48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ نمبر 48 کل رکوع 4 آیات 29 الفاظ و کلمات 568 حروف 2555 مقام نزول مکہ مکرمہ ٭ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایسا عظیم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عطا فرمایا ہے جو شاہد ‘ بشیر اور نذیر ہے۔ ان کی مدد ‘ تعظیم و تکریم اور اللہ کی صبح و شام تسبیح کرنا اور جو انہوں نے اللہ سے عہد کیا ہے اس کو پورا کرنا ہی ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ ٭ اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبہ کو فتح مبین قراردیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اگر صلح حدیبیہ نہ ہوتی تو اہل ایمان کو وہ کامیابیاں اور فتوحات حاصل نہ ہوتیں جو اس صلح کی برکت سے حاصل ہوئی ہیں۔ یہی وہ موقع تھا جب دین اسلام ایک ایک گھر میں پہنچا اور حکومتوں کے سربراہوں کو بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دین اسلام کو قبول کرنے کی دعوت دی اور فوج در فوج لوگوں نے دین اسلام کو قبول کرنا شروع کیا۔ یہی فتح مبین ہے۔ ٭اللہ نے دین اسلام کی ترقی کو ایک پودے سے تشبیہ دی ہے جس طرح ایک پودا جو نرم و ناز ہوتا ہے آہستہ آہستہ وہ ایک تنا ور درخت بن جاتا ہے اسی طرح صحابہ کرام (رض) کے لیے فرمایا کہ ایک وقت وہ تھا جب مسلمان کمزور تھے مگر اب وہ اتنے طاقت ور ہوگئے ہیں جو دنیا پر غالب آجائیں گے۔ ٭اس سورة میں ایک کھلی ہوئی فتح کی خوش خبری دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر اس سلسلہ میں یا خلوص کے ساتھ کیے گئے کسی کام میں بھی کوئی کوتاہی یا کمی رہ گئی ہو یا آئندہ ہوجائے تو ہم نے اس کو معاف کردیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ اللہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سیدھے راستے پرچلا رہا ہے وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسا مثالی غلبہ عطا فرمائے گا جس میں عزت ہی عزت ہے۔ ٭فرمایا کہ اگر مخالفین اس بات کا شت سے پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ ان کے پاس زبردست لشکر ہے تو انہیں یادرکھنا چاہیے کہ اس کائنات میں زبردست لشکر صرف اللہ کا ہے۔ وہ ہر چیز سے واقف ہے اور ہر بات کی حکمت کو اچھی طرح جانتا ہے کہ کس کام کو کس وقت کس انداز سے ہونا چاہیے۔ ٭اہل ایمان اپنا حسن عمل پیش کرتے رہیں اس میں کی یا کوتاہی نہ کریں۔ اللہ نے ان کے لیے ایسی جنتیں تیار کررکھی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ٭منافق و مشرک مردعورتیں جو اللہ کے بارے میں اچھا گمان ہیں رکھتے ان کے لیے جہنم تیا رہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ٭اللہ نے مومنوں سے فرمایا ہے کہ اللہ کا کتنا بڑا حسان ہے کہ اس نے تمہیں ایک ایسا عظیم رسول عطا فرمایا ہے جو قیامت میں تمہارے سارے اعمال پر گواہی دینے والا ‘ ہر نیک عمل پر خوش خبری دینے والا اور کافروں کو انکے برے انجام سے ڈرانے والا ہے۔ ان کے بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ ان پر ایمان لائیں۔ ان کے ساتھ مل کر اللہ کے دین کی مدد کریں۔ ان کی عزت واحترام اور تعظیم میں کی نہ کریں اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہیں۔ ٭فرمایا کہ جن لوگوں نے ” بیعت رضوان “ کی تھی درحقیقت انہوں نے اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی لہذا کوئی عہد شکنی نہ کرے۔ اگر کسی نے اپنے عہد کو توڑا تو اسے اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ لیکن جو اپنے عہد کو پوراکرے گا اس کو اجرعظیم سے نوازا جائے گا۔ لوگوں کو عہد شکنی سے بچ کروفائے عہد کرنا چاہیے۔ وہ منافقین جن کا اسلام ان کی زبانوں تک محدود تھا جب اسلام کیلئے قربانیاں دینے کا وقت آیا تو ان کا کردار بھی کھل کر سامنے آگیا۔ جب اہل ایمان عمرہ کے لیے روانہ ہورہے تھے اس وقت منافقین نے اس بات کا بڑی شدت سے پروپیگنڈا کیا کہ مسلمانوں کو کفار کے گڑھ میں نہیں جانا چاہیے کیونکہ اگر وہ چلے گئے تو ان کا مدینہ منورہ واپس لوٹ کر آناممکن نہ ہوگا۔ یہ سوچ کر وہ بغیر کسی عذر کے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔ فرمایا کہ جب اہل ایمان مدینہ منورہ واپس آگئے ہیں تو وہ منافقین اپنی اس شرمندگی کو مٹانے کے لیے غلط سلط عذر اور بہانے پیش کررہے ہیں۔ اب منافقین کو یقین ہوگیا تھا کہ مومنین اس کے بعد کامیابیں سے ہم کنارہوں گے۔ جب انہوں نے یہ سنا کہ اب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) خیبر کی طرف جارہے ہیں تو انہیں اس میں اپنا فائدہ نظر آیا لہٰذا انہوں نے خیبر کی طرف جانے کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر ان تمام لوگوں کو خیبر کی مہم میں شرکت سے روک دیا جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صلح حدیبیہ میں شریک نہیں تھے اور فرمایا کہ اس کے بعد ان کو ایک اور موقع دیا جائے گا جو درحقیقت ان کا امتحان اور آزمائش ہوگی۔ فرمایا کہ اگر انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو ان کو اس کا بہترین بدلہ عطا کیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ بغیر کسی عذر کے مکہ جانے سے رہ گئے تھے وہ ان کی غلطی تھی لیکن اگر کسی کو واقعی عذر تھا کوئی معذور ‘ اندھا ‘ لنگڑا ور بیمار تھا اور وہ اپنے اس عذر کی وجہ سے نہ جاسکا تھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ البتہ عام زندگی میں ہر ایک کو اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنی ہوگی۔ اگر کسی نے اس سے منہ پھیرا تو اس کو سخت سزادی جائے گی اور اگر وہ اطاعت کریں گے تو ان کو جنت کی ابدی زندگی کی ابدی راحتیں عطاکی جائیں گی۔ حدیبیہ کے موقع پر جن صحابہ کرام (رض) نے بیعت (بیعت رضوان) کی تھی ان کے متعلق فرمایا جارہا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا ہے اب ان کو بہت سی کامیابیاں اور فتوحات حاصل ہوں گی۔ اللہ نے فرمایا کہ اس موقع پر جنگ نہیں ہوئی یہ اللہ کا بڑا احسان ہے کیونکہ اگر جنگ ہوتی تو وہ لوگ جو دلی اعتبار سے اسلام قبول کرچکے ہیں مگر کسی مصلحت سے اپنے ایمان کا اظہار نہ کرسکے ہو سکتا تھا کہ ان کو بیخبر ی کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچ جاتا۔ اس لیے اللہ نے دونوں فریقوں کو جنگ سے روک دیا لیکن اگر اس حالت میں بھی جنگ ہوجاتی تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غلبہ عطا فرماتا۔ ٭فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو خواب دیکھا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ اداکر رہے ہیں اور صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بغیر عمرہ کیے واپس آگئے تھے۔ اس میں اللہ کی مصلحت تھی لیکن اب وہ وقت آگیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) بیت اللہ شریف میں پہنچ کر عمرہ ادا کریں گے اس شان سے اس میں داخل ہوں گے کہ ہر طرف امن وامان ہوگا۔ کوئی سروں کے بال منڈوائیں گے اور کوئی بال کم کر امئیں گے اور ان کو کفار کا کوئی خوف نہ ہوگا۔ ٭فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ وہ اسکو دنیا کے ہر مذہب پر غالب کردکھائیں۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور ان کی رسالت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ ان کے ساتھ وہ لوگ ہیں جو آپس میں تو شیرو شکر ہیں لیکن اللہ کے اللہ کے دشمنوں کے لیے بہت سخت ہیں۔ کبھی وہ رکوع میں ہیں کبھی سجدوں میں وہ محض اللہ کی رضا و خوشنودیکیلیے اس کی عبادت کرتے ہیں۔ انکے چہروں سے ان کی عبادت کی کیفیات ظاہر ہیں۔ ان کے لیے توریت اور انجیل میں بھی پیشن گوئیاں موجود ہیں۔ ٭اللہ نے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح ایک کھیتی ہے جب پودا اپنی کونپل نکالتا ہے۔ پھر وہ کونپل آہستہ آہستہ موٹی ہو کر اپنی بنیادوں پر مضبوطی سے کھڑی ہوجاتی ہے تو جس نے کھیتی بوئی ہے وہ اپنی کھیتی کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ فرمایا کہ اسی طرح اسلام کا پودا کبھی بہت کمزور تھا اب طاقت ور ہوگیا ہے۔ ایک وقت وہ آنے والا ہے جب پوری امت اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا بھر کی فتح سے خوش ہوجائیں گے۔ ان صحابہ کرام (رض) کو ہر طرف کامیابیاں اور فتوحات حاصل ہوتی چلی جائیں گی اور دین اسلام ہر نظریہ اور مذہب پر غالب آکر رہے گا۔ ٭ جو لوگ اللہ و رسول کی اطاعت کریں گے ان کو معاف کرکے اجر عظیم عطا کیا جائے گا اور دین و دنیا کی بھلائیاں عطا کی جائیں گی۔

