Explained with ayahs 1–3
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنے نبی کے آداب سکھاتا ہے کہ تمہیں اپنے نبی کی توقیر و احترام عزت و عظمت کا خیال کرنا چاہیے تمام کاموں میں اللہ اور رسول کے پیچھے رہنا چاہیے، اتباع اور تابعداری کی خو ڈالنی چاہیے حضرت معاذ کو جب رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو دریافت فرمایا اپنے احکامات کے نفاذ کی بنیاد کسے بناؤ گے جواب دیا اللہ کی کتاب کو فرمایا اگر نہ پاؤ ؟ جواب دیا سنت کو فرمایا اگر نہ پاؤ ؟ جواب دیا اجتہاد کروں گا تو آپ نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے قاصد کو ایسی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہو (ابو داؤد و ترمذی ابن ماجہ) یہاں اس حدیث کے…
Read the full tafseer →سورة الْحُجُرٰت 1
یہ ایمان کا اولین اور بنیادی تقاضا ہے۔ جو شخص اللہ کو اپنا رب اور اللہ کے رسول کو اپنا ہادی و رہبر مانتا ہو، وہ اگر اپنے اس عقیدے میں سچا ہے تو اس کا یہ رویہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ اپنی رائے اور خیال کو اللہ اور رسول کے فیصلے پر مقدم رکھے یا معاملات میں آزادانہ رائے قائم کرے اور ان کے فیصلے بطور خود کر ڈالے بغیر اس کے کہ اسے یہ معلوم کرنے کی فکر ہو کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان معاملات میں کوئی ہدایت دی ہے یا نہیں اور دی ہے تو وہ کیا ہے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کے آگے " پیش قدمی نہ کرو "، یعنی ان سے آگے بڑھ کر نہ چلو، پیچھے چلو۔ مقدم نہ بنو،…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
ربط سورت و شان نزول
اس سے پہلی دو سورتوں میں جہاد کے احکام تھے جس سے اصلاح عام و آفاق مقصود ہے۔ اس سورت میں اصلاح نفس کے احکام و آداب مذکور ہیں، خصوصاً وہ احکام جو آداب معاشرت سے تعلق رکھتے ہیں اور قصہ ان آیتوں کے نزول کا یہ ہے کہ ایک مرتبہ قبیلہ بنو تمیم کے لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ بات زیر غور تھی کہ اس قبیلہ پر حاکم کس کو بنایا جائے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے قعقاع ابن معبد کی نسبت رائے دی اور حضرت عمر نے اقرع بن حابس کے متعلق رائے دی، اس معاملہ میں حضرت ابوبکر و عمر ؓ کے مابین آپ کی مجلس میں گفتگو ہوگئی اور گفتگو بڑھ کر دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں اس پر یہ آیات نازل…
Read the full tafseer →-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
یا یھا الذین امنوا لاتقدموا بین یدی اللہ و رسولہ واتقوا اللہ ان اللہ سمیع علیم 1
وہ حالات جن میں یہ سورة نازل ہوئی
خطاب اگرچہ عام مسلمانوں سے ہے لیکن جن لوگوں کا رویہ اس سورة میں زیر حبث آیا ہے وہ جیسا کہ آگے کی آیات سے بالتدریج واضح ہوتا جائے گا، اطراف مدینہ کے بدوی قبائل کے وہ لوگ ہیں جو اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت سے متاثر ہو کر مسلمانوں میں شامل تو ہوگئے تھے لیکن ابھی ایمان ان کے دلوں میں اچھی طرح رچا بسا نہیں تھا۔ اس کی وجہ سے اول تو یہ تھی کہ یہ لوگ اسلام کو سمجھ کر نہیں بلکہ اس سے مرعوب ہو کر اس میں داخل ہوئے۔ ثانیاً مرکز سے بےتعلق رہنے کے سبب سے ان کی…
Read the full tafseer →1۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ دین کے معاملے میں اپنے طور پر کوئی فیصلہ نہ کرو نہ اپنی سمجھ اور رائے کو ترجیح دو ، بلکہ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔ اپنی طرف سے دین میں اضافہ یا بد عات کی ایجاد، اللہ اور رسول ﷺ سے آگے بڑھنے کی ناپاک جسارت ہے جو کسی بھی صاحب ایمان کے لائق نہیں۔ اسی طرح کوئی فتوٰی قرآن و حدیث میں غور و فکر کے بغیر نہ دیا جائے۔ مومن کی شان تو اللہ و رسول ﷺ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردینا ہے نہ کہ ان کے مقابلے میں اپنی بات پر یا کسی امام کی رائے پر اڑے رہنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: سورت کی یہ ابتدائی پانچ آیتیں ایک خاص موقع پر نازل ہوئی تھیں، حضور اقدس ﷺ کے پاس عرب کے قبائل کے بہت سے وفد آتے رہتے تھے، اور آنحضرت ﷺ ان میں سے کسی کو آئندہ کے لئے قبیلے کا امیر مقرر فرما دیتے تھے، ایک مرتبہ قبیلہ تمیم کا ایک وفد آپ کی خدمت میں آیا، ابھی آپ نے ان میں سے کسی کو امیر نہیں بنایا تھا، اور نہ اس سلسلے میں کوئی بات کی تھی، لیکن آپ کی موجودگی میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ نے یہ مشورہ شروع کردیا کہ ان میں سے کس کو امیر بنایا جائے، حضرت ابوبکر نے ایک نام لیا اور حضرت عمر نے دوسرا، پھر ان دونوں بزرگوں نے اپنی اپنی رائے کی تائید اس طرح شروع کردی کہ کچھ بحث کا سا انداز پیدا ہوگیا،…
