Ayah 48:11:۔ احمد والبخاری الترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ (رح) نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے میں نے آپ سے ایک چیز کے بارے میں تین مرتبہ پوچھا آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا میں نے تین مرتبہ اصرار کیا مگر آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ (یہ سوچ) کر میں نے اپنے اونٹ کو حرکت دی اور تمام لوگوں سے آگے نکل گیا اور میں ڈرا کہ میرے بارے میں کوئی قرآن نازل نہ ہوجائے میں نے دیر نہیں کی کہ ایک چیخنے والے نے مجھے چیخ کربلایا میں واپس آیا اور میں نے گمان کیا کہ میرے میں کوئی چیز نازل ہوگئی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھ پر آج رات ایک ایسی سورة نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا (1) لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر “ (بیشک ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی تاکہ آُ کی سب اگلی پچھلی فردوگزاشتیں معاف فرمادے) کی تلاوت فرمائی۔
2:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد و ابوداؤد (رح) اور ابن المنذر (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ والبیہقی (رح) نے دلائل میں مجمع بن جاریہ انصاری ؓ سے روایت کیا کہ ہم حدیبیہ میں حاضر تھے جب ہم وہاں سے ہٹے کراع الغمیم کی طرف واپس پھرے تو اچانک لوگ اونٹوں کو تیز دوڑانے لگے تو بعض لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا لوگوں کو کیا ہوا ؟ تو انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے تو ہم لوگوں کے ساتھ سواریوں کو تیز حرکت دیتے ہوئے چلے اچانک رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر کراع الغمیم پر تھے لوگ آپ کے اردگرد جمع ہوگئے آپ نے ان پر یہ (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا “ پڑھی ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ فتح ہے ؟ فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے بلاشبہ یہ فتح ہے پھر آپ نے اہل حدیبیہ پر خیبر کا مال تقسیم فرمایا اس میں ان کے سات کسی کو شریک نہیں فرمایا مگر جو حدیبیہ میں حاضر ہوا، رسول اللہ ﷺ نے اٹھارہ حصوں میں اس کو تقسیم فرمایا اور لشکر میں پندرہ سو آدمی تھے ان میں سے تین سو گھوڑ سوار تھے گھوڑ سوار کو دو حصے اور پیدل والے کو ایک حصہ عطا فرمایا۔
3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) والبخاری (رح) نے فی تاریخہ و ابوداؤد والنسائی وابن جریر (رح) والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ سے واپس آئے اس درمیان کہ ہم چل رہے تھے اچانک آپ پر وحی نازل ہوئی اور جب آپ کے پاس وحی آتی تھی تو آپ پہ بہت سخت ہوئی تھی جب یہ کیفیت جاتی رہی تو آپ اس کے ذریعہ خوش ہورہے تھے جتنا اللہ نے چاہا آپ نے ہم کو بتایا کہ آپ پر (یہ سورة ) نازل ہوئی (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا “
4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والبخاری وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا “ سے صلح حدیبیہ مراد ہے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر (رح) والحاکم وابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا “ سے خیبر کی فتح مراد ہے۔
اصل فتح بیت الرضوان ہے :
6:۔ البخاری وابن جریر (رح) وابن مردویہ نے براء ؓ سے روایت کیا کہ تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو حالانکہ مکہ کی فتح بھی ایک فتح تھی اور ہم بیعۃ الرضوان کو فتح شمار کرتے ہیں حدیبیہ کے دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چودہ سو آدمی تھے، اور حدیبیہ ایک کنواں تھا ہم نے اس میں سے پانی کو کھینچا اور ہم نے اس میں ایک قطرہ بھی نہ چھوڑا یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ تشریف لائے اور اس کے منڈھیر پر بیٹھ گئے پھ آپ نے اک برتن پانی منگوایا وضو فرمایا پھر کلی فرمائی اور دعا کی پھر وہ پانی اس کنویں میں ڈال دیا ہم اس کو چھوڑ کر تھوڑی ہی دور گئے پھر اس کنویں نے ہماری اور ہماری سواریوں کی ضرورت کے مطابق پانی میہا کردیا۔
7:۔ البیہقی (رح) نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم یہ فتح نہیں ہے ہم کو بیت اللہ سے روک دیا گیا اور ہماری قربانیوں کے جانوروں کو بھی روک دیا گیا۔ اور رسول اللہ ﷺ حدیبیہ میں ٹھہرے رہے اس نے اس طرح مسلمانوں میں سے دور نکلنے والوں کو واپس لوٹادیا۔ جنانچہ رسول اللہ ﷺ تک آپ کے ان اصحاب کی خبر پہنچ گئی کہ بلاشبہ یہ فتح نہیں ہے (یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ بری بات ہے یہ تو فتح عظیم ہے یقینی بات ہے کہ مشرکین اس پر راضی ہوئے ہیں کہ تمہارا دفاع اپنے شہروں سے نکل کر کریں اور وہ تم سے اس واقعہ کا سوال کریں اور وہ تمہارے واپس لوٹنے کو پسند کرتے ہیں اور انہوں نے تم سے کچھ چیزیں ناپسند کی ہیں اور یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر تم کو فتح دے دی ہے اور تم کو صحیح سلامت اجر پاتے ہوئے لشکروں کی صورت میں واپس لوٹادیا ہے اور یہ بڑی فتح ہے کیا تم احد کے دن کو بھول گئے جس وقت تم اوپر چڑھ جاتے تھے اور کسی جانب مڑکرنہ دیکھتے تھے اور میں تم کو تمہارے پیچھے سے پکار رہا تھا، اور تم احزاب کے دن کو بھول گئے جب وہ لشکر تمہاری اوپر کی جانب سے اور تمہارے نیچے کی جانب سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کررہے تھے (یہ سن کر) مسلمانوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا یہ بڑی فتح ہے اللہ کی قسم اے اللہ کے نبی آپ یقیناً اللہ تعالیٰ اور ہمارے متعلق سب کاموں کے بارے میں بہتر اور زیادہ جانتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے سورة فتح نازل فرمائی۔
8:۔ سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابنالمنذر (رح) اور امام بیہقی (رح) نے بعث میں ذکر کیا کہ (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا “ (پوری سورة ) حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی اور جو کچھ اس غزوہ میں حاصل ہوا وہ کسی غزوہ میں حاصل نہیں ہوتا۔ اور اس میں یہ خیر بھی پہنچی ہے جو بیت رضوان کی گئی وہ حدیبیہ کی فتح اور آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے گئے اور صحابہ ؓ نے بیعت رضوان میں آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کو خیبر کی کھجوریں کھلائی گئیں اور قربانی کے جانور اپنی قربانی کی جگہ کو پہنچ گئے اور رومی فارسی پر غالب آئے اور مؤمنین خو ش ہوئے اللہ کی کتاب کی تصدیق اور اہل کتاب کا مجوسیوں پر غلبہ پانے کی وجہ سے۔
