48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 48:1–3

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

(اے محمد) ﷺ ہم نے تم کو فتح دی فتح بھی صریح و صاف

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے اور تم کو سیدھے راستے چلائے

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور خدا تمہاری زبردست مدد کرے

تفسیر سورة الفتح اس فتح مذکور سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشرکین مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو روکا جبکہ آپ عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آئے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کے ساتھ دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرلیا، اس شرط پر کہ آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے۔ جو کوئی قریش کے معاہدے میں داخل ہو کر حلیف بننا چاہیے ایسا کرسکتا ہے اور جو کوئی رسول اللہ ﷺ کے عہد میں داخل ہو کر آپ کا حلیف بننا چاہیے وہ ایسا کرسکتا ہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ جب لوگ ایک دوسرے سے مامون ہوں گے تو دعوت دین کا دائرہ وسیع ہوگا، سرزمین کے طول و عرض مومن جہاں کہیں بھی ہوگا، وہ دین کی دعوت دے سکے گا جو شخص حقیقت اسلام سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لئے واقفیت حاصل کرنا ممکن ہوجائے گا۔ اس مدت کے دوران لوگ فوج در فوج اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہوئے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو ” فتح “ کے نام سے موسوم کرکے اس کو ” فتح مبین “ کی صفت سے موصوف کیا، یعنی واضح فتح۔ کیونکہ مشرکین کے شہروں کو فتح کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کا اعزاز اور مسلمانوں کی نصرت ہے اور یہ مقصد اس فتح سے حاصل ہوگیا، اس فتح پر اللہ تعالیٰ نے متعدد امور مرتب فرمائے۔ (لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنک وما تاخر) ” تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخشش دے۔ “ واللہ اعلم۔۔۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے باعث بہت سے نیکیاں حاصل ہوئیں، لوگ دین میں بہت کثرت سے داخل ہوئے، نیز اس بنا پر کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ شرائط برداشت کیں جن پر اولوالعزم رسولوں کے سوا کوئی صبر نہیں کرسکتا۔ یہ چیز رسول اللہ ﷺ کے عظیم ترین مناقب اور کرامات میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گلے پچھلے گناہ بخش دیے۔ (ویتیم نعمتہ علیک) اور تاکہ آپ کے دین کو اعزاز عطا کرکے، آپ کو آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کرکے اور آپ کے کلمہ کو وسعت بخش کر آپ پر اپنی نعمت کا تمام کرے۔ (ویھدیک صراطا مستقیما) ” اور آپ کو سیدھے راستے پر چلائے۔ “ تاکہ آپ سعادت ابدی اور فلاح سرمدی حاصل کرسکیں۔ (وینصرک اللہ نصرا عزیزا) ” اور اللہ آپ کی زبردست مدد کرے۔ “ یعنی انتہائی قوی مدد، جس میں اسلام کمزورنہ ہو، بلکہ اسے مکمل فتح و نصرت حاصل ہوئی، اللہ تعالیٰ کفار کا قلع قمع کرے، ان کو ذلیل اور کمزور کرکے ان میں کمی کرے، مسلمانوں کو زیادہ کرے، ان کی تعداد کو بڑھائے اور ان کے اموال میں اضافہ کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر مرتب ہونے والی اس فتح کا آثار کا ذکر فرمایا :
Ayahs 48:4–6

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے اور آسمانوں اور زمین کے لشکر (سب) خدا ہی کے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے انکے گناہوں کو دور کر دے اور یہ خدا کے نزدیک بڑی کامیابی ہے

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور (اس لئے کہ) منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو خدا کے حق میں برے برے خیال رکھتے ہیں عذاب دے انہی پر برے حادثے واقع ہوں اور خدا ان پر غصے ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وہ بری جگہ ہے