Ayahs 48:1–3

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ بیشک ہم نے آپ کو ایک کھلی فتح عنایت کی ہے

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ اللہ آپ کی اگلی پچھلی ہر ایک کوتاہی کو معاف کردے اور آپ پر اپنی نعمت کو پوراکردے اور آپ کو سیدھے راستے پر چلائے

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

تاکہ اللہ آپ کو ایسا غلبہ عطا فرمائے جس میں عزت ہی عزت ہو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 3 : فتحنا (ہم نے فتح دی۔ ہم نے کھول دیا) ‘ فتحامبینا (کھلی فتح) یغفر ( وہ معاف کردیتا ہے) تقدم ( آگے بھیجا) ذنب (گناہ ۔ خطا) تاخر (پیچھے ہوا) ‘ یتم (وہ پورا کرتا ہے) ینصر ( وہ مدد کرتا ہے) ‘ نصرا عزیزا ( زبردست مدد ) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 : نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں یہ خواب دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ آپ نے بیت اللہ کی کنجی لی اور صحابہ کرام ؓ سمیت آپ نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا یعنی عمرہ ادا کیا۔ پھر کچھ انہوں نے اپنے سرمنڈوائے اور کچھ نے تھوڑے سے با کٹوائے۔ صحابہ کرام ؓ جانتے تھے کہ انبیاکرام (علیہ السلام) کے خواب وحی کا درجہ رکھتے ہیں لہٰذا وہ اللہ کا اشارہ سمجھتے ہوئے بیت اللہ کی زیارت کے لئے بےتاب ہوگئے۔ تب آپ ﷺ نے بھی اسی سال عمرہ ادا کرنے کا فیصلہ فرمالیا۔ آس پاس کی بستیوں میں جب اہل ایمان کو اطلاع ہوئی تو وہ بھی اس سفر عبادت میں شرکت کیلئے تیارہو گئے۔ تقریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام کی اس جماعت نے تیاریاں شروع کردیں۔ روانگی سے پہلے نبی کریم ﷺ نے غسل فرمایا۔ احرام پہن کر اپنی جگہ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ آپ ہر سفر میں کسی نہ کسی ام المومنین کو ساتھ لے لیا کرتے تھے چناچہ اس سفر میں حضرت ام سلمہ ؓ کو آپ نے ساتھ لے جانے کا فیصلہ فرمایا۔ اس طرح آ پمسافر انہ ہتھیار یعنی میان کے اندر بند تلواریں لے کر ” قصوائ “ اونٹنی پر سوار ہو کر یکم ذی قعدہ 6 ھ بروز پیر اپنے جان نثار صحابہ کرام ؓ کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے رخ پر چند میل کے فاصلے پر ذوالحلیفہ ہے وہاں آپ نے عرب کے اس وقت کے دستور کے مطابق ہدی (قربانی) کے جانوروں کو قلادے پہنائے۔ اونٹ کے کوہان چیر کر نشان بنائے اور عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوگئے جو اس بات کا عملی اعلان تھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ صرف بیت اللہ کی زیارت یعنی عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوگئے جو اس بات کا عملی اعلان تھا کہ آپ اور آپکے صحابہ کرام ؓ صرف بیت اللہ کی زیارت یعنی عمرہ کے لئے جارہے ہیں جنگ یا کسی پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں ہے ۔ مکہ مکرمہ چاروں طرف پہاڑوں سے گھرا ہوا ایک شہر ہے۔ جب آپ نے اور صحابہ کرام ؓ نے حدود حرم کے بالکل قریب حدیبیہ کے مقام پر جس کو آج کل شمیسہ کہا جاتا ہے قیام فرمایا تو بعض روایات میں آتا ہے کہ کفار کو پتہ ہی نہیں چلا ۔ جب صبح کو کچھ چرواہوں نے مکہ مکرمہ کے قریب اتنے بڑے لشکر کو دیکھا تو وہ حیران رہ گئے اور انہوں نے کفار کو پتہ ہی نہیں چلا۔ جب صبح کو کچھ چرواہوں نے مکہ مکرمہ کے قریب اتنے بڑے لشکر کو دیکھا تو وہ حیران رہ گئے اور انہوں نے کفار مکہ کو اطلاع کی۔ کفار قریش اس صورتحال کو دیکھ کر بوکھلا گئے اور اس بدحواسی میں یہ سوچنے لگے کہ اب کیا کیا جائے کیونکہ کسی دوست یا دشمن کو بیت اللہ میں آنے سے روکنے کو گناہ سمجھا جاتا تھا۔ اگر روکتے تو ساری دنیا میں یہ بات پھیل جاتی کہ مکہ والوں نے مسلمانوں کو بیت اللہ کی زیارت سے روک کر ایک انتہائی غلط اور گناہ کی بات کی بات کی ہے اور اگر مسلمانوں کو اندر آنے دیتے ہیں تو اس سے کفار کا رعب ختم ہوجانے کا اندیشہ تھا اور دنیا بھر کے اور پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ جاتی کہ مسلمان مکہ میں داخل ہو کر واپس چلے گئے ہیں۔ اس کشمکش سے نکلنے کے لئے قریش مکہ نے ایک مجلس شوری منعقد کی۔ بعث و مباحثہ کے بعد یہ طے کیا گیا کہ جیسے بھی ممکن ہو مسلمانوں کو بیت اللہ سے دوررکھا جائے اور ایسے حالات پیدا کئے جائیں جن سے یہ ثابت ہوجائے کہ مسلمان چونکہ مکہ مکرمہ پر حملہ کی نیت سے آئے تھے اس لئے ان کو بیت اللہ کی زیارت سے روکا گیا۔ اس کے لئے انہوں نے متعدد حملے ‘ خفیہ سازشیں اور تدبیریں کیں لیکن رسول اللہ ﷺ کی بر وقت تدبیروں اور اقدامات نے ان کی ہر سازش کو ناکام کر کے رکھ دیا۔ جب کفار مکہ کی ہر تدبیر فیل ہوگئی اور انہوں نے حالات کی نزاکت کو اچھی طرح محسوس کرلیا تب انہوں نے یہ طے کیا کہ کسی طرح صلح کرلی جائے۔ چناچہ کفار قریش نے سہیل بن عمر و جو بہت تیز طرار اور ذہین آدمی تھے ان کو صلح کرنے پر مقرر کیا۔ کفار قریش نے سہیل بن عمرو کو اس بات کی تاکید کردی کہ صلح نامے میں ہر حال میں یے طے کیا جائے کہ حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ اس سال مدینہ منورہ واپس چلے جائیں اور آئندہ سال آکر عمرہ ادا کریں۔ اس وقت تین دین کے لئے مکہ کو خالی کردیا جائے گا تاکہ مسلمان سہولت سے عمرہ ادا کرسکیں۔ سہیل بن عمرو سے طویل گفتگو کے بعد آخر کار صلح کی شرائط کو طے کر لیا گیا۔ اس صلح کے معاہدے کی زیادہ ترشرائط وہ تھیں جو کفار قریش کی طرف سے پیش کی گئی تھیں آپ ان کی ہر شرظ کو مانتے چلے گئے۔ اس معاہدہ سے صحابہ کرام بہت حیران و پریشان اور دل برداشتہ ہوگئے۔ وہ اس تصور سے زیادہ پریشان تھے کہ جب ہم حق پر ہیں تو کفار سے اس قدر دب کر صلح کیوں کی جائے۔ اور بیت اللہ کے اس قدر قریب پہنچ کر بھی اس کی زیارت سے محروم کیوں رہیں لیکن صحابہ کرام جو مکمل اطاعت و فرماں برداری کا پیکر تھے وہ ان سب ناگواریوں کے باوجود خاموش تھے اور کوئی کسی قسم کا اجتماعی اختلاف نہ کیا البتہ انفرادی طور پر حضرت عمر فاروق ؓ کو خطاب کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ ” اے خطاب کے بیٹے ! میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرسکتا۔ وہ میری مدد فرمائے گا اور مجھے ہرگز ضائع نہ کرے گا “۔ یہ سن کر حضرت عمر فاروق ؓ اور تمام صحابہ کرام ؓ سمجھ گئے کہ آپ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ اللہ کو منظور تھا۔ لیکن ہر ایک کے دل میں یہ حسرت ضرور تھی کہ ہم بیت اللہ کے قریب پہنچ کر بھی بیت اللہ کی زیارت سے محروم رہے اور صلح اگر آبرو مندانہ طریقے پر ہوتی تو ہمارے حق میں بہت اچھا ہوتا۔ جب نبی کریم ﷺ نے اس وقت کے دستور میں کے مطابق اپنے ہدی (قربانی) کے جانور ذبح کئے اور احرام کھول دیا تو صحابہ کرام ؓ نے بھی آپ کے عمل اور حکم کی تعمیل کی اور اس طرح بیت اللہ کی زیارت نہ کرنے کا غم لئے صحابہ کرام حدیبیہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ واپس جاتے ہوئے ابھی زیادہ فاصلہ طے نہ کیا تھا کہ نبی کریم ﷺ پر سورة فتح کی یہ آیات نازل ہوئیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اس صلح اور معاہدہ کو فتح مبین یعنی ایسی کھلی فتح قرار دیا جس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہے ۔ اس رنج وغم کی حالت میں جب صحابہ کرام ؓ نے یہ سنا کہ اللہ نے اس کو فتح مبین قرار دیا ہے تو وہ یقین کے باوجود حیرت سے ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے کہ یہ کیسی فتح مبین ہے جس میں کفار کے حصے میں تو بہت کچھ آگیا ہے اور زبردست جنگوں کے فاتیح صحابہ کرام ؓ کے حصے میں ایک ایسی صلح کا پروانہ آیا ہے جو انکے نزدیک آبرو مندانہ معاہدہ نہ تھا۔ لیکن بعد کے حالات نے یہ ثابت کردکھایا کہ صلح حدیبیہ درحقیقت اسلام اور اہل ایمان کی زبردست فتح اور کامیابی تھی کیونکہ اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ دس سال تک مسلمانوں اور کفار قریش کے درمیان کوئی جنگ نہ ہوگی۔ اس ایک شرط سے دین اسلام کی تحریک کو زبردست فائدہ پہنچا اور اس جنگ بندی سے دین اسلام کے فروغ کے دروازے کھل گئے تھے کیونکہ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات ہونے کی وجہ سے دعوت کا عمل رک سا گیا تھا۔ اس جنگ بندی کے نتیجے میں فریقین کے درمیان تبادلہ خیال کی کھلی فضا میسر آگئی تھی۔ اس طرح اس معاہدہ نے مقابلے کے میدان کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ چونکہ دین اسلام ایک نظریاتی تحریک اور انقلاب کا نام ہے جس کے لئے امن و سلامتی کی فضا کا ہونا ضروری ہے اس لئے اس معاہدہ کی وجہ سے توحید کے نظریئے کو برتری حاصل ہوگئی تھی جس کو اللہ نے صراط مستقیم (سیدھاراستہ) فرمایا ہے۔ درحقیقت صلح حدیبیہ نے توحید کے علم برداروں کے لئے آئندہ کی فتوحات اور نظریاتی کامیابی کے دروازوں کو کھول دیا تھا اور یہی فتح مبین۔ اسی لئے صحابہ کرام ؓ نے فتح مکہ کے بجائے صلح حدیبیہ کو مسلمانوں کی زبردست فتح قراردیا ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ اور بعض دوسرے جلیل القدر صحابہ کرام ؓ نے فرمایا ہے کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح کہتے ہو لیکن ہم صلح حدیبیہ کو فتح سمجھتے ہیں۔ (ابن کثیر) صلح حدیبیہ دین اسلام کے فروغ اور ترقی کا سنگ میل ثابت ہوا چنانچہ (1) ۔ حضرت عمرو ابن العاص اور حضرت خالد بن ولید جیسے ماہر سپہ سالاروں کو ایمان لانے کی توفیق نصیب ہوئی جس سے اہل ایمان کے اندر زبردست اعتماد کی فضا پیداہوئی۔ (2) یہی وہ معاہدہ تھا جس کی برکت سے خیبر ‘ وادی القریٰ اور مکہ مکرمہ فتح ہوا۔ (3) اس معاہدہ کی وجہ سے کفار کی صفوں میں پھوٹ پڑگئی کیونکہ کفار قریش کے معاہدہ کی وجہ سے قبیلہ غطفان اور یہودیوں کے جذبات سرد پڑگئے اور اس طرح کفار کی طاقت بکھر کر رہ گئی۔ (4) مختصر سے عرصے میں نہ صرف مسلمان ریاست کی حدود مدینہ منورہ سے آگے بڑھ کر ملک شام تک پہنچ گئی تھیں بلکہ مسلمانوں کی تعداد اس قدر تیزی سے بڑھنا شروع ہوئی کہ اگر صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار تھی تو ڈیڑھ سال کے بعد فتح مکہ کے موقع پر صحابہ کرام ؓ کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ (5) آپ نے صلح حدیبیہ کے بعد دنیا بھرکے بادشاہوں ‘ امراء اور سربراہوں کو دین اسلام کی دعوت پیش کی جس کے عالمی سطح پر زبردست اثرات مرتب ہوئے۔ (6) اللہ نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی تمام اگلی پچھلی کوتاہیوں کی معافی کا اعلان فرمادیا۔ نہ صرف اللہ نے ان کی کوتاہیوں اور لغزشوں سے در گذر فرمایا ہے بلکہ جو کچھ ظاہری ‘ باطنی ‘ جسمانی اور روحانی انعامات و احسانات ہیں ان کی تکمیل کا وعدہ فرمایا۔ (7) ساری دنیا کو بتادیا گیا کہ آپ ﷺ ہدایت و استقامت (صراط مستقیم) کے راستے پر گامزن ہیں۔ اب ہدایت و رہنمائی صرف آپ کے دامن سے وابستگی ہی میں مل سکتی ہے۔ (8) اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کی طرف سے اہل ایمان کی ایسی مدد کی جائے گی جس کو نہ تو کوئی روک سکے گا اور نہ دباسکے گا۔ اللہ ان کو وہ طاقت و غلبہ عطا فرمائے گا جس سے ہر جگہ ان کو عزت ہی عزت ملے گی۔ یہ ہے وہ فتح مبین جو دین اسلام کے فروغ ‘ ترقی اور اہل ایمان کی عزت و سربلندی کا باعث بن گئی۔
Ayahs 48:4–7

