Ayahs 48:1–10آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے آپ کو کھلم کھلافتح دی
مختصرواقعہ حدیبیہ۔
یہ واقعہ حدیبیہ آپ کی فتح ہے یہ واقعہ سن 6 ہجری میں پیش آیا اور رسول اللہ نے خواب دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور احرام سے فارغ ہوکر کسی نے بال کٹائے کسی نے حلق کرایا اور آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کی چابی آپ کے ہاتھ آئی آپ نے واقعہ بیان فرمایا تو سب کو جانے کا شوق پیدا ہوا کہ انبیاء کو خواب تو وحی ہوتا ہے جب سب صحابہ جانے لگے تو آپ بھی تیار ہوگئے وقت کی تعین تو تھی نہیں امکان ہوسکتا تھا کہ اس کا ظہور فورا ہو مگر اس کی تکمیل فتح مکہ کے روز ہوئی لیکن آپ کا یہ سفر بھی فتح کہ لایا کہ اکثر صحابہ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ فتح مکہ کا دن وہ سمجھتے ہیں جب وہاں مسلمانوں کا قبضہ ہوا جب کہ ہم یوم حدیبیہ کو فتح مکہ کا دن سمجھتے ہیں آپ کے ہم رکاب اکثر روایات کے مطابق چودہ سو صحابہ کرام تھے اور تلواروں کے علاوہ کوئی اسلحہ وغیرہ نہ تھا قربانی کے جانور بھی تھے اور ذوالحلیفہ سے احرام باند لیے گئے وہاں آج کل ایک خوبصورت مسجد ہے جب اہل مکہ کو خبر ہوئی تو انہوں نے یہ مشورہ کیا کہ اگر آپ نے صحابہ کرام کے ہمراہ عمرہ ادا فرمایا تو اہل عرب می ہماری سبکی ہوگی اور لوگ جانیں گے وہ ہم پر غالب آگئے لہذا نہیں روکنا چاہیے ، انہوں نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور حد حرم سے باہر پڑاؤ ڈال دیے کہ حد حرم میں داخل نہیں ہونے دیں گے ۔ طائف کا قبیلہ بنوثقیف بھی ساتھ مل گیا اور اہل مکہ کے سالار حضرت خالد تھے جو اس وقت تک اسلام نہ لائے تھے چناچہ جب آپ مقام حدیبیہ پر پہنچے تو روکا گیا آپ نے عباد بن بشیر کو ایک دستہ دے کر کفار کے مقابلے میں صف بندی کا حکم دیا۔
صلوۃ الخوف۔
دریں اثنا ظہر کا وقت ہوگیا آپ نے امامت فرمائی اور تمام صحابہ نے ظہر ادا کی اہل مکہ دیکھتے رہے جب فارغ ہوگئے تو حضرت خالد نے کہا ہم نے موقع کھودیا مگر خیرا بھی ان کی دوسری نماز کا وقت ہوجائے گا جب یہ سارے سجدے میں ہوں تو ٹوٹ پڑنا چاہیے مگر اسی آن صلوۃ الخوف کا حکم نازل ہوگیا ایسی صورت میں لشکر کو دوحصوں میں بانٹ کرہرحصہ کو دودورکعت پڑھنے کو مل جایا کرے ۔
معجزہ۔
وہاں پر آپ کا یہ معجزہ بھی صادر ہوا کہ پانی پر کفار قابض تھے اور جہاں مسلمان تھے وہاں ایک ایسا کنواں تھا جس میں بہت معمولی ساپانی رستا تھا آپ نے اس میں کلی کرکے ڈال دی اور فرمایا میرایہ تیر اس میں گاڑ دو ۔ اس قدر پانی آیا کہ لبالب بھرگیا اور لوگوں نے اوپر بیٹھ کر برتن بھرے یہاں بات چیت شروع ہوئی اہل مکہ کا وفد بیل بن ورقاء جو بعد میں مسلمان ہوگئے تھے کی سرگردتی میں حاضر ہوا کہ قریش آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے لہذا آپ واپس ہوجائیں تو یہ جنگ ٹل سکتی ہے آپ نے فرمایا ہم جنگ کے ارادے سے تو نہیں آئے عمرہ ادا کرنے آئے ہیں اب اگر کوئی زبردستی روکے گا توجنگ ہوگی کہ حرم کا داخلہ تو سب کے لیے ہے اور قریش کو تو ان جنگوں نے کمزور کردیا ہے وہ چاہیں تو ایک مدت تک ہمارے ساتھ صلح کرلیں اور ہمیں اہل عرب کے لیے چھوڑ دیں اگر وہ ہم پر غالب آگئے تو ان کا مقصد پورا ہوا اور اگر ہم اہل عرب پر غالب آگئے تو انہیں تیاری کا وقت مل جائے گا پھر جو چا ہیں کریں اسلام لائیں یا جنگ کریں۔ انہوں نے واپس جاکر بات کی تو لوگ سننے کو تیار نہ تھے تب بنوثقیف کے سردار عمروہ بن مسعود ثقفی نے سنا توکہایہ بات درست ہے مجھے جانے دو میں بات کرکے آتا ہوں آپ بھی آئے اور عرض کیا کہ آپ نے قریش کو تباہ ہی کردیا تو یہ اچھی بات نہ ہوگی کبھی دنیا میں کسی نے اپنی قوم کو تباہ نہیں کیا ، صحابہ کرام سے گرمی سردی بھی ہوئی دریں اثنا وہ حالات کا مشاہدہ کرتے رہے کہ آپ تھوکیں تو بھی صحابہ ہاتھ پر لیتے اور منہ پر مل لیتے ہیں آپ نے وضو کیا تو لوگوں نے پانی نیچے گرنے نہ دیا اور پانی لے کرچہروں پر ملتے رہے آپ بولتے رہے تو سب خاموش ہوجاتے تو