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس احسان سے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں سکنیت نازل کی۔ سکنیت سے مراد وہ سکون، اطمینان اور ثبات ہے جو مضطرب کردینے والے مصائب و محن اور ایسے مشکل امور کے وقت بندۂ مومن کو حاصل ہوتا ہے، جو دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، عقل کو سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری اور نفس کو کمزور کردیتے ہیں۔ پس اس صورت حال میں یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندے کیلئے نعمت ہے کہ وہ اس کو ثابت قدم رکھتا ہے، اس کے قلب کو مضبوط کرتا ہے تاکہ وہ ان مصائب کو سامنا کرسکے اور اس حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے کے لئے مستعد رہے، اس سے اس کے ایمان میں اضافہ اور اس کے ایقان کی تکمیل ہو۔ جب رسول اللہ ﷺ اور مشرکوں کے مابین، صلح کی یہ شرائط طے ہوئیں، جو صحابہ کرام ؓ کے لئے بظاہر ذلت آمیز اور ان کے مرتبے سے فروتر تھیں، تو ان شرائط پر ان کے نفوس صبر کرنے کی قوت نہیں پار ہے تھے۔ جب انہوں نے ان شرائط کو صبر کے ساتھ قبول کرلیا اور اپنے نفوس کو ان کی قبولیت پر آمادہ کرلیا تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ فرمایا : (وللہ جنود السموات والارض) یعنی زمین و آسمان کے تمام لشکر اس کی ملکیت اور اس کے دست تدبیر اور قہر کے تحت ہیں، اس لئے مشرکین یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور نبی کی مدد نہیں کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے، بنا بریں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان گردش ایام ہوتی رہے اور اہل ایمان کیلئے فتح و نصرت کسی دوسرے موقع تک مؤخر رہے۔ (لیدخل المومنین المومنت جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ویکفر عنھم سیاتھم) ” تاکہ وہ مومن مردوں اور مون عورتوں کی بہشتوں میں، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، داخل کرے، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور تاکہ ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے۔ “ یہ سب سے بڑی چیز ہے جو اہل ایمان کو حاصل ہوتی ہے یعنی دخول جنت کے ذریعے سے انہیں اپنا مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور گناہوں کو مٹا دینے کے ذریعے سے وہ چیز زائل ہوتی ہے جس کا انہیں خوف تھا۔ (وکان ذلک) یہ مذکورہ جزا جو مومنوں کو عطا ہوگی (عند اللہ فوزا عظیما) ” اللہ کے ہاں بڑی کامیابی ہے۔ “ یہ ہے وہ فعل جو اللہ تعالیٰ اس فتح مبین میں اہل ایمانے بارے میں سر انجام دے گا۔ رہے منافق مرد اور منافق عورتیں، مشرک مرد اور مشرک عورتیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو اس فتح مبین کے ذریعے سے عذاب دے گا، انہیں ایسے ایسے امور دکھائے گا جو ان کے لئے نہایت تکلیف دہ ہوں گے، چونکہ مشرکین کا مقصد یہ تھا کہ مومنین بےیارومددگار رہ جائیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ برا گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور اہل باطل کو اہل حق پر غلبہ عطا کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے گمان کو الٹ دیا اور دنیا ہی میں ان پر برا وقت آگیا۔ (وغضب اللہ علیھم) اور ان کے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت رکھنے کے سبب سے اللہ تعالیٰ ان پر سخت ناراض ہے (ولعنھم) ” اور ان پر لعنت کی “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے (واعد لھم جھنم وساءت مصیرا) ” اور ان کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔ “
Ayah 48:7

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا ہی کے ہیں اور خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