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکون ( ضبط اور اطمینان) پیدا کیا تاکہ وہ ایمان یقین جو انہیں پہلے سے حاصل تھا ان کا ایمان و یقین اور بڑھ جائے۔ آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اللہ کے ہیں۔ اور اللہ بہت جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کردے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ان کی خطائوں کو دور کردے گا اور یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے۔

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

تاکہ وہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو ‘ مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سخت سزادے کیونکہ وہ اللہ کے بارے میں برے گمان رکھتے ہیں۔ ان لوگوں پر براوقت آنے والا ہے۔ اور آخرت میں اللہ ان پر غضب ناک ہوگا اور ان کو اپنی رحمت سے دورکردے گا۔ ان کے لئے جہنم تیار ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے لئے ہیں۔ اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 4 تا 7 : فوزا عظیما (بڑی کامیابی) الظانین ( گمان کرنے والے) ‘ ظن السوئ ( برا گمان) دآ ئرۃ السوئ ( مصیبت کا دائرہ۔ چکر) ‘ اعد ( اس نے تیار کیا ہے) سآئت (بری۔ بدترین) مصیر (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 4 تا 7 : جب نبی کریم ﷺ نے خواب میں یہ دیکھا کہ آپ عمرہ اداکر رہے ہیں تو آپ نے یہ ارادہ کیا کہ زیارت بیت اللہ کے لئے تشریف لے جائیں۔ آپ ﷺ نے اس کا ذکر صحابہ کرام ؓ سے کیا تو صحابہ کرام ؓ کی ایک بہت بڑی تعداد نے آپ کے ساتھ جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ کو لے کر آپ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ آپ نے مکہ سے قریب حدیبیہ کے مقام پر پڑائو ڈالا۔ اس موقع پر کفار مکہ نے اہل ایمان میں اشتعال پھیلانے اور اس غلط فہمی کو عام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ مسلمان عمرہ ادا کرنے نہیں بلکہ عمرہ کے بہانے مکہ مکرمہ پر قبضہ کرنے آئے ہیں۔ کفار قریش مختلف کاروائیاں کرنے کے باوجو جب اپنی بات ثابت نہ کرسکے تو انہوں نے صلح کرنے کی بات کی اور بعض شرائط کے ساتھ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے یہا کہ کہ اس سال تو آپ واپس چلے جائیں آئندہ سال آکر عمرہ اداکریں۔ کفار نے شرائط بھی ایسی رکھیں جو بظاہر مسلمانوں کے لئے توہین آمیز تھیں لیکن جب صحابہ کرام ؓ نے یہ محسوس کیا کہ آپ ہر حال میں صلح کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے فیصلے کے سامنے سب خاموش رہے اور کسی طرح کا اعتراض نہیں کیا اور آپ کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کرتے ہوئے سر تسلیم خم کردیا۔ آپ ﷺ نے جانور قربان کردیئے ‘ احرام کھول دیئے اور مدینہ منورہ واپسی کا حکم دیا جس کی صحابہ کرام ؓ نے پوری طرح تعمیل لیکن تمام صحابہ اپنے دلوں میں شدید رنجش اور ذلت محسوس کررہے تھے۔ ابھی مکہ سے واپسی پر چند میل ہی گئے ہوں گے کہ سوئہ فتح کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو ایک کھلی فتح عطا کی ہے اور آپ سے جو بھی کوتاہیاں ہوگئی ہیں یا آئندہ ہوں گی وہ سب معاف کردی گئیں۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ وہ آپ کے اوپر اپنی نعمت کو مکمل فرمادے۔ صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرمائے اور آپ کی زبردست مدد فرمائے۔ بعد کے حالات نے ثابت کردیا کہ واقعی ” صلح حدیبیہ “ فتح مبین تھی کیونکہ اس صلح کی وجہ سے کفارنے جن طاقتوں سے معاہدے کر رکھے تھے ان میں پھوٹ پڑگئی اور کفار بری طرح کمزور پڑگئے۔ خیبر فتح ہوا۔ ساری دنیا کے بادشاہوں اور حکمرانوں تک دین اسلام کا پیغام پہنچایا گیا اور گروہ کے گروہ دائرہ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔ جب سورة فتح کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو بعض صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ تو اللہ کا وہ کرم ہے جو اس نے آپ پر کیا ہے ہمارے لئے کیا ہے ؟ اس پر زیر مطالعہ آیات نازل ہوئیں جن میں اللہ نے فرمایا کہ اللہ نے اہل ایمان کے دلوں میں ” سکینہ “ نازل کیا یعنی کفار اور منافقین کی شدید اشتعال انگزیوں اور مخالفتوں کے باوجود صحابہ کرام ؓ مشتعل نہ ہوئے اور اللہ کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت و فرماں برداری ‘ اعلیٰ ترین کردار ‘ تحمل ‘ برداشت ‘ سنجیدگی اور وقار کا بےمثال مظاہرہ کیا حالانکہ کفارو منافقین صرف اشتعال ہی نہیں دلا رہے تھے بلکہ طرح طرح کی غلط فہمیاں بھی پیدا کررہے تھے مثلاً مدینہ میں منافقین یہ کہہ رہے تھے کہ خواہ مخواہ موت کے مہ میں کود پڑنے سے کیا فائدہ۔ دوسری طرف کفار قریش اس بات کا بڑی شدت سے پروپیگنڈا کررہے تھے کہ مسلمان عمرہ کرنے نہیں بلکہ مکہ مکرمہ پر قبضہ کرنے کیلئے آئے ہیں لہٰذا ان کو ہر حال میں مکہ میں داخل ہونے سے روکنا ضروری ہے۔ (1) اس وقت اہل ایمان نے جس طرح رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری کی اس کی مثال ساری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اسی کو اللہ نے ” سکینہ “ فرمایا ہے۔ (2) دوسری نعمت یہ عطا فرمائی کہ اہل اسلام کے ایمان و یقین میں اور ترقی عطا فرمائی اور وہ اللہ و رسول کے احکامات کے سامنے اپنے آپ کو جکا دینے سے نصیب ہوئی۔ (3) تیسری نعمت یہ ہے کہ وہ اللہ جس کے پاس آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر موجود ہیں اس نے ان کے ذریعہ کفار قر یش کے دلوں میں رعب اور ہیبت کو ڈال دیا اور ان کی ہر سازش کو ناکام بنا دیا اور یہ سب کچھ اس اللہ کی طرف سے ہوا جو ہر بات کو جانتا ہے اور وہی اس کی حکمت سے واقف ہے۔ (4) چوتھی نعمت یہ ہے کہ ان اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ ہر طرف خوش حالی ‘ خوشیاں اور سر سبزی و شادابیاں ہوں گی جن میں اہل ایمان ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (5) پانچویں نعمت یہ ہے کہ اللہ ان کی تمام خطاؤں ‘ لغزشوں اور بھول چوک کو معاف فرمادے گا اور یہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑی کامیابی ہے۔ فرمایا کہ اہل امیان تو جنت کی ابدی راحتوں میں ہوں گے لیکن منافق مرد اور عورتیں ‘ مشرک مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ و رسول کے خلاف طرح طرح کی بدگمانیاں پھیلا رکھی تھیں وہ اپنے جال میں اور حالات کے بھنور میں اسی طرح پھنسے رہیں گے کہ ان پر اللہ کا غضب اور لعنت برستی رہے گی اور اللہ نے ان کے لئے بدترین ٹھکانا جہنم تیار کر رکھا ہے۔ فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اللہ کے ہیں اور وہ اللہ ہر چیز کی حکمت اور راز کو پوری طرح جانتا ہے۔ وہی اہل ایمان کو پوری طرح نجات اور آخرت کی نعمتوں سے مالا مال کرے گا اور کفار کو ایسی جہنم میں جھونک دیا جائے گا جو ایک بدترین ٹھکانا ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس سے بڑھ کر اہل ایمان کی کامیابی کیا ہوگی کہ اللہ ان کو دنیا میں بھی سرخ رو فرمائے گا اور آخرت میں ہر طرح کی نعمتوں سے نواز دے گا۔
Ayahs 48:8–10

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ بیشک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا ‘ بشارت دینے والا اور (برے انجام سے ) ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

