Ayah 48:1اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کو ایک شاندار فتح عطا فرما دی ہے
1 ؎ اس فتح سے کونسی فتح مراد ہے ؟ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد فتح خیبر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے اور سب کے حالات ، واقعات اکٹھے کیے جائیں تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد آخری فتح یعنی ” صلح حدیبیہ “ ہی کا نام صادق آتا ہے۔ چننچہ صحیح بخاری میں ہے کہ : (قال شعبۃ سمعت قتادۃ عن انس انا فتحنالک فتحاً مبیناً قال الحدیبیۃٌ ) ” شعبہ نے کہا میں نے قتادہ سے سنا انہوں نے انس ؓ سے وہ کہتے تھے (انا فتحنالک فتحاً مبیناً ) سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ “ (بخاری کتاب التفسیرپارہ 20) تفسیر ابن کثیر میں ابن مسعود ، جابر اور برا بن عازب ؓ کے اقوال نقل کیے گئے ہیں جن کے الفاظ تقریباً ایک ہی جیسے ہیں (انکم تعدون الفتح مکۃ و نحن نعد صلح الحدیبیۃ) ” تم فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور ہم صلح حدیبیہ کو فتح سمجھتے ہیں۔ “
صلح حدیبیہ کیا ہے ؟ اس کے تفصیلی واقعات اور شرائط و نتائج
نبی اعظم و آخر ﷺ نے جب سے مکہ کو چھوڑا تھا یعنی ہجرت کی تھی تو مکہ کے لوگوں نے مسلمانوں کو حج وعمرہ جیسی عبادت سے روک دیا تھا اور پابندی عائد کردی تھی کہ کوئی مسلمان حج وعمرہ میں شریک نہیں ہو سکتا۔ اس پابندی کو پانچ چھ سال کا عرصہ گزر رہا تھا اور اب مسلمانوں کی طاقت و قوت کا اندازہ تقریباً تمام ہی عرب کو ہوچکا تھا لیکن اس کے باوجود مکہ والوں نے اس پابندی کو اٹھانے سے انکار کردیا تھا۔ ہجرت کا چھٹا سال آیا تو نبی اعظم و آخر ﷺ کو مدینہ میں ایک خواب دکھایا گیا جس کا ذکر اس سورة کی آیت 27 میں آ رہا ہے۔ خواب کیا تھا ؟ یہ کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ نے بیت اللہ کی چابی حاصل کی اور صحابہ سمیت بیت اللہ کا طواف اور عمرہ کیا پھر کچھ لوگوں نے بال کٹوائے یعنی منڈوائے اور کچھ لوگوں نے کتروائے۔ آپ ﷺ نے یہ خواب صحابہ ؓ کو سنایا تو سب کو بہت مسرت ہوئی اور وہ سمجھ گئے کہ اب ہمارا مکہ میں داخلہ یقینا قریب آگیا اور ظاہر ہے کہ اس کی تعبیر یہی ہو سکتی تھی اس لیے اپنی جگہ صحابہ ؓ کی اکثریت اندر اندر تیاری میں مصروف تھی۔ آپ ﷺ نے بھی تیاریاں شروع کردیں جن کی وضاحت اس طرح ہے کہ آپ ﷺ نے مدینہ کے اردگرد لوگوں میں اعلان کرا دیا کہ لوگ ہمارے ساتھ روانا ہونا چاہیں تو ضرور روانہ ہوں اس پر کوئی پابندی نہیں بلکہ صدائے عام ہے دیہات کے لوگوں نے تو بہرحال تاخیر کی لیکن آپ ﷺ نے ابن مکتوم ؓ اور بعض روایات کے مطابق نمیلہ لیثی ؓ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا اور اپنی خاص اونٹنی قصوا پر سوار ہو کر نکلے۔ آپ ﷺ کے نکلنے کے دن کے متعلق تحقیق کرنے والوں نے لکھا ہے کہ یکم ذیقعدہ دو شنبہ کا دن تھا اور چودہ پندرہ سو صحابہ ؓ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھے۔ امہات المومنین میں سے ام المومنین ام سلمہ ؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھیں۔
مکہ مکرمہ سے ایک منزل کے فاصلہ پر ایک کنواں ہے جس کو حدیبیہ کہتے ہیں اور اس جگہ ایک گاؤں بھی اسی نام سے معروف ہے چونکہ آپ ﷺ وہاں تک پہنچ گئے اور معاہدئہ صلح بھی اسی جگہ تحریر ہوا اس لیے اس کو صلح حدیبیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ تاریخ اسلام میں یہ معاہدہ نہایت اہم اور اسلام کی آئندہ کامیابیوں کا دیباچہ ثابت ہوا اس بنا پر باوجود اس کے کہ وہ ایک صلح کا معاہدہ تھا اور صلح بھی بظاہر لوگوں کی نگاہ میں مغلوبانہ تھی تاہم اللہ تعالیٰ نے اس کو فتح کا لقب دیا اور پھر حالات نے ثابت کردیا کہ جو قرآن کریم نے کہا وہ سچ کہا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی بات حرف بحرف پوری ہوئی۔ کعبہ اسلام کا اصل مرکز تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو مسلمانوں کا قبلہ بنا کر اور ان کو بتا کر دنیا میں سب سے پہلے کی یہی عبادت گاہ ہے اشارہ کردیا تھا کہ تمہارا مرکز تم کو واپس ملے گا۔ اس کی بنیادیں بھی ابراہیم (علیہ السلام) نے اٹھائیں اور آپ کے ساتھ اسماعیل (علیہ السلام) بھی اس کام میں شریک تھے اور اسلام کا نام بھی انہی کی یادگار تھا۔ امتداد زمانہ سے اگرچہ ان کی اولاد بت پرست ہوچکی تھی تاہم کعبہ جو ابراہیم (علیہ السلام) کی یادگار تھا عرب کا مرکز سمجھا جاتا تھا اور سارے ابراہیمی اس کو اپنا مشترک ورثہ سمجھتے تھے۔ اس کی تعظیم میں صرف وہ لوگ جو ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد تھے وہی شریک نہ تھے بلکہ سارا عرب شریک تھا۔ مسلمانوں کے دلوں میں کعبہ کی محبت بدستور قائم تھی بلکہ جب سے وہ قبلہ قرار پایا تھا اس کے لیے تڑپ رہے تھے اور ظاہر ہے کہ یہی مہاجرین کا اصل وطن بھی تھا اور وطن کی محبت بھی ان کے دلوں میں برابر موج زن تھی وہ صحابہ کرام ؓ جو مکہ میں بہت ستائے گئے تھے باوجود ستائے جانے کے وطن کی محبت ان کو بھی بےچین کردیتی تھی۔ بلال ؓ کے ساتھ جو کچھ مکہ میں کیا گیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور خود بلال ؓ کو وہ کب بھولا ہوگا لیکن اس کے باوجود وہ مکہ کو یاد کرتے اور روتے تھے چناچہ صحیح بخاری میں بھی اس کا ذکر موجود ہے بلکہ مکہ کی یاد میں جو شعر وہ پڑھتے تھے وہ بھی بخاری میں موجود ہیں۔ (باب مقدم النبی ﷺ و اصحاب المدیۃ)
الا لیت شعری ھل ابتین لیلۃ
بواد دخولی اذخر و جلیل
وھل اردن یوما میاہ مجنَّۃ
وھل یبدون لی شامۃ و طفیل
” خبردار ! کیا پھر کبھی وہ دن آسکتا ہے کہ میں مکہ کی وادی میں ایک رات بسر کروں اور میرے پاس اذخر اور جلیل ہوں۔ اور کیا وہ دن بھی ہوگا کہ مجنۃ کے چشموں پر اتروں اور شامہ و طفیل مجھ کو دکھائی دیں۔ “
