Ayah 48:1ترکیب : لیغفر اختلف الاقوال فی اللام۔ قال ابوالعباس المبردہی لام کے معناھا انا فتحنالک فتحًا مبینا لکی یجتمع لک مع المغفرۃ تمام النعمۃ فے الفتح۔
تفسیر : ابن جریر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ہجرت کے چھٹے سال نبی ﷺ عمرہ کرنے مکہ چلے اور مشرکوں نے بمقام حدیبیہ آپ کو روک دیا اور اس بات پر فیصلہ ٹھیرا کہ اگلے سال آپ عمرہ کریں اور آنحضرت ﷺ نے وہیں اپنی قربانی ذبح کردی۔ اس سے صحابہ ؓ کی ایک جماعت کو رنج تھا جن میں عمر بن الخطاب ؓ بھی تھے پھر جب قربانی کر کے مدینہ کو واپس چلے تب یہ سورة مدینہ میں نازل ہوئی جس میں ان شکستہ دل مسلمانوں کو مژدہ ہے کہ یہ صلح تمہارے لیے فتح و ظفر ہے۔ چناچہ بخاری نے براء ؓ سے نقل کیا ہے کہ اے لوگو ! تم مکہ فتح ہوجانے کو فتح سمجھتے ہو وہ بھی سہی۔ ہم تو یوم حدیبیہ میں بیعت الرضوان 2 ؎ کو فتح سمجھتے ہیں ہم چودہ سو آدمی حضرت ﷺ کے ساتھ تھے اور حدیبیہ جو ایک کنواں ہے اس میں جس قدر تھوڑا سا پانی تھا سب کھینچ لیا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا۔ آنحضرت ﷺ نے کسی قدر پانی مانگا وضو کر کے کلی اس میں ڈال دی پھر اس میں اس قدر پانی ہوگیا کہ سب آدمیوں اور اونٹوں نے سیر ہو کر پیا۔
اور بھی صحیحین و سنن ابی دائود وجامع ترمذی وغیرہ کتابوں میں روایات صحیحہ ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سورة صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اگلی سورة میں فرمایا تھا ومن یبخل فانما عن نفسہ کہ تم جہاد میں خرچ کرنے سے کس لیے بخل کرتے ہو ہم نے تمہارے لیے ایک فتح مقرر کردی۔ جس میں اپنے خرچ کئے سے دگنا بلکہ دہ گنا پالوگے۔ اس لیے فرماتا ہے انافتحنالک فتحامبینا کہ اے محمد ﷺ ! ہم نے تیرے لیے فتح ظاہر کا حکم لگا دیا۔ فتح مبین میں علماء کے چند اقوال ہیں بعض کہتے ہیں فتح مکہ گو اس وقت تک نہ ہوئی تھی مگر یقینی چیز کو بلفظ ماضی تعبیر کرنا قرآن کا محاورہ ہے۔ بعض کہتے ہیں فتح روم وغیرہ جو اہل اسلام کو یکے بعد دیگرے اس سورة کے بعد سے ہونی شروع ہوئیں خیبر فتح ہوا اور علاقہ عرب کے زیر حکومت ہوئے یمن میں تسلط ہو ‘ اخراج بھی آئے۔ بعض کہتے ہیں براہین و حج اسلامیہ بعض کہتے ہیں
2 ؎ بیعت رضوان کا قصہ آگے آتا ہے حدیبیہ مکہ کے قریب ایک کنواں تھا بعض نے اس کو حل میں بعض نے حرم میں شمار کیا ہے اب ایک قریہ ہے مکہ سے ایک مرحلہ یا کم اس جگہ آنحضرت ﷺ نے ڈیرہ کیا مکہ تک لوگوں نے آنے نہ دیا یہیں صلح ہوئی اور دیگر باتیں کہ جن کا اس سورة میں ذکر آتا ہے یہیں واقع ہوئی ہیں۔
یہ اقوال باہم متعارض نہیں ہر ایک درست ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صلح حدیبیہ سے مسلمانوں کو ایک رنج تھا کہ کفار قریش نے مکہ کے قریب سے مسلمانوں کو اور حضرت ﷺ کو مکہ میں آنے نہ دیا اور اگلے سال پر ٹال دیا گویا مسلمان دب گئے آنحضرت ﷺ نے اس جگہ فروتنی کو اختیار کیا جنگ و جدل کرنا مناسب نہ جانا اس کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے فتوحات کے دروازے حضرت ﷺ پر اور آپ کے پیروئوں پر کھول دیے تھوڑے دن گزرے تھے کہ خیبر فتح ہوا۔
جس سے مدینہ کے مسلمانوں کا فقروفاقہ ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد مکہ فتح ہوا اور بہت سی فتوحات ظاہر ہوتی گئیں جن کی مفصل کیفیت کتب تواریخ میں موجود ہے اور اسلام کو جو یوماً فیوماً غلبہ ہوتا گیا۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام پسند ہے اور آنحضرت ﷺ برگزیدہ بارگاہ ہیں کیونکہ جھوٹے ہوتے تو بموجب بشارت توریت سفر استثناء کے فروغ نہ پاتے۔ اس بات کو ان آیات میں ظاہر فرماتا ہے لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخرویتم نعمۃ علیک ویہدیک صراطا مستقیما وینصرک اللہ نصرًا عزیزًا گو فتح سبب مغفرت نہیں مگر دلیل مغفرت ہے یہاں خدا تعالیٰ نے چار باتیں فرمائیں (1) یہ کہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے۔ یہ مسلم ہے کہ حضرت نے عمر بھر کوئی گناہ نہیں کیا نہ چھوٹا نہ بڑا مگر پھر بھی بشر تھے وہ خواص بشر یہ جو کبھی ملکیت پر غالب آکر قدرے غفلات و جذبات پیدا کردیتے تھے آنحضرت ﷺ کے گناہ ہیں جن سے کوئی آدمی زاد پاک نہیں۔ ان کے واسطے مغفرت کا وعدہ حضرت ﷺ کی کوششوں کے بدلہ میں اس بات کا اعلان ہے کہ آپ شافع روز محشر ہیں اور نبی معصوم۔ بعض نصاریٰ نے معمولی گناہ سمجھ کر آنحضرت ﷺ پر گناہگاری کا الزام قائم کردیا اور اس پر طرح طرح کے برے نتائج پیدا کر لئے۔ (2) یہ کہ اپنی نعمت آپ کو پوری پوری عطا کرے کیونکہ نبوت کی نعمت تو آپ کو عطا ہوئی تھی مگر بغیر شوکت اسلام و شیوع دین پاک کے یہ نعمت پوری نہ ہوئی تھی سو پوری ہوگئی۔ (3) ویہدیک صراطا مستقیما اور ان کو سیدھا رستہ چلاوے کس لیے کہ سیدھے رستے پر چلنے میں جو لوگ حارج و مانع تھے جب ان پر آپ کو فتح نصیب ہوئی تو اب صراط مستقیم صاف ہوگیا۔ اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ لوگوں کو بتلا دے کہ تو سیدھے رستے پر ہے کس لیے کہ اگر یہ دین منشائِ الٰہی کے موافق نہ ہوتا تو دنیا میں اس قدر جلد رواج نہ پاتا۔ (4) یہ کہ اللہ آپ کو دشمنوں پر زبردست فتح دے گا نصرًا عزیزًا قال الزمخشری معناہ نصراذاعزکقولہ فی عیشۃ راضیۃ ای ذات رضا۔ اس کے بعد فتح و مدد کا سبب بیان فرماتا ہے کہ وہ کس طرح سے ہوگی فقال وھوالذی انزل السکینۃ فی قلوب المؤمنین لیزدادوا ایمانامع ایمانہم 1 ؎ کہ اس نے مسلمانوں کے دلوں میں اطمینان وقرار نازل کیا جس سے ان کا اور بھی ایمان قوی ہوگیا۔ حقیقت میں فتح و شکست کا باعث دل کی استقامت اور بےثباتی پر ہوتا ہے بہت سے لشکر جن کے دل ہل جاتے ہیں تھوڑے سے آدمیوں سے جو قوی دل اور ثابت قدم ہوتے ہیں شکست کھایا کرتے ہیں۔ قلت و کثرت ‘ سامان و اسلحہ حرب و ضرب بالائی باتیں ہیں۔ اللہ پاک نے اس ارشاد کے بموجب صحابہ ؓ کے دل میں وہ قوت اثبات پیدا کردیا تھا کہ قیصر و کسریٰ کی عظیم الشان سلطنتیں تھوڑے سے دنوں میں اکھیڑ کر پھینک دیں اور چھوٹے موٹوں کا کیا ذکر ہے۔ اور یہ کیوں کیا۔ وللہ جنود السموات والارض اللہ کی فوجیں آسمانوں میں بھی ہیں اور زمین میں بھی اگر وہ چاہتا تو آسمانی لشکر یعنی ملائکہ سے ان قدیمی گمراہوں سرکشوں متکبروں کو پامال کردیتا مگر اس نے زمین کے لشکر سے کام لیا۔ صحابہ ؓ کے دل میں قوۃ و اطمینان دے کر ان کو زمین میں خدائی لشکر کردیا پھر خدا کے لشکر سے کون مقابلہ کرسکتا تھا ؟ اور زمینی لشکر سے کیوں کام لیا وکان اللہ علیما حکیما اللہ علم والا ہے ہر ایک بات جانتا ہے اور حکمت والا بھی ہے اس کی حکمت بھی اسی کو معلوم ہے۔ منجملہ اس کے ایک یہ ہے کہ ان میں ان نیک بندوں کا بھی امتحان مقصود تھا کہ دیکھیں کیسے ثابت قدم رہتے ہیں۔ فائدہ : صحابہ ؓ کو گو حدیبیہ کے واقعہ سے پہلے ہی حضرت نبی ﷺ کے فرمانے سے اس بات پر ایمان تھا کہ ایک روز اسلام غالب ہوگا مگر اس واقعہ کے بعد جبکہ ان کے دل میں اطمینان و ثابت قدمی نازل کی اور بھی یقین 1 ؎ کامل ہوگیا۔