9:۔ البیہقی (رح) نے مسور اور مروان رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ حدیبیہ کی فتح کے بارے میں ان دونوں نے کہا پھر رسول اللہ ﷺ واپس لوٹے جب مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے تو سورة فتح اس کے اول سے لیکر آخر تک نازل ہوئی۔ جب لوگ امن میں ہوں گئے تو ایک دوسرے کے ساتھ معاملات میں شریک ہونے لگے تو جس نے بھی اسلام کے بارے میں بات کی وہ اس میں داخل ہوگیا ان دوسالوں میں جتنے پہلے مسلمان تھے اس سے زیادہ اسلام میں داخل ہوئے اور یہ صلح حدیبیہ بڑی فتح تھی۔
10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا “ ہم نے آپ کے لئے واضح فیصلہ فرمایا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ سورت حدیبیہ کے سال اس قربانی کے بارے میں نازل ہوئی جو حدیبیہ کے مقام پر کی گئیں اور آپ ﷺ نے اپنے سرمبارک کا حلق کرایا۔
11:۔ عبد بن حمید (رح) وعبد الرزاق (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا “ یعنی ہم نے آپ کے لئے واضح فیصلہ فرمادیا۔
12:۔ عبد بن حمید (رح) نے عامر شعبی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے حدیبیہ کے دن سوال کیا کیا یہ فتح ہے ؟ تو آپ نے یہ (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا “ تلاوت فرمائی اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں یہ عظیم فتح ہے اور فرمایا دوہجرتوں کے درمیان بطور حد فاصل فتح حدیبیہ ہے (اور فرمایا) (آیت ) ” لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل “ (تم میں سے برابر نہیں ہوسکتا جس نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور کافروں سے لڑا)
13:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا “ مکہ کی فتح مراد ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا خواب :
14:۔ ابن عساکر (رح) نے ابی خالد الواسطی کے طریق سے عن زید بن علی بن الحسین عن ابیہ عن جدہ حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہم کو صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھائی حالانکہ کبھی اندھیرا اور کبھی روشنی ہوتی تھی اور فرماتے تھے کہ ان دو وقتوں کے درمیان (فجر) کی نماز کا وقت ہے۔ تاکہ ایمان والے اختلاف نہ کرنے لگ جائیں۔ ایک دن آپ نے ہم کو اندھیرے میں نماز پڑھائی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے گویا کہ آپ کا چہر مبارک گوایا مصحف کا ایک ورق تھا آپ نے فرمایا کیا تم میں ایسا آدمی ہے جس نے آج رات کچھ دیکھا ہو، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ نہیں دیکھا پھر فرمایا لیکن میں دیکھا کہ آج رات دو فرشتے میرے پاس آئے۔ میرے دونوں بازؤں کو پکڑا۔ اور مجھے آسمان دنیا کی طرف لے گئے ہم ایک فرشتے کے پاس سے گزرے اور اس کے آگے ایک آدمی تھا اس کے ہاتھ میں بھاری پتھر تھا۔ وہ آدمی کی کھوپڑی کو مارتا تھا تو اس کا دماغ ایک طرف کو گرجاتا تھا اور وہ پتھر دوسری طرف کو گرجاتا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ دونوں فرشتوں نے مجھے کہا آگے چلئے میں آگے چلا اچانک میں ایک اور فرشتے کے پاس تھا اور اس کے آگے ایک آدمی تھا اور فرشتے کے ہاتھ میں لوہے کی سلاخیں تھیں جن کا سرمڑا ہوا تھا وہ اس کے دائیں جبڑے میں رکھتا تھا اور اس کے کان کی انتہا تک چیر دیتا تھا۔ پھر اسے بائیں جانب میں پکڑتا تھا۔ اتنے میں دائیں جانب جڑ جاتی تھی۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ دونوں فرشتوں نے کہا آگے چلئے۔ میں آگے چلا وہاں خون کی ایک نہر تھی اور وہ اس میں طرح جوش مار رہا تھا جیسے ہنڈیا ابلتی ہے۔ اس میں آیا ننگی قوم تھی نہ کے کنارے پر فرشتے تھے ان کے ہاتھوں میں مٹی کے ڈھیلے تھے جب کوئی اوپر آنے والا اوپر آتا تو وہ فرشتے مٹی کا ڈھیلا اس کو مارتے جو اس کے منہ میں داخل ہوجاتا پھر وہ اس نہر کے نیچے کی طرف جاگرتا میں نے پوچھا یہ کیا ہے۔ دونوں فرشتوں نے کہا آگے چلئے میں آگے چلا، تو وہاں ایک کمرہ تھا اس کا نچلا حصہ اس کے اوپر والے حصے سے تنگ تھا اس میں بھی ننگے بدن لوگ تھے ان کے نیچے سے آگ بھڑک رہی تھی میں نے ان کی بدبو سے اپنی ناک کو بند کرلیا میں نے پوچھا یہ کون ہے۔ دونوں نے کہا آگے چلئے تو میں آگے چلا اچانک میں ایک کالے ٹیلے پر تھا جس پر ایک مجنون قوم تھی کہ ان کے پچھلے حصے سے آگ نکل رہی تھی اور وہ آگ ان کے مونہوں سے اور ان کی ناک کے سوراخوں سے اور ان کے کانوں سے اور ان کی آنکھوں سے (وہ آگ) نکل رہی تھی۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہے (دونوں نے کہا آگے چلئے) میں آگے چلا اور وہاں میں نے بڑی شدید آگ دیکھی جس پر فرشتہ مقرر تھا ان میں سے جو چیز باہر نکلی تھی یہاں وہ فرشتہ اس کے پیچھے لگ جاتا تھا اور اسے دوبارہ آگ میں لوٹا دیتا تھا میں نے پوچھا یہ کیا ہے۔ دونوں نے مجھے کہا آگے چلئے تو میں آگے چلا تو وہاں ایک باغ تھا اور اس میں اتنے خوبصورت بزرگ تھے اس سے (بڑھ کر) کوئی اور حسین و جمیل نہ تھا اس کے اردگرد بچے تھے اور وہاں ایک درخت تھا جس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے میں اس درخت پر چڑھا جتنا اللہ نے چاہا میں نے وہاں ایسے گھر دیکھے کہ ان سے زیادہ خوبصورت گھر نہیں تھے جو کھوکھلے زمرد اور سبز زبرجد اور سرخ یاقوت کے بنے ہوئے تھے میں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ دونوں فرشتوں نے کہا آپ نیچے اتریئے تو میں نیچے اترا میں نے اس میں سے ایک برتن کی طرف ہاتھ بڑھایا میں نے اس کو بھر پھر اس کو پیا تو وہ شہد سے زیادہ میٹھا تھا اور دودھ سے زیادہ سفید تھا اور مکھن سے زیادہ نرم تھا پھر ان دونوں نے مجھے بتایا وہ پتھروں والا جو آپ نے دیکھا کہ وہ اس سے اس کی کھوپڑی کو مارتا ہے تو اس کا دماغ ایک طرف کو گرجاتا ہے اور پتھر بھی ایک طرف کو گرجاتا ہے یہ وہ لوگ تھے جو عشاء کی نماز کے وقت سوجاتے تھے اور تمام کو بےوقت میں پڑھتے تھے ان کو اس پتھر سے مارا جاتا رہے گا یہاں تک کہ وہ آگ کی طرف پہنچ جائیں اور لوہے کے سلاخوں والے پر آپ نے ایک مقرر کردہ فرشتے کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں لوہے کی سلاخیں ہیں وہ اس کے دائیں جبڑے تک چیر رہا تھا یہاں تک کہ اس کے کان تک پہنچ جاتا ہے پھر اس کو بائیں طرف میں پکڑتا ہے اتنے میں دائیں جانب جڑ جاتی ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان والوں کے درمیان چغلی کرتے تھے اور ان کے درمیان فساد برپا کرتے تھے اور وہ ان کو یہی عذاب دیا جاتا رہے گا یہاں تک کہ آگ کی طرف پہنچ جائیں گے اور وہ فرشتے جن کے ہاتھوں میں مٹی کے ڈھیلے تھے نہر میں سے جب کوئی باہر آنے کی کوشش کرتا اس پر وہ ڈھیلا مارتے وہ اس کے منہ میں جا پڑتا اور وہ اس نہر میں نیچے تک جا گرتا۔ یہ لوگ سود کھاتے تھے انکو بھی عذاب دیا جاتا رہے گا یہاں تک کہ آگ کی طرف جاپہنچیں گے اور وہ گھر جس کو آپ نے دیکھا کہ اس کے نیچے کا حصہ تنگ ہے اس کے اوپر کے حصہ سے اس میں ایک ننگی قوم ہے انکے نیچے آگ جلائی گئی ہے۔ آپ نے ان کی بدبو کی وجہ سے ناک کو ڈھانک لیا تھا یہ زنا کار لوگ ہیں اور یہ بدبوان کی شرم گاہوں کی ہے۔ یہ عذاب ان کو دیا جاتا رہے گا یہاں تک کہ آگ کی طرف پہنچائے جائیں گے اور وہ کالا ٹیلہ جس پر آپ نے مجنون قوم کو دیکھا تھا۔ کہ ان کے پچھلے حصہ میں آگ پھونکی جارہی تھی اور وہ آگ ان کے مونہوں سے انکی ناک کے سوراخوں سے ان کی آنکھوں سے اور ان کے کانوں سے نکل رہی ہے۔ یہ لوگ قوم لوط والا عمل کرتے تھے فاعل اور مفعول بن کر ان کو عذاب دیا جاتا رہے گا یہاں تک کہ آگ کی طرف پہنچائے جائیں گے وہ شدید آگ جس پر آپ نے ایک فرشتے کو اس پر مقرر کیا ہوا دیکھا جب اس میں کوئی چیز باہر نکلتی ہے تو وہ اس کے پیچھے لگ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو اس آگ میں لوٹا دیتا ہے یہ جہنم ہے جو جنت والوں اور جہنم والوں کے درمیان فرق کرتی ہے لیکن وہ باغ جو آپ نے دیکھا وہ جنت الماوی ہے اور شیخ جس کو آپ نے دیکھا اور اس کے اردگرد بچے تھے وہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے تھے اور وہ درخت جس کو آپ نے دیکھا آپ اس پر چڑھے اس میں ایسے گھر تھے کہ ان سے زیادہ خوبصورت گھر نہیں جو کھوکھلے زمرد اور سبززہر جد اور سرخ یاقوت کے تھے یہ علیین والے انبیاء صدیقین شہداء اور صالحین اور (آیت ) ” حسن اولئیک رفیقا “ کے محلات تھے اور وہ نہر جو آپ نے دیکھی آپ کی نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو کوثر کی نہر عطا فرمائی اور یہ گھر آپ کے اور آپ کے گھروالوں کے ہیں، پھر فرمایا مجھے اوپر سے آواز دی گئی اے محمد ﷺ سوال کیجئے آپ کو دیا جائے گا میں بہت گھبرایا میرے شانے کانپنے لگا اور میرا دل بےقرار اور میرا ہر عضو ہلنے لگا اور میں نے جواب دینے کی طاقت نہ رکھی پھر دو فرشتوں میں سے ایک نے اپنے داہنے ہاتھ کو اٹھایا اور اس کو میرے ہاتھ پر رکھ اور دوسرے نے اپنے داہنے ہاتھ کو میرے کندھوں کے درمیان رکھا تو اس نے مجھے سکون پہنچایا اور اضطراب جاتا رہا پھر میرے اوپر سے آواز دی گئی اے محمد ﷺ سوال کیجئے آپ کو دیا جائے گا میں نے کہا اے اللہ ! میری شفاعت کو ثابت کردیجئے اور میرے ساتھ میرے گھر والوں کو ملادیجئے اور میں آپ سے اس حال میں ملاقات کروں کے مجھ پر کوئی گناہ نہ ہو پھر مجھے واپس لایا گیا اور مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا (1) لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر ویتم نعمتہ علیک ویھدیک صراط مستقیما (2) “ (بےشک ہم نے آپ کو کھلم کھلا فتح عطا فرمائی کہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی فروگزاشتیں معاف فرمادے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جیسے مجھے یہ (فتح) عطا کی گئی اسی طرح انشاء اللہ ان سب چیزوں کو بھی دیاجاؤں گا۔
15:۔ السلفی نے الطیوریات میں یزید بن ہارون (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مسعودی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جو رمضان کی پہلی رات میں (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا “ پڑھے نفل نماز میں تو اس سال اس کی حفاظت کی جائے گی۔
Ayah 48:2وقولہ تعالیٰ : (آیت) ” لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک “
16:۔ ابن المنذر نے عامر وابو جعفر رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” لیغفرلک اللہ ماتقدم “ سے مراد ہے تاکہ اللہ تعالیٰ وہ الزام دور فرما دیں جو آپ پر زمانہ جاہلیت میں لگائے گئے (آیت ) ” وما تاخر “ اور جو زمانہ اسلام میں لگائے گئے۔
17:۔ عبد بن حمید (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک “ کے بارے میں یہ بات پہنچی کہ جو کچھ زمانہ جاہلیت میں آپ سے کوئی غلطی لغزش ہوئی (آیت ) ” وما تاخر “ اور جو زمانہ اسلام میں ہوئی اور اس کے بعد آپ نے اس کو نہیں کیا۔
جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف فتح مکہ کی بشارت :
18:۔ ابن سعد نے مجمع بن جاریہ ؓ سے روایت کیا کہ جب ہم صحنان میں تھے میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ دوڑ رہے ہیں اور وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ پر حکم نازل کیا گیا میں بھی لوگوں کے ساتھ دوڑا یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل گئے اچانک آپ یہ پڑھ رہے تھے (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا “ جب جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیات لیکر نازل ہوئے تو فرمایا یا رسول اللہ ﷺ آپ کو مبارک ہو جب جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کو مبارک باد دی تو مسلمانوں نے بھی آپ کو مبارک بادی دی۔
19:۔ ابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) وابن عساکر (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا “ نازل ہوئی تو آپ نے عبادت میں بہت محنت کی پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ یہ اتنی محنت کیسی ہے حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے گئے تو آپ نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنو۔
20:۔ ابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) فی الاسماء والصفات وابن عساکر (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ پر یہ (آیت ) ” انا فتحنا لک فتح مبینا (1) لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر ویتم نازل ہوئی تو آپ نے روزے رکھے اور نمازیں پڑھی یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک پر ورم آگیا اور آپ نے اتنی عبادت کی یہاں تک کہ آپ پرانی مشک کی طرح ہوگئے آپ سے پوچھا گیا کیا آپ اپنی ذات کیلئے ایساکر رہے ہیں (یعنی مشقات اٹھا رہے ہیں) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادیئے۔ آپ نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
21:۔ ابن ابی عبید واحمد نے الزھد میں حسن ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ بہت عبادت کرتے تھے یہاں تک کہ آپ لوگوں کے پاس پرانی مشک کی طرح آتے تھے (یعنی عبادت کی وجہ سے آپ سوکھ گئے) پوچھا گیا یا رسول اللہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں فرمادئیے آپ نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
