Ayah 48:1اس فتح کے بارے میں اختلاف ہے کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ بخاری شریف میں ہے محمد بن بشار، غندر سے، وہ شعبہ سے وہ قتادہ سے وہ حضرت انس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے (1) ۔ حضرت جابر ؓ نے کہا : ہم فتح سے مراد یوم حدیبیہ ہی شمار کیا کرتے تھے۔ فراء نے کہا : فتح سے مراد فتح مکہ لیا کرتے تھے (2) جبکہ فتح مکہ تو فتح ہے اور ہم فتح سے مراد بیعت رضوان لیتے جو حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہماری تعداد چودہ سو تھی اور حدیبیہ ایک کنواں ہے۔ ضحاک نے کہا : یہ قتال کے بغیر فتح ہوئی صلح بھی فتح کی صورت ہے (3) مجاہد نے کہا : اس سے مراد حدیبیہ کے مقام پر جانور قربان کرنا اور اپنے سر کا حلق کرانا تھا (4) حدیبیہ کی فتح عظیم نشانی تھی اس کا پانی نکالا گیا تو آپ نے اس میں کلی کی تو اس میں پانی زیادہ ہوگیا یہاں تک کہ جو افراد آپ کے ساتھ تھے سب نے اس پانی کو پیا۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا : جب صحابہ حدیبیہ سے واپس آگئے (5) تو ایک آدمی نے کہا : یہ فتح نہیں، انہوں نے ہمیں بیت اللہ شریف کی زیارت سے روک دیا ہے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” بلکہ یہ سب سے بڑی فتح ہے مشرک اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ وہ تمہیں اپنے شہروں سے نرمی سے جانے دیں، تم سے فیصلہ کا سوال کریں، امان میں تم سے رغبت کریں جبکہ انہوں نے تم سے وہ کچھ دیکھ لیا ہے جس کو وہ ناپسند کریں۔ “ (1)
امام شعبی نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : کے بارے میں فرمایا : اس سے مراد فتح حدیبیہ ہے رسول اللہ ﷺ نے اس کے ذریعے۔ وہ کچھ حاصل کیا جو آپ نے کسی غزوہ میں حاصل نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی اگلی پچھلی خطائوں کو معاف کردیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت رضوان ہوئی، صحابہ کو خیبر کی کھجوریں کھلائی گئیں، ہدی اپنے مقام کو پہنچی۔ رومی ایرانیوں پر غالب آئے۔ مومن اہل کتاب کے مجوسیوں پر غالب آنے سے خوش ہوئے
زہری نے کہا : حدیبیہ عظیم فتح تھی اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ چودہ سو صحابہ کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف آئے تھے۔ جب صلح ہوگئی تو لوگ ایک دوسرے سے ملے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے متعلق جانا اور اس کے کلام کو سنا جس نے بھی اسلام کا ارادہ کیا اس کو قبول کرنے کی اس میں آسانی پائی دو سال بھی نہ گزرے تھے مگر مسلمان دس ہزار کا لشکر لے کر مکہ مکرمہ آئے۔ مجاہد نے یہ بھی کہا اور عوفی کا یہ قول ہے : اس سے مراد فتح خیبر ہے : پہلا قول اکثر کا قول ہے جبکہ خیبر ایک وعدہ تھا جو ان سے کیا گیا جس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :۔ حضرت مجمع بن جاریہ جو ان قراء میں سے ایک ہیں جنہوں نے قرآن پڑھا کہا : ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ حدیبیہ میں حاضر تھے جب ہم اس سے واپس آئے تو لوگ جو اونٹوں کو تیز چلا رہے تھے (2) بعض لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر وحی کی ہے کہا : ہم تیزی سے نکلے تو ہم نے نبی کریم ﷺ کو کراع غمیم میں پایا جب لوگ جمع ہوگئے تو نبی کریم ﷺ نے ان آیات کو پڑھا : حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا یہ فتح ہے ؟ فرمایا :” ہاں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، وہ فتح ہے، خیبر کے اموال صلح حدیبیہ میں شریک لوگوں میں تقسیم کئے گئے ان میں وہی افراد شامل تھا جو حدیبیہ میں موجو دتھا۔ (3)
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کا فرمان فتحنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ مکہ مکرمہ زبردستی فتح کیا گیا کیونکہ فتح کا لفظ نہیں بولا جاتا مگر جسے سختی کے ساتھ فتح کیا گیا ہو یہ اس اسم کی حقیقت ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : صلح کا معنی سمجھ نہیں آتا مگر جب وہ فتح کے ساتھ ملا ہوا ہو پس فتح صلح میں مجازی میں ہوگا۔ روایات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ زبردستی فتح ہوا۔ اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔
Ayahs 48:2–3ابن انباری نے کہا : فتحا مبینا پر کلام مکمل نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یہ فتح سے متعلق ہے گویا فرمایا : ہم نے آپ کو فتح مبین عطا فرمائی تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے لئے فتح کے ساتھ مغفرت کو جمع کردے اور اللہ تعالیٰ آپ کے لئے وہ چیز جمع کر دے جس سے دنیا و آخرت میں آپ کی آنکھ ٹھنڈی ہو۔ ابو حاتم سبحساتی نے کہا : یہ لام قسم ہے : یہ غلط ہے کیونکہ لام مسکور نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے ساتھ نصب دی جاتی ہے اگر یہ جائز ہے تو یہ بھی جائز ہوتا ہے اس کی تاویل لیقومن زید ہے۔
زمحشری نے کہا : اگر تو یہ سوال کرے کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کو مغفرت کی علت کیسے بنایا ہے ؟ میں کہوں گا : اللہ تعالیٰ نے اسے مفغرت کی علت نہیں بنایا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں چار امور کو جمع کیا گیا ہے وہ مغفرت، اتمام نعمت، صراط مستقیم کی ہدایت اور غالب مدد۔ گویا فرمایا : ہم نے تیرے لئے فتح مکہ کو آسان بنا دیا تیرے دشمن کی خلاف تیری مدد کی تاکہ آپ کے لئے دونوں جہانوں کی عزتوں اور دنیا و آخرت کے غلبہ کو جمع کردے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مراد فتح مکہ ہو اس حیثیت سے کہ یہ دشمن کے ساتھ جہاد ہے : مغفرت اور ثواب کا سبب ہے۔
ترمذی شریف میں حضرت انس سے مروی ہے کہ یہ آیت نبی کریم ﷺ پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ ﷺ حدیبیہ سے واپس آ رہے تھے ( 1) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مجھ پر ایک ایسی آیت نازل کی گئی ہے جو روئے زمین پر جو بھی چیز ہے اس سے یہ مجھے زیادہ محبوب ہے “ پھر نبی کریم ﷺ نے ان پر اس آیت کو پڑھا۔ صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ کو مبارک ہو اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو بیان کردیا ہے جو آپ کے ساتھ معاملہ کرنے والا ہے وہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ کرے گا ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی : کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس کے بارے میں حضرت مجمع بن جاریہ سے بھی ایک روایت مروی ہے۔
علماء نے تاخر کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سے مراد کہ ان اعلان نبوت سے قبل جو آپ سے ایسے اعمال ہوئے جن کو آپ اپنی شان کے خلاف خیال کرتے ہیں اور سے مراد اعلان نبوت کے بعد جو اعمال ہوئے : یہ مجاہد کا قول ہے، اسی کی مثل طبری اور سفیان ثوری نے کہا : طبری نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (نصر) کی طرف راجع ہے یعنی اعلان نبوت سے پہلے اور اعلان نبوت کے بعد اس آیت کے نزول تک۔