پھر یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ اکثر مہاجرین تو جانیں بچاکر مکہ سے نکل آئے تھے اور ان کے بال بچے اور اہل و عیال ابھی تک وہیں موجود تھے اور ان کی یاد بھی ایک فطری چیز ہے جس سے کوئی انسان بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔ اس لیے سب مہاجرین اور اکثر انصار بھی چاہتے تھے کہ بیت اللہ کی زیارت کریں اس لیے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ چودہ پندرہ سو آدمیوں کی تعداد تھی کہ آپ ﷺ مدینہ سے نکلے۔ مقام ذوالحلیفہ پہنچ کر آپ ﷺ نے اور آپ ﷺ کے ساتھ سارے لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور جو جانور قربانی کے ساتھ لے گئے تھے ان کے گلے میں بطور علامت قلادہ پہنائے گئے تاکہ سب دیکھنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ قافلہ عمرہ کے لیے مکہ جارہا ہے جیسا کہ اس کا رواج عربوں میں موجود تھا۔
نبی اعظم و آخر ﷺ نے قبیلہ خزاعہ کے ایک آدمی کو قریش کے ہاں روانہ کیا
مزید احتیاط کے لیے آپ ﷺ نے قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص جس کے اسلام قبول کرنے کا حال قریش کو معلوم نہ تھا پہلے بھیج دیا گیا کہ وہ قریش کے ارادوں کی خبر لائے قافلہ عسفان کے قریب پہنچا تو اس نے آ کر خبر دی کہ قریش نے تمام قبائل کو یکجا کر کے کہہ دیا ہے کہ محمد ﷺ مکہ میں کبھی نہیں آسکتے غرض یہ بھی کہ قریش نے بڑے زور و شور سے مقابلہ کی تیاری شروع کردی ہے اور متحدہ قبائل بھی ایک خاص مقام کی طرف بڑھ رہے ہیں اور خالد بن ولید دو سو سواروں کو ساتھ لیکر جن میں ابوجہل کا بیٹا عکرمہ بھی موجود ہے مقدمۃ الجیش کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے اور وہ غمیم تک پہنچ گیا ہے اس لیے تم لوگ وہاں کترا کر داہنی طرف سے چلو اور اس طرح جب افواج اسلام غمیم کے قریب پہنچ گئیں تو خالد کے قافلہ کے گھوڑوں کی گرد اڑتی نظر آئی۔ وہ گھوڑا اڑاتے ہوئے گئے اور قریش کو خبر دی کہ لشکر اسلام غمیم تک پہنچ گیا ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ آگے بڑھے اور حدیبیہ میں پہنچ کر وہاں ٹھہر گئے۔ حدیبیہ کے کنویں میں پانی کی قلت تھی لیکن کچھ دیر رکنے کے بعد کنویں میں پانی جمع ہوگیا اور وہ اس قدر تھا کہ قافلہ کے لوگوں نے ضرورت کے مطابق اس کو استعمال کیا۔ قبیلہ خزاعہ نے اب تک اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن اسلام کے حلیف ضرور تھے اس لیے کفار اور عام طور پر قریش جو منصوبے اسلام کے خلاف بناتے تھے وہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو اس سے مطلع کرتے رہتے تھے اور اس قبیلہ کے رئیس اعظم کا نام بدیل تھا بدیل بن ورقاء کے نام سے موسوم کیے جاتے تھے آپ ﷺ کے آنے کی خبر جب ان کو ہوئی تو وہ چند آدمیوں کو ساتھ لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ قریش کی فوجوں کا سیلاب آگے بڑھ رہا ہے اور وہ آپ ﷺ کو کعبہ میں نہ جانے دیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قریش سے جا کر کہہ دو کہ ہم عمرہ کی غرض سے آئے ہیں اور ہمارا مقصد لڑائی نہیں ہے اور یہ بھی کہ قریش کی حالت جنگ نے پہلے ہی زار کردی ہے اور ان کو سخت نقصان پہنچا ہے ان کے لیے یہ بہتر ہے کہ ایک مدت کے لیے وہ ہم سے امن کا معاہدہ کرلیں اور مجھ کو عرب کے ہاتھ میں چھوڑ دیں اور اگر اس پر وہ راضی نہ ہوں تو اس ربِّ ذوالجلال والا کرام کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہاں تک لڑوں گا کہ میری گردن میرے جسم سے الگ ہوجائے اور اللہ ربِّ کریم کو جو فیصلہ کرنا ہے وہ کر دے۔
بدیل خزاعی نے نبی اعظم و آخر ﷺ کا پیغام پہنچایا قریش کا ایلچی آپ ﷺ کے دربار میں پہنچا
بدیل نے جا کر قریش کو یہ بات کہہ دی کہ میں محمد ﷺ کی طرف سے ایک پیغام لے کر آیا ہوں اگر تم اجازت دو تو میں کہہ دوں چند شریروں نے نفی کی لیکن سنجیدہ لوگوں نے بات کرنے کی اجازت دی بدیل نے آپ ﷺ کا پیغام من و عن پہنچا دیا۔ عروہ بن مسعود ثقفی نے اٹھ کر کہا اے قریش کے لوگو ! کیا میں تمہارا باپ نہیں یا یہ کہا کیا تم میرے بچے نہیں۔ قریش نے کہا ہاں ! کیوں نہیں۔ عروہ نے کہا کیا میری نسبت تم کو کوئی بدگمانی ہے ؟ سب نے کہا کہ نہیں۔ پھر عروہ نے کہا اگر تم مجھ کو اجازت دو تو میں خود جاکر محمد ﷺ سے بات کروں اور جو بات طے ہو وہ تم کو بتاؤں اس لیے کہ جو کچھ محمد ﷺ کی طرف سے پیغام ہے وہ پیغام معقول ہے۔ عروہ بن مسعود ثقفی آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور قریش کا پیغام سنایا اور آپ ﷺ سے کہا کہ آپ فرض کریں کہ آپ نے قریش کا استیصال کرلیا تو کیا اس کی اور بھی کوئی مثال ہے کہ کسی نے اپنی قوم کو خود برباد کردیا ہے اور اگر لڑائی کا رخ بدلا تو تمہارے ساتھ جو بھیڑ ہے وہ گرد کی طرح اُڑ جائے گی۔ اس گفتگو میں ابوبکر صدیق ؓ بھی تھے وہ اس کی بات سن کر برداشت نہ کرسکے اور کچھ سخت سست اس کو سنا دیں۔ عروہ نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابوبکر۔ عروہ نے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن ابوبکر کے خاندان کا مجھ کو بہت لحاظ ہے اس لیے میں اس کی بات کو بھی برداشت کرتا ہوں۔
اس گفتگو میں آپ ﷺ مصروف تھے تو آپ ﷺ کو کھنکار کر تھوکنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ ﷺ کے اٹھنے سے قبل ہی کئی ہاتھ آپ ﷺ کی طرف بڑھے کہ ان ہاتھوں میں پڑا تھا تاکہ آپ ﷺ کا تھوک کپڑا پر حاصل کرلیں اور آپ ﷺ کو اٹھنا نہ پڑے اور پھر جس کے مقدر میں یہ سعادت تھی اس نے اپنے کپڑے میں آپ ﷺ کا تھوک لیا اور اس کپڑے کے دوسرے حصہ سے آپ ﷺ کے ہونٹ بھی صاف کردیئے اور اس بات کو عروہ نے دیکھا تو وہ حیران رہ گیا پھر جب آپ ﷺ کو وضو کروانے کا منظر اس نے دیکھا کہ ہر آدمی کی خواہش ہے کہ پانی میں ڈالوں اور اس معاملہ میں جو ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی صورت اس نے دیکھی تو وہ اور بھی حیران ہوا اور جب قریش مکہ کے پاس واپس گیا تو اس نے ان باتوں کا وہاں ذکر بھی کیا لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس معاملہ نے ایک عجیب بحث پیدا کردی کہ آپ ﷺ کا تھوک صحابہ ؓ نے اپنے مونہوں پر ملا اور آپ ﷺ کے مستعمل پانی کو کسی نے نیچے نہ گرنے دیا بلکہ گرتے وقت پانی کو دوسرے لوگوں نے استعمال کیا اور پھر اس سے آگے بڑھ کر یہ کہ آپ ﷺ کے پیشاب ، پاخانہ اور خون وغیرہ کے پاک ہونے پر بحثیں چھڑ گئیں اور جو کسی کے منہ میں آیا وہ اس نے کہہ دیا اور آج یہی بحثیں اسلام کے نام سے جاری وساری ہیں۔