Read the full tafseer →سورت کا آغاز ہی نہایت ہی محبوب آواز سے ہوتا ہے۔
یایھا الذین امنوا (49 : 1) ” اے ایمان والو “ یہ اللہ کی طرف سے پکار ہے ، ان لوگوں کو جو اللہ پر ایمان بالغیب لانے والے ہیں اور یہ پکار کر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا فرماتا ہے ، کیونکہ اللہ سے مومنین کا تعلق ، تعلق ایمان ہے۔ اہل ایمان کے اندر یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے ہیں۔ انہوں نے اللہ کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں اور اس چھوٹے سے سیارے پر یہ لوگ اللہ کے بندے ، اللہ کے کارکن اور اس کی فوج ہیں اور ان کو اللہ نے یہاں کسی مقصد کے لئے بھیجا ہے اور اسی لیے اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا کردی ہے اور ایمان کو ان…
Read the full tafseer →6 یعنی جس معاملہ میں اللہ و رسول کی طرف سے حکم ملنے کی توقع ہو، اس کا فیصلہ پہلے ہی آگے بڑھ کر اپنی رائے سے نہ کر بیٹھو بلکہ حکم الٰہی کا انتظار کرو۔ جس وقت پیغمبر (علیہ السلام) کچھ ارشاد فرمائیں، خاموشی سے کان لگا کر سنو۔ ان کے بولنے سے پہلے خود بولنے کی جرأت نہ کرو۔ جو حکم ادھر سے ملے اس پر بےچون و چرا اور بلا پس و پیش عامل بن جاؤ۔ اپنی اغراض اور اہواء و آراء کو ان کے احکام پر مقدم نہ رکھو۔ بلکہ اپنی خواہشات و جذبات کو احکام سماوی کے تابع بناؤ۔ (تنبیہ) اس سورت میں مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے آداب و حقوق اور اپنے بھائی مسلمانوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم رکھنے کے طریقے سکھلائے ہیں اور یہ کہ…
Read the full tafseer →آیت 1{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ} ”اے اہل ِایمان مت آگے بڑھو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یقینا اللہ سب کچھ سننے والا ‘ سب کچھ جاننے والا ہے۔“
یہ آیت گویا اسلامی ریاست کے آئین کی بنیاد ہے۔ اسلامی ریاست کے آئین کی پہلی شق یہ ہے کہ حاکمیت اللہ کی ہے اوراقتدارِ مطلق کا مالک صرف اکیلا وہ ہے۔ اس نظری و اعتقادی حقیقت کی تعمیل و تنفیذ کا طریقہ اس آیت میں بتایا گیا ہے۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو حدود قائم کردی ہیں ان حدود سے کسی بھی معاملے میں تجاوز نہیں ہوگا۔…
Read the full tafseer →1 آپ کا ادب و احترام :۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو بلکہ ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ اگر ابھی تک اللہ اور اس کے رسول نے کسی امر کا فیصلہ نہیں کیا تو اپنی رائے سے کوئی فیصلہ نہ کرو۔ اور اگر فیصلہ کردیا ہے تو اسی کی اطاعت کرو۔ اس کے علاوہ دوسری راہیں نہ سوچو۔
خ اجتہاد صرف اس وقت جائز ہے جب نص نہ ہو :۔ اس آیت سے علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ جب کسی بات کے متعلق کتاب و سنت میں کوئی حکم مل جائے تو اس کے بعد اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ اجتہاد صرف انہی امور میں ہوسکتا ہے کہ جب کتاب و سنت میں کوئی واضح حکم موجود نہ ہو۔