22:۔ ابن عساکر (رح) نے ابو جحیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ (عبادت میں) کھڑے ہوئے تھے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک پھٹ جاتے تھے آپ سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں کردیئے آپ نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں
23:۔ ابویعلی (رح) وابن عساکر (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نماز کیلئے انتا (کھڑے) ہوتے تھے کہ آپ کے قدم مبارک پر ورم آگیا آپ سے کہا گیا اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں کردیئے ؟ آپ نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
24:۔ ابن عساکر (رح) نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (اتنی لمبی) نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک پر ورم آگیا۔
25:۔ البیہقی (رح) فی شعب الایمان وابن عساکر (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ (شعبی) نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک پر ورم آگیا آپ سے کہا گیا آپ اتنی مشقت اٹھاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے ہیں آپ نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
26:۔ احسن بن سفیان وابن عساکر نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ (لمبی) نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک پر ورم آگئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
27:۔ ابن عساکر (رح) نے احمد بن اسحاق بن ابراہیم بن نبی ط بن شرائط اشجعی (رح) سے روایت کیا کہ مجھے میرے والد نے اپنے دادا سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (لمبی) نماز پڑھی یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک پر ورم آگئے آپ سے پوچھا گیا یارسول اللہ ﷺ کیا آپ اتنی عبادت کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
رسول اللہ ﷺ کی کثرت عبادت :
28:۔ ابن عدی (رح) وابن عساکر (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اتنی عبادت کی یہاں تک کہ پرانی مشک کی طرح ہوگئے صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کس بات نے آپ کو اس مشقت پر آمادہ کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
29:۔ ابونعیم فی الحلب میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو چار رکعت پڑھتے پھر آپ مسلسل جاری رکھتے تھے پھر اتنی لمبی نماز پڑھتے یہاں تک کہ مجھے آپ پر رحم آجاتا میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے ہیں پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنو۔
Ayah 48:3اما قولہ تعالیٰ : (آیت ) ” وینصرک اللہ نصرا عزیزا “
30:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وینصرک اللہ نصرا عزیزا “ اور اللہ آپ کو ایسا غلبہ دے گا جس میں عزت ہی عزت ہوے اس سے مکہ خیبر اور طائف کا فتح ہونا مراد ہے (یعنی یہ شہر اللہ کی مدد سے فتح ہوں گے )
Ayah 48:41:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھوالذی انزل السکینۃ فی قلوب المؤمنین “ (وہ خدا وہی تو ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا میں ” السکینۃ “ سے مراد ہے رحمت (آیت ) ” لیزدادو ایمانا مع ایمانہم “ (تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہوجائے) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو لا الہ الا اللہ کی شہادت کے ساتھ بھیجا جب ایمان والوں نے اس کی تصدیق کی تو اس نے ان کے لئے نماز زیادہ کردی جب انہوں نے اس کی تصدیق کی تو ان کے لئے روزے زیادہ کردیئے جب انہوں نے اس کی تصدیق کی تو ان کے لئے حج زیادہ کردیا۔
جب انہوں نے اس کی تصدیق کی تو ان کے لئے جہاد زیادہ کردیا پھر ان کے لئے ان کا دین مکمل کردیا۔ اور فرمایا (آیت ) ” الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام “ (آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور میں نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کرلیا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ آسمان اور زمین والوں کو ایمان والوں کو مضبوط کردیا اور (آیت ) ” لا الہ الا اللہ “ کی شہادت کی تصدیق اور تکمیل کردی۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لیزدادو ایمانا مع ایمانہم “ (تاکہ زیادہ ہوجائے ایمان ان کے پہلے ایمان کے ساتھ) یعنی اپنی پہلی تصدیق کے ساتھ تصدیق میں اور زیادہ ہوجائیں۔
Ayahs 48:5–71:۔ عبدالرزاق (رح) وابن ابی شیبہ (رح) وعبدبن حمید (رح) والبخاری (رح) ومسلم ؓ والترمذی (رح) وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) وابو نعیم (رح) نے المعرفہ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ پر یہ (آیت) ” لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر “ (تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف کردے) نازل ہوئی جب آپ حدیبیہ سے واپس لوٹے تو آپ نے فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھ زیادہ محبوب ہے ان چیزوں سے جو زمین پر موجود ہیں پھر آپ نے اس آیت کو ان پر پڑھا تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ آپ کو مبارک ہو اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے بیان فرمادیا ہے جو کچھ وہ آپ کے ساتھ (معاملہ) فرمائیں گے اور ہمارے ساتھ کیا معاملہ فرمائیں گے تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت) ” لیدخل المؤمنین والمؤمنت جنت تجری من تحتھا الانھر “ (تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان والے مردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو ایسے باغات میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی) یہاں تک پہنچے (آیت ) ” فوزا عظیما “ (اور یہ بڑی کامیابی ہے ) ۔
2:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر والحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ جب ہم اور محمد ﷺ کے اصحاب حدیبیہ سے لوٹے تو صحابہ کرام ؓ غم اور سخت رنج میں مبتلا تھے جب کہ انہوں نے اپنے ہدی کے جانوروں کو اپنی جگہوں میں ذبح کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر چاشت کے وقت ایسی آیت نازل ہوئی جو میرے نزدیک ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے آپ نے تین مرتبہ فرمایا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ آیت کونسی ہے تو آپ نے پہلی دو آیتیں پڑھیں (آیت ) ” انا فتحنا لک فتحا مبینا “ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو مبارک ہو تو ہمارے لئے کیا ہے پھر آپ نے یہ (آیت) ” لیدخل المؤمنین والمؤمنت “ الآیہ جب ہم خیبر آئے تو جونہی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے جانثاروں کا لشکر دیکھا کہ (یہودیوں) پیٹھ پھیر کر قلعہ کی طرف بھاگ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبیر ویران ہوگیا جب ہم قوم کی کھلی جگہ میں اترتے ہیں تو ڈرنے والوں کی صحبتیں خراب ہوجاتی تھیں۔
