تصدیق رسالت بزبان الہ
ان آیتوں میں پہلے نبی ﷺ کی صفت و ثنا بیان ہوئی کہ آپ اللہ کے برحق رسول ہیں پھر آپ کے صحابہ کی صفت و ثنا بیان ہو رہی ہے کہ وہ مخالفین پر سختی کرنے والے اور مسلمانوں پر نرمی کرنے والے ہیں جیسے اور آیت میں ہے آیت (اذلتہ علی المومنین اعزۃ علی الکافرین) مومنوں کے سامنے نرم کفار کے مقابلہ میں گرم، ہر مومن کی یہی شان ہونی چاہیے کہ وہ مومنوں سے خوش خلقی اور متواضع رہے اور کفار پر سختی کرنیوالا اور کفر سے ناخوش رہے۔ قرآن حکیم فرماتا ہے (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 52
اصل الفاظ میں اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّار،۔ عربی زبان میں کہتے ہیں فلانٌ شَدِیْدٌ عَلَیْہِ ، فلاں شخص اس پر شدید ہے، یعنی اس کو رام کرنا اور اپنے مطلب پر لانا اس کے لیے مشکل ہے۔ کفار پر اصحاب محمد ﷺ کے سخت ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ کافروں کے ساتھ درشتی اور تند خوئی سے پیش آتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان کی پختگی، اصول کی مضبوطی، سیرت کی طاقت، اور ایمانی فراست کی وجہ سے کفار کے مقابلے میں پتھر کی چٹان کا حکم رکھتے ہیں۔ وہ موم کی ناک نہیں ہیں کہ انہیں کافر جدھر چاہیں موڑ دیں۔ وہ نرم نہیں ہیں کہ کافر انہیں آسانی کے ساتھ چبا جائیں۔ انہیں کسی خوف سے دبایا نہیں…
Read the full tafseer →مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ، پورے قرآن میں خاتم الانبیاء ﷺ کا نام مبارک لینے کے بجائے عموماً آپ کا ذکر اوصاف و القاب کے ساتھ کیا گیا خصوصاً ندا کے موقع پر یایھا النبی، یایھا الرسول، یایھا المزمل وغیرہ بخلاف دوسرے انبیاء کے کہ ان کے نام کے ساتھ ندا کی گئی، یا ابراہیم یا موسیٰ یا عیسیٰ پورے قرآن میں صرف چار جگہ آپ کا نام مبارک محمد ذکر فرمایا ہے جہاں اس نام کے ذکر ہی میں کوئی مصلحت تھی اس مقام پر مصلحت یہ تھی کہ حدیبیہ کے صلح نامہ میں آپ کے نام کے ساتھ جب حضرت علی نے محمد رسول اللہ لکھا تو کفار قریش نے اس کو مٹا کر محمد بن عبداللہ لکھنے پر اصرار کیا، رسول اللہ ﷺ نے بحکم ربانی اس کو منظور…
Read the full tafseer →محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم ترھم رکعا سجداً یبتغون فضلاً من اللہ رضوانا سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود ط ذلک مثلھم فی التورائۃ ومثلھم فی الانجیل کزرع اخرج شطہ فازرہ فاستفلغظ فاستوی علی سوقہ یعجب الزراع لیغیظ بھم الکفار وعد اللہ الذین امنوا وعملوا الصلحت منھم مغفرۃ و اجرا عظیماً 29
ان تثیلات کا حوالہ جو اسلام کی تاریجی غبہ سے متعلق سابق صحیفوں میں ہیں۔
یہ آخر میں ان تمثیلوں کا حوالہ ہے جو آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کی صفات اور اسلام کی تاریجی غلبہ سے متعلق تورات و انجیل میں وارد ہیں۔
اس حوالہ سے ایک مقصد تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو سابق صحیفوں کے آئینہ میں اس کی تصویر دکھا…
Read the full tafseer →29۔ 1 انجیل پر وقف کی صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ان کی یہ خوبیاں جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں ان کی یہی خوبیاں تورات و انجیل میں مذکور ہیں اور آگے کزرع میں اس سے پہلے ھم محذوف ہوگا اور بعض فی التوراۃ پر وقف کرتے ہیں یعنی ان کی مذکرورہ صفت تورات میں ہے اور مثلھم فی الانجیل کو کزرع کے ساتھ ملاتے ہیں یعنی انجیل میں ان کی مثال مانند اس کھیتی کے ہے۔ فتح القدیر۔
29۔ 2 شَطْاَءُ سے پودے کا پہلا ظہور ہے جو دانہ پھاڑ کر اللہ کی قدرت سے باہر نکلتا ہے۔
29۔ 3 یہ صحابہ کرام کی مثال بیان فرمائی گئی ہے۔ ابتدا میں وہ قلیل تھے، پھر زیادہ اور مضبوط ہوگئے، جیسے کھیتی ابتدا میں کمزور ہوتی ہے، پھر دن بدن قوی ہوتی…
Read the full tafseer →31: جیسا کہ پیچھے حاشیہ نمبر 27 میں گذرا ہے، کافروں نے صلح نامہ لکھواتے وقت آنحضرت ﷺ کا نام مبارک محمد رسول اللہ لکھوانے سے انکار کیا تھا، اور صرف محمد بن عبداللہ لکھوایا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آپ کو محمد رسول اللہ فرما کر اشارہ دیا ہے کہ کافر لوگ اس حقیقت سے چاہے کتنا انکار کریں، اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک قرآن کریم میں ثبت فرمادیا ہے۔
32: اگرچہ تورات میں بہت سی تبدیلیاں ہوچکی ہیں، لیکن بائبل کے جن صحیفوں کو آج کل یہودی اور عیسائی مذہب میں تورات کہا جاتا ہے، ان میں سے ایک یعنی استثناء :2، 3 میں ایک عبارت ہے جس کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ شاید قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ فرمایا…
Read the full tafseer →اب ہم اس سورت کے خاتمہ کی طرف آرہے ہیں۔ اس میں قرآن نے صحابہ کرام کی وہ تصویر کشی کی ہے جو اس وقت عملاً موجود تھی اور یہ جماعت محترمہ جس کے بارے میں پہلے آچکا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور اس جماعت کے ایک ایک فرد تک اللہ کی خوشنودی کی اطلاع کردی گئی ، یہ کون لوگ تھے ؟ تو سنئے !