Read the full tafseer →1۔ خوب سننے والا سارے الفاظ واقوال کا، خوب جاننے والا سارے احوال و اعمال کا۔ ظاہر و باطن کی بڑی چھوٹی کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ (آیت) ” لا ..... رسولہ “۔ یعنی جب تک رسول اللہ ﷺ اذن صریح نہ دے دیں یا قرینہ سے اذن صریح نہ معلوم ہوجائے، اپنی طرف سے کسی قول یا فعل میں مبادرت نہ کرو، یہ حکم تو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تھا۔ اب حضور ﷺ کے بعد اس پر عمل یوں ہوگا کہ پہلے تو ہر مسئلہ میں آپ ﷺ کے قول یا فعل کی صراحت تلاش کی جائے گی، اور جب صراحت نہ ملے گی تو نصوص منقول میں فکروتامل کرکے انہیں سے استنباط کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، اب اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو قدم بمعنی تقدم سے مشتق ہے یعنی قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسول پر جو اس کا پیغامبر ہے پیش قدمی نہ کرو یعنی ان دونوں کی اجازت کے بغیر اور اللہ سے ڈرت رہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہاری باتوں کو سننے والا تمہارے کاموں کو جاننے والا ہے، یہ آیت آنحضرت ﷺ کے حضور ابوبکر و عمر ؓ کے اقرع ابن حابس یا قعقاع بن معبد کو امیر بنانے میں نزاع کے بارے میں نازل ہوئی اور (آئندہ آیت) اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی کہ جس نے اپنی آواز کو آپ ﷺ کے حضور بلند کیا، اے ایمان والو ! جب تم گفتگو کیا کرو تو نبی کی آواز…
Read the full tafseer →یا ایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ و رسولہ واتقوا اللہ ان اللہ سمیع علیم .
اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اجازت سے پہلے تم سبقت مت کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ بیشک اللہ تمہارے اقوال کو سننے والا اور تمہارے اعمال کو جاننے والا ہے۔
لَا تُقَدِّمُوْا : بعض اہل علم نے کہا : لَا تُقَدِّمُوْا فعل متعدی ہے اور مفعول محذوف ہے۔ مفعول اگر ذکر کیا جاتا تو محدود ہوجاتا اور مقصود تھا عموم۔ مفعول یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے پیش دستی نہ کرو۔ نہ قول میں ‘ نہ فعل میں یا مفعول بالکل متروک ہے اور فعل متعدی کو بجائے لازم کے ذکر کیا یعنی تمہاری جانب سے پیش قدمی نہ ہو۔
بَیْنَ یَدَیْ :…
Read the full tafseer →اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول سے پہلے تم کسی قول یا فعل میں سبقت مت کیا کرو اس وقت تک کہ رسول اکرم ہی تمہیں کسی چیز کا حکم دیں یا روکیں اور نہ کسی قتل میں اور یوم النحر میں قربانی کے جانور ذبح کرنے میں یا یہ کہ نہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت کیا کرو اور نہ رسول اللہ کی یا یہ کہ نہ کتاب اللہ کی مخالفت کیا کرو اور نہ سنت رسول کی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ کہ کہیں تم کوئی قول و فعل بغیر حکم الہی اور حکم رسول کے کرو اور ڈرتے رہو اس بات سے کہ کہیں تم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی مخالفت کرو اللہ تعالیٰ تمہارے سب اقوال کو سننے والا اور جاننے والا ہے۔
یہ آیت اصحاب رسول اکرم میں سے تین لوگوں کے…
Read the full tafseer →(1) یا یھا الذین امنوا : رازی نے فرمایا :”اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو مکارم اخلاق کا سبق دیا ہے، ان کا تعلق یا تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملے میں ہوگا یا اس کے رسول کے ساتھ یا فاسق لوگوں کے ساتھ یا ان ایمان والوں کے ساتھ جو حاضر ہوں یا ان ایمان والوں کے ساتھ جو غائب ہوں اور پانچوں قسموں میں سے ہر ایک کی ابتداء ”یا یھا الذین امنوا“ کے ساتھ کی ہے۔“
(2) لاتقدموا بین یدی اللہ و رسولہ :”لاتقدموا“ باب تفعیل ہے، جس کا مجرد ”قدم یقدم“ (ن) آتا ہے، جس کا معنی ”’ دوسرے کے آگے چلنا“ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے متعلق فرمایا :(یقدم قومہ یوم القیمۃ) (ھود : 98)”وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے…
Read the full tafseer →اس میں تین مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1: علماء نے کہا : عربوں میں نبی کریم ﷺ سے خطاب میں سختی اور سوء ادبی تھی اسی طرح وہ لوگوں کو القاب دینے میں بھی یہی رویہ اپناتے تھے یہ سورت مکارم اخلاق اور آداب کی رعایت کے حکم کے متعلق ہے۔ ضحاک اور یعقوب نے لاتقدامر تاء اور دال کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ تقدمہ سے مشتق ہے باقی قراء نے تاء کے ضمہ اور دال کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ تقدیم سے مشتق ہے دونوں کا معنی ظاہر ہے یعنی تم کوئی ایسا قول نہ کرو اور نہ ایسا فعل کرو جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے متجاوز ہو اور اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے قول اور فعل سے آگے نہ بڑھو جس کا حصول نبی کریم ﷺ کے وسیلہ سے ہو خواہ وہ امر دینی…