3: سعد بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت) انا فتحنا لک فتح مبینا “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے فرمایا آپ کو مبارک ہو جو آپ کے رب نے آپ کو عطا فرمایا یہ آپ کے لئے ہے اور ہمارے لئے کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” لیدخل المؤمنین والمؤمنت “ آیت کے آخرتک نازل فرمائی۔
Ayahs 48:8–91:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اناارسلنک شاھد ا “ (یعنی ہم نے آپ کو گواہی بناکر بھیجا) یعنی گواہی دینے والا اپنی امت پر اور گواہی دینے والاانبیاء (علیہم السلام) پر کہ انہوں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا (آیت) ” مبشرا “ یعنی آپ خوشخبری دیتے ہیں جنت کی جس نے اللہ کی اطاعت کی (آیت ) ” ونذیرا “ یعنی لوگوں کو اس کی نافرمانی سے ڈراتے ہیں۔ (آیت ) ” لتؤمنوا باللہ ورسولہ “ (تاکہ وہ ایمان لائیں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ) یعنی (وہ ایمان لائیں اس کے وعدے پر حساب پر اور موت کے بعد اٹھنے پر (آیت) ” وتعزروہ “ یعنی تم ان کی مدد کرو (آیت) ” وتوقروہ “ (اور ان کی تعظیم کرو یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ان کی) یعنی دل سے تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم کرو اس کی حاکمیت اس کی شان اور اس کے شرم و عظمت کو تسلیم کرتے ہیں، اور فرمایا بعض قرأت میں یوں ہے۔ (آیت ) ” تسبحوہ بکرۃ واصیلا “ (یعنی تم اللہ کی تسبیح بیان کرو صبح اور شام )
2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتعزروہ “ یعنی چاہئے کہ وہ لوگ (یعنی مسلمان) ان کی مدد کریں (آیت ) ” وقوقروہ “ یعنی چاہئے کہ وہ لوگ ان کی تعظیم کریں۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتعزروہ “ سے مراد ہے کہ تم ان کی بزرگی اور عظمت شام کو بیان کرو (آیت ) ” وتوقروہ “ یعنی محمد ﷺ کی تعظیم۔
4:۔ ابن ابی حاتم والحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) والضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتعزروہ “ یعنی تم (دشمنوں کو) آپ کے سامنے تلوار سے مارو۔
5:۔ سعید بن منصور وعبد بن حید وابن جریر وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتعزروہ “ یعنی تم آپ کی معیت میں تلوار کے ساتھ لڑو۔
6:۔ ابن عدی وابن مردویہ (رح) والخطیب (رح) اور ابن عساکر (رح) نے اپنی تاریخ میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ (آیت) ” وتعزروہ “ نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا وہ کیا ہے، (یعنی اس کا مطلب کیا ہے ؟ ) صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں پھر فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ چاہئے کہ تم اس کو مدد کرو۔
7:۔ ابن مردویہ (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اس آیت کو یوں پڑھتے تھے (آیت) لتؤمنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ وتوقررہ، و تسبحوہ بکرۃ واصیلا “ (یہ تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان کی مدد کرو اور ان کی تعظیم کرو اور تم اس کی تسبیح بیان کرو صبح اور شام کو اور یہ فرماتے تھے کہ اگر یاء یا تاء میں اشکال ہوجائے تو اس کو یاء پر محمول کرو کیونکہ قرآن سارے کا سارا یا پر محمول ہے۔
8:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وتسبحوہ “ یعنی وہ لوگ اللہ کی پاکی بیان کریں اس ذات کی طرف رجوع کرتے ہوئے۔
9:۔ ابوعبیدہ وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قرأت میں یوں ہے۔ (آیت ) ” تسبحوہ بکرۃ واصیلا “ (اور وہ لوگ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کریں)
10:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” تسبحوہ بکرۃ واصیلا “
Ayah 48:101:۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین یبایعونک “ (جو لوگ آپ سے بیت کررہے ہیں) یعنی حدیبیہ کے دن۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین یبایعونک “ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے حدیبیہ کے زمانہ میں آپ سے بیعت کی۔
3:۔ ابن مردویہ نے ابراہیم بن محمد بن المنتشر (رح) سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا کہ یہ نبی اکرم ﷺ کی بعیت تھی جب آپ یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ “ (جو لوگ آپ سے بعیت کررہے ہیں بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ سے بعیت کررہے ہیں اور نبی کریم ﷺ کی بیعت وہ تھی جس پر لوگوں نے بیعت کی تھی اللہ کے لئے اور حق کی اطاعت کیلئے اور ابوبکر ؓ کی بیعت یہ تھی کہ مجھ سے بیعت کرو جب تک میں اللہ کی اطاعت کروں اور جب میں اس کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں۔ اور عمر بن خطاب ؓ کی بیعت کی اللہ کے لئے اور حق کی اطاعت کیلئے تھی۔ اور عثمان بن عفان ؓ سے بیعت بھی اللہ کی خوشنودی اور حق کی اطاعت کے لئے تھی۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے اعرج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یداللہ فوق ایدیھم “ (اللہ کے ہاتھوں پر) یعنی یہ بیعت اس لئے تھی کہ وہ میدان جہاد سے) نہ بھاگ جائیں۔
5:۔ احمد وابن مردویہ (رح) نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے (آپ کی بات کو) سننے اور آپ کی اطاعت کرنے پر بیعت کی نشان اور کسل مندی میں اور بیعت کی خرچ کرنے پر تنگی میں اور فراخی میں اور نیکی کا حکم کرنے پر اور برائی سے روکنے پر اور اس پر بیعت کی کہ ہم حق بات کہیں گے۔ اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے اور اس بات پر کہ ہم ان کی مد کریں گے جب آپ ہمارے پاس یثرب (یعنی مدینہ منورہ) تشریف لائیں گے اور ہم ان سے روکیں گے ان چیزوں کو کہ جن سے ہم اپنے آپ کو اور اپنی بیویوں کو اور اپنے بیٹوں کو روکتے ہیں اور ہمارے لئے جنت ہوگی جس نے وعدہ پورا کیا اللہ تعالیٰ بھی اس کا وعدہ پورا کریں گے۔ اور جس نے وعدہ کو توڑ دیا تو اس کے توڑنے کا وبال اسی پر ہوگا۔