محمد رسول اللہ والذین ۔۔۔۔۔۔ مغفرۃ واجرا عظیما (48 : 29) ” محمد ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود ، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے…
Read the full tafseer →9 یعنی کافروں کے مقابلہ میں سخت مضبوط اور قوی، جس سے کافروں پر رعب پڑتا اور کفر سے نفرت و بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔ قال تعالیٰ (وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ ) 9 ۔ التوبہ :123) وقال تعالیٰ (وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۭ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭوَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ) 9 ۔ التوبہ :73) وقال تعالیٰ (اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ) 5 ۔ المائدہ :54) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " جو تندی اور نرمی اپنی خوہو وہ سب جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ۔ " علماء نے لکھا ہے کہ کسی کافر کے ساتھ…
Read the full tafseer →آیت 29 { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٓٗ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ } ”محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو ان کے ساتھ ہیں ‘ وہ کافروں پر بہت بھاری اور آپس میں بہت رحم دل ہیں“
آیت کے اس ٹکڑے کا ترجمہ دو طرح سے کیا جاتا ہے۔ اگر پہلا فقرہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط پر مکمل کردیا جائے اور وَالَّذِیْنَ سے دوسرا فقرہ شروع کیا جائے تو آیت کا مفہوم وہی ہوگا جو اوپر ترجمے میں اختیار کیا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو ان کے ساتھی ہیں وہ کفار پر بہت بھاری اور آپس میں بہت رحم دل ہیں۔ لیکن اگر پہلے فقرے کو وَالَّذِیْنَ مَعَہٓٗ تک پڑھا جائے تو اس کا…
Read the full tafseer →45 تحریر صلح پر اعتراضات :۔ جب صلح نامہ حدیبیہ لکھا جارہا تھا تو رسول اللہ نے یوں لکھوانا شروع کیا : محمد اللہ کے رسول کی جانب سے تو اس پر کفار کے سفیر سہیل بن عمرو نے یہ اعتراض جڑ دیا کہ یہی بات تو سارے تنازعہ کی بنیاد ہے۔ ہم محمد ﷺ کو رسول اللہ ﷺ تسلیم کرلیں تو باقی جھگڑا ہی کیا رہ جاتا ہے ؟ اس کے بجائے، محمد بن عبداللہ لکھو۔ اور آپ چونکہ ہر صورت صلح کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے آپ نے محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبداللہ لکھنے کو کہا۔ اس آیت میں ان کافروں سے یہ کہا جارہا ہے کہ اللہ ہی نے آپ کو رسول بنا کر اور ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے۔ اگر تم تسلیم نہیں کرتے تو نہ کرو۔ کسی وقت تمہیں یہ…
Read the full tafseer →38۔ (سچے اور برحق) اس میں یہ اشارہ کردیا کہ آپ ﷺ کا نام قیامت تک اس طرح پر چلانے کے تو ہم ضامن ذمہ دار ہیں، اس ایک صلح نامہ پر اس کے درج ہونے نہ ہونے سے کیا ہوتا ہے۔ لفظ محمد ﷺ پر حاشیہ سورة آل عمران (پ 4) میں گزر چکا۔ اسی اپریل 50 ء میں مسیحیوں کے مشہور امریکہ سہ ماہی رسالہ مسلم ورلڈ میں ایک مسیحی فاضل نے لکھا ہے کہ اسم محمد ﷺ (اور اس کے متقاربات احمد ﷺ ومحمود ﷺ وغیرہ) سے زیادہ کوئی بھی مردانہ نام دنیا میں چلا ہوا نہیں ہے !