اللہ تبارک و تعالیٰ نے بتکرار آگاہ فرمایا ہے کہ آسمان اور زمین اور ان کے اندر موجود لشکر، اسی کی ملکیت ہیں، تاکہ بندے اس حقیقت کو جان لیں کہ وہی عزت عطا کرنے والا اور وہی ذلت سے دو چار کرنے والا ہے۔ وہ عنقریب اپنے ان لشکروں کو فتح و نصرت سے ہم کنار کرے گا جو اس کی طرف منسوب ہیں جیسا کہ فرمایا : (وان جندنا لھم الغلبون) (الصفت : 37/183) ” اور بلاشبہ ہمارا لشکر ہی غالب آکر رہے گا۔ “ (وکان اللہ عزیزا) اور اللہ تعالیٰ طاقت ور، زبردست اور ہر چیز پر غلبہ رکھتا ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبہ کے باوجود، اپنی تخلیق و تدبیر میں حکمت والا ہے، وہ اپنی حکمت اور مہارت کے مطابق فعل سرانجام دیتا ہے۔
Ayahs 48:8–9

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

اور ہم نے (اے محمد) ﷺ تم کو حق ظاہر کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا اور خوف دلانے والا (بنا کر) بھیجا ہے

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ (مسلمانو ! ) تم لوگ خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اسکو بزرگ سمجھو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو

(انا ارسلنک) اے رسول کریم ! ﷺ ہم نے آپ کو بھیجا (شاھدا) گواہ بنا کر ” یعنی آپ کی امت جو نیکی یا بدی کرتی ہے، ہم نے آپ کو اس پر گواہ بنا کر بھیجا نیز تمام حق اور باطل مقالات اور مسائل پر، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ہر لحاظ سے اس کے اپنے کمال میں منفرد ہونے پر آپ کو گواہ بنا کر مبعوث کیا۔ (ومبشرا) جس کسی نے آپ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اس کے لئے دنیاوی، دینی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اس کو دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا۔ تبشیر اور انداز یہ ہے کہ ان اعمال و اخلاق کو بیان کیا جائے جن پر خوشخبری دی جاتی ہے اور جن کے انجام سے ڈرایا جاتا ہے، چناچہ آپ خیر وشر، سعادت و شقاوت اور حق و باطل کو کھول کھول کر بیان کردینے والے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنا یہ ارشاد مرتب فرمایا : (لتومنوا باللہ ورسولہ) رسول اللہ ﷺ کے تمہیں دعوت اور ان امور کی تعلیم دینے کے سبب سے ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا جن میں تمہارا فائدہ ہے، تاکہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ جو تمام امور میں ان دونوں کی اطات کو مستلزم ہے۔ (وتعزروہ وتوقروہ) تم رسول اللہ ﷺ کا ادب کرو، آپ کی توقیر و تعظیم کرو، آپ کو مرتبے میں بڑا تسلیم کرو اور آپ کے حقوق کو ادا کرو جیسا کہ تمہاری گردنوں پر آپ ﷺ کا بڑا احسان ہے۔ (وتسبحوہ) اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو (بکرۃ واصیلا) صبح و شام۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ حق بیان کیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان مشترک ہے، یعنی ان دونوں پر ایمان۔ ایک حق وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ سے مختص ہے اور وہ ہے آپ کی تعظیم و توقیر اور ایک حق وہ ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور وہ ہے نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس کی تسبیح و تقدیس۔
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا

یہ بیعت، جس کی طرف اللہ تبارک و تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ‘ ” بیعت رضوان “ ہے ‘ اس میں صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہیں ہوں گے۔ یہ ایک خاص معاہدہ ہے جس کے لوازم میں سے ہے کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہ ہوں، خواہ بہت ہی تھوڑے لوگ کیوں نہ باقی رہ جائیں اور خواہ ایسی صورت حال میں ہوں جہاں فرار ہونا جائز ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں، حقیقت امر یہ ہے کہ وہ (یبایعون اللہ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدہ کر رہے ہیں، حتیٰ کہ یہ اس کی شدت تاکید ہے کہ فرمایا : (ید اللہ فوق ایدیھم) ” اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ “ گویا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیعت کی ہے اور اس بیعت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مصافحہ کیا ہے۔ یہ سب کچھ زیادہ تاکید، تقویت اور ان کو اس بیعت کے پورا کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے فرمایا، بنابریں فرمایا : (فمن نکث) ” پس جو بیعت کو توڑے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اسے پورا نہ کرے (فانما ینکث علی نفسہ) ” تو بیشک عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔ “ کیونکہ اس کا وبال اسی کی طرف لوٹے گا اور اس کی سزا اسی کو ملے گی۔ (ومن اوفی بما عھد علیہ اللہ) ” اور جو اس بات کو، جس کا اس نے اللہ سے عہد کیا ہے، پورا کرے۔ “ یعنی اس معاہدے پر کامل طور پر عمل کرے (فسیوتیہ اجرا عظیما) ” تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا۔ “ اس اجر کی عظمت اور قدر کو صرف وہی جان سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ یہ اجر عطا کرے گا۔
Ayahs 48:11–13