قریش کے ایلچی نے واپس جا کر قریش کے سامنے آنکھوں دیکھا حال بیان کیا
بہرحال عروہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام ؓ کی حیرت انگیز عقیدت کا جو منظر دیکھا اس نے اس کے دل پر بہت اثر کیا اس نے واپس جاکر قریش سے کہا میں نے قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار دیکھے ہیں یہ عقیدت اور وارفتگی میں نے کہیں نہیں دیکھی محمد ﷺ بات کرتے ہیں تو سناٹا چھا جاتا ہے۔ کوئی شخص آپ ﷺ کی طرف نظر بھر کر نہیں دیکھتا ، وہ وضو کرنا چاہیں تو اس خدمت کے لیے خلقت ٹوٹ پڑتی ہے۔ وہ تھوکنا چاہیں تو خدام اپنے ہاتھوں پہ اس کو لیتے ہیں اور پھر آپ ﷺ کو اپنا ہاتھ منہ تک بھی لے جانے نہیں دیتے بلکہ اپنے ہی ہاتھ میں کپڑے سے آپ ﷺ کا منہ بھی صاف کردیتے ہیں۔ (بخاری کتاب الشروط فی الجہاد و المصالہ مع اہل الحرب و کتابۃ الشروط) میں آپ لوگوں سے یہی کہوں گا کہ تم لوگ محمد ﷺ سے صلح کرلو اور جنگ سے بچنے کی یہی ایک تدبیر ہے۔
جب قریش کے پرجوش اور جنگ جو نوجوانوں نے دیکھا کہ ان کے سربرآوردہ لوگ صلح کے جو یا ہیں تو انہوں نے صلح میں ایک رخنہ اندازی کا پروگرام بنایا اور یہ طے کیا کہ رات کو یہاں سے نکل کر چپکے سے مسلمانوں کے کیمپ میں گھس جائیں اور ایسا ہنگامہ برپاکر دیں کہ جنگ کی آگ بھڑک اٹھے۔ پھر انہوں نے اس منصوبہ پر عملدرآمد کی کوشش بھی کی اور رات کی تاریکی میں ستر اسی آدمی وہاں سے نکل کر جبل تنعیم سے اتر کر مسلمانوں کے لشکر کی طرف بڑھے لیکن لشکر اسلام کے پہرے داروں نے ان کو اس سازش میں کامیاب نہ ہونے دیا اور نہایت پھرتی اور چالاکی سے ان کو پکڑ لیا اور گرفتار کے نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کردیا اور اس کا ذکر اس سورت کی آیت 24 میں کیا گیا ہے پھر اس طرح کے ایک دو ناخوشگوار واقعات اور بھی ہوئے جن کو آپ ﷺ نے برداشت کیا اور حالات کو نہایت دلیری کے ساتھ قابو میں رکھا اور جنگ سے بچنے کے لیے ایک نئی کوشش شروع کردی۔
نبی اعظم و آخر ﷺ نے سیدنا عثمان غنی ؓ کو پیغام دے کر پھر روانہ کیا
آپ ﷺ کی نئی کوشش کیا تھی ؟ آپ ﷺ نے قریش کے ان حملہ آور نوجوانوں کو معاف کرتے ہوئے چھوڑ دیا اور اپنی طرف سے اپنے معتمد خاص سیدنا عثمان غنی ؓ کو بطور سفیر قریش کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ قریش پر ایک بار پھر واضح کردیں کہ ہمارا ارادہ لڑائی کا نہیں ہے ہم عمرہ کی نیت سے آئے ہیں ہمیں عمرہ ادا کرنے دو اور مزاحمت نہ کرو۔ سیدنا عثمان غنی ؓ آپ ﷺ کا پیغام لے کر روانہ ہوئے۔ مقام بلدح میں قریش کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پوچنھا کہ کہاں کا ارادہ ہے ؟ فرمایا مجھے نبی کریم ﷺ نے یہ یہ پیغام دے کر روانہ کیا ہے۔ قریش نے کہا ہم نے آپ کی بات سن کر آپ اپنے کام پر جائیے ادھر سعید بن عاص نے اٹھ کر حضرت عثمان ؓ کو مرحبا کہا اور اپنے گھوڑے پر زین کس کر آپ کو سوار کیا اور اپنے ساتھ لے کر اپنی پناہ میں مکہ لے گیا وہاں پہنچ کر حضرت عثمان ؓ نے سربراہانِ قریش کو رسول اللہ ﷺ کا پیغام سنایا اس سے فارغ ہوچکے تو قریش نے پیش کش کی کہ آپ بیت اللہ کا طواف کرلیں لیکن آپ نے اس کو منظور نہیں کیا اور درست نہ سمجھا کہ نبی کریم ﷺ سے پہلے وہ طواف شروع کرلیں۔
سیدنا عثمان غنی ؓ کی شہادت کی افواہ ، بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی
نبی اعظم و آخر ﷺ نے خود حضرت عثمان ؓ کو روانہ کیا تھا مسلمانوں کو آپ ﷺ سے بددل کرنے کے لیے کسی نے ایک نیا شوشہ چھوڑا کہ مکہ والوں نے عثمان ؓ کو قتل کردیا ہے اور یہ افواہ بجلی کی طرح اسلامی لشکر میں پھیل گئی حالانکہ اس کی حقیقت کچھ بھی نہ تھی قریش نے عثمان ؓ کو روکا ہوا تھا تاکہ اتفاق رائے سے کوئی مثبت بات آپ کے ہاتھ بھیجی جائے اس مقصد کے لیے قریش کے سرداروں نے آپس میں بار بار مشورہ کیا تاکہ جو بات وہاں پہنچائی جائے وہ پتھر پر لکیر ثابت ہو اور عثمان ؓ کو ان کے لائے ہوئے پیغام کا واضح جواب دے کر واپس کریں لیکن جب لشکر اسلام میں آپ کی شہادت کی خبر پہنچی تو بےچینی پیدا ہونا یقینی تھا۔ جب آپ ﷺ تک یہ افواہ پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم اس جگہ سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ان لوگوں سے معرکہ آرائی نہ کرلیں اور اس کے بعد آپ ﷺ نے صحابہ کو بیعت کی دعوت دی۔ صحابہ کرام ؓ بیعت کی طرف ٹوٹ پڑے اور یہ بیعت اس بات پر تھی کہ ہم میدان جنگ چھوڑ کر نہیں بھاگیں گے بلکہ اس جگہ لڑتے لڑتے شہید ہوں گے اور لوگوں میں ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیداہو گیا۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ یہ عثمان ؓ کا ہاتھ ہے مطلب یہ تھا کہ اگر عثمان زندہ ہے تو وہ بھی اس میدان میں اس بیعت پر قائم رہے گا لیکن ایک طرف بیعت مکمل ہوئی اور دوسری طرف عثمان ؓ بھی آگئے اور انہوں نے بھی وہاں پہنچ کر بیعت میں حصہ لیا کیونکہ حالات کا ابھی کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ اب کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ چونکہ یہ بیعت ایک درخت کے نیچے لی گئی تھی اس لیے اس کو بیعت الشجرہ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے اور زیادہ تر یہ بیعت بیعت رضوان کے نام سے زیادہ موسوم کی گئی ہے اس کا ذکر اس سورت کی آیت 18 میں آئے گا۔
نبی اعظم و آخر ﷺ کی خدمت میں قریش کا سفیر بھی پہنچ گیا