Read the full tafseer →1:۔ البخاری وابن المنذر (رح) نے وابن المردویہ (رح) نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ تم بنوتمیم میں سے کچھ گھوڑسوار نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ قعقاع بن معبد کو امیر بنادیجئے۔ اور عمر ؓ نے عرض کیا اقرع بن حابس کو امیر بنادیجئے ابوبکر ؓ نے کہا کہ تم نے مجھ سے اختلاف کرنے کا ارادہ کیا ہے عمر ؓ نے کہا میں نے آپ کے خلاف کرنے کا ارادہ نہیں کیا میری رائے ہے دونوں حضرات جھگڑنے لگے یہاں تک کہ دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” نازل فرمائی ” یایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ “ (اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اجازت سے پہلے تم سبقت مت کیا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] لَا تُـقَدِّمُوْا [ تم لوگ آگے مت کرو (اپنی رائے کو ) ] بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ [ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے ] وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ [ اور اللہ ( کے غضب ) سے ڈرو ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ [ سننے والا جاننے والا ہے ]
ترکیب : (آیت ۔ 1) ۔ بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ میں یدی دراصل بین کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے حالت جر میں تثنیہ کا صیغہ یدین تھا ۔ یہ آگے لفظ اللہ کا مضاف بن رہا ہے اس لیے نون اعرابی گرا تو یدی باقی بچا ۔ آگے ملانے کے لیے ی کو کسرہ دی گئی ہے ۔ اس حوالے سے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ تثنیہ کے…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کی عظمت اور خدمت عالیٰ میں حاضری کے احکام و آداب کی تلقین !
رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات جن گھروں میں رہتی تھیں انہیں حجرات سے تعبیر فرمایا ہے کیونکہ یہ گھر چھوٹے چھوٹے تھے اور پختہ عمارتیں بھی نہ تھیں کھجوروں کی ٹہنیوں سے بنا دی گئی تھیں چونکہ اس سورت کے پہلے رکوع میں ان حجروں کا ذکر ہے اس لیے یہ سورت سورة الحجرات کے نام سے موسوم ہوئی۔
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے توقیر اور احترام کی تلقین فرمائی اور اس سلسلے میں چند آداب ارشاد فرمائے ہیں۔
اول تو یہ فرمایا کہ اے ایمان والو تم اللہ اور رسول سے سبقت مت کرو یہ ﴿ لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
حقوق آداب و عظمت رسول اکرم ﷺ وانحصار فلاح وسعادت درانقیاد و اطاعت پیش فرامین بارگاہ رسالت :
(ربط) سورة فتح کا اختتام حضرات صحابہ ؓ کے خصوصی اوصاف و فضائل وکمالات کے ذکر پر ہوا تھا تو اب اس سورت میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ امت پر رسول خدا ﷺ کے کیا کیا حقوق عائد ہیں۔
اور حضرات صحابہ ؓ کو اللہ نے جو ایسے فضائل و کمالات سے نوازا تھا وہ ان کے انقعادواطاعت ہی کے باعث تھا، دلوں کے تقوی کے ساتھ ظاہری آداب اور حقوق عظمت کا کس قدر لحاظ تھا کہ مجلس میں جب بیٹھتے تو وہی شان ہوتی جو احادیث میں فرمائی گئی کہ کان علی رؤسنا الطیر گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں تو ان مضامین کا آغاز رسول اعظم کے حق تعظیم…
Read the full tafseer →2:۔ یا ایہا الذین امنوا لاتقدموا۔ الایۃ “ بشارت فتح کے بعد آداب وقوانین کا بیان ہے تاکہ نظم و نسق درست رہے۔ یہ پہلا قانون ہے جو باقی قوانین کی بنیاد اور اساس ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیشقدمی نہ کرو یعنی اللہ و رسول کے احکام کی مخالفت نہ کرو بلکہ ان کی اطاعت کرو۔ المراد النھی عن مخالفۃ الکتاب والسنۃ (روح ج 26 ص 123) ۔ اور اللہ سے ڈرو یعنی اس کے احکام کی مخالفت نہ کرو اور اس کی اطاعت کرو۔ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے تمہارے اقوال وافعال سے وہ اچھی طرح باخبر ہے، وہ مطیع وعاصی کو خوب جانتا ہے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء اور سزا دے گا۔ یہ قانون تمام قوانین کا اصل الاصول ہے کیونکہ…