انہوں نے بھی پلٹ کر اہل مکہ سے کہا کہ میں نے روم اور زنجبار کے شاہنشاہوں کے دربار دیکھے مگر ایسی عزت محبت اور جان نثاری وہاں نظر نہیں آئی وہ لوگ احرام میں ہیں قربانی کے جانور ساتھ ہیں انہیں عمرہ کرلینے دو مگر قریش نہ مانے تو وہ الگ ہوکرچلے گئے اس طرح سے سفارت چلتی رہی دریں اثنا نبی (علیہ السلام) نے حضرت عثمان کو مکہ مکرمہ میں سرداروں کے پاس بات کرنے کو روانہ فرمایا اور ساتھ ان مسلمانوں کو تسلی دینے کا حکم دیا جو مجبوری ومعذوری کے باعث ہجرت نہ کرسکتے تھے آپ لشکر کفار کے پاس پہنچے توبنوسعید کے امان بن سعید نے جو بعد میں مسلمان ہوئے پناہ میں لے کر مکہ مکرمہ پہنچایا آپ ایک ایک سردار سے ملے اور وہی بات دہرائی مسلمان سے ملاقات کرکے تسلی آپ تین رات مکہ مکرمہ میں رہے قریش نے کہا آپ طواف کرسکتے ہیں مگر انہوں نے فرمایا رسول اللہ نہ کریں تو عثمان طواف نہ کرے گا۔ دریں اثنا قریش نے ستر کے قریب آدمی گھات لگانے کو بھیجے جنہیں صحابہ کرام نے گرفتار کرلیا اور اس کے بعد ایک چھوٹی سی جھڑپ بھی ہوئی اہل مکہ نے حضرت عثمان کو اور چند مسلمانوں کو جو وہاں پہنچ گئے تھے روک لیا اور مشہور ہوگیا کہ حضرت عثمان شہید کردیے گئے تو آپ نے صحابہ کرام کو جمع فرما کر موت پر بیعت لی کہ جنگ کی صورت میں موت تک سب لڑیں گے اگر ایک آدمی رہ گیا تو وہ بھی ہتھیار نہ ڈالے گا۔
اور حضرت عثمان کو اس میں شامل فرمایا کہ اپناہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے اہل مکہ مرعوب ہوگئے اور مشورہ کیا کہ اگر آپ اس حال میں واپس جائیں کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ ہمارے روکے نہ رکے تو اگلے سال تشریف لاکرعمرہ کریں اور تین روز مکہ میں گزار دیں چناچہ سہیل بن عمرویہ پیغام لے کر حاضر ہوئے اور کافی بات چیت کے بعد اپ نے معاہدہ منظور فرمالیا اور لکھاجانے لگا کہ حضرت علی لکھنے لگے آپ نے فرمایا لکھو ، بسم اللہ الرحمن الرحیم ، توسہیل نے عرض کیا کہ ہم ان کلمات کو نہیں جانتے آپ وہی لکھیں جو پہلے لکھاجاتا تھا ، باسمک اللھم۔ آپ نے مان لیا تو آپ نے فرمایا لکھو یہ وہ معاہدہ ہے جو محمدرسول اللہ نے کیا اس پر بھی وہ کہنے لگے آپ محمد بن عبداللہ لکھیں کہ ہم آپ کو رسول مان لیں تو جھگڑا کس بات کا آپ نے فرمایا مٹا کر اس طرح لکھ دو تو حضرت علی سراپا احتجاج بن گئے کہ میں آپ کا نام نامی کیسے مٹاسکتا ہوں۔
تو ایک اور معجزہ ظاہر ہوا۔
دوانصاری جوانوں نے بھی حضرت علی کا ہاتھ پکڑ لیا کہ آپ ﷺ امی تھے ، کچھ لکھنا پڑھان نہ جانتے تھے مگر کاغذ لے لیا اور اس پر لکھ دیا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ یہ معاہدہ محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو کے درمیان ہے دس سال باہم جنگ نہ کریں گے اور سب لوگ مامون رہیں گے اور ایک دوسرے پر چڑھائی اور جنگ سے رک جائیں گے ۔ پھر مزید شرائط رکھیں گئی کہ آپ یہاں سے واپس جائیں اگلے سال تشریف لائیں نیز ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر کوئی کفار میں سے ولی کی اجازت کے بغیر مسلمانوں کے پاس جائے خواہ مسلمان ہوکر بھی تو واپس کیا جائے گا جبکہ اگر کوئی مسلمان اہل مکہ کے پاس آگیا تو یہ واپس نہ کریں گے۔
نیز اہل مکہ کے علاوہ سب عرب آزاد ہیں جس کا جی چاہے اہل مکہ کے عہد میں داخل ہو اور جو چاہے وہ مسلمانوں اور نبی کریم کے عہد میں داخل ہو۔ شرائط صلح بظاہر ایسی تھی کہ جیسے مسلمانوں نے بہت دب کر صلح کی ہو صحابہ کرام اور خصوصا حضرت عمر کو بہت رنج ہوا آپ سے گذارش کی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے آپ نے خواب بھی دیکھا اور وہ پورا نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا بیشک میں اللہ کا رسول ہوں میرا خواب بھی ضرور پورا ہوگا اس کا یہ وقت تو میں نے نہیں فرمایا تھا نیز اللہ مجھے ضائع نہیں فرمائے گا میں نے اسی کے حکم پر کیا ہے۔
آپ ﷺ کی طرف سے پابندی کا اظہار۔
