Ayahs 48:1–31۔ (جس سے آپ ﷺ کو آیندہ پھر نہ دبنا پڑے) (آیت) ” فتحامبینا “۔ مراد صلح حدیبیہ ہے۔ جس کے بعد اہل عرب کثرت سے اور جوق جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ نزلت ھذہ السورۃ الکریمۃ لما رجع رسول اللہ ﷺ من الحدیبیۃ (ابن کثیر) والاکثرون علی انہ صلح الحدیبیۃ (معالم) 6 ہجر ی کا ماہ رجب (مطابق مارچ 628 ء۔ ) تھا۔ اور حکومت مکہ پر ابھی بدستور مشرکین قریش کا قبضہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک خواب کی بناء پر کعبہ کی زیارت وعمرہ کا خیال پیدا ہوا۔ اور آپ تقریبا چودہ سواحرام پوش صحابیوں کی جماعت کے ساتھ طواف کعبہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ شہر مکہ سے تین میل شمال میں ایک مقام حدیبیہ ہے۔ ابھی یہ قافلہ وہیں پہنچا تھا کہ ادھر سے حکومت مکہ کی طرف سے مزاحمت کی اطلاع ملی آپ ﷺ نے آگے بڑھنے کے بجائے وہیں قیام فرمادیا۔ اور ایک قاصد کے ہاتھ اہل مکہ کے پاس پیام کہلا بھیجا کہ ہم لڑنے کو نہیں، بلکہ صرف صلح وآشتی کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کو آئے ہیں۔ جواب نہ آیا۔ تو آپ ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو اپنا سفیر بنا کر بھیجا۔ ان کی واپسی میں بھی تاخیر ہوئی۔ اور یہ خبر مشہور ہوگئی کہ یہ سفیر رسول شہید کردیئے گئے۔ اس پر آپ ﷺ نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر سب صحابہ ؓ سے جہاد کی بیعت لی مشرکوں نے یہ سن کر حضرت عثمان ؓ کو واپس بھیج دیا۔ اب مکہ کے چند سردار بھی آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور گفتگو کے بعد ایک صلح نامہ مرتب ہوا جیس کی اکثردفعات سے بظاہر مسلمانوں کی سبکی ہوتی تھی۔ اور اس لئے بعض صحابیوں کو درمیان میں بہت جوش بھی آگیا۔ مگر آپ ﷺ نے سب کو روکا اور بالآخر مشرکوں ہی کے شرائط پر صلح نامہ مرتب ہوگیا اور آپ مع جاں نثار صحابیوں کے احرام اتار کر بغیر مکہ مکرمہ تک پہنچے واپس آگئے۔ اس ظاہری شکست کو فتح ہی سے نہیں، ” فتح مبین “ سے تعبیر کرنا حق تعالیٰ ہی کا کام تھا، کوئی بندہ تو ایسی خلاف ظاہر پیش خبری کی جرأت کر نہیں سکتا تھا۔ مؤرخین متفق ہیں کہ فتح مکہ، فتح خبیر بلکہ آئندہ کی ساری فتوحات کا سنگ بنیاد یہی صلح حدیبیہ ہے۔ قال الزھری لم یکن فتح اعظم من صلح الحدیبیۃ وذلک ان المشرکین اختلطوابالمسلمین فسمعوا کلامھم فتمکن الاسلام فی قولبوھم اسلم فی ثلاث سنین خلق کثیر وکثربھم سواد الاسلام (معالم) والمراد بہ صلح الحدیبیۃ فانہ حصل بسببہ خیر جزیل وامن الناس واجتمع۔ (آیت) ” لیغفرلک “۔ یعنی اس کثرت واجر وقرب کی برکت سے جو آپ کو اس واقعہ سے حاصل ہوا ہے۔ آپ ﷺ کے مراتب اور بڑھا دے۔ (آیت) ” من ذنبک “۔ رسول اللہ ﷺ معصوم کے سلسلہ میں جہاں کہیں بھی ذنب یا اس کا مرادف آتا ہے مراد اس سے ہمیشہ صرف صوری غلطیاں یا اجتہادی لغزشیں ہوتی ہیں جیسا کہ پیشتر حاشیوں میں کئی بار گزر چکا ہے (آیت) ” یتم نعمتہ علیک “۔ یعنی آپ ﷺ کے ہاتھ پر بکثرت لوگوں کو مسلمان کرکے اور اس طرح آپ کے اجرومراتب قرب میں بدرجہا اضافہ کرکے آپ پر اپنے انعام وافضال کی تکمیل کردے۔ آپ کی اجتہادی لغزشوں ہی سے درگزر نہ ہو بلکہ جو سلسلہ آپ ﷺ پر انعام وافضال کا چلا رہا ہے۔ اس کی بھی تکمیل ہوجائے۔ (آیت) ” نعمتہ “۔ آپ ﷺ کو نبوت ملی، قرآن ملا، معجزات ملے، علوم ومعارف ملے، یہ سب اسی انعام وافضال الہی کی فردیں ہیں۔ (آیت) ” یھدیک صراط مستقیما “۔ یعنی آئندہ بلاکسی روک ٹوک بلاحکومت مکہ کی طرف سے کسی مزاحمت کے آپ کے قدم آگے بڑھتے رہیں۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ اس واقعہ کے بعد سے پھر سرداران مکہ میں آپ سے مقابلہ کا دم خم باقی نہ رہا۔ (آیت) ” یھدیک۔ ینصرک “۔ نکتہ سنجوں نے کہا ہے کہ یھدیک سے مراد نفی مغلوبیت یا دفع مضرت ہے۔ اور (آیت) ” ینصرک “۔ کا حاصل اثبات قابلیت یا حصول منفعت ہے۔ (آیت) ” لیغفرلک “۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ ل تعلیل کے کے مرادف ہے۔ معناہ انا فتحنالک فتحا مبینا ل کے یجتمع لک مع المغفرۃ تمام النعمۃ فی الفتح (معالم) یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا تعلق اس آیت سے ہے۔ واستغفرلذنبک ولل مومنین وال مومن ات۔ قال الحسن بن الفضل ھو مردود الی قولہ واستغفر لذنبک (معالم) یہ بھی کہا گیا ہے کہ فتح سبب مغفرت نہیں۔ بلکہ لیغفرلک سے متصل قبل فاستغفر محذوف ہے۔ الفتح لیس بسبب للمغفرۃ والتقدیر انا فتحنالک فتحا مبینا فاستغفرلیغفرلک (مدارک)