39۔ اس خدائی صداقت نامہ کے اندر سارے صحابہ رسول داخل ہیں، خصوصا وہ جو حدیبیہ میں آپ ﷺ کے ہمراہ تھے۔ قال الجمھور جمیع اصحابہ (روح) (آیت) ” معہ “۔ معیت کا اطلاق کثیر…
Read the full tafseer →محمد رسول اللہ قرآن پاک میں عموماً آنحضرت ﷺ کا نام لینے کے بجائے آپ کا ذکر اوصاف و القاب کے ساتھ کیا گیا ہے، خصوصاً نداء کے موقع پر یا ایھا النبی، یا ایھا الرسول، یا ایھا الزمل وغیرہ سے خطاب کیا گیا ہے، بخلاف دیگر انبیاء کے کہ ان کے نام کے ساتھ ندا کی گئی ہے، مثلاً یا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام، یا موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) یا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسالم پورے قرآن میں آپ کا اسم گرامی محمد کی صراحت کے ساتھ چار جگہ ذکر کیا گیا ہے، جہاں آپ کا نام لینے میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہے، اس مقام پر مصلحت یہ تھی کہ حدیبیہ کے صلحنامہ میں آپ ﷺ کے نام کے ساتھ حضرت علی ؓ نے رسول اللہ لکھ دیا تو مشرکین نے…
Read the full tafseer →محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم محمد ﷺ اللہ کے
رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے صحبت یافتہ ہیں ‘ وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔
اَشِدَّآءٖ علَی الْکُفَّار یعنی اللہ کے ہکم کی تعمیل میں وہ کافروں پر سختی کرنے والے ہیں۔
ا اللہ نے فرمایا ہے : یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ اے نبی ﷺ ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔
ایک اور روایت میں آیا ہے : لاَ تَأخُذْکُمْ بِھِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ ۔
تیسری آیت ہے : وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ اسی طرح کی اور بھی بہت…
Read the full tafseer →اور آگے جو آپ کے صحبت یافتہ ہیں جن میں سب سے پہلا مقام حضرت ابوبکر صدیق کا ہے جو سب سے پہلے مشرف بااسلام ہوئے اور کفار کو آپ کے ساتھ دین الہی کی طرف بلایا ان کے اوصاف یہ ہیں کہ وہ کفار کے مقابلہ میں تیز ہیں۔ چناچہ حضرت عمر فاروق جو اللہ کے دشمنوں پر بہت سخت ہیں دین الہی اور نصرت رسول میں طاقت ور ہیں۔
اور آپس میں مسلمانوں کے ساتھ مہربان ہیں، چناچہ حضرت عثمان جو مسلمانوں کے ساتھ نرمی اور حسن سلوک کرنے میں بڑھ کر ہیں اور اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ وہ نمازوں میں بکثرت مصروف ہیں، یہ نمایاں صفت حضرت علی میں ہے، آپ بہت نمازیں پڑھا کرتے تھے، اور یہ حضرات جہاد کے ذریعہ اللہ کے ثواب اور اس کی رضا…
Read the full tafseer →(1) محمد رسول اللہ : ابن کثیر ؒ نے فرمایا :”لفظ“”محمد“ مبتدا اور ”رسول اللہ“ خبر ہے۔ محمد ﷺ کو ”رسول اللہ“ کہنے کے بعد اور کسی تعریف کی ضرورت نہیں سمجھی، کیونکہ اس میں تمام انسانی کمال اور خوبیاں آجاتی ہیں۔ اس لئے آگے ”والذین معہ“ کی صفت بیان فرمائی ہے۔“ اس مقام پر اس جملے سے کئی باتیں واضح ہو رہی ہیں، ایک یہ کہ قرآن مجید میں عموماً آپ ﷺ سے خطاب یا آپ کا ذکر خیر آپ کے نام کے بجائے آپ کے القاب کے ساتھ ہوا ہے، مثلاً یا یھا النبی“ ، ”یایھا الرسول“ ، ”شاھداً“ ، ”مبشراً“ ، ”نذیراً“ ، ”’ اعیاً الی اللہ“ اور ”سراجاً منیراً“ وغیرہ۔ آپ ﷺ کا اسم گرامی ”محمد“ صرف چار جگہ آیا ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران…
Read the full tafseer →اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: مبتدا اور رسول اس کی خبر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لفظ محمد مبتدا ہے اور رسول اللہ اس کی صفت ہے کا عطف مبتدا پر ہے اور اس کی خبر بعد میں ہے اس تعبیر کی صورت میں رسول اللہ پر وقف نہیں ہوگا پہلی تعبیر کی صورت میں رسول اللہ پر وقف ہوگا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی صفات آپ کے صحابہ ہوگی اور رحما دوسری خبر ہوگی نبی کریم ﷺ کے تمام صحابہ میں ان صفات کا ہونا زیادہ مناسب ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اہل حدیبیہ کفار پر شدید ترین تھے یعنی بہت زیادہ سخت تھے جس طرح شیر اپنے شکار پر سختی کرنے والا ہوتا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : سے مراد تمام مومن ہیں۔
وہ ایک دوسرے پر رحم…
