48. Surah Al-Fath
الفتحThe Victory · 29 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ نمبر 48 کل رکوع 4 آیات 29 الفاظ و کلمات 568 حروف 2555 مقام نزول مکہ مکرمہ ٭ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایسا عظیم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عطا فرمایا ہے جو شاہد ‘ بشیر اور نذیر ہے۔ ان کی مدد ‘ تعظیم و تکریم اور اللہ کی صبح و شام تسبیح کرنا اور جو انہوں نے اللہ سے عہد کیا ہے اس کو پورا کرنا ہی ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ ٭ اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبہ کو فتح مبین قراردیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اگر صلح حدیبیہ نہ ہوتی تو اہل ایمان کو وہ کامیابیاں اور فتوحات حاصل نہ ہوتیں جو اس صلح کی برکت سے حاصل ہوئی ہیں۔ یہی وہ موقع تھا جب دین اسلام ایک ایک گھر میں پہنچا اور حکومتوں کے سربراہوں کو بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دین اسلام کو قبول کرنے کی دعوت دی اور فوج در فوج لوگوں نے دین اسلام کو قبول کرنا شروع کیا۔ یہی فتح مبین ہے۔ ٭اللہ نے دین اسلام کی ترقی کو ایک پودے سے تشبیہ دی ہے جس طرح ایک پودا جو نرم و ناز ہوتا ہے آہستہ آہستہ وہ ایک تنا ور درخت بن جاتا ہے اسی طرح صحابہ کرام (رض) کے لیے فرمایا کہ ایک وقت وہ تھا جب مسلمان کمزور تھے مگر اب وہ اتنے طاقت ور ہوگئے ہیں جو دنیا پر غالب آجائیں گے۔ ٭اس سورة میں ایک کھلی ہوئی فتح کی خوش خبری دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر اس سلسلہ میں یا خلوص کے ساتھ کیے گئے کسی کام میں بھی کوئی کوتاہی یا کمی رہ گئی ہو یا آئندہ ہوجائے تو ہم نے اس کو معاف کردیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ اللہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سیدھے راستے پرچلا رہا ہے وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسا مثالی غلبہ عطا فرمائے گا جس میں عزت ہی عزت ہے۔ ٭فرمایا کہ اگر مخالفین اس بات کا شت سے پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ ان کے پاس زبردست لشکر ہے تو انہیں یادرکھنا چاہیے کہ اس کائنات میں زبردست لشکر صرف اللہ کا ہے۔ وہ ہر چیز سے واقف ہے اور ہر بات کی حکمت کو اچھی طرح جانتا ہے کہ کس کام کو کس وقت کس انداز سے ہونا چاہیے۔ ٭اہل ایمان اپنا حسن عمل پیش کرتے رہیں اس میں کی یا کوتاہی نہ کریں۔ اللہ نے ان کے لیے ایسی جنتیں تیار کررکھی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ٭منافق و مشرک مردعورتیں جو اللہ کے بارے میں اچھا گمان ہیں رکھتے ان کے لیے جہنم تیا رہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ٭اللہ نے مومنوں سے فرمایا ہے کہ اللہ کا کتنا بڑا حسان ہے کہ اس نے تمہیں ایک ایسا عظیم رسول عطا فرمایا ہے جو قیامت میں تمہارے سارے اعمال پر گواہی دینے والا ‘ ہر نیک عمل پر خوش خبری دینے والا اور کافروں کو انکے برے انجام سے ڈرانے والا ہے۔ ان کے بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ ان پر ایمان لائیں۔ ان کے ساتھ مل کر اللہ کے دین کی مدد کریں۔ ان کی عزت واحترام اور تعظیم میں کی نہ کریں اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہیں۔ ٭فرمایا کہ جن لوگوں نے ” بیعت رضوان “ کی تھی درحقیقت انہوں نے اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی لہذا کوئی عہد شکنی نہ کرے۔ اگر کسی نے اپنے عہد کو توڑا تو اسے اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ لیکن جو اپنے عہد کو پوراکرے گا اس کو اجرعظیم سے نوازا جائے گا۔ لوگوں کو عہد شکنی سے بچ کروفائے عہد کرنا چاہیے۔ وہ منافقین جن کا اسلام ان کی زبانوں تک محدود تھا جب اسلام کیلئے قربانیاں دینے کا وقت آیا تو ان کا کردار بھی کھل کر سامنے آگیا۔ جب اہل ایمان عمرہ کے لیے روانہ ہورہے تھے اس وقت منافقین نے اس بات کا بڑی شدت سے پروپیگنڈا کیا کہ مسلمانوں کو کفار کے گڑھ میں نہیں جانا چاہیے کیونکہ اگر وہ چلے گئے تو ان کا مدینہ منورہ واپس لوٹ کر آناممکن نہ ہوگا۔ یہ سوچ کر وہ بغیر کسی عذر کے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔ فرمایا کہ جب اہل ایمان مدینہ منورہ واپس آگئے ہیں تو وہ منافقین اپنی اس شرمندگی کو مٹانے کے لیے غلط سلط عذر اور بہانے پیش کررہے ہیں۔ اب منافقین کو یقین ہوگیا تھا کہ مومنین اس کے بعد کامیابیں سے ہم کنارہوں گے۔ جب انہوں نے یہ سنا کہ اب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) خیبر کی طرف جارہے ہیں تو انہیں اس میں اپنا فائدہ نظر آیا لہٰذا انہوں نے خیبر کی طرف جانے کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر ان تمام لوگوں کو خیبر کی مہم میں شرکت سے روک دیا جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صلح حدیبیہ میں شریک نہیں تھے اور فرمایا کہ اس کے بعد ان کو ایک اور موقع دیا جائے گا جو درحقیقت ان کا امتحان اور آزمائش ہوگی۔ فرمایا کہ اگر انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو ان کو اس کا بہترین بدلہ عطا کیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ بغیر کسی عذر کے مکہ جانے سے رہ گئے تھے وہ ان کی غلطی تھی لیکن اگر کسی کو واقعی عذر تھا کوئی معذور ‘ اندھا ‘ لنگڑا ور بیمار تھا اور وہ اپنے اس عذر کی وجہ سے نہ جاسکا تھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ البتہ عام زندگی میں ہر ایک کو اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنی ہوگی۔ اگر کسی نے اس سے منہ پھیرا تو اس کو سخت سزادی جائے گی اور اگر وہ اطاعت کریں گے تو ان کو جنت کی ابدی زندگی کی ابدی راحتیں عطاکی جائیں گی۔ حدیبیہ کے موقع پر جن صحابہ کرام (رض) نے بیعت (بیعت رضوان) کی تھی ان کے متعلق فرمایا جارہا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا ہے اب ان کو بہت سی کامیابیاں اور فتوحات حاصل ہوں گی۔ اللہ نے فرمایا کہ اس موقع پر جنگ نہیں ہوئی یہ اللہ کا بڑا احسان ہے کیونکہ اگر جنگ ہوتی تو وہ لوگ جو دلی اعتبار سے اسلام قبول کرچکے ہیں مگر کسی مصلحت سے اپنے ایمان کا اظہار نہ کرسکے ہو سکتا تھا کہ ان کو بیخبر ی کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچ جاتا۔ اس لیے اللہ نے دونوں فریقوں کو جنگ سے روک دیا لیکن اگر اس حالت میں بھی جنگ ہوجاتی تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غلبہ عطا فرماتا۔ ٭فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو خواب دیکھا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ اداکر رہے ہیں اور صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بغیر عمرہ کیے واپس آگئے تھے۔ اس میں اللہ کی مصلحت تھی لیکن اب وہ وقت آگیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) بیت اللہ شریف میں پہنچ کر عمرہ ادا کریں گے اس شان سے اس میں داخل ہوں گے کہ ہر طرف امن وامان ہوگا۔ کوئی سروں کے بال منڈوائیں گے اور کوئی بال کم کر امئیں گے اور ان کو کفار کا کوئی خوف نہ ہوگا۔ ٭فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ وہ اسکو دنیا کے ہر مذہب پر غالب کردکھائیں۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور ان کی رسالت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ ان کے ساتھ وہ لوگ ہیں جو آپس میں تو شیرو شکر ہیں لیکن اللہ کے اللہ کے دشمنوں کے لیے بہت سخت ہیں۔ کبھی وہ رکوع میں ہیں کبھی سجدوں میں وہ محض اللہ کی رضا و خوشنودیکیلیے اس کی عبادت کرتے ہیں۔ انکے چہروں سے ان کی عبادت کی کیفیات ظاہر ہیں۔ ان کے لیے توریت اور انجیل میں بھی پیشن گوئیاں موجود ہیں۔ ٭اللہ نے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح ایک کھیتی ہے جب پودا اپنی کونپل نکالتا ہے۔ پھر وہ کونپل آہستہ آہستہ موٹی ہو کر اپنی بنیادوں پر مضبوطی سے کھڑی ہوجاتی ہے تو جس نے کھیتی بوئی ہے وہ اپنی کھیتی کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ فرمایا کہ اسی طرح اسلام کا پودا کبھی بہت کمزور تھا اب طاقت ور ہوگیا ہے۔ ایک وقت وہ آنے والا ہے جب پوری امت اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا بھر کی فتح سے خوش ہوجائیں گے۔ ان صحابہ کرام (رض) کو ہر طرف کامیابیاں اور فتوحات حاصل ہوتی چلی جائیں گی اور دین اسلام ہر نظریہ اور مذہب پر غالب آکر رہے گا۔ ٭ جو لوگ اللہ و رسول کی اطاعت کریں گے ان کو معاف کرکے اجر عظیم عطا کیا جائے گا اور دین و دنیا کی بھلائیاں عطا کی جائیں گی۔
اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ بیشک ہم نے آپ کو ایک کھلی فتح عنایت کی ہے
لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader
تاکہ اللہ آپ کی اگلی پچھلی ہر ایک کوتاہی کو معاف کردے اور آپ پر اپنی نعمت کو پوراکردے اور آپ کو سیدھے راستے پر چلائے
وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader
تاکہ اللہ آپ کو ایسا غلبہ عطا فرمائے جس میں عزت ہی عزت ہو۔
هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader
وہی تو ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکون ( ضبط اور اطمینان) پیدا کیا تاکہ وہ ایمان یقین جو انہیں پہلے سے حاصل تھا ان کا ایمان و یقین اور بڑھ جائے۔ آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اللہ کے ہیں۔ اور اللہ بہت جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader
تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کردے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ان کی خطائوں کو دور کردے گا اور یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے۔
وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader
تاکہ وہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو ‘ مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سخت سزادے کیونکہ وہ اللہ کے بارے میں برے گمان رکھتے ہیں۔ ان لوگوں پر براوقت آنے والا ہے۔ اور آخرت میں اللہ ان پر غضب ناک ہوگا اور ان کو اپنی رحمت سے دورکردے گا۔ ان کے لئے جہنم تیار ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔
وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader
اور آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے لئے ہیں۔ اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔
اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ بیشک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا ‘ بشارت دینے والا اور (برے انجام سے ) ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader
(اے لوگو ! ) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ اللہ (کے رسول کی) مدد کرو۔ ان کا ادب و احترام کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader
بیشک جو لوگ آپ ( کے ہاتھ پر) بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں۔ ان بیعت کرنے والوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ پھر جو شخص (بیعت یعنی) وعدہ توڑتا ہے تو اس کی عہد شکنی کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور جو شخص اس کو پورا کرتا ہے جس پر اس نے اللہ سے عہد کیا ہے تو اللہ اس کو بہت جلد اجر عظیم عطا فرمائے گا۔
سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ عنقریب وہ دیہاتی جو (حدیبیہ کے موقع پر) پیچھے وہ گئے تھے کہیں گے کہ ہمیں ہمارے مالوں اور گھر والوں نے مشغول کرلیا تھا (یعنی فرصت ہی نہ لینے دی) تو آپ ہمارے لئے دعائے مغفرت کر دیجئے۔ (اللہ نے فرمایا) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی زبانوں سے وہ بیان کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ (اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان یا نفع پہنچانا چاہے تو کیا اللہ کے سوا کوئی اور ہے جس کو یہ اختیار حاصل ہو (وہ نقصان یا نفع پہنچاسکے) ؟ بلکہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو جانتا ہے۔
بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader
تم نے تو یہ سمجھ لیا تھا کہ اب پیغمبر اور اہل ایمان کبھی پلٹ کر اپنے اہل و عیال کے پاس نہیں آئیں گے۔ اور یہ بات تمہارے دلوں کو بھلی لگتہ تھی اور تم نے (بہت سے) بد ترین گمان قائم کر رکھے تھے۔ اور تم ہو ہی برباد ہوجانے والے
وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader
(یاد رکھو) جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لائے گا تو ہم نے ایسے کافروں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔
وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader
اور آسمانوں اور زمین کی ملکیت اللہ ہی کے لئے ہے وہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس کو چاہے عذاب دے (لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ) اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader
پیچھے وہ جانے والے عنقریب یہ بات کہیں گے کہ جب تم (خیبر کے) مال غنیمت کو لینے جائو گے تو ہمیں بھی اجازت دے دو تاکہ ہم تمہارے ساتھ چلیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل ڈالیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ تم (اس موقع پر) ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اللہ نے پہلے سے یہ بات کہہ دی ہے۔ پھر وہ کہیں گے کہ (بات یہ ہے) تم ہمارے بھلے سے جلتے ہو۔ بلکہ وہ بات کو بہت کم سمجھتے ہیں۔
قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ پیچھے وہ جانے والے دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کہ تمہیں بہت جلد ایک ایسی قوم سے مقابلے کی دعوت دی جائے گی جو سخت جنگ جو ہوں گے۔ تم ان سے جنگ کرتے رہو گے یا وہ اطاعت قبول کرلیں گے۔ پھر اگر تم حکم مانو گے تو اللہ تمہیں بہترین درجہ عطا فرمائے گا اور اگر تم نے سر کشی کی (اطاعت نہ کی) جس طرح تم اس سے پہلے (حدیبیہ کے موقع پر) سر کشی و نافرمانی کے چکے ہو تو وہ تمہیں دردناک سزا دے گا۔
لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader
نہ تو اندھے پر کوئی گناہ ہے نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے۔ جس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور جو شخص (اطاعت و فرماں طرداری سے) منہ پھیرے گا تو وہ اس کو بد ترین عذاب دے گا۔
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader
یقینا اللہ ان مومنوں سے راضی ہوگیا جب وہ لوگ ایک درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے۔ پھر اللہ نے ان کے دلوں کے حال کو جان لیا تھا۔ پھر اس نے ان پر سکینہ (سکون قلب) نازل کیا اور ان کو اس کے بدلے میں ایک ایسی فتح عنایت کی جو قریب ہی تھی۔
وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader
اور ان کو بہت سا مال غنیمت بھی دیا جس کو وہ حاصل کر رہے تھے۔ اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔
وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader
اللہ تم سے اور بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کرچکا ہے جنہیں تم (بہت جلد) حاصل کرو گے اس لئے اس نے فوری طور پر یہ مال غنیمت عطا کردیا ہے۔ اور لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا ہے تاکہ یہ بات مومنوں کے لئے ایک نشانی بن جائے اور وہ تمہیں صراط مستقیم کی ہدایت دیدے۔
وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader
اور ایک دوسری فتح بھی (ملنے والی) ہے جس پر تمہیں ابھی قدرت حاصل نہیں ہے مگر اس کو اللہ نے گھیر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader
اور اگر یہ کافر تم سے لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھگتے ۔ پھر وہ کسی کو نہ تو اپنا حمایتی پاتے اور نہ کسی کو اپنا مدد گار۔ “
سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader
اور یہ اللہ کی وہ سنت ہے جو پہلے ہی سے چلی آرہی ہے۔ اور تم اس کے طریقے میں کبھی کوئی تبدیلی نہ پائو گے۔
وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader
وہی تو ہے جس نے تمہیں مکہ کی سرحد میں ان کافروں پر قابوپا جانے کے باوجود ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکے رکھا ۔ تم جو کچھ کرتے ہوا سے وہ دیکھ رہا ہے۔
هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader
یہ وہی تو ہیں جنہوں نے کفر کیا۔ تمہیں مسجد حرام سے اور قربانی کے جانوروں کو جو ( حدیبیہ کے مقام پر رکے ہوئے تھے) ان کے ٹھکانے (قربان گاہ) پر پہنچنے سے روک دیا تھا۔ اور اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ تم ان مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو جنہیں تم پہچانتے نہ تھے ان کو بیخبر ی میں تم روند ڈالتے اور پھر تمہیں ان بےگناہوں کی وجہ سے نقصان پہنچتا۔ یہ جنگ روکی نہ جاتی۔ وہ اس لئے روکی گئی کہ وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کر دے۔ البتہ اگر (یہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں) الگ ہوگئے ہوتے تو ہم (ان میں سے جو) کافر تھے ان کو سخت اور دردناک عذاب دیتے۔
اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader
اور جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں غیرت وحمیت کو جگہ دی جو جہالت کی غیرت و حمیت تھی تو اس کے بعد اللہ نے اپنے رسول اور ایمان والوں پر سکینہ (سکون قلب) نازل کیا اور اس نے ان (اہل ایمان کو) پرہیز گاری پر جمائے رکھا۔ اور مسلمان ہی اس تقویٰ کی بات کے زیادہ حق دار اور اس کلمہ حق کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader
بیشک اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا جو بر حق تھا۔ کہ اگر اللہ نے چاہا تو تم ضرور مسجد حرام میں امن وامان کے ساتھ داخل ہو گے۔ سر منڈ وا تے یا اپنے سروں کے بال کترواتے ہوئے اس طرح داخل ہو گے کہ تمہیں کسی طرح کا خوف نہ ہوگا۔ پھر اللہ ان باتوں سے خوب اچھی طرح واقف ہے جسے تم نہین جانتے۔ پھر اللہ نے (مسجد حرام میں داخلے سے پہلے) ایک ایسی فتح عنایت کردی جو بہت قریب تھی۔
هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader
وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے۔ اور اللہ گواہی کے لئے کافی ہے
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader
کہ (حضرت) محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور وہ (صحابہ کرام ؓ جو ان کے ساتھ ہیں (ان کی خصوصیت یہ ہے کہ) کفار کے مقابلے میں سخت اور آپس میں رحم و کرم کا پیکر ہیں۔ تم انہیں کبھی رکوع اور کبھی سجدوں میں دیکھو گے۔ وہ اللہ کا فضل و کر اور اس کی رضا مندی (حاصل کرنے میں) لگے رہتے ہیں۔ ان کی (سچائی اور صدقت) کی علامت سجدوں کی کثرت سے ان کے چہروں پر نمایاں ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی (عظمتوں کی) مثالیں تو ریت اور انجیل میں موجود ہیں۔ (ان کی مثال ایسی ہے) جیسے ایک کھیتی کہ اس نے کو نپل نکالی پھر اس کو سہارا دیا اور وہ بڑھ کو موٹی ہوئی پھر وہ کھیتی اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی جو کاشت کرنے والوں کو خوش منظر دکھائی دینے لگی۔ (اسی طرح صحابہ رسول بھی مضبوط ہوں گے) تاکہ اللہ ان کافروں کو غیض و غضب میں مبتلا کر دے۔ اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے تو اللہ نے ان سے بہت بڑی مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