Ayahs 48:2–3ا ؎ ماتقدم الخ اس وقت سے پہلے اور اس سے پچھلے گناہ یا نبوت کے قبل ومابعد کے گناہ مراد ہیں جیسا کہ ابن جریر اور سفیان ثوری و مجاہد کہتے ہیں۔ عطا کہتے ہیں ماتقدم سے مراد آدم و حوا کے گناہ اور ماتاخر سے امت کے گناہ مراد ہیں۔ اس تقدیر پر حضرت ﷺ کی طرف حقیقۃً گناہ منسوب نہیں۔ پچھلے گناہ اب تک ظہور ہی میں نہیں آئے ان کے بخشنے کے یا تو یہ معنی ہیں کہ وعدہ ہے اگر صادر ہوں گے تو معاف کردیے جائیں گے یا گناہوں کی نوبت ہی نہ آوے گی توفیقِ الٰہی رفیق رہے گی۔ 12 منہ
Ayah 48:41 ؎ علماء کی ایک جماعت اس آیت سے استدلال کر کے یہ کہتے ہیں کہ ایمان کم زیادہ ہوتا ہے مگر محققین جن میں حضرت امام ابوحنیفہ (رح) بھی ہیں یہ کہتے ہیں کہ ایمان ایک تصدیق قلبی ہے وہ کیفیت زیادہ کم نہیں ہوتی پھر آیات و احادیث میں جو زیادہ ہونا آیا ہے اس سے علم الیقین عین الیقین مراد ہے یا باعتبار اس کے کہ جس پر ایمان لایا یعنی پہلی دو باتوں پر ایمان تھا پھر تیسری نازل ہوئی اس پر بھی ہوا۔ چناچہ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس بارے میں بعض آثار بھی نقل کئے ہیں۔ 12 منہ
Ayah 48:5ترکیب : لیدخل متعلقہ بقولہ انا فتحناوقیل متعلقۃ بینصرک وقیل متعلقۃ بمحذوف ینا سب المقام جنات مفعول فیہ خالدین حال من المؤمنین ویکفر معطوف علی یدخل و یعذب ایضا معطوف علیہ وغضب ولعن واعد عطف علی احد مع ان الواوفی الاخیرین فی محل الفاء لیدل علی استقلال الکل فی الوعید۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا وکان اللہ علیما حکیما۔ اب زمینی لشکر سے اسلام کو فتحیاب کرنے کی حکمت بتلاتا ہے۔ فقال لیدخل تاکہ ان جاں فشاں ایمانداروں کو جنت میں داخل کرے اور ان کے مساعی جمیلہ کو ان کے گناہوں کا کفارہ کر دے جو اللہ کے نزدیک بڑی بہتری اور انسان کی کامیابی 2 ؎ ہے۔ اس سے زیادہ انسان کے لیے اور کیا مراد و تمنا ہوسکتی ہے کہ اس کے گناہوں پر مواخذہ نہ ہو اور وہ ہمیشہ بہشت میں رہا کرے۔
اگرچہ اور معاملات میں اللہ تعالیٰ نے مردوں ہی کی طرف خطاب کیا ہے اور عورتیں تبعاً شامل ہیں مگر یہاں جہاد کے صلے میں انعام مذکور ہوئے ہیں اور عورتیں جہاد میں شریک ہو نہیں ہوسکتیں جس سے گمان ہوسکتا کہ عورتوں کو یہ انعام نہ ملے گا مگر ایسی جوانمردی کی عورتیں بھی ان معاملات میں دل سے شریک ہوتی ہیں جب مرد باہر جہاد میں جاتے ہیں پیچھے انتظام خانہ داری کرتی ہیں اور چلتے وقت سامان مہیا کرتی ہیں اس لیے اس کریم نے ان کی تصریح بھی کردی۔ مومنین کے بعد مومنات کا لفظ بھی بڑھا دیا اسی طرح گمراہوں کی عورتیں ان کے شریک حال ہوتی ہیں ان کا بھی عذاب میں نام لیا گیا۔ فقال یعذب المنافقین و المنافقات الخ اور جہاد کے حکم میں یہ بھی مصلحت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں حجت تمام کر کے منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو عذاب کرے۔ دنیا میں بھی قتل کئے جائیں۔ اسیر ہوں گھر بار لوٹے جاویں اور آخرت میں جہنم میں جلیں۔ اس مقام پر منافقوں اور مشرکوں کا ایک عیب بیان کیا جو نفاق و شرک کے علاوہ ہے اور وہ یہ کہ الظانین باللہ اللہ سے بدگمانی کرتے ہیں (کہ رسول سے جو اللہ نے دین کے غلبہ کا وعدہ کیا ہے باوجود بےسروسامانی کے کیونکر پیغمبر کی جماعت غلبہ پاوے گی۔ یہ محض جھوٹے وعدے ہیں) اس کے جواب میں فرماتا ہے : (1) علیہم دائرۃ السوء دائرہ مصدر ہے اسم فاعل کے وزن پر یا اسم فاعل ہے داریدور سے دائر خط محیط کو کہتے ہیں پھر اس کا استعمال حادثہ میں ہونے لگا جو جس پر پڑتا ہے اس کا احاطہ کرلیتا ہے۔ سوء بضم بمعنی عذاب وہزیمت و شروبالفتح بمعنی برائی اس لیے دونوں قرأت ہیں۔ یعنی انہی پر حادثہ پڑے گا نہ مسلمانوں پر جیسا کہ وہ گمان کرتے ہیں۔ (2) ان پر اللہ کا غضب ہے (3) اس کی لعنت۔ (4) ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ اور وہ اس گمان میں نہ رہیں کہ پیغمبر ( علیہ السلام) کے پاس اسباب ظاہری نہیں وہ کیونکر فتح پاویں گے کس لیے کہ وللہ جنود السمٰوت والارض اللہ کے پاس آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں جس سے چاہے کام لے وہ رب الافواج ہے کون اس کا مقابلہ کرسکتا ہے اور وہ زبردست ہے اس پر حکیم بھی ہے حکمت کے ساتھ زور بہت کام دیتا ہے۔
2 ؎ یہ فتوحات غیبیہ مخلصین اور غیر مخلصین میں امتیاز کردیتی ہیں اس لیے مومن دار فانی میں حیات ابدی کے اور منافقین اور مشرکین جہنم کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ 12 منہ حقانی
Ayahs 48:6–10تفسیر : ابھی فرمایا تھا عزیزاحکیما اب یہاں اپنی حکمت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ساتھ زبردست ہونا بھی بتاتا ہے فقال انا ارسلناک الخ کہ اے محمد ﷺ ! ہم نے تجھ کو بھیجا ہے گواہ بنا کر نیک و بد کاموں میں (جو لوگوں کے نزاع ہیں کوئی توحید کا قائل ہے ‘ کوئی بت پرستی کرتا ہے ‘ کوئی کسی بات کو اچھا کہتا ہے کوئی برا اور دلائلِ فریقین باہم متعارض ہیں اس لیے دنیا ظلمات میں گھری ہوئی تھی) شہادت دیویں آپ ہی کی گواہی پر اچھائی اور برائی کا فیصلہ ہے پس آپ اچھے کام کرنے والوں کو بشارت دیتے ہیں کہ آخرت میں عمدہ نتائج ملیں گے اور برے کام کرنے والوں کو خوف دلاتے ہیں کہ ان باتوں کا انجام بد ہے دنیا کی بربادی اور آخرت میں عذاب۔ پس یہ شاہد اس لیے بھیجا تاکہ اے بنی آدم ! تم اس کی اور اللہ کی تصدیق کرو ایمان لاؤ اور اللہ اور اس کے رسول کی عزت و توقیر کرو۔ بعض کہتے ہیں تعزروہ وتوقروہ کی ضمیریں خاص اللہ کی طرف پھرتی ہیں بعض خاص رسول کی طرف راجع کرتے ہیں اور اس جگہ وقف ہے تسبحوہ جدا جملہ شروع ہوتا ہے۔ مفسرین کہتے ہیں تعزیرو توقیر سے مراد یہ ہے کہ اس کے دین کی اعانت کرو۔