معلوم ہوتا ہے کہ عثمان ؓ قریش کو صلاح و مشورہ ہی میں چھوڑ کر چلے آئے تھے اور بعد میں قریش کا سفیر نبی اعظم و آخر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کا نام سہیل بن عمرو تھا۔ وہ نہایت فصیح وبلیغ مقرر تھا یہی وجہ ہے کہ اس کی باتیں سن کر لوگوں نے اس کو ” خطیب قریش “ کا لقب دیا۔ (زرقانی ج 2 ص 223) چونکہ قریش نے اس سے کہہ دیا تھا کہ صلح صرف اس بات پر ہو سکتی ہے کہ محمد ﷺ اس سال واپس چلے جائیں۔ سہیل نے آ کر دوسری باتیں پہلے کہیں جن باتوں پر دیر تک بات ہوتی رہی اور آخر الکلام اس نے اور مسلمانوں نے چند باتوں پر اتفاق کیا اور آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ آپ اس معاہدہ کو تحریر کریں۔ علی ؓ نے تحریر کرنے کے لیے ہاتھ چلایا تو عنوان قائم کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا تو اس پر بحث شروع ہوگئی کیونکہ مکہ کے لوگ تحریرات پر ” باسمک اللہم “ کے الفاظ تحریر کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوانا شروع کیا تا اور یہ بات معلوم ہے کہ مکہ کے لوگ { الرحمن } کے لفظ سے بہت الرجک (Allergic) تھے بہرحال بسم اللہ کو چھوڑ کر باسمک اللہم لکھا گیا پھر یہی بحث من محمد الرسول اللہ کے لفظ پر کھڑی ہوگئی۔ آپ ﷺ نے اس کو بھی ترک کردیا اور من محمد بن عبداللہ تحریر پر لکھا گیا جس نے یہ بات واضح کردی کہ اسلام ہر حال میں صلح کا جو یا ہے اور جنگ صرف اس پر مسلط کی جاتی ہے اور جب وہ ناگزیر ہوجاتی ہے تو میدان جنگ سے بھاگنا اس کے نزدیک کفر کی طرف لوٹنا ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں چونکہ آپ ﷺ نے خود رسول اللہ ﷺ پر لکیر کھینچی تھی اور اپنا نام بھی خود تحریر کیا تھا جیسا کہ بخاری شریف میں ہے جو اس بات پر دال ہے کہ نبوت کے بعد آپ ﷺ کو لکھنا اور پڑھنا دونوں آگئے تھے اگرچہ دوسروں سے تحریر کروانا آپ ﷺ کا معمول زندگی رہا تو اس پر ہمارے ہاں ایک معرکہ کھڑا ہوگیا جس نے لوگوں کو یعنی مسلمانوں کو میدان مبارزت میں لے جا کر کھڑا کر دیا لیکن چونکہ اس کی بحث ہم پیچھے عروۃ الوثقی جلد ہفتم سورة العنکبوت کی آیت 48 میں بیان کر آئے ہیں اگر ضرورت ہو تو وہیں سے اس کو دیکھا جاسکتا ہے۔ بہرحال تحریر مکمل کرلی گئی جس سے مسلمانوں کو وہ کامیابی حاصل ہوئی جس کو اللہ تعالیٰ نے اس جگہ ” فتح مبین “ سے تعبیر فرمایا اس صلح نامہ کی جو شرائط تھیں ان میں قابل ذکر یہ ہیں جن پر صلح کا انحصار تھا :
صلح حدیبیہ کی شرائط جو کفار مکہ اور پیغمبر اسلام ﷺ کے درمیان طے پائیں
1۔ مسلمان اس سال مکہ جائے بغیر اور عمرہ ادا کیے بغیر اس میدان سے واپس چلے جائیں گے۔
2۔ آئندہ سال مسلمان عمرہ کریں گے لیکن صرف تین دن قیام مکہ میں ہوگا اور تین دن سے زیادہ نہیں رہیں گے۔
3۔ ہتھیار ساتھ نہیں لائیں گے سوائے تلوار کے۔ تلواریں ساتھ ہوں گی لیکن نیام میں رہیں گی۔
4۔ جو مسلمان مکہ میں رہنا چاہے وہ رہ سکتا ہے لیکن کسی شخص کو مکہ سے مسلمان واپس اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گے۔
5۔ کافروں یا مکہ کے رہنے والے مسلمانوں میں سے کوئی شخص اگر مدینہ گیا تو وہ واپس کردیا جائے گا لیکن اگر کوئی مسلمان مکہ میں رہنا چاہے تو اسے واپس اپنے ساتھ نہیں لے جایا جائے گا۔
6۔ قبائل عرب کو اختیار ہو گا کہ وہ فریقین میں سے جس کے ساتھ چاہیں معاہدہ میں شریک ہوجائیں اور جس کے ساتھ شریک ہوں گے وہ اسی گروہ کے تسلیم کیے جائیں گے۔
جب صلح مکمل ہوچکی تو بنو خزاعہ رسول اللہ ﷺ کے عہد و پیمان میں داخل ہوگئے اور اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ درحقیقت عبدالمطلب کے زمانے ہی سے بنو ہاشم کے حلیف تھے اس لیے عہد و پیمان میں داخلہ درحقیقت اس قدیم حلف کی تاکید اور پختگی تھی اور دوسری طرف بنوبکر قریش کے عہدو پیمان میں داخل ہوگئے۔
سطحی نظر سے دیکھنے والوں کو آج بھی یہی نظر آئے گا کہ مسلمانوں نے نہایت جھک کر اور دب کر یہ صلح کی لیکن کسی بات کی ظاہری حالت کو دیکھ کر فیصلہ کردینا عقلمندی کی دلیل نہیں اس کی حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے اگر صرف چھ سال پیچھے جایا جائے جب خود نبی اعظم و آخر ﷺ نے ہجرت کی تھی اور پھر ان تیرہ سالوں پر ایک نظر دوڑائی جائے جو مسلمانوں نے مکہ می گزارے تھے اور آج اس حالت پر غور کیا جائے کہ وہی مسلمان جو تیرہ سال مکہ میں گزار کر ہجرت پر مجبور ہوگئے تھے اور پھر ہجرت کر جانے کے بعد قریش مکہ نے ان کو ایک دن مدینہ میں آرام و چین سے گزارنے نہ دیا اور دو سال تک تو ان کی ناک میں دم کر رکھا تیسرے سال میدان بدر میں ان کی حیثیت اس قابل ہوئی کہ ان کے وجود کو مشرکین مکہ نے چار و ناچار تسلیم کیا لیکن احد میں مسلمان پھر ایک دفعہ پٹ کر رہ گئے تاہم انہوں نے اپنے ناموس کی حفاظت برقرار رکھی اور ازیں بعد وہ آہستہ آہستہ پَر پرزے نکالنے لگے اور آج بحمد اللہ مکہ کے بالکل قریب پہنچ کر انہوں نے نہ صرف اپنے وجود کو منوایا بلکہ اپنی طاقت و قوت کو قریش کے مقابلہ میں لے آئے اور جو بات آج تک قریش نے تسلیم نہیں کی تھی وہ خود بخود تسلیم کرلی اور مسلمانوں کو آئندہ سال عمرہ کرنے اور دوسرے قبائل کے ساتھ اپنے روابط بڑھانے کا موقع فراہم ہوگیا اور یہ بات ان کو تسلیم ہوگئی کہ مسلمان ہمارے مقابلہ کی ایک طاقت و قوت ہے اور یہ بھی کہ وہ ہمارے ہی خاندان کے افراد ہیں اور ان کو ہمارے برابر آنے کا حق ہے اور مسلمانوں کو اللہ نے موقع دے دیا کہ وہ اپنی طاقت و قوت کو پوری دلجمعی کے ساتھ بحال کریں اور ہر روز کا خطرہ ان کے سروں سے مکمل طور پر ٹل گیا اور اللہ تعالیٰ نے جمع شدہ طاقت کو منتشر ہونے سے بچالیا اور دوسری اقوام عرب کو بھی معلوم ہوگیا کہ اب مسلمان دن دگنی رات چوگنی ترقی کر کی پورے عرب پر اپنی دھاک بٹھا سکیں گے اور مسلمانوں کو جو وقتی تکلیف محسوس ہوئی اس کا مداوا عنقریب ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ٹوٹے ہوئے دلوں کو اس ایک ہی آیت سے جوڑ دیا کہ فتح بہرحال فتح ہے اگرچہ وہ دب کر یا جھک کر حاصل کی جائے اور تم کو معلوم نہ ہو یا تم کو یاد نہ رہے کہ بار آور ہونے کی نشانی ہی یہ ہے کہ بار آور ہونے والا درخت جھک کر اور دب کر زمین بوس ہوجاتا ہے اور اب تم یقین جانو کہ بحمد اللہ تم بار آور ہوچکے ہو اور آنے والے سال میں جب تم اپنے بار آور ہونے کے پھل چنوں گے تو ساری حقیقت تم پر واضح ہوجائے گی اور اس طرح دب کر اور جھک کر فتح حاصل کرنے کا تم کو اس وقت پورا احساس ہوجائے گا جب ساری دب کر اور جھک کر رہنے والے اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنے پاؤں چل کر تمہارا استقبال کریں گے اور تمہاری تعداد اور قوت میں اچانک اتنا اضافہ ہوگا کہ تم کو اس کا سان و گمان بھی نہیں اور اگر جنگ ہوجاتی تو تم چھ سال مزید پیچھے چلے جاتے خواہ تم میدان مبارزت میں کامیاب ہی ہو کر لوٹتے اور پھر کیا ہوا ؟ جو ہوا وہ دنیا نے دیکھا کہ جس کو بڑے بڑے زیرک شکست تصور کرتے تھے وہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کی قرار دی گئی فتح مبین کو فتح سلیم کرنے لگے۔