(اے لوگو ! ) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ اللہ (کے رسول کی) مدد کرو۔ ان کا ادب و احترام کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ آپ ( کے ہاتھ پر) بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں۔ ان بیعت کرنے والوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ پھر جو شخص (بیعت یعنی) وعدہ توڑتا ہے تو اس کی عہد شکنی کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور جو شخص اس کو پورا کرتا ہے جس پر اس نے اللہ سے عہد کیا ہے تو اللہ اس کو بہت جلد اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 10 : شاھد (گواہی دینے والا) تعزروا (تم مدد کرو) توقروا ( تم عزت واحترام کرو) تسبحوا (تم پاکی بیان کرو) ‘ بکرۃ ( صبح) اصیل (شام) یبایعون (بیچ دیتے ہیں۔ بیعت کرتے ہیں) ید اللہ ( اللہ کا ہاتھ) ‘ فوق (اوپر) ینکث ( وہ توڑ ڈالتا ہے) ‘ اوفی (اس نے پورا کیا) ‘ سیئوتی ( بہت جلد وہ دے گا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 8 تا 10 : اس سے پہلی آیات کی تشریح میں وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ اور آپ کے ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے تو کفار مکہ بوکھلا گئے اور اس تصور سے کانپ اٹھے کہ اگر نبی کریم ﷺ اور بدر ‘ احمد ‘ خندق وغیرہ کے فاتح صحابہ کرام ؓ مکہ مکرمہ سے ہو کر بھی چلے گئے تو ساری دنیا میں قریش کا رعب ختم ہوجائے گا اور ان کی حیثیت کو بھی زبردست دھکا پہنچے گا۔ دوسری طرف بیت اللہ کی حاضری کا قانون یہ تھا کہ دوست یا دشمن کسی کو بھی بیت اللہ کی زیارت سے روکنا حرام سمجھا جاتا تھا۔ اس صورت حال سے نبٹنے کے لئے سارے قریشی سردار سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ کسی طرح یہ ثابت کردیا جائے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ عمرہ کے لئے نہیں بلکہ جنگ کرنے اور مکہ پر قبضہ کرنے کے لئے آئے ہیں چناچہ انہوں نے متعدد ٹولیوں کو بھیج کر حملہ کرنے کی کوشش کی جس کو نبی کریم ﷺ نے ور صحابہ کرام ؓ نے ناکام بنادیا۔ مکہ والوں کو سمجھانے کے لئے آپ نے سب سے پہلے خراش ابن امیہ خزاعی کو اس پیغام کے ساتھ قریش مکہ کے پاس بھیجا کہ ہم صرف بیت اللہ کی زیارت کرنے آئے ہیں اور بس۔ کفار مکہ اس قدر بوکھلائے ہوئے تھے کہ وہ حرم میں اس اخلاقی اصول کو بھی بھول گئے تھے کہ کسی کے قاصد اور سفیر کو نہ تو قتل کیا سکتا ہے اور نہ اس کو کسی طرح کی اذیت دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے حضرت خراش کو قتل کرنا چاہا جب کچھ لوگ بیچ میں پڑگئے تو ان کی جان بچ گئی لیکن ان کے اونٹ کو جان سے مار ڈالا اور وہ کسی طرح جان چھڑا کر واپس آگئے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے مشورہ کے بعد حضرت عثمان ؓ کو بھیجا تاکہ وہ مکہ والوں کو ان کی اپنی حرکتوں سے روکیں اور یقین دلائیں کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ محض عمرہ اور زیارت بیت اللہ کیلئے آئے ہیں چونکہ حضرت عثمان ؓ کا قریش میں ایک خاص مقام تھا اس لئے انہوں نے حضرت عثمان کو تو کچھ نہ کہا البتہ یہ کہا کہ ہم کسی حال میں حضرت محمد ﷺ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔ حضرت عثمان سے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو تو عمرہ ادا کرکے واپس چلے جائو۔ حضرت عثمان غنی ؓ نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ میں تنہا عمرہ ادا نہ کروں گا جب تک میرے آقا و مولیٰ حضرت محمد ﷺ عمرہ ادانہ کرلیں۔ کفار نے اس بحث مباحثے میں ان کو روک لیا۔ ادھر مسلمانوں کے لشکر میں یہ افواہ پھیل گئی کہ کفار قریش نے حضرت عثمان ؓ کو شہید کردیا۔ اس افواہ سے مسلمان بےقابو ہونے لگے اور آپ ﷺ نے بھی اس وقت تک حدیبیہ سے واپس جانے سے انکار کردیا جب تک خون عثمان ؓ کا بدلہ نہ لے لیا جائے۔ صحابہ کرام ؓ نے بھی اپنے اس عزم کا اعلان کردیا کہ اب کچھ بھی ہوجائے ہم یہاں سے واپس نہ جائیں گے۔ بیشک ہم جنگ کے ہتھیار ساتھ نہیں لائے لیکن اپنی جانیں لڑا دیں گے خون عثمان ؓ کا بدلہ لئے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ آپ ﷺ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور تمام صحابہ کرام ؓ سے بیعت لی۔ تمام صحابہ کرام ؓ نے بیعت کرلی اس وقت حضرت عثمان موجود نہ تھے تو آپ نے حضرت عثمان ؓ کی طرف سے خود اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا کہ یہ عثمان کی بیعت ہے۔ اس طرح آپ نے اپنے دست مبارک کو حضرت عثمان کا ہاتھ قراردے کر ان کی شان اور عظمت میں قیامت تک کے لئے چار چاند لگا دیئے۔ جب کفار قریش کو مسلمانوں کے جوش و خروش اور اس بیعت کا علم ہوا تو انہوں نے اطلاع کرادی کہ حضرت عثمان ؓ زندہ ہیں اور ان کے شہید کئے جانے کی اطلاع غلط ہے۔ اس موقع پر جو بیعت لی گئی اس کو ” بیعت رضوان “ کہا جاتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بیعت رضوان میں شریک تمام صحابہ کرام ؓ کے اس پر خلوص جذبے کو پسند فرمایا اور ارشاد ہوا کہ جس نے بھی نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے گویا اس نے اللہ سے بیعت کی ہے۔ آپ کے دست مبارک کو اللہ نے اپنا ہاتھ قرار دے کر حضور اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے جذبے کو ابدی عظمت سے ہم کنار کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! بیشک ہم نے آپ ﷺ کو ” شاہد “ بنا کر بھیجا ہے یعنی حققیت اور سچائی کا اظہار کرنے والا اور قیامت میں اہل ایمان کی صداقتوں اور ایمان کی گواہی دینے والا اور بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے یعنی حسن عمل کرنے والوں کے بہتر انجام کی خوش خبری دینے والا اور ہر خطا کار کو اس کے برے انجام سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ ہو شخص آپ پر ایمان لائے اور وہ اہل ایمان ان کی عزت و توقیر کے ساتھ ساتھ ہر طرح ان سے تعاون کریں۔ صبح و شام اللہ کی حمد و ثنا کریں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! جب آپ (ان سے صحابہ کرام سے درخت کے نیچے) بیعت لے رہے تھے تو در حقیقت وہ (ہمارے نمائندے اور بندے) حضرت محمد ﷺ سے نہیں بلکہ اللہ سے بیعت کر رہے تھے وہ ہاتھ ان کا نہ تھا بلکہ اللہ کا ہاتھ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب جو شخص بھی اس عہد کو توڑے گا اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور جو اپنے اس عہد اور بیعت کی پابندی کرے گا تو وہ وقت بہت قریب ہے جب اللہ ان لوگوں کر اجر عظیم عطا فرمائے گا۔
Ayahs 48:11–14

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ عنقریب وہ دیہاتی جو (حدیبیہ کے موقع پر) پیچھے وہ گئے تھے کہیں گے کہ ہمیں ہمارے مالوں اور گھر والوں نے مشغول کرلیا تھا (یعنی فرصت ہی نہ لینے دی) تو آپ ہمارے لئے دعائے مغفرت کر دیجئے۔ (اللہ نے فرمایا) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی زبانوں سے وہ بیان کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ (اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان یا نفع پہنچانا چاہے تو کیا اللہ کے سوا کوئی اور ہے جس کو یہ اختیار حاصل ہو (وہ نقصان یا نفع پہنچاسکے) ؟ بلکہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو جانتا ہے۔

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

تم نے تو یہ سمجھ لیا تھا کہ اب پیغمبر اور اہل ایمان کبھی پلٹ کر اپنے اہل و عیال کے پاس نہیں آئیں گے۔ اور یہ بات تمہارے دلوں کو بھلی لگتہ تھی اور تم نے (بہت سے) بد ترین گمان قائم کر رکھے تھے۔ اور تم ہو ہی برباد ہوجانے والے