رسول کریم ﷺ کی تعظیم واجب و فرض ہے ذرا بھی کوئی توہین کرے گا فیض رسالت سے ابدالآباد محروم رہے گا۔ وتسبحوہ بکرۃ واصیلا اور اللہ کی صبح و شام تسبیح بیان کرو سبحان اللہ وبحمدہ کہو۔ بعض کہتے ہیں نماز پڑھنا مراد ہے۔ کیونکہ تسبیح سے نماز بھی مراد ہوا کرتی ہے یہ شکر ہے اس اللہ کا کہ جس نے ہمارے لیے ایسا رسول بھیجا۔ اب بندوں میں سے ایک گروہ کے محامد بیان کرتا ہے جنہوں نے تعظیم و تکریم اللہ اور اس کے رسول کی کماینبغی کی فقال ان الذین یبایعونک کہ اے محمد ﷺ ! وہ جو آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں رسول اللہ کا نائب ہے گویا اللہ ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا ہے پھر جو اس بیعت کو توڑے گا یعنی اقرار کر کے بدعہدی کرے گا اپنا برا کرے گا اور جو اس عہد کو پورا کرے گا اللہ اس کا اجر عظیم دے گا۔
حدیبیہ سے جب رسول کریم ﷺ نے مکہ میں عثمان ؓ کو پیغام دے کر بھیجا قریش نے ان کو وہیں قید کرلیا اور خبر مشہور ہوئی کہ قتل کر ڈالا تب مسلمانوں کو جوش ہوا اور حضرت ﷺ نے لوگوں سے عہد لینا شروع کیا آپ ایک سایہ دار درخت کے تلے تشریف رکھتے تھے اور صحابہ ؓ آتے تھے اور حضرت ﷺ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یہ کہتے تھے کہ ہم لڑیں گے بھاگیں گے نہیں۔ تخمیناً چودہ سو آدمیوں نے بیعت کی اس کو بیعت رضوان کہتے ہیں ان آیات میں اسی کا ذکر ہے آیندہ بھی اس کا ذکر آوے گا۔
اللہ تعالیٰ ہاتھ پائوں جسمانی چیزوں سے پاک ہے پھر ہاتھ برسبیل مشاکلت فرمایا جس سے مراد اس کی حمایت و عنایت ہے۔ یہی مذہب ہے محققین کا صفات متشابہات میں۔ بیع بیچنا۔ اس قسم کے معاہدہ کو اس لیے بیعت کہتے ہیں کہ بیعت کرنے والا اپنی جان و مال کو اللہ کی راہ میں بیع کرتا ہے آنحضرت ﷺ سے جہاد کے لیے بھی بیعت ہوتی تھی اور کبھی ہجرت پر اور کبھی ترک منکرات پر کبھی خدا تعالیٰ کی بندگی و یاد میں مستحکم رہنے پر کتب احادیث اس کی شاہد عدل ہیں حضرت ﷺ کے بعد بیعت خلافت کا سلاطین کے لیے دستور جاری رہا اور بیعت توبہ وانابت کی سنت قائم کرنے کے لیے علماء و مشائخ کی جماعت قائم ہوئی اور بیعت اہل طریقت بھی بیعت انابت ہے یہ مسنون ہے مگر جس کے ہاتھ پر بیعت کی جاوے وہ ظاہر شریعت و انوار طریقت سے مزین ہونا چاہیے ہاں یہ جو پیرزادے خاندانی پیشہ سمجھ کر کھانے کمانے کے لیے بیعت کرلیتے ہیں اور شریعت سے علیحدہ رستہ پر چلتے ہیں محض بےاصل کام ہے۔
Ayahs 48:11–14تفسیر : جس طرح کہ اعانت اور تعظیم کرنے والے گروہ کا ذکر خیر کیا تھا اسی طرح ان کے برعکس جماعت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال سیقول لک المخلفون الخ کہ بہت جلد پیچھے رہ جانے والے اے نبی ! ایسے یہ جھوٹے عذر کریں گے محض تمہارے ضرر سے بچنے کے لیے حالانکہ دنیا یا آخرت میں جو کچھ ضرر یا نفع ان کو پہنچنا ہے اس کو کون روک سکتا ہے۔ یہ عذر کہ ہم اپنے مال و عیال کی وجہ سے آپ کے ساتھ اس سفر میں شریک نہ تھے ان میں مصروف رہے غلط ہے اور اس پر ان کا کہنا بھی جھوٹ ہے کہ ہمارے لیے معافی مانگ کیونکہ دل میں اس بات کو گناہ ہی نہیں جانتے بلکہ ان میں یہ خیال تھا کہ رسول ﷺ اور صحابہ ؓ جو مکہ جاتے ہیں سلامت نہ آئیں گے۔ کس لیے کہ جب اہل مکہ مدینہ میں آکر لڑتے ہیں تو پھر یہ ان کے گھر جا کر کیونکر سلامت آئیں گے ؟ اس خیال بد سے شریک نہ ہوئے تھے ان کا دراصل اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہی نہیں۔ بےایمانوں کے لیے جہنم ہے اور ان کی اللہ اور اس کے رسول کو پرواہی کیا ہے اس کے قبضہ میں آسمان اور زمین ہے جس کو جو چاہے معاف کرے یا عذاب دے مگر عذاب کرنے میں جلدی نہیں کرتا ‘ غفور رحیم ہے۔ یہ ان آیات کا خلاصہ ہے مجاہد وغیرہ مفسرین کہتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ تخمیناً چودہ سو آدمیوں کے ساتھ ہجرت کے چھٹے سال مکہ کی طرف عمرہ کرنے چلے اور اعلان عام کردیا کہ سب قبائل چلیں کس لیے کہ قریش و دیگر قبائل کا خوف تھا کہ وہ مقابلہ کریں گے تو عرب کے چند قبائل غفار و مزینہ و جہینہ واشجع وائل جو مدینہ کے اطراف میں رہتے ہیں اور بظاہر مسلمان ومطیع اسلام تھے اس اندیشہ سے ساتھ نہ ہوئے کہ مخالف کے ہاتھ سے بچ کر نہ آئیں گے یہ بدگمانی اور وقت پر آنکھ چرانا شیوہ ایمان و توکل نہ تھا۔ اس لیے ان پر عتاب ہوا اور سفر میں جب یہ سورة نازل ہوئی مقام پر پہنچنے سے پہلے آپ کو مطلع کردیا کہ جب تم مدینہ پہنچو گے تو وہ لوگ آکر تم سے یہ جھوٹے عذر کریں گے چناچہ جب آنحضرت ﷺ واپس تشریف لائے یہ عذرات انہوں نے پیش کئے۔ سبحان اللہ خدا کا کلام بھی کیا کلام ہے۔ عتاب کے وقت بھی انجام کا لحاظ رہتا ہے چونکہ یہ قبائل انجام میں صدق دل سے مسلمان اور ناصر اسلام ہونے والے تھے۔ ان ارادبکم ضرًا کے بعد ان ارادبکم نفعًا بھی فرما دیا کیونکہ آخر کار اسلامی برکات سے یہ بھی مستفید ہوئے اور آیت کے اخیر میں وکان اللہ غفورارحیما فرما کر توبہ و استغفار کی طرف آمادہ کردیا اور بتلا دیا کہ در توبہ کھلا ہوا ہے چلے آؤ تہدید کے ساتھ ترغیب ایک ہی کلام میں کمال اعجاز ہے۔
Ayahs 48:15–17تفسیر : یہ تتمہ ہے کلام سابق کا کہ جب تم غنیمت حاصل کرنے جاؤ گے تو یہ پیچھے رہ جانے والے تمہارے ساتھ جانے کو کہیں گے تو تم ان کو ساتھ نہ لے جانا اور کہہ دینا اللہ کا حکم نہیں پھر وہ تم کو حسد سے متہم کریں گے دراصل وہ نادان ہیں۔