سفیان ثوری نے کہا : سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو وحی کے نزول سے پہلے آپ نے دور جاہلیت میں کئے اور سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو بعد آپ نے نہ کیئے یہ واحدی کا قول ہے سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے کہ انبیاء سے گناہ صغیرہ صادر ہو سکتے ہیں : یہ ایک قول ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : ماتقدم سے مراد فتح سے پہلے اور وماتاخر سے مراد جو اس کے بعد ہیں۔
عطا خراسانی نے کہا : سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حواء کی خطا ہے اور و ماتاخر سے مراد آپ کی امت کے گناہ ہیں (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف اولی اعمال اور وماتاخر سے مرا دانبیاء کے خلاف اولی اعمال ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ماتقدم سے مراد غزوہ بدر کے دن کی خطا اور وماتاخر سے مراد غزوہ حنین کے موقع کی خطا ہے۔ غزوہ بدر کے موقع پر جو خطا ہوئی وہ یہ تھی کہ آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کردیا (2) تو زمین میں کبی تیری عبادت نہیں کی جائے گی (3) آپ نے اس قول کو کئی دفعہ دہرایا اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی آپ کو کیسے علم ہوا کہ اگر میں نے اس جماعت کو ہلاک کردیا تو میری کبھی بھی عبادت نہیں کی جائے گی ؟ تو یہ وہ پہلی خطا تھی۔ جہاں تک دوسری خطا کا تعلق ہے تو وہ غزوہ حنین کا موقع ہے جب لوگ شسکت کھا گئے تو آپ نے اپنے چچا حضرت عباس اور چچازاد بھائی ابو سفیان سے کہا : مجھے وادی سے نگریزوں کی ایک مٹھی اٹھا کر ددو تو دونوں نے سنگریزے اٹھا کردیئے آپ نے انہیں ہاتھ میں لیا اور مشرکوں کے منہ پر مارا اور فرمایا : تو مشرک سارے کے سارے شکست کھا گئے کوئی آدمی نہ بچا مگر اس کی آنکھیں ریت اور سنگریزوں سے بھر گئیں پھر آپ نے اپنے ساتھوں کو ندا کی تو وہ پلٹ آئے جب وہ واپس لوٹے تو آپ نے انہیں فرمایا : اگر میں انہیں وہ مٹھی بھر سنگریزے نہ مارتا تو وہ شکست نہ کھاتے “ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : (الانفال 17) یہ دوسری خطا تھی۔ ابو علی روز باری نے کہا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اگر آپ کی کوئی پرانی یا نئی خطا ہوگی تو ہم آپ کے لئے اسے بخش دیں گے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : نعمت سے مراد جنت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد نبوت و حکمت ہے ،۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد مکہ مکرہ، طائف و خیبر کی فتح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس نے تکبر کیا تھا اس نے خشوع و خضوع اپنا لیا اور جو جابر بنا ہوا تھا اس نے طاقت اختیار کرلی۔ یعنی آپ کو ہدایت پر ثابت قدم کرے گا یہاں تک کہ آپ کو اپنے پاس بلا لے گا۔
یعنی ایسی مدد کرے گا جو غالب ہوگی جس کے بعد کوئی ذلت و عاجزی نہ ہوگی۔
Ayah 48:4سے مراد سکون و طمانیت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قرآن حکیم میں جہاں بھی سکینہ کا لفظ ہے اس سے طمانیت ہے مگر جو سورة بقرہ میں ہے ایمان کی زیادتی کا معنی سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ کو لا الہ الا اللہ کی شہادت کے ساتھ مبعوث کیا گیا (1) جب لوگوں نے آپ ﷺ کے اس بارے میں تصدیق کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نماز پر زائد کردیا جب انہوں نے اس حکم میں آپ کی تصدیق کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوۃ کو زائد کیا، جب انہوں نے اس امر میں آپ کی تصدیق کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر روزوں کو زائد کردیا جب انہوں نے اس مسئلہ میں نبی کریم ﷺ کی تصدیق کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حج کا اضافہ کردیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دین کو مکمل کیا اللہ تعالیٰ کا فرمان کا یہی مصداق ہے یعنی ایمان سے مراد خشیت ہے۔ ضحاک نے کہا : یہاں اس سے مراد یقین ہے (2)
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جنود سے مراد ملائیکہ، جن، شیاطین اور انسان ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے احوال سے باخبر ہے حیکما جس کا ارادہ کرتا ہے اس میں حکیم ہے۔
Ayah 48:5اللہ تعالیٰ نے سکینہ کو نازل فرمایا تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو پھر یہ زیادتی انہیں جنت میں داخل کرنے کے سبب ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے میں لام اسی کے متعلق ہے جس کے متعلق اللہ کا لام ہے۔
اسم اشارہ سے مراد مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا وعدہۃ اور گناہوں کی بخشش ہے۔ یہ غم سے نجات اور ہر مطلب میں کامیابی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جب نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ پر اس آیت کو پڑھا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ کو مبارک ہو تو وہ ہمارے لئے کیا ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ جب یہ حصہ پڑھا انہوں نے عرض کی : آپ کو مبارک ہو تو یہ آیت نازل ہوئی (المائدۃ 3) جب پڑھا تو امت کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی، جب پڑھا۔ تو یہ آیت (الروم) نازل ہوئی اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے۔ (الاحزاب) پھر فرمایا (الاحزاب 43) قشیری نے اس کا ذکر کیا ہے۔
Ayahs 48:6–7یعنی انہوں نے گمان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینہ طیبہ کی طرف نہیں لوٹیں گے اور نہ ہی آپ کے صحابہ میں سے کوئی واپس لوٹے گا یہ اس وقت ان کا گمان تھا جب آپ حدیبیہ کے لئے نکلے تھے اور ان کا یہ گمان تھا کہ مشرک تباہ و برباد کردیں گے جس طرح کہا : خلیل اور سیبویہ نے کہا : اس سے یہاں مراد فساد ہے۔
دنیا میں ان پر بری گردش ہوگی اور انہیں قتل کیا جائے گا اور انہیں قیدی بنا لیا جائے گا اور آخرت میں جہنم ہے ابن کثیر اور ابو عمرو نے پڑھا یعنی ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے فتحہ دیا۔ جوہری نے کہا : ساء یسوء …… سرد کی ضد ہے اس کا اسم السو ہے اسے علیھم دائرۃ السو بھی پڑھا گیا ہے یعنی شکست اور تکلیف جس نے اسے فتحہ دیا اس نے اسے مسائۃ سے مشتق مانا ہے۔
اس کے بارے میں گفتگو کئی دفعہ گزر چکی ہے الحمد اللہ۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب صلح حدیبیہ ہوئی تو ابن ابی نے کہا : کیا حضرت محمد ﷺ یہ گمان کرتے ہیں کہ جب اہل مکہ سے صلح کریں گے یا مکہ کو فتح کرلیں گے تو اس کا کوئی دشمن نہیں رہے گا ایرانی اور رومی کہاں ہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس امر کو بیان کیا کہ آسمانوں اور زمین کے لشکر ایرانیوں اور رومیوں سے زیادہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں تمام مخلوقات داخل ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سے مراد فرشتے ہیں اور زمین کے لشکر مومن ہیں۔ اس کو دوبارہ ذکر کیا گیا کیونکہ جس کا ذکر پہلے ہوا تھا وہ قریش میں سے مشرکوں کے ذکر کے بعد تھا اور یہ منافقوں اور باقی ماندہ مشرکوں کے ذکر کے بعد ہے دونوں مقامات پر مراد خوفزدہ کرنا اور ڈرانا ہے اگر اللہ تعالیٰ منافقوں اور مشرکوں کو ہلا کرنے کا ارادہ کرتے تو یہ چیز اسے عاجز نہ کرسکتی لیکن اللہ تعالیٰ ایک معین عرصہ تک انہیں مہلت دیتا ہے۔