دریں اثنا ابوجندل جو اسی سہیل کے بیٹے تھے اور مسلمان ہوچکے تھے مگر اس نے قید کر رکھے تھے اور ایذادیتا تھا بھاگ کر وہاں پہنچ گئے مسلمانوں نے پناہ میں لے لیے مگر آپ نے فرمایا ابوجندل چندے صبر کرو اللہ تمہارے لیے اور دوسرے مسلمانوں کے لیے بہت جلد راستہ کھولنے والے ہیں اور واپس کردیا۔ معاہدہ پر دستخط ہوگئے حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، عبدالرحمن بن عوف ، عبداللہ بن سہیل بن عمر ، سعد بن ابی وقاص ، محمد بن مسلمہ ، اور حضرت علی بن ابی طالب وغیرہ ؓ اجمعین نے دستخط کیے آپ نے اپناحلق کر ایاقربانی دی اور احرام کھول دیا چناچہ سب صحابہ نے ایسا ہی کیا اور واپسی شروع ہوئی راستے میں مسلمانوں کا کھانا ختم ہوگیا۔
ایک اور معجزے کا ظہور۔
مقام عسفان پر قیام ہوا آپ نے ایک دستر خوان بچھا کر حکم دیا کہ جو کچھ جس کے پاس بچا ہوا ہویہاں ڈال دے آپ نے دعا فرمائی اور سب کو کھانے کا حکم دیا تمام لشکر نے پیٹ بھر کر کھایا اور سارے برتن پھر سے بھرلیے مگر کھانا جوں کا توں موجود تھا ، اسی واپسی کے سفر میں سورة فتح نازل ہوئی ، آپ اس وقت کراع غمیم کے مقام پر تھے چناچہ صلح نامہ کی برکات کا ظہور ہوا آپ نے خیبر کے یہود سے نبٹ لیا جہاں سے غنیمت کے ساتھ بہترین اسلحہ بھی ہاتھ لگا اور کفر کی طاقت ٹوٹی ۔ بادشاہوں کو خطوط لکھے ۔ مسلمانوں کو کام کرنے کا موقع ملا اور لوگ جوق درجوق اسلام میں داخل ہوئے اور دو سال کے اندراندر بہت زیادہ لوگ مسلمان ہوگئے نیز قریش سے اس کی خلاف ورزی ہوگئی جس کا واقعہ معروف ہے یہاں طوالت کے خوف سے نہیں دیاجارہا جو فتح مکہ کا سبب بن گئی اس روز آپ کے ہم رکاب دس ہزار کا لشکر جرار تھا جس کے ساتھ اہل مکہ لڑنے کا سوچ بھی نہ سکے اور یوں اس آیہ مبر کہ کی تعبیر پوری ہوئی کہ ارشاد ہوا ہم نے آپ کو بہت بڑی فتح سے سرفراز فرمایا اس لیے بھی کہ یہ صبر آزما لمحے آپ کے حوالہ سے مسلمانوں کی اگلی پچھلی لغزشوں کی معافی کا سبب بن گئے کہ انبیاء (علیہ السلام) تو معصوم ہوتے ہیں ہاں ترک اولی کو ان کی عظمت شان کے سبب خطا کہہ دیا جاتا ہے جس کی معافی کا اعلان فرمایا گیا۔
اتمام نعمت ریاست اسلامی کا قیام۔
نیز آپ کے طفیل یہ انعام مسلمانوں پر بھی ہوانیز تاکہ آپ ﷺ پر اپنی نعمت تمام کردے کہ آپ ﷺ کو نبوت و رسالت تو پہلے سے عطا ہوئی اب آپ ﷺ کے تابع اسلامی ریاست اور مضبوط ریاست جس میں آپ کی اور اسلام کی عزت ہی ہو قائم کردی جائے ۔ اور اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون و اطمینان نازل فرمایا تاکہ ان کے ایمانوں میں اور زیادتی ہو یعنی وہ اطاعت پیغمبر پر جم گئے۔ جنگ کا حکم ہوا تو بیعت کے لیے حاضر ہونے کا حکم ہواتوسرتسلیم خم کردیا اور یہ اطاعت ان کے لیے ایمان کی زیادتی کا سبب بن گئی ، ورنہ اللہ کو محض اہل مکہ کو تباہ کرنا ہی مقصود ہوتا تو آسمانوں اور زمینوں کے سب لشکر اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں کوئی عذاب بھی مسلط کردیتا مگر یہاں اہل ایمان پر کرم کرنا مطلوب تھا کہ اللہ ہر شے کا علم رکھنے والا ہے اور زبردست حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت تھی کہ اہل کفر خسارے میں رہے اور اہل ایمان پر جنت کے دروازے وا ہوئے تاکہ اہل ایمان مرد خواتین کو جنت میں داخل کرے جہاں نہریں جاری ہیں اور سدا بہار رہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان خطاؤں کو معاف فرما کر دور کردے درحقیقت اللہ کی بارگاہ میں یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور منافقین ومشرکین مردوزن کو رسوا کرے جو اللہ پر بری بری باتوں کا گمان رکھتے ہیں ان کی اس برائی کا عذاب ان ہی پر پڑے کہ ان پر اللہ کا غضب ہے اور انہیں اپنی رحمت سے محروم فرمادیا ہے اور ان کے لیے دوزخ کو بھڑکا رکھا ہے جو بہت ہی بری جگہ ہے۔