حدیبیہ سے لوٹتے وقت آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو حکم الٰہی سے مژدہ دیا تھا کہ اب عنقریب تم کو ایک فتح اور غنیمت حاصل ہوگی اور اس میں وہی لوگ شریک ہوں جو حدیبیہ میں تھے چناچہ جب آپ ذی الحجہ کے مہینے میں مدینہ میں واپس آئے اوائل محرم میں ساتویں سال خیبر 1 ؎ پر چڑھائی کی اور یہ لوگ بھی ساتھ چلنے کو آمادہ ہوئے۔ ان کو منع کردیا گیا۔ کلام اللہ سے مراد اس کا وعدہ اور حکم جو خاص اہل حدیبیہ کے شریک کرنے کا تھا یہ شریک ہوتے تو اس میں فرق آجاتا۔ قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید الخ اے محمد ﷺ ! ان پیچھے رہ جانے والوں بدوؤں سے یہ کہہ دو کہ خیبر کی غنیمت میں تم شریک نہیں ہوسکتے مگر اس کے بعد تم کو ایک سخت جنگ اور قوی قوم سے لڑنے کو بلایا جائے گا۔ تم ان سے لڑنا یہاں تک کہ وہ اسلام لے آویں اگر تم نے اس وقت حکم مان لیا تو تم کو نیک اجر ملے گا اور اگر پہلے کی طرح تم پھرگئے تو سخت سزا 1 ؎ ملے گی۔ مفسرین کی اس قوم کی بابت کہ جس کو اولی باس شدید سے تعبیر کیا ہے کئی قول ہیں
عطاء و مجاہد و ابن ابی الیلیٰ اہل فارس کہتے ہیں اور کعب وحسن وغیرہ روم مراد لیتے ہیں سعید بن جبیرہوازن وثقیف قرار دیتے ہیں زہری و مقاتل بنی حنیفہ یمن کے لوگ بتاتے ہیں جو مسیلمہ کذاب کے پیرو ہوگئے تھے ابن عباس ؓ بھی اسی کے قائل ہیں اور فارس و روم کو بھی مراد لیتے ہیں۔
تیسرے قول والے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ سیف یا اسلام خاص کفار عرب کے لیے جیسا کہ آیت میں ہے۔ اویسلمون اور عرب کے ساتھ جنگ عظیم ہوازن وثقیف سے آنحضرت ﷺ کے عہد میں ہوئی۔ یہ بھی سہی مگر ہوازن وثقیف ایسی جنگ آور قوم نہیں تھیں اور اگر یہی ہے تو بنی حنیفہ اہل یمن بھی ان سے کم نہ تھے ان کے لیے بھی سیف یا اسلام ہی تھا یہ جنگ حضرت صدیق اکبر ؓ کے عہد میں ہوئی مگر تحقیق یہی ہے کہ فارس و روم مراد ہیں جن سے صدیق اکبر و عمر فاروق ؓ کی خلافت میں جنگ عظیم ہوئی اور عرب کے یہ قبائل بھی بلائے گئے اور انہوں نے دل کھول کر جنگ کی اور متواتر فتوحات حاصل کیں اویسلمون سے اسلام لانامراد نہیں بلکہ مطیع ہوجانا ‘ جزیہ قبول کرنا۔ اس آیت سے صدیق اکبر و عمر فاروق ؓ کی خلافت کا برحق ہونا بخوبی ثابت ہوگیا چونکہ پیچھے رہ جانے والوں پر عتاب ہوا تھا اس لیے جن کے لیے اصلی عذر سے جنگ میں شریک نہ ہونے سے کوئی الزام نہیں ان کا بھی بیان کردیا کہ اندھا اور لنگڑا اور بیمار شریک نہ ہو تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ ان کے سوا اور بھی معذور ہیں جن کی تفصیل کتب فقہ میں موجود ہے اس کے بعد فرما دیا کہ جو اللہ اور رسول کا کہا مانے گا بہشتوں میں رہے گا اور نافرمان کو سخت عذاب ہوگا۔
1 ؎ مدینۃ سے شمال کی جانب چار منزل ہے اور وہاں سے تیماء چار منزل اور حجر بھی چار منزل یہ گڑھی کے طور پر چھوٹا سا قصبہ ہے یہاں باغ اور کھیتی بکثرت ہیں اول یہاں یہود تھے ان کی بدعہدی اور سرکشی سے حضرت ﷺ نے ان پر چڑھائی کی فتح کرنے کے بعد یہاں کی زمین ان لوگوں میں تقسیم کردی جو حدیبیہ میں شریک تھے۔ 12 منہ
؎ یعنی خیبر پر چڑھ کر جاتے وقت جہاں مال غنیمت کی پوری توقع رہے ساتھ جانے کی آرزو کریں گے کس لیے کہ حدیبیہ کے سفر میں شریک ہونا ان کے نزدیک بڑا مشکل کام تھا چونکہ قریش کی بہادری سے ڈرتے تھے اور خیبر کے یہود کو ان کے مقابلے میں ہیچ سمجھتے تھے مگر باالہامِ الٰہی آنحضرت ﷺ نے سفر حدیبیہ کے وقت یہ اعلان کردیا تھا کہ جو ہمارے ساتھ اس سفر میں شریک نہ ہوگا وہ آیندہ فتح میں بھی شریک نہ ہوگا اس لیے جب فتح خیبر کا وقت آیا تو آنحضرت ﷺ نے ان قبائل کو نہ لیا جس پر ان قبائل نے کہنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ ! ہم سے حسد کرتے ہیں غنیمت میں شریک ہونے نہیں دیتے مگر آیندہ ایک بڑی جنگ میں جو روم میں ہونے والی تھی شریک ہونے کی دعوت دی اور یہ بھی سنا دیا کہ اگر تم اس وقت بھی پہلے کی طرح منہ موڑ کر بیٹھ رہو گے تو دنیا میں بھی سخت سزا پاؤ گے اور آخرت میں بھی۔ اگر امام وقت کی اطاعت کروگے اور جنگ میں شریک ہو گے تو تم کو نیک بدلہ ملے گا دنیا اور آخرت میں بھی۔ چناچہ سیدنا ابوبکر ؓ کے عہد خلافت میں لڑنے والی قوم سے جنگ شروع ہوئی۔ یہ لوگ بھی شریک ہوئے اور اجر عظیم کے مستحق ہوئے اب وہ لڑائی خواہ یمامہ کی جنگ ہو یا روم وفارس کی بہرطور دونوں میں ابوبکر و عمر ؓ امام وقت تھے جو ان کے خلافت کے برحق ہونے کی صریح دلیل ہے اور فتح خیبر کے بعد آنحضرت ﷺ کے عہد میں مذکورہ بالا جنگوں جیسی کوئی جنگ نہیں ہوئی مکہ تو معمولی جنگ کے بعد فتح ہوگیا باقی بنی المصطلق وغیرہ کی معمولی لڑائیاں تھیں اور غزوہ تبوک میں لڑنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ افسوس ہے کہ حضرات شیعہ ان امامین کی خلافت ثابت نہ ہونے دینے کے لیے آنحضرت ﷺ کے عہد کی کسی ایک لڑائی کو اس کا مصداق ٹھہراتے ہیں محض تاویلات رکیکہ کے ذریعہ سے۔ 12 منہ
Ayahs 48:18–20ترکیب : اذ ظرف لرضی تحت الشجرۃ ظرف لیبایعونک ومغانم منصوب لکونہ معطوفاعلی فتحا قریبا ای اثابھم مغانم اواتاھم مغانم ولتکون ھذہ الکفۃ اوالغنیمۃ والعطف علی محذوف ھو علۃ الکف ای فعل مافعل من التعجیل والکف لتکون نافعۃ لھم و آیۃ لھم وقیل ان الواومزیدۃ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ اور اس کے بعدان اعراب کی محرومی ذکر کی تھی کہ جو شریک نہ ہوئے تھے۔ اب ان اہل صدق و ایمان کی بیعت کا حال بیان فرماتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا فقال لقدرضی اللہ عن المؤمنین کہ اللہ ایمانداروں سے خوش ہوگیا کہ جو اے محمد ﷺ ! تجھ سے درخت تلے بیعت کر رہے تھے پھر ان کے دلوں کا صدق و ثبات بھی اس کو معلوم ہوا جس پر اس نے ان کے دلوں میں اطمینان عطا کیا واثابہم فتحًا قریبًا اور ان کو بہت جلد ایک فتح دی یعنی واپس آتے ہی خیبر کی فتح نصیب ہوئی اور مغانم کثیرۃ یاخذونہا بہت سی غنیمت کی چیزیں جو خیبر میں ملیں اور اللہ زبردست حکمت والا ہے اس میں حکمت تھی کہ خیبر کو قبضہ اسلام میں کردیا۔
وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونہا اس کے علاوہ اور بہت سے غنائم کا اللہ نے اے مسلمانو ! تم سے وعدہ کیا ہے جن کو تم حاصل کرو گے وہ اور بعد کے غنائم ہیں جو صحابہ ؓ کو فتح روم وفارس و دیگر بلاد سے حاصل ہوئے اور اللہ کی خبر سچی ہوئی۔ مدینہ میں فارس و روم کے بیش بہا غنائم کنکر پتھروں سے زیادہ ارزاں ہوگئے تھے۔ کتب تاریخ اس کی گواہ ہیں۔ منجملہ ان غنائم کے جن کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ فعجل لکم ھذہ یہ یعنی فتح خیبر تمہارے لیے جلد ملے گی بعض مفسرین کہتے ہیں۔ مغانم کثیرۃ سے عرب کی اور فتوحات مراد ہیں جو اس کے بعد ہوئے اور روم و شام وفارس کے بلاد فتح ہونے کی طرف و اخری لم تقدرواعلیہا قد احاط اللہ بہا میں اشارہ ہے کہ وہ بظاہر تمہارے قبضہ کے نہیں لیکن اللہ کے قبضہ میں ہیں ان کا بھی تم سے وعدہ ہے وہ ہر شے پر قادر ہے یہی قوی تر ہے۔
