Explained with ayahs 1–3
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنے نبی کے آداب سکھاتا ہے کہ تمہیں اپنے نبی کی توقیر و احترام عزت و عظمت کا خیال کرنا چاہیے تمام کاموں میں اللہ اور رسول کے پیچھے رہنا چاہیے، اتباع اور تابعداری کی خو ڈالنی چاہیے حضرت معاذ کو جب رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو دریافت فرمایا اپنے احکامات کے نفاذ کی بنیاد کسے بناؤ گے جواب دیا اللہ کی کتاب کو فرمایا اگر نہ پاؤ ؟ جواب دیا سنت کو فرمایا اگر نہ پاؤ ؟ جواب دیا اجتہاد کروں گا تو آپ نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے قاصد کو ایسی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہو (ابو داؤد و ترمذی ابن ماجہ) یہاں اس حدیث کے…
Read the full tafseer →سورة الْحُجُرٰت 3
یہ وہ ادب ہے جو رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھنے والوں اور آپ کی خدمت میں حاضر ہونے والوں کو سکھایا گیا تھا۔ اس کا منشا یہ تھا کہ حضور ﷺ کے ساتھ ملاقات اور بات چیت میں اہل ایمان آپ کا انتہائی احترام ملحوظ رکھیں۔ کسی شخص کی آواز آپ کی آواز سے بلند تر نہ ہو۔ آپ سے خطاب کرتے ہوئے لوگ یہ بھول نہ جائیں کہ وہ کسی عام آدمی یا اپنے برابر والے سے نہیں بلکہ اللہ کے رسول سے مخاطب ہیں۔ اس لیے عام آدمیوں کے ساتھ گفتگو اور آپ کے ساتھ گفتگو میں نمایاں فرق ہونا چاہیے اور کسی کو آپ سے اونچی آواز میں کلام نہ کرنا چاہیے۔
یہ ادب اگرچہ نبی ﷺ کی مجلس کے لیے سکھایا گیا تھا اور اس کے مخاطب وہ لوگ تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(آیت) وَلَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ، یہ دوسرا ادب مجلس نبوی کا بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ کی آواز سے زیادہ آواز بلند کرنا یا بلند آواز سے اس طرح گفتگو کرنا جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بےمحابا کیا کرتے ہیں ایک قسم کی بےادبی گستاخی ہے، چناچہ اس آیت کے نزول سے صحابہ کرام کا یہ حال ہوگیا کہ حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ قسم ہے کہ اب مرتے دم تک آپ سے اس طرح بولوں گا جیسے کوئی کسی سے سرگوشی کرتا ہو (در منشور عن البیہقی) اور حضرت عمر اس قدر آہستہ بولنے لگے کہ بعض اوقات دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا (کذا فی الصحاح) اور حضرت ثابت بن قیس طبعی طور پر بہت…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا لافوعوآ اصواتکم فوق صوت النیتی ولاتجھروا لہ بالقول کھجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون 2
جن کے اندر پندار ہوا اس کا اثر ان کے انداز کلام سے نمایاں ہوتا ہے
یہ اسی اوپر والی بات کے ایک دوسرے پہلو کی طرف اشارہ ہے جن لوگوں کے اندر یہ خناس سمایا ہوا ہو کہ وہ اللہ و رسول کو مشورہ دینے کے پوزیشن میں ہیں یا جن کو یہ زعم ہو کہ ان کا سالم قبول کرلینا اسلام اور پیغمبرک پر ایک احسان ہے۔ ان کا طرز خطاب اور انداز کلام رسول کے آگے متواضعانہ و نیاز مندانہ نہیں ہوسکتا تھا۔ بلکہ ان کے اس پندار کا اثر ان کی گفتگو سے نمایاں ہونا ایک امر فطری تھا۔ چناچہ یہ لوگ جب نبی ﷺ سے گفتگو کرتے…
Read the full tafseer →2۔ 1 اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے اس ادب و تعظیم اور احترام و تکریم کا بیان ہے جو ہر مسلمان سے مطلوب ہے پہلا ادب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی موجودگی میں جب تم آپس میں گفتگو کرو تو تمہاری آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ ہو دوسرا ادب جب خود نبی ﷺ سے کلام کرو تو نہایت وقار اور سکون سے کرو اس طرح اونچی اونچی آواز سے نہ کرو جس طرح تم آپس میں بےتکلفی سے ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہو بعض نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یا محمد یا احمد نہ کہو بلکہ ادب سے یا رسول اللہ کہہ کر خطاب کرو اگر ادب و احترام کے ان تقاضوں کو ملحوظ نہ رکھو گے تو بےادبی کا احتمال ہے جس سے بےشعوری میں تمہاے عمل برباد ہوسکتے ہیں اس آیت کی شان نزول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: سورت کی یہ ابتدائی