Read the full tafseer →1:۔ الخطیب نے رواۃ مالک میں ضعیف سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (آیت ) ” والذین مکۃ مثلہم فی التوراۃ “ تک (اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں ان کی مثال توراۃ میں ہے) اور (آیت ) ” کزرع اخرج شطہ فازرہ “ تک (جیسے کھیتی کہ پہلے اس نے اپنی سوئی باہر نکالی مالک (رح) نے فرمایا کہ انجیل میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی صفات نازل ہوئیں)
صحابہ ؓ کی آپس میں محبت کی مثال :
2:۔ ابن سعد نے الطبقات میں وابن ابی شیبہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب سعد بن معاذ ؓ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ ابوبکر ؓ اور عمر ؓ حاضر ہوئے اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے میں بلاشبہ…
Read the full tafseer →مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ [ محمد اللہ کے رسول ہیں ] وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ [ اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں ] اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ [ سخت ہیں کافروں پر ] رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ [ رحیم ہیں آپس میں ] تَرٰىهُمْ [ تو دیکھے گا ان کو ] رُكَّعًا سُجَّدًا [ رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] يَّبْتَغُوْنَ [ تلاش کرتے ہوئے ] فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ [ فضل کو اللہ سے ] وَرِضْوَانًا ۡ [ اور ( اس کی ) خوشنودی کو ] سِيْمَاهُمْ [ ان کی علامت (پہچان ) فِيْ وُجُوْهِهِمْ [ ان کے چہروں میں ہے ] مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ [ سجدوں کے اثر سے ] ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ [یہ ان کی مثال ہے ] فِي التَّوْرٰىةِ ٻ[…
Read the full tafseer →حضرات صحابہ کرام ؓ کی فضیلت اور منقبت
اس سورت میں جگہ جگہ صحابہ کرام ؓ کی تعریف بیان فرمائی ہے پھر یہاں سورت کے ختم پر ان کی مزید توصیف و تعریف فرمائی ہے اولاً ارشاد فرمایا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرنے والے ہیں، اس مضمون کو سورة مائدہ میں ﴿اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْكٰفِرِیْنَ﴾ میں بھی بیان کیا ہے، اہل ایمان کی یہ شان ہے کہ کافروں کے مقابلہ میں سخت رہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر رحم کریں یہ صفت حضرات صحابہ کرام ؓ میں بہت زیادہ نمایاں تھی آج کل دیکھا جاتا ہے کہ مسلمان دشمنان اسلام کے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ :
خاتمہ سورت بربشارت غلبہ و ترقی اسلام مع بیان فضائل حضرات صحابہرضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق ...... الی ...... اجرا عظیما “۔
(ربط) سورة کا آغاز فتح مبین کی بشارت سے فرمایا گیا تھا اور یہ کہ وہ معاہدہ وصلح جو اللہ رب العزت کی طرف سے فتح مبین ہے بیشمار عنایات اور کرامات کا ذریعہ ہے، فتوحات اور غنائم سے مسلمان قوم عظمت اور سربلندی حاصل کرے گی روم اور فارس کی فتح کی بھی بشارت سنا دی گئی جس کو اللہ تعالیٰ نے خلفائے ثلثہ ؓ کے ہاتھوں پورا فرمایا ساتھ ہی حیلے اور بہانے بنا کر گھروں میں بیٹھے رہنے والوں منافقین کی…
Read the full tafseer →25:۔ ” محمد رسول اللہ “ جس عظیم الشان رسول کی وساطت سے دین حق کو غلبہ عطا کرنا ہے اس کے اسم گرامی کی تصریح اور ان جاں نثار اور سرفروش صحابہ کرام ؓ کے فضائل و مناقب کا بیان جنہوں نے پیغمبر خدا ﷺ کی معیت میں دین اسلام کو پھیلانے اور اس کو باقی دینوں پر غالب کرنے کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دی تاکہ آنے والی نسلیں ان کے نقش قدم پر چلیں اور اپنے اندر ایسی صفات پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ ” محمد “ مبتدا مقدر کی خبر ہے اور ” رسول اللہ “ عطف بیان ہے یا نعت یا بدل۔ اور یہ جملہ ” ھو الذی ارسل رسولہ۔ الایۃ “ کا بیان ہے۔ ای ھو او ذلک الرسول المرسل بالھدی و دین الھق محمد، علی ان الاسم الشریف خبر مبتدا محذوف…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے عمومی غلبہ یعنی اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرنے کا ذکر کیا تھا۔ پھر اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کی ذات وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تا کہ وہ اس دین کو تمام ادیان کے مقابلے میں غالب کر دے۔ اور اللہ ہی کافی ہے گواہی دینے والا ۔ اب آج کی آیت میں اس جماعت کا ذکر ہے ۔ جس کے ذریعے اللہ نے اس دین کو دنیا میں غالب کیا اور آئندہ کے لیے بھی اس کو نمونہ بنایا۔