Ayah 48:2اے پیغمبر اسلام ! اس فتح مبین نے آپ ﷺ کے پہلے اور پچھلے الزامات حرف غلط کی طرح مٹا دیئے
2 ؎ { ذنب } کیا ہے ؟ اس کے متعلق گزشتہ سورة محمد کی آیت 19 میں ہم پوری وضاحت کرچکے ہیں اس لیے وہیں سے دیکھ لیں۔ اس جگہ قابل غور بات یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ کو فتح مبین کی بشارت دینے کے معاً بعد یہ ارشاد فرمایا کہ { لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک و ماتاخر } جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتح مبین کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کے ذہنوں اور دماغوں میں یہ صلح دب کر اور جھک کر کی گئی ہے جب اس کے نتائج ظاہر ہوں گے تو ان سب کو خود بخود تسلیم کرنا پڑے گا کہ فی الواقع صلح حدیبیہ ایک عظیم فتح تھی جس کے فتح ہونے میں کسی طرح کا کوئی شک اور ابہام نہیں رہا۔ لیکن اس وقت جب یہ صلح ہو رہی تھی اور اس کی شرطیں طے ہو رہی تھیں اور پھر اس وقت جب اس صلح نامہ پر دستخط کیے جا رہا تھے بلکہ جب یہ سب کچھ ہوچکا تھا تو بہت کم لوگ تھے جن کے دلوں میں یہ شک و ابہام نہ ہو کہ جس طرح ہم نے دب کر اور جھک کر یہ صلح کی ہے اس قدر دب کر اور جھک کر صلح کرنا ہمارے لیے صحیح نہیں تھا۔ آپ ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ جب سیدنا عمر ؓ جیسے لوگ آپ ﷺ سے یہ سوال کر رہے تھے کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ ﷺ پیغمبر برحق نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ہاں ! ہوں “ پھر عمر ؓ گویا ہوئے کہ کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہاں ! حق پر ہیں۔ “ پھر عمر ؓ نے فرمایا : کہ پھر ہم دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرسکتا ، اللہ میری مدد کرے گا۔ “ حضرت عمر ؓ نے کہا : کیا آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم لوگ کعبہ کا طواف کریں گے ؟ آپ ﷺ نے اس کا جواب دیا کہ ” لیکن میں نے تو نہیں کہا تھا کہ اس سال کریں گے۔ “ (صحیح بخاری کتاب الشروط)
صلح ہوگئی ، شرائط طے ہوگئیں ، فریقین کے دستخط ہوگئے ایک فریق مجلس چھوڑ کر نکل گیا تو آپ ﷺ نے اپنے جانثاروں کو حکم دیا کہ ” اٹھو اور اپنے اپنے جانور قربان کر دو “ پھر کیا ہوا ؟ یہی کہ سب کے سب لوگ خاموش اور گنگ تھے اور ان میں سے ایک بھی نہ اٹھ سکا اور سب پر سکتہ طاری رہا۔ پھر آپ ﷺ خود اٹھے اور اپنے جانور کو خود ذبح کیا اور اپنے حجام کو بلا کر کہا کہ میری حجامت کرو تب کہیں جا کر سب باری باری اور جلدی جلدی اٹھے اور خاموشی کے ساتھ جو جانور قربانی کے تھے وہ قربان کردیئے اور حجامت بنوانے لگے۔ آپ ﷺ نے جب وہ میدان چھوڑا تو سارے قافلہ نے چھوڑ دیا اور واپس مدینہ کو چل پڑے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ان سب لوگوں کے دلوں میں شک اور اباہم نہیں تھا ؟ ضرور تھا۔ کیا شک اور ابہام ہی کو زیر نظر آیت میں (ذنب) نہیں کہا گیا ؟ لاریب یہی وہ (ذنب) تھا جو اپنوں اور خاص لوگوں کی طرف سے لگایا گیا اور جو غیروں کے (ذنب) لگائے گئے تھے وہ تو پہلے ہی ان گنت اور لاتعداد تھے اور اس کی بھی یہی حیثیت تھی جو اس (ذنب) کی تھی اور اسی طرح کے الزامات جو آپ ﷺ پر لگائے گئے تھے ان سب کا ازالہ اس فتح مبین کے نیجہر نے کیا اور زیادہ دیر نہ لگی تھی کہ انہی لوگوں نے اس پر تاسف اور افسوس کا اظہار کیا کہ ہم سے کیا غلطی سرزد ہوئی اور ہم کس گناہ کے مرتکب ہوگئے۔ افسوس کہ ہمارے مفسرین نے اس بات کی طرف دھیان نہ دیا اور نبی اعظم و آخر ﷺ کے لیے گناہ تلاش کرنے لگے اور پھر جب اس طرح بات نہ بنی تو طرح طرح سے اس کی توجیہہ شروع کردی۔ کسی نے فرمایا کہ اس جگہ گناہ سے مراد گناہ صغیرہ ہیں۔ کسی نے فرمایا اس جگہ گناہ سے مراد خلافِ اولیٰ ہیں لیکن حضور ﷺ کی نگاہ عمال میں وہ نہیں جچتے تھے اس لیے آپ ﷺ کے مقام رفیع کے باعث ان کو (ذنب) یعنی گناہ کہا گیا۔ یہ اور اسی طرح کی بعض اور بھی تاویلیں کی گئیں لکن حقیقت کی طرف نگاہ بہت کم لوگوں کی گئی۔ ان جوابات پر غور کرو اور جو بات ہم نے اوپر عرض کی ہے اس کو دیکھو تو ثابت ہوجائے گا کہ ایسے ہی مقامات انبیاء کرام اور رسل عظام کی زندگیوں میں آئے تھے جن سے نبی و رسول اور دوسرے آدمیوں میں امتیاز قائم ہوجاتا تھا کہ نبی و رسول کی زندگی اور دوسرے انسانوں کی زندگیوں میں کتنا بڑا فرق ہوتا تھا اور یہی وہ مقام ہے جہاں جا کر واضح ہوجاتا ہے کہ نبی و رسول کے سوا کوئی شخص بھی معصوم کہلانے کا حقدار نہیں ہوتا خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو۔