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

(یاد رکھو) جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لائے گا تو ہم نے ایسے کافروں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی ملکیت اللہ ہی کے لئے ہے وہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس کو چاہے عذاب دے (لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ) اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر (11 تا 14 ) ۔ المخلفون (پیچھے رہ جانے والے) ۔ الاعراب (دیہاتی۔ گاؤں والے) ۔ شغلت (مشغول کرلیا) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں) ۔ ضر (نقصان (دینے والا) ۔ لن ینقلب ( ہرگز نہ لوٹے گا) ۔ زین (خوبصورت بنا دیا گیا) ۔ بور (تباہ برباد ہونے والا) ۔ سعیر (دھکتی آگ ۔ جہنم) ۔ تشریح : آیت نمبر (11 تا 14 ) ۔ ” نبی کریم ﷺ عمرہ کی نیت سے ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مکہ کی طرف تشریف لے گئے۔ اس وقت سب کو معلوم تھا کہ آپ زیارت بیت اللہ کے لئے تشریف لے جارہے ہیں سوائے منافقین کے تقریباً سب ہی صحابہ کرام ؓ عمرہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ منافقین کا یہ خیال تھا کہ اب مسلمان کفار کے گڑھ میں جارہے ہیں وہاں سے سب کا بچ کر آنا ممکن نہیں ہے تو انہوں نے مختلف بہانے تراش کر آپ کے ساتھ مکہ مکرمہ جانے سے اپنے پہلو کو بچا لیا۔ جب صلح حدیبیہ کے ذریعہ اللہ نے مسلمانوں کو زبردست کامیابی عطا فرمادی جس سے نیا بھر میں اللہ کے پیغام کو فروغ حاصل ہوا تو اس وقت مدینہ کے آس پاس کے وہ لوگ جو بھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور ان کے دلوں نے ایمان کی پختگی حاصل نہ کی تھی اور ان کی کچھ ہمدردیاں کفار قریش کے ساتھ بھی تھیں آکر طرح طرح کی بہانے بازیاں شروع کردیں۔ کہنے لگے کہ ہماری تو دلی آرزو یہی تھی کہ ہم آپ کے ساتھ جانے کی سعادت حاصل کرتے مگر ہمارے لئے مشکل یہ تھی کہ ہمارے گھر والوں اور گھر کے سامان اور مویشوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کرنے والا کوئی نہ تھا اس لئے ہم پیچھے رہ گئے ورنہ ہماری تو دلی خواہش یہی تھی کہ ہم آپ کے ساتھ جاتے۔ ہمیں اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ ہم سے بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اب ہم سے یہ خطا اور قصور تو ہوگیا اب آپ ہمارے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کر دیجئے تاکہ اللہ ہمارہ اس غلطی کو معاف فرمادے۔ فرمایا کہ یہ لوگ جو کچھ زبان سے کہہ رہے ہیں یہ ان کے دلوں کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ ہر بات میں نفع اور نقصان کے پہلو کو دیکھتے ہیں حالانکہ کسی کو نفع دینا یا نقصان پہنچانا یہ اللہ کا کام ہے جو انسانوں کی ہر بات سے بہت اچھی طرح واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دراصل ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ اب اللہ کے رسول اور اہل ایمان اپنے گھروں کو واپس نہ لوٹیں گے لہٰذا اپنی جانیں کھپانے سے کیا فائدہ یہ خیال ان کے دلوں میں اس طرح جم چکا تھا کہ انہوں نے اللہ کے بارے میں بہت ہی برے گمانوں کو دلوں میں پال رکھا تھا جس نے انہیں برباد کر کے رکھ دیا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر یقین و ایمان نہیں رکھتے ان کے لئے جہنم کی بھڑ کتی آگ تیار ہے جس سے بچنا ممکن نہیں ہے۔ فرمایا کہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اس کا مالک صرف ایک اللہ ہی ہے جس کی ہر طرح قدرت ہے وہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس کو چاہے عذاب دے لیکن اللہ اپنے بندوں پر اس قدر مہربان ہے کہ وہ پھر بھی لوگوں کے گناہوں کو معاف کر کے ان پر مہربانیاں فرماتا رہتا ہے۔
Ayahs 48:15–17

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

پیچھے وہ جانے والے عنقریب یہ بات کہیں گے کہ جب تم (خیبر کے) مال غنیمت کو لینے جائو گے تو ہمیں بھی اجازت دے دو تاکہ ہم تمہارے ساتھ چلیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل ڈالیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ تم (اس موقع پر) ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اللہ نے پہلے سے یہ بات کہہ دی ہے۔ پھر وہ کہیں گے کہ (بات یہ ہے) تم ہمارے بھلے سے جلتے ہو۔ بلکہ وہ بات کو بہت کم سمجھتے ہیں۔

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ پیچھے وہ جانے والے دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کہ تمہیں بہت جلد ایک ایسی قوم سے مقابلے کی دعوت دی جائے گی جو سخت جنگ جو ہوں گے۔ تم ان سے جنگ کرتے رہو گے یا وہ اطاعت قبول کرلیں گے۔ پھر اگر تم حکم مانو گے تو اللہ تمہیں بہترین درجہ عطا فرمائے گا اور اگر تم نے سر کشی کی (اطاعت نہ کی) جس طرح تم اس سے پہلے (حدیبیہ کے موقع پر) سر کشی و نافرمانی کے چکے ہو تو وہ تمہیں دردناک سزا دے گا۔

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر کوئی گناہ ہے نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے۔ جس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور جو شخص (اطاعت و فرماں طرداری سے) منہ پھیرے گا تو وہ اس کو بد ترین عذاب دے گا۔

لغات القرآن آیت نمبر (15 تا 17 ) ۔ انطلقتم (تم چلے) ۔ مغانم (مال غنیمت ) ۔ ذروا (چھوڑدو) ۔ تحسدون (تم حسد کرتے ہو) ۔ لا یفقھون (وہ نہیں سمجھتے ہیں) ۔ ستدعون (تم بہت جلد بلائے جائو گے ) ۔ اولی (والے) ۔ باس شدید (سخت لڑائی۔ بڑی جنگ) ۔ تقاتلون (تم جنگ کرو گے) ۔ یسلمون (وہ اسلام لاتے ہیں) ۔ تولیتم (تم پلٹ گئے ۔ تم نے منہ پھیرا) ۔ الاعمی (اندھا ) ۔ حرج (گناہ۔ تنگی ) ۔ الاعرج (لنگڑا ) ۔ تشریح : آیت نمبر (15 تا 17) ۔ ” صلح حدیبیہ کے بعد جب اہل ایمان جنوب کی طرف سے مطمئن اور صلح کی شرائط کے مطابق کفار قریش کے حملے سے محفوظ ہوگئے تو آپ نے خیبر کے اس علاقے کی طرف توجہفرمائی جو یہودی سازشوں کا مرکز بن چکا تھا اور ان سے اہل ایمان کو شدید خطرات تھے۔ یہ خیبر کے یہودی تھے جنہوں نے کفار قریش کو مدینہ منورہ پر حملہ کے لئے اکسایا تھا اور ان کی ہر طرح مدد کی تھہ۔ صلح حدیبیہ کے بعد زی الحجہ میں آپ تمام صحابہ کرام کے ساتھ مدینہ منورہ واپس آگئے۔ ابھی کچھ زیادہ دن نہ گذرے تھے کہ آپ نے یہودی سازشوں کے مرکز خیبر پر حملہ کا منصوبہ بنا لیا اور محرم میں آپ ﷺ نے ان تمام صحابہ کے ساتھ جو بیعت رضوان اور صلح حدیبیہ میں شریک تھے ان کو ساتھ لیا اور اللہ کے حکم سے پیش قدمی شروع کردی اور بہت تھوڑے عرصے میں خیبر، فدک اور تیما کے علاقے فتح کرلئے۔ جب نبی کریم ﷺ نے خیبر جانے کا ارادہ کیا تو وہ لوگ جو عمرہ کے لئے ساتھ نہیں گئے تھے وہ سب کے سب دیہاتی کچھ شرمندگی کی وجہ سے اور کچھ مال غنیمت کے لالچ میں غزوہ خیبر میں ساتھ جانا چاہتے تھے لیکن نبی کریم ﷺ نے اس غزوہ میں صرف ان ہی صحابہ کرام کو چلنے کی اجازت دی جو صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان کے وقت موجود تھے۔ جب ان دیہاتیوں کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے مسلمانوں سے کہنا شروع کیا کہ تم ہمیں اس لئے ساتھ نہیں لے جانا چاہتے کہ تم ہم سے جلتے ہو اور تمہیں اندیشہ ہے کہ ہم مال غنیمت میں سے کچھ لے لیں گے تو تمہارے حصے میں کمی آجائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سب اہل ایمان مال غنیمت کے لئے نہیں بلکہ اللہ و رسول کی فرماں برداری میں جارہے ہیإ۔ اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے لڑیں گے اور مال غنیمت کے بھی مستحق ہوں گے۔ دراصل یہ دیہاتی اللہ کے فیصلے کو بدلنا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کے فیصلے بدلے نہیں جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا کہ اگر انہیں جنگ میں حصہ لینے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ ذرا صبر سے کام لیں۔ کیونکہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب ان کو زبردست اور سخت قوم سے جنگ کے لئے بلایا جائے گا۔ ان سے جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ دین اسلام کے سامنے اپنے ہتھیار نہ ڈال دیں۔ وہی ان کے امتحان کا وقت ہوگا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس شدید جنگ سے مراد قیصرو کسری جو دنیا کی عظیم سلطنتیں تھیں اور سادی دنیا پر ان کا قبضہ تھا ان سے جنگ کئے جانے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ قیصر و کسری کی طاقتوں سے ٹکرانے اور جنگ کرنے کا واقعہ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں پیش آیا اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب دنیا کی ساری طاقت ور قومیں اور سلطنتیں ان کے قدموں کے نیچے ہوں گی۔ چناچہ خلفاء راشدین کے دور میں تقریباً ساتی دنیا پر صرف اسلام ہی کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی واضح کر کے بتادیا کہ جن لوگوں کو واقعی عذر تھا ان کے لئے معافی ہے جیسے نابینا، لنگڑا، مریض اور بیمار وغیرہ۔ فرمایا کہ وہ لوگ جو اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں ان کے لئے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور جو منہ پھیرے گا اس کے لئے دردناک عذاب تیار ہے۔
Ayahs 48:18–21