پانچ آیتیں ایک خاص موقع پر نازل ہوئی تھیں، حضور اقدس ﷺ کے پاس عرب کے قبائل کے بہت سے وفد آتے رہتے تھے، اور آنحضرت ﷺ ان میں سے کسی کو آئندہ کے لئے قبیلے کا امیر مقرر فرما دیتے تھے، ایک مرتبہ قبیلہ تمیم کا ایک وفد آپ کی خدمت میں آیا، ابھی آپ نے ان میں سے کسی کو امیر نہیں بنایا تھا، اور نہ اس سلسلے میں کوئی بات کی تھی، لیکن آپ کی موجودگی میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ نے یہ مشورہ شروع کردیا کہ ان میں سے کس کو امیر بنایا جائے، حضرت ابوبکر نے ایک نام لیا اور حضرت عمر نے دوسرا، پھر ان دونوں بزرگوں نے اپنی اپنی رائے کی تائید اس طرح شروع کردی کہ کچھ بحث کا سا انداز پیدا ہوگیا،…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وانتم لا تشعرون (49 : 2) “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی آوازنبی کی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی سے اونچی آواز سے بات کرو ، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ” ایمان لانے والوں سے خطاب کر کے اس بات کا اظہار کردیا کہ تمہارا وقار ایمان سے ہے اور ایمان تمہیں حضرت محمد ﷺ نے سکھایا ہے۔ نبی کی بارگاہ میں ذرا بھی بےاحتیاطی سے اعمال غارت ہوجائیں گے اور تمہارے اعمال اسی طرح اسی طرح بےاثر ہوجائیں جس طرح ہٹا کٹا جانور زہریلی گھاس سے آنافانا ختم ہوجاتا ہے تمہیں پتہ بھی ہوگا اور اعمال ضائع ہوچکے…
Read the full tafseer →8 یعنی حضور ﷺ کی مجلس میں شور نہ کرو اور جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بےتکلف چہک کر یا تڑخ کر بات کرتے ہو، حضور ﷺ کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے۔ آپ سے خطاب کرو تو نرم آواز سے تعظیم و احترام کے لہجہ میں ادب و شائستگی کے ساتھ۔ دیکھو ایک مہذب بیٹا اپنے باپ سے، لائق شاگرد استاد سے، مخلص مرید پیرو مرشد سے، اور ایک سپاہی اپنے افسر سے کسی طرح بات کرتا ہے پیغمبر کا مرتبہ تو ان سب سے کہیں بڑھ کر ہے۔ آپ ﷺ سے گفتگو کرتے وقت پوری احتیاط رکھنی چاہیے۔ مبادا بےادبی ہوجائے اور آپ کو تکدر پیش آئے تو حضور ﷺ کی ناخوشی کے بعد مسلمان کا ٹھکانا کہاں ہے۔ ایسی صورت میں تمام اعمال ضائع ہونے اور ساری محنت…
Read the full tafseer →آیت 2 { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَـکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ } ”اے اہل ِایمان ! اپنی آواز کبھی بلند نہ کرنا نبی ﷺ کی آواز پر اور نہ انہیں اس طرح آواز دے کر پکارنا جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو بلند آواز سے پکارتے ہو“
{ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ } ”مبادا تمہارے سارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔“
خبردار ! نبی کریم ﷺ کی تعظیم و توقیر کا معاملہ بہت نازک اور حساس ہے۔ اس معاملے میں ہمیشہ چوکنا اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو نبی کریم ﷺ کی…
Read the full tafseer →2 یعنی جب تم نبی کی مجلس میں بیٹھے ہو تو ان کا ادب و احترام ملحوظ رکھو۔ اس آیت کا شان نزول درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے :
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے سامنے آوازیں بلند کرنے کی بنا پر دو نیک ترین آدمی تباہ ہونے کو تھے یعنی سیدنا ابوبکر صدیق ؓ اور سیدنا عمر جبکہ بنی تمیم کا ایک وفد (9 ھ) میں آپ کے پاس آیا (اور آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کا کوئی سردار مقرر فرما دیں) ان دونوں میں سے ایک نے اقرع بن حابس کی (سرداری) کا مشورہ دیا جو بنی مجاشع (بنو تمیم کی ایک شاخ) میں سے تھا اور دوسرے نے کسی دوسرے (قعقاع بن معبد) کے متعلق مشورہ دیا۔ نافع بن عمر کہتے ہیں کہ مجھے اس کا نام یاد نہیں رہا۔…
Read the full tafseer →2۔ (جس وقت کہ آپ سے کلام کررہے ہو) (آیت) ” لا ..... النبی “۔ رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں اپنی آواز کے پست رکھنے کا حکم اس وقت کے لیے نہیں، جبکہ گفتگو آپس میں ہورہی ہو۔ (آیت) ” لاترفعوا “۔ کی نہی کو فقہاء نے اپنی اصطلاح میں نہی تحریمی قرار دیا ہے۔ اور بعض فقہاء نے اس ایک لفظ سے نتائج ذیل برآمد کیے ہیں :۔