رسالت کی گوہی
گزشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ صلح نامہ حدیبیہ تحریر کرتے وقتے مشرکین نے اتعراض کیا تھا۔ محمد رسول اللہ کی بجائے محمد ابن عبد اللہ لکھا جائے کیونکہ وہ…
Read the full tafseer →مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ 0 ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَہُمْ تَرٰىہُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا 0 ۡسِيْمَاہُمْ فِيْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ 0 ۭ ذٰلِكَ مَثَلُہُمْ فِي التَّوْرٰىۃِ 0 ۚۖۛ وَمَثَلُہُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ 0 ۚ ۣۛ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْــــَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰي سُوْقِہٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِہِمُ الْكُفَّارَ 0 ۭ وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا 29 ۧ
حمد
الحَمْدُ لله تعالی: الثناء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ا ؎ حال مقدرۃ لانہم فی حال و خولہم لم یکونوا محلقین و مقصرین وانما کان ہذا فی ثانی الحال ابن جریر۔ 12 منہ
Read the full tafseer →مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْـکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ تَرٰ ہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا ز سِیْمَا ھُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِالسُّجُوْدِ ط ذٰلِکَ مَثَلُھُمْ فِی التَّوْرٰ ۃِ صلے ج وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ قف ج کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَہٗ فَاٰ زَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْـکُفَّارَط وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْھُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا۔ (الفتح : 29)
(محمد، اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اپنے رسول اور دین کو غالب فرمایا بلکہ ایک طویل مدت تک مسلمانوں کو دنیا میں غلبہ عطا فرمایا۔
اس سے پہلی آیت کے آخر میں یہ الفاظ استعمال فرمائے کہ اللہ کی گواہی کافی ہے جس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھی ہیں کفار پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ آپ ان کو رکوع، سجود کی حالت میں دیکھیں گے کہ وہ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کرتے ہیں اور سجدوں کے آثار ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ ان کی صفات کا تذکرہ تورات اور انجیل میں بھی پایا جاتا ہے۔ ان کی مثال اس کھیتی کی مانند ہے جس…
Read the full tafseer →آیت 29 : مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ۔ (محمد اللہ کے رسول ہیں) نحو : نمبر 1۔ یہ مبتدأ کی خبر ہے اور وہ ہو ہے۔ کیونکہ پہلے ہو الذی ارسل رسولہ گزر چکا۔ نمبر 2۔ مبتدأ ہے اس کی خبر رسول اللّٰہ ہے۔
عظمت ِمقتداء و مقتدیان باصفا :
قراءت : نصر نے اس پر وقف کیا ہے۔ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٗ (اور جو لوگ آپ کے صحبت یافتہ ہیں) یعنی آپ کے اصحاب ؓ
نحو : نمبر 1۔ یہ مبتدأ ہے اور اس کی خبر اشداء علی الکفار ہے۔ نمبر 2۔ محمد مبتدأ اور رسول اللہ عطف بیان ہے اور والذین معہ پر مبتدأ کا معطوف ہے۔ یہ سارا مبتدأ بن گیا۔ اشداء یہ تمام کی خبر ہے۔
اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ (وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں) اشداء کا…
Read the full tafseer →28 ۔” ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شھیدا “ اس پر کہ آپ (علیہ السلام) نبی ہیں اپنی خبروں میں سچے اور صالح ہیں۔