Ayah 48:42۔ (چنانچہ جب مصلحت قتال کی ہوگی، حکم قتال کا دے گا ہر حکم بہرصورت اس علیم کے علم کا مل اور حکیم کی حکمت کامل کے ماتحت ہی ہوگا۔ (آیت) ” انزل السکینۃ “۔ سکینۃ کے معنی تسلی اور اطمینان قلب کے ہیں۔ اور یہی شے استقامت اور صبروثبات کی بنیاد ہے۔ اور یہ لفظ اہل لغت کی تحقیق میں نور اور قوت اور روح کا جامع ہے۔ السکینۃ السکون والطمانیۃ (کشاف) فسروھا بشیء یجمع نورا وقوتا وروحا بحیث یسکن الیہ ویتسلی بہ الحزین (روح) اس موقع خاص پر سکینت الہی کا ظہور دو طرح پر ہوا۔ ایک تو یوں کہ بیعت جہاد کے وقت صحابہ باوجود اس کے کہ گھر سے نکلتے وقت کوئی خیال بھی قتال کا نہ تھا۔ عزم جہاد پر ثابت ومستعدر رہے دوسرے اس طرح کہ مسلمانوں نے مشرکین مکہ کی سرتاسر بیجا ضد دیکھی، لیکن نہ قابو سے باہر ہوئے، نہ جوش سے بیخود ہوگئے۔ (آیت) ” لیزدادوا ایمانا مع ایمانھم “۔ یعنی اس خاص سکینت قلب کے پیدا ہوجانے سے اہل ایمان کے قلب میں اور زیادہ انشراح اور ان کے نور باطنی میں اور زیادہ نورانیت پیدا ہوگئی اور ایمان استدلالی وبرہانی کے ساتھ ساتھ ایمان عیانی بھی نصیب ہوگیا۔ فیحصل لھم الایمان العیانی والایمان الاستدلالی البرھانی (روح) طاعت میں یہ خاصہ بھی ہے کہ ہر نئے امر طاعت سے نور ایمان میں اور ترقی ہوتی رہتی ہے۔ اور یہ جو ہمارے امام ابوحنیفہ (رح) سے منقول ہے کہ الایمان لا یزداد ولا ینقص (ایمان میں نہ کمی ہوتی ہے نہ بیشی) سو اس سے ان کی مراد ذات ایمان یا نفس ایمان سے ہے جو قابل تجزی نہیں، باقی اس کے اوصاف وآثار میں کمی بیشی تو روزمرہ کا مشاہدہ ہے اور وہی یہاں مراد ہے۔ (آیت) ” وللہ الارض “۔ تو تم اپنی قلت تعداد اور بےسروسامانی پر نظر نہ کرو۔ خدا اپنے خدائی لشکروں سے تمہاری امداد وتائید ہر طرح کرسکتا ہے۔ (آیت) ’ جنود السموت والارض “۔ ان آسمانی اور زمینی لشکروں کے تحت میں فرشتہ اور ساری مخلوقات ہر نوع اور ہر طبقہ کی آگئی۔
Ayah 48:53۔ یہاں یہ تعلیم ہے کہ فوری، ظاہری، مادی فتح نہیں بلکہ جنت کے امتحان میں کامیابی ہی اصلی کامیابی ہے۔ (آیت) ” لیدخل ..... سیاتھم “۔ یعنی یہ ادخال جنت اور کفارۂ سیئات جو کچھ بھی ہوگا۔ سب اطاعت امر ہی کی بدولت ہوگا ..... گویا اس کلیہ کا اثبات کہ فضیلت ومقبولیت کا مدار اطاعت ہی ہے۔ (آیت) ” ال مومنین وال مومنت “۔ اس تصریح نے یہ بتادیا کہ وجوب اطاعت احکام اور پھر اس کے ثمرہ میں حصول قرب وفضیلت کے لحاظ سے مرد و عورت ہر دو جنس یکساں ہیں۔
Ayah 48:64۔ (اور اللہ سے بدگمانی کے تحت میں تکذیب رسول اور جملہ عقائد کفر وشرک داخل ہیں) (آیت) ” ویعذب ..... المشرکت “۔ عذاب منافق و مشرک دونوں کو کفر مشترک کی پاداش میں ہوگا ..... مشرکین ومشرکات کا جرم تو ظاہر ہی ہے کہ وہ رسول اور صحابہ رسول کی مزاحمت کررہے تھے اور منافقین اس جرم میں شریک اس حیثیت سے تھے کہ وہ بھی اسلام سے اپنے بغض وعناد کی بنا پر آرزو منداسی کے تھے کے مسلمان جنگ سے زندہ بچ کر واپس نہ آئیں (آیت) ” ظآنین ..... السوء “۔ غلبہ اسلام ومسلمین کے جو وعدے تھے، مشرکین ومنافقین انہیں سب جھوٹ سمجھ رہے تھے۔
5۔ برا وقت تو دنیا میں ہی میں پڑا تھا۔ لیکن اب اس سے کہیں بڑھ کر عذاب آخرت کا ہے۔ (آیت) ” علیہم دآئرۃ السوء “۔ یہ برا وقت دنیا میں مشرکین مکہ پر یوں پڑا کہ چند ہی روز میں قتل وگرفتاری سے ہر طرح مغلوب ومقہور ہو کر رہے اور منافقین کی باقی ساری عمر مسلمانوں کی ترقی و غلبہ میں جل جل کر اور کڑھ کڑھ کرکٹی۔
Ayah 48:76۔ (اس لئے مصلحتوں اور حکمتوں ہی کے تقاضہ سے نزول عذاب میں توقف کررہا ہے حالانکہ وہ بربادی کفار پر ہر وقت ہر طرح قادر ہے۔ جب چاہے دم بھر میں صفایا کردے) (آیت) ” للہ جنود السموت والارض “۔ یہ الفاظ ابھی پہلے بھی گزر چکے ہیں، مگر وہاں ان سے مقصود تھا، مومنین کے غالب کرنے پر قادر ہونا جس کا حاصل تسلیہ ہے، اور اب مقصود ہے کفار کے مقہور کرنے پر قادر ہونا جس کا حاصل تہدید ہے۔ اس لئے یہاں (آیت) ” حکیما “۔ کے ساتھ (آیت) ” عزیزا “۔ فرمایا۔ (تھانوی (رح))
Ayah 48:87۔ چناچہ بشارت اور انذار کا ظہور تو اسی دنیا میں ہوا اور آپ ﷺ مومنین کے حق میں (آیت) ” مبشر “۔ ثابت ہوئے اور کافروں کے حق میں (آیت) ” نذیر “۔ لیکن آپ کے شاہد ہونے کا ظہور آخرت میں ہوگا۔ جب آپ قیامت کے دن اعمال امت پر گواہی دیں گے۔ تشھد علی امتک یوم القیامۃ (مدارک)