Ayah 48:111:۔ عبدبن حمید (رح) نے جویبر (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” سیقول لک المخلفون من الاعراب شغلتنا اموالنا واھلونا فاستغفرلنا “ (جو دیہاتی پیچھے رہ گئے وہ عنقریب آپ سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال و عیال نے فرصت نہ لینے دی اب ہمارے لئے اس کوتاہی کی معافی کے لئے دعا کردیجئے) سے مراد ہے کہ نبی کریم ﷺ جب حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو خیبر کی طرف چلے تو دیہاتیوں میں سے کچھ لوگ پیچھے رہ گئے اور وہ اپنے گھر والوں سے جاملے جب ان کو (یہ خبر) پہنچی کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کو فتح کرلیا ہے تو وہ بھی آپ کی طرف چل دیئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمادیا تھا کہ خیبر کے غنیمت کے مال میں سے پیچھے رہ جانے والوں کو کسی کو نہ دیا جائے اور اس غنیمت کے مال کو ان لوگوں میں تقسیم کیا جائے جو (خیر کی) فتح میں حاضر تھے اسی کے بارے میں فرمایا (آیت) ” یریدون ان تبدلوکلام اللہ “ (یہ لوگ ارادہ کرتے ہیں کہ اللہ کی کلام کو بدل دیں یعنی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم فرمایا کہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے کسی کو خیر کی غنیمت میں سے کچھ بھی نہ دیا جائے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سیقول لک المخلفون من الاعراب “ سے مدینہ کی دیہاتی جہینہ اور مزینہ قبیلوں کے لوگ مراد ہیں کہ مکہ کی طرف نکلنے سے ان کا فرار اختیار کرنا (جبکہ آپ نے ان سے مدد چاہی) اور انہوں نبے کہا ہم آپ کے ساتھ جائیں گے ایسی قوم کی طرف کہ جو آپ کے پاس آئے اور انہوں نے آپ کے اصحاب کے ساتھ قتال کیا اور کہا کہ ہم ان کو ان کے گھروں میں جاکر قتل کریں گے پس انہوں نے کام کے بہانے پر آپ کو ٹال دیا پھر آپ عمرہ کرنے کے لئے آئے تو آپ کے اصحاب نے اہل حرم میں سے کچھ لوگوں کو غافل پاتے ہوئے پکڑ لیا مگر نبی کریم ﷺ نے ان کو چھوڑ دیا وہ قبائل بطن مکہ میں آباد تھے اور محمد ﷺ (حدیبیہ) سے لوٹے تو آپ نے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا اور آپ کو خیبر عطا فرمادیا گیا پیچھے رہ جانے والوں نے کہا (آیت ) ” ذرونا نتبعکم “ (ہم کو اجازت دو ہم تمہارے ساتھ چلیں اور یہ وہی مال غنیمت ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” اذا انطلقتم الی مغانم لتاخذوھا “ (جب تم خیبر کی غنیمتیں لینے جاؤ گے) اور ان پر ایسی قوم کی جنگ آپڑی، جو سخت لڑائی والے تھے اور وہ فارس والے ہیں اور وہ غنیمتیں جن کا ان سے وعدہ کیا گیا وہ ہیں جن کو وہ آج دن تک حاصل کرلیں گے۔
Ayahs 48:12–141:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون الی اھلیھم ابدا وزین ذلک فی قلوبکم وظننتم ظن السوء “ (بلکہ تم نے یہ خیال کیا کہ رسول اور مومن اپنے گھر والوں کے پاس کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں اچھی بھی معلوم ہوتی تھی، اور تم نے برے برے گمان کئے) یعنی انہوں نے اللہ کے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے بارے میں یہ گمان کیا کہ وہ ہرگز اپنے بندوں کو نہیں لوٹیں گے اور وہ عنقریب ہلاک ہوں گے اور یہ بات ان لوگوں نے کہی تھی جو اللہ کے نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے اور وہ جھوٹ بولتے تھے جو وہ کہتے تھے اور فرمایا (آیت ) ” سیقول المخلفون اذا انطلقتم الی مغانم لتاخذوھا “ (اور جو وہ لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ عنقریب جب تم خیبر کی غنیمتیں لینے جاؤ گے۔ وہ لوگ جو حدیبیہ کے زمانے میں نبی کریم ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے وہ تمہاری طرح ہی تھے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں پہلے سے ہی فرمایا۔ پھر فرمایا کہ مال غنیمت جہاد کے واسطے سے بنایا گیا اور خیبر کا مال غنیمت اس کے لئے ہے جو حدیبیہ میں حاضر ہوا اور ان کے علاوہ اس میں کسی کا حصہ نہیں فرمایا (آیت ) ” قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید “ (آپ ان پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کہ عنقریب تم ایسے لوگوں سے جہاد کرنے کے لئے بلائے جاؤ گے جو سخت لڑنے والے ہیں) فرمایا کہ ان کو بلایا گیا حنین کے دن قبیلے ھوزن اور ثقیف کی طرف بعض ان میں سے وہ تھے جنہوں نے دعوت کو طریقے سے قبول کیا۔ اور جہاد میں رغبت کی پھر اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں نے عذر قبول فرمائے اور فرمایا (آیت ) ’ ’ لیس علی الاعمی حرج ولا علی الاعرج حرج ولا علی المریض حرج “ یعنی اندھے پر لنگڑے پر اور مریض پر کوئی حرج نہیں کہ جہاد پر نہ جائیں۔
2:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول “ یعنی منافق لوگوں نے (یہ بات کہی) (آیت ) ” وظننتم ظن السوء “ (اور تم نے برا گمان کیا) کہ رسول اللہ ﷺ ہرگز نہیں لوٹیں گے۔
Ayah 48:153:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یریدون ان یبدلوا کلم اللہ “ (وہ ارادہ کرتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں) یعنی اللہ کی کتاب کو بدل دیں گے اور وہ جہاد میں جانے سے مسلمانوں کو روکتے تھے اور ان کو بھاگ جانے کا مشورہ دیتے تھے۔
4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الی قوم اولی باس شدید “ (سخت لڑائی والے) سے مراد والے ہیں۔
5:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اس سے فارس اور روم والے مراد ہیں۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الی قوم اولی باس شدید “ (سخت لڑائی والے) سے البارز یعنی اکراد قوم مراد ہے۔
7:۔ ابن المنذر (رح) والطبرانی (رح) نے الکبیر میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اس سے فارس کے دیہاتی اور عجم کے کرد مراد ہیں۔
8:۔ ابن المنذر (رح) والطبرانی (رح) نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ اس سے بنوحنفیہ مراد ہیں (جوسخت لڑائی والے تھے)
9:۔ ابن جریر (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ستدعون الی قوم اولی باس شدید “ سے مراد ہے کہ یہ لوگ ابھی تک نہیں آئے۔
Ayah 48:161:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید “ (آپ فرما دیجئے پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں میں سے کہ عنقریب ان کو ایک ایسی قوم کی طرف بلایا جائے گا) عمر بن خطاب ؓ نے مدینہ کی دیہاتی جہینہ اور مزینہ کو بلایا جن کو نبی کریم ﷺ نے مکہ کی طرف نکلنے کیلئے بلایا تھا۔ اور عمر بن خطاب ؓ نے ان کو فارس کی لڑائی کی طرف بلایا اور فرمایا اگر تم اطاعت کرو گے جن کو عمر بلائیں گے تو یہ تمہاری طرف سے توبہ ہوجائے گی تمہارے نبی کریم ﷺ کے پیچھے رہ جانے کے جرم کی اور اللہ تعالیٰ تم کو اچھا اجر فرمائیں گے اور اگر تم نے روگردانی کی جب عمر نے تم کو بلایا جیسے اس سے پہلے تم نے روگردانی کی جب نبی کریم ﷺ نے تم کو بلایا تھا تو تم کو دردناک عذاب دیا جائے گا۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ستدعون الی قوم اولی باس شدید “ سے فارس اور روم (کے لوگ) مراد ہیں۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ستدعون الی قوم اولی باس شدید “ سے بتوں کی پوجا کرنے والے مراد ہیں۔