Read the full tafseer →29۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی رسالت کو اپنی گواہی سے ثابت کیا ہے ان آیتوں میں حضرت محمد ﷺ کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے لوگوں بتایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس رسول کی رسالت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی گواہی سے ثابت کیا ہے ان کا نام محمد ﷺ ہے آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے صحابیوں کے اوصاف بیان فرمائے کہ وہ آپس میں تو بڑی نرم دلی سے رہتے ہیں اور جوش اسلام کے سبب سے منکر شریعت لوگوں کے ساتھ زور آوری سے پیش آتے ہیں اکثر اللہ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں اور ان کی وہ عبادت عقبیٰ کے اجر اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی نیت سے ہوتی ہے دنیا کے دکھاوے کا اس میں کچھ دخل نہیں ہوتا کثرت عبادت سے ان کے چہروں پر…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور ان کے صحابہ، جو مہاجرین و انصار میں سے ہیں، ان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کامل ترین صفات اور جلیل ترین احوال کے حامل ہیں اور وہ (اشداء علی الکفار) کفار کے ساتھ بہت سخت ہیں، فتح و نصرت میں جدو جہد اور اس بارے میں پوری کوشش کرنے والے ہیں۔ وہ کفار کے ساتھ صرف درشتی اور سختی سے پیش آتے ہیں۔ اسی لئے ان کے دشمن ان کے سامنے ذلیل ہوگئے، ان کی طاقت ٹوٹ گئی اور مسلمان ان پر غالب آگئے۔
(رحماء بینھم) یعنی صحابہ آپس میں محبت کرنے والے، ایک دوسرے پر مہربانی کرنے والے اور ایک دوسرے کے ساتھ شفقت اور عاطفت کے ساتھ پیش آنے والے ہیں۔ وہ جسد واحد کی مانند ہیں ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
سر مونڈنا یا کتراناعبادت احرام میں داخل ہے
قول باری ہے (لتد خلن المسجد الحرام ان شآء اللہ امنین محلقین رئوسکم ومقصرین۔ تم لوگ مسجد حرام میں انشاء اللہ ضرور داخل ہوگے اور امن وامان کے ساتھ سرمونڈ کر یا بال کترا کر) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ وہ امن وامان کے ساتھ احرام باندھے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہوجائیں گے جب اس کے ساتھ سر مونڈنے اور بال چھوٹے کرنے کا ذکر ہوا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ حلق اور تقصیہ احرام کی عبادت میں داخل ہیں اور ان کے ذریعے ہی ایک شخص احرام سے باہر آسکتا ہے۔
اگر یہ بات نہ ہوتی تو ان دونوں کا یہاں ذکر کرنا…
Read the full tafseer →[ 76] محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں :
بغیر کسی شک وریب کے، کفار و مشرکین کے نہ ماننے سے اس امر واقع اور حقیقت صادقہ کی حقانیت و صداقت میں کسی فرق آنے کا کوئی سوال ہی نہیں، البتہ انکار کرنے والے اپنے اس انکار کی پاداش میں اس ہولناک خسارے میں مبتلا ہوں گے، جس جیسا اور کوئی خسارہ ممکن نہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہ اس ارشاد عالی کے معنی و مطلب کا ایک احتمال ہے جو اس پر مبنی ہے کہ، محمد رسول اللّٰہ، مبتداء و خبر ہیں اور " والذین معہٗ الخ " کلام مستانف ہے جبکہ اس کی ترکیب میں دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ یہ یہاں پر صفت اور عطف بیان کے حکم میں ہے، اور اس کی خبر آگے " اشدَّائُ علی الکفار، الخ " ہے۔ جو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
خواب میں بشارت
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی کی بشارت دی ہے۔ ہوا یوں کہ جب 6 ھ ذیقعدہ کو رسول ﷺ حدیبیہ سے مدینہ کو واپس تشریف لائے تو ذی الحجہ اور محرم وہاں رکے، ماہ صفر میں آپ ﷺ نے خیبر پر حملہ کیا اور اس کو فتح کیا پھر ذیعقدہ 7 ھ کو آپ ﷺ عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ذوالحلیفہ سے آپ ﷺ نے احرام باندھا اور قربانی کے جانور ساتھ لیے اور یوں آپ ﷺ بےخوف و خطر مکہ میں داخل ہوئے اور جو کچھ آپ ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا حرف بحرف سچ ثابت ہوا اسی خواب کا ذکر کیا گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و طاقت کا ذکر اس طرح کیا کہ میں نے لوگوں کی ہدایت کے لیے عظیم الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
آیات 27 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