(1) آپ ﷺ کے حضور میں گفتگو زور سے نہ کی جائے نہ اپنی بات کو اس طرح بالا کیا جائے، جس سے ارشاد والا کی تردید نکل رہی ہو۔ یہ تو صاف عبارۃ النص ہے۔
(2) درشت کلامی، لڑائی جھگڑا اور ہر قسم کی بےادبی آپ ﷺ کے مواجہہ میں ناجائز ہے۔ یہ دلالۃ النص ہوئی۔
(3) زیادہ بک بک آپ ﷺ کے مواجہہ میں ممنوع ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، اب اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو قدم بمعنی تقدم سے مشتق ہے یعنی قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسول پر جو اس کا پیغامبر ہے پیش قدمی نہ کرو یعنی ان دونوں کی اجازت کے بغیر اور اللہ سے ڈرت رہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہاری باتوں کو سننے والا تمہارے کاموں کو جاننے والا ہے، یہ آیت آنحضرت ﷺ کے حضور ابوبکر و عمر ؓ کے اقرع ابن حابس یا قعقاع بن معبد کو امیر بنانے میں نزاع کے بارے میں نازل ہوئی اور (آئندہ آیت) اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی کہ جس نے اپنی آواز کو آپ ﷺ کے حضور بلند کیا، اے ایمان والو ! جب تم گفتگو کیا کرو تو نبی کی آواز…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھعوا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون اے ایمان والو ! تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند
مت کیا کرو اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کھل کر بولا کرتے ہو ‘ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : مزید دعوت بصیرت دینے کے لیے ‘ الفاظ کو زور دار بنانے کے لیے اور حکم کی زیادہ اہمیت ظاہر کرنے کے لیے مکرر صیغۂ نداء استعمال کیا گیا۔
لاَ تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ.... . یعنی اللہ کے نبی سے جب بات کرو تو ان کے سامنے اونچی آوازوں سے بات نہ کرو اور ان…
Read the full tafseer →اگلی آیت ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس وقت وفد بنی تمیم آیا تو رسو اکرم کے سامنے اونچی آواز میں بات کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے منع کردیا کہ اے ایمان والو یعنی اے ثابت تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور نہ آپ سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسا آپس میں ایک دوسرے کا نام لے کر کھل کر بولا کرتے ہو۔
بلکہ تعطیم و توقیر اور احترام کے ساتھ آپ کہہ کر مخاطب کیا کرو یا نبی اللہ یا رسول اللہ وغیرہ الفاظ سے مخاطب کرو، یوں نہ ہو کہ کبھی ترک ادب و احترام نبی اکرم کی وجہ سے تمہارے نیک اعمال برباد ہوجائیں اور تمہیں ان کے برباد ہونے کی خبر بھی نہ ہو۔
شان نزول : لَا…
Read the full tafseer →(1) یایھا الذین امنوا لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی : آلوسی نے فرمایا کہ پچھلی آیت میں ایمان والوں کو اپنے قول یا فعل میں رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھنے سے منع فرمایا ، اس آیت میں آپ کے سامنے بولنے کی کیفیت میں بھی آپ سے بڑھنے کو منع فرما دیا۔ چناچہ فرمایا ہ آپ ﷺ کی موجودگی یا آپ کی مجلس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے بھی اپنی آوازیں آپ ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کریں۔ صحیح بخاری میں اس آیت کا سبب نزول بیان ہوا ہے، ابن ابی ملیکہ فرمایت ہیں :(کاج الخیران ان بھلکا، ابا بکر و عمر ؓ عنھما، رفعا اصواتھما عند النبی ﷺ حین قدم علیہ رکب بنی تمیم فاشار احدھما بالافرع بن حابین اخی بنی مجاشع واشار الآخر برجل آخر…
Read the full tafseer →اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1:۔ امام بخاری اور امام ترمذی نے حضرت ابن ابی ملیکہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا : اقرع بن حابس نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اسے اس کی قوم پر عامل بنا دیئجے۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ (1) اسے عامل نہ بنائیں، دونوں صحابہ نے نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں گفتگو کی یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا : تو نے محض میری مخالفت کا ارادہ کیا ہے حضرت عمر نے کہا : میں نے آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔
اس کے بعد جب حضرت عمر…
Read the full tafseer →1:۔ البخاری وابن المنذر والطبرانی نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ قریب تھا کہ دو خیر (والے آدمی) ابوبکر ؓ اور عمر ؓ ہلاک ہوجاتے کہ دونوں کی آواز اس وقت بلند ہوگئیں نبی کریم ﷺ کے پاس بنوتمیم کے سوار آپ ﷺ کے پاس آئے ان میں سے ایک نے اقرع بن حابس کی طرف اشارہ کیا اور دوسرے نے دوسرے آدمی کی طرف اشارہ کیا ابوبکر ؓ نے عمر ؓ سے فرمایا تو نے نہیں ارادہ کیا مگر میرے خلاف کرنے کا عمر ؓ نے فرمایا میں نے آپ کے خلاف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں کیا اس بارے میں دونوں کی آوازیں بلند ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ’ نازل فرمائی یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی “ (اے ایمان والوں اپنی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] لَا تَرْفَعُوْٓا [ تم لوگ بلند مت کرو ] اَصْوَاتَكُمْ [ اپنی آوازوں کو ] فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ [ ان نبی کی آواز کے اوپر ] وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ [ اور اونچا مت بولو ان کے لیے بات میں ] كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ [ جیسے تمہارے کسی کا اونچا بولنا ] لِبَعْضٍ [ کسی کے لیے ] اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ [ کہیں اکارت جائیں تمہارے اعمال ] وَ [اس حال میں کہ ] اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ [ تم لوگ شعور نہ رکھتے ہو ]
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 2:26، نوٹ ۔ 2 میں ہم نے تفسیر حقانی سے فاسق کے تین درجے نقل کیے ہیں اس میں پہلا درجہ یہ ہے کہ آدمی…
Read the full tafseer →معالم التنزیل میں ہے کہ اس موقعہ پر شروع سورت سے لے کر اجر عظیم تک آیات نازل ہوگئیں، جن میں اللہ اور رسول ﷺ کے حکم سے آگے بڑھنے کی اور آپ کی خدمت میں رہتے ہوئے آوازیں بلند کرنے کی ممانعت فرما دی اور یہ حکم بھی فرما دیا کہ رسول اللہ ﷺ سے باتیں کرو تو ادب کا خیال رکھو اور اس طرح اونچی آواز سے بات نہ کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا ﴿ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ 002﴾ ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ ﷺ کی آواز پر تمہاری آواز بلند ہوجائے اور اس کی وجہ سے تمہارے اعمال حبط ہوجائیں یعنی تمہاری نیکیاں ختم کردی جائیں اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
حقوق آداب و عظمت رسول اکرم ﷺ وانحصار فلاح وسعادت درانقیاد و اطاعت پیش فرامین بارگاہ رسالت :
(ربط) سورة فتح کا اختتام حضرات صحابہ ؓ کے خصوصی اوصاف و فضائل وکمالات کے ذکر پر ہوا تھا تو اب اس سورت میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ امت پر رسول خدا ﷺ کے کیا کیا حقوق عائد ہیں۔
اور حضرات صحابہ ؓ کو اللہ نے جو ایسے فضائل و کمالات سے نوازا تھا وہ ان کے انقعادواطاعت ہی کے باعث تھا، دلوں کے تقوی کے ساتھ ظاہری آداب اور حقوق عظمت کا کس قدر لحاظ تھا کہ مجلس میں جب بیٹھتے تو وہی شان ہوتی جو احادیث میں فرمائی گئی کہ کان علی رؤسنا الطیر گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں تو ان مضامین کا آغاز رسول اعظم کے حق تعظیم…
Read the full tafseer →3:۔ ” یا ایہا الذین امنوا لا ترفعوا “ یہ دوسرا قانون ہے اور اس میں رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کرنے اور آپ کی مجلس میں باہم باتیں کرنے کا ادب سکھایا گیا ہے فرمایا جب تم پیغمبر (علیہ السلام) سے گفتگو کرو تو تمہاری آواز آپ کی آواز سے اونچی نہ ہونے پائے، بلکہ تمہاری آواز آپ کی آواز سے پست رہے۔ نیز جب تم آپ ﷺ کی مجلس میں باہم باتیں کرو اور تمہاری آوازیں آپ کی مجلس میں بلند نہ ہونے پائیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ آپ سے خطاب کرتے وقت بلند آواز سے باتیں نہ کرو۔ جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے اونچی آواز میں باتیں کرتے ہو اور آپ کو آپ کے نام سے بھی نہ پکارو بلکہ اوصاف سے پکارو۔ جس طرح بادشاہوں کے درباروں میں آوازیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں وہ اصول اور قوانین بیان کیے گئے ہیں جن پر عمل کر کے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی امن و سکون کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ ان کے جماعتی نظم و نسق میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور ان کے امور سلطنت بہتر طریقے سے انجام دیے جاسکتے ہیں ۔ گزشتہ آیت کریمہ میں دو اصولوں کا تذکرہ ہوچکا ہے ، پہلا اصول یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے اور حکم سے پہلے پیش قدمی نہ کرو ، بلکہ ہر حالت میں انہی کے فیصلے پر سر تسلیم خم کر دو ۔ اور دوسرا اصول یہ بیان ہوا کہ تقویٰ اختیار کرو یعنی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔
نبی کا ادب و احترام
اب تیسرے نمبر پر نبی (علیہ السلام) کے ادب و…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ كَجَــہْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ 2
رفع
الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ
[ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2]
( رع ) الرفع
کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
تفسیر : یہ سورة بالاتفاق مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ سورة فتح کے اخیر میں صحابہ ؓ کا مرتبہ اور ان کی بزرگی بیان ہوئی تھی اس لیے اس سورة میں چند آداب تعلیم کرتا ہے تاکہ ان کے برخلاف عمل کرنے سے اس بزرگی میں فرق نہ آوے۔ اس سورة میں تمدن کے متعلق وہ احکام بیان فرمائے ہیں کہ جن سے قوت اعوانیہ و طاقت اجتماعیہ جو اتفاق و محبت باہمی پر مبنی ہے قائم رہے۔ اور سب سے اول مسئلہ سردار کی تعظیم و عظمت کا ہے کیونکہ اس کی عزت دل میں ہوگی تو اس کے احکام کی تعمیل بھی ہوگی وہی تو اس قوت کا جمع رکھنے والا ہے۔
اوّل حکم : اس لیے سب سے اول رسول اللہ ﷺ کی جناب سے ادب ملحوظ رکھنے کے احکام صادر فرمائے۔ فقال یا ایہا الذین…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلاَ تَجْھَرُوْا لَـہٗ بِالْقَوْلِ کَجَھْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُـکُمْ وَاَنْتُمْ لاَ تَشْعُرُوْنَ ۔ (الحجرات : 2)
(اے ایمان والو ! تم اپنی آواز نبی کی آواز پر بلند نہ کرو اور نہ نبی کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، ایسا نہ ہو تمہارے اعمال ڈھے جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ )
آنحضرت ﷺ سے گفتگو اور آپ کی خدمت میں حاضری کے آداب
اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آنے والوں اور بیٹھنے والوں کو گفتگو کا ادب سکھایا گیا ہے کہ تم آنحضرت ﷺ سے جب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کے رسول سے آگے بڑھنے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اپنی بات کو نبی ﷺ کی بات سے بلند رکھا جائے۔ اس سے منع کیا گیا ہے۔
پہلی آیت میں یہ حکم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔ آگے بڑھنے کا مفہوم پیچھے ذکر ہوچکا ہے اب صرف نبی ﷺ کا نام لے کر مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ آپ ﷺ کی آواز سے اپنی آواز کو اونچی نہ کرو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا نام نہیں لیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دور یا نزدیک، بلند اور آہستہ آواز میں پکارا جاسکتا ہے اور ہر حال میں اسی کو پکارنا چاہیے۔ نبی ﷺ کی حیات مبارکہ میں آپ کو نہ دور سے پکارا جاسکتا ہے اور نہ ہی آپ ﷺ سے بات کرنے والے کی…
Read the full tafseer →آیت 2 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (اے ایمان والو) اس نداء کو دوبارہ تاکید کیلئے لائے تاکہ ہر خطاب جدید کے وقت اپنی بصیرت کی تجدید کرلیں اور غور و فکر سے بالکل غفلت نہ برتیں۔
آواز کو آپ کی مجلس میں پست رکھیں :
لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ (اپنی آوازیں پیغمبر ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو) یعنی جب آپ گفتگو فرما رہے ہوں اور تم بھی گفتگو کرو تو تم اپنی آواز کو بلندی میں اس حد تک نہ پہنچائو۔ جس حد تک آپ پہنچانے والے ہوں۔ اپنی آواز اس طرح ہلکی رکھو کہ آپ کا کلام تمہارے کلام سے بلند تر نظر آئے۔ اور آپ کا جہر تمہارے جہر پر نمایاں ہو یہاں تک کہ آپ کا مقام اس سے چمکنے والا…