4:۔ الفریابی وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ستدعون الی قوم اولی باس شدید “ سے ھوازن اور بنوحنیفہ مراد ہیں۔
5:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والبیہقی (رح) نے عکرمہ اور سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ستدعون الی قوم اولی باس شدید “ میں اس قوم سے مراد حنین کے دن قبیلہ بنی ھوازن تھے۔
Ayah 48:171:۔ الطبرانی نے سند حسن کے ساتھ زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لئے لکھا کرتا تھا اور میں قلم کو اپنے کان پر رکھتا تھا اچانک قتال کا حکم ہوا (پھر) اچانک ایک اندھا آیا اور اس نے کہا میرے لئے کیا حکم ہے اور میں نابینا ہوں تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” لیس علی الاعمی حرج “ الایہ پھر فرمایا یہ آیت جہاد کے بارے میں ہے ان پر کوئی جہاد نہیں جب وہ طاقت نہیں رکھتے۔
Ayahs 48:18–19واما قولہ تعالیٰ : (آیت) لقد ؓ عن المؤمنین “
بیت الرضوان کا تذکرہ :
2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم قیلولہ کرنے والے تھے اچانک رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز دی اے لوگو ! بیعت کے لئے آؤ جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے (کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرو) ہم رسول اللہ ﷺ کے طرف دوڑ کر آئے اور آپ ببول کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے ہم نے آپ سے بیعت کی اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) لقد ؓ عن المؤمنین اذیبایعونک “ (بےشک اللہ مسلمانوں سے خوش ہوا جبکہ یہ لوگ آپ سے بیعت کررہے تھے) حضرت عثمان ؓ کے لئے آپ نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر بیعت فرمائی لوگوں نے کہا ابن عفان ؓ کے لئے مبارک ہو کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرلیں اور ہم یہاں ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت عثمان اگر اتنے اتنے برس بھی وہاں ٹھہرے گا، تو وہ طواف نہیں کرے گا یہاں تک کہ میں طواف نہ کروں۔
3:۔ البخاری وابن مردویہ (رح) نے طارق بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ میں حج کرنے کے لئے چلا میں لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے میں نے کہا کیا یہ مسجد ہے ؟ انہوں نے کہا یہ وہ درخت ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان لی تھی، میں سعید بن المسیب (رح) کے پاس آیا اور میں نے ان کو یہ بات بتائی سعید نے فرمایا میرے باپ نے مجھے بیان کیا کہ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی درخت کے نیچے جب ہم آئندہ سال آئے تو ہم اس درخت کو بھول گئے اور ہم اس پر قادر نہ ہوئے سعید نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ تو اس کو نہیں جانتے تھے اور تم اس کو جانتے ہو سو تم زیادہ جاننے والے ہو۔
4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے المنصف میں نافع (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے یہ بات پہنچی کہ لوگ اس درخت کے پاس آتے ہیں کہ جس کے نیچے بیعت لی گئی تھی تو انہوں نے حکم فرمایا اور اس درخت کو کاٹ دیا گیا۔
5:۔ البخاری وابن مردویہ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے سعید بن مسیب (رح) سے کہا کہ کتنے لوگ بیعت رضوان میں حاضر تھے انہوں نے کہا کہ پندرہ سو میں نے کہا کہ جابر بن عبداللہ ؓ تو چودہ سو کہتے ہیں تو سعیدنے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ان کو وہم ہوگیا انہوں نے ہی مجھ سے بیان کیا کہ وہ پندرہ سو تھے۔
6:۔ البخاری ومسلم وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا کہ درخت والے لوگ (یعنی درخت کے نیچے بیعت کرنے والے) تیرہ سو تھے۔
7:۔ سعید بن منصور (رح) والبخاری ومسلم وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے رسول اللہ ﷺ نے ہم کو فرمایا تم زمین کے رہنے والوں سے بہتر ہو۔
8:۔ البیہقی عن سعید بن المسیب والبخاری ومسلم وابن مردویہ اور بیہقی (رح) نے دلائل میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے ہم کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم زمین کے رہنے والوں سے بہتر ہو۔
9:۔ البیہقی (رح) نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ درخت کے نیچے (بیعت کرنے والے) چودہ سو تھے۔
10:۔ البخاری نے سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے درخت کے نیچے بیعت کی تھی پوچھا گیا کس چیز پر تم نے بیعت کی تھی تو انہوں نے فرمایا موت پر۔
حضرت عثمان غنی ؓ کی سفارت کاری :
11:۔ البیہقی (رح) نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ جب نبی کریم ﷺ حدیبیہ میں تشریف لائے تو قریش آپ کی تشریف آوری سے گھبرائے تو رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو پسند فرمایا کہ اپنے اصحاب میں سے ان کی طرف ایک آدمی بھیج دیں چناچہ آپ نے عمر بن خطاب ؓ کو بلایا تاکہ ان کو قریش کی طرف بھیجیں حضرت عمر ابن عباس ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں امن والا نہیں اور بنوکعب میں سے کوئی مکہ میں نہیں ہے جو میرا ساتھ دے اور میرے لئے ناراضگی کا اظہار کرے جب وہ مجھے تکلیف پہنچائیں گے۔ آپ عثمان بن عفان ؓ کو بھیجئے کیونکہ ان کا کنبہ وہیں ہے اور وہ آپ کا پیغام پہنچا دیں گے جو آپ نے ارادہ فرمایا تو رسول اللہ ﷺ نے عثمان ؓ کو بلوایا اور ان کو قریش کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ ان کو بتادو کہ ہم لڑائی کے لئے نہیں آئے ہم عمرہ کیلئے آئے ہیں اور ان کو اسلام کی طرف بھی بلاؤ اور ان کو یہ بھی حکم فرمایا کہ مکہ میں رہنے والے مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں کے پاس جاؤ اور ان کو (مکہ) کے فتح ہونے کی خوشخبری دیدیو اور ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب اپنے دین کو مکہ میں غالب کریں گے یہاں تک کہ اس میں ایمان چھپا ہوا نہیں رہے گا تو حضرت عثمان قریش کی طرف گئے اور ان کو (ساری بات بتائی مشرکوں نے ان کو وہاں روک لیا اور رسول اللہ ﷺ نے بیعت کی طرف (صحابہ) کو بلایا اور رسول اللہ ﷺ کے ایک منادی نے آواز لگائی خبردار جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئے اور ان کو بیعت کا حکم فرمایا سو تم اللہ کے نام لے کر نکلو صحابہ نے آپ نے ہاتھ پر بیعت کی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی طرف چلے اور آپ درخت کے نیچے تشریف فرما تھے۔ آپ نے ان سے اس شرط پر بیعت کی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی طرف چلے اور آپ درخت کے نیچے تشریف فرما تھے، آپ نے ان سے اس شرط پر بیعت لی کہ وہ لوگ کبھی دشمن کے مقابلہ میں نہیں بھاگیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قریش پر رعب ڈال دیا تو انہوں نے ان تمام مسلمانوں کو آزاد کردیا جن کو انہوں نے روک رکھا تھا اور ان کو مذاکرات اور صلح کی دعوت دی۔