Read the full tafseer →نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحجرات ہے جو کہ اس کی آیت 4 میں آمدہ لفظ سے مآخوذ ہے ۔ حجرات حجرۃ کی جمع ہے جس کا معنی کمرہ یا مکان ہوتا ہے ۔ اس سورة مبارکہ میں ان کمروں کا ذکر ہے جو حضور ﷺ نے مسجد نبوی کے ارد گرد تعمیرکرائے تھے اور جن میں امہات المومنین رہائش پذیر تھیں ۔ ان کے علاوہ بعض دوسرے حضرات بھی ان مکانات میں رہتے تھے۔ یہ سورة ہجرت کے بعد مدنی زندگی میں سورة مجادلہ کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی اٹھارہ آیتیں اور دو رکوع ہیں ۔ یہ سورة 342 الفاظ اور 1476 حروف پر مشتمل ہے۔
بقیہ سورتوں کے ساتھ ربطہ
اس سورة مبارکہ کا سابقہ دو سورتوں کے ساتھ خصوصی ربط ہے۔ سور ۃ فتح اور سورة…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُـقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللہَ 0 ۭ اِنَّ اللہَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 1
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
تفسیر : یہ سورة بالاتفاق مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ سورة فتح کے اخیر میں صحابہ ؓ کا مرتبہ اور ان کی بزرگی بیان ہوئی تھی اس لیے اس سورة میں چند آداب تعلیم کرتا ہے تاکہ ان کے برخلاف عمل کرنے سے اس بزرگی میں فرق نہ آوے۔ اس سورة میں تمدن کے متعلق وہ احکام بیان فرمائے ہیں کہ جن سے قوت اعوانیہ و طاقت اجتماعیہ جو اتفاق و محبت باہمی پر مبنی ہے قائم رہے۔ اور سب سے اول مسئلہ سردار کی تعظیم و عظمت کا ہے کیونکہ اس کی عزت دل میں ہوگی تو اس کے احکام کی تعمیل بھی ہوگی وہی تو اس قوت کا جمع رکھنے والا ہے۔
اوّل حکم : اس لیے سب سے اول رسول اللہ ﷺ کی جناب سے ادب ملحوظ رکھنے کے احکام صادر فرمائے۔ فقال یا ایہا الذین…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (الحجرات : 1)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ )
ایمان کا اولین تقاضا اور اسلامی قانون کی پہلی دفعہ
یہ ایمان کا اولین تقاضا بھی ہے اور اسلامی قانون کی پہلی دفعہ بھی۔ انفرادی زندگی بھی اسی پر استوار ہوتی ہے اور اجتماعی زندگی کی خشت اول بھی یہی ہے جس کو نہایت فصاحت و بلاغت سے سمیٹ کر اس طرح فرمایا گیا ہے کہ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اللہ تعالیٰ اور اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط سورت : سورت فتح کا اختتام نبی ﷺ اور آپ کی جماعت کے اوصاف کے بیان پر ہوا۔ سورت الحجرات میں صحابہ پاک اور عظیم جماعت کو نبی ﷺ کا ادب واحترام کرنے اور آپس میں رہنے کے آداب سکھلائے گئے ہیں۔
اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو۔ ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ مفسرین نے ” لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ “ کے کئی معانی ذکر کیے ہیں جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
1۔ نبی ﷺ کے مقام و احترام کا تقاضا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھا جائے۔ اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھنے…
Read the full tafseer →آیت 1 : یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا قدمہ و اقدمہ یہ حشو و ہمزہ کے ثقیل ہونے کی وجہ سے قدمہ سے منقول ہیں جبکہ وہ آگے بڑھے سبقت کرلے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے۔ یقدم قومہ۔ [ ہود : 98] مفعول کو یہاں حذف کیا گیا۔ تاکہ قول و فعل جس میں سبقت کی جاتی ہے۔ ان سب کو شامل ہو اور یہ بھی درست ہے کہ مفعول کا قصد نہ کیا جائے۔ اور نفس تقدم کی طرف متوجہ ہو۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ وہوالذی یحییٰ ویمیت۔ ] المؤمنون۔ 80[