Ayahs 48:8–9قتادہ نے کہا : ہم نے آپ کو آپ کی امت پر گواہ بنا کر بھیجا ہے کہ انہوں نے حق کی تبلیغ کی (1) ۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر گواہ بنا کر بھیجا کہ انہوں نے اطاعت یا معصیت میں سے جو اعمال کئے ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے آپ کو ان کے لئے ان امور کو بیان کرنے والا بنا کر بھیجا جن کے ساتھ ہم نے آپ کو ان کی طرف بھیجا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کے روز ان پر گواہی دیں گے۔ سورة النساء میں حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے یہ معنی واضح طور پر گزر چکا ہے
مبشرا جو اطاعت کرے اس کو جنت کی بشارت دینے والا بنا کر بھیجا گیا اور آگ سے خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا گیا اسے جو نافرمانی کرے یہ قتادہ اور دوسرے علماء کا قول ہے ؎ سورة بقرہ میں بشارت اور نذارت کا اشتقاق اور دونوں کا معنی گزر چکا ہے۔ تینوں کو حال مقدرہ کی حیثیت سے نصب دی گئی ہے سیبویہ نے یہ مثال بیان کی ہے۔ معنی ہے بیشک ہم نے آپ کو بھیجا اس حال میں کہ ہم آپ کی شہادت کو قیامت کے روز مقدر کرنے والے ہیں اسی بناء پر تو کہتا ہے۔
ابن کثیر، ابن محصین اور ابو عمرو نے لیومنو پڑھا ہے اسی طرح سب کو یاء کے ساتھ خبر کے طور پر پڑھا ہے : ابو عبید نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ مومنوں کا اس اس سے پہلے اور اس کے بعد ذکر موجود ہے جہاں تک اس سے ماقبل کا تعلق ہے تو اور جہاں تک اس کے بعد کا تعلق ہے تو وہ باقی قراء نے تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے : اسے ابو حاتم نے پسند کیا تم اس کی عظمت بجا لائو اور تفخیم شان کا اہتمام کرو، یہ حضرت حسن بصری اور کلبی کا نقطہ نظر ہے تعزیر کا معنی تعظیم و توقیر ہے۔ قتادہ نے کہا : تم اس کی مد دکرو اور اس کا دفاع کرو اسی سے حد میں تعزیز ہوتی ہے کیونکہ یہ بھی انسان کو برے اعمال سے روکتی ہے قظامی نے کہا :
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تم آپ کی معیت میں تلوار کے ساتھ قتال کرتے ہو، بعض اہل لغت نے کہا : تم آپ کی اطاعت کرو (1) یعنی تم آپ کو سردار بناتے ہو (2) یہ سدی کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے تم اس کی عظمت بجالاتے ہو توقیر کا معنی تعظیم کرنا ہے۔ دونوں میں ھاء نبی کریم ﷺ کے لئے ہے یہاں وقف نام ہے پھر تو کلام کو شروع کرے گا تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو گے صبح و شام ایک قول یہ کیا گیا ہے : غائب کی ضمیریں تمام کی تمام اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اس صورت میں ہوگا یعنی تم اس کے لئے ربوبیت کی صحت کو ثابت کرو اور اس کے لئے اس امر کی نفی کرو کہ اس کا کوئی بچہ ہو یا شریک ہو، قشیری نے اس قول کو پسند کیا ہے پہلا قول اضحاک کا ہے اس تعبیر کی صورت میں کلام کا کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کی طرح راجع ہوگا جوہ ہے اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں بعض حصہ نبی کریم ﷺ کی طرف لوٹے گا وہ یعنی تم آپ کو رسالت اور نبوت کے لقب سے بلایا کرو نام اور رکنیت سے نہ بلایا کرو۔
کی دو صورتیں ہیں (1) تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کی ہر قبیح امر سے پاکی بیان کرنا ہے یا اس سے مراد نماز کا فعل ہے جس میں تسبیح ہوا کرتی ہے صبح و شام : اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے، شاعر نے اس لفظ سے یہ معنی لیا ہے۔
میری زندگی کی قسم : تو ایسا گھر ہے جس کے مکینوں کی میں عزت کرتا ہوں اور شام کے وقت میں اس کے صحن میں بیٹھتا ہوں۔
Ayah 48:10یعنی اے محمد ﷺ جو لوگ حدیبیہ میں آپ کی اطاعت کرتے ہیں اس امر کی وضاحت کی کہ ان کی نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت یہ اللہ تعالیٰ کی بیعت ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (النسا 80) یہ بیعت، بیعت رضوان ہے جس کی وضاحت اس سورت میں انشاء اللہ آجائے گی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ثواب دینے میں ہاتھ ان کی وفا میں ہاتھ سے بڑھ کر ہے جس قدر وہ اطاعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہدایت دینے میں بڑھ کر ہے۔ کلبی نے کہا : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کا احسان اس سے بڑھ کر ہے جو انہوں بیعت کی ہے۔ ابن کیسان نے کہا : اللہ تعالیٰ کی قوت اور نصرت ان کی قوت اور نصرت سے بڑھ کر ہے جس نے بیعت کے بعد معاہدہ توڑا تو وعدہ توڑنے کا ضرر اسی پر لوٹے گا کیونکہ اس نے اپنی ذات کے لئے ثواب کو حرام کردیا ہے اور اپنے اوپر عقاب کو لازم کردیا ہے۔ یعنی بیعت کرتے وقت اس نے جو وعدہ کیا اس کو پرا کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے ایمان لاتے وقت جو اس نے وعدہ کیا تھا : یعنی جنت میں۔ حفص اور زہری نے علیہ پڑھا ہے اور باقی قراء نے اسے جروی ہے۔ نافع، ابن کثیر اور ابن عامر نے اسے فسوتیہ نون کے ساتھ پڑھا ہے فراء اور ابو معاذ نے اسے پسند کیا ہے باقی قراء نے اسے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ ابو عبید اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اسم قریب ہے۔
Ayah 48:11مجاہد اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد غفار، مزینہ، جہیبیہ، اشجع اور دیل کے بدو ہیں (1) یہ وہ بدو قبائل تھے جو مدینہ طیبہ کے قریب رہا کرتے تھے جب صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے سفر کا ارادہ کیا تھا تو یہ گھروں میں بیٹھ رہے تھے جبکہ حضور ﷺ نے انہیں دعوت دی تھی کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں وہ قریش سے ڈر کی وجہ سے گھر میں بیٹھے رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا قربانی کے جانور ساتھ لئے تاکہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ آپ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے انہوں نے گرافی محسوس کی اور کام کاج کا بہانہ بنایا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ انہیں مخلفون کہا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی کی صحبت سے پیچھے رکھا تھا مخفلف کا معنی متروک ہے سورة البراۃ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