Ayah 48:98۔ اس تسبیح و تقدیس کی تفسیر نماز سے بھی کی گئی ہے۔ اس صورت میں مراد اس سے فرض نمازیں ہوں گی۔ یرید تصلوالہ (معالم) اور مطلق ذکر بھی اس کے معنی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں مراد ذکر مندوب ہوگا۔ (آیت) ” بکرۃ واصیلا “۔ بعض نے صبح وشام سے مراد وعموم اوقات یعنی دوام لی ہے۔ یحتمل ان یکون اشارۃ الی المداومۃ (کبیر) (آیت) ” تعزروہ “۔ اس کی مدد کرو، یعنی اللہ کے دین کی مدد کرو۔ (آیت) ” تو قروہ “۔ یعنی اللہ کی تعظیم عقیدہ میں بھی کرو اور عمل سے بھی، عقیدۃ یوں کہ اسے جامع کمالات واصاف حسنہ سمجھو۔ ہر عیب، ہر نقص سے پاک و بالاتر۔ اور عملا یوں کہ اس کی اطاعت کرو، آیت میں ضمیر واحد چاروں جگہ حق تعالیٰ ہی کی جانب ہے۔ الضمائر للہ عزوجل والمراد بتعزیر اللہ دینہ ورسولہ ومن فرق الضمائر فقد ابعد (کشاف، مدارک) والظاہر ان الضمائر عائدۃ الی اللہ تعالیٰ (بحر) بعض نے تعزروہ اور تو قروہ کی ضمیریں رسول اللہ ﷺ کی جانب پھیری ہیں۔ وھذہ الکنایات راجعۃ الی النبی ﷺ (معالم) اس صورت میں مراد یہ ہوگی کہ آپ ﷺ کی سنت کے اتباع واجراء میں جان ومال سے شریک رہو۔ آپ ﷺ کی اعانت وتعظیم کا تارک، عاصی ہوگا۔
Ayah 48:109۔ (اور آپ سے ان کی بیعت گویا حق تعالیٰ ہی سے ان کی بیعت ہوئی) (آیت) ” ان الذین یبایعونک “۔ یہ بیعت صحابہ نے حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر عزم جہاد پر کی تھی، جب یہ خبر اڑی تھی کہ حضرت عثمان ؓ جو بحیثیت سفیر رسول مکہ میں گئے ہوئے تھے، انہیں مشرکوں نے شہیدکرڈالا۔ اور اس پر یہ رائے ٹھہری تھی کہ اب مشرکوں سے جنگ ناگزیر ہوگئی ہے۔ (آیت) ” انما یبایعون اللہ “۔ یہ اس لئے کہ حقیقۃ ان کا مقصود طاعت الہی ہی پر بیعت کرنا تھا۔ (آیت) ” یداللہ فوق ایدیھم “۔ یہ بھی بیعت ہی سے کنایہ ہے۔ اس لئے گویا ماقبل کی اور تاکید ہوگئی۔ اکدہ تاکیدا علی طریق التخییل (کشاف) موکد لہ علی سبیل التخییل (بیضاوی) یرید ان ید رسول اللہ ﷺ التی تعلوا یدی المبایعینھی ید اللہ (مدارک) ید کے معنی محاورہ میں غلبہ ونصرت کے بھی آتے ہیں۔ یقال الید لفلان اے الغلبۃ والنصرۃ والقھر (کبیر) اور یہ تو بالکل ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ کے ہاتھ کہاں ؟ یا کوئی سا بھی وصف جسمانی ومادی کہاں ؟ اللہ منزہ عن الجوارح وعن صفات الاجسام (مدارک)
10۔ یعنی جو کوئی بجائے طاعت کے مخالفت کرے گا، سو وہ خود ہی اپنی سزا کو پہنچے گا، خود ہی بھگتے گا، کسی کا کیا بگڑے گا۔ فقہاء نے کہا ہے کہ چونکہ الفاظ عام ہیں، اس لئے وعید کچھ اسی بیعت رضوان کے ساتھ مخصوص نہیں، جو کوئی جس عہد واجب الایفاء کو توڑے گا وہ اسی حکم میں داخل ہے۔ (آیت) ” فمن نکث “۔ وعید کے تحقق کے لئے ضروری ہے کہ نقض عہدعمدا ہوا یا دانستہ بےاعتنائی سے۔ باقی اگر کسی نے مجبوری سے یا محض سہو سے ایسا کیا اور اب نادم وخائف ہے تو وہ ناکث نہیں، شریعت کی نگاہ میں محض خاطی ٹھہرے گا۔
11۔ (آیت) ” علیہ “۔ ایک انگریز نے اپنی عربی دانی کے غلط زعم میں اس اعراب پر اعتراض کرکے یہ کہا ہے کہ اسے قاعدہ سے بجائے علیہ کے علیہ ہونا چاہیے۔ پر چہ ” صدق “۔ میں اس کے متعدد شافی جوابات مختلف اہل علم کے قلم سے درج ہوچکے ہیں۔ لیکن ایک اصولی سوال یہ ہے کہ خود اعتراض ہی کی بنیاد کیا ہے ؟ یہی نا کہ ” خلاف قاعدہ “ ؟ لیکن خود ” قاعدہ “۔ کہاں بنا ہے ؟ کیا ” قاعدہ “۔ پر کوئی وحی آئی ہوئی ہے ؟ قاعدہ تو خود ہی فصحاء واہل زبان کے کلام سے مستنبط ہوتا ہے تو جو کلام سارے اہل زبان کے نزدک سب سے افصح ہے، جب اس نے اس اعراب کو استعمال کردیا تو اس کے خلاف کوئی قاعدہ مستنبط ہی کہاں سے ہوا۔ ؟ اور ایسے باقاعدہ قاعدہ کا استنباط خود قاعدہ ساز یا قاعدہ گر کے سہو نظر پر محمول کیا جائے گا۔
Ayah 48:1112۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے سفارش کردیجئے کہ ہمارے اس عذر کی بناء پر ہم نے مؤاخذہ ترک جہاد کا نہ کیا جائے۔ استغفار کی درخواست باوجود عذر صحیح کے اگر غیر مخلص کی طرف سے ہو تو ریاء فی الاخلاص پر محمول ہوگی اور اگر مخلص کی طرف سے ہو تو اس کی بناء پر یہ ہے کہ عذر کا عذر ہونا اکثر امر اجتہادی ہوتا ہے اور اجتہاد کا مدار تحری پر ہوتا ہے، اس میں بعض اوقات تسویل نفسانی وشیطانی سے تامل یا عمل بمتقضاء تامل میں کوتاہی ہوجاتی ہے۔ الہذا استغفار کی حاجت ہوتی ہے ؛۔ (تھانوی (رح)) (آیت) ” سیقول لک “۔ یعنی آپ کے مدینہ پہنچنے پر کہیں گے۔ سورة کا نزول دوران سفر ہی میں ہوا تھا۔ (آیت) ” شغلتنا اموالنا واھلونا “۔ یعنی ہم اپنی مالی اور خانگی ضرورتوں میں ایسے الجھے رہے کہ ارادہ ونیت رکھنے کے باوجود نوبت شرکت جہاد کی نہ آسکی ..... یہ سب بطور سخن تراشی تھا۔ (آیت) ” المخلفون من الاعراب “۔ یہ دیہاتی عرب “۔ روایتوں میں آتا ہے کہ قبیلہ غفار ومزنیہ وجہنیہ واسلم واشجع وویل کے تھے ....