فعجل لکم ھذہ کے بعد یہ فرمایا وکف ایدی الناس عنکم کہ یہ فتح تمہارے لیے جلد ملے گی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے جاویں گے الفاظ گو ماضی کے صیغے ہیں مگر یہ سورة رستے میں مدینہ کے پہنچنے سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ آیندہ آنے والی چیزوں کو ماضی کے صیغے سے بیان کرنا قرآن کا محاورہ ہے۔ اس تقدیر پر یہ آیات فتح خیبر سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ لوگوں کے ہاتھ روکنے سے کیا مراد ہے ؟ یعنی خیبر والوں کے ہاتھ تم سے روک دیے جاویں گے وہ تم سے لڑ نہ سکیں گے چناچہ ایسا ہی ہوا بعض مفسرین نے صیغہ ماضی پر خیال کر کے یہ کہہ دیا ہے کہ قریش کے ہاتھ روکنا مراد ہے جو حدیبیہ کے روز مسلمانوں اور قریش میں جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔ بعض مسلمان جو درختوں کے تلے پڑے ہوئے تھے مکہ والے ان سے آکر چھیڑ چھاڑ کرنے لگے۔ قریب تھا کہ جنگ ہوجاوے مگر ادھر حضرت ﷺ نے بیعت لینی شروع کردی تھی۔ مسلمان ادھر متوجہ ہوگئے یہ ہاتھ روکنا اگلی آیات میں بیان ہوتا ہے۔
اب ہم کو اس بیعت کا کچھ حال بیان کرنا ہے۔ ابن جریر نقل کرتے ہیں کہ حدیبیہ والے سال آنحضرت ﷺ قربانیاں لے کر خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے چلے۔ جنگ مقصود نہ تھی تخمیناً چودہ سو آدمی آپ کے ساتھ تھے۔ جب حدیبیہ پہنچے تو کفار قریش مانع آئے اور انہوں نے جنگ کی تیاری کردی حضرت ﷺ نے حدیبیہ میں ڈیرہ ڈال دیا اور عثمان بن عفان ؓ کو ابوسفیان اور دیگر عمائدِ مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ میں لڑنے کو نہیں آیا ہوں مجھے کعبہ کا طواف کرنے دو ۔ قریش نے عثمان ؓ کو قید کرلیا مسلمانوں میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ ان کو قتل کر ڈالا تب نبی ﷺ نے لوگوں سے بیعت لینی شروع کی آپ ایک درخت کے تلے تشریف رکھتے تھے کسی نے اس کو کی کر کا کسی نے بیری کا کسی نے کیلے کا درخت بتلایا ہے۔ 1 ؎ سب نے بیعت کی کہ لڑیں گے اور بھاگنے کے نہیں۔ بیہقی وغیرہ محدثوں نے صحیح سند سے روایت کی ہے
کہ نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! عثمان ‘ اللہ اور رسول کے کام میں ہے ان کی طرف سے آپ نے اپنا ایک ہاتھ رکھ کر اس پر دوسرا ہاتھ رکھا اور بیعت کی حضرت ﷺ کا ہاتھ عثمان ؓ کے ہاتھ سے بہتر تھا۔ اس کو بیعت رضوان اس لیے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان بیعت کرنے والوں سے اپنی رضا مندی ظاہر فرمائی۔ فقال لقد ؓ عن المؤمنین اذیبایعونک تحت الشجرۃ۔
احادیث صحیحہ میں اس بیعت میں شریک ہونے والوں کے بہت فضائل آئے ہیں امام احمد نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ہے جس نے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی دوزخ داخل نہ ہوگا اور بہت سی احادیث میں ان کے جنتی ہونے کا وعدہ ہوا ہے اور بدر کے لوگوں کے بعد ان لوگوں کا درجہ ہے ؓ ۔ یہ بات باتفاق مؤرخین ثابت ہے کہ اس بیعت میں خلفائِ اربعہ شریک تھے حضرت عثمان ؓ موجود نہ تھے ان کی طرف سے حضرت نبی ﷺ نے بیعت کی ہے اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے جب یہ ثابت ہوچکا تو ان کے قطعی جنتی ہونے میں اور اس بات میں کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ مومن تھے کوئی بھی شک نہیں رہا۔ ان کے لیے یہ دستاویز آسمانی اور تمسک قرآنی کافی ہے۔ ہم افسوس کرتے ہیں ان لوگوں پر جو (رطب ویابس روایات سے جن میں محض تعصب و طرفداری ہے فدک وغیرہ معاملات سے) حضرت شیخین ؓ کو اہل بیت رسول ﷺ کا دشمن بنا کر ان کو ناملائم الفاظ سے یاد کرتے ہیں اور ان کی شان میں کیا کیا کہتے ہیں اور پھر اس بدگوئی اور بدزبانی کو محبت اہل بیت قرار دے کر اس کو نجات کا باعث کہتے ہیں۔ ہاں جیسا کہ ان کے محامد کا تمسک قوی ہے اگر اسی مرتبہ کا کوئی برائی کا وثیقہ ہوتا تو ایک بات تھی۔ محامد تو قرآن سے ثابت ہوں اور برائیاں ایرے غیرے حاطب الیل متعصب راویوں کے بیان سے ثابت کر کے اس آسمانی تمسک کو چاک کیا جائے جس کو ذرا بھی عقل سلیم ہوگی وہ اس بات کو کبھی جائز نہ رکھے گا اور یوں تاویلات رکیکہ توجیہات باطلہ کو تو بڑی گنجائش ہے۔ ان آیات کے صاف اور سیدھے معنی کو الٹ پلٹ کر جو چاہو کہہ دو میدان قیل و وقال بڑا وسیع ہے۔
: صحیح بخاری میں ہے کہ وہ درخت کہ جس کے تلے بیعت ہوئی تھی لوگوں کو بھلادیا گیا تھا۔ لوگ متبرک سمجھ کر وہاں آنے لگے تھے ہوتے ہوتے اس کی پرستش ہونے لگتی اس مصلحت سے خدا نے اس کو مخفی کردیا۔ مصنف میں ابن ابی بکر بن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے کہ وہ درخت کٹوادیا گیا۔
ا ؎ اس میں روم و ایران وغیرہ بلاد کی طرف اشارہ ہے۔ خلفائے اربعہ و دیگر صحابہ اسی وعدہ کے مطابق پسندیدہ خدا ہیں۔ لغو روایات سے ان پر طعن کرنا قرآن کے خلاف ہے۔ 12 منہ