نمبر 2۔ یا یہ قدم بمعنی تقدم سے لیا جائے۔ جیسا کہ وجہ بمعنی توجہ آتا ہے اور اسی سے مقدمۃ الجیش ہے۔ ایک ایسی جماعت جس کو لشکر سے آگے بھیجا جائے۔ اس کی تاکید قراءت…
Read the full tafseer →سورة الحجرات
مدنی ہے اور اس کی اٹھارہ 18 آیتیں ہیں
خواص سورة الحجرات
1، یہ سورة اگر لکھ کر گھر میں لگادی جائے تو اس گھر میں شیطان نہیں آتا۔
2، اور اگر یہ سورة لکھ کر اور دھو کردودھ والی عورت کو پلادیا جائے تو اس کا دودھ بہت ہوجاتا ہے۔
3، اگر عورت حاملہ ہو اور یہ سورة اسے لکھ کردھوکرپلادی جائے تو بچہ ماں کے پیٹ میں ہر تکلیف سے محفوظ رہتا ہے۔
4، اگر کوئی آدمی نزع کی تکلیف میں ہو اس کے پاس بیٹھ کر کوئی سورة حجرات کی تلاوت کرے تو اس پر موت کی سختی کو آسان کردیاجاتا ہے۔
ق۔۔۔۔۔۔ کذلک الخروج
1، اگر کوئی درخت پھل نہ اٹھا تاہویادرخت کو پھل تو لگتا ہو مگر محفوظ نہیں رہتا تو موسم بہار کی پہلی بارش کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ حضرت عبد اللہ 4 ؎ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ سورة مدنی ہے۔ صحیح بخاری 5 ؎ میں عبد اللہ بن زبیر کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بنی تمیم میں کے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے ان لوگوں میں سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک شخص کو قوم کا سردار ہونے کے قابل خیال کیا اور حضرت عمر ؓ نے دوسرے شخص کو اس بحث میں یہ دونوں صاحب بلند آواز سے چیخ چیخ کر باتیں کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے ایماندار لوگو جس طرح اللہ اور رسول کے حکم سے پہلے بنی تمیم میں کسی شخص کو سردار ٹھہرانے کی پیش قدمی کی گئی اور جس طرح اللہ کے رسول ﷺ کی مجلس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ادب، نیز آپ کی تعظیم، احترام اور اکرام و تکریم کو متضمن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان امور کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کے متقاضی ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب۔ نیزیہ کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کے مطابق چلیں اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کی اتباع کریں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے آگے نہ بڑھیں، اس وقت تک کوئی بات نہ کریں جب تک کہ اللہ کا رسول ﷺ بات نہ کرے، وہ کسی کام کا حکم نہ دیں جب تک کہ اللہ کا رسول ﷺ حکم نہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا یہی حقیق ادب ہے…
Read the full tafseer →#Deleted
Read the full tafseer →[ 1] اللہ اور اس کے رسول سے پیش قدمی کرنے کی ممانعت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہیں بڑھنا "۔ یعنی ان کا حکم ملنے سے پہلے تم اپنی رائے اور اپنی مرضی سے کوئی حکم ازخود طے نہ کیا کرو۔ پس تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تمہارا کوئی حکم قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اس کے بعد اس کے رسول کی سنت اور پھر قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد، جیسا کہ سنن ترمذی، سنن ابو داؤد، اور سنن ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت معاذ بن جبل ؓ والی حدیث میں تسریح ہے کہ سب سے پہلے اللہ کی کتاب سے، پھر اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے پیش قدمی کی ممانعت
تشریح : پہلی آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو اس کا حل خود سے کبھی پیش نہ کرو بلکہ سب سے پہلے قرآن میں دیکھو پھر احادیث میں پھر فرامین جاری کیے جائیں کسی بھی مسئلہ کا حل اپنے پاس سے پیش نہیں کرنا چاہیے۔ یہی حکم اجتماعی اور ملکی معاملات پر بھی عائد ہوتا ہے۔ اصل میں یہ اسلامی آئین کی بنیاد ہے۔ جج بھی اپنے فیصلے میں قرآن و سنت کے قوانین کا پابند ہے۔ مختلف احادیث اور قرآنی آیات بار بار اسی بات کی تلقین کرتی ہیں۔ رب العزت سے خوف کھانا سب سے زیادہ ضروری ہے۔
اللہ کا خوف انسان کو خود اعتمادی دیتا ہے اور تمام لوگوں سے بےنیاز کردیتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