اللہ کے قبضہ قدرت میں تو آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں انہیں جب چاہے جیسے چاہے تباہ کردے مگر یہ اس کی حکمت ہے کہ مہلت دے رکھی ہے اور ہم نے آپ کو گواہ بناکربھیجا ہے کہ وہی عمل مقبول ہوگا جس کی آپ گواہی دیں گے یہ آپ ہی کا ارشاد تھا نیز آپ کی ذات خوش خبری سنانے والی ذات ہے۔ نیک اعمال پر نیک نتیجے کی اور گناہوں کے سخت نتائج سے بروقت آگاہ کرنے والی ہے۔ نیز آپ کا وجود باوجود اللہ کا وہ انعام ہے جس کے طفیل دوست ایمان تقسیم ہوتی ہے لہذا ایمان لاؤ اللہ پر کہ اللہ پر ایمان کا تقاضا رسول اللہ پر ایمان لانا ہے جو ایمان بااللہ کی بنیاد ہے کہ کسی نے اللہ کو کمانا بھی مگر رسول اللہ کو نہ مانا تو اس نے اللہ ہی کی بات کو جھٹلادیا تو پھر کیا مانا نیز خدمت میں کمربستہ رہو اور بہت زیادہ عظمت دو اللہ کو اس کے رسول کی خدمت وطاعت اور رسول اللہ کی عظمت ہی اس کی عظمت کا اظہار ہے۔
توفیق ذکر۔
نیز ہمہ وقت اس کا ذکر کرتے رہو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو ، ترتیب قرآن سے ظاہر ہے کہ مضبوط ایمان ویقین اور رسول اللہ کی خدمت میں جان ومال سے مدد کے لیے حاضر رہنا ، اور آپ کی عظمت کا دل میں موجود ہونا توفیق ذکر تسبیحات عطا کرتا ہے نیز جن لوگوں نے مقام حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی انہوں نے گویا اللہ سے بیعت کی اور ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے ۔
بیعت رضوان۔
یہ پہلے گذرچکا ہے کہ جہاں ذات باری تعالیٰ کے لیے ایسا وصف بیان ہو وہاں معنی بعید مراد ہوتا ہے یعنی جو اس کام کا نتیجہ ہو کہ ہاتھ میں ہاتھ ہونے سے واصل بااللہ ہونا اور ہمیشہ اللہ کی طرف سے مدد اور راہنمائی نصیب ہونا اور اس کی رضامندی کا حصول مراد ہے اسی لیے اس کو بیعت رضوان کا نام دیا گیا ہے ۔ بیعت ایک عہد ہے تعاون اور اتباع کا جس کے لیے ہاتھ میں ہاتھ دے کر عہد کیا جاتا ہے جو مسنون ہے مگر ضروری بھی نہیں کہ اس کے بغیر بھی عہد کرلیاجائے تو اس کی پاسداری ضروری ہے کہ اگر کوئی بیعت کرنے کے بعد اسے توڑے گا تو اس کا نقصان اس کی اپنی تباہی کی صورت میں ظاہر ہوگا رسول اللہ کا معاملہ میں توہرحال میں ظاہر ہے اور امیر یاشیخ سے بھی بیعت توڑنا آسان نہیں کوئی معقول شرعی وجہ چاہیے جو لوگ محض سنی سنائی باتوں پر بیعت توڑ لیتے ہیں یا دنیاوی لالچ یا اپنی بڑائی کی خاطر ایسا کرتے ہیں وہ ان کی روحانی تباہی کا سبب تو بن ہی جاتا ہے آخر دنیا میں بھی رسوا ہوتے ہیں اور جنہوں نے یہ عہد نبھایا اللہ انہیں بہت بڑے انعامات اور اجر عظیم عطا فرمائے گا۔
Ayahs 48:11–17آیات 11 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
وہ دیہاتی گنوار جو ایمان میں پختہ نہ تھے اور دل اور دل میں دشمنی رکھتے تھے جب آپ نے جانے کا حکم دیا تو پیچھے رہ گئے اب آپ کی واپسی پربہانے کریں گے مال مواشی میں مصروف تھے کوئی بچوں کو دیکھنے والا نہ تھا مجبوری تھی ہم رکاب جا نہ سکے ہماری بخشش کی دعا فرمائیے یہ وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ دراصل اطاعت کرنا ہی نہ چاہتے تھے اب محض بہانے بنا رہے ہیں ان سے کہیے کہ اگر اللہ تمہارے اموال واولاد کو تباہ کرنا چا ہے تو کون ہے جو تمہاری ڈھال چل جائے گا کہ جب رسول اللہ نے حکم دے دیا تو صرف اطاعت کا راستہ ہے کوئی عذر نہیں ہاں اگر آپ عذر کی اجازت دیں تب بات ہے اور تمہارا تو عذر بھی جھوٹا ہے جس کی حقیقت سے اللہ باخبر ہے اور بذریعہ وحی اپنے نبی کو بھی مطلع فرمادیا ہے کہ تمہاراخیال تو یہ تھا کہ اب رسول اللہ اور صحابہ کرام واپس گھر نہ پہنچ پائیں گے کہ مشرکین مکہ کے ہاتھوں سب شہید ہوں گے اور تم اس بات پر اپنے نفاق کے باعث بہت خوش بھی تھے تم نے ایسے برے برے گمان کر رکھتے تھے کہ تم تھے ہی تباہ ہونے والی قوم۔
بدگمانی