زیرنظر آیت کی تفسیر کے ساتھ گزشتہ سورة محمد کی آیت 19 کی تفسیر کو بھی ملا لیں تو ان شاء اللہ بات مزید واضح ہوجائے گی اور حقیقت آپ پر روز روشن کی طرح واضح ہوجائے گی اور پھر جہاں بھی قرآن کریم میں اس طرح کی کوئی نسبت نبی اعظم و آخر ﷺ کی طرف آپ دیکھیں گے تو ان شاء اللہ اس کی لم اور حقیقت تک پہنچ جائیں گے اور کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں رہے گا اور خصوصاً آپ ﷺ پر جو الزامات غیروں کی طرف سے لگائیگئے وہ اس صلح سے پہلے ہی تھے اور اپنوں کی طرف سے جو لگائے گئے اگرچہ وہ وقتی تھے تاہم وہ اس صلح کے بعد ہی کے شمار ہوتے تھے۔ غیروں کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی فہرست اگرچہ بہت طویل ہے اور ان میں بعض بہت ہی خطرناک قسم کے تھے تاہم جن الزامات سے خاص وعام واقف ہیں وہ اس طرح تھے کہ : یہ شخص مفتری ہے ، کاہن ہے ، مجنون ہے ، شاعر ہے ، سحر زدہ ہے اور یہ کہ وہ ساحر ہے ، قوم میں انتشار ڈالنے والا ہے ، جنگ کی آگ بھڑکانے والا ہے ، بزرگوں کا گستاخ ہے ، بےدین اور لامذہب ہے ، اولاد کو ماں باپ سے جدا کرنے والا ہے ، غیروں سے محبت اور اپنوں سے بیر کرنے والا ہے۔ اب ان سارے الزامات کو نگاہ میں رکھیں اور غور کریں کہ اس صلح نے کس طرح ان میں سے ایک ایک الزام کو صاف کردیا اور وہ لوگ جو اس تحریک سے پہلے ” الامین “ اور ” الصادق “ کے الفاظ سے آپ ﷺ کو یاد کرنے والے تھے یہ سارے الزامات لگا کر پھر آپ ﷺ کو پہلے سے بھی زیادہ دل کی حاضری سے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ” الامین “ اور ” الصادق “ کہنے لگے اور اس طرح آپ ﷺ کو ان سارے الزامات سے بری کردیا جو آپ ﷺ کی طرف منسوب کیے جاتے تھے۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
اب ایک بار زیر نظر ساتھ پوری آیت کو ملا کر پڑھیں جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ (ویتم نعمتہ علیک ویہدیک صراطا مستقیما) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر اپنی نعمت کو کس طرح پورا کیا کہ الزام لگانے والوں نے تسلیم کرلیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ فی الحقیقت اللہ کے رسول ہیں نہ تو وہ کاہن ہیں اور نہ ہی شاعر ، مجنون ، مفتری اور کذاب ہیں بلکہ صادق الصدوق ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پیغامات کو لوگوں تک پہنچانے والے ہیں ۔ گویا الزام لگانے والوں نے خود ہی ان الزامات سے آپ ﷺ کو پاک کردیا جو وہ آپ ﷺ پر لگایا کرتے تھے۔
Ayahs 48:3–7اس صورت حال کو ” اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں “ سے تعبیر کیا جاتا ہے
7 ؎ اس سفر پر جانے والوں نے ان لوگوں کی باتوں کی کوئی پروا نہ کی اور گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اس طرح روکنے والوں کے حصہ میں سوائے بددلی کے کچھ نہ آیا۔ مسلمانوں کے چلے جانے کے بعد بھی وہ اپنی زبان کی حرکتوں کو روک نہ سکے اور اپنے شکوک و شبہات کا بدستور اظہار کرتے رہے اور پھر بحمد اللہ سارے مسلمان جب بخیر و خیریت واپس عمرہ کے ثواب و اجر کے ساتھ لوٹ آئے تو اس وقت بھی ان کی حالت دیدنی تھی اور ان کے چہرے ان کی ساری حالت کو واضح کر رہے تھے یہ تو ان کی دنیا کی حالت تھی اور جس طرح انہوں نے اپنی آخرت کو برباد کیا اس کا حال ان کو آخرت میں پہنچ کر معلوم ہوگا۔ اس طرح ان کے حصے میں اگر کالک ہی ہے تو ان کو وہی حاصل ہوئی اور وہی حاصل ہوگی۔ اللہ رب ذوالجلال والا کرام کا انہوں نے کیا نقصان کیا ؟ اور مسلمانوں کو اس طرح کی اذیت دے کر ان کو کیا حاصل ہوا ؟ اللہ تعالیٰ تو بےناز ہے انہوں نے انسان ہو کر اگر اس طرح کی حرکتیں کی ہیں تو ان کی حرکتوں کا وبال بھی انہیں پر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے لیے اتنی مخلوق ہے کہ اس کو کوئی شمار کرنا چاہے تو بھی شمار نہیں کرسکتا اور اللہ تعالیٰ اپنے ہر کام میں غالب آنیوالا ہے اور وہ حکمل کل ہے۔ اس کے سامنے کسی کی حکمت نہیں چل سکتی کوئی سمجھے یا نہ سمجھے بہرحال آسمان پر تھوکنے والا دراصل اپنے ہی منہ پر تھوکتا ہے۔ یہی الفاظ اوپر آیت 4 میں بھی گزر چکے ہیں اس لیے اگر آپ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ مضمون کی رفتار کا اثر الفاظ پر کیا پڑتا ہے ؟
Ayah 48:8اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کو شاہد ، بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے
8 ؎ زیر نظر آیت سورة الاحزاب میں آیت 45 کے طور پر گزر چکی ہے اور ہم نے اس کی وضاحت بھی اسی مقام پر کردی ہے جو عزوۃ الوثقی جلد ہفتم میں موجود ہے۔ آپ ﷺ کے ان اوصاف کے ساتھ مزید اوصاف بھی وہاں بیان کیے گئے ہیں۔ اس جگہ ان کا دوبارہ ذکر فرا کر گزشتہ دو کرداروں کی وضاحت فرما دی ہے کہ آپ ﷺ اے پیغمبر اسلام ! ایک گروہ کے کردار کو بشارت دینے والے اور دوسرے گروہ کیکردار کے لیے نذیر بنا کر بھیجے گئے ہیں اور ان دونوں ہی کرداروں پر آپ کی گواہی نہایت واضح اور غیر مبہم ہوگی۔ ان دونوں پر بھی جو آپ ﷺ کے ساتھ جانے والے اور ساتھ جانے والوں کو روکنے والے اور بددل کرنے والے تھے اور آنے ولاے لوگوں کے کرداروں پر بھی کیونکہ ان لوگوں میں بھی ان دو کرداروں کے لوگ موجود ہوں گیجو اپنی عادات و خصائل سے خود اپنی پہچان ہیں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کی گواہی دونوں کرداروں کے لیے آج بھی موجود ہے اور قیامت تک کے لوگوں کے لیے رہے گی۔ لاریب سچے ایمان لانے والے موجود ہوں گے وہاں ایمان لانے کے دعویٰ کے باوجود منافقت کا کردار ادا کرنے والے بھی قائم رہیں گے اور فطرت دنوں کو نکھار کر پیش کرتی رہے گی اور ان کا حال سب پر روشن ہوگا۔ آج بھی دونوں کردار بدستور موجود ہیں اور دونوں ہی اپنے کردار سے پہچانے جا رہے ہیں اگر چہپہچاننے والوں کی کمی آج بہت ہوچکی ہے اور دوسرے لفظوں میں بشارت والوں کے مقابلہ میں نذارت والوں کا پلا بہت بھاری ہے اور ظاہر ہے کہ اکثریت میں اقلیت کا چھپ جانا ایک فطری چیز ہے۔ پھر جب دور دورہ ہی اکثریت کا ہو تو حالت وہی ہوتی ہے جو اس وقت ہو رہی ہے۔ ہمیں تعجب ہے کہ کتنے ہیں جو اپنے آپ کو عالم فاضل ، پروفیسر ، علامہ اور حضرت العلام جسے خطابات سے نوازتے ہیں اور اپنے ناموں کے ساتھ سابقے اور لاحقے لگا لگا کر اپنی شہرت کرتے ہیں لکین جب ان کی بات کو دیکھا جاتا ہے تو وہ اتنی سطحی ہوتی ہے کہ آدمی کو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ بات کہنے والے وہی صاحب ہیں جو ان خطابات سے نوازے جاتے ہیں۔ زیر نظر آیت سے انہی ناموں کی اکثریت والوں نے نبی کریم ﷺ کو ہر جگہ ، ہر آن اور ہر وقت حاضر و ناظر تسلیم کیا ہے اور بڑا زور دیکر یہ بات کہی ہے کہ آپ ﷺ شاہد ہیں تو شاہد تب ہی ہو سکتے ہیں کہ وہ ہر ایک انسان کے عمل کو دیکھ رہے ہوں خواہ وہ برا کرنے والا ہے یا اچھا کیونکہ آپ ﷺ نیک و بد پر گواہ ہیں اور ہر ایک کے عمل کا مشاہدہ فرما رہے ہیں اور وہ اسی مشاہدہ کی بنا پر قیامت کے روز گواہی دیں گے۔ اگر ان صاحب سے کوئی اتنی بات پوچھ لے کہ پیر صاحب آپ اس ملک عزیز میں جسٹس کی حیثیت سے مانے اور تسلیم کیے جاتے ہیں کیا آپ اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کی گواہی دیتے ہیں یا نہیں ؟ میرے خیال میں وہ کبھی اس سے انکار نہیں کریں گے اور نہ ہی کرسکتے ہیں اس لیے لازماً وہ یہ گواہی دیں گے پھر اگر ان سے کوئی پوچھ لے کہ کیا آپ نے اللہ کو ایک دیکھا ہے ؟ وہ یقینا سوال کرنے والے کو پاگل کہیں گے کیونکہ اللہ کی ذات تو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھی جانے والی چیز نہیں اور نہ ہی وہ دیکھا جاسکتا ہے۔ اچھا تو پھر پیر صاحب کی ہر گواہی جھوٹی گواہی ہے جو وہ بغیر دیکھے دے رہے ہیں۔ یہ تو ایک بات ہے اور ہم سے زیادہ اس طرح باتیں پیر صاحب خود جانتے ہیں اور جن کی گواہی پیر صاحب دیتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم آپ کی گواہی کو صحیح سمجھتے ہیں اور ہم کبھی ان سے ان باتوں پر دیکھ کر گواہی دینے کا مطالبہ نہیں کرتے اس لیے پیر صاحب سے ہماریگ زارش ہے کہ جس طرح یہ ساری شرعی گواہیاں بغیر عینی شاہد ہونے کے دی جاتی ہیں اور بالکل سچ اور صحیح تسلیم ہوتی ہیں اسی طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کی گواہی کو آپ بھی تسلیم کرلیں اور آپ ﷺ نبی اعظم و آخر ہیں ، آپ ﷺ کا احترام اتنا تو کریں جتنا ہم پیر جی ! آپ کا کر رہے ہیں۔ تعجب ہے آپ پر کہ آپ ہم کو گستاخ سمجھتے ہیں اور خود کو فرمانبردار اور احترام کرنے والا گردانتے ہیں جب کہ بات اس کے بالکل برعکس ثابت ہو رہی ہے۔ پیر جی ! آپ اپنے دنیاوی مقام ہی کا خیال کریں اور صرف مکتبہ فکر کی ترجمانی محض چند لوگوں کی داد لنیے کیل یے چھوڑ دیں اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی گواہی جو خالصتاً شرعی گواہی ہے آپ ﷺ کو ہر کام کا عینی شاہد بنانے کے سوا ہی تسلیم کرلیں کیونکہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی گواہی جو خالصتاً شرعی گواہی ہے آپ ﷺ کو ہر کام کا عینی شاہد بنانے کے سوا ہی تسلیم کرلیں کیونکہ نبی اعظم و آخر ﷺ کا احترام اسی میں ہے۔ ہر اچھے اور برے کا عینی گواہ آپ ﷺ کو نہ بنائیں آپ کا بھی بھلا اسی میں ہے اور قوم کا بھی اور یہ بھی کہ آپ امت محمدیہ میں ہیں اور امت محمدیہ کی گواہی دوسری ساری امتوں پر قرآن کریم کی شہادت ہے کیا آپ ﷺ کی ساری امت بشمول آپ کے گزشتوں امتوں کے کاموں پر عینی گواہ تھے۔ ذرا غور کرلیں اور آنے والی آیت کی تفسیر تو آپ کرچکے ذرا اس مفہوم کو سامنے رکھ کر اس کو ایک بار آپ بھی پڑھ لیں کہ یہی بات اللہ رب کریم ارشاد فرما رہا ہے۔ رہا امت محمدیہ کی گواہی کا حال دوسری امتوں پر تو اس کا ذکر سورة البقرہ آیت 143 میں گزر چکا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 48:9تاکہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور آپ ﷺ کی عزت و تعظیم کرو
9 ؎ زیرنظر آیت میں مسلمانوں کو براہ راست خطاب کیا گیا ہے کہ ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کو شاہد ، مبشر اور نذیر بنا کر تمہاری طرف مبعوث کیا ہے کیوں ؟ اس لیے کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ خالق ہے ، رسول اس کی مخلوق ہے اس لیے دونوں کو ایک مقام پر نہ رکھو بلکہ اللہ کو اس کا مقام دو اور رسول ﷺ کو ان کا مقام کیونکہ اسی چیز کو ایمان سے تعبیر کیا جاتا ہے اور دونوں پر ایمان لانا ایک دوسرے کے لیے بھی لازم و ضروری قرار دیا گیا ہے کسی ایک کو مان کر اور دوسرے سے انکار کر کے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا اسی طرح اللہ تعالیٰ کو رسول کے مقام پر لا کر اور رسول کو اللہ کے مقام پر لے جاکر بھی آدمی مومن نہیں ہو سکتا اسی افراط وتفریط سے بچتے ہوئے اللہ رب ذوالجلال والا کرام کو اس کے مقام پر اور محمد رسول اللہ ﷺ کو ان کے مقام پر رکھتے ہوئے اللہ کو اللہ اور محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول ماننا ہے اور پھر اس کا طریقہ بھی بیان فرما دیا کہ رسول اللہ ﷺ کے کام کو تسلیم کرتے ہوئے اس کام میں مدد دینا اور آپ ﷺ کی عزت و توقیر کرنا ، آپ ﷺ پر ایمان لانے کی وضاحت ہے اور اس طرح اللہ رب ذوالجلال والاکرام پر ایمان لانے کی وضاحت فرمائی کہ صبح و شام اس کی تسبیح و تہلیل میں رہنا اللہ پر ایمان لانا ہے۔ اس بات کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے سے تعبیر کیا ہے پچھلے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا حکم تھا اور آگے دونوں پر ایمان لانے کی وضاحت بھی الگ الگ بیان کردی کیونکہ دونوں پر ایک جیسا ایمان لانے کا دعویٰ بذات خود کفر ہے اور یہ اتنا نازک مقام ہے کہ اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو انسان کا سارا کیا کرایا خراب ہوجاتا ہے اور اس کے کسی عمل کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اس بات کا خیال نہ کر کے اور اللہ اور اس کے رسول کو ایک مقام پر لا کر پہلے کئی ایک قومیں ہلاک ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی بجائے اس کی لعنت کی مستحق قرار دی گئی ہیں جن میں عیسائی قوم کا حال آج بھیق رآن کریم میں موجود ہے۔ ان کا تصور کیا تھا ؟ یہی کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایک جیسی حیثیت دے دی اور قرآن کریم نے ان کے اس پیار اور محبت کو ان کا کفر قرار دیا۔