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

یقینا اللہ ان مومنوں سے راضی ہوگیا جب وہ لوگ ایک درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے۔ پھر اللہ نے ان کے دلوں کے حال کو جان لیا تھا۔ پھر اس نے ان پر سکینہ (سکون قلب) نازل کیا اور ان کو اس کے بدلے میں ایک ایسی فتح عنایت کی جو قریب ہی تھی۔

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور ان کو بہت سا مال غنیمت بھی دیا جس کو وہ حاصل کر رہے تھے۔ اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اللہ تم سے اور بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کرچکا ہے جنہیں تم (بہت جلد) حاصل کرو گے اس لئے اس نے فوری طور پر یہ مال غنیمت عطا کردیا ہے۔ اور لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا ہے تاکہ یہ بات مومنوں کے لئے ایک نشانی بن جائے اور وہ تمہیں صراط مستقیم کی ہدایت دیدے۔

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور ایک دوسری فتح بھی (ملنے والی) ہے جس پر تمہیں ابھی قدرت حاصل نہیں ہے مگر اس کو اللہ نے گھیر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر (18 تا 21 ) ۔ رضی (راضی ہوگیا) ۔ تحت الشجرۃ (درخت کے نیچے) ۔ السکینتہ (اطمینان و سکون) ۔ اثاب (اس نے بدلہ دیا۔ پلٹا دیا) ۔ عجل (اس نے جلدی کی ) ۔ کف (اس نے روک لیا) ۔ اخری (دوسری) ۔ لم تقدروا ( تم نے قابو نہیں پایا) ۔ تشریح : آیت نمبر (18 تا 21 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار قریش نے اس غلط فہمی کا زبردست پروپیگنڈا کر رکھا تھا کہ اہل ایماں عمرہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ جنگ کرنے اور مکہ مکرمہ پر قبضہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے کفار قریش کو سفارتی سطح پر سمجھانے کی کوشش کی اور بتا دیا کہ ہمارا مقصد صرف عمرہ ادا کرنا ہے جنگ کرنا نہیں۔ آخر میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان غنی ؓ کو اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ ہم صرف عمرہ ادا کر کے چلے جائیں گے۔ حضرت عثمان نے بھی کفار قریش کو سمجھانے کی کوشش کی مگر کفار نے کسی بھی بات کو ماننے سے صاف انکار کردیا۔ اس بحث مباحثہ میں اتنی دیر ہوگئی کہ حضرت عثمان کے نہ آنے سے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ میں بےچینی بڑھنا شروع ہوئی۔ اسی دوران یہ خبر پھیل گئی کہ کفار قریش نے حضرت عثمان غنی ؓ کو شہید کردیا۔ اس خبر کے پھیلتے ہی ایک کہرام مچ گیا نبی کریم ﷺ ایک کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور صحابہ کرام ؓ سے بیعت لی کہ جب تک ہم حضرت عثمان کے خون کا بدلہ نہیں لے لیتے اس وقت تک ہم واپس نہیں جائیں گے یعنی ہم مرجائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ دکھا کر نہ جائیں گے۔ اسلامی تاریخ میں اس بیعت کو ” بیعت رضوان “ کہا جاتا ہے۔ اس بیعت میں چودہ سو صحابہ کرام ؓ نے عہد کیا جن میں خلفاء راشدین ؓ بھی شریک تھے چونکہ حضرت عثمان ؓ جو خلیفہ راشد ہیں وہ مکہ میں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ اس طرح اس بیعت رضوان میں چاروں خلفاء راشدین شریک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام صحابہ کرام ؓ کو جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر درخت کے نیچے بیعت کی تھی ان کے متعلق فرمایا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ فرمایا کہ اللہ کو صحابہ کرام ؓ کے جذبے اور خلوص کا اچھی طرح علم تھا اس لئے اللہ نے ان پر ” سکینہ “ نازل فرمایا یعنی اس بےسکونی، مایوسی اور گھبراہٹ کے وقت ہر طرح کے اضطراب اور پریشانی کے مقابلے کے لئے ان کے دلوں میں اطمینان و سکون پیدا فرمادیا اور اس واقعہ کو بہت قریبی فتح کی بنیاد بنا دیا۔ اس میں فتح مکہ اور فتح خیبر کی طرف بھی اشارہ فرمادیا کہ اب تم بہت جلد (فتح خیبر کے ذریعہ) بہت سا مال غنیمت بھی حاصل کرو گے اور بہت جلد مکہ فتح ہو کر ہر طرف دین اسلام کا فروغ ہوگا جس سے ہزاروں فائدے اور مال غنیمت ہاتھ آئے گا۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ ایک بڑا نازک وقت تھا کیونکہ مدینہ منورہ کے سب لوگ حدیبیہ میں موجود تھے مدینہ منورہ خالی تھا یہود اور مشرکین کے قبیلے ان پر چڑھائی کرسکتے تھے۔ ادھر جو صحابہ کرام ؓ عرب کے رواج کے مطابق صرف ایک ایک تلوار ہاتھ میں لے کر عمرہ کی نیت سے آئے تھے اور کفار کے بنائے گئے گڑھ کے قریب تھے وہ کفار پر حملہ کر کے ان کو شدید نقصان پہنچا سکتے تھے لیکن اللہ نے ان کفار کو اس طرف سوچنے کا موقع ہی نہ دیا اور مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا یہ بھی اللہ کی نعمتوں میں سے بہت بڑی نعمت تھی۔ کیونکہ اللہ کی یہ مثیت تھی کہ وہ اہل ایمان کے خلوص اور ہمت و طاقت کو ایک نشانی بنا دے اور ان کو ہدایت کے جو بھی مقام اور مرتبے حاصل تھے ان میں اور اضافہ و ترقی فرما دے ۔ اللہ نے ساتھ ہی ساتھ اس بات کی خوش خبری بھی عطا فرما دی کہ اس صبر و تحمل اور سکینہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ تمہیں ان علاقوں پر بھی فتح و نصرت عطا فرمائے گا جو ابھی تک مسلمانوں کے ہاتھ میں تو نہیں آئے لیکن اللہ نے ان کو گھیر لیا ہے اور بہت جلد وہ اہل ایمان کو عطا کردیئے جائیں گے کیونکہ اس کائنات میں ساری طاقت وقدرت صرف اللہ کے لئے ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیعت رضوان میں شریک تمام صحابہ کرام ؓ اور خلفاء راشدین ؓ سے راضی ہونے کی خوش خبری عطا فرمائی ہے یعنی جس طرح غزہو بدر میں شریک صحابہ کرام ؓ کی یہ شان ہے کہ اللہ ان سے ہمیشہ کے لئے راضی ہوگیا اسی طرح بیعت رضوان میں شریک صحابہ کرام ؓ سے راضی ہوجانے کی خوش خبری بھی عطا کی گئی ہے چنایچہ نبی کریم ﷺ نے ان کے متعلق اس موقع پر فرمایا ” انتم خیر اھل الارض “ یعنی تم روئے زمین کے تمام لوگوں سے بہتر ہو۔ (بخاری و مسلم) ۔ ام بشر سے روایت ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ لا ید خل النا احد ممن بایع تخت الشجرۃ (مسلم شریف) ۔ یعنی جن لوگوں نے اس درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی ایک بھی جہنم میں نہ جائے گا۔ قرآن کریم اور ان روایات سے یہ ثابت ہوگیا کہ صحابہ کرام وہ ہیں جن سے اللہ قیامت تک کے لئے راضی ہوگیا ہے یہ نہ صرف حاحبان ایمان ہیں بلکہ اللہ نے ان کی مغفرت کا وعدہ بھی فرمالیا ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ (نعوذ باللہ) حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد تمام صحابہ کرام ؓ مرتد ہوگئے تھے وہ لوگ ان آیات اور احادیث کی روشنی میں غور کریں کہ وہ اللہ کے پیارے نبی ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کے متعلق کس قدر بےہودہ عقیدہ رکھتے ہیں اور اپنی عاقبت کی فکر نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی اطاعت و محبت اور صحابہ کرام ؓ کی عظمت وشان کو سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
Ayahs 48:22–29

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر یہ کافر تم سے لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھگتے ۔ پھر وہ کسی کو نہ تو اپنا حمایتی پاتے اور نہ کسی کو اپنا مدد گار۔ “