نیز اصلاح عالم کی جہاد کی غرض یہی ہے کہ پہلے اصلاح نفس کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ادب واحترام نبوی پر ہے چہ جائیکہ کوئی اطاعت وغلامی میں پس وپیش کرے۔ حد ادب یہ ہے کہ کبھی کسی کام میں یا کسی بات میں رسول اللہ پر سبقت نہ کیا کرو کہ یہ ایسے ہے جیسے اللہ کی ذات پر کسی نے سبقت کی کہ آپ کا ارشاد ہی اللہ کا ارشاد ہے اور اس معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے ۔
اصلاح نفس کی بنیاد ادب ہے بارگاہ نبوی میں اس کی ضرورت قرآن نے بتادی علماء مشائخ وارث نبوت ہو کر ادب کے مستحق ہیں۔
نیز اپنی آواز کو پست رکھا کرو اور کبھی بھی نبی کریم کی آواز سے بلندآواز میں بات نہ کرو…
Read the full tafseer →ف 7 یا ” ان کے آگے پیش قدمی نہ کرو “ یعنی جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ارشاد سنوتو فوراً بسر و چشم مانل و اور آگے بڑھ کر باتیں مت بنائو، یا ان کے فیصلہ پر اپنی یا کسی کی رائے کو مقدم مت رکھو اور نہ کسی معاملہ میں ان کے فیصلہ سے بےنیاز ہو کر کوئی فیصلہ کرو کیونکہ یہ ان پر ایمان کا کم سے کم تقاضا ہے۔ نواب صاحب فرماتے ہیں جو شخص قرآن و حدیث کا معاوضہ رائے یا اجتہاد سے کرے وہ بھی اللہ و رسول کے سامنے بڑھ کر باتیں بناتا ہے۔ (فتح البیان)
8 یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی خلاف ورزی کرو گے تو اس سے تمہارا جرم چھپا نہ رہے گا۔ وہ تمہیں قرار واقعی سزا دیگا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں :” یعنی مجلس…
Read the full tafseer →(49:1) لا تقدموا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر، تقدیم (تفعیل) مصدر بمعنی آگے بڑھنا۔ آگے بھیجنا تم آگے مت بڑھو، تم پہل مت کرو۔
بین : بیچ۔ درمیان، اسم ظرف مکان۔ جب بین کی اضافت ایدی۔ یا یدی کی طرف ہو تو اس کے معنی سامنے اور قریب کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آیت ہذا میں ہے ۔ بین مضاف یدی اللہ مضاف مضاف الیہ مل کر بین کا مضاف الیہ۔ اللہ کے دونوں ہاتھوں کے سامنے۔ اللہ کے سامنے۔
ورسولہ ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ ۔ تم اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پہل مت کیا کرو۔
فائدہ : صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں کہ :۔
یہاں ایک چیز غور طلب ہے۔ وہ یہ کہ لا تقدموا متعدی ہے لیکن اس کا مفعول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 5) ۔
لا تقد موا (تم آگے نہ بڑھو) ۔ لا تر فعوا (بلند مت کرو) ۔ اصوات (صوت) (آوازیں) ۔ لا تجھروا (چلاؤمت۔ شور مت کرو) ۔ تحبط (ضائع کرتا ہے) ۔ یغضون (دھیما کرتے ہیں۔ نیچی کرتے ہیں) ۔ امتحن ( امتحان لیا۔ آزمایا) ۔ ینادون (وہ آوازیں دیتے ہیں) ۔ وراء (پیچھے) ۔ الحجرات (الحجرۃ) (حجرے۔ کمرے) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 1 تا 5 ) ۔” سورة الحجرات میں اہل ایمان کو رسول اللہ ﷺ سے ملنے اور آپ کی خدمت میں حاضری کے آداب و احکامات، آپ ﷺ سے محبت اور اصلاح نفس کے بنیادی اصول سکھائے گئے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت سے دنیا اور آخرت کی تمام…
Read the full tafseer →تشریح۔
1) شان نزول۔
چند شخصوں نے عیدالاضحی کے دن نبی ﷺ سے پہلے قربانی کرلی تو ان کو حکم دیا گیا کہ دوبارہ قربانی کریں اور حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض لوگوں نے رمضان سے ایک روز پہلے ہی روزہ رکھناشروع کردیا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ روزہ رکھنے میں اپنے نبی سے تقدم نہ کرو، اور فرمایا کہ اے ایمان والو، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو یعنی تمہیں لازم ہے کہ اصلائم سے تقدیم واقع نہ ہو ، نہ قول میں نہ فعل میں، کہ تقدم کرنا رسول اللہ کے ادب واحترام کے خلاف ہے ، بارگاہ رسالت میں نیاز مندی وآداب لازم ہیں۔