زیر نظر آیت میں حکم دیا جا رہا ہے کہ میرے پیارے رسول ﷺ کی عزت و توقیر کرو اور آپ ﷺ پر سچے دل سے ایمان لاؤ ۔ آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کی نصرت و اعانت میں سر دھڑ کی بازی لگا دو اور یہی آپ ﷺ کی مدد و نصرت ہے اور آپ ﷺ کے پیش کردہ دین کی سربلندی کے لیے جملہ مادی اور مالی وسائل کو پیش کر دو اور اس کے ساتھ آپ ﷺ کے ادب و احترام کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھو اور یہ بھی کہ دین نام ہی اس بات کا ہے کہ اللہ کو اللہ رب ذوالجلال ولا کرام اور رسولکو اللہ کا رسول سمجھو اور دونوں کو ایک نہ بنا دو ۔ پھر سمجھ لو کہ { تعزروہ و توقروہ } ” ہٗ “ کی ضمیر نبی اعظم و آخر محم رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے اور آپ ﷺ کے مقام کی حفاظت کا یہ بہترین طریقہ ہے جو ہم مسلمانوں کو سکھایا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دے کر اس کی تاکید فرما دی ہے جس کا خلاف لاریب کفر ہے کیونکہ آپ ﷺ کی عزت و توقیر اللہ کی عزت و توقیر ہے ، دین اسلم کی عزت و توقیر ہے اور قرآن کریم کی عزت و توقیر ہے۔ بلاشبہ آپ ﷺ اللہ رب کریم کی محبت کا ذریعہ ہیں ، آپ ﷺ کی اتباع و پیروی کر کے ہی آدمی اللہ تعالیٰ کی محبت کا مستحق ہو سکتا ہے۔ ایک سچے مسلمان کا عمل وہی مقبول ہے جو آپ ﷺ کی اتباع و پیروی میں کیا جائے۔ آپ ﷺ نے دین کے کام جس طرح سرانجام دیئے اسی طرح مسلمانوں کو دین کے کام سرانجام دینا ہی آپ ﷺ کی اتباع اور پیروی کہا جاتا ہے جو کام آپ ﷺ کی اتباع اور پیروی سے ہٹ کر کیا گیا وہ دین اسلام کا کام نہیں کہلائے گا خواہ وہ دیکھنے میں کتنا ہی خوبصورت اور کتنا ہی اچھا نظر کیوں نہ آئے۔
غور کرو کہ قرآن کریم نے صلوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” اس طرح نماز ادا کرو جس طرح میں نے نماز ادا کی “ (صلو کمار ایتمونی اصلی) قرآن کریم نے فقط اشارہ دیا کہ ” نماز اوقات کے ساتھ ایمان والوں پر فرض کی گئی ہے “ { ان الصلوۃ کانت علی المومنین کتابا موقوتاً } لکن قرآن کریم نے نہ تو نماز موقت کی رکعت ہم کو بتائیں اور نہ ہی ان کی مکمل ہیئت اور صورت کی وضاحت کی اور نہ ہی اوقات کا تعین کر کے بتایا۔ ایسا کیوں کہا ؟ محض اس لیے کہ جس کے ذریعہ ہم کو یہ حکم پہنچایاوہ ایک انسان تھا اور انسانوں کی ہدایت کے لیے اس کا اللہ نے انتخاب کیا اور جو احکام اس کو دیئے ان احکام کا پریکٹیکل کرنے کے لیے رسول کو بھیج دیا اور رسول نے وہ احکام بجا لاکر اپنی امت کو بتا دیا اور سمجھا دیا اور پھر اسی کے مطابق عمل کرنے کی تاکید کے لیے رسول کی پیروی کو لازم قرار دیا۔ ہم کو بتایا گای کہ آپ ﷺ نے فجر کی چار رکعت ادا کیں ، دو کا نام سنت اور دو کا فرض رکھا۔ اب کوئی شخص ان چاروں کو ملاکر فرض قرار دے لے یا ان کا نام سنت رکھ لے اور چار رکعت ایک سلام کے ساتھ ادا کرے تو اس فعل کو آپ ﷺ کی اتباع و پیروی نہیں کہا جائے گا بلکہ اس فعل کو ناجائز و حرام کہا جائے گا۔ اگرچہ ایسا کرنے والاچاروں رکعت باجماعت ادا کرے اور کرائے اور ان چاروں رکعتوں میں باقاعدہ اسی طرح قیام ، رکوع اور سجدے ادا کرے۔ وہی سارے اذکار ادا کرے اور ان حرکات و سکنات کو بھی بڑے سکون اور وقار سے ادا کرے لکین کیا ایسا کرنے والے نے آپ ﷺ کی اتباع کی ؟ آؤ کسی مکتبہ فکر کے کسی ایک عالم ، علامہ ، حضرت العلام ، پیر ، مرشد اور مفتی سے پوچھ لو ہر طرف سے ایک ہی جواب ملے گا کہ نہیں اور ہرگز نہیں بس اسی پر دین کی ساری باتوں کو قیاس کرتے جات یا کرواتے جاؤ اور نہیں نہیں سنتے جاؤ لیکن اس ترتیب کو ذرادرماین سینکال دو اور نماز ، روزہ سے ذرا ہٹ کر دیکھو۔ ایک شخص کوئی نیک عمل کرتا ہے لیکن ہم کو یہ امر معلوم ہے کہ اس طرح آپ ﷺ نے یہ عمل نہیں کیا پر کسی کو یہ بات کہہ دو کہ میاں تیرا یہ عمل بظاہر تو نیک ہے لیکن چونکہ آپ ﷺ کا ایسا کرنا ثابت نہیں اس لیے یہ عمل درست نہیں تو فوراً کہا جائے گا کہ اس میں حرج کیا ہے ؟ یہ آپ نے کیوں کہا ہے کہ درست نہیں۔ ایک نہیں سو سو اعتراض ہوں گے اور بات کسی کو یاد نہیں رہے گی کہ کسی عمل کے مبقول ہونے اور اس کا اجر محفوظ رہنے کی صورت ہی اسلام نے یہ قرار دی ہے کہ وہ عمل آپ ﷺ کی پراوی اور اتباع میں کیا جائے اور اس طرح جو عمل آپ ﷺ کی پیروی اور اتباع میں نہ ہوگا وہ عمل کتنا ہی اچھا کیوں نہ نظر آئے ، اس کو سارا معاشرہ کرنے والا کیوں نہ ہو وہ بلاشبہ آپ ﷺ کی عزت و توقیر کے خلاف ہے بلکہ اس سے آپ ﷺ کی عزت و توقیر مجروح ہوتی ہے اس لیے یہ عمل قابل رد ہے خواہ اس کا کرنے والا کوئی ہو ، کون ہو اور کیسا ہو۔
پھر غور کرو کہ { سبحوہ } میں ضمیر ” ہٗ “ کا مرجع اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی ذات ہے اور اس کے سوا اس کا مرجع کوئی اور نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ خود رسول اللہ ﷺ بھی نہیں ہو سکتے حالانکہ تینوں ضمائر ایک جیسی اور ایک ہی ساتھ تسبیح کے دانوں کی طرح اکٹھی ہیں ، ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ؟ اس لیے کہ تسبیح وتحمید خالصتاً اللہ رب کریم کی ذات کے لیے ہے کوئی دوسرا تسبیح وتحمید اور تہلیل کا مستحق نہیں ہے اور یہ اسلام کا تسلیم شدہ قاعدہ ہے جس کا خلاف ممکن نہیں اس لیے تسلیم کرنا ہوگا کہ { تعزروہو توقروہ } پر وقف تام ہے اور { و تسبحوہ بکرۃ واصیلاً } الگ عبارت ہے اور اس طرح الگ ہے جیسے سنت اور فرض الگ الگ ہیں۔ پہلی دونوں ضمائر مفعول کا مرجع نبی اعظم و آخر ﷺ کی ذات ہے اور آخری ضمیر مفعول کا مرجع اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرو اور یاد روھو کہ اللہ رب کریم کی تسبیح کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت و توقیر کرنا ہے لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی تسبیح کرنا آپ ﷺ کی عزت و توقیر کرنے کے ضمن میں نہیں آسکتا بلکہ آپ ﷺ کی نافرمانی اور حکم عدولی کے ضمن میں آئے گا جو سب کچھ برباد کر کے رکھ دے گا اور اسی کو کہتے ہیں کہ ؎
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب مسلمانوں کو نبی اعظم و آخر ﷺ کی اتباع و پیروی کرنے کی اور سچے دل کے ساتھ اتباع و پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور افراط وتفریط سے مکمل طور پر بچنے کی توفیق دے تاکہ ہمارا دین اور ہماری دنیا محفوظ رہے۔
ربنا اتنا فی الدین حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار۔