Ayahs 48:21–25ترکیب : سنۃ اللہ انتصابہ علی المصدریۃ بفعل محذوف ای سن اللہ سنۃ اوھو مصدرہ مؤکدلمضمون المجلۃ المتقدمۃ من ھزیمۃ الکفار ونصرالمؤمنین والہدی قرء الجمہور بنصب الھدی عطفا علی الضمیر المنصوب فی صدوکم وقریٔ بالجر عطفاعلی المسجد معکوفًا انتصابہ علی الحال من الہدی قال الجوھری عکفہ ای حبسہ و منہ الاعتکاف فی المسجد وھوالا حتباس ان یبلغ ای عن ان یبلغ اومفعول لاجلہ ولولا شرط وجوابہ محذوف و التقدیر لاذن اللہ لک المعرۃ العیب وقیل الشدۃ وقیل الغم بغیر علم متعلق بان تطوھم ای غیر عالمین لیدخل اللام متعلقہ بمایدل علیہ الجواب المقدرای لم یاذن لکم اوکف ایدیکم لیدخل اللہ حمیۃ الجاھلیۃ بدل من الحمیۃ اھلہا عطف تفسیری ای وکان المؤمنون احق بھذہ الکلمۃ من الکفارو المستاھمین لھا دونہم۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا وکف ایدی الناس عنکم اس پر مخالفوں کو شبہ کی گنجائش تھی کہ خیبر کے لوگ ڈر گئے اور لڑے نہیں یہ اتفاقی بات تھی اگر سب جمع ہوجاتے تو دیکھتے کیا ہوتا۔ اس سے پہلے عرب مدینہ پر چڑھ کر آئے اور نبی ﷺ کو حدیبیہ میں روک دیا۔ اس کا جواب دیتا ہے ولوقاتلکم الذین کفروا کہ اگر وہ تم سے لڑتے بھی تو پیٹھ دے کر بھاگتے اور ان کا کوئی حمایتی اور مددگار کھڑانہ ہوتا۔ یہ کیوں ؟ اللہ کا ہمیشہ سے یہی دستور ہے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم سے نجات دی موسیٰ ( علیہ السلام) کو فرعونیوں سے نجات دی۔ فلسطین اور شام کے رہنے والوں پر غلبہ دیا اس کا دستور بدلتا نہیں۔ اس نبی کا دین بھی اسی دستور کے موافق غلب پاوے گا یہ آسمانی منشا ہے۔ اس نبی کی نسبت پہلے انبیاء فرما گئے ہیں۔ یہ پتھر جس پر گرے گا اس کو چور چور کرے گا اور جو اس پر آگرے گا چورا چورا ہوجائے گا اس کے بعد اپنی قدرت کاملہ کا تصرف ظاہر کرتا ہے ایک واقعہ یاد دلا کر فقال وھو الذی کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیہم الخ کہ بطن مکہ یعنی اس کی حرم میں جو کفار کا مجمع تھا ان کے ہاتھ ہم نے روکے جو بظاہر خلاف قیاس بات تھی کیونکہ جب وہ باہر آکر لڑنے کو موجود تھے وہاں تو اور بھی ان کو موقع تھا اور اسی طرح تم کو قابو دے کر تمہارے ہاتھ روک دیے جنگ نہ ہونے دی۔
قابو دینے کی بابت ابن ابی شبیہ واحمد و مسلم و ابودائود و نسائی و ترمذی وغیر ہم نے یہ نقل کیا ہے کہ اسی جوان ہتھیار بند اہل مکہ کے تنعیم پہاڑ کی طرف سے نبی ﷺ پر (بمقام حدیبیہ) حملہ کے قصد سے آئے۔ آپ نے بددعا کی وہ گرفتار کرلیے گئے پھر آپ نے ان کو معاف کردیا۔ بعض نے یہ بھی روایت کی ہے کہ عکرمہ بن ابی جہل ایک جماعت کو لے کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس کے مقابلہ میں مسلمان نکلے اور پتھروں سے لڑائی ہوئی کفار کو بھگا کر خاص مکہ میں ان کے گھروں تک پہنچا دیا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ سلمہ بن اکوع ؓ نے چند مشرکین گرفتار کئے تھے ان کی طرف اشارہ ہے خیر جو کچھ ہو مسلمانوں کا قابو یافتہ ہو کر جنگ سے روکنا اس کی قدرت کا نمونہ ہے۔
حضرت امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کف ایدیہم وایدیکم سے مراد یہ ہے کہ تم میں ان میں جنگ نہ ہونے دی یعنی فتح مکہ کے دن اور یہ اسی دن کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو صلح حدیبیہ کے بعد واقع ہوا اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مکہ صلح سے فتح نہیں ہوا بلکہ زور و شوکت سے۔ اس کے بعد وہ باعث بتلاتا ہے کہ جس سے اے مسلمانو ! تم میں اور ان میں جنگ ہونی ضروری تھی مگر خدا نے نہ ہونے دی فقال ھم الذین کفروا کہ وہ تو وہ لوگ تھے کہ جنہوں نے دین حق کا انکار کیا اور اسی پر بس نہیں بلکہ صدوکم عن المسجد الحرام تم کو مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ سے روک دیا (حدیبیہ کے روز) اور صرف تم کو نہ بلکہ والہدی معکوفاً ان یبلغ محلہ ہدی یعنی قربانی کو محبوس یعنی بند کردیا اس کے مقام پر نہ پہنچنے دیا اور ان کا مقام حرم ہے جہاں وہ ذبح ہوا کرتی ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ستر قربانیاں ساتھ تھیں لاچار حدیبیہ میں ہی ذبح کی گئیں۔
امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ جو کعبہ آنے سے رک جاوے اس کی قربانی منٰی میں آکر ذبح ہونی چاہیے کیونکہ یہی اس کی جگہ ہے یعنی حرم اس آیت سے یہ بات نکلتی ہے امام شافعی (رح) کہتے ہیں جہاں رکے وہیں ذبح کر دے جیسا کہ حدیبیہ میں آنحضرت ﷺ نے کیا۔ اس مسئلہ کی تحقیق آچکی ہے۔ اب مسلمانوں کے جنگ سے ہاتھ روکنے کی مصلحت و حکمت ظاہر کرتا ہے فقال ولولا رجال مؤمنون ونساء مؤمنات الخ کہ مکہ میں کچھ مرد کچھ عورتیں درپردہ ایمان لائے ہوئے تھے جن کی تم کو خبر نہ تھی جنگ ہوتی تو تمہارے ہاتھ سے وہ پامال ہوجاتے جس سے تم پر عیب والزام ہوتا اگر وہ وہاں نہ ہوتے تو تم کو لڑنے کا حکم دیا جاتا خدا نے تم پر مہربانی کی اور وہ جس پر چاہتا ہے مہربانی کیا کرتا ہے اگر یہ لوگ وہاں نہ ہوتے جن پر اللہ کی رحمت تھی جن کے سبب یہ بچ گئے تو ہم کفار کو سخت سزا دیتے۔
صحابہ ؓ کا پرہیزگار ثابت ہونا : اب ایک اور سبب بیان فرماتا ہے کہ جو باہمی جنگ کے لیے پیدا ہوگیا تھا مگر اللہ نے دونوں فریق کے ہاتھ روک دیے فقال اوجعل الذین کفروا فی قلوبہم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ کہ کافروں نے اپنے دلوں میں جہالت کا جوش اور تعصب پیدا کرلیا تھا کہ ہمارے لوگ تو قتل ہوں اور پھر یہ ہمارے شہر اور گھروں میں آویں اور عرب سن کر کیا کہیں گے ہم ہرگز طواف کعبہ کے لیے بھی نہیں آنے دیتے۔ اس سے مسلمانوں کو جوش ہونا فطری بات تھی۔ لیکن فانزل اللہ سکینۃ علی رسولہ و علی المؤمنین اللہ نے مسلمانوں کے دلوں میں اطمینان نازل کیا کفار کے اس جوش سے ان کو خوف پیدا نہ ہوا۔ بخاری و مسلم وغیرہ نے روایت کی ہے کہ عمر ؓ حضرت ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا ہم حق پر وہ باطل پر نہیں ؟ کیا ہمارے مقتول جنت میں ان کے دوزخ میں نہیں ؟ پھر کس لیے ہم دین میں ان سے دبیں۔ آپ نے فرمایا بیشک مگر میں اللہ کا رسول ہوں مجھے ضائع نہ کرے گا۔ اسی طرح صدیق ؓ سے کہا انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ اطمینان اہل اسلام کا یہ حال تھا والزمہم کلمۃ التقوٰی اللہ نے اس اطمینان پر مسلمانوں کو پرہیز گاری کی بات کا پابند کردیا۔ بعض کہتے ہیں کلمۃ التقویٰ سے مراد کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ زہری کہتے ہیں بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کو کفار نے صلح نامہ میں درج نہ ہونے دیا تھا وکانوا احق بہا اور مسلمان اسی کے لائق بھی تھے۔ وکان اللہ بکل شیئٍ علیما اور اللہ ہر بات سے واقف ہے اس سے صحابہ ؓ کا پرہیز گار ہونا ثابت ہوا۔