نبی سے بدگمانی مانع فیض ہو کر ایمان سے محروم کردیتی ہے ایسے ہی شیخ سے بدگمانی اس کے فیوض سے محروم کردیتی ہے ۔ اعاذنا اللہ منھا۔ اور جو لوگ اللہ پر اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتے یا ایمان سے محروم رہتے ہیں ان کے لیے ہم نے دوزخ کو دہکتی ہوئی آگ سے بھر رکھا ہے اب بھی توبہ کرلو چناچہ ان میں بعض کو خلوص نصیب ہوا اور تائب ہوگئے) تو وہ بہت عظیم سلطان ہے آسمانوں اور زمینوں کی سلطنت و حکومت دراصل اسی کی ہے جسے چاہے بخش دے اور اگر چاہے عذاب کرے مگر اس کی بخشش ہر حال میں بہت بڑھی ہوئی ہے وہ رحم کرنے والا ہے اور جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے جب انہوں نے رسول اللہ کے طفیل مسلمانوں پر اللہ کے احسانات کا مشاہدہ کیا تو اب خیبر کو جانے کے لیے تیار ہوگئے رہ جانے والوں میں منافقین تو تھے ہی کچھ مخلص مسلمان بھی تھے جنہوں نے چاہا کہ خیبر میں تو ساتھ دیں کچھ منافقین میں سے بھی خلوص سے نوازے گئے اور جب خیبر کو جانے کا ارادہ ہوا کہ جس کی فتح کی نوید بھی آگے آنے والی آیات میں موجود ہے تو اب یہ لوگ ساتھ دینے کو تیار ہیں کہ ہمیں ساتھ چلنے کی اجازت دی جائے گویا یہ اللہ کے فرمودہ کو جھٹلاناچاہتے ہیں۔
وحی غیر متلو۔
نبی (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ خیبر میں صرف وہ لوگ جائیں گے جو حدبییہ میں شریک تھے یہاں جب دوسروں نے اجازت طلب کی تو فرمایا کہ کیا یہ اللہ کا فرمان غلط ثابت کرنا چاہتے حالانکہ قرآن میں ایسا کوئی ذکر نہین کہ خیبر میں صرف وہی لوگ جائیں چناچہ علماء کا ارشاد ہے کہ صحیح حدیث بھی وحی الٰہی ہے اگرچہ اس کی تلاوت نہیں کی جاتی وہ قرآن نہیں لیکن اس کا انکار بھی قرآن ہی کے انکار کی طرح کفر ہے یہ منکرین حدیث کے لیے سمجھنے کو بہت بڑی دلیل ہے اور وہ جدیدی طبقہ بھی جو حدیث پاک کو خاص اہمیت دینے کو تیار نہیں سبق حاصل کرسکتا ہے۔ ان سے کہہ دیجئے کہ اب تو تم ساتھ نہ چلو گے کہ اللہ نے یہ بات پہلے ہی کہہ دی ہے (حالانکہ پہلے رسول اللہ نے فرمائی تھی اور آپ ہی کے ارشاد کو قال اللہ کہنا اس کے وحی ہونے کا ثبوت ہے) منافق کہیں گے ہم سے حسد رکھتے ہیں اور یہ لوگ نہیں چاہتے کہ ہم غنیمت حاصل کرسکیں اس لیے ان میں بات کو سمجھنے کی استعداد بہت کم ہے آپ ان سے فرمادیجئے کہ عنقریب دنیا کی بڑی طاقت ورقوموں اور ان کی تربیت یافتہ فوجوں سے مقابلہ حق و باطل برپا ہونے والا ہے۔ ظاہر ہے اسلامی حکومت کا قیام کفر کو کھٹکے گا اور نوبت جہاد کی آئے گی جو بعد میں خلافت راشدہ کے زمانے میں پیش آئے اور مسیلمہ کذاب سے لے کر روم فارس کے معرکے اس کے گواہ ہیں وہ جہاد بڑے شدید ہوں گے اور لوگ مسلمان ہوں گے یا اطاعت قبول کریں گے تب تم لوگ داد شجاعت دینا کہ اگر اطاعت کرو گے اور جہاد کرو گے تو بہت شاندار صلہ پاؤ گے اور اگر پہلے کی طرح بیٹھ رہے اور جہاد سے منہ موڑا تو اللہ تمہیں بہت دردناک عذاب میں مبتلا کریں گے ہاں اگر کوئی معذور ہو جیسے اندھا ہو یا چلنے پھرنے میں دقت ہوتی ہو ویسے بیمار ہو تو اس کے لیے کوئی حرج نہیں کہ جہاد میں شامل نہ ہوسکے مگر خلوص سے تمنا تو رکھتا ہو کہ جو لوگ اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے اللہ انہیں جنت میں داخل فرمائے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں اور جو اطاعت سے منہ موڑے گا اسے بہت دردناک عذاب دے گا۔
Ayahs 48:18–26آیات 18 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
اللہ جل شانہ یقینا ان مومنین سے راضی ہوگیا اور ان کی جاں سپاری کے جذبہ کو قبول فرمایا کہ حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے جب وہ آپ سے موت پر بیعت کر رہے تھے وہ اس لیے راضی ہوا کہ وہ ان کے قلبی خلوص کو جانتا تھا لہذا اس نے ان کے دلوں پر اطمینان نازل فرمایا۔
بیعت رضوان کا درخت۔
یہ ایک ببول کا درخت تھا مقام حدیبیہ پر جس کے نیچے رسول اللہ نے بیعت لی تھی بعد میں لوگوں نے وہاں نماز پڑھنا شروع کردی اور زیارت کو جانے لگے مگر کسی نے حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بیعت رضوان کی تھی وہ فرماتے تھے کہ ہم جب دوبارہ وہاں سے گزرے تو ہمیں وہ درخت نہیں ملا ہم سے کھوگیا بھلالوگوں کو کیسے پتہ چلا لوگوں نے یونہی اندازے پر کوئی درخت مقرر کرلیا تھا جسے رسم بن جانے کے ڈر سے سیدنا فاروق اعظم نے کٹوا دیا۔
ثواب کی تحقیق۔
یہاں بھی اہل بدر کی طرح ثواب کی تعین ہوجاتی ہے کہ ثواب اللہ کی رضامندی کا نام ہے جس کے باعث عملی زندگی میں نیکی پر کاربند رہنے اور ہمیشہ نیک عمل کرنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے چناچہ علماء حق کا اتفاق ہے کہ ان سب لوگوں کا خاتمہ بھی اسی رضائے الٰہی پر یقینی ہے کہ انہیں حدیبیہ میں آپ کے ہم رکاب ہونے کے سبب ہمیشہ کے لیے اللہ کی رضا حاصل ہوگئی اور ا ن کے قلوب میں سکینہ یعنی سکون کا نزول ہوا اور اس کے ساتھ دنیا کی نعمتوں سے بھی نوازا گیا کہ پھر یہاں کے فورا بعد ایک فتح عطا کی گئی جس میں بہت سامال غنیمت اسلحہ اور سامان مسلمانوں کو حاصل ہوا جس سے ان کی قوت بڑھی اور دشمنوں کی کمر ٹوٹ گئی مراد فتح خیبر ہے۔
خیبر۔
خیبر ایک صوبے کا نام تھا جس میں بہت سے قلعے وادیاں اور باغات اور بستیاں شامل تھیں چناچہ آپ جب حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو ایک روایت کے مطابق دس روز اور دوسری کے مطابق بیس روز مدینہ منورہ میں قیام فرما کر خیبر کو کوچ فرمایا یہ محرم 7 ہجری تھا اور صفر 7 ہجری میں خیبر فتح ہوگیا اس کی فتح کی بشارت سن کر ان لوگوں نے بھی شرکت کی اجازت چاہی تھی جن کا ذکر گذرچکا کہ سوائے چنداصحاب کے کسی کو اجازت عطا نہ کی گئی کہ یہ فتح اور غنیمت اس کے انعامات ہیں اور وہ غالب ہے چاہتا تو ابھی مکہ مکرمہ فتح کرادیتا مگر یہ اس کی حکمت کا تقاضا تھا کہ اسے کچھ عرصہ کے لیے موخر کردیا اللہ تم سے نبی (علیہ السلام) کے اس مخلصانہ اتباع کے سبب تم سے بہت سی فتوحات کا اور مال غنیمت کا وعدہ فرماتا ہے جسے تم ضرور حاصل کرو گے اس میں فتح مکہ کی نوید بھی ہے۔ اور بعد کی روم وفارس اور عالمی فتوحات کی پیش گوئی بھی اور خیبر میں ان لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے کہ جس قدر جری افواج تھیں اس شان سے لڑہی نہ سکیں نیز خیبر کی وادی کے کے دوسری طرف بنوغطفان تھے جن کا اہل خیبر سے معاہدہ تھا وہ باوجود تیاری کے نہ آسکے مسلمانوں کا رعب چھا گیا اور کہتے اگر ہم اہل خیبر کی مدد کو چلے گئے اور مسلمانوں کا کوئی لشکر ہماری بستی پہ آپڑا تو کیا ہوگا۔ اور یہ سب اللہ کی طرف سے اس کی مدد کا ایک نمونہ مسلمانوں کے سامنے تھا نیز تمہیں صراط مستقیم پر اور ہدایت کی راہ پر چلانا مقصود تھا۔
ترقی درجات۔
حالانکہ وہ سب لوگ پہلے ہی صراط مستقیم پر اور ہدایت پر تھے مگر یہاں مراد ترقی درجات ہے کہ یہ کیفیات کے اعتبار سے مزید ترقی ہوئی اور وہ درجہ نصیب ہوا جو پہلے نہ تھا یہی ثواب کا اثر اس دنیا کی حیات پر مرتب ہوتا ہے۔ اور فتح یعنی فتح مکہ بظاہر تم لوگ جس پر قابو نہ پاسکے وہ اللہ رب العزت کے قابو اور قبضہ قدرت میں ہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے اگر حدیبیہ میں جنگ ہوتی بھی تو کفار کو ایسی شکست ہوتی کہ انہیں کوئی حمایتی یا مددگار بھی نہ ملتا۔ اور بھاگ کھڑے ہوتے کہ ان کی شکست کے یقینی اسباب موجود تھے جن کا ذکر آگے آتا ہے اور ایسے اسباب پر یہی نتیجہ مرتب ہوتا ہے یہ اللہ کی سنت اور طریقہ ہے اور اے مخاطب اللہ کی سنت بدلا نہیں کرتی لیکن وہ ایسا قادر ہے کہ بطن مکہ یعنی حدیبیہ میں کفار کو حملہ کرنے کی توفیق ہی نہ دی ان کے ہاتھ روک دیے اور اے مسلمانو تمہارے ہاتھوں بھی کفار کو قتل نہ ہونے دیا جو جنگ کے چھڑنے کا سبب نن جاتا حالانکہ ان میں سے بہت سے قیدی بن کر تمہارے قابو میں آچکے تھے اور اللہ تمہاری ہر حرکت کو دیکھ رہا تھا۔
شکست کے اسباب۔
شکست کے یقینی اسباب میں سب سے پہلا سبب تو یہ تھا کہ وہ کافر تھے اور حق پر نہ تھے لہذا باطل کو شکست ہوتی ہے اگر مقابلے میں اہل حق ہوں گویا آج اگر کافر غالب ہیں تو ہماری طرف سے بھی حق پر قائم ہونے میں کمی اس کا سبب ہے اور دوسرے یہ کہ وہ مسجد حرام کا راستہ روک رہے تھے اور تیسرے یہ کہ اللہ کی راہ میں قربانی کے جانوروں کو قربان گاہ تک پہنچے سے روک رکھا تھا۔ یہ سب تو ان کی شکست کے اسباب تھے مگر اس وقت فتح مکہ کو موخر کرنے میں حکمت الٰہی تھی ایک تو پہلے گذرچ کی کہ انکی پشت پناہ کو توڑ کر ان کے حوصلے پست کرنا اور ان کی مدد کی راہ روکنا مقصود تھا کہ مشرکین کی نسبت دشمنی میں بھی یہود بڑھے ہوئے تھے۔ اور دوسری حکمت ان بیشمار حکمتوں میں یہ تھی کہ بہت سے مسلمان مرد اور خواتین مکہ مکرمہ میں مقیم تھے جو ممتاز نہ تھے غریب لوگ تھے اور اہل شہر میں مل کر بسرکر رہے تھے جنگ ہوتی تو تمہارے ہاتھوں پس جاتے جس پر تمہیں بعد میں صدمہ بھی ہوتا اور لوگ عار بھی دلاتے کہ ان کے ہاتھوں تو اپنے بھی نہ بچ سکے اگرچہ یہ سب لاعلمی میں ہوتا اگر لاعلمی میں وہ لوگ مارے جاتے تو اگرچہ گناہ نہ ہوتا مگر خود مسلمانوں کو دکھ ضرور ہوتا نیز کفار طعنہ بھی دیتے تو اللہ نے صحابہ کرام کو اس سے بچانے کا سبب بنادیا۔
صحابہ کرام معصوم نہیں مگر محفوظ ضرور ہیں۔
علماء کا اتفاق ہے کہ معصوم صرف نبی ہوتا ہے مگر صحابہ کرام محفوظ ہیں اور ان کے گناہ سے بچنے کے غائبانہ اسباب پیدا کردیے جاتے ہیں ان کے اتباع میں کبار اولیاء اللہ کو بھی یہ نعمت نصیب ہوتی ہے حضرت استاذی المکرم (رح) اس طرح کے واقعات سنایا کرتے تھے کہ اللہ نے کیسے کیسے انہیں کہاں کہاں سے بچایاجن کالکھنا باعث طوالت جان کر چھوڑ دیا ہے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے اور اگر یہ لوگ ان مشرکین سے الگ ہوجاتے تو ہم ان کفار کو بہت سخت عذاب میں مبتلا کرتے۔
مومن کی معیت بھی کافر کو دنیا میں عذاب سے بچانے کا باعث بن جاتی ہے۔
یہ ثابت ہے کہ نیک لوگوں کا ساتھ کافر تک کو دنیا کے عذاب سے بچاتا ہے اور مومن کو تو دنیاوآخرت میں ہر دوجہاں سے بچانے کا سبب بن جاتا ہے کفار کو اس لیے بھی دردناک عذاب دیاجانا تھا کہ انہوں نے محض جاہلانہ ضد اور انا کو دلوں میں پال کر رسول برحق کا راستہ روکنے کی حماقت اور بہت بڑے ظلم کے مرتکب ہو رہے تھے اور اللہ نے اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر سکون و اطمینان نازل فرمایا اور ان کی کیفیات قلبی میں بہت زیادہ ترقی عطا فرمائی اور انہیں نیکی اور حق عدل کی بات پر قائم رکھا کہ وہ اس کے مستحق اور اہل تھے۔
مقام صحابہ۔
اللہ صحابہ کرام کو بھلائی نیکی اور حق و انصاف پر قائم رکھنے کی شہادت دے رہا ہے جبکہ بعض باطل فرقے ان کی دیانت وامانت پہ اعتراض کرتے ہیں نیز بعض دوسرے حضرات بھی اپنے علمی زور سے خود کو صاحب الرائے ثابت کرنے کے لیے صحابہ کرام اور ان کے کردار پر اعتراض کرتے ہیں اور فرماتے ہیں انہوں نے یہ غلط کیا وہ درست نہ تھا ظاہر ہے یہ سب گمراہی ہے حق یہ ہے کہ یہ عظمت اور حفاظت الٰہیہ تمام صحابہ کو حاصل ہے جبکہ ان کے طفیل اولیاء اللہ تک کو نصیب ہے پھر ان حضرات پہ اعتراض جو بنفس نفیس بیعت رضوان میں شریک تھے اور حضرت عثمان جن کی طرف آپ نے اپنا دست مبارک رکھ کر بیعت کی بھلاوہاں اعتراض کیسے کیا جاسکتا ہے اللہ کریم سب کو ہدایت دے آمین۔ اللہ ان کی گواہی دیتا ہے کہ وہ کلمہ حق کے اہل اور مستحق تھے کہ اللہ توہرچیز کو خوب جانتا ہے۔
Ayahs 48:27–29آیات 27 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
اللہ نے اپنے رسول کو جو خواب دکھلایا وہ حق ہے اور سچا ہے اور تم لوگ انشاء اللہ ضرور مسجد حرام میں داخل ہوں گے اور امن کے ساتھ بغیر خوف خطر طواف کرو گے یہاں تعلیم کے لیے آئندہ کے ساتھ خود ذات باری نے جو ہر آن شے پر قادر ہے انشاء اللہ فرمایا تو ہر مسلمان کو آئندہ کی بات کے ساتھ انشاء اللہ ضرور کہناچاہیے اور پھر اسے پورا کرنے کی بھرپور سعی کرنا چاہیے ، یہ تاثر کہ جملہ انشائیہ کہا ہے نہ بھی پورا کیا تو خیر ہے غلط ہے۔ اور سرمنڈاؤ گے اور قصر کرو گے تمہیں کسی کا کوئی خوف خطرہ نہ ہوگا چناچہ اگلے سال ہی عمرہ نصیب ہوگیا اور سال بعد مکہ فتح ہوکرسب روکاٹیں ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئیں اللہ قادر ہے ابھی سے کرادیتا مگر اس کی حکمتیں جو تم لوگوں کے علم سے بالاتر ہیں وہ چاہتا تھا کہ پہلے یہود کو شکست ہو کفار کے حوصلے بھی پست ہوں اور ان کی مدد کی راہ بھی بند ہوجائے نیز مسلمان مال غنیمت پاکرمضبوط ہوجائیں اور اسلام کی فتح بیشمار لوگوں کے قبول اسلام کا سبب بن کر مسلمانوں اور اسلام کی شوکت بڑھے۔
اسباب دنیا۔
یہ بات واضح ہوگئی کہ عالم اسباب میں اللہ کریم اسباب کی کس قدر تاکید فرماتے ہیں محض ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ رہنے والوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے اور نفاذ اسلام کے لیے عملا کوشش کرنا چاہیے ، اور اس نے مکہ مکرمہ کے علاوہ ایک اور فتح یعنی خیبر کی فتح پہلے عطا فرمادی کہ وہی اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہر کام کے صحیح طریقہ اردین برحق عطا فرما کرمبعوث فرمایا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان باطلہ پر غالب رکھے اور اس بات پر وہ خود گواہ ہے۔
دین حق کا غلبہ ہمیشہ کے لیے ہے۔
دین حق ہمیشہ کے لیے تمام ادیان باطلہ پر غالب ہے۔ غلبہ دو طرح سے ہے ایک دلائل کے ساتھ جو ہمیشہ اسلام کو حاصل ہے دوسراسیاسی اور مادی کہ حکومت اسلام کی ہوا اس کی شرط اہل اسلام کا خلوص اور عمل کا کھراپن ہے جو صحابہ کے ضمن میں بیان ہو بھی چکا اور آئندہ پھر بیان ہورہا ہے بدقسمتی سے اگر آج کفار کو غلبہ حاصل ہے تو اس کا سبب ہم مسلمانوں کی بدعملی اور دین کے ساتھ خلوص میں کمی بلکہ دین سے بےزاری ہے اللہ ہمیں اس سے بچنے کا شعور بھی دے اور توفیق بھی آمین۔
حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اس بات سے رنجیدہ نہ ہوں کہ کفار نے معاہدہ میں ایسا نہیں لکھنے دیا اللہ نے یہ جملہ کلمات اسلام بناکر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زبانوں پر جاری کردیا اور آپ کی عظمت کا مظہر آپ کے صحابہ ہیں جو آپ کے تربیت یافتہ ہیں اور ان میں یہ کمال پیدا ہوگیا کہ وہ اپنے جذبات محبت وغضب پر غالب آگئے مومین کے لیے اور آپس میں سراپا محبت اور کفار کے لیے بہت سخت اور ناقابل تسخیر ہیں۔
صحابہ کرام عظمت رسول ﷺ کا مظہر ہیں۔
حالانکہ دنیا کے انقلابات میں انقلابی شخصیات لوگوں کے جذبات بھڑکا کر ان سے انقلاب بپا کرنے کا کام لیتے ہیں جیسے ہٹلر وغیرہ ، یا ان سے پہلے کے مشاہیر مگر رسول اللہ کا انقلاب جذباتی نہیں بلکہ شعوری اور حق ہے اور آپ کے غلاموں کا مرتبہ بلند ہے کہ جذبات ان کے قابو میں ہیں وہ جذبات کے قابو میں نہیں کہ انہیں محبت ونفرت کا مقام معلوم ہوے اور قوت غضبیہ اور شہوانیہ کو ان کے محل اور مقام پر رکھتے ہیں (سبحان اللہ) اے مخاطب تو انہیں ہر کام عبادت کے انداز میں پورے خلوص سے کرتا ہوا پائے گا۔ اطاعت رسول خود عبادت ہے لہذا ان کی زندگی کا ہر لمحہ رکوع و سجود سے عبارت ہے اور اس سے مراد عبادت ہو یا جہاد محض اللہ کے فضل وکرم اور اس کی رضا کی تلاش ہے اور ان چہروں پر قرب الٰہی کی نورانیت چمکتی ہے۔ انوارات و تجلیات سے ان کی پیشانیاں روشن ہیں اور سجدوں اور عبادات کا نور ظاہر ہے ان کی یہ مثالیں ہم نے تورات میں بھی دی تھیں اور انجیل میں ان کی مثال ہے جیسے کھیتی جو سوا نکالتی ہے۔ پھر غذا حاصل کرکے مضبوط ہوتی ہے اور پھر بوٹا بن کر کھڑا ہوجاتا ہے تاکہ کھیتی کے کاشت کرنے والا بہت خوش ہو اور کفار اور معاندین کا دل جلاکرے۔
بغض صحابہ کرام کفار کا شعار ہے نیز ان کی صداقت و عظمت پہلی امتوں کے بھی ایمان کا حصہ تھا۔
یہاں یہ بات واضح ہے کہ جب پہلی کتب میں ان کی صداقت وامانت کا ذکر ہے تو گویا پہلی امتوں کے لیے یہ قبول کرنا جزو ایمان تھا چہ جائیکہ اس سب کے ظہور اور قرآن کے نزول کے بعد کوئی اس میں شبہ کرے اور دوسرے یہ بات ثابت ہے کہ صحابہ کرام کے ساتھ بغض کفار کا شعار ہے اور ان پر اعتراضات کرنا کافرانہ فعل ہے ۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ امام مالک نے اس آیہ مبارک سے روافض کا کفر ثابت فرمایا ہے کہ انہیں صحابہ کرام سے بغض ہے اور بغض صحابہ کفر ہے اور آخرت میں ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نبی کریم کی اطاعت پر کمربستہ ہیں اللہ کا معافی اور مغفرت کا وعدہ ہے اور بہت ہی بڑے اجر وانعام کا۔ یہاں بھی معترضین کو سوچنا چاہیے کہ اگر بتقاجائے بشریت ان سے کوئی خطا سرزد بھی ہو تو اللہ مغفرت کا وعدہ فرما رہے ہیں حدیث شریف میں اس کی بہت تائید موجود ہے۔