اللہ نے اپنے رسول کو جو خواب دکھلایا وہ حق ہے اور سچا ہے اور تم لوگ انشاء اللہ ضرور مسجد حرام میں داخل ہوں گے اور امن کے ساتھ بغیر خوف خطر طواف کرو گے یہاں تعلیم کے لیے آئندہ کے ساتھ خود ذات باری نے جو ہر آن شے پر قادر ہے انشاء اللہ فرمایا تو ہر مسلمان کو آئندہ کی بات کے ساتھ انشاء اللہ ضرور کہناچاہیے اور پھر اسے پورا کرنے کی بھرپور سعی کرنا چاہیے ، یہ تاثر کہ جملہ انشائیہ کہا ہے نہ بھی پورا کیا تو خیر ہے غلط ہے۔ اور سرمنڈاؤ گے اور قصر کرو گے تمہیں کسی کا کوئی خوف خطرہ نہ ہوگا چناچہ اگلے سال ہی عمرہ نصیب ہوگیا اور سال بعد مکہ فتح ہوکرسب روکاٹیں ہمیشہ کے لیے ختم…
Read the full tafseer →ف 2 مراد وہ نور اور وقار ہے جو کثرت عبادت سے انسان کے چہرے پر ظاہر ہوجاتا ہے۔ چناچہ صحابہ کرام کے چہرے اس اعتبار سے ممتاز نظر آتے تھے۔ امام مالک فرماتے ہیں :” جب صحابہ کرام کی فوجیں شام میں داخل ہوئیں تو وہاں کے عیسائی انہیں دیکھ کر کہ نیل گے۔ ہمیں مسیح کے حواریوں کی جو شان معلوم ہے ان کی شان اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ (مختصر از ابن کثیر)
3 یعنی اپنے لاگنے والوں کو بھلی لگنے لگی۔ یہ صحابہ کرام کی مثال ہے جوش روع اسلام میں تھوڑے تھے۔ پھر ان کی تعداد بڑھی اور آخر کار ان کا اجتماعی و سیاسی نظام مستحکم بنیادوں پر قائم ہوگیا۔
4 یعنی جو جوں اسلام کی کھیتی بڑھتی اور شاداب ہوتی جائے کافر حسد کی آگ میں…
Read the full tafseer →(48:29) محمد رسول اللّٰہ : محمد مبتدائ۔ رسول اللّٰہ۔ اس کی خبر ہے۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ رسول اللّٰہ کے الفاظ جملہ اوصاف جمیلہ وخصائل حمیدہ پر مشتمل ہے وھو مشتمل علی کل وصف جمیل (ابن کثیر)
والذین معہ : واؤ عاطفہ ہے الذین معہ صلہ موصول مل کر مبتداء (اور وہ جو ان کے ساتھ ہیں)
اشدا علی الکفار۔ وہ کفار کے مقابلہ میں طاقتور اور شجاع ہیں۔ خبر مبتدا کی۔ یہاں سے الذین معہ (یعنی اصحاب رسول ﷺ ) کی صفات کا بیان شروع ہوتا ہے۔ اشدائ : شدید کی جمع ہے ۔ زور آور، بہادر، طاقت ور۔
ترج العروس میں ہے :۔ الشدۃ النجدہ وثبات القلب۔ والشدید الشجاع والقوی من الرجال والجمع الاشدائ۔ الشدۃ قوت اور دل کی محکمی کا نام ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
لغات القرآن آیت نمبر (22 تا 26) ۔
لو لو الادبار (وہ ضرور پیٹھ پھیریں گے) ۔ قد خلت (یقینا گذر گئی) ۔ بطن (پیٹ۔ درمیان) ۔ اظفر (اس نے قابو کیا) ۔ معکوف (رکا ہوا) ۔ ان یبلغ (یہ کہ وہ پہنچے) ۔ محلہ (اپنی جگہ) ۔ ان تطئوا (یہ کہ تم روند ڈالو ) ۔ معرۃ (دکھ۔ گناہ۔ تکلیف) ۔ لو تز یلوا (اگر وہ الگ ہوجائے۔ ٹل جائے) ۔ الحمیتہ (غیرت ۔ ضد۔ ہٹ) ۔ الزم (اس نے لازم کردیا) ۔ احق (زیادہ حق دار) ۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے واقعات اور اس کی مصلتحوں کو بیان کیا جارہا ہے۔ ارشاد ہے کہ بیشک اللہ نے کفار کو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جوابی کاروائی کرنے سے اور جذباتی لمحات میں اہل ایمان کو کفار پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
صحابہ کرام علیہم الرضوان کے خصائص۔
(ف 1) اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی رسالت کو اپنی گواہی سے ثابت کیا، ان آیتوں میں محمد ﷺ کا نام بھی اللہ نے لوگوں کو بتلایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جن رسول کی رسالت کو اللہ نے اپنی گواہی سے ثابت کیا ہے ان کا نام محمد ﷺ ہے آگے اللہ نے اپنے رسول کے صحابیوں کے اوصاف بیان فرمائے کہ وہ آپس میں تو بڑی نرم دلی سے رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر مہربانی و محبت کرنے والے ایسی کہ جیسی باپ بیٹے میں ہو، اور یہ محبت اس حد تک پہنچ گئی کہ جب ایک مومن دوسرے کو دیکھے تو فرط محبت سے مصافحہ ومعانقہ کرے اور جوش اسلام کے سبب سے منکر شریعت لوگوں کے ساتھ زور آوری سے پیش آتے…
Read the full tafseer →[31] یعنی نمازوں کی پابندی خصوصاً تہجد کی نماز سے ان کے چہروں پر خاص قسم کا نور، خدا ترسی اور کریم النفسی کے آثار ہویدا ہیں۔ چناچہ بہت سے غیر متعصب نصاریٰ ان کے چہرے اور متقیانہ چال ڈھال دیکھ کر بول اٹھتے تھے کہ واللہ یہ تو مسیح کے حواری معلوم ہوتے ہیں۔
[32] یہ اشارہ ان پیشین گوئیوں کی طرف ہے جو نبی ﷺ اور صحابہ کرام ؓ علیہ وسلم کے بارے میں تورات میں موجود ہیں اگرچہ یہود نے قطع و برید کر کے ان کو بالکل مسخ کردیا ہے تاہم آج بھی تورات میں ایسی چیزیں موجود ہیں جن کا مصداق نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے سوا اور کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ [33] مرق باب 4، متی باب 13، آیات 26 تا 32۔
