمدن کے متعلق وہ احکام بیان فرمائے ہیں کہ جن سے قوت اعوانیہ و طاقت اجتماعیہ جو اتفاق و محبت باہمی پر مبنی ہے قائم رہے۔ اور سب سے اول مسئلہ سردار کی تعظیم و عظمت کا ہے کیونکہ اس کی عزت دل میں ہوگی تو اس کے احکام کی تعمیل بھی ہوگی وہی تو اس قوت کا جمع رکھنے والا ہے۔
اوّل حکم : اس لیے سب سے اول رسول اللہ ﷺ کی جناب سے ادب ملحوظ رکھنے کے احکام صادر فرمائے۔ فقال یا ایہا الذین…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَھُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی ط لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌعَظِیْمٌ۔ (الحجرات : 3)
(بےشک جو لوگ اللہ کے رسول کے پاس بات کرتے ہوئے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے، ان کے لیے مغفرت اور اجرِعظیم ہے۔ )
تقویٰ صرف آنحضرت ﷺ کے مقام کا تحفظ کرنے والوں کو نصیب ہوتا ہے
تقویٰ درحقیقت اس کیفیت کا نام ہے کہ مسلسل اصلاح و تربیت اور تزکیہ سے دل کی یہ حالت ہوجائے کہ وہ نیکی کی ہر بات کی طرف لپکتا ہوا جائے اور گناہ کی ہر بات اسے یوں معلوم ہوا جیسے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کو اونچی اور دور سے بلانے والوں کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور ان کے مقابلے میں جو لوگ اللہ کے رسول کے سامنے آہستہ اور قریب ہو کر بات کرتے ہیں ان کا مقام اور انعام۔
نبی ﷺ کی آواز سے جو لوگ اپنی یا کسی کی آواز کو اونچا سمجھتے اور کرتے ہیں ان کے تمام اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے اپنی آواز آہستہ رکھتے ہیں حقیقت میں وہی آپ کا ادب اور احترام کرنے والے ہیں۔ نبی ﷺ کے سامنے اپنی آواز کو نیچا رکھنے اور آپ کا ادب کرنے والوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے ساتھ آزمایا لیا ہے۔ کیونکہ حقیقت میں انہی کے دلوں میں اللہ کا خوف اور اس…
Read the full tafseer →آیت 3 : اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ (بےشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ کے سامنے پست رکھتے ہیں) نحو : ان کا اسم رسول اللہ پر مکمل ہوا۔ اولئک الذینالخ یہ ان کی خبر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی آوازوں کو آپ کی تعظیم کیلئے پست رکھتے ہیں۔ اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی (یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے خاص کردیا ہے) نحو : اولئک مبتدأ اور الذین یہ جملہ اس کی خبر ہے۔ الذین کا صلہ للتقویٰ تک پورا ہوا۔ یہ اپنے مبتدأ سے مل کر خبر اِنَّ بن گئی۔ امتحن کا معنی تقویٰ کیلئے خالص کرنا۔ عرب کہتے ہیں امتحن الذہب…
Read the full tafseer →2 ۔” یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھرو الہ بالقول کجھر بعضکم لبعض “ ان کو حکم دیا کہ وہ آپ (علیہ السلام) کی تعظیم کریں اور آپ (علیہ السلام) کے پاس اپنی آوازیں بلند نہ کریں اور آپ (علیہ السلام) کو ایسے آواز نہ دیں جیسے وہ آپس میں ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں۔ ” ان تحبط اعمالکم “ تاکہ تمہاری نیکیاں ضائع نہ ہوجائیں اور کہا گیا اس خوف سے کہ تمہاری نیکیاں ضائع ہوجائیں۔ ” وانتم لاتشعرون “۔
نبی کریم ﷺ کے سامنے آواز بلند کرنے کے متعلق آیات
حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ آیت ” یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم “ کے نزول کے کے بعد حضرت ثابت بن قیس ؓ اپنے گھر میں بیٹھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ حضرت عبد اللہ 4 ؎ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ سورة مدنی ہے۔ صحیح بخاری 5 ؎ میں عبد اللہ بن زبیر کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بنی تمیم میں کے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے ان لوگوں میں سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک شخص کو قوم کا سردار ہونے کے قابل خیال کیا اور حضرت عمر ؓ نے دوسرے شخص کو اس بحث میں یہ دونوں صاحب بلند آواز سے چیخ چیخ کر باتیں کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے ایماندار لوگو جس طرح اللہ اور رسول کے حکم سے پہلے بنی تمیم میں کسی شخص کو سردار ٹھہرانے کی پیش قدمی کی گئی اور جس طرح اللہ کے رسول ﷺ کی مجلس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ادب، نیز آپ کی تعظیم، احترام اور اکرام و تکریم کو متضمن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان امور کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کے متقاضی ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب۔ نیزیہ کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کے مطابق چلیں اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کی اتباع کریں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے آگے نہ بڑھیں، اس وقت تک کوئی بات نہ کریں جب تک کہ اللہ کا رسول ﷺ بات نہ کرے، وہ کسی کام کا حکم نہ دیں جب تک کہ اللہ کا رسول ﷺ حکم نہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا یہی حقیق ادب ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