Ayah 48:26ترکیب : صدق کجعل دخلق یتعدی الی مفعولین رسولہ مفعول اول الرویا مفعول ثان و یحتمل ان یتعدی بحرف تقدیرہ صدق اللہ رسولہ فی رویاہ بالحق حال ای متلبسابالحق۔ اوقسم لان الحق من السمائہٖ تعالیٰ وعلی ھذالتدخلن جواب او جواب القسم المخذوف ای واللہ لتدخلن وھذا تفسیر للرؤیا اوتحقیق لقولہ صدق اللہ انشاء اللہ تعلیق للعدۃ بالمشیۃ لتعلیم العبادان یقولوا انشاء اللہ کما امراو لاولاتقولن لشیء انی فاعل ذلک غدالاان یشاء اللہ اواظہاران ذلک وعدہ لاتحقیق الا بمشیۃ لیس علیہ دین ولاحق واجب آمنین حال من فاعل لتدخلن ولشرط معترض وکذاقولہ محلقین الخ لاتخافون حال مؤکدۃ من فاعل لتدخلن اواستیناف فعلم عطف علی صدق سیماھم مبتدا فی وجوھم خبرہ ذلک مبتدا مثلہم خبرہ ومثلہم فی الانجیل مبتداء کزرع خبرہ۔
تفسیر : سکینہ نازل کرنے کے بعد جو کچھ منافقوں نے کہا اس کا حال بیان فرماتا ہے۔ اور یہ بھی ہے وکان اللہ بکل شیئٍ علیما میں اس طرف اشارہ تھا کہ ہر بات کی مصلحت وہی خوب جانتا ہے بندوں کے جلدی کرنے سے وہ جلدی نہیں کرتا۔ ہاں اس بات کو اس کے موقع
پر پوری کردیتا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے ہجرت کے چھٹے سال خواب دیکھا تھا کہ ہم مسجد الحرام میں یعنی حرم کعبہ میں امن سے گئے ہیں ‘ ارکانِ حج وعمرہ باطمینان بجالا رہے ہیں سر بھی منڈاتے ہیں بال بھی کتروا رہے ہیں جیسا کہ حج وعمرہ میں کیا کرتے ہیں اور کسی کا کچھ خوف و خطر نہیں ہے۔ اس خواب کو آپ نے بعض لوگوں سے بیان بھی فرما دیا تھا مگر اس کے بعد آنحضرت ﷺ کا قصد عمرہ کرنے کا ہوا۔ لوگ خصوصاً مخالفین یہی سمجھ گئے کہ آپ اسی خواب کے مطابق مکہ عمرہ کرنے چلے ہیں حالانکہ آپ اس کی تعبیر کا یہ وقت ہرگز نہیں سمجھتے تھے اور نہ کسی سے یہ فرمایا تھا خیر جب حدیبیہ پہنچے اور کفار مکہ نے سنا تو جنگ کی تیاری کردی اور آپ مکہ میں نہ گئے وہیں سے صلح 1 ؎ ہوگئی واپس چلے آئے جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو اب منافقوں کو خواب کی تکذیب کرنے کا موقع ہاتھ آگیا کہ لو کہتے تھے مجھے خواب ہوا ہے کہ مکہ میں امن سے جائیں گے ارکانِ حج ادا کریں گے حالانکہ مکہ میں داخل بھی نہ ہونے پائے اور اس بات کو منافقوں نے بہت مشہور کیا۔ ان آیات میں ان کا جواب ہے فقال لقد صدق اللہ رسولہ الرؤیا بالحق کہ خواب کو بیشک اللہ نے سچ کردیا یعنی کرے گا۔ (قرآن میں یقینی چیز کو جو آیندہ آنے والی ہو بلفظ ماضی تعبیر کیا جاتا ہے) کہ انشاء اللہ تم اطمینان وامن سے مسجد الحرام میں داخل ہو گے ارکان حج وعمرہ ادا کروگے مگر اس سال میں یہ مقدر نہیں اس کی حکمت تم کو معلوم نہیں وہی خوب جانتا ہے مگر اس سے پہلے تم کو ایک نزدیک فتح دی یعنی خیبر کی فتح جلد نصیب کردی۔
الحمدللہ کہ خدا نے اپنے نبی صادق مصدوق (علیہ السلام) کے خواب کو سچا کیا۔ اس کے اگلے سال آنحضرت ﷺ مکہ کی طرف روانہ ہوئے مسلمانوں کا لشکر آپ کے ساتھ تھا مکہ کے کفار گھروں میں چھپ گئے۔ آنحضرت ﷺ نے اور سب نے اطمینان سے عمرہ کیا۔ کسی نے سرمنڈوایا ‘ کسی نے بال کتروائے ‘ کسی کا خوف و خطر نہ تھا۔ اس کے بعد فتح مکہ کا وہی واقعہ تھا جس کی حضرت یسعیاہ ( علیہ السلام) نے خبر دی ہے کتاب یسعیاہ کا 66 باب دیکھو۔ اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے بھی خبر دی ہے سفر استثنیٰ 223۔ باب درس 2 اور 5 زبور میں بھی اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے درس 3۔ ہمارا خدا آوے گا ( یعنی اس کا رسول) اور چپ چاپ نہ رہے گا (تکبیر اور تلبیہ کی آوازیں بلند ہوں گی) آگ اس کے آگے آگے فنا کرتی جائے گی اور اس کے آگے شدت سے طوفان ہوگا (لشکر صحابہ) وہ اوپر آسمان کو طلب کرتا اور زمین کو بھی تاکہ اپنے لوگوں کی عدالت کرے (مکہ میں عدالت ایسی ہی اس روز آپ نے کی) میرے پاک بندوں کو میرے پاس فراہم کرو جنہوں نے میرے ساتھ قربانی پر عہد کیا ہے تب آسمان اس کی صداقت کو آشکارا کریں گے۔ فتح مکہ کے بعد سے آسمانوں نے حضرت ﷺ کی صداقت ظاہر کردی۔ روئے زمین پر روشن کردیا کہ آپ وہی رسول برحق ہیں۔ اور 47۔ زبور میں بھی جس کا اخیر فقرہ یہ ہے قوموں کے امرا ابراہام کے خدا کے لوگوں سے مل کے جمع ہوئے ہیں۔ اب آپ ہی خدا تعالیٰ رسول کریم ﷺ کی اس شوکت کا اظہار کرتا ہے فقال ھوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ کہ اللہ نے اپنا برحق رسول بھیجا تاکہ سب دینوں پر نبی کو یا دین حق کو اللہ غالب کرے یا اس کی طرف سے رسول غالب کرے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا بھی اور دین برحق ہونے کی گواہی دینے کو بس ہے محمد رسول اللہ وہ کون رسول ہے۔ محمد اللہ کا رسول ﷺ اس میں ایمانداروں کے دلوں کو تسلی ہے کیونکہ حدیبیہ کے مقام پر جب صلح نامہ لکھا گیا تو
بسم اللہ کے بعد اس کی یہ عبارت تھی من محمد رسول اللہ کفار نے کہا ہم آپ کو رسول اللہ نہیں جانتے اس کو مٹا دو ۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ سے کہا تو اس لفظ کو مٹا دے علی ؓ نے کہا مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں محمد رسول اللہ کے لفظ کو مٹا ڈالوں۔ پھر خود آپ نے محو کردیا کیونکہ صلح کرنی مقصود تھی جنگ مقصود نہ تھی۔ ان کے مٹوانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ نے قرآن شریف میں محمد رسول اللہ لکھ دیا جو قیامت تک کبھی نہ مٹے گا محمد تو اللہ کے رسول ہیں مگر والذین معہ اشد اء علی الکفار رحماء بینہم اس کے ساتھ جو پاکباز اور مقدس لوگوں کی جماعت ہے وہ ہیں جو خدا کے دشمنوں پر سخت ہیں ان سے دبتے نہیں۔ اشداء جمع شدید رحماء جمع رحیم۔ آپس میں رحیم یعنی نرم دل ہیں۔ یہاں سے یہ بات بھی رد ہوگئی کہ صحابہ آپس میں کینہ وعداوت رکھتے تھے اور علی مرتضیٰ ؓ ان سے ڈر کر تقیہ کرتے تھے۔ تراھم رکعًا سجدایبتغون فضلاً من اللہ ورضوانا یہ ان کی تیسری صفت ہے کہ وہ اس کثرت سے نماز پڑھتے ہیں کہ رکوع و سجدہ ہی میں دکھائی دیتے ہیں دنیا کی غرض اور کسی کے دکھانے کو نہیں بلکہ خاص اللہ کے لیے اس کے فضل اور اس کی خوشنودی کے لیے۔ پہلی دو صفتیں معاملات کے متعلق تھیں۔ یہ صفت ان کی ذات سے متعلق ہے یعنی بڑے پرہیز گار باخدا لوگ ہیں۔ صحابہ ؓ کو بری باتوں سے متہم کرنا بڑی بدباطنی اور اس آیت کی مخالفت کرتی ہے اعاذنا اللہ منہ۔