Read the full tafseer →صحابہ ؓ کی تصویر
1: ان آیتوں میں حضور ﷺ کی اور حضور ﷺ کی پیدا کردہ جماعت کی تصویر کھینچی ہے ۔ کہ یہ پاک باز نفوس اخلاق کے کن مقامات بلند پر فائز تھے ۔ اور ان میں کیا خصوصیات تھیں ۔ جن کی وجہ سے یہ لوگ ایک صدی میں معمورہ ارض پر چھاگئے ۔ اور سارے عالم کے لئے اسوہ رشدوہدایت قرار پائے ۔ فرمایا ۔ ان لوگوں کے خصائص یہ ہیں ۔ یہ لوگ کفر سے سخت متنفر ہیں ۔ ان کی طبیعتوں میں اس کے متعلق قطعاً کداز اور نرمی نہیں ۔ خدا کے مخالفین کے ساتھ ان کے تعلقات سخت کشیدہ ہیں ۔ اور یہ ان کے لئے برق خاطف اور مرگ مفاجات کی مانند مہلک ہیں ۔ البتہ ایمان سے ان کو محبت ہے ۔ اور مسلمانوں کے بیحد شفیق اور مہربان ہیں ۔ زہد…
Read the full tafseer →(29) محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کی صحبت یافتہ اور ہمراہی ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں سخت اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو کبھی رکوع اور کبھی سجدے کی حالت میں دیکھے گا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رضامندی کی جستجو اور تلاش میں لگے رہتے ہیں ان کی علامت اور رشدوصلاح کی نشانی سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہے اصحاب رسول اللہ کے یہ اوصاف تورات میں مذکور ہیں اور یہ اوصاف ان کے انجیل میں بھی ہیں جیسے کھیتی کہ اس نے اپنی سوئی نکالی پھر اس ابتدائی سوئی کو اس کھیتی نے قوی کیا پھر وہ اور بڑھ کر موٹی ہوئی اور آخر کار وہ کھیتی اپنی نال یعنی پائوں اور اپنی پنڈلیوں پر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 2۔ باعتبار حجت و دلیل کے تو ہمیشہ اور باعتبار شوکت و سلطنت اہل اسلام کے بشرط صلاح اہل دین کے اور چونکہ یہ شرط صحابہ میں پائی جاتی تھی اس لئے یہ آیت اثبات رسالت کے ساتھ بشارت بھی ہوگئی، صحابہ کے لئے فتوحات عامہ کی، چناچہ ایسا ہی واقع ہوا۔
Read the full tafseer →(2) نبی اعظم و آخر ﷺ قبل از نبوت بھی شرم و حیا کا پیکر تھے
بچہ بچہ ہی ہوتا ہے خواہ وہ نبی و رسول ہو یا کوئی دوسرا بچہ لیکن بچپن کے بھی کئی حصے ہوتے ہیں کیونکہ عرف عام میں پیدائش سے لے کر بلوغت تک بچہ معصوم ہی کہلاتا ہے آپ ﷺ کی زندگی قبل از بلوغت بھی دوسرے بچوں سے امتیاز رکھتی تھی چناچہ احادیث میں ہے کہ : ان رسول اللہ ﷺ کان ینقل معھم الھجارۃ للکعبۃ وعلیہ ازارہ فقال لہ العباس عمہ یا ابن اخی لو حللت ازار ک فحعلتہ علی منکبیک دون الحجارۃ قال فحلہ فحعلہ علی منکبیہ فسقط مغشیا علیہ فماروی بعد ذلک عریانا (بخاری و مسلم) آپ ﷺ کے بچپن کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ خانہ کعبہ کی تعمیر شروع تھی اور لوگ پتھر لا…
Read the full tafseer →مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ (Muhammad is the Messenger of Allah...48:29). The general style of the Qur'an is that, instead of referring to the Holy Prophet ﷺ by his name, he is normally called by one or another of his characteristic or attributive names especially in vocative cases, as for example, ya ayyuhan-nabiyyu, ya ayyuhar-rasulu, ya ayyuhal-muzzammilu and so on, unlike other prophets who are addressed by their personal names, as for instance, ya ibrahimu, ya musa, ya ` isa. The Holy Prophet ﷺ is addressed four times only in the entire Qur'an by his personal name Muhammad. This is…
Read the full tafseer →52 "The Companions (of the Holy Prophet) are hard on the disbelievers" : they are not "wax that the disbelievers may mould them as they like; they can neither be cowed nor. purchased by any inducement. The disbelievers have no power to turn them away from the great objective for the sake of which they have joined and followed the Holy Prophet even at the cost of their lives."
53 That is, "Whatever their hardness and severity, it is only for the disbelievers, not for the believers. As regards the believers they are soft, merciful, affectionate, sympathetic and compassionate. Their unity of aim…
Read the full tafseer →