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

اور یہ اللہ کی وہ سنت ہے جو پہلے ہی سے چلی آرہی ہے۔ اور تم اس کے طریقے میں کبھی کوئی تبدیلی نہ پائو گے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہیں مکہ کی سرحد میں ان کافروں پر قابوپا جانے کے باوجود ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکے رکھا ۔ تم جو کچھ کرتے ہوا سے وہ دیکھ رہا ہے۔

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ وہی تو ہیں جنہوں نے کفر کیا۔ تمہیں مسجد حرام سے اور قربانی کے جانوروں کو جو ( حدیبیہ کے مقام پر رکے ہوئے تھے) ان کے ٹھکانے (قربان گاہ) پر پہنچنے سے روک دیا تھا۔ اور اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ تم ان مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو جنہیں تم پہچانتے نہ تھے ان کو بیخبر ی میں تم روند ڈالتے اور پھر تمہیں ان بےگناہوں کی وجہ سے نقصان پہنچتا۔ یہ جنگ روکی نہ جاتی۔ وہ اس لئے روکی گئی کہ وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کر دے۔ البتہ اگر (یہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں) الگ ہوگئے ہوتے تو ہم (ان میں سے جو) کافر تھے ان کو سخت اور دردناک عذاب دیتے۔

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

اور جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں غیرت وحمیت کو جگہ دی جو جہالت کی غیرت و حمیت تھی تو اس کے بعد اللہ نے اپنے رسول اور ایمان والوں پر سکینہ (سکون قلب) نازل کیا اور اس نے ان (اہل ایمان کو) پرہیز گاری پر جمائے رکھا۔ اور مسلمان ہی اس تقویٰ کی بات کے زیادہ حق دار اور اس کلمہ حق کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بیشک اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا جو بر حق تھا۔ کہ اگر اللہ نے چاہا تو تم ضرور مسجد حرام میں امن وامان کے ساتھ داخل ہو گے۔ سر منڈ وا تے یا اپنے سروں کے بال کترواتے ہوئے اس طرح داخل ہو گے کہ تمہیں کسی طرح کا خوف نہ ہوگا۔ پھر اللہ ان باتوں سے خوب اچھی طرح واقف ہے جسے تم نہین جانتے۔ پھر اللہ نے (مسجد حرام میں داخلے سے پہلے) ایک ایسی فتح عنایت کردی جو بہت قریب تھی۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے۔ اور اللہ گواہی کے لئے کافی ہے

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

کہ (حضرت) محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور وہ (صحابہ کرام ؓ جو ان کے ساتھ ہیں (ان کی خصوصیت یہ ہے کہ) کفار کے مقابلے میں سخت اور آپس میں رحم و کرم کا پیکر ہیں۔ تم انہیں کبھی رکوع اور کبھی سجدوں میں دیکھو گے۔ وہ اللہ کا فضل و کر اور اس کی رضا مندی (حاصل کرنے میں) لگے رہتے ہیں۔ ان کی (سچائی اور صدقت) کی علامت سجدوں کی کثرت سے ان کے چہروں پر نمایاں ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی (عظمتوں کی) مثالیں تو ریت اور انجیل میں موجود ہیں۔ (ان کی مثال ایسی ہے) جیسے ایک کھیتی کہ اس نے کو نپل نکالی پھر اس کو سہارا دیا اور وہ بڑھ کو موٹی ہوئی پھر وہ کھیتی اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی جو کاشت کرنے والوں کو خوش منظر دکھائی دینے لگی۔ (اسی طرح صحابہ رسول بھی مضبوط ہوں گے) تاکہ اللہ ان کافروں کو غیض و غضب میں مبتلا کر دے۔ اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے تو اللہ نے ان سے بہت بڑی مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر (22 تا 26) ۔ لو لو الادبار (وہ ضرور پیٹھ پھیریں گے) ۔ قد خلت (یقینا گذر گئی) ۔ بطن (پیٹ۔ درمیان) ۔ اظفر (اس نے قابو کیا) ۔ معکوف (رکا ہوا) ۔ ان یبلغ (یہ کہ وہ پہنچے) ۔ محلہ (اپنی جگہ) ۔ ان تطئوا (یہ کہ تم روند ڈالو ) ۔ معرۃ (دکھ۔ گناہ۔ تکلیف) ۔ لو تز یلوا (اگر وہ الگ ہوجائے۔ ٹل جائے) ۔ الحمیتہ (غیرت ۔ ضد۔ ہٹ) ۔ الزم (اس نے لازم کردیا) ۔ احق (زیادہ حق دار) ۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے واقعات اور اس کی مصلتحوں کو بیان کیا جارہا ہے۔ ارشاد ہے کہ بیشک اللہ نے کفار کو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جوابی کاروائی کرنے سے اور جذباتی لمحات میں اہل ایمان کو کفار پر حملہ کرنے سے روک دیا تھا لیکن اگر مسلمانوں کی غربت وبے بسی کے باوجود جنگ ہوجاتی تو کفار کو پیٹھ دکھا کر بھاگنا پڑتا اور ان کفار کی کسی قبیلے یا قوم کی طرف سے کوئی مدد نہ ہو سکتی اور ان کفار کو زبردست شکست اور شرمندگی کا سامان کرنا پڑتا لیکن اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ اس وقت جنگ نہ ہو تاکہ فساد اور شر پھیلانے والوں کی ہر کشش کو ناکام بنا دیا جائے اور جنگ کے نتیجے میں وہ بہت سے لوگ جو ایمان قبول کرچکے تھے یا ذہنی طور پر دین اسلام سے متاثر ہو کر اپنے ایمانی جذبوں کو چھپائے ہوئے تھے ان کو کوئی نقصان نہ پہنچے کیونکہ جب باہمی جنگ شروع ہوجاتی تو کفار اہل ایمان کو نقصان پہنچاتے یا اہل ایمان جب حملہ کرتے تو بیخبر ی میں سب کو روندتے چلے جاتے۔ اس کئے اللہ نے ایسے حالات پیدا فرمادیئے کہ ہر حال میں صلح ہوجائے اور جنگ کی نوبت نہ آسکے۔ صلح حدیبیہ جس کو اہل ایمان اس کی بعض شرائط کی وجہ سے اپنے لئے توہین آمیز سمجھ رہے تھے اس میں بہت سی مصلحتیں پوشیدہ تھیں جب کے بہترین اثرات کو ہر اہل ایمان نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں اور مصلحتوں کو زیر مطالعہ آیات میں بیان ارشاد فرمایا ہے۔ اگر یہ صلح نہ ہوتی اور تم کافروں سے قتال و جہاد کرتے تو یہ کفار پیٹھ پھیر کر بھاگتے اور اس وقت ان کفار کی حمایت اور مدد کرنے کوئی نہ پہنچتا ۔ اللہ کا یہی دستور اور قانون ہے (کہ جو اس نے ہمیشہ کفار و مشرکین کے متعلق اختیار فرمایا ہے) نبی ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ اللہ کے قانون اور دستور میں کبھی تبدیلی نہ پائیں گے۔ اس اللہ نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے تھے اور وہ بھی عین مکہ (مقام حدیبیہ جو مکہ سے قریب ہے) جب کہ اس نے تمہیں ان کفار پر غلبہ بھی دیدیا تھا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام کامون پر نگران ہے اور دیکھ رہا ہے۔ فرمایا کہ (ہمیں یہ معلوم ہے کہ ) یہ کفاروہ ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر و انکار کا طریقہ اختیار کیا۔ انہوں نے عمرہ کی ادائیگی سے مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جو جانور تھے ان کو منیٰ جانے سے روکا۔ ان باتوں کا تقاضا تو یہ تھا کہ جنگ کے ذریعہ ان کفار کو تہس نہس کردیا جاتا لیکن جنگ نہ کرنے میں سب سے بڑی مصلحت یہ تھی کہ مکہ میں بہت سے اہل ایمان مرد اور عورتیں وہ تھے جو کفار کے ہاتھوں میں پھنسے ہوئے تھے وہ اہل ایمان کے ہاتھوں بیخبر ی میں مارے جاتے اور روندے جاتے۔ یہ اس لئے بھی کیا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل فرمائے۔ اگر یہ اہل ایمان مکہ میں نہ ہوتے تو ہم مومنوں کے یاتھوں کفار کو درد ناک سزا دلاتے کیونکہ یہ کفار پھر سے اسی جاہلیت کی ضس اور عصبیت پر قائم تھے لیکن اللہ نے اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر ” سکینہ “ سکون قلب (اور اطاعت رسول کے جذبے) کو نازل فرمایا اور ان اہل ایمان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا کیونکہ وہی اہل ایمان اس کے زیادہ حق دار بھی تھے۔ اللہ وہ ہے جو ہر بات کی مصلحت اور حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے۔