13۔ (اور وہی تمہارے تخلف کے اصلی وجوہ سے بھی مطلع کرسکتا ہے) (آیت) ” یقولون ..... قلوبھم “۔ یعنی ان کی یہ ساری ہی تقریر منافقانہ ہے۔ نہ ان کی یہ معذرت ہی صحیح ومطابق واقعہ ہے اور نہ وہ آپ ﷺ کی نبوت کے معتقد اور آپ کے استغفار کے قائل ہیں۔ اس تصریح نے یہ بات صاف کردی کہ یہ لوگ کمزور قسم کے مسلمان نہ تھے بلکہ پورے منافق تھے۔ (آیت) ” فمن ..... نفعا “۔ تو قضاء الہی کے مقابلہ میں تم اپنے مال و عیال کے کسی نقصان کو روک سکتے تھے ؟
Ayah 48:1214۔ یعنی اپنے ان خیالات کفریہ کی بناء پر ہر طرح مستحق عذاب وہلاکت ہوگئے۔ (آیت) ” بل قلوبکم “۔ یعنی تم اس خیال میں مگن تھے کہ اب کی سردارن مکہ ان بےسرو سامان مسلمانوں کا بالکل قلع قمع ہی کردیں گے۔ اور انہیں زندہ سلامت واپس ہی نہ آنے دیں گے۔ (آیت) ” ظننتم ..... قلوبکم “۔ خطاب منافقین کو ہے۔ (آیت) ” وظننتم ظن السوء “۔ حق تعالیٰ سے بدگمانیاں یہی تھیں کہ اب کفر وشرک کو فروغ ہوگا، اور اسلام کی بات نیچی ہوجائے گی۔
Ayahs 48:13–1415۔ (چنانچہ مشرک بھی جو ہر طرح مستحق عذاب ہوچکتا ہے، اگر ایمان لے آوے تو بخش دیا جاتا ہے) (آیت) ” وللہ ..... الارض “۔ عالم ناسوت یا عالم آخرت۔ ہر عالم میں سکہ حکومت بس اسی خالق یکتاو بےہمتا کا چلتا ہے۔ وہی ایک مطلق الاختیار ہے۔ قوت مدبرہ سارے کائنات میں اسی ایک کی ہے۔ (آیت) ” یغفرلمن یشآء ویعذب من یشآء “۔ یعنی مغفور ہونے اور معذب ہونے دونوں کے اسباب اسی کے قوانین تکوینی کے ماتحت ہیں۔ ساری کائنات اور اس کے حوادث اسی کی مشیت کے مسخر ہیں۔
Ayah 48:1516۔ صلح حدیبیہ کے کچھ ہی روز بعد معرکہ خبیر پیش آیا۔ جس میں مسلمانوں نے دولت مندو پر قوت یہودیوں پر فتح عظیم پائی، آیت میں اسی پیش آنے والے واقعہ کا ذکر بصورت پیش خبری ہے۔ (آیت) ” سیقول المخلفون “۔ اخلاص منافقین کے اس قول میں بھی نہ ہوگا۔ اب جو ساتھ چلنے کو کہیں گے تو محض مال غنیمت کی حرص وطمع میں۔ (آیت) ”’ اذا .... لتاخذوھا “۔ جنگ ابھی نہ ہوئی ہے، نہ باسباب وقرائن ظاہر ابھی شروع ہونے کو ہے۔ قرآن مجید دعوی وتحدی کے ساتھ نہ صرف وقوع جنگ کی پیش گوئی کردیتا ہے، بلکہ نتیجہ جنگ یعنی مسلمانوں کی فتح اور یہود کی مغلوبیت وہزیمت کا بھی اتنے قبل سے اعلان کئے جارہا ہے ! بجز عالم الغیب والشہادۃ کے کوئی بھی ایسی پیشگوئیوں کی جرأت کرسکتا ہے ؟ (آیت) ” اذا انطلقتم “۔ واقعہ مستقبل کا ذکر صیغہ ماضی سے عربی میں اسی وقت آتا ہے، جب اس واقعہ آئندہ کا وقوع یا پیشگوئی کا تحقق بالکل قطعی اور یقینی ہو۔ (آیت) ” الی مغانم لتاخذوھا “۔ اس میں اشارہ منافقین کی حرص وطمع کی طرف بھی آگیا۔ (آیت) ” ذرونا نتبعکم “۔ منافقین کو اب شرکت جہاد سے ممانعت کردی گئی تھی، یہ درخواست اسی حکم امتناعی کی منسوخی کے لئے ہورہی ہے۔ (آیت) ” انطلقتم۔ نتبعکم “۔ تم اور کم کی ضمیریں (جمع مخاطب کی) مسلمانوں کیلئے ہیں۔
17۔ یہ جواب رسول اللہ ﷺ کی زبان سے ادا کرایا جارہا ہے۔ (آیت) ” کلم اللہ “۔ یعنی حق تعالیٰ کا یہ حکم کہ خبیر بجز، اہل حدیبیہ کے اور کوئی نہ جائے۔ (آیت) ” کلم “۔ کی دوسری تفسیر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اسے حق تعالیٰ کے وعدہ تکوینی کے معنی میں لیا جائے۔ اس صورت میں مراد یہ ہوگی کہ اللہ نے مومنین مخلصین سے یہ جو وعدۂ کر رکھا ہے کہ خیبر کی غنیمت صرف تمہیں کو ملے گی اسے یہ منافقین خود شریک ہو کر جھٹلا دینا چاہتے ہیں۔ (آیت) ” لن تتبعونا “۔ لن یہاں مطلق تابید کے لئے نہیں، بلکہ صرف غزوۂ خیبرتک کے لئے محدود ہے۔ (آیت) ” کذلکم ..... قبل یعنی ہم تمہاری درخواست ہرگز منظور نہیں کرسکتے۔ ہم کو پہلے ہی سے یہ حکم مل چکا ہے کہ ان کو مت ساتھ لے جانا دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ تم زبان سے کچھ بھی کہو، تم بہرحال ہمارے ساتھ جانے پر قادر نہ ہوسکوگے وعدۂ الہی یہی ہے اور وہ غلط نہیں ہوسکتا۔
18۔ منافقوں کی کم فہمی بلکہ نافہمی اسی سے ظاہر ہے کہ مومنین صادقین و مخلصین جن کے ہاں حسد ونفسانیت کا گزر نہیں، ان کے صحیح اور واقعی جواب کو حسد ونفسانیت پر محمول کررہے ہیں۔ (آیت) ” فسیقولون بل تحسدوننا “۔ یعنی یہ منافقین کہیں گے کہ یہ کوئی حکم خداوندی نہیں۔ بلکہ تم ہی یہ نہیں چاہتے ہو کہ ہم اس نفع میں شریک ہوں، اس لئے ہم سے یہ بہانے تراش رہے ہو، انسان اپنے ہی پیمانے سے دوسروں کو ناپتا ہے۔ منافقین نے اپنے ہی نفس پر قیاس کرکے یہ بات مسلمانوں کے حق میں کہہ دی۔ (آیت) ” بل ..... قلیلا۔ منافقین اور وہ بھی دیہات عرب کے۔ سمجھ ہی کیا سکتے تھے کہ مجاہد کا ظرف کتنا بلند ہوتا ہے۔