حضور ﷺ کی تعظیم ضروری ہے
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ۔ اے ایمان لانے والو ! اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کیا کرو) اس میں حضور ﷺ کی تعظیم کرنے اور اپٓ کی توقیر بجا لانے کا حکم ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (لسومنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ وتوقروہ ۔ تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو، اس کی مدد کرو اور اس کی توقیر بجا لائو)
ایک روایت کے مطابق آیت کا نزول ان لوگوں کے بارے میں ہوا تھا جن کی عادت یہ تھی کہ جب وہ حضور ﷺ سے کوئی بات پوچھی جاتی تو اس کے متعلق آپ سے پہلے ہی بول اٹھتے تھے۔ نیز ایک شخص کے بولنے کے دوران اگر آواز بلند کی جائے تو اس سے یہ…
Read the full tafseer →[ 6] پیغمبر (علیہ السلام) کے معاملے میں صحیح ادب کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان :
سو اس سے پیغمبر کے بارے میں صحیح رب کی تعلیم دی گئی کہ سامنے اپنی آوازوں کو پست رکھا جائے۔ ان کے ادب و احترام کے تقاضوں کے مطابق۔ اسی لئے حضرت علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اسی طرح آپ ﷺ کی قبر مبارک کے پاس بھی آواز بلند کرنا درست نہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ اپنی موت کے بعد بھی ایسے ہی قابل احترام ہیں جس طرح کہ اپنی حیات طیبہ میں تھے۔ " لانہ محترم حیا ومیتا و فی قبرہ ﷺ " [ ابن کثیر وغیرہ ] ۔ چناچہ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ ؓ نے جب دو آدمیوں کو مسجد نبوی میں اونچی آواز سے بات کرتے ہوئے سنا تو ان سے فرمایا کہ "…
Read the full tafseer →اجرِعظیم کے مستحق لوگ
تشریح : اس میں اس خلوص اور محبت کا ذکر کیا گیا ہے جو انسان کو خودبخود اس عمل پر مجبور کرتا ہے کہ اللہ و رسول ﷺ کا احترام کیا جائے کیونکہ انسان جس کو محترم سمجھتا ہے جس سے عقیدت رکھتا ہے اس کا ہر حکم مانتا ہے اس کا ادب کرتا ہے کبھی اس کے ساتھ اونچی آواز سے بات نہیں کرتا نہ اس کی نافرمانی کرتا ہے۔ اور یہی سب باتیں ایک عام انسان کو متقی اور پرہیزگار بناتی ہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ کے پاس بہت زیادہ اجر وثواب اور بخشش ہے۔ تو گویا حب اللہ اور حب رسول تقویٰ کی نشانی ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت انس ؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک بدو نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ قیامت کب ہوگی ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
نیز اصلاح عالم کی جہاد کی غرض یہی ہے کہ پہلے اصلاح نفس کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ادب واحترام نبوی پر ہے چہ جائیکہ کوئی اطاعت وغلامی میں پس وپیش کرے۔ حد ادب یہ ہے کہ کبھی کسی کام میں یا کسی بات میں رسول اللہ پر سبقت نہ کیا کرو کہ یہ ایسے ہے جیسے اللہ کی ذات پر کسی نے سبقت کی کہ آپ کا ارشاد ہی اللہ کا ارشاد ہے اور اس معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے ۔
اصلاح نفس کی بنیاد ادب ہے بارگاہ نبوی میں اس کی ضرورت قرآن نے بتادی علماء مشائخ وارث نبوت ہو کر ادب کے مستحق ہیں۔
نیز اپنی آواز کو پست رکھا کرو اور کبھی بھی نبی کریم کی آواز سے بلندآواز میں بات نہ کرو…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی وہ پرہیز گاری کے امحتان میں پورے اترے ہیں۔
Read the full tafseer →(49:3) یغضون مضارع جمع مذکر غائب غض (باب نصر) مصدر۔ وہ نیچی رکھتے ہیں وہ پست رکھتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے : قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم ۔ (24:30) مومن مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں۔
اولئک ۔ اسم اشارہ جمع مذکر ۔ ای الذین یغضون اصواتہم عند رسول اللہ۔ یعنی وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں۔
امتحن اللہ قلوبہم للتقوی ۔ امتحن ۔ ماضی واحد مذکر غائب امتحان (افتعال) مصدر۔ محن مادہ۔ اس نے جانچ لیا۔ اس نے آزما لیا۔ آزمانے کے معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فامتحنوھن (60:10) تو تم ان کی آزمائش کرلو۔
اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اللہ نے ان کے دل تقویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 5) ۔