Read the full tafseer →1 ۔” یایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ “ یعقوب (رح) نے ” لا تقدموا “ تاء اور دال کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے تقدم سے۔ یعنی (تم آگے نہ بڑھو)” لاتقدموا “ اور دیگر حضرات نے تاء کی پیش اور دال کی زیر کے ساتھ تقدیم سے پڑھا ہے اور یہ لازمی باب ہے تقدم کے معنی میں۔ بین اور تبین کی مثل اور کہا گیا ہے کہ یہ اپنے ظاہر پر متعدی ہے اور مفعول محذوف ہے یعنی ” لا تقدموا القول والفعل بین یدی اللہ ورسولہ “ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے آگے کسی قول وفعل کو نہ کرو۔ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ عرب کہتے ہیں ” لا تقدم بین یدی الامام وبین یدالرب “ یعنی اس کے بغیر امرونہی میں جلدی نہ کر۔ بین الیدین کا معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ حضرت عبد اللہ 4 ؎ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ سورة مدنی ہے۔ صحیح بخاری 5 ؎ میں عبد اللہ بن زبیر کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بنی تمیم میں کے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے ان لوگوں میں سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک شخص کو قوم کا سردار ہونے کے قابل خیال کیا اور حضرت عمر ؓ نے دوسرے شخص کو اس بحث میں یہ دونوں صاحب بلند آواز سے چیخ چیخ کر باتیں کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے ایماندار لوگو جس طرح اللہ اور رسول کے حکم سے پہلے بنی تمیم میں کسی شخص کو سردار ٹھہرانے کی پیش قدمی کی گئی اور جس طرح اللہ کے رسول ﷺ کی مجلس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ادب، نیز آپ کی تعظیم، احترام اور اکرام و تکریم کو متضمن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان امور کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کے متقاضی ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب۔ نیزیہ کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کے مطابق چلیں اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کی اتباع کریں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے آگے نہ بڑھیں، اس وقت تک کوئی بات نہ کریں جب تک کہ اللہ کا رسول ﷺ بات نہ کرے، وہ کسی کام کا حکم نہ دیں جب تک کہ اللہ کا رسول ﷺ حکم نہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا یہی حقیق ادب ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
حضور ﷺ کی تعظیم ضروری ہے
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ۔ اے ایمان لانے والو ! اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کیا کرو) اس میں حضور ﷺ کی تعظیم کرنے اور اپٓ کی توقیر بجا لانے کا حکم ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (لسومنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ وتوقروہ ۔ تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو، اس کی مدد کرو اور اس کی توقیر بجا لائو)
ایک روایت کے مطابق آیت کا نزول ان لوگوں کے بارے میں ہوا تھا جن کی عادت یہ تھی کہ جب وہ حضور ﷺ سے کوئی بات پوچھی جاتی تو اس کے متعلق آپ سے پہلے ہی بول اٹھتے تھے۔ نیز ایک شخص کے بولنے کے دوران اگر آواز بلند کی جائے تو اس سے یہ…
Read the full tafseer →[ 2] پیغمبر (علیہ السلام) سے حسن تخاطب کے متعلق ایک اہم ہدایت :
سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے بلند نہیں کرنا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ پیغمبر کی آواز پر اپنی آوازوں کو بلند نہیں کرنا "۔ یعنی جب پیغمبر تم سے بات کر رہے ہوں تو تمہاری آواز ان کی آواز کے مقابلے میں اونچی اور بلند نہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ ان کی آواز کے مقابلے میں تمہاری آواز پست اور دھیمے انداز کی رہنی چاہئے۔ [ مراغی وغیرہ ] سو پیغمبر کے سامنے اور ان کو خطاب کرتے وقت تمہاری آواز متواضعانہ ہو، اور ادب و احترام کے تقاضوں کے عین مطابق ہو۔ اس طرح کی آواز ہو جو اپنے برابر کے شخص کیلئے ہوتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے پیش قدمی کی ممانعت