Ayah 48:1619۔ (خواہ مسلمان ہو کر خواہ ذمی بن کر) (آیت) ” من الاعراب “۔ دوبارہ اس کی تصریح ہے کہ یہ منافقین شہری نہیں، دیہاتی تھے۔ اور دیہاتیوں کا درجہ کفر ونفاق شہریوں سے بڑھا ہوا تھا۔ (آیت) ” الاعراب اشد کفرا ونفاقا۔ (آیت) ” قوم ..... شدید “۔ اسی پیش گوئی میں صاف اشارہ رومہ اور ایران کی مسیحی ومجوسی باقاعدہ اور آلات جدید سے مسلح فوجوں اور لشکروں کی جانب ہے۔ بعض نے لشکر بنوحنیفہ بھی مراد لی ہے جن کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جہاد کیا تھا۔ اور فقہاء مفسرین نے اس سے خلیفہ اول ودوم کے خلیفہ راشد ہونے پر استدلال کیا ہے۔ ؛ فھو دلیل علی صحۃ امامۃ ابی بکر ؓ وعمر ؓ وعثمان ؓ لان ابابکر دعاھم الی قتال بنی حنیفۃ ودعاھم عمر الی قتال فارس والروم انہ الزمھم اللہ طاعۃ من یدعوھم الیہ (جصاص) وفی الایۃ دلالۃ صحۃ خلافۃ الشیخین حیث وعدھم الثواب علی طاعۃ الداعی عند دعوتہ (مدارک) (آیت) ” ستدعون .... شدید “۔ یعنی اگر اجر حاصل کرنا مقصود ہے تو اس کی تخصیص کچھ اسی موقع کے ساتھ نہیں۔ خیبر کے بعد بھی شدید معرکے ہوں گے۔ ان میں شریک ہوجانا، (آیت) ” یسلمون “۔ اسلام۔ یہاں لغوی معنی میں ہے۔ یہ لازمی نہیں کہ فریق محارب اپنا دین بدل کر اسلام اصطلاحی ہی قبول کرلے۔ بلکہ جزیہ دے کر رعایائے اسلام بن جانا اور حکومت اسلام کی اطاعت قبول کرلینا بھی (آیت) ” یسلمون “۔ ہی کے مفہوم میں داخل ہے۔
20۔ یہ منافقین کو ایک موقع اور دیا جارہا ہے۔ اب بھی ان کے لئے مہلت و گنجائش ہے کہ چاہیں تو اسلام کو مستند ومصدق کرالیں۔ (آیت) ” فان تطیعوا “۔ یعنی اگر اب بھی تم لوگ حکم خداوندی کی اطاعت کرو گے، شریک جہاد ہوجاؤ گے۔ (آیت) ” یؤتکم .... حسنا “۔ پچھلی غلطیاں اب بھی معاف ہوسکتی ہیں۔ یہ نہ ہوگا کہ ان کے انتقام میں تم اپنی فی الوقت طاعت و عبادت کے اجر سے محروم رکھے جاؤ۔ (آیت) ” وان ...... الیما “۔ آیت کے اس جزء سے مزید روشنی خلافت اول ودوم کی حقانیت پر پڑگئی۔ فدل علی صحۃ امامتھما اذا کان المعرض عن طاعتھما مستحقا للعقاب (جصاص) فوجب ان یکون الداعی مفترض الطاعۃ (مدارک)
Ayah 48:1721۔ اطاعت وعراض دونوں راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ ان دونوں کے ثمرات، نجات و عذاب بھی بالکل واضح ہیں۔ (آیت) ”‘ لیس .... المریض حرج “۔ یعنی یہ شرکت جہاد کا حکم علی الاطلاق ہر فرد کیلئے نہیں ہے۔ جو معذور یابیمار ہیں، وہ اس حکم سے شروع ہی سے مستثنی ہیں۔ عتاب تو صرف ان پر ہے جو بلاکسی عذر قوی کے خواہ مخواہ غیر حاضر رہے۔
Ayah 48:1822۔ اشارہ فتح خبیر کی جانب ہے۔ خیبر، مدینہ سے سومیل کے فاصلہ پر، شام کے راستہ پر یہود کی ایک مستحکم گڑھی تھی، اور یہیں دولت مند پر قوت یہود کی ایک بستی بھی آباد تھی، اس جنگ میں کل 19 مسلمان شہید ہوئے، یہود کے 93 آدمی کام آئے۔ اور زمین حجاز پر ان کا سب سے زیادہ مضبوط قلعہ مسخر ہوگیا۔ (آیت) ” اذ یبایعونک “۔ اس بیعت کا ذکر ہے جو آپ ﷺ نے مقام حدیبیہ میں مسلمانوں سے عزم جہاد پر حضرت عثمان ؓ کی خبرشہادت سن کرلی تھی، اسی بیعت کا مشہور نام بیعت الرضوان ہے۔ (آیت) ” لقد ..... ال مومنین “۔ یہ ان خوش نصیب مومنین کیلئے مستقل پروانہ رحمت ہے ... اللہ اللہ، محض جہاد پر اصل جہاد کا اجر دے دیا۔ آیت ان اصحاب بیعت کی صحت ایمان پر ایک شہادت نصی ہے۔ فیہ الدلالۃ علی صحۃ ایمان الذین بایعوا النبی ﷺ بیعۃ الرضوان بالحدیبیۃ (جصاص) فدل علی انہم کانوا مومنین علی الحقیقہ اولیاء اللہ اذ غیر جائز ان غیر اللہ یرضاہ عن قوم باعیانھم الا وباطنھم کظاھرھم فی صیحۃ البصیرۃ وصدق الایمان (جصاص) (آیت) ” تحت الشجرۃ “۔ یہ درخت کی کر (سمرہ) کا تھا ... بعض روایتوں میں (اور یہ روایتیں کچھ زیادہ قومی نہیں) آتا ہے کہ یہ درخت حضرت عمر ؓ کے زمانہ تک قائم و سلامت رہا۔ مگر آپ ؓ نے جب دیکھا کہ لوگوں کا حسن اعتقاد اس درخت کے حدود سے متجاوز ہو کر ضعیف الاعتقادی اور رہم پرستی تک پہنچا جاتا ہے، تو آپ ؓ نے اسے کٹواڈالا۔ (آیت) ” ما فی قلوبھم “۔ ان مومنین صادقین کے دلوں کا جذبات اخلاص ووفاداری سے لبریز ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ ممکن ہے اپنی بےسروسامانی پر نظر کرکے قوت طبیعی میں بھی کسی درجہ ضعف ہو۔ (آیت) ” فانزل السکینۃ علیھم “۔ اور اس نزول سکینت کا نتیجہ یہ ہوا ہے ان لوگوں کو حکم الہی کے ماننے میں ذرا پس وپیش نہ رہا۔ فقہاء نے اس سے یہ استنباط بھی کیا ہے کہ نیت اگر صادق ہے تو توفیق الہی ضرور دستگیری کرے گی، وھذا یدل علی ان التوفیق یصحب صدق النیۃ (جصاص) (آیت) ” فعلم مافی قلوبھم “۔ اس سے ان اصحاب بیعت کے صدق ایمان وصدق نیت کی اور زیادہ تاکید اور تقویت ہوگئی۔ اخبرانہ علم من قلوبھم صحۃ البصیرۃ وصدق النیۃ وان ماابطنوہ مثل ما اظھروہ (جصاص)