چوتھی صفت سیماھم فی وجوھہم من اثرالسجود۔ ان کی بزرگی اور نیکی کے آثاروانوار ان کے چہروں سے ظاہر ہیں حقیقت میں انسان کا باطنی حال اس کے چہرہ پر ظاہر ہوجاتا ہے۔ شب خیزبا خدا لوگوں کے چہروں میں جو انوار و برکات ہوتے ہیں وہ ریاکاروں اور بدباطنوں کے چہروں میں ہرگز نہیں ہوتے بشرطیکہ اس دیکھنے کے لیے خدا نے آنکھ بھی دی ہے۔ اسلام کی یہ بھی ایک بڑی ظاہر برکت ہے کہ مسلمان ہوتے ہی اس کے چہرہ پر نور و برکت معلوم ہونے لگتی ہے۔ خوبصورتی و بدصورتی اور چیز ہے نور انیت و بد رونقی اور بات ہے۔
حضرت رسول کریم ﷺ کے صحبت یافتوں میں یہ خوبیاں ہونا آنحضرت ﷺ کا اعجاز تھا کہ جس نے کیسے کیسے سیاہ دلوں ‘ خونخواروں ‘ بدکاروں ‘ شہوت پرستوں کو کایا پلٹ کردیا (اثر نبوت کاملہ اس کو کہتے ہیں) ۔
پھر فرماتا ہے ذلک مثلہم فی التوراۃ اس جگہ قراء کے نزدیک وقف ہے یعنی یہ خوبیاں ان کی توریت میں موجود ہیں ومثلہم فی الانجیل الگ جملہ ہے اور بعض کہتے ہیں فی الانجیل پر وقف ہے کزرع الگ جملہ ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کی یہ خوبیاں توریت اور انجیل میں ہیں اور تیسرا احتمال یہ بھی ہے کہ ذلک پر وقف ہے ای الامرذلک یعنی بات یوں ہی ہے اور مثلہم فی التوارۃ الگ جملہ ہے کہ توریت اور انجیل میں ان کی خوبیاں مذکور ہیں۔ مگر قوی تر وہ پہلی بات ہے۔ اب ہم اسی کے مطابق شہادتیں پیش کرتے ہیں۔ اصل توریت و انجیل اب دنیا میں باقی نہیں جو وہاں ان صفات صحابہ اور حضرت ﷺ کی رسالت کو پورے پورے طور پر دکھائیں جس طرح کہ (وہ ناصری کہلائے گا) حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو عیسائی خدا تعالیٰ کے نوشتوں میں نہیں دکھا سکتے اور اس بات کا ثبوت ہم نے بخوبی کردیا ہے کہ اصلی توریت و انجیل اب دنیا میں نہیں جس طرح اور انبیاء کی کتابیں نہیں جن کا مروج توریت وغیرہ میں حوالہ ہے مگر اب تورات موجودہ انجیل مروج ہی میں دکھاتے ہیں۔
تورات سفر استثناء تینتیسویں باب کے شروع میں آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کی نسبت یہ لکھا ہوا ہے قولہ خدا وند سیناء سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔ 1 ؎ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت ان کے لیے تھی۔ اس عبارت کی تاویل میں اہل کتاب گو بہت کچھ پیچ وتاب کھاتے ہیں مگر کوئی بات بن نہیں آتی۔ یہ صحیح کہ سینا سے
مراد کوہ سیناء ہے اور کوہ طور بھی وہی ہے وہاں سے خدا وند کا آناحضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو توریت عطا کرنا مراد ہے مگر کوہ شعیر اور فاران کے پہاڑ تو عرب میں ہیں جن کا سلسلہ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ تک ہے ان میں سے فاران کے پہاڑ وہ ہیں جو مکہ کے متصل ہیں اور جبل شعیر مدینہ کے متصل ہے وہاں سے تو حضرت موسیٰ کا ظہور ہوا نہ حضرت عیسیٰ کا (علیہما السلام) اور نہ دس ہزار قدسی یعنی پاکباز موصوف بصفات حمیدہ لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ تھے بلکہ وہ لوگ تھے کہ جن پر ان کی بیہودگی و نافرمانی سے بارہا خدا تعالیٰ ناخوش ہوا اور فرما دیا کہ ان کو شام کا ملک دیکھنا نصیب نہ ہوگا اور نہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ ایسے لوگ تھے کیونکہ ان کو تو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے بےایمانی کا لقب دیا اور نہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے داہنے ہاتھ میں آتشی تشریعت تھی۔ پس ثابت ہوا کہ وہ خاص حضرت محمد علیہ الصلوٰۃ السلام ہیں اور صحابہ ؓ کی جماعت کہ جن کی نسبت فرمایا والذین معہ الخ قدسی لوگ تھے اور آپ ہی کے داہنے ہاتھ میں آتشی شریعت تھی جس نے بت کدے اور قمار خانے اور زنا خانے جلادیے۔ پھر اسی باب میں آگے چل کر فرماتا ہے۔” ہاں وہ اس قوم سے بڑی محبت رکھتا ہے (والذین معہ سے) اس کے سارے مقدس تیرے ہاتھ میں ہیں اور وہ تیرے قدموں کے نزدیک بیٹھے ہیں اور تیری باتوں کو مانیں گے بجز صحابہ ؓ کے اور کسی نبی کے پیردوں نے اپنے نبی کی ایسی اطاعت و فرمانبرداری نہیں کی مثلہم فی التوراۃ کا جملہ صادق آیا اب مثلہم فی الانجیل کا بیان سنئے۔ انجیل متی کے تیرہویں باب میں کھیتی کی مثال دو جگہ بیان ہے آٹھویں جملے میں ہے اور کچھ (تخم) اچھی زمین میں گرا اور پھل لایا کچھ سوگنا کچھ ساٹھ گنا کچھ تیس گنا یہ صحابہ ؓ کی مثال ہے پھر 31 و 32 جملے میں ہے وہ اچھی زمین عرب ہے جہاں تخم ہدایت بویا گیا۔ صدیق اکبر ؓ کے عہد میں اس کا پھل لگا سو گنا عمر ؓ کے عہد میں فتوحات کثیرہ کی وجہ سے ساٹھ گنا عثمان ؓ کے عہد میں تیس گنا علی ؓ کے عہد میں اور حضرت ﷺ نے بھی فرما دیا تھا کہ خلافت میرے بعد تیس برس تک رہے گی۔ آیت کے بھی یہی معنی ہیں کہ پیڑاگا ‘ عرب کی زمین میں فارزہ پھر وہ
قوی ہوتا گیا صدیق ؓ کے عہد میں پھر عمر ؓ کے عہد میں بالکل قوی ہوا فاستغلظ فاستٰوی علی سوقہ کہ کافر اس سے جلنے لگا۔ اللہ کا ایمانداروں کے لیے مغفرت و اجر عظیم کا وعدہ ہے۔ سورة کے اول میں فتح اور اخیر میں مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ ہے اور یہ ثابت ہوا کہ جو صحابہ ؓ سے جلتے ہیں وہ کافر ہیں۔
1 ؎ صلح میں یہ قرار پایا کہ جو قریش سے بھاگ کر مدینہ جائے محمد ﷺ اس کی واپس بھیج دیں اور جو ان کا بھاگ آوے واپس نہ دیا جائے اور آپ اگلے سال آکر عمرہ کریں مکہ میں ہتھیار بند کر کے آویں ‘ تلواریں میان میں ہوں ‘ ننگی نہ ہوں اور دس برس تک باہم جنگ نہ ہو اور جو قبائل جس کے حلیف ہوں وہ بھی ان میں شامل ہوں اور کفار کی طرف سے وکیل سہیل بن عمرو تھا کہ جس کا بیٹا اباجندل اس وقت مکہ سے بھاگ کر مسلمانوں میں آیا تھا جو واپس دیا گیا خزاعہ قبیلہ حضرت ﷺ کا اور بنوبکر قریش کا حلیف ہوا حضرت ﷺ نے اگلے سال عمرہ ادا کیا اس کے بعد خزاعہ اور بنوبکر میں لڑائی ہوئی۔ قریش نے بدعہدی کر کے بنوبکر کی مدد کی خزاعہ حضرت ﷺ کے پاس آئے جس سے وہ صلح فسخ ہوگئی اور آٹھویں سال آپ مکہ پر چڑھے اس کو فتح کرلیا جس کی تفصیل کتب سیر میں ہے۔
1 ؎ تورات میں بھی آیندہ باتوں کو ماضی کے صیغوں سے بیان کیا جاتا ہے جس کے بہت سے شواہد موجود ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 48:27–29ا ؎ حال مقدرۃ لانہم فی حال و خولہم لم یکونوا محلقین و مقصرین وانما کان ہذا فی ثانی الحال ابن جریر۔ 12 منہ