Read the full tafseer →[1] یعنی جس معاملے میں اللہ اور رسول سے حکم ملنے کی توقع ہو اس کا فیصلہ پہلے ہی سے آگے بڑھ کر اپنی رائے سے نہ کر بیٹھو بلکہ حکم الٰہی کا انتظار کرو۔ جس وقت پیغمبر ﷺ کچھ ارشاد فرمائیں خاموشی سے کان لگا کر سنو، ان کے بولنے سے پہلے خود بولنے کی جرأت نہ کرو اور جو حکم ادھر سے ملے بےچوں و چراں اس پر عمل پیرا ہوجاؤ، اور اپنی رائے کو ان کے احکام پر مقدم نہ رکھو اب آپ ﷺ کے بعد اس حکم پر عمل یوں ہوگا کہ پہلے تو ہر مسئلے میں آپ کے قول یا فعل کی صراحت تلاش کی جائے گی اور جب صراحت نہ ملے گی تو نصوص منقول (یعنی قرآن اور سنت رسول ﷺ میں غور و فکر کر کے انہی سے استنباط کیا جائے گا۔
[2] یعنی اللہ اور رسول ﷺ…
Read the full tafseer →(1) اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے قول اور فعل میں سبقت اور پیش دستی نہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی اجازت کے بغیر کسی کام میں آگے نہ بڑھ جایا کرو مسلمانوں کو یہ ادب سککھایا پیغمبر کی تعظیم کا۔
کہتے ہیں بعض لوگوں نے عیدالضحیٰ کی نماز سے پہلے قربانیاں کرلی تھیں بعض نے کہا یوم الشک کے روزے کی نہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں لا تقولوا خلاف الکتاب والسنۃ یعنی قرآن اور سنت کے خلاف کوئی بات نہ کہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مجلس میں کوئی کچھ پوچھے تو حضرت کی راہ دیکھو کہ کیا…
Read the full tafseer →ف 3۔ حاصل مجموعہ اجزاء سورت کا بیان حقوق حضرت سید المرسلین ﷺ و حقوق اخوان فی الدین ہے۔ واقعہ ان آیتوں کے نزول کا یہ ہے کہ ایک بار بنی تمیم کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ میں باہم آپ کی مجلس میں اس امر میں گفتگو ہوگئی کہ ان لوگوں پر حاکم کس کو بنایا جائے، حضرت ابوبکر نے قعقاع بن معبد کی نسبت رائے دی، اور حضرت عمر نے اقرع بن حابس کی نسبت رائے دی اور گفتگو بڑھ کر دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں اس پر یہ حکم نازل ہوا۔
4۔ یعنی جب تک قرائن قویہ یا تصریح سے اذن گفتگو کا نہ ہو گفتگو مت کیا کرو۔
Read the full tafseer →سورة الحجرات مدینہ
اللہ رب کریم اور نبی اعظم و آخر ﷺ کے سامنے بڑھ کر بات کرنے کی ممانعت
1 ۔ اس سورة مبارکہ میں مسلمانوں کو آداب سکھائے گئے ہیں جیسا کہ ہم نے تعارف میں عرض کردیا ہے اور آداب جمع ہے ادب کی اس لیے سمجھ لینا چاہیے کہ ادب کیا ہے ؟ ادب اس چیز کو کہتے ہیں جس کو عام بول چال میں پاس کرنا اور لحاظ رکھنا کے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے جس کا ادب کیا جائے اس کے تعلق سے ادب حق ہے اور ادب کرنے والے کے تعلق سے فرض۔ انسان اگر فی الواقع انسان ہے اور انسانیت کو ضائع نہیں کر بیٹھا تو وہ اپنے سے برتر کا ادب کرتا ہے اور پھر برتری کی کئی صورتیں ہیں مثلاً رشتے اور قرابت کی برتری ہے ، عمر کی برتری ہے ،…
Read the full tafseer →Background of Revelation
According to Qurtubi, there are six narratives cited as the background of revelation of these verses. Qadi Abu Bakr Ibn ` Arabi confirms that all the narratives are correct, because they all are included in the general meaning of the verses. One of the narratives, reported by Bukhari, is that once some people from the tribe of Tamim came to the Holy Prophet ﷺ . During their stay, one of the issues under discussion was to appoint someone as a ruler of this tribe. Sayyidna Abu Bakr ؓ suggested the name of Qa` qa' Ibn Ma'bad, while Sayyidna ` Umar ؓ proposed the name of…
Read the full tafseer →1 This is the foremost and basic demand of the Faith. If the person who regards Allah as his Lord and accepts Allah's Messenger as his guide and leader. is true in his belief, he can never have the attitude that he should give his own opinion and view precedence over the decision of AIIah and His Messenger, or -should adopt an independent opinion in the matters, and pass his own judgments without caring to find out whether Allah and His Messenger have given any guidance in those matters or not, and if they have given it, what it is. That is why it has been said "O believers, do not go `in…
Read the full tafseer →