Ayah 48:1923۔ وہ اپنی قدرت سے جس کو بھی چاہے اور اپنی حکمت سے جب بھی چاہے فتح و غلبہ دے دیتا ہے۔ (آیت) ” مغانم کثیرۃ یاخذونھا۔ مشہور مسیحی سیرت نگار سرولیم میور نے لکھا ہے کہ اتنا مال غنیمت اس سے قبل کبھی مسلمانوں کو نہیں ملا تھا۔ کھجور، تیل، شہد، جو کے عظیم الشان ذخیرے، بھیڑوں کے گلے، اونٹوں کی قطاریں، اور ان سب کے علاوہ بکثرت نقدی اور زیورات یہ سب ہاتھ لگے۔
Ayah 48:2024۔ (اور وہ سیدھی راہ اللہ کے وعدوں پر وثوق واعتماد کی ہے) (آیت) ” وعدکم ..... تاخذونھا “۔ یہ غنائم کثیر کے وعدے پہلے خود رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور پھر خلافت راشدہ کے دور میں بار بار اور کثرت سے پورے ہوتے رہے۔ خطاب یہاں عام امت سے ہے۔ (آیت) ” فعجل .... عنکم “۔ یعنی ان اغیار واشرار پر تمہارا رعب بیٹھ گیا اور انہیں ہمت ہی تم سے زیادہ مقابلہ کی نہ پڑی۔ (آیت) ” الناس “ کا اشارہ خصوصی یہود خیبر اور ان کے حلیفوں کی جانب ہے۔ یعنی ایدی اھل خیبر وحلفاءھم (مدارک) (آیت) ” ھذہ “۔ یعنی یہی فتح خیبر اور اس کی غنیمتیں “۔ یعنی مغانم خیبر (مدارک) (آیت) ” لتکون ایۃ لل مومنین “۔ یعنی مومنین کا ایمان اور مضبوط ہوگیا ..... یہ ایک خالص علمی واعتقادی نفع ہوا۔ (آیت) ” ویھدیکم صراطا مستقیما “۔ یعنی اللہ کے وعدوں پر اعتماد اور قوی ہوگیا ..... یہ ایک خالص عملی واخلاقی نفع ہوا گویا علاوہ مادی ومالی نفع کے یہ دینی نفع بھی دو دو حاصل ہو کر رے۔
Ayah 48:2125۔ (اور ایک اسی واقعہ کی کیا تخصیص ہے) (آیت) ’ واخری “۔ اشارہ فتح مکہ کی جانب ہے۔ (لم تقدروا علیھا “۔ وہ فتح ابھی تک تمہارے بس میں نہیں آئی ہے۔ لیکن اس کا اشتیاق درجہ کمال میں رکھتے ہو۔ (آیت) ” قد احاط اللہ بھا “۔ اور اللہ جب چاہے گا اسے واقع کردکھائے گا۔
Ayah 48:2226۔ (جو انہیں قہرالہی کی اس گرفت سے بچا سکتا) (آیت) ” الذین کفروا “۔ اشارۂ خصوصی یہود خیبر کی طرف ہے۔ انہیں کو مدد کی امیدیں مشرکین عرب کے قبائل بنو غطفان وغیرہ سے تھیں۔ انہوں نے عین وقت پر صاف جواب دے دیا۔
Ayah 48:2327۔ یعنی اللہ نے جو ضابطے قاعدے مقرر کر رکھے ہیں، مجال نہیں کہ کوئی مخلوق اس میں کچھ دخل دے سکے۔ (آیت) ” سنۃ .... قبل “۔ یہ اہل حق کے غلبہ اور اہل باطل کی مغلوبیت کا (بشرطیکہ کوئی وقتی حکمت ومصلحت اس کے معارض نہ ہو) دستورآج سے نہیں شروع سے چلا آرہا ہے۔
Ayah 48:2428۔ (چنانچہ ایسا کام اس نے تمہارے ہاتھ سے نہ ہونے دیا جس کا نتیجہ قتال ہوتا) (آیت) ” وھو ..... عنھم “۔ یعنی تم مسلمانوں اور مشرکوں کو باہمی قتل و قتال سے روک دیا۔ (آیت) ” کم صیغہ جمع مخاطب مسلمانوں کے لئے ہے اور ھم صیغہ جمع غائب مشرکین مکہ کے لیے ہے۔ اشارہ صلح حدیبیہ کی جانب ہے۔ (آیت) ” ببطن مکۃ “۔ بطن مکہ، سے مراد حدیبیہ ہے جسے کمال قرب واتصال کی بناء پر بطن مکہ ہی قرار دے دیا گیا۔ فقہاء حنفیہ کے ہاں، حرم مکہ میں حدیبیہ کا ایک جزء بھی شامل ہے۔ (آیت) ” من ..... علیھم “۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے اس سے اشارہ فتح مکہ کی جانب سمجھ کر استنباط یہ کیا ہے کہ مکہ صلح کے ذریعہ سے نہیں بلکہ جنگ سے مسلمانوں کے ہاتھ میں آیا۔ وبہ اشتشھد ابو حنفیۃ (رح) علی ان مکۃ فتحت عنوۃ لاصلحا (مدارک)
Ayah 48:2529۔ (اور اس طرح جرم درجرم کے مرتکب ہوچکے تھے) (آیت) ” المسجد الحرام “۔ اس کے تحت میں خانہ کعبہ اور اس کے ملحقات وتوابع سب داخل ہیں۔ (آیت) ” والھدی ..... محلۃ “۔ یعنی قربانی کے جانور کو منی کی قربانگاہ میں پہنچنے سے روک دیا۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے گئے تھے اور قربانی کے جانور ساتھ لے گئے تھے۔ یہی خیال تھا کہ منی پہنچ کر جانور بھی قربان کریں گے۔ والمراد المحل المعھود وھو منی (مدارک) فقہاء نے آیت سے استنباط کیا ہے کہ قربانی کی جگہ حدود حرم کے اندر ہی ہے۔ وفی الایۃ دلالۃ علی ان المحل ھو الحرم فلوکان محلہ غیرالحرم لماکان معکوفا عن بلوغہ (جصاص)