تشریح : پہلی آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو اس کا حل خود سے کبھی پیش نہ کرو بلکہ سب سے پہلے قرآن میں دیکھو پھر احادیث میں پھر فرامین جاری کیے جائیں کسی بھی مسئلہ کا حل اپنے پاس سے پیش نہیں کرنا چاہیے۔ یہی حکم اجتماعی اور ملکی معاملات پر بھی عائد ہوتا ہے۔ اصل میں یہ اسلامی آئین کی بنیاد ہے۔ جج بھی اپنے فیصلے میں قرآن و سنت کے قوانین کا پابند ہے۔ مختلف احادیث اور قرآنی آیات بار بار اسی بات کی تلقین کرتی ہیں۔ رب العزت سے خوف کھانا سب سے زیادہ ضروری ہے۔
اللہ کا خوف انسان کو خود اعتمادی دیتا ہے اور تمام لوگوں سے بےنیاز کردیتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
نیز اصلاح عالم کی جہاد کی غرض یہی ہے کہ پہلے اصلاح نفس کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ادب واحترام نبوی پر ہے چہ جائیکہ کوئی اطاعت وغلامی میں پس وپیش کرے۔ حد ادب یہ ہے کہ کبھی کسی کام میں یا کسی بات میں رسول اللہ پر سبقت نہ کیا کرو کہ یہ ایسے ہے جیسے اللہ کی ذات پر کسی نے سبقت کی کہ آپ کا ارشاد ہی اللہ کا ارشاد ہے اور اس معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے ۔
اصلاح نفس کی بنیاد ادب ہے بارگاہ نبوی میں اس کی ضرورت قرآن نے بتادی علماء مشائخ وارث نبوت ہو کر ادب کے مستحق ہیں۔
نیز اپنی آواز کو پست رکھا کرو اور کبھی بھی نبی کریم کی آواز سے بلندآواز میں بات نہ کرو…
Read the full tafseer →ف 9 یہ ہے وہ ادب جو آنحضرت کی مجلس میں بیٹھنے والوں کو سکھایا گیا تھا۔ آج بھی اس ادب کا تقاضا ہے کہ جب بھی نبی ﷺ کا ذکر کیا جائے یا آپ کی احادیث پڑھ کر سنائی جائیں تو انہیں پورے سکون اور دلجمعی کے ساتھ سنا جائے۔
1 حافظ ابن القیم فرماتے ہیں کہ قرآن پاک اور حدیث شریف اور آثار صحابہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ارتداد کے سوا دیگر معاصی سے بھی نیک اعمال کے اکارت ہوجانے کا خطرہ ہے جیسا کہ نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ (کذافی الوخیز)
Read the full tafseer →(49:2) لا ترفعوا ۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، رفع (باب فتح) مصدر۔ تم بلند نہ کرو تم اونچی مت کرو،
اصواتکم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ تمہاری آواز۔ اپنی آواز۔ فوق ۔ اسم ظرف۔ اوپر۔ بلند۔
لا تجھروا ۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، جھر (باب فتح) مصدر۔ الجھر کے معنی کسی چیز کا حاسہ سمع یا بصر میں افراط کے سبب پوری طرح ظاہر اور نمایاں ہونے کے ہیں۔ چناچہ حاسہ بصر یعنی نظروں کے سامنے کسی چیز کے ظاہر ہونے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ رایتہ جھرا میں نے اسے کھلم کھلا دیکھا۔ قرآن مجید میں ہے لن نؤمن لک حتی تری اللہ جھرۃ (2:55) جب تک ہم خدا کو سامنے نمایاں طور پر نہ دیکھ لیں۔ تم پر ایمان نہیں لائیں گے اور حاسہ سمع کے سبب ظاہر ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 5) ۔
لا تقد موا (تم آگے نہ بڑھو) ۔ لا تر فعوا (بلند مت کرو) ۔ اصوات (صوت) (آوازیں) ۔ لا تجھروا (چلاؤمت۔ شور مت کرو) ۔ تحبط (ضائع کرتا ہے) ۔ یغضون (دھیما کرتے ہیں۔ نیچی کرتے ہیں) ۔ امتحن ( امتحان لیا۔ آزمایا) ۔ ینادون (وہ آوازیں دیتے ہیں) ۔ وراء (پیچھے) ۔ الحجرات (الحجرۃ) (حجرے۔ کمرے) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 1 تا 5 ) ۔” سورة الحجرات میں اہل ایمان کو رسول اللہ ﷺ سے ملنے اور آپ کی خدمت میں حاضری کے آداب و احکامات، آپ ﷺ سے محبت اور اصلاح نفس کے بنیادی اصول سکھائے گئے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت سے دنیا اور آخرت کی تمام…
Read the full tafseer →حضور ﷺ کی شان مبارک کا حال اور آداب بارگاہ رسالت ماب۔
1) شان نزول۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس کے حق میں نازل ہوئی انہیں ثقل سماعت تھا اور آواز ان کی اونچی تھی، بات کرنے میں آواز بلند ہوجایا کرتی تھی جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت اپنے گھر میں بیٹھ رہے اور کہنے لگے میں اہل نار سے ہوں۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے مسلمانوا رسول اللہ ﷺ کا نہایت ادب کرو، اور جب حضور میں کچھ عرض کرو تو آہستہ پست آواز سے عرض کرو، نام لے کر نہ پکارو یعنی یارسول اللہ یا حبیب اللہ کہو، ان سے بات کرنے کو ایسا نہ سمجھو جیسے اپس میں بات چیت کرتے ہو، بلکہ ان کی توقیر وتعظیم وادب ملحوظ خاطر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
[3] یعنی اہل ایمان کو چاہئے کہ آپ ﷺ سے بات چیت میں آپ ﷺ کا انتہائی احترام ملحوظ رکھیں اور اپنی آواز آپ ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کریں۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی احادیث سننے کے وقت بھی یہی ادب چاہئے۔
Read the full tafseer →(2) اے ایمان والو ! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ ہونے دو اور نبی کی آواز سے اپنی آوزیں اونچی نہ کرو اور نہ تم ان سے اس طرح پکار کر بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے پکار کر بات کیا کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔
نبی تمیم کے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور گفتگو اس امر میں ہوئی کہ نبی تمیم کے لئے حاکم کس کو مقرر کیا جائے حضرت ابوبکر ؓ کی رائے تھی کہ قعقاع بن معبد کو بنایا جائے حضرت عمر ؓ کی رائے اقرع بن حابس کے حق میں تھی اس گفتگو میں آوازیں حاضرین کی بلند ہوئیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی عبداللہ ؓ سے منقول ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس کے حق میں…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی نہ بلند آواز سے بولو جبکہ آپ کے سامنے بات کرنا ہو، گو باہم ہی مخاطبت ہو اور نہ برابر کی آواز سے بولو جب کہ خود آپ سے مخاطبت کرو۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کو نبی کریم ﷺ کے پاس اپنی آوازوں کو پست رکھنے کا حکم
2 ۔ گزشتہ آیت کی طرح حکم عام مسلمانوں کو دیاج ارہا ہے اور الفاظ اور حکم کو زوردار بنانے کیلئے دوبارہ خطب کیا جارہا ہے کہ ایمان والو اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ قول و عمل میں نبی اعظم و آخر ﷺ سے سبقت نہ کرنے کے ساتھ اس با تکو بھی یاد رکھو کہ اگر آپ ﷺ سے بات کرنے کی ضرورت ہو اور آپ ﷺ کے ساتھ ہم کلامی کا شرف حاصل ہو تو اس بات کا خوب خیال رکھو کہ تمہاری آواز آپ ﷺ کے سامنے بلند نہ ہونے پائے اور انداز گفتگو تیکھا نہ ہو ، آواز کو بھی پست رکھو اور آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرو ، برابری کا معیار اختیار نہ کرو اس سلسلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ do not raise your voices above the voice of the Prophet ﷺ . - 49:2) This is another etiquette to be observed while in the presence of the Holy Prophet ﷺ . This verse teaches the believers that they should not raise their voices above the voice of the Holy Prophet ﷺ nor speak aloud to him as one speaks aloud to another in general discussions. The verse warns that neglecting this etiquette may entail nullification of one's virtuous deeds, because this is a kind of disrespect to the Holy Prophet ﷺ . Thus when this verse was revealed, the…
Read the full tafseer →3 This is the etiquette that was taught to the people who sat among the audience of the Holy Prophet or came to visit him. Its intention was that the believers should treat 'the Holy Prophet with the highest respect and reverence when visiting him and talking to him. Nobody should raise his voice louder than his: the people should not be unmindful of the fact that they are addressing the Messenger of Allah, and not a common man, or a person of equal rank; therefore, there should be a marked difference between one's tone of conversation with the common people and one's tone of conversation…
Read the full tafseer →