لا تقد موا (تم آگے نہ بڑھو) ۔ لا تر فعوا (بلند مت کرو) ۔ اصوات (صوت) (آوازیں) ۔ لا تجھروا (چلاؤمت۔ شور مت کرو) ۔ تحبط (ضائع کرتا ہے) ۔ یغضون (دھیما کرتے ہیں۔ نیچی کرتے ہیں) ۔ امتحن ( امتحان لیا۔ آزمایا) ۔ ینادون (وہ آوازیں دیتے ہیں) ۔ وراء (پیچھے) ۔ الحجرات (الحجرۃ) (حجرے۔ کمرے) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 1 تا 5 ) ۔” سورة الحجرات میں اہل ایمان کو رسول اللہ ﷺ سے ملنے اور آپ کی خدمت میں حاضری کے آداب و احکامات، آپ ﷺ سے محبت اور اصلاح نفس کے بنیادی اصول سکھائے گئے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت سے دنیا اور آخرت کی تمام…
Read the full tafseer →(ف 2) شان نزول۔
اوپر کی آیت نازل ہونے پر حضرت ثابت ؓ رونے لگے اور دل کو نہایت قلق وتفگر لاحق ہوا کہ جب تک میرا قصور معاف نہ ہوجائے گا اور مجھ کو حاضری دربار کی اجازت نہ ملے گی کہیں گھر سے باہر نہ نکلوں گا، حضور ﷺ نے حضرت سعد سے انکا حال دریافت فرمایا، انہوں نے عرض کیا، وہ میرے پڑوسی ہیں اور میرے علم میں انہیں کوئی بیماری تو نہیں ہوئی۔ پھر آکر حضرت ثابت ؓ سے اس کا ذکر کیا ثابت نے کہا کہ یہ آیت نازل ہوئی اور تم جانتے ہو کہ میں سب سے زیادہ بلند آواز ہوں اور مجھ کو اپنے آقائے نامدار خیرالابرار سے بات کرنے میں اپنے اعمال ضبط ہونے کا خوف ہے۔ حضرت سعد نے یہ خیال خدمت اقدس میں عرض کیا توحضور ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
[3] یعنی اہل ایمان کو چاہئے کہ آپ ﷺ سے بات چیت میں آپ ﷺ کا انتہائی احترام ملحوظ رکھیں اور اپنی آواز آپ ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کریں۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی احادیث سننے کے وقت بھی یہی ادب چاہئے۔
Read the full tafseer →(3) بے شک جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے روبرو اپنی آوزوں کو پست رکھتے ہیں اور دبی آواز سے بولتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقوے کے لئے آزمالیا ہے اور نکھار لیا ہے اور خالص کردیا ہے ان کے لئے بڑی مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔
یہ آیت بقول بعض مفسرین سعد بن معاذ ؓ کے بارے میں اتری ہے اور بعض نے کہا کہ ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
بہرحال مطلب یہ ہے کہ جو لوگ رسالت مآب کی جناب میں دبی آواز سے گفتگو کرتے ہیں ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لئے نکھار کر خالص کرلیا ہے یعنی ان کے دلوں میں غیر تقوی نہیں ہے اور یہی وہ تقویٰ کا اعلیٰ درجہ ہے جس کو فرمایا۔
لا یبلغ العبد ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 1۔ مطلب یہ کہ متقی کامل ہیں۔
2۔ اگلی آیتوں کا واقعہ یہ ہے کہ وہی بنی تمیم جب آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے آئے تو اس وقت آپ دولت خانہ میں تشریف رکھتے تھے، انہوں نے باہر سے بوجہ قلت تہذیب کے آپ کو نام لے لے کر پکارنا شروع کیا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →حق بات کو سن کر عمل کرنے والے ہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کی آزمائش کرلی گئی ہے
3 ۔ (یغضوا) کا اصل مادہ غ ض ض ہے اور غض کے معنی جھکانے اور نیچا کرنے کے ہیں اس کا استعمال نظر اور آواز دونوں پر ہوتا ہے نظریں نیچی کرنا یا آواز نیچی کرنا گویا یہ ان خوش قسمت لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن کو نبی اعظم و آخر ﷺ کے سامنے بات کرنے اور آپ ﷺ کی طرف دیکھنے اور آپ ﷺ کی حیثیت کا لحاظ ویاس کرتے دیکھ لیا گیا ہے کہ وہ نہ تو آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی آپ ﷺ کے سامنے اپنی آواز کو بلند کرسکتے ہیں اور یہ بات ان کی طبیعت میں راسخ ہوچکی ہے کہ کتاب و سنت کی بات آئے گی تو وہ رام ہوں گے اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ do not raise your voices above the voice of the Prophet ﷺ . - 49:2) This is another etiquette to be observed while in the presence of the Holy Prophet ﷺ . This verse teaches the believers that they should not raise their voices above the voice of the Holy Prophet ﷺ nor speak aloud to him as one speaks aloud to another in general discussions. The verse warns that neglecting this etiquette may entail nullification of one's virtuous deeds, because this is a kind of disrespect to the Holy Prophet ﷺ . Thus when this verse was revealed, the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5 That is, "Only those people give due reverence to the Messenger of Allah, who have passed successfully through the tests and trials set by Allah and proved by their steadfastness that their hearts indeed possess tagva (piety). " From this it follows automatically that the heart which is devoid of reverence for the Holy Prophet is, in fact, devoid of tagva, and a person's raising his voice louder than the Holy Prophet's is not only an uncivilized act outwardly but also a sign of the absence of tagva in his heart.
Read the full tafseer →