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

جو اعراب پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل و عیال نے روک رکھا آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لیے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے ؟ (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخر کار) تم ہلاکت میں پڑگئے

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو شخص خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہ لائے تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس معذرت کرلیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلنے سے روکے رکھا اور وہ رسول اللہ ﷺ سے درخواست کرلیں گے کہ آپ ان کے لئے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یقولون بالسنتھم ما لیس فی قلوبھم) ” یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔ “ رسول اللہ ﷺ سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت اور اپنے گناہ کے اقرار پر دلالت کرتا ہے نیز اس امر کے اعتراف پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے، جس کے لئے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔ پس اگر ان کے دلوں میں یہی بات ہوتی تو رسول اللہ ﷺ کا استغفار ان کے لئے فائدہ مند ہوتا کیونکہ انہوں نے توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے مگر ان کے دلوں میں تو یہ مرض ہے کہ وہ جہاد چھوڑ کر اس لئے گھر بیٹھ رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں (ان لن ینقلب الرسول والمومنون الی اھلیھم ابدا) ” کہ رسول اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ “ یعنی ان کو قتل کرکے نیست و نابود کردیا جائے گا اور یہ برا گمان ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا، وہ اس پر مطمئن رہے حتیٰ کہ ان کے دلوں میں یہ بدگمانی مستحکم ہوگئی، اور اس کا سبب دو امور ہیں : (1) وہ (قوما بورا) ہلاک ہونے والے لوگ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں، اگر ان میں کسی قسم کی بھلائی ہوتی تو ان کے دلوں میں بدگمانی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے، دین کے لئے اس کی نصرت اور کلمتہ اللہ کو بلند کرنے کے بارے میں ان کا ایمان اور یقین کمزور ہے۔ (2) دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کے وعدے، اس کے اپنے دین کی مدد کرنے اور اپنے کلمے کو بلند کرنے پر ان کے ایمان اور یقین کا کمزور ہونا ہے، اسی لئے فرمایا : (ومن لم یومن باللہ ورسولہ) ” اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے “ یعنی وہ کافر اور عذاب کا مستحق ہے (فانا اعتدنا للکفرین سعیرا) تو ہم نے کفار کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
Ayah 48:14

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

یعنی اللہ تعالیٰ اکیلا ہی آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے، آسمانوں اور زمین میں اپنے احکام قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی نافذ کرتا ہے، اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم جزائی کا ذکر فرمایا جو احکام شرعی پر مترتب ہوتا ہے۔ چناچہ فرمایا : (یغفر لمن یشاء) ” وہ جسے چاہے بخش دے “ اور یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ کے حکم کی اطاعت کی۔ (ویعذب من یشاء) ” اور وہ جسے چاہے عذاب دے “ اور یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے خم کو ہیچ جانا۔ (وکان اللہ غفور رحمیا) ” اور اللہ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ “ اس کا وصف لازم ہے جس کی بنا پر مغفرت اور رحمت کبھی اس سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ ہر وقت گناہ گاروں کے گناہ بخشتا ہے، خطا کاروں کی خطاؤں سے درگزر کرتا ہے اور توبہ کرنے والوں کو توبہ قبول کرتا ہے۔ اس کی بےپایاں بھلائی رات دن نