48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 48:1–7

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

بیشک ہم نے آپ کو کھلی ہوئی فتح دی

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ اللہ آپ کی اگلی پچھی سب خطائیں معاف فرما دے اور آپ پر اپنی نعمت پوری کردے اور آپ کو صراط مستقیم پر چلائے

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور اللہ آپ کی ایسی مدد فرمائے جو زبردست ہو،

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے مومنین کے دلوں میں سکون نازل فرمایا تاکہ ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہوجائے، اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں کے اور زمین کے اور اللہ علیم ہے حکیم ہے،

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے تاکہ ان کے گناہوں کا کفارہ فرما دے۔ اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے،

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے بارے میں برا گمان رکھنے والے ہیں، ان پر برائی کی مصیبت پڑنے والی ہے، اور اللہ ان پر غصہ ہوا اور ان پر لعنت کردی اور ان کے لیے جہنم کو تیار کردیا اور وہ برا ٹھکانہ ہے،

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں کے اور زمین کے اور اللہ عزیز ہے حکیم ہے۔

فتح مبین کا تذکرہ، نصر عزیز اور غفران عظیم کا وعدہ یہ سورة الفتح کی ابتدائی آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے اس سورت میں فتح مبین کا اور صلح حدیبیہ کا اور فتح خیبر کا تذکرہ ہے اور آخر میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی توصیف اور تعریف ہے اس سورت کا ابتدائی حصہ سفر میں نازل ہوا۔ حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے بعد واپس مدینہ منورہ کے لیے تشریف لا رہے تھے اور حضرات صحابہ ؓ کے دلوں میں اس بات کا رنج تھا کہ عمرہ نہ کرسکے اس وقت سورة الفتح نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ جب آپ نے ﴿ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًاۙ001 لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ ﴾ پڑھ کر سنائی تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مبارک ہو اس میں تو آپ کے بارے میں فرمایا کہ ایسا ایسا ہوگا سوال یہ ہے کہ ہمارا کیا بنے گا اس کا بھی پتہ چلنا چاہیے اس پر آیت کریمہ ﴿ لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ﴾ نازل ہوئی۔ (ذكرہ البغوی فی معالم التنزیل ص 188 ج 4 وھو فی صحیح البخاری مختصرا ص 600 ج 2) حضرت زید بن اسلم (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں تھے حضرت عمر بن خطاب ؓ بھی آپ کے ساتھ چل رہے تھے ایک روز رات کے وقت ایسا ہوا کہ حضرت عمر ؓ نے آپ سے کچھ سوال کیا آپ نے جواب نہ دیا پھر سوال کیا آپ نے پھر خاموشی اختیار فرمائی پھر تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا، حضرت عمر ؓ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے نفس سے کہا تیری ماں تجھے گم کردے (پریشانی کے وقت اہل عرب اپنے بارے میں یہ کلمات بول دیا کرتے تھے) تو نے تین بار سوال کرکے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف میں ڈالا تین بار سوال کیا آپ نے جواب نہیں دیا یہ سوچتے ہوئے میں جلدی سے اپنے اونٹ کو حرکت دے کر سب مسلمانوں سے آگے بڑھ گیا اور میں اس بات سے ڈرنے لگا کہ میرے بارے میں قرآن مجید کی کوئی آیات نازل نہ ہوجائے تھوڑی دیر میں ایک آواز سنی ایک شخص زور سے پکار کر کہہ رہا ہے کہ اے عمر ! رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ میں ڈرا کہ واقعتاً میرے بارے میں قرآن مجید کی کوئی آیت نازل ہوئی ہے میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا آپ نے فرمایا کہ اس رات میں مجھ پر ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے پھر آپ نے ﴿ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًاۙ001﴾ تلاوت فرمائی۔ (صحیح البخاری ص 660، 716) صلح حدیبیہ کا مفصل واقعہ رسول اللہ ﷺ کو قریش مکہ نے بہت زیادہ تکلیفیں دی تھیں حتیٰ کہ آپ کو اور آپ ﷺ کے اصحاب کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ ذی قعدہ 6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ عمرہ کرنے کے لیے اپنے پیچھے نمیلہ بن عبد اللہ لیثی ؓ کو امیر بناکر روانہ ہوگئے، مدینہ منورہ کے رہنے والے اور آس پاس کے دیہات کے باشندوں کو بھی سفر میں ساتھ چلنے کے لیے فرمایا آپ نے عمرہ کا احرام باندھ لیا اور حضرات صحابہ ؓ نے بھی، تاکہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ آپ کا مقصد جنگ کرنا نہیں ہے صرف بیت اللہ کی زیارت کرنا مقصود ہے آپ اپنے ساتھ ہدی کے جانور بھی لے گئے تھے (جو حج وعمرہ میں حرم مکہ میں ذبح کیے جاتے تھے) جب آپ مقام عسفان میں پہنچے تو بشر بن سفیان کعبی سے ملاقات ہوئی اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ قریش مکہ کو آپ کی روانگی کا پتہ چل گیا ہے وہ مقام ذی طویٰ میں جمع ہوگئے ہیں اور قسمیں کھا کھا کر یہ عہد کر رہے ہیں کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے اور خالد بن ولید (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اپنے سواروں کو لے کر کراع الغمیم (ایک مقام کا نام ہے) میں پہنچ چکے ہیں آپ نے یہ سن کر راستہ بدل دیا اور داہنی ہاتھ کی طرف روانہ ہوگئے یہ باقاعدہ راستہ نہیں تھا گھاٹیاں تھیں دشوار گزار مقامات سے گزرنا پڑا یہاں تک کہ نرم زمین میں پہنچ گئے اور مقام حدیبیہ کے راستہ پر پڑگئے، حدیبیہ مکہ اور جدہ کے درمیان ہے حرم کے حدود وہاں ختم ہوجاتے ہیں (عسفان سے مکہ معظمہ جاتے ہوئے حدیبیہ واقع نہیں ہوتا لیکن چونکہ قریش کے آڑے آجانے کا امکان تھا اس لیے آپ راستہ بدل کر حدیبیہ پہنچ گئے۔ ) جب قریش کے سواروں کو پتہ چلا کہ آپ ﷺ نے راستہ بدل دیا ہے تو واپس قریش کے پاس مکہ معظمہ چلے گئے ادھر رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ مقام حدیبیہ میں پہنچ گئے وہاں پہنچے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی صحابہ نے کہا یہ تو آگے بڑھنے سے ہٹ کرنے لگی آپ نے فرمایا ہٹ کرنا اس کی عادت نہیں ہے اسے اسی ذات پاک نے روک دیا جس نے ہاتھی والوں کو مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا کیونکہ قریش مکہ کے آڑے آجانے اور مکہ معظمہ کے داخلہ میں رکاوٹ ڈالنے کا گمان تھا اس لیے آپ نے فرمایا کہ اگر آج قریش نے مجھ سے کسی ایسی بات کا سوال کیا جو صلہ رحمی کی بنیاد پر ہو تو میں اس میں اس کی موافقت کرلوں گا اور بعض روایات میں یوں بھی ہے کہ اگر مجھے کسی بات کی دعوت دیں گے جس میں ان چیزوں کی حرمت کا مطالبہ ہو جنہیں اللہ تعالیٰ نے معظم قرار دیا ہے تو ان کی بات مان لوں گا۔ حدیبیہ میں قیام تو فرمالیا لیکن وہاں پانی بہت ہی کم تھا حضرات صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہاں تو پانی نہیں ہے نہ وضو کرسکتے ہیں نہ پینے کا انتظام ہے بس یہی تھوڑا سا پانی ہے جو آپ کے پیالہ میں ہے آپ نے اپنا دست مبارک اس پیالہ میں رکھ دیا آپ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہوگئے، راوی حدیث حضرت جابر ؓ نے بیان کیا کہ ہم نے پانی پیا وضو کیا کسی نے دریافت کیا کہ آپ حضرات کی کتنی تعداد تھی تو حضرت جابر ؓ نے کہا کہ ہم لوگ پندرہ سو تھے اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی سب کے لیے کافی ہوجاتا۔ اور حضرت براء بن عازب ؓ نے فرمایا کہ آیت کریمہ میں جو فتح کا ذکر ہے آپ لوگ اس سے فتح مکہ مراد لیتے ہیں اور ہم بیعت رضوان کو فتح کا مصداق شمار کرتے تھے جو حدیبیہ کے موقعہ پر ہوئی ہم تعداد میں چودہ سو یا کچھ زیادہ تھے، حدیبیہ کے ایک کنوئیں میں تھوڑا سا پانی تھا ہم نے سارا پانی کھینچ کر استعمال کرلیا اور اس میں ایک قطرہ بھی نہ چھوڑا، رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ تشریف لائے اور اس کنوئیں کے کنارے پر بیٹھ گئے پھر فرمایا کہ اس میں سے نکالا ہوا ایک ڈول پانی لاؤ وہ آپ کی خدمت میں پیش کردیا گیا آپ نے اس میں اپنا لعاب مبارک ڈال دیا اور ایک روایت میں ہے کہ وضو فرمایا اور کلی کی اور اس کنوئیں میں پانی ڈالا پھر فرمایا اسے کچھ دیر چھوڑ دو کچھ دیر کے بعد اس میں سے پانی لینا شروع کیا اور تمام حاضرین اپنی سواریوں سمیت سیراب ہوگئے) اس میں اختلاف کی بات نہیں ہے چودہ سو سے اوپر جو افراد تھے ان کو بعض صحابہ نے پندرہ سو بتادیا اور بعض نے چودہ سو بتادیا کسر کا اعتبار نہیں کیا اور اس میں بھی کوئی تعارض نہیں کہ پیالہ میں دست مبارک رکھنے سے چشمے جاری ہوگئے اور کنوئیں میں بھی آپ نے لعاب مبارک ڈال دیا۔ جب آنحضرت ﷺ نے حدیبیہ میں قیام فرمالیا تو قریش مکہ نے یکے بعد دیگرے بدیل بن ورقاء اور مکر زبن حفص اور حلیس بن علقمہ اور عروہ بن مسعود ثقفی کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیجا آپ نے ان لوگوں کو جواب دیا کہ ہم عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں لڑائی لڑنا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ حضرات صحابہ ؓ کی محبت اور جانثاری عروہ بن مسعود ؓ حاضر خدمت ہوئے تو انہوں نے عجیب منظر دیکھا حضرات صحابہ ؓ کی محبت اور جانثاری دیکھ کر آنکھیں پھٹی رہ گئیں رسول اللہ ﷺ وضو فرماتے تھے جو پانی آپ کے اعضاء سے جدا ہوتا حضرات صحابہ ؓ اسے گرنے نہ دیتے تھے اور فوراً ہی اپنے ہاتھوں میں لے لیتے تھے جب آپ ناک کی ریزش ڈالتے تھے اسے بھی جلدی سے اپنے ہاتھوں میں لے لیتے تھے اور آپ کا اگر کوئی بال گرتا تو اسے بھی گرنے سے پہلے ہی اچک لیتے تھے۔ عروہ بن مسعود ثقفی ؓ نے واپس ہوکر قریش مکہ سے کہا کہ دیکھو میں کئی بار کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کے پاس گیا ہوں (یہ تینوں بادشاہ تھے) میں نے کسی بادشاہ کے ایسے فرمانبردار نہیں دیکھے جیسے محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ہیں اگر تم نے جنگ کی تو یہ لوگ کبھی بھی انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے اب دیکھ لو تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے فرمایا کہ تم مکہ معظمہ جاؤ وہاں قریش کو بتادو کہ ہم جنگ کرنے کے لیے نہیں آئے حضرت عمر ؓ نے معذرت پیش کردی کہ قریش کو معلوم ہے کہ میں ان کا کتنا بڑا دشمن ہوں اور میرے قبیلہ بنی عدی میں سے وہاں ایسے افراد نہیں ہیں جو میری حفاظت کرسکیں میں آپ کو رائے دیتا ہوں کہ آپ عثمان بن عفان ؓ کو بھیج دیں قریش کے نزدیک وہ مجھ سے زیادہ معزز ہیں چناچہ آپ نے حضرت عثمان بن عفان ؓ کو ابو سفیان اور دیگر اشراف قریش کے پاس بطور نمائندہ بھیج دیا تاکہ وہ قریش کو بتادیں کہ آپ جنگ کے ارادہ سے تشریف نہیں لائے بلکہ صرف بیت اللہ کی زیارت کے لیے تشریف لائے ہیں۔ جب حضرت عثمان ؓ نے قریش مکہ کو پیغام دیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت دیں البتہ تم چاہو تو طواف کرسکتے ہو انہوں نے جواب دیا کہ میں تنہا طواف نہیں کرسکتا رسول اللہ ﷺ طواف کریں گے تو میں بھی کروں گا حضرت عثمان ؓ کو قریش مکہ نے روک لیا اور ادھر رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر پہنچ گئی کہ عثمان کو قتل کردیا گیا ہے۔ بیت رضوان کا واقعہ جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ اب ہم تو یہاں سے نہیں ہٹیں گے جب تک قریش سے جنگ نہ کرلی جائے چونکہ بظاہر جنگ لڑنے کی فضاء بن گئی تھی اس لیے رسول اللہ ﷺ نے حضرات صحابہ ؓ سے بیعت لینا شروع کیا اور ایک شخص کے علاوہ آپ کے تمام اصحاب نے اس بات پر بیعت کرلی کہ ہم جم کر جنگ میں ساتھ دیں گے اور راہ فرار اختیار نہ کریں گے۔ حضرت عثمان ؓ چونکہ مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے اس لیے آنحضرت ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کی طرف سے خود بیعت کرلی اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے ملایا اور فرمایا کہ یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے یہ بیعت ایک درخت کے نیچے ہوئی تھی جو مقام حدیبیہ میں تھا اور اس کے بارے میں آیت کریمہ ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ﴾ نازل ہوئی اس لیے اس بیعت کا نام بیعۃ الرضوان معروف ہوگیا اور بیعت کرنے والوں کو اصحاب الشجرہ کہا جانے لگا (شجرہ عربی میں درخت کو کہتے ہیں) اس کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کی خبر غلط ہے لیکن اس خبر کی وجہ سے جو حضرات صحابہ ؓ نے بیعت کی اس کا ثواب مل گیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا تمغہ بھی نصیب ہوگیا جس کا قرآن مجید میں اعلان ہوگیا جو رہتی دنیا تک برابر پڑھا جاتا رہے گا۔ اس کے بعد قریش نے سہیل بن عمرو کو گفتگو کرنے کے لیے بھیجا اور یوں کہا کہ محمد ﷺ کے پاس جاؤ اور ان سے صلح کی گفتگو کرو لیکن صلح میں اس سال عمرہ کرنے کی بات نہ آئے اگر ہم اس سال انہیں عمرہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو عرب میں ہماری بد نامی ہوگی اور اہل عرب یوں کہیں گے کہ دیکھ لو محمد رسول اللہ ﷺ اپنی قوت اور زور سے مکہ میں داخل ہوگئے۔ سہیل بن عمرو نے خدمت عالیہ میں حاضر ہوکر لمبی گفتگو کی پھر آپس میں صلح کی شرطیں طے ہوگئیں (صحیح بخاری باب الشروط فی الجہاد ص 377 ج اور راجع معالم التنزیل ص 199 ج 4 تا ص 203) جو انشاء اللہ عنقریب ذکر کی جائیں گی۔ صلح حدیبیہ کا متن اور مندرجہ شرائط صحیح بخاری 371، 382 اور صحیح مسلم 104 ج 2 میں ہے کہ حضرت علی ؓ صلح نامہ لکھنے لگے تو اس میں انہوں نے بطور عنوان لکھ دیا ھذا ما قاضی علیہ محمد رسول اللہ، اس پر سہیل بن عمرو اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم تو آپ کے رسول اللہ ہونے کا اقرار ہی نہیں کرتے اگر ہم اس کو مانتے ہوتے تو آپ کو عمرہ کرنے سے کیوں روکتے ؟ آپ محمد بن عبد اللہ لکھیے آپ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ بھی ہوں محمد بن عبد اللہ بھی ہوں پھر حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ لفظ ” رسول اللہ “ کو مٹا دو حضرت علی ؓ نے عرض کیا کہ میں تو کبھی بھی آپ کی اس صفت کو نہیں مٹاؤں گا (یہ نافرمانی کی قسم نہیں ہے نازو انداز کی بات ہے) اس کے بعد صلح نامہ کے شروع میں ھذا ما قاضی علیہ محمد بن عبد اللّٰہ لکھا گیا۔ صحیح مسلم 105 ج 2 یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم اس پر سہل بن عمرو نے کہا کہ یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کیا ہے ہم اس کو نہیں جانتے بلکہ وہ لکھو جو ہم پہچانتے ہیں اور وہ باسْمِكَ اَللّٰھُمَّ ہے (آپ نے اس کو بھی منظور فرما لیا۔ ) (كما ذکر النوری) البدایہ والنہایہ 168 ج 4 میں صلح نامہ کا متن جو نقل کیا ہے وہ ذیل میں درج ہے : ھذا ما صالح علیہ محمد بن عبد اللّٰہ سھیل بن عمرو، اصطلحا علی وضع الحرب عن الناس عشر سنین یامن فیھن الناس ویکف بعضھم عن بعض، وعلیٰ انہ من اتیٰ محمدًا من قریش بغیر اذن ولیہ ردہ علیھم، ومن جاء قریشًا ممن مع محمد لم یردوہ علیہ، وان بیننا عیبة مکفوفةٗ وانہ لا اسلال ولا اغلال، وانہ من احب ان یدخل فی عقد محمد وعھدہ دخل فیہٗ من احب ان یدخل فی عقد قریش وعھدھم دخل فیہٗ وانک ترجع عامک ھذا فلا تدخل علینا مكة، وانہ اذا کان عام قابل خرجنا عنک فدخل تھا باصحابک فاقمت بھا ثلاثاً معک سلاح الراکب، السیوف فی القرب لا تدخلھا لغیرھا۔ ترجمہ : یہ وہ صلح نامہ ہے جس کی محمد بن عبد اللہ نے سہیل بن عمرو سے صلح کی، ان باتوں پر صلح کی گئی۔ (1) دس سال تک آپس میں جنگ نہیں کریں گے، ان دس سالوں میں لوگ امن وامان سے رہیں گے اور ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے رکے رہیں گے۔ (2) قریش میں سے جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر محمد ﷺ کے پاس آجائے گا اسے واپس کرنا ہوگا۔ (3) اور محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے جو شخص قریش کے پاس آجائے گا وہ اسے واپس نہیں کریں گے۔ (4) اور ایک یہ بات ہے کہ ہمارے درمیان گٹھڑی بند رہے گی (یعنی آپس میں جنگ نہ کریں گے لڑائی والی بات کو گٹھڑی کی طرح باندھ کر ڈال دیں گے اور بعض حضرات نے گٹھڑی بند رکھنے کا یہ معنی بتایا ہے جو کچھ ہم نے صلح کی ہے یہ سچے دل سے ہے دل گٹھڑیوں کی طرح ہیں جن میں راز کی چیزیں رکھتی جاتی ہیں لہٰذا ہماری یہ گٹھڑی نہ کھلے گی) اور کوئی فریق دھوکہ یا خیانت کا کام نہ کرے گا۔ (5) نہ کوئی ظاہری طور پر چوری کرے گا اور نہ خیانت کے طور پر کسی کو تکلیف دے گا (ظاہر اور باطن کے اعتبار سے ہر شرط کی پابندی کی جائے گی) (6) اور جو شخص محمد ﷺ کے ساتھ کوئی معاہدہ اور معاقدہ کرنا چاہیے وہ کرسکتا ہے۔ (7) اور جو جماعت قریش سے کوئی معاہدہ اور معاقدہ کرنا چاہیے اسے اس کا اختیار ہے۔ (8) آپ اس سال واپس ہوجائیں مکہ معظمہ میں داخل نہ ہوں۔ (9) اور آئندہ سال اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ عمرہ کے لیے آئیں اس وقت مکہ معظمہ میں داخل ہوں اور صرف تین دن رہیں۔ (10) اس وقت جب عمرہ کے لیے آئیں تو آپ کے ساتھ مختصر سے ہتھیار ہوں جنہیں مسافر ساتھ لے کر چلتا ہے تلواریں نیاموں میں ہوں گی اس کا لحاظ کرتے ہوئے داخل ہوسکیں گے۔ جب یہ شرطیں لکھی گئیں تو شرط نمبر 4 کے مطابق بنو خزاعہ نے اعلان کردیا کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ہیں اور بنوبکر نے اعلان کردیا کہ ہم قریش کے عہد میں ہیں پھر یہی معاہدہ فتح مکہ کا سبب بن گیا کیونکہ قریش مکہ نے بنو بکر کی مدد کردی جب بنو خزاعہ سے ان کی جنگ چھڑی معاہدہ کی جو شرطیں اوپر مذکور ہوئیں ان میں سے بعض صحیح بخاری (صحیح بخاری باب الشروط فی الجہاد ص 337 ج اور راجع معالم التنزیل ص 199 ص 203 ج 4) اور بعض صحیح مسلم میں مذکور ہیں اور بعض سنن ابی داؤد میں بھی مروی ہیں۔ حضرت عمر ؓ کا تردد اور سوال و جواب حضرت عمر ؓ کو بعض شرطوں کا قبول کرنا ناگوار ہوا وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور کیا قریش مکہ باطل پر نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر ہیں ! پھر سوال کیا کیا ہمارے مقتولین جنت میں نہیں اور کیا ان کے مقتولین دوزخ میں نہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور ان کے مقتولین دوزخ میں ہیں، عرض کیا پھر کیوں ہم اپنے دین میں ذلت گوارا کریں اور ہم کیوں اللہ کے فیصلے کے بغیر جو ہمارے ان کے درمیان (قتال کے ذریعہ) ہو واپس ہوجائیں ؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا ہوں وہ میری مدد فرمائے گا، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا، کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور طواف کریں گے ؟ آپ نے فرمایا کیا میں نے اسی سال کے بارے میں کہا تھا ؟ اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ سے بھی ان کا یہی سوال و جواب ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے صلح کرلی اور پورا صلح نامہ لکھ دیا گیا ابو جندل نے مسلمانوں سے کہا کہ دیکھو میں مسلمان ہوکر آیا ہوں مشرکین کی طرف واپس کیا جا رہا ہوں مجھے بڑی بڑی تکلیفیں دی گئی ہیں مجھے اپنے ساتھ لے چلو لیکن رسول اللہ ﷺ کے سامنے کچھ نہیں کرسکتے تھے صلح کی جو شرطیں آپ نے منظور فرمالی تھیں سب کے مطابق عمل کرنا لازم تھا بالآخر ابو جندل کو وہیں چھوڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہمارا بن کر ہم کو چھوڑے گا اللہ تعالیٰ اس کو ہم سے دور فرما دے گا (اس کی ہمیں ضرورت نہیں) اور جو شخص ان میں سے ہوگا اور ہمارا بن کر آئے گا (پھر ہم شرط کے مطابق اسے واپس کردیں گے تو) اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی راستہ نکال دے گا۔ (صحیح مسلم ص 105 ج 1) حلق رؤس اور ذبح ہدایا جب صلح نامہ لکھا جاچکا تو آنحضرت سرور عالم ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اپنے ہدایا کو ذبح کرو اور سر منڈالو یہ بات سن کر کوئی بھی کھڑا نہ ہوا کیونکہ حضرت صحابہ ؓ اس امید میں تھے کہ شاید کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ وقت سے پہلے احرام کھولنا نہ پڑے اور عمرہ کرنے کا موقع مل ہی جائے۔ آپ کے تین بار ارشاد فرمانے کے بعد بھی جب کوئی کھڑا نہ ہوا تو آپ اپنی اہلیہ حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے پوری صورت حال بیان کی (کہ میں ہدایا کے ذبح کرنے کا اور سر مونڈنے کا حکم دے چکا ہوں لیکن صحابہ اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں) حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ لوگ ذبح اور حلق والے کام کر گزریں تو آپ باہر تشریف لے جاکر کسی سے بات کیے بغیر اپنے اونٹوں کو ذبح فرما دیں اور بال مونڈنے والے کو بلا کر اپنے سر کے بال منڈوا دیں آپ باہر تشریف لائے اور ایسا ہی کیا جب آپ کو حضرات صحابہ نے دیکھا کہ آپ ہدایا ذبح فرما رہے ہیں اور حلق کروالیا ہے تو سب اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے ہدایا کو ذبح کردیا اور ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے۔ (صحیح بخاری ص 380) حضرت ابو بصیر ؓ اور ان کے ساتھیوں کا واقعہ وہ جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اہل مکہ میں سے جو شخص ہمارے پاس آئے گا اور اسے شرط کے مطابق واپس کردیں گے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی راستہ نکال دے گا اس کے مطابق اس کا حل یہ نکلا ابو بصیر ؓ ایک صحابی مسلمان ہوکر مکہ سے مدینہ منورہ پہنچ گئے مکہ والوں نے ان کو واپس کرنے کے لیے دو آدمی بھیجے، رسول اللہ ﷺ نے شرط کے مطابق ان کو واپس کردیا واپسی میں جب ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت ابو بصیر ؓ نے ان دو آدمیوں میں سے جو انہیں لینے آئے تھے ایک کو قتل کردیا اور دوسرا بھاگ کر مدینہ منورہ میں آکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ ضرور اسے کوئی خوفناک بات پیش آئی ہے اس نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ میرا ساتھی تو قتل کیا جاچکا ہے اور میں بھی قتل ہونے والا ہوں پیچھے سے حضرت ابو بصیر ؓ بھی حاضر خدمت ہوگئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کی جو ذمہ داری تھی وہ تو اللہ تعالیٰ نے پوری کردی ہے آپ نے مجھے واپس کردیا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے نجات دے دی ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ لڑائی کو بھڑکانے والا ہے کاش اسے کوئی سمجھانے والا ہوتا یہ سن کر ابو بصیر ؓ نے سمجھ لیا کہ آپ مجھے پھر واپس کردیں گے لہٰذا وہ مدینہ منورہ سے نکل گئے اور سمندر کے کنارے پر پڑاؤ ڈال لیا۔ جب ابو جندل ؓ کو اس کا پتہ چلا تو وہ بھی ابو بصیر ؓ کے پاس پہنچ گئے اور اب جو بھی کوئی شخص قریش مکہ میں سے مسلمان ہوتا ابو بصیر ؓ کے پاس پہنچ جاتا یہاں تک کہ وہاں سمندر کے کنارے ایک جماعت اکٹھی ہوگئی قریش کا جو بھی قافلہ شام کی طرف جاتا تھا یہ لوگ اسے روک لیتے اور قافلے کے آدمیوں کو قتل کردیتے اور ان کے اموال چھین لیتے تھے جب یہ صورت حال سامنے آئی تو قریش مکہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ ان لوگوں کو بلالیں اور اب ہم اس شرط کو واپس لیتے ہیں کہ ہمارا کوئی شخص آپ کے پاس جائے گا تو اسے واپس کرنا ہوگا جو بھی شخص ہم میں سے آپ کے پاس پہنچے گا تو اسے واپس کرنے کی ذمہ داری آپ پر نہ ہوگی اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو پیغام بھیج دیا کہ واپس آجائیں۔ (صحیح البخاری ص 380، 381 ج 1) رسول اللہ ﷺ نے ابو بصیر کے نام لکھ دیا کہ مدینہ منورہ آجائیں جب گرامی نامہ پہنچا تو وہ سکرات موت میں تھے ان کی موت اس حالت میں ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کا مکتوب گرامی ان کے ہاتھ میں تھا، حضرت ابو جندل ؓ نے انہیں دفن کردیا اور وہاں ایک مسجد بنا دی اور پھر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ منورہ میں حاضر ہوگئے اور برابر وہیں رہتے رہے حتی کہ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں شام کی طرف چلے گئے اور وہیں جہاد میں شہید ہوگئے۔ (فتح الباری ص 351 ج 5) صلح حدیبیہ کی مذکورہ تفصیل کے بعد اب آیات بالا کا ترجمہ دوبارہ پڑھ لیجیے ان میں فتح مبین کی خوشخبری ہے اور رسول اللہ ﷺ کی اگلی پچھلی تمام لغزشوں کی معافی کا اور تکمیل نعمت کا اور صراط مستقیم پر چلانے کا اور نصر عزیز کا اعلان ہے۔ اہل ایمان پر انعام کا اعلان، اور اہل نفاق اور اہل شرک کی بدحالی اور تعذیب کا بیان اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دل میں سکون و اطمینان نازل فرما دیا تاکہ ان کا ایمان اور زیادہ بڑھ جائے اور یہ بھی فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ ایمان کی برکت سے اہل ایمان کو مرد ہوں یا عورت ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے گا ان کے بارے میں پانچ باتیں بتائیں۔ اول ﴿ الظَّآنِّيْنَ باللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ ﴾ (کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ برا گمان رکھتے ہیں) اس برے گمان میں یہ بھی داخل ہے یہ لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے ہیں اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے کہ مومنین مغلوب ہوں گے اور کافروں کے حملے سے محفوظ ہوکر واپس مدینہ نہ آئیں گے چونکہ اپنے قلبی جذبات میں اور اعتقادات میں منافق عورتیں اور مشرک عورتیں بھی اپنے مردوں کے ساتھ ہوتیں ہیں اس لیے انہیں بھی وعید میں شریک کرلیا گیا۔ دوسری بات یہ بتائی کہ ﴿ عَلَيْهِمْ دَآىِٕرَةُ السَّوْءِ ﴾ کہ ان پر برائی کی چکی گھومنے والی ہے یعنی دنیا میں مقتول اور ماخوذ ہوں گے اور اسلام کی ترقی ان کے قلبی احساسات کے لیے سوہان روح بنی رہے گی۔ تیسری اور چوتھی بات یہ بتائی ﴿ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ ﴾ اور اللہ ان پر غصہ ہوا اور ان پر لعنت کردی اور پانچویں بات بتائی ﴿ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ ﴾ کہ ان کے لیے جہنم کو تیار کردیا اور آخر میں اس مضمون کو ﴿ وَ سَآءَتْ مَصِيْرًا 006﴾ پر ختم فرمایا کہ جہنم برا ٹھکانہ ہے۔ پھر فرمایا ﴿ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ 1ؕ﴾ اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں کے اور زمینوں کے لشکر۔ ان آیات میں یہ مضمون دو مرتبہ بیان فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے لشکر ہیں وہ جس سے چاہے کام لے سکتا ہے ان میں کافروں کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ مسلمان تھوڑے سے ہیں ہم انہیں دبالیں گے چونکہ ان کے علاوہ بھی اللہ کے لشکر ہیں اس لیے ان کی تعداد کو نہ دیکھیں اللہ اپنے دوسرے لشکروں سے بھی کام لے سکتا ہے اور اس میں مسلمانوں کے لیے بھی تذکیر ہے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ کے بہت سے لشکر ہیں وہ تمہاری تائید کے لیے اور کافروں کو زک دینے کے لیے اپنی دوسری مخلوق کو بھی استعمال فرما سکتا ہے۔ فائدہ 1 ان آیات میں ایک جگہ ﴿وَكان اللّٰہُ عَلِیْمًا حَكیْمًا﴾ اور ایک جگہ ﴿ وَ كَان اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا 007﴾ فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا ہے کہ اللہ تعالیٰ علیم بھی ہے اسے اپنے دوستوں کا بھی علم ہے اور دشمنوں کا بھی وہ سب کے ظاہر و باطن کو جانتا ہے وہ عزیز بھی ہے یعنی وہ زبردست ہے اس کے فیصلے اور ارادے کوئی پلٹ نہیں سکتا اور وہ حکیم بھی ہے اپنی حکمت کے مطابق جسے چاہتا ہے انعام دیتا ہے جسے چاہتا ہے عقاب و عذاب میں مبتلا فرما دیتا ہے۔ فائدہ 2 آیت کریمہ میں جو ﴿لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ ﴾ فرمایا ہے بہ اجماع امت اس سے گناہ حقیقی واقعی مراد نہیں ہے کیونکہ حضرات انبیاء ( علیہ السلام) سے گناہوں کا صدور نہیں ہوسکتا بلکہ بعض وہ امور مراد ہیں جن میں خطاء اجتہادی ہوگئی اور اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو متنبہ فرمایا جیسا کہ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے میں آپ نے فدیہ لینے والوں کی رائے سے موافقت فرمائی اور جیسا کہ بعض منافقین نے جہاد میں نہ جانے کی اجازت مانگی تو آپ نے اجازت فرما دی جسے ﴿عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ 1ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ ﴾ میں بیان فرمایا اور جیسا کہ حضرت ابن ام مکتوم ؓ نابینا صحابی کے آنے پر آپ کو خیال ہوا کہ اس وقت نہ آتے تو اچھا تھا اور اس کا اثر آپ کے چہرہ انور پر ظاہر ہوگیا کیونکہ آپ اس وقت کافروں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اس پر ﴿عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى﴾ نازل ہوئی اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آپ کا سب کچھ معاف فرمایا پھر بھی آپ بہت زیادہ عبادت کرتے تھے آپ رات کو نماز تہجد میں لمبا قیام کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے قدموں مبارک پر ورم آگیا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ پاؤں پھٹنے لگے تھے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ آپ یہ کیوں کرتے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کا سب کچھ معاف فرما دیا ؟ آپ نے فرمایا کہ تو کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ (صحیح البخاری ص 150 ج 1 ص 716 جلد دوم) مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اتنا بڑا کرم فرمایا تو اس کا تقاضا یہ تو نہیں ہے کہ عبادت کم کردوں احسان مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ اور زیادہ عبادت میں لگ جاؤں۔
Ayahs 48:8–9

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے آپ کو شاہد اور مبشر اور نذیر بناکر بھیجا

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو، اور اس کی تعظیم کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کو۔

رسول اللہ ﷺ شاہد اور مبشر اور نذیر ہیں ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کی تین بڑی صفات بیان فرمائیں اول شاہد ہونا دوسرے مبشر ہونا تیسرے نذیر ہونا عربی میں شاہد گواہ کو کہتے ہیں، قیامت کے دن آپ اپنی امت کے عادل ہونے کی گواہی دیں گے جیسا کہ سورة بقرہ ﴿ وَ يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا ﴾ اور سورة الحج ﴿لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ ﴾ میں بیان فرمایا ہے دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ آپ مبشر ہیں جس کا معنی ہے بشارت دینے والا اور تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ آپ نذیر ہیں یعنی ڈرانے والے ہیں تبشیر یعنی ایمان اور اعمال صالحہ پر اللہ کی رضا اور اللہ کے انعامات کی بشارت دینا اور تنذیر یعنی کفر پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب سے ڈرانا یہ حضرات انبیاء ( علیہ السلام) کا کام تھا، خاتم الانبیاء ﷺ نے بھی اسے پورے اہتمام کے ساتھ انجام دیا احادیث شریفہ میں آپ کے انذار اور تبشیر کی سینکڑوں روایات موجود ہیں اور الترغیب والترہیب کے عنوان سے علماء امت نے بڑی بڑی کتابیں تالیف کی ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی یہ صفات توریت شریف میں بھی مذکور ہیں آنحضرت سرور عالم ﷺ کی مذکورہ صفات بیان فرمانے کے بعد اہل ایمان سے خطاب فرمایا ﴿ لِّتُؤْمِنُوْا باللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ 1ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا 009﴾ کہ ہم نے ان کو اس لیے رسول بنا کر بھیجا کہ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کے دین کی مدد کرو اس کی تعظیم کرو اس کے موصوف بالکمالات ہونے کا عقیدہ رکھو اور صبح شام اس کی تسبیح بیان کرو، عقیدہ تعظیم کے ساتھ عیوب اور نقائص سے اس کی تسبیح اور تقدیس میں لگے رہو۔
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، سو جو شخص عہد توڑ دے گا اس کا توڑنا اسی کی جان پر ہوگا، اور جو شخص اس عہد کو پورا کر دے جو اس نے اللہ سے کیا ہے سو وہ اسے بڑا اجر عطاء فرمائے گا۔

رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنا اللہ ہی سے بیعت کرنا ہے جس وقت مقام حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کا قیام تھا اور حضرات صحابہ ؓ آپ کے ساتھ تھے اس وقت مکہ والوں کے آڑے آجانے کی وجہ سے حضرت عثمان ؓ کی وفات کی خبر سے کچھ ایسی فضاء بن گئی تھی کہ جیسے جنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر حضرات صحابہ ؓ سے بیعت لی جس میں یہ تھا کہ جم کر جہاد کریں گے پشت پھیر کر نہ بھاگیں گے بیعت کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ آپ سے جو بیعت کر رہے ہیں انکی یہ بیعت اللہ تعالیٰ ہی سے ہے آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ کے دین کی طرف دعوت دیتے ہیں اور دعوت قبول کرنے والوں کو خود بھی اللہ کے دین پر چلاتے ہیں جو آپ کی فرمانبرداری کرتا ہے وہ اللہ کی فرمانبرداری کرتا ہے۔ اس بیعت میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کا اقرار بھی آجاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری کا بھی، قرآن مجید میں جگہ جگہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا بھی ذکر ہے سورة النساء میں واضح طور پر فرمایا ﴿ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ ﴾ بیعت کے لیے ضروری ہے کہ ہاتھ میں ہاتھ دے کر ہی ہو زبانی اقرار عہد و پیمان بھی بیعت ہے لیکن چونکہ حدیبیہ کے موقع پر آپ نے ہاتھ میں ہاتھ لے کر بیعت فرمائی اور بیعت اسی طرح مروج تھی (اور اب بھی اسی طرح مروج ہے) اس لیے ارشاد فرمایا ﴿يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ ﴾ کہ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ اعضاء اور جوارح سے تو پاک ہے لیکن بیعت کی ذمہ داری کو واضح فرمانے کے لیے اور اس بات کو مؤكد کرنے کے لیے جو لوگ آپ ﷺ سے بیعت کرتے ہیں۔ وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں اس لیے ﴿ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ ﴾ فرمایا۔ چونکہ بیعت کرنے والے کی اندرونی حالت کو وہ شخص نہیں جانتا جس سے بیعت کی جا رہی ہو اس لیے بیعت کرنے والے کی ذمہ داری بتانے کے لیے فرمایا ﴿ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ﴾ (کہ جو شخص بیعت کو توڑ دے اس کے توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا) معاہدہ کرکے توڑ دینا تو ویسے بھی گناہ کبیرہ ہے پھر جبکہ معاہدہ کو بیعت کی صورت میں مضبوط اور موکد کردے تو اور زیادہ ذمہ داری بڑھ جاتی ہے جب اللہ کے رسول سے بیعت کرلی تو اس کو پورا کرنا ہی کرنا ہے۔ ﴿وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ اللّٰهَ فَسَيُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا (رح) 0010﴾ (اور جو شخص اس عہد کو پورے کردے جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم عطا فرمائے گا) فائدہ : اصحاب طریقت کے یہاں جو سلسلہ جاری ہے یہ مبارک و متبرک ہے اگر کسی متبع سنت شیخ سے مرید ہوجائے تو برابر تعلق باقی رکھے لیکن اگر شیخ خلاف شریعت کسی کام کا حکم دے تو اس پر عمل کرنا گناہ ہے، اگر کسی فاسق یا بدعتی پیر سے بیعت ہوجائے تو اس بیعت کو توڑنا واجب ہے۔
Ayah 48:11

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

عنقریب دیہات کے وہ لوگ جو پیچھے ڈال دئیے گئے آپ سے کہیں گے کہ ہمارے مالوں اور اہل و عیال نے ہمیں مشغول کردیا سو آپ ہمارے لیے استغفار کیجیے وہ اپنی زبانوں سے کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے، آپ فرما دیجیے سو وہ کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے کسی بھی چیز کا اختیار رکھتا ہو اگر وہ تمہیں نقصان یا نفع پہنچانا چاہے، بلکہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے کاموں کی سب خبر ہے،

آپ ﷺ کے ساتھ سفر میں نہ جانے والے دیہاتیوں کی بدگمانی اور حیلہ بازی کا تذکرہ معالم التنزیل 191 ج 4 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جس سال صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے آس پاس دیہاتوں میں یہ منادی کرا دی کہ ہم عمرہ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ بھی عمرہ کرلیں اور قریش مکہ کی طرف سے کوئی جنگ کی صورت پیدا ہوجائے یا وہ بیت اللہ سے روکنے لگیں تو ان سے نمنٹ لیا جائے آپ نے عمرہ کا احرام باندھا اور ھدی بھی ساتھ لی تاکہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ آپ جنگ کے ارادہ سے روانہ نہیں ہو رہے اس وقت تک بڑی جماعت آپ کے ساتھ روانہ ہوگئی (جن کی تعداد چودہ سو یا اس سے کچھ زیادہ تھی) اس موقع پر دیہات میں رہنے والوں میں بہت سے لوگ پیچھے رہ گئے اور آپ کے ساتھ سفر میں نہ گئے ابھی رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ واپس نہیں پہنچے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں پہلے سے آپ کو خبر دے دی اور فرمایا ﴿ سَيَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ۠ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا ﴾ کہ دیہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے ڈال دئیے گئے (جن کی شرکت اللہ تعالیٰ کو منظور نہ تھی) وہ شرکت نہ کرنے کا عذر بیان کرتے ہوئے یوں کہیں گے کہ ہمارے مالوں اور ہمارے اہل و عیال نے ہمیں مشغول رکھا ہم ان کی ضروریات میں لگے رہے پیچھے گھروں میں چھوڑنے کے لیے بھی کوئی نہ تھا لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ سے درخواست کردیجیے کہ وہ ہماری مغفرت فرما دے، جب آنحضرت سرور عالم ﷺ مدینہ منورہ میں واپس تشریف لے آئے تو یہ لوگ حاضر خدمت ہوگئے اور انہوں نے ساتھ نہ جانے کا وہی عذر بیان کردیا کہ ہمیں بال بچوں سے متعلق کام کاج کی مشغولیتوں نے آپ کے ساتھ جانے نہ دیا اب آپ ہمارے لیے استغفار کردیں، اللہ جل شانہٗ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے یعنی ان کا یہ کہنا کہ ہمارا شریک ہونے کا ارادہ تو تھا لیکن گھر کی مشغولیت کی جہ سے نہ جاسکے اور یہ کہنا کہ آپ ہمارے لیے استغفار کردیں یہ ان کی زبانی باتیں ہیں جو ان کے قلبی جذبات اور اعتقادات کے خلاف ہیں نہ ان کا شریک ہونے کا ارادہ تھا اور نہ استغفار کی ان کے نزدیک کوئی حیثیت ہے، یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے پھر گناہ اور ثواب اور استغفار کی باتوں کا کیا موقع ہے ؟
Ayah 48:12

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بلکہ بات یہ ہے کہ تمہارا خیال تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور مومنین کبھی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں مزین کردی گئی، اور تم نے برا گمان کیا اور تم ہلاک ہونے والے لوگ ہو،

پھر ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی جو جھوٹی عذر خواہی اور حیلہ بازی کریں کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی ضرر یا نفع پہنچانا چاہے تو وہ کون ہے جو اللہ کی طرف سے آنے والے کسی فیصلے کے بارے میں کچھ اختیار رکھتا ہو، جب اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلنے کے لیے حکم ہوگیا تو ساتھ جانا ضروری تھا، آپ کے ساتھ نہ جانے کی صورت میں اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضرر پہنچ جائے تو اس کو کوئی بھی دفع نہیں کرسکتا بات وہ نہیں ہے جو بطور معذرت پیش کر رہے ہو اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی سب خبر ہے تم تو یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھی اہل ایمان جو سفر میں جا رہے ہیں یہ کبھی بھی واپس نہیں آئیں گے دشمن ان کو بالکل ختم کردیں گے یہ بات تمہارے لیے شیطان نے مزین کردی اور تمہارے دلوں میں بیٹھ گئی اور تم نے برا خیال کرلیا کہ یہ لوگ ہلاکت کی راہ پر جا رہے ہیں اگر کسی کے جانے کا ارادہ بھی تھا تو تم نے اسے یہ کہہ کر روک دیا کہ کہاں جا رہے ذرا انتظار کرو دیکھو ان کا کیا ہوتا ہے ؟ ﴿وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا 0012﴾ اور تم اپنے اس گمان کی وجہ سے اور ساتھ نہ جانے کی وجہ سے بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ (معالم التنزیل) قولہ تعالیٰ وکنتم قوما بورا قال صاحب الروح ای ھالکین لفساد عقیدتکم وسوء نیتکم مستوجبین سخطہ تعالیٰ و عقابہ جل شانہٗ وقیل ای فاسدین فی انفسکم وقلوبکم ونیاتکم، ا ھ یقال قوم ” بور “ ھل کی وھو جمع بائر مثل حائل وحول وقدبار فلان ای ھلک وابارہ اللّٰہ ای اھل کہ ومنہ قولہ تعالیٰ تجارة لن تبور وقولہ تعالیٰ واحلوا قومھم دار البوار (راجع مفردات الراغب و تفسیر القرطبی) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں ﴿ قَوْمًۢا بُوْرًا ﴾ کا مطلب ہے تم ہلاک ہونے والے تھے اپنے عقیدے کے فاسد ہونے اور اپنی نیتوں کے بد ہونے کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عتاب کے مستحق تھے بعض نے کہا تم اپنے نفسوں اور دلوں میں فاسد تھے، کہا جاتا ہے ” قوم بور “ یعنی ہلاک شدہ بور جمع ہے بائر کی جیسے حائل کی جمع حول ہے بار فُلانٌ کا معنی ہے ہلاک ہوگیا اور ابارہ اللہ کا معنی ہے اللہ اسے ہلاک کرے اور اسی سے ہے اللہ تعالیٰ کا قول ﴿تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ0029﴾ اور ﴿ وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ0028﴾
Ayah 48:13

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو ہم نے کافروں کے لیے دوزخ تیار کر رکھا ہے،

اس کے بعد کافروں کے لیے وعید بیان فرمائی ﴿ وَ مَنْ لَّمْ يُؤْمِنْۢ باللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ سَعِيْرًا 0013﴾ (اور جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے سو ہم نے کافروں کے لیے دوزخ تیار کیا ہے۔ )
Ayah 48:14

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے ہے ملک آسمانوں کا اور زمین کا، وہ بخش دے جسے چاہے، اور عذاب دے جسے چاہے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی شان مالکیت اور مغفرت اور مواخذہ کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ 1ؕ﴾ (اور اللہ ہی کے لیے ہے ملک آسمانوں کا اور زمین کا) ﴿ يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ 1ؕ ﴾ (وہ مغفرت فرمائے جس کی چاہے اور عذاب دے جس کو چاہے) ﴿ وَ كَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 0014﴾ (اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے) جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کی اور کفر پر جمے رہے اور جھوٹے منہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے استغفار کیجیے اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ مغفرت فرما دے گا کافر کی توبہ بغیر ایمان کے قبول نہیں ہوتی۔
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

جب تم اموال غنیمت لینے کے لیے چلو گے تو وہ لوگ کہیں گے جو پیچھے ڈال دئیے گئے کہ ہمیں چھوڑ دو تمہارے پیچھے چلیں، وہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں، آپ فرما دیجیے کہ تم ہرگز ہمارے پیچھے نہ چلو، اللہ نے پہلے سے یہی فرمایا ہے، سو وہ لوگ کہیں گے بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو، بلکہ بات یہ ہے کہ وہ نہیں سمجھتے مگر تھوڑا سا۔

جو لوگ حدیبیہ والے سفر میں ساتھ نہ گئے تھے ان کی مزید بدحالی کا بیان ! صلح حدیبیہ کے بعد تھوڑی ہی سی مدت کے بعد خیبر فتح ہوگیا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ عنقریب شرکاء حدیبیہ کو اموال غنیمت ملیں گے رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے اموال غنیمت شرکاء حدیبیہ کے لیے مخصوص فرما دئیے تھے تاکہ اموال کی محرومی کی تلافی ہوجائے جو انہیں اہل مکہ سے جنگ کرکے بطور غنیمت حاصل ہوسکتے تھے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے پہلے سے خبر دی کہ جب تم لوگ مغانم خیبر کے لیے چلو گے یعنی جنگ خیبر کے لیے روانہ ہونے لگو گے جس کا نتیجہ فتح اور اموال غنیمت حاصل ہونے کی صورت میں کچھ قتال ظاہر ہوگا تو یہ لوگ جو صلح حدیبیہ کی شرکت سے قصداً رہ گئے تھے یوں کہیں گے کہ ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں گے کچھ قتال میں حصہ لے لیں گے اور اموال غنیمت میں بھی شریک ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے فرما دیں تم ہرگز ہمارے ساتھ نہ جاؤ گے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ حکم فرما دیا ہے درمیان میں یہ بھی فرمایا ﴿ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ ﴾ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے کہ متخلفین کو ساتھ نہ لیں اس کو بدلنا چاہتے ہیں اور بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ مغانم خیبر جو صرف اہل حدیبیہ کے لیے مخصوص کردئیے گئے تھے اس حکم کو بدلنا چاہتے ہیں۔ چونکہ ان لوگوں کا مقصد مال حاصل کرنا تھا اور یہ سمجھ رہے تھے کہ ذرا سی محنت سے اموال غنیمت حاصل ہوجائیں گے اس لیے سفر خیبر میں ساتھ لگنے کی خواہش ظاہر کر رہے تھے۔ ﴿ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا ﴾ یہ خبر بمعنی النھی ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم لوگ سفر خیبر میں ہرگز ہمارے ساتھ نہ جاؤ گے یعنی ہم تمہیں ساتھ نہ لیں گے۔ پھر فرمایا ﴿ فَسَيَقُوْلُوْنَ۠ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا ﴾ کہ جب تم ان سے یوں کہو گے کہ تم ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے تو یوں کہیں گے کہ اللہ کی طرف سے کوئی حکم نہیں ہے بلکہ تم یہ نہیں چاہتے کہ ہمیں اموال غنیمت میں شریک کرو تمہارا یہ جذبہ اور قول و فعل حسد پر مبنی ہے تم ہم سے حسد کرتے ہو اسی لیے یہ بات کر رہے ہو۔ ﴿بَلْ كَانُوْا لَا يَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا 0015﴾ (اے مسلمانوں بات یہ نہیں ہے کہ تم حسد کر رہے ہو بلکہ بات یہ ہے کہ وہ بس تھوڑی سی سمجھ رکھتے ہیں صرف دنیاوی امور کو سمجھتے ہیں نصرت دین اور فکر آخرت سے ان کے قلوب خالی ہیں۔ ) یہاں یہ جو اشکال پید ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے اموال غنیمت میں سے بعض مہاجرین حبشہ کو بھی اموال عطاء فرمائے تھے پھر اہل حدیبیہ کے استحقاق اور اختصاص کہاں رہا ؟ حضرات مفسرین کرام نے اس کے دو جواب دئیے ہیں اول یہ کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے انہیں خمس یعنی 5؍1 میں سے دیا تھا جس میں مجاہدین غانمین کا حق نہیں ہوتا وہ 5/4 کے مستحق ہوتے ہیں اور دوسرا جواب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے غانمین سے اجازت لے کر ان حضرات کو اپنی صوابدید کے مطابق کچھ مال عطاء فرما دیا۔ (راجع معالم التنزیل 192 ج 4 و روح المعانی ص 101 ج 26)
Ayah 48:16

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

آپ ان دیہاتیوں سے فرمائیے جو پیچھے ڈال دئیے گئے تھے کہ تمہیں ایک ایسی قوم کی طرف بلایا جائے گا جو سخت قوت والے ہوں گے تم ان سے قتال کرو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں گے، سو اگر تم فرمانبرداری کرو گے تو اللہ تمہیں اچھا عوض عطاء فرمائے گا، اور اگر تم نے رو گردانی کی جیسا اس سے پہلے رو گردانی کرچکے ہو تو اللہ تمہیں درد ناک عذاب دے گا۔

حدیبیہ کی شرکت سے بچھڑ جانے والے دیہاتیوں سے مزید خطاب اس آیت میں اللہ جل شانہٗ نے بطور پیشین گوئی ان دیہاتیوں کو بتایا ہے جو حدیبیہ کی شرکت سے پیچھے رہ گئے تھے کہ عنقریب ایسی قوم سے جنگ کرنے کے لیے تمہیں بلایا جائے گا جو بڑی قوت والے ہوں گے سخت جنگجو ہوں گے (خیبر کی جنگ میں تمہیں نہ لے جایا گیا جو حدیبیہ میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے تمہارے لیے ایک قسم کی سزا ہے) جنگ لڑنے کے اور بھی مواقع آئیں گے آنے والی قوموں سے تم لڑتے رہو گے یا وہ فرمانبردار ہوجائیں گے جب تمہیں ان سے مقابلہ اور مقاتلہ کے لیے بلایا جائے گا تو اس اطاعت کرو گے (یعنی دعوت دینے والے امیر کی فرمانبرداری کرو گے) اللہ تعالیٰ تمہیں اجر حسن یعنی نیک عوض عطاء فرما دے گا اور اگر تم نے اس وقت رو گردانی کی جہاد سے پشت پھیری جیسا کہ حدیبیہ کے موقع پر پیچھے رہ چکے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں درد ناک عذاب دے گا۔ جن مواقع میں اعراب مذکورین کو قتال کے لیے دعوت دی گئی یہ مواقع کب پیش آئے اور جس قوم سے جنگ کرنے کے لیے حکم دیا گیا وہ کون سی قوم تھی ؟ اس بارے میں حضرت رافع بن خدیج ؓ نے فرمایا کہ ہم اس آیت کو پڑھتے تو تھے لیکن یہ پتہ نہ تھا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں جب قبیلہ بنوحنیفہ سے جنگ کرنے کے لیے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے دعوت دی تو سمجھ میں آگیا کہ آیت کا مصداق یہی بنو حنیفہ سے جنگ کرنا ہے بنو حنیفہ یمامہ کے رہنے والے تھے اور مسیلمہ بن کذاب کے ساتھی تھی جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس قوم سے فارس اور روم مراد ہیں جن سے جنگ کرنے کے لیے حضرت عمر ؓ نے دعوت دی تھی اور لشکر بھیجے تھے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ بنی ہوازن مراد ہیں جن سے غزوہ حنین میں جہاد ہوا اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے رومی کفار مراد ہیں جن کے حملہ کرنے کی خبر سن کر رسول اللہ ﷺ تبوک تشریف لے گئے تھے۔ صاحب روح المعانی نے یہ اقوال لکھے ہیں ان میں سے حضرت ابوبکر ؓ کی دعوت مراد ہونا اقرب ہے کیونکہ انہوں نے جو قتال بنو حنیفہ کے لیے دعوت دی تھی وہ امیر المومنین ہونے کی حیثیت سے تھی اور امیر المومنین کی اطاعت نہ کرنے پر عذاب کی وعید دی گئی ہے اور ساتھ ہی ﴿ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ ﴾ بھی اس پر صادق آتا ہے کیونکہ مسیلمہ بن کذاب کے ساتھیوں سے جنگ ہوئی تو اس کے ساتھیوں میں سے بہت سوں نے اسلام بھی قبول کرلیا تھا۔ وھذا علی ان تکون لفظة او للتنویع والحصر کما ھو الظاھر (اور یہ اس وقت ہے جبکہ لفظ اَوْ تنویع کے لیے ہو اور حصر کے لیے ہو جیسا کہ ظاہر ہے) قبیلہ بنی ہوازن سے جنگ کرنے کے لیے مدینہ منورہ میں دعوت نہیں دی گئی فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ حنین تشریف لے گئے تھے جہاں بنی ہوازن مقابلہ کے لیے جمع ہوئے تھے اور غزوہ تبوک کی شرکت بھی مراد نہیں لی جاسکتی کیونکہ وہاں قتال نہیں ہوا اور نہ رومی مسلمان ہوئے۔ کیونکہ وہ سامنے ہی نہیں آئے اور حضرت عمر ؓ نے جو فارس اور روم کے جہادوں کے لیے دعوت دی تھی چونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں کہ وہ جہاد فرض عین تھا۔ اس لیے اس کو ترک وعید کا مصداق نہیں بنایا جاسکتا امیر کا جو حکم جہاد فرض کفایہ کے لیے ہو وہ ایجابی نہیں ہوتا یاد رہے کہ ﴿ اَوْ يُسْلِمُوْنَ ﴾ کا ایک ترجمہ تو یہ کیا گیا ہے کہ وہ اسلام قبول کرلیں گے اور ایک ترجمہ یہ ہے کہ وہ فرمانبردار ہوجائیں گے۔ یعنی جزیہ دے کر جھک جائیں گے اگر قتال بنی حنیفہ مراد لیا جائے تو پہلا معنی اقرب الی السیاق ہے کیونکہ حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں بنی حنیفہ کے قتال کے تذکرے کے بعد لکھا ہے کہ بنی حنیفہ میں سے دس گیارہ ہزار آدمی مارے گئے اور بہت سوں نے حضرت خالد بن ولید ؓ کے دعوت دینے پر اسلام قبول کرلیا اور یہ لوگ حضرت ابوبکر ؓ کی خدمت میں بھی حاضر ہوگئے۔ (البدایہ والنھایہ ص 365 ج 6) واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المرجع والماب۔
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

نابینا پر کوئی گناہ نہیں، اور لنگڑے پر کوئی گناہ نہیں، بیمار پر کوئی گناہ نہیں، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے وہ اسے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور جو شخص رو گردانی کرے وہ اسے درد ناک عذاب دے گا