30۔ یعنی ابھی تمہیں قتال کا حکم دے کر سب کا کام تمام کرادیا جاتا۔ لیکن اس حکم نہ دینے کی ایک مصلحت یہ تھی کہ تمہاری بیخبر ی ولاعلمی میں مکہ کے مسلمانوں کا خون ہوجاتا۔ اور تمہیں اس سے جو غم و صدمہ یا گناہ ہوتا وہ الگ۔ ” اگر یہ شبہ ہو کہ بیخبر ی میں گناہ ہی کیوں ہوگا تو جواب یہ ہے کہ جہاں بیخبر ی کا رفع قدرت میں ہو اور رفع میں کوشش نہ کی جائے، اس کا گناہ ہوگا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ صحابہ ؓ میں اس کا احتمال کب ہے کہ وہ کوشش میں کوتاہی کرتے۔ جواب یہ ہے کہ بعض اوقات اس طرف التفات نہیں ہوتا کہ ہم سے کوتاہی ہوئی، اور صحابہ سے بےالتفاتی کا صدور محل اشکال نہیں “۔ (تھانوی (رح)) (آیت) ” ولو ..... تعلموھم “۔ بہت سے کلمہ گو مرد اور عورتیں دونوں مکہ معظمہ میں مشرک حکومت کے درمیان محبوس ومظلوم موجود تھے۔
31۔ (چنانچہ یہاں بھی ہوا۔ اور اندرون مکہ، بیرون دونوں کے مسلمانوں پر اللہ کا فضل خاص رہا)
32۔ یعنی مسلمانوں ہی کے ہاتھوں انہیں قتل کرادیتے۔ (آیت) ” لوتزیلوا “۔ یعنی مسلمان اگر مکہ سے باہر چلے گئے ہوتے اور شہر میں موجود نہ ہوتے۔ (آیت) ” منھم “۔ یعنی اہل مکہ میں سے۔
Ayah 48:2633۔ (اور اس سکینت الہی کا اثر یہ ہوا کہ مسلمان جوش میں آکر لڑ نہیں بیٹھے) مشرکین کی بےجا ضد اور مسلسل اشتعال انگیزی کا طبعی تقاضہ تو بالکل یہی تھا کہ مسلمان بھی لڑنے مرنے پر آمادہ ہوجاتے۔ (آیت) ” اذ ..... الجاھلیۃ “۔ یعنی جب مشرکوں کی طرف سے بےدینی والی عصبیت کا اظہار ہونے لگا تھا۔ جب صلح نامہ مرتب ہونے لگا اور مسلمانوں کی طرف سے حضرت علی ؓ اس کی کتابت کرنے لگے تو مشرک گورنمنٹ کے نمائندوں نے اشعتال انگیزمطالبے اس قسم کے شروع کیے :۔
(1) معاہدہ پر بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ لکھی جائے۔
(2) معاہدہ پر صرف محمد بن عبداللہ لکھا جائے۔ محمد رسول اللہ نہ لکھا جائے، وقس علی ھذا۔
رسول اللہ اس قسم کے سارے مطالبات کو منظور فرماتے چلے گئے۔
34۔ (تو مسلمانوں کی ان کیفیات کا اسے مفصل ومکمل علم کیسے نہ ہوتا) (آیت) ” کلمۃ التقوی “۔ یہاں تقوی کی بات رسول کی اطاعت تھی، اور یہ اسی کا مقتضا تھا۔ جس سے پر جوش مسلمانوں نے اپنے کو قابو میں رکھا۔ (آیت) ” کانوا احق بھا “۔ اس احساس تقوی کا تعلق اسی دنیا سے ہے۔ یعنی مسلمانوں کے قلوب میں طلب حق ہے اور یہی انہیں اطاعت رسول پر جمائے ہوئے رہی۔ (آیت) ” واھلھا “۔ اس اہلیت تقوی کا تعلق عالم آخرت سے ہے۔ یعنی اس کا اجر وثواب انہیں آخرت میں ملے گا۔
Ayah 48:2735۔ یعنی بالکل امن وامان کے ساتھ، بغیر کسی خطرہ کے۔ (آیت) ” المسجد الحرام “۔ یہاں بھی مراد خانہ کعبہ اور اس کے ملحقات وتوابع ہیں۔ (آیت) ” محلقین رؤسکم ومقصرین “۔ حلق۔ (سرکے بال منڈانا) اور قصر (سر کے بال کترانا) شعائر حج وعمرہ میں سے ہیں۔ (آیت) ” لقد ..... بالحق “۔ مطلب یہ ہے کہ نفس مشاہدہ جو رسول اللہ ﷺ کو خواب میں کرایا گیا۔ وہ بالکل سچا تھا۔ یعنی یہی کہ آپ مع مومنین یقیناً زیارت جو طواف کریں گے لیکن خواب میں یہ تو نہ تھا کہ یہ اسی سال واقع ہوگا۔ آخر آپ ﷺ نے ایک سال بعد ذی قعدہ 07 ھ میں عمرہ ادا فرمایا۔
36۔ (اس خواب کی تعبیرفورا نہ پوری ہونے کی تلافی کے طور پر) (آیت) ” فتحاقریبا “۔ مراد اسی فتح خیبر سے ہے جیسا کہ اوپر بھی ذکر آچکا ہے۔ (آیت) ” فعلم مالم تعلموا “۔ اس یک سالہ مدت کی تاخیر میں جو جو حکمتیں اور مصلحتیں تھیں، ان کا بندوں کو کیا علم۔
Ayah 48:2837۔ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا) اور اللہ کی گواہی کا ظہور دنیا میں یوں ہوا کہ اللہ نے آپ ﷺ کی رسالت پر دلائل قوی قائم کردیئے۔ بلحاظ اعجاز قرآنی بھی اور بلحاظ آپ ﷺ کے دوسرے کمالات اعجازی کے بھی (آیت) ” رسولہ “۔ کھلی ہوئی مراد حضرت محمد ﷺ سے ہے۔ (آیت) ” بالھدی “۔ سامان ہدایت یا قرآن۔ (آیت) ” دین الحق “۔ یعنی دین اسلام (آیت) ” لیظھرہ علی الدین کلہ “۔ یہ غلبہ معنوی حیثیت سے، یعنی بلحاظ قوت دلائل تو ہمیشہ ہی قائم رہا ہے۔ باقی مادی وصوری حیثیت سے بھی جب تک اہل دین میں صلاح ہے۔ برابر قائم رہے گا۔
Ayah 48:2938۔ (سچے اور برحق) اس میں یہ اشارہ کردیا کہ آپ ﷺ کا نام قیامت تک اس طرح پر چلانے کے تو ہم ضامن ذمہ دار ہیں، اس ایک صلح نامہ پر اس کے درج ہونے نہ ہونے سے کیا ہوتا ہے۔ لفظ محمد ﷺ پر حاشیہ سورة آل عمران (پ 4) میں گزر چکا۔ اسی اپریل 50 ء میں مسیحیوں کے مشہور امریکہ سہ ماہی رسالہ مسلم ورلڈ میں ایک مسیحی فاضل نے لکھا ہے کہ اسم محمد ﷺ (اور اس کے متقاربات احمد ﷺ ومحمود ﷺ وغیرہ) سے زیادہ کوئی بھی مردانہ نام دنیا میں چلا ہوا نہیں ہے !