12:۔ مسلم وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی اور حضرت عمر ؓ کا دست مبارک تھامے ہوئے تھے اور آپ ببول کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے اور انہوں نے فرمایا کہ ہم نے آپ سے اس بات پر بیعت کی کہ ہم (میدان جنگ سے) نہیں بھاگیں گے اور ہم نے آپ سے موت پر بیعت نہیں کی۔
13:۔ عبد بن حمید (رح) ومسلم وابن مردویہ (رح) نے معقل بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ تحقیق تو نے مجھے درخت کے نیچے بیعت کرنے کے دن دیکھا اور نبی کریم ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے اور میں آپ کے سرمبارک سے اس کی ٹہنیوں میں سے ایک ٹہنی کو اٹھائے ہوئے تھے اور ہم چودہ سو تھے اور ہم نے آپ سے موت پر بیعت نہیں کی۔ لیکن ہم نے آپ سے (میدان جنگ سے) نہ بھاگنے پر بیعت کی۔
14:۔ البیہقی نے دلائل میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو بیعت کی طرف بلایا تو سب سے پہلے ان کی طرف پہنچنے والے ابوسنان اسدی تھے اور اس نے کہا اپنے ہاتھ کو آگے بڑھائیے میں آپ سے بیعت کروں گا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کس بات پر تو مجھ سے بیعت کرلے گا تو عرض کیا اس بات پر جو آپ کے دل میں ہے۔
15:۔ البیہقی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بیت رضوان کا حکم فرمایا تو عثمان بن عفان رسول اللہ ﷺ کے قاصد تھے مکہ والوں کی طرف لوگوں نے بیعت کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! عثمان ؓ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کام میں لگا ہوا ہے پھر آپ نے اپنے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ عثمان کیلئے تھا جو بہتر تھا ان کے اپنے ہاتھوں سے۔
16:۔ احمد نے جابر ومسلم نے ام بشر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان لوگوں میں سے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی کوئی دوزخ میں نہیں جائے گا۔
17:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ فعلم مافی قلوبھم فانزل السکینۃ “ سو جان لیا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا اور ان پر سکینہ کو نازل فرمایا اس پر جس سے وفا کو جان لیا گیا۔
18:۔ سعید بن منصور (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والبیہقی (رح) نے عبدالرحمن بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واثابھم فتحا قریبا “ (اور ان کو لگے ہاتھوں فتح عنایت کی)
19:۔ عبدالرزاق (رح) و ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں زہری (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی غائب کے لئے مال غنیمت میں سے کوئی حصہ نہیں دیا جو اس میں حاضر نہ ہوا مگر خیبر کا مال غنیمت تقسیم کرتے وقت اہل حدیبیہ کے غائب افراد کیلئے بھی حصہ نکالا اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے خیبر والوں کا مال حدیبیہ والے مسلمانوں کو بھی عطا فرمایا اور فرمایا (آیت ) ” وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونھا فعجل لکم ھذہ “ (اللہ تعالیٰ نے تم سے اور بھی بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے جو تم لوگ ہوسردست تم کو یہ دیدی ہے اور غنیمت اہل حدیبیہ کیلئے تھیں جو ان میں سے حاضر تھا اور جو غائب تھا (سب کو مال غنیمت میں سے ملا)
20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) لقد ؓ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ فعلم مافی قلوبھم فانزل السکینۃ “ (یعنی سکینہ سے مراد ہے) وقار اور صبر اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حدیبیہ کے زمانہ میں بیعت کی اور وہ (درخت کے نیچے تھے) جو ہم کو ببول کا درخت بتایا گیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سے اس کے نیچے بیعت کی اور وہ اس دن پندرہ سو تھے اور انہوں نے آپ سے بیعت کی اس بات پر کہ تم (میدان جنگ) سے نہیں بھاگوگے اور انہوں نے موت پر بیعت نہیں کی (آیت ) ” واثابھم فتحا قریبا (18) ومغانم کثیرۃ “ یعنی وہ خیر کا غنیمت کا مال تھا اس میں زمین بھی تھی اور مال بھی تھا تو نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان اس کو تقسیم فرمادیا۔
سورۂ فتح حدیبیہ سے واپسی پر نازل ہوئی :
21:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ سے مدینہ کی طرف واپس تشریف لائے یہاں تک کہ جب آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے تو آپ پر سورة فتح نازل ہوئی۔ اور فرمایا (آیت ) ” انا فتحنا لک فتحامبینا “ (سے لیکر) ” عزیزا “ تک۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دیہاتیوں کا اور ان کے نبی ﷺ سے مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (آیت ) ” سیقول لک المخلفون من الاعراب “ (سے لے کر) خبیرا “ تک پھر دیہاتیوں کے بارے میں فرمایا (آیت ) ” بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون “ (سے لے کر) ” سعیرا “ تک۔ پھر بیعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (آیت ) ’ لقد ؓ عن المؤمنین “ (سے لیکر) ” واثابھم فتحا قریبا “ تک اور یہ حدیبیہ کی فتح کا ذکر ہے۔
22:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ’ لقد ؓ عن المؤمنین “ کے بارے میں روایت کیا کہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے پندرہ سو پچیس تھے۔
23:۔ ابن مردویہ (رح) وابن عساکر (رح) نے ابوامامہ باھلی ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ’ لقد ؓ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ “ تو آپ نے فرمایا اے ابو امامہ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔
24:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واثابھم فتحا قریبا “ سے خیبر (کی فتح مراد ہے) جب (آپ اور صحابہ کرام) صلح حدیبیہ سے واپس تشریف لائے۔
25:۔ عبد بن حمید (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واثابہم فتحا قریبا “ سے خیبر کی فتح مراد ہے۔