معذوروں سے کوئی مواخذہ نہیں، فرمانبرداروں کے لیے جنت اور رو گردانی کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب ہے تفسیر قرطبی میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب آیت کریمہ ﴿ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِّنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا 0016﴾ نازل ہوئی جس میں حکم جہاد سن کر رو گردانی کرنے والوں کے لیے عذاب کی وعید ہے تو جو لوگ اپاہج قسم کے تھے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہمارا کیا بنے گا ہم تو جہاد میں شرکت نہیں کرسکتے اس پر آیت کریمہ ﴿لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى ﴾ (آخر تک) نازل ہوئی جس میں یہ بتادیا کہ جو لوگ مجبوری کی وجہ سے جہاد میں نہ جاسکے مثلاً نابینا ہوں یا لنگڑے ہوں یا بیمار ہوں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہے یہ مضمون سورة التوبہ میں بھی گزرا ہے وہاں فرمایا ﴿ لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ﴾ (دیکھو انوار البیان جلد دوم) اس کے بعد ایک قاعدہ کلیہ فرما دیا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرے گا اللہ اسے جنت میں داخل فرما دے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ سے رو گردانی کرے گا یعنی ہٹے گا اور بچے گا اللہ تعالیٰ اسے درد ناک عذاب دے گا۔
Ayahs 48:18–20

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

بالتحقیق اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے راضی ہوا جبکہ وہ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے، سو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا اللہ کو معلوم تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر اطمینان نازل فرما دیا اور ان کو لگتے ہاتھ ایک فتح دے دی

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتیں بھی جن کو یہ لوگ لے رہے ہیں، اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑا حکمت والا ہے،

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی غنیتموں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کو تم لوگ لو گے، سو سردست تم کو یہ دے دی ہے اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دئیے، اور تاکہ یہ اہل ایمان کے لیے نمونہ ہوجائے، اور تاکہ تم کو ایک سیدھی راہ پر ڈال دے

بیعت رضوان والوں کی فضیلت، ان سے فتح و نصرت اور اموال غنیمت کا وعدہ ان آیات میں بیعت رضوان کا ذکر ہے حضرات صحابہ کرام ؓ سے رسول اللہ ﷺ نے اس بات پر بیعت لی تھی کہ جنگ ہونے کی صورت میں ہم ہر طرح سے آپ کا ساتھ دیں گے پیچھے نہیں ہٹیں گے جم کر لڑیں گے اللہ جل شانہٗ نے اعلان فرما دیا کہ جن مومنین نے درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے یہ بہت بڑی سعادت ہے کہ ان حضرات کے لیے اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا تمغہ مل گیا رہتی دنیا تک کے لیے قرآن پڑھنے والے تمام اشخاص و افراد کے سامنے بار بار اعلان سامنے آتا رہے گا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام بیعت کرنے والوں سے راضی ہے حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انشاء اللہ دوزخ میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی داخل نہ ہوگا جنہوں نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ رضا مندی کا اعلان فرماتے ہوئے ﴿فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ ﴾ بھی فرمایا کہ اللہ نے ان کے اخلاص کی حالت کو جان لیا جس سے ان کے قلوب معمور تھے پھر اپنی مزید نعمت کا اظہار فرمایا ﴿ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ ﴾ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر سکینت نازل فرما دی ان کے قلوب کو پوری طرح اطمینان ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ مصالحت کی ہے اور قریش مکہ سے جو معاہدہ فرمایا ہے یہ بالکل صحیح ہے درست ہے اہل ایمان کے لیے باعث خیر ہے اور مبارک ہے پھر فتح قریب کی بشارت دی، مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ اس سے خیبر کی فتح مراد ہے۔ 6 ھ میں صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا اور اس کے دو ماہ بعد خیبر فتح ہوگیا جہاں یہود بنی نضیر مدینہ منورہ سے جلاوطن کیے جانے کے بعد آباد ہوگئے تھے وہاں بھی انہوں نے شرارتیں جاری رکھیں لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ کو لے کر تشریف لے گئے خیبر فتح ہوگیا اور یہود کے اموال بھی غنیمت کی صورت میں حضرات صحابہ ؓ کو مل گئے۔ اس مضمون کے ختم پر ﴿ وَ كَان اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا 0019﴾ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ غلبہ والا ہے وہ سب پر غالب ہے وہ جس کو چاہتا ہے غلبہ دیتا ہے اور حکمت والا بھی ہے (اس کا ہر فیصلہ جلدی ہو یا دیر سے ہو سب کچھ حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ ) اس کے بعد فرمایا ﴿ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا ﴾ (اللہ نے تم سے بہت سے اموال غنیمت کا وعدہ فرمایا ہے) ﴿فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ ﴾ (سو یہ اموال غنیمت جو تمہیں خیبر سے ملے ان کو جلدی عطا فرما دیا۔ اور ان کے علاوہ اور بہت سے مال غنیمت ملیں گے) ﴿وَ كَفَّ اَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ ﴾ (اور لوگوں کے ہاتھوں کو تمہاری جانب سے روک دیا یعنی جن لوگوں نے تم پر حملہ کا ارادہ کیا تھا ان کی دست درازی سے تمہیں محفوظ فرما دیا جب رسول اللہ ﷺ خیبر تشریف لے گئے اور وہاں اہل خیبر کا محاصرہ فرمایا تو یہاں قبیلہ بنی اسد اور قبیلہ بنی غطفان کے لوگوں نے مشورہ کیا کہ اس وقت مدینہ منورہ میں مسلمان تھوڑے سے ہیں اکثر غزوہ خیبر کے لیے گئے ہیں لہٰذا مدینہ منورہ پر حملہ کرکے مسلمانوں کے اہل و عیال اور بال بچوں کو لوٹ لیا جائے اللہ تعالیٰ نے ان کے ارادہ کو ارادہ تک ہی رکھا ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا جس کی وجہ سے مدینہ پر چڑھائی کرنے کیلئے نہ آسکے۔ (معالم التنزیل) روح المعانی 109 ج 26 میں یوں لکھا ہے کہ یہودی لوگ مسلمانوں کے پیچھے ان کے اہل و عیال پر حملہ کرنے والے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں باز رکھا اور ارادہ کے باوجود حملہ نہ کرسکے ایک قول یہ بھی ہے کہ بنی اسد اور بنی غطفان اہل خیبر کی مدد کے لیے نکلے تھے پھر واپس ہوگئے اور حضرت مجاہد تابعی (رح) نے ﴿ وَ كَفَّ اَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ ﴾ کا مطلب یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے صلح کی صورت پیدا فرما کر اہل مکہ کے ہاتھوں کو روک لیا جو اہل ایمان سے جنگ کرنے کے لیے تیار تھے۔ ﴿وَ لِتَكُوْنَ اٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ اموال غنیمت عطاء فرما دئیے کہ تم اس سے نفع حاصل کرو اور تاکہ یہ اموال مومنین کی اس بات کی نشانی بن جائیں کہ واقعی اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے ساتھ ہے اور اس سے ایمان مزید موکد ہوجائے۔ ﴿وَ يَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًاۙ0020﴾ اور تاکہ تمہیں صراط مستقیم پر چلائے یعنی ہمیشہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والا بنا دے قال فی الروح ای فعجل لکم ھذہ وکف ایدی الناس عنکم لتنتفعوا بذلک ولتکون آیة (وفیہ ایضا) والآیة الامارة ای ولتکون امارة للمومنین یعرفون بھا انھم من اللّٰہ تعالیٰ بمکان او یعرفون بھا صدق الرسول فی وعدہ ایھم فتح خیبر وما ذکر من المغانم وفتح مكة ودخول المسجد الحرام (روح المعانی میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ جلدی دیدی اور لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے روک لیا تاکہ تم اس صورت حال سے نفع حاصل کرو اور یہ نشانی بنے اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ آیۃ کہتے ہیں اَمَارۃ کو یعنی یہ مومنین کے لیے نشانی ہے اس سے انہیں پتہ چلتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایک مقام پر فائز ہیں اور اس سے معلوم ہوا ہے کہ فتح خیبر غنیمت اور فتح مکہ اور مسجد حرام میں داخلہ کے بارے میں حضور ﷺ کا ان سے وعدہ سچا تھا۔ ) ﴿وَ يَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًاۙ0020﴾ (یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے صحیح راہنما ہے اور ہر کام کے کرنے یا چھوڑنے میں اسی پر ہی اعتماد ہے۔ )