39۔ اس خدائی صداقت نامہ کے اندر سارے صحابہ رسول داخل ہیں، خصوصا وہ جو حدیبیہ میں آپ ﷺ کے ہمراہ تھے۔ قال الجمھور جمیع اصحابہ (روح) (آیت) ” معہ “۔ معیت کا اطلاق کثیر وقلیل ہر مدت صحبت پر ہوتا ہے۔ (آیت) ” اشدآء علی الکفار “۔ یعنی کافروں کے مقابلہ میں ان کے کفر ہی کی بناء پر مضبوط وثابت قدم ہیں۔ ان کے مقابلہ میں ڈھیلے نہیں پڑتے۔ کسی طرح پر ان سے مرعوب نہیں ہوتے بغض فی اللہ کے یہی معنی ہیں۔ (آیت) ” رحمآء بینھم “۔ یعنی ان کا برتاؤ اپنے دینی بھائیوں یعنی مسلمانوں کے ساتھ شفقت، محبت وہمدردی کا رہتا ہے۔ حب فی اللہ، کے یہی معنی ہیں۔ یہ عام حکم ہر مسلمان کے لئے ہے۔ ہر مسلمان میں یہ دونوں خصوصیات ہونی چاہئیں۔ اب آج مسلمان اس آیت کے آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھ کر اپنے حال پر غور کرلیں کہ کفر کے مقابلہ میں سختی اور ایمان کے معاملہ میں اپناچہرہ دیکھ کر اپنے حال پر غور کرلیں کہ کفر کے مقابلہ میں سختی اور ایمان کے معاملہ میں نرمی کتنی کم باقی رہ گئی ہے۔ فقہاء مفسرین نے یہ تصریح کردی ہے۔ کہ کسی مخصوص حالت میں اگر مومن کے ساتھ سختی کا اور کافر کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا پڑجائے تو وہ اس عام حکم کے منافی نہیں۔ صوفیہ کی اصطلاح میں کہ کہا جائے گا کہ مومینن (آیت) ” اشدآء علی الکفار “۔ کے اقتضاء سے صفات جلال کے اور (آیت) رحمآء بینھم کے اقتضاء سے صفات جمال کے جامع ہوتے ہیں۔
40۔ یہ آثار خشوع وخصوع کے انوار ہوتے ہیں جو ہر مومن متقی کے چہرہ میں مشاہدہ کیے جاسکتے ہیں۔ (آیت) ” ترھم رکعا سجدا “۔ یعنی ہر وقت عبادت الہی میں لگے رہتے ہیں۔ (آیت) ” یبتغون فضلا من اللہ “۔ یعنی ہر وقت اجر کی فکر و جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ (آیت) ” ورضوانا “۔ یعنی ہر وقت قرب الہی کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔
41۔ توریت موجودہ میں صدہا تحریفات وتصرفات کے بعد بھی یہ الفاظ باقی رہ گئے ہیں۔” فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا “۔ (استثناء 33: 2) ۔ فاران مکہ معظمہ ہی کی ایک پہاڑی کا نام ہے۔ اور فتح مکہ کے وقت 10 ہی ہزار صحابی آپ ﷺ کے جلو میں تھے۔” اس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشین شریعت انکے لیے تھے “۔ (ایضا) قرآن کا بیان ابھی گزر چکا ہے۔ (آیت) ” اشدآء علی الکفار “۔ ہاں وہ اس قوم سے محبت رکھتا ہے “۔ (ایضا) قرآن کے الفاظ ابھی ابھی گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” رحمآء بینھم “۔ ” اس کے سارے مقدس تیرے ساتھ میں ہیں۔ اور وہ تیرے قدموں کے نزدیک بیٹھے ہیں اور تیری باتوں کو مانیں گے “۔ قرآن کی عبارت ابھی ابھی گزر چکی ہے۔ (آیت) ” رکعا سجدا یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا “۔
42۔ موجودہ محرف ومسخ شدہ انجیل میں بھی یہ عبارتیں مل جاتی ہیں :۔” آسمان کی بادشاہت اس رائی کے دانہ کے مانند ہے جسے کسی آدمی نے اپنے کھیت میں بودیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا ہوتا ہے۔ مگر جب بڑھ جاتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا ہوتا ہے اور ایسا درخت ہوجاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آکر اس کی ڈالیوں میں بسیرا کرتے ہیں “۔ (متی۔ 13: 31۔ 32) ” پھر اسی نے کہا کہ ہم خدا کی بادشاہت کو کس سے تشبیہ دیں اور کس تمثیل میں اسے بیان کریں ؟ وہ رائی کے دانہ کی مانند ہے کہ جب زمین میں بویا جاتا ہے تو زمین کے سب بیجوں سے چھوٹا ہوتا ہے۔ مگر جب بودیا گیا تو اگ کر سب ترکاریوں سے بڑا ہوجاتا ہے۔ اور ایسی بڑی ڈالیاں نکالتا ہے کہ ہوا کے پرندے اس کے سائے میں بسیرا کرسکتے ہیں۔ (مرقس۔ 4: 30۔ 32) نیزلوقا (13: 18، 19) قرآنی الفاظ نے آغاز اسلام کے ضعف اور پھر اس کے تدریجی قوت وتقویت کی کتنی صحیح تصویر کھینچ دی ہے۔ (آیت) ” یعجب الزراع “۔ کسانوں کی تخصیص اس لیے کہ کھیتی باڑی کے معاملہ میں وہی صاحب بصیرت ہوتے ہیں۔ جب کھیتی انہیں بھلی لگنے لگی تو ضرور ہے کہ واقع میں بھی بھلی ہو،
43۔ یہ ایک بڑی جامع وبلیغ مدح صحابہ ہے جو خود قرآن مجید نے بیان کردی ہے اور شاتمین صحابہ کے خلاف ایک حجت قوی و دلیل قطعی ہے۔ (آیت) ” لیغیظ بھم الکفار “۔ کافرعہد صحابہ کی فتوحات اور ترقیوں سے آج تک جلتے چلے آرہے ہیں۔ امام مالک (رح) نے اس آیت سے فرقہ شاتم صحابہ کے کفر پر استدلال کیا ہے۔ قال مالک بن انس من اصبح وفی قلبہ غیظ علی اصحاب رسول اللہ فقد اصابتہ ھذہ الایۃ (معالم) لیکن جیسا کہ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ یہ استدلال کمزور ہے، صحابہ پر کفاروں کے ذی غیظ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ جو بھی صحابہ پر ذی غیظ ہو وہ کافر ہے۔ (آیت) ” منھم “۔ من یہاں بیان کے لیے ہے۔ تبعیض کے لیے نہیں۔ لبیان الجنس لاللتبعیض (کبیر) من ھنا لبیان الجنس (ابن کثیر) اس لیے مراد سارے ہی صحابہ ہیں۔