یعنی کوئی ایسا آدمی نہیں جو ان امور کو سرانجام دے سکے وہ مغفرت طلب کرتے ہوئے آئے جبکہ ان کا اعتقاد ان کے ظاہر کے خلاف تھا اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل و رسوا کردیا اور ارشاد فرمایا : یہ ان کا خالص نفاق تھا۔ حمزہ اور کسائی نے صرف یہاں ضرا پڑھا ہے یعنی ایسا امر جو تمہیں نقصان پہنچائے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد شکست ہے باقی قراء نے اسے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ ضرر کا مصدر ہے۔ جب ضاد پر ضمہ ہو تو اس سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کو برا حال لاحق ہوتا ہے مصدر ایک دفعہ اور زیادہ دفعہ فعل کے وقوع کے معنی پر دلالت کرتا ہے، اسے ابو عبیدہ اور ابو حاتم نے پسند کیا ہے دونوں نے کہا : یہ نفع کے بالمقابل ہے جو ضر کا ضد ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : دونوں لغتوں کا ایک ہی معنی ہے جس طرح نفع سے مراد مدد اور غنیمت ہے۔ یہ ان کا رد ہے جب انہوں نے یہ گمان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہیں گے تو یہ ان سے تکلیف دور کر دے گا اور ان کے لئے جلدی نفع لائے گا۔
Ayah 48:12یہ گمان اس لئے تھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ حضرت محمد ﷺ اور ان کے ساتھی بہت تھوڑے ہیں وہ واپس نہیں پلٹیں گے۔ اسم اشارہ سے مراد نفاق ہے۔ تزیین شیطان کی طرف سے تھی یا اللہ نے ان کے دلوں میں یہ چیز پیدا کردی تھی ظن سوء یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا بورا سے مراد ہلاک ہونے والے، یہ مجاہد کا قول ہے (1) قتادہ نے کہا : وہ فسادی لوگ ہیں وہ بھلائی میں سے کسی چیز کے قابل نہیں (2) جوہری نے کہا : بور سے مراد ایسا آدمی ہے جو فسادی ہے ہلاک ہونے والا ہے جس میں کوئی بھلائی نہیں۔ عبداللہ بن زبعری سہمی نے کہا :
اے اللہ کے رسول : جب میں گمرہ اور تباہ حال تھا اس وقت میری زبان سے جو چاق کئے اب میری زبان انہیں سینے والی ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے امرۃ بور۔ ابو عبید نے اس کو بیان کیا ہے قوم بور یعنی ہلاک ہونے والی قوم : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : بوریہ بائر کی جمع ہے جس طرح حائل کی جمع حول آتی ہے یعنی فلاں ہلاک ہوگیا۔
ابارہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بوراً کا معنی شریر لوگ، یہ ابن بحر نے کہا : حضرت حسان بن ثابت نے کہا :
اس میں البور کا معنی ہلاک ہونے والا ہے
Ayah 48:13یہ ان کے لئے وعید ہے اور اس امر کی وضاحت ہے کہ انہوں نے نفاق اپنا کفر کر کفر کیا۔
Ayah 48:14وہ اپنے بندوں سے غنی ہے، اللہ تعالیٰ نے احکام کو مکلف بنا کر انہیں آزمایا تکہ جو ایمان لائے اس کو ثواب دیں او جو کفر و نافرمانی کرے اسے سزا دے۔
Ayah 48:15فرمائیے : تم قطعا ہمارے پیچھے نہیں آسکتے یونہی فرما دیا اللہ تعالیٰ نے پہلے سے پھر وہ کہیں گے کہ نہیں بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو (ان کا یہ خیال غلط ہے) اور حقیت وہ احکام الٰہی کے اسرار کو بہت کم سمجھتے ہیں۔ “
مراد خیبر کی غنیمتیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل حدیبیہ سے فتح خیبر کا وعدہ کیا تھا یہ حکم ان کے لئے ہی خاص تھا وہ غزوہ خیبر میں حاضر تھے یا غائب تھے اور اہل حدیبیہ میں سے حضرت جابر کے علاوہ کوئی غائب نہیں تھا رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے اسی طرح حصہ رکھا جس طرح ان لوگوں کا حصہ رکھا تھا جو غزوہ خیبر میں موجود تھے خیبر کی تقسیم کے ذمہ دار حضرت جبار بن صخرا انصاری جو بنی سلمہ سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت زید بن ثابت جو بنی نجاز سے تعلق رکھتے تھے دونوں حساب کو سمجھنے والے اور تقسیم کرنے والے تھے
ہمیں چھوڑ دو تو کہتا ہے : ذرہ یعنی تو اسے چھوڑ دے ہویذرہ وہ اسے چھوڑ دیتا ہے اس کی اصل ذرہ یذرہ ہے جس طرح وسعہ یسعہ ہے اس کا پہلا حرف حذف کردیا گیا ہے اسے ذرہ کہتے ہیں وہ ذر نہیں کہتے لیکن کہتے ہیں ترکہ
مجاہد نے کہا : وہ مکہ کی طرف نکلنے کے بجائے گھروں میں بیٹھے رہے۔ جب نبی کریم ﷺ نکلے اور لوگوں کو ساتھ لیا اور ان کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے کہا : ہمیں چھوڑ دو ہم تمہارے پیچھے پیچھے آتے ہیں اور تمہارے ساتھ مل کر جنگ کرتے ہیں۔
یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی کلام کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ابن زید نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے۔ (التوبہ 83) ۔
طبری اور دوسرے علماء نے اس قول کا انکار کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ غزوہ تبوک فتح خیبر اور فتح مکہ کے بعد ہوا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے : وہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں (1) جو اللہ تعالیٰ نے اہل حدیبیہ سے کیا تھا اس کی وجہ یہ تھی اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے عوض خیبر کی غنیمتیں ان کے لئے خاص کردی تھیں کیونکہ وہ حدیبیہ سے صلح پر واپس آگئے تھے، یہ مجاہد اور طبری کا قول ہے اسے ہی طبری نے پسند کیا ہے : عام علماء کی یہی رائے ہے حمزہ اور کسائی نے کلمہ پڑھا ہے یعنی الف کو ساقط کیا ہے اور لام کو کسرہ دیا ہے یہ کلمہ کی جمع ہے جس طرح سمہ اور سلم ہے باقی قراء نے اسے کلام پڑھا ہے جو مصدر ہے اسے ابو عبید اور ابو حاتم نے پسند کیا وہ اس ارشاد (الاعراف 144) پر قیاس کیا ہے کلام اس جملہ کو کہتے ہیں جو معنی دیتے ہیں میں مستقل ہو۔ جوہری نے کہا : کلام اسم جنس ہے جو قلیل و کثیر دونوں پر واقع ہوتی ہیں تین کلمات سے کم نہیں ہوتی کیونکہ یہ کلمہ کی جمع ہے جس طرح ہے اسی وجہ سے سیبویہ نے کہا : ہیاں اس نے الکلام کا لفظ ذکر نہیں کیونکہ اس نے تین چیزوں کو ارادہ کیا تھا اسم، فعل، حرف توکلم کا لفظ صرف جمع کے لئے ہی بولا جاتا ہے جہاں ایک اور جماعت پر واقع ہو اسے ترک کردیا جاتا ہے۔ تمیم کہتا ہے : یہ کلمہ ہے یعنی کاف مسکور ہے سورة براأ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
یعنی حدیبیہ سے ہمارے لوٹنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا تھا کہ خیبر کی غنیمتیں صرف ان لوگوں کے لئے جو حدیبیہ میں حاضر تھے۔
یعنی ہم تمہارے ساتھ غنیمت لیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم نکلو گے تو میں نہیں روکوں گا مگر تمہارا کوئی حصہ نہیں ہوگا تو انہوں نے کہا : یہ تو حسد ہوا ؎ مسلمانوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں ہمیں وہ بتا دیا تھا جو وہ کہنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یعنی وہ صرف دنیا کے امور کو ہی جانتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ دین کے معاملہ کو تھوڑا ہی سمجھتے ہیں وہ جہاد کو ترک کرنا ہے۔
Ayah 48:16اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1:
یعنی ان سے کہیں جو صلح حدیبیہ کے موقع پر پیچھے چھوڑے گئے تھے (1) حضرت ابن عباس ؓ ، عطا بن ابی رباح، مجاہد، ابن ابی لیلی اور عطا خراسانی نے کہا : وہ ایرانی لوگ ہیں۔ کعب، حضرت حسن بصری اور عبدالرحمن بن ابی لیلی نے کہا : وہ رومی ہیں : حضرت حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے : وہ ایرانی اور رومی لوگ تھے۔ ابن جبیر نے کہا : مراد ہوازنثقفیف ہیں۔ عکرمہ نے کہا : مراد ہوازن ہیں۔ قتادہ نے کہا : مراد غزوہ حنین کے موقع پر ہوازن او غطفان ہیں۔ (2) زہری اور مقاتل نے کہا : مراد بنو حنیفہ ہیں جو اہل یمامہ تھے (3) جو مسلمہ کذاب کے ساتھی تھے۔ رافع بن خدیج نے کہا : اللہ کی قسم : ہم اس آیت پڑھا کرتے تھے ہم نہیں جانتے تھے کہ وہ کون لوگ ہیں یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ہمیں بنو حنیفہ سے قتال کی دعوت دی تو ہمیں علم ہوگیا کہ وہ لوگ بنو حنیفہ ہی ہیں (4) حضرت ابوہریرہ نے کہا : اس آیت کا مصداق ابھی ظاہر نہیں ہوا جبکہ آیت کا ظاہر اس کا رد کرتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2: یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ؓ کی امات کی صحت پر دلیل ہے کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے لوگوں کو بنو حنیفہ سے جنگ کرنے کی دعوت دی اور حضرت عمر ؓ نے انہیں ایرانیوں اور رومیوں سے جنگ کرنے کی دعوت دی۔ جہاں تک عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے کہ مراد ہوازن اور غطفان ہیں جن سے غزوہ حینن میں مقابلہ ہو تو اس میں دلیل یہ نہیں کیونکہ یہ امر ممتنع ہے کہ ان کے لئے داعی رسول اللہ ﷺ کی ذات ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (التوبہ 83) تو یہ اس امر پر دال ہے کہ داعی سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات کے علاوہ کوئی اور ذات ہے۔ یہ بات بھی معلوم و مشہور ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اس قوم کو دعوت نہیں دی مگر حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق نے انہیں دعوت دی زمحشری نے کہا : اگر یہ قتادہ سے ثابت ہو تو معنی ہوگا تم اس وقت تک میرے ساتھ نہیں نکل سکے گے جب تک تم میں دل کا مرض اور دین میں اضطراب موجود ہے۔ یا یہ مجاہد کے قول کے مطابق ہے تو ان کے ساتھ معاہدہ یہ ہوگا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی نہیں کریں گے مگر بطور نفل ان کا غنیمت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 3: یہ ان لوگوں کے لئے حکم ہے جس سے جزیہ وصول نہیں کیا جاتا : کا عطف پر ہے یعنی دو امروہوں میں سے ایک امر ہوگا یعنی جنگ یا اسلام۔ ان کی تیسری صورت نہیں۔ حضرت ابی کی قرأت میں یسلموا کے معنی میں ہے جس طرح تو کہتا ہے شاعر نے کہا :
میں نے اسے کہا : تیری آنکھ نہ روئے بیشک ملک حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ ہمیں موت آجائے تو ہم معذور ہوجائیں۔
زجاج نے کہا فرمایا : کیونکہ معنی ہے یعنی جنگ کے بغیر اطاعت قبول کرلیں۔ یہ حکم مشرکوں سے جنگ کرنے کے بارے میں ہے اہل کتاب کے بارے میں نہیں ہے۔
اجر حسن سے مراد دنیا میں غنیمت اور مدد ہے اور آخرت میں جنت ہے قبل سے مراد حدیبیہ کے موقع پر سفر ہے عذاب الیم سے مراد آگ کا عذاب ہے۔
Ayah 48:17حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب یہ آیت نازل تو اپاہج لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ہمارا کیا حال ہوگا ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی یعنی وہ لوگ جو نابینا ہونے، اپاہج ہونے اور کمزور ہونے کی بناء پر جہاد سے پیچھے رہتے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں۔ سورة برأۃ اور دوسری سورتوں میں اس بارے میں گفتگو مفصل گزر چکی ہے۔ عرج اس بیماری کو کہتے ہیں جو ایک ٹانگ کو لاحق ہوتی ہے جب ایک میں تکلیف موثر ہے تو دونوں ٹانگوں میں مرض بدرجہ اولی موثر ہوگی مقاتل نے کہا : مراد اپاہج لوگ ہیں جو حدیبیہ کی مہم میں شریک نہیں ہو سکے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معذور قرار دیا تھا۔ یعنی ان میں سے جو تمہارے ساتھ خیبر جانا چاتا ہے وہ ایسا کرے۔
ان امور میں اطاعت کی جس کا اسے حکم دیا گیا ابن عامرنے اسے نہ خلد پڑھا ہے مقصود تعظیم ہے باقی قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے : کیونکہ پہلے اللہ تعالیٰ کا نام ہے
Ayahs 48:18–19یہ بیعت رضوان ہے یہ حدیبیہ میں ہوئی۔ اختصار کے ساتھ حدیبیہ کا واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ غزوہ مصطلق سے واپسی پر شوال میں مدینہ طیبہ میں مقیم رہے اور ذی قعدہ میں عمرہ کے ارادہ سے مکہ مکرمہ کی طرف نکلے آپ نے مدینہ طیبہ کے پڑوس میں رہنے والے بدوں کو بھی اس سفر میں شریک ہونے کی دعوت دی تو ان میں سے اکثر اس میں شریک نہ ہوئے نبی کریم ﷺ مہاجرین، انصار اور عربوں میں سے جو آپ کے ساتھ شریک ہوئے انہیں لے کر روانہ ہوئے مجموعی تعداد ایک ہزار چار سو تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تعداد پندرہ سو تھی۔ اس کے علاوہ بھی قول کیا گیا ہے جس کی وضاحت بعد میں آئے گی آپ نے قربانی کے جانور بھی ساتھ لئے رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا تاکہ لوگوں کو بتائیں کہ آپ جنگ کے لئے نہیں نکلے جب رسول اللہ ﷺ کے سفر کی خبر قریش کو ہوئی تو ان کی جمعیت رسول اللہ ﷺ کے مسجد احرام اور مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے نکلی اور اگر آپ ﷺ ان سے جنگ کریں گے تو وہ بھی آپ ﷺ سے جنگ کریں گے انہوں نے خالد بن ولید کو گھڑ سوار دستہ کے ساتھ کراع الفمیم کی طرف روانہ کردیا یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی جبکہ آپ عسفان میں تھے آپ کا مخبر مبشر بن سفیان کعبی تھا اپ نے ایک راستہ اختیار کیا جو آپ کو ان کے پیچھے پہنچانے والا تھا اور آپ مکہ مکرمہ کے زیریں علاقہ کی جانب سے حدیبیہ تک جا پہنچے اور اس بارے میں آپ کی رہنمائی کرنے والا بنو اسلم کا ایک آدمی تھا۔ جب یہ خبر ان قریش کو پہنچی جو خالد بن ولید کے ساتھ تھے تو وہ قریش کی طرف چلے تاکہ انہیں اس خبر سے آگاہ کریں جب رسول اللہ ﷺ حدیبیہ تک پہنچے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی لوگوں نے کہا : یہ بغیر کسی وجہ کے بیٹھ گئی ہے اور یہ اڑی کرگئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’ د اس نے اڑی نہیں کی نہ اس کا یہ طریقہ ہے لیکن اسے اس ذات نے روک دیا ہے جس نے ہاتھوں کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا آج قریش وہاں فروکش ہوئے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ﷺ اس وادی میں پانی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ترکش سے تیر نکالا اور اپنے صحابہ میں سے ایک ساتھی کو عطا فرمایا تو وہ اس وادی کے ایک بےآباد کنواں میں سے ایک کنویں میں اترا اس کے ساتھ اس کے وسط میں اسے گاڑھا تو کثیر پانی سے وہ جوش مارنے لگا یہاں تک کہ وہ پانی سب لشکر کو کافی ہوگیا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو آدمی تیر کے ساتھ اس کنویں میں اترا تھا وہ حضرت ناجیہ بن جندب بن عمیر اسلمی تھے وہ اس دن نبی کریم ﷺ کے قربانی کے جانوروں کو ہانکنے والے تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے : کنویں میں تیر لے کر جانے والے حضرت براء بن عازب تھے اس کے بعد نبی کریم ﷺ اور قریش کے کفار کے درمیان سفارت کا سلسلہ جاری ہوا سفر کی آمدورفت اور باہم نزاع لمبا ہوتا گیا یہاں تک کہ سہیل بن عمرو عامری آیا تو اس نے آپ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ آپ ﷺ اس سال واپس چلے جائیں گے جب اگلا سال آئے تو عمرہ کے ارادہ سے آئیں گے، آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ مکہ مکرمہ میں بغیر اسلحہ داخل ہوں گے صرف ان کے پاس تلواریں ہوں گی وہ بھی نیاموں میں ہوں گی، سروردوعالم ﷺ اور قریش کے درمیان صلح رہے گی، لوگ ان سالوں میں ایک دوسرے سے ملیں گے، وہ ایک دوسرے سے امن میں ہوں گے، کفار میں سے جو مرد یا عورت مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آئے گا اسے کفار کی طرف لوٹا دیا جائے گا اور مسلمانوں میں سے جو مرتد ہو کر کفار کے پاس چلا جائے گا تو اسے مسلمانوں کے سپرد نہیں کیا جائے گا۔ یہ معاہد مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا یہاں تک کہ بعض نے اس بارے میں گفتگو کی۔ رسول اللہ ﷺ بخوبی آگاہ تھے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا یہاں تک کہ بعض نے اس بارے میں گفتگو بھی کی۔ رسول اللہ ﷺ بخوبی آگاہ تھے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے کوئی نہ کوئی راہ نکالے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو آگاہ کردیا تھا۔ حضور ﷺ نے صحابہ سے فرمایا : ” تم صبر کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس صلح کو اپنے دین کے غلبہ کا سبب بنا دے گا ، ‘ پہلے صحابہ کے دلوں میں کچھ دور پیدا ہوچکی تھی کہ اس گفتگو کے بعد ان میں انس پیدا ہوگیا۔ سہیل بن عمروں نے اس بات سے انکار کردیا کہ صلح نامہ کے سرنامہ پر محمد ﷺ لکھے قریش نے آپ سے کہا : اگر ہم آپ کی تصدیق کردیں تو ہم آپ کو اس بات سے کیوں روکیں جس کا آپ ارادہ کرتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ آپ لکھیں باسک اللھم حضرت علی شیر خدا نے اپنے ہاتھ سے محمد رسول کے لفظ کو مٹانے سے انکار کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے مجھ پر پیش کرو “ تو رسول اللہ ﷺ نے وہ الفاظ اپنے ہاتھوں سے مٹا دیئے اور حکم دیا کہ وہ لکھیں محمد بن عبداللہ صلح کی تحریر کے بعد اسی روز حضرت ابو جندل بن سہیل آئے جبکہ وہ بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے رسول اللہ ﷺ نے انہیں ان کے حوالے کردیا۔ یہ عمل مسلمانوں پر بڑا شاق گزارا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بتایا اور ابو جندل کو بھی بتایا کہ ” اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی نہ کوئی راہ پیدا فرما دے گا۔ “
رسول اللہ ﷺ نے صلح سے پہلے حضرت عثمان بن عفان بن ؓ کو مکہ مکرمہ کی طرف قاصد بنا کر بھیجا تھا رسول اللہ ﷺ کو خبر پہنچی کہ اہل مکہ نے آپ کو قتل کردیا ہے اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو دعوت دی کہ وہ اہل مکہ سے جنگ کرنے کی بیعت کریں ایک روایت یہ بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے موت پر بیعت لی۔ ایک روایت بیان کی گئی ہے کہ آپ نے ان سے یہ بیعت لی کہ وہ نہیں بھاگیں گے۔ یہ ایک درخت کے نیچے بیعت رضوان تھی رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ بتایا کہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگیا اور یہ بتایا کہ وہ آگ میں داخل نہیں ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ پر رکھا تاکہ یہ حضرت عثمان کی جانب سے بیعت ہوجائے تو گویا وہ ایسے ہوگئے جیسے وہ حاضر ہیں۔ وکیع نے اسماعیل بن ابی خالد سے وہ شعبی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے روز سب سے پہلے جس نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی وہ حضرت ابو سفیان اسدی تھے۔
صحیح مسلم میں ابو زبیر نے حضرت جابر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ہم حدیبیہ کے روز چودہ سو تھے۔ (1) ہم نے آپ کی بیعت کی جبکہ حضرت عمر آپ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے وہ سمرہ کا درخت تھا : کہا : ہم نے آپ کی اس امر پر بیعت کی کہ ہم نہیں بھاگیں گے ہم نے موت پر آپ کی بیعت نہیں کی تھی۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے یہ سنا کہ حضرت جابر سے سوال کیا تھا کہ وہ حدیبیہ کے روز کتنے تھے ؟ کہا ہماری تعداد چودہ سو تھی، ہم نے آپ کی بیعت کی جبکہ حضرت عمر درخت کے نیچے آپ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے وہ سمرہ کا درخت تھا ہم نے آپ کی بیعت کی۔ صرف جد بن قیس انصاری نے بیعت نہ کی وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا تھا۔
سالم بن ابی جعد سے مروی ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے اصحاب شجرہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : اگر وہ ایک لاکھ ہوتے تب بھی وہ ہمیں کفایت کر جاتی، ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔ ایک روایت میں ہے : ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔ عبداللہ بن ابی اوفی سے مروی ہے کہ بیعت کرنے والے تیرہ سو تھے، بنو اسلم مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے
یزید بن ابی عبید سے مروی ہے کہ میں نے سلمہ سے کہا : حدیبیہ کے روز تم نے کس چیز پر رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی ؟ جواب دیا : موت پر
حضرت براء میں بن عاذب ؓ سے مروی ہے : کہا صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت علی شیر خدا نے نبی کریم ﷺ اور مشرکین کے درمیان صلح نامہ لکھا وہ تحریر ہے :2 جس پر رسول اللہ ﷺ نے معاہدہ کیا مشرکوں نے کہا : تم محمد رسول اللہ ﷺ نہ لکھوا کر اگر ہم جانتے کہ آپ رسول اللہ ﷺ تو ہم آپ سے نہ لڑتے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی شیر خدا سے فرمای : ” اسے مٹا دو “ تو حضرت علی نے عرض کی، : مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ میں مٹا دوں تو نبی کریم ﷺ نے اسے خود مٹا دیا۔ انہوں نے یہ شرط لگائی کہ وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے اور تین دن قیام کریں گے وہ مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہو گے مگر جلبان السلام میں نے ابو اسحاق سے پوچھا : یہ جلبان السلام سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : تھیلا اور اس میں جو کچھ ہو۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ قریش نے نبی کریم ﷺ سے صلح کی جن میں سہیل بن عمرو بھی تھا نبی کریم ﷺ نے حضرت علی شیر خدا سے فرمایا : لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم : سہیل بن عمرو نے کہا : جہاں تک باسم اللہ کا تعلق ہے ہم اسے جانتے ہیں ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم کو نہیں جانتے بلکہ وہ لکھو جو ہم جانتے ہیں یعنی باسمک اللہ : فرمای : لکھو محمد رسول کی جانب سے “ انہوں نے کہا : اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کی پیروی کرتے بلکہ اپنا اور اپنے باپ کا نام لکھو۔ نبی کریم ﷺ فرمایاٖ ” لکھو محمد بن عبداللہ کی جانب سے “ انہوں نے نبی کریم ﷺ پر یہ شرط لگائی کہ جو آدمی آپ کی جانب سے ہمارے پاس آئے گا ہم اسے آپ کی طرف نہیں لوٹائیں گے اور ہم میں سے جو شخص آپ کے پاس آئے گا آپ اسے واپس کردیں گے۔ صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم پر یہ شرط لکھیں گے فرمایا :” ہم میں سے جو ان کی طرف جائے گا اللہ تعالیٰ نے اسے دور کردیا اور ان میں سے جو ہمرے پاس آئے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی نہ کوئی راہ پیدا فرما دے گا۔
ابو وائل سے مروی ہے حضرت سہیل بن حنیف نے صفین کی جنگ کے دن کہا : اے لوگو ! اپنی ذاتوں پر تہمت لگائو ہم حدیبیہ کے روز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اگر ہم جنگ کی رائے رکھتے تو ضرور قتال کرتے (1) وہ صلح رسول اللہ ﷺ او مشکوں کے درمیان تھی حضرت عمر بن خطاب ؓ تشریف لائے اور رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے عضر کی : یا رسول اللہ ﷺ : کیا ہم حق پر نہیں اور وہ باطل پر نہیں : فرمایا : کیوں نہیں ‘ عرض کی : کیا ہمارے مقتول جنت میں نہیں اور ان کے مقتول دوزخ میں نہیں ؟ فرمایا : کیوں نہیں ‘ عرض کی ہم اپنے دین میں کمزوری کیوں دکھا رہے ہیں اور ہم واپس جا رہے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا : فرمایا ’ اے خطاب کے بیٹے ! میں اللہ کا رسول ہو اللہ تعالیٰ مجھے کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا ‘ کہا حضرت عمر چلے گئے اور غصہ کی وجہ سے صبر نہ کرسکے وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : اے ابوبکر : کیا ہم حق نہیں اور وہ باطل پر نہیں ؟ فرمایا : کیوں نہیں : پوچھام کیا ہمارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول جن ہم میں نہیں ؟ فرمایا : کیوں نہیں : کہا ہم اپنے دین میں کیوں کمزوری دکھا رہے ہیں ہم واپس جا رہے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان اور ان کے درمیان ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ؟ فرمایا : اے ابن الخطاب : وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ اسے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ رسول اللہ ﷺ پر سورة فتح نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر کی طرف پیغام بھیجا اور اسے یہ سورت سنائی۔ حضرت عمر نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ : کیا یہ فتح ہے ؟ فرمایا : ہاں “ تو حضرت عمر کا نفس مطمئن ہوگیا اور واپس آگئے۔
، صحابہ کے دلوں میں جو صدق اور وفا موجود تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے جان لیا (2) یہ فراء کا قول ہے۔ ابن جریج اور قتادہ نے کہا : معنی ہے بیت کے حکم پر ان کے راضی ہونے کو جان لیا کہ وہ نہیں بھاگیں گے : مقاتل نے کہا : بیعت کی ناپسندگی کو جان لیا کہ وہ موت تک آپ کی معیت میں جنگ کرتے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے ان پر سکینہ کو نازل کیا یہاں تک کہ انہوں نے بعیت کی ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مشرکوں نے انہیں جو روکا اور نبی کریم ﷺ کا خواب پورا نہ ہوا سا پر مومنوں کے دل میں جو دکھ تھا اسے جان لیا جب رسول اللہ ﷺ نے یہ دیکھا تھا کہ آپ کعبہ شریف میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” وہ حالت نیند کا خواب تھا “ حضرت صدیق اکبر ؓ نے کہا : اس ارشاد میں اس سال داخل ہونے کا کوئی تذکرہ نہ تھا۔ سکینہ سے مراد طمانیت اور وعدہ کی صداقت پر سکون ہیغ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اس سے صبر ہے۔
قتادہ اور ابن ابی لیلی نے کہا : مراد خیبر کی فتح ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، مراد فتح مکہ ہے (1) ایک قرأت یہ کی گئی ہے۔
مراد خیبر کے اموال ہیں خیبر جائیداد اور اموال والا تھا یہ حدبییہ اور مکہ کے درمیان ہے اس تعبیر کی بناء پر فتحاً قریباً سے بدل ہے اور وائو زائد ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد فارس اور روم ہے۔
Ayah 48:20حضرت ابن عباس ؓ نے اور مجاہد نے کہا : مراد قیامت کے دن تک غنیمتیں ہیں۔ ابن زید نے کہا : مراد خیبر کی غنیمتیں ہیں (2) سے مراد خیبر ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد صلح حدیبیہ ہے۔
سے مراد اہل مکہ ہیں یعنی صلح کے ساتھ سے ان کے ہاتھوں کو روک لیا قتادہ نے کہا : نبی کریم ﷺ جب حدیبیہ اور خیبر کی طرف نکلے تو مدینہ کے یہودیوں کو تم سے روک لیا، یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے (3) کیونکہ حدیبیہ کے موقع پر مشرکوں کے ہاتھوں کے روکنے کا ذکر میں موجود ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سے مراد عینیہ بن حصن فزاری، عوف بن مالک اور ان کے ساتھی ہیں کیونکہ وہ آئے تھے تاکہ اہل خیبر کی مدد کریں جبکہ نبی کریم ﷺ ان کا محاصرہ کیسے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور مسلمانوں سے انہیں روک دیا۔
ان کی شکست اور تمہاری سلامتی مومنوں کے لئے نشانی ہوجائے اور اس سے وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی موجودگی اور ان کی عد موجودگی میں ان کی حفاظت فرمائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے ہاتھوں کو تم سے روک دینا مومنوں کے لئے نشانی ہوجائے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نعمت جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں جلدی عطا فرمائی ہے وہ مومنوں کے لئے اس بارے میں نشانی ہوجائے کہ آپ اس وعدہ میں سچے ہیں کہ وہ اس نعمت کو ضرور پائیں گے میں وائو کو فیوں کے نزدیک زائد ہے بصریوں نے کہا : یہ عاطفہ ہے اس کا عطف کلام مضمر پر ہے تقدیر کلام یہ ہے کف
Ayah 48:21یہ ہذھ پر معطوف ہے تقدیر کلام یہ بنے گا
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد وہ فتوحات ہیں (1) جو مسلمانوں کو نصیب ہوئیں جس طرح فارس اور روم کا علاقہ اور اس طرح کی دوسری فتوحات جو مسلمانوں نصیب ہوئیں یہ حضرت حسن بصری مقاتل اور ابن ابی لیلیٰ کا قول ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے، ضحاک، ابن زید اور ابن اسحاق کا بھی یہ قول ہے : مراد خیبر ہے اللہ تعالیٰ نے فتح سے پہلے اپنے نبی سے اس کا وعدہ کیا مسلمان اس کی امید تک نہ رکھتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس فتح کی صحابہ کو خبر دی۔ حضرت حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے اور قتادہ کا قول ہے مراد فتح مکہ ہے (2) عکرمہ نے کہا : مراد حینن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یہ اس امر پر دال ہے کہ اس کے لئے کوشش پہلے کی گئی اور فی الحال مطلوب کا حصول فوت ہوچکا تھا جس طرح مکہ مکرمہ کے بارے میں تھا۔ یہ قشیری کا قول ہے مجاہد نے کہا : قیامت تک کے لئے فتوحات مراد ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے لئے تیار کر ررکھا ہے یہ اس چیز کی طرح ہے جس کو ہر طرف سے گھیر لیا گیا ہو یہ چیز محصور ہے اب اس کے فوت ہونے کا امکان نہیں تم اگرچہ اس وقت اس پر قادر نہیں ہو مگر یہ تمہارے لئے محبوس کی جا چکی ہے وہ تم سے فوت نہ ہوئی یعنی تمہارے ہاتھ سے نہ جائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سے مراد وہ جانتا ہے کہ وہ تمہارے لئے ہے : جس طرح ارشاد فرمایا : (الطلاق) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے لئے محفوظ کردیا ہے تاکہ اس کی فتح تمہارے لئے ہو۔
Ayah 48:22قتادہ نے کہا : مراد قریش کے کفار ہیں (1) جو حدیبیہ کے موقع پر موجود تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد بن غطفان، بنو اسد اور کفار ہیں جنہوں نے اہل خیبر کی مدد کا ارادہ کیا تھا وبال انہیں پر جا پڑا۔
سے مراد طریقہ اور عادت ہے جو اس نے اپنے دوستوں کی دشمنوں کے خلاف مدد کی سنۃ کا لفظ مفعول مطلق کے طور پر منصوب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ سے مراد کسنۃ اللہ، سنہ کا معنی طریقہ اور سیرت ہے، شاعر کہتا ہے :
جس طریقہ پر تو چلا ہے اس سے نہ گھبرا جو آدمی کسی راستے پر چلتا ہے وہی اس پر راضی ہوتا ہے۔
سنۃ کا معنی یہ بھی ہے یہ مدینہ کی کھجوروں کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔
Ayahs 48:23–24اس سے مرا حدیبیہ ہے یزید بن ہارون نے روایت نقل کی ہے کہ حماد بن سلمہ، ثابت سے وہ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کے اسی افراد مسلح ہو کر تعیم پہاڑ سے اترے وہ بیخبر ی کے عالم میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے ہم نے انہیں جھگڑے کے بغیر پکڑ لیا اور انہیں زندہ رہنے کا موقع دیا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی ؓ نے کہا : ہم حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے جس درخت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے اسی اثنا میں کہ ہم بیٹھے ہوتے تھے کہ تیس نوجوان ہمارے سامنے آگئے جو مسلح تھے رسول اللہ ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا کیا تم کسی فرد کے عہد و پیمان میں یہاں آئے ہو یا کسی نے تمہیں امان دی ہے۔ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم : نہیں تو نبی کریم ﷺ نے انہیں جانے دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔
ابن ہشام نے وکیع سے ذکر کیا ہے : قریش کے ستر یا اسی افراد مسلمانوں پر غارت گری مچانے اور ان کے اطراف میں کوئی موقع تلاش کرنے کے لئے آئے مسلمان ان کا ارادہ بھانپ گئے تو مسلمانوں نے انہیں قیدی بنا لیا یہ اس وقت ہوا جب صلح کے بارے میں گفتگو کے لئے سفراء آ جارہے تھے رسول اللہ ﷺ نے انہیں چھوڑ دیا۔ ان افراد کو عتقا کہا جاتا ان میں حضرت معاویہ اور ان کے والد بھی تھے۔
مجاہد نے کہا : نبی کریم ﷺ عمرہ کے ارادہ سے نکلے کہ بیخبر ی کے عالم میں آپ ﷺ کے صحابہ نے حرم سے کچھ افراد کو پکڑ لیا نبی کریم ﷺ نے انہیں چھوڑ دیا یہ کامیابی مکہ کی وادی میں ہوئی تھی۔ (1) قتادہ نے کہا : ہمارے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک صحابی تھا جسے زینم کہا جاتا وہ حدبیہ کے ایک ٹیلہ پر چڑھا تو مشرکوں نے اسے تیر مارا اور اسے قتل کردیا نبی کریم ﷺ نے ایک گھڑ سوار دستہ بھیجا تو وہ کفار کے بارہ شاہ سوار پکڑ کرلے آئے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا : کیا تمہارے حق میں میرے اوپر کوئی عہد و پیمان ہے (2) “ انہوں نے عرض کی، نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں آزا کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔
ابن ابزی اور کلبی نے کہا : مراد اہل حدیبیہ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ مسلمانوں سے روک لئے یہاں تک کہ صلح ہوگئی سب نکل کھڑے ہوئے تھے اور مسلمانوں کا قصد کیا تھا اور مسلمانوں کے ہاتھوں کو بھی ان سے روک لیا تھا یہ بحث پہلے گزر چکی ہے کہ حضرت خالد بن ولید مشرکوں کے گھڑ سوار دستہ میں موجود تھے۔ قشیری نے کہا : یہ ایک روایت ہے صحیح بات یہ ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے۔
حضرت سلمہ بن اکوع نے کہا : صلح کی بات چل رہی تھی کہ ابو سفیان آئے جبکہ وادی میں لوگوں اور اسلحہ کی ریل پیل تھی، کہا : میں چھ مشرکوں کو ہانکتا ہوا لایا جو مسلح تھے وہ اپنی ذاتوں کے لئے نفع اور نقصان کے کوئی مالک نہ تھے میں انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا حضرت عمر راستہ میں تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ہم جنگ جو لوگوں کے پاس آ رہے ہیں نہ ہمارے پاس کوئی اسلحہ ہے اور نہ ہی سواری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے راستہ میں ہی سے مدینہ کی طرف بھیجا تو صحابہ ہر قسم کا اسلحہ اور ہر قسم کے جانور لے آئے اس وقت مدینہ طیبہ میں موجود تھے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی گئی کہ عکرمہ بن ابی جہل پانچ سو سواروں کے ساتھ آپ کے مقابلہ کے لئے نکلا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد بن ولید سے کہا : یہ ” یہ تیرا چچازاد ہے جو پانچ سو سواروں کے ساتھ آ رہا ہے “ حضرت خالد نے عرض کی : میں اللہ تعالیٰ کی تلوار ہوں اور رسول اللہ ﷺ کی تلوار ہوں اسی دن سے انہیں سیف اللہ کا لق دیا گیا ان کے ساتھ گھڑ سوار دستہ تھا انہوں نے کفار کو بھگا دیا اور مکہ کی دیواروں تک دھکیل دیا۔ یہ روایت زیادہ صحیح ہے ان کے درمیان لڑائی پتھروں کے ساتھ ہوئی تھی ایک قول یہ کیا گیا ہے : تیروں اور کمانوں کے ساتھ لڑائی ہوئی تھی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : کف البد سے مراد معاہدہ میں یہ شرط تھی کہ کفار میں سے جو ہمارے پاس آئے گا توہ وہ ان پر لوٹا دیا جائے گا۔ مکہ مکرمہ سے کچھ مسلمان نکلے انہیں خوف تھا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں مشرکوں کی طرف لوٹا دیں گے وہ ساحل سمندر پر اکٹھے ہوگئے ان میں حضرت ابو بصیر بھی تھے وہ کفار پر غارت گری مچاتے اور ان کے قافلے لوٹ لیتے یہاں تک کہ قریش کے سردار نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی : انہیں اپنے پاس بلا لیجئے تاکہ ہم امن میں ہوجائیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : بنو غطفان اور بنو اسد نے خیبر کے یہودیوں کا مسلمانوں سے دفاع کرنے کا ارادہ کیا کیونکہ وہ یہودیوں کے حلیف تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز سے روک دیا یہی کف البد ہے
اس میں دو قول ہیں (1) مراد مکہ مکرمہ ہے (2) مراد حدیبیہ ہے، کیونکہ اس کا کچھ حصہ حرم کا حصہ ہے۔ یہ ماوردی نے کہا : مراد فتح مکہ ہے : یہ آیت فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ مکہ صلح کے ساتھ فتح ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
میں کہتا ہوں : یہ آیت صلح حدیبیہ کے متعلق فتح مکہ سے پہلے نازل ہوئی جس طرح ہم نے صحابہ اور تابعین میں سے علماء سے روایت نقل کی ہے امام ترمذی نے روایت نقل کی ہے کہ عبد بن حمید، سلیمان بن حرب سے وہ حماد بن سلمہ سے وہ ثابت سے وہ حضرت انس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اسی افراد تنعیمیم پہاڑ سے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ پر اترے جبکہ نماز صبح کا وقت تھا وہ ارادہ رکھتے تھے کہ نبی کریم ﷺ کو شہید کردیں انہیں پکڑ لیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں آزاد کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔
ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (1) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے جہاں تک فتح مکہ کا تعلق ہے جس پر اخبار دلالت کرتی ہیں کہ وہ زبردستی فتح ہوا اس بارے میں گفتگو سورة حجر میں اور دوسری سورتوں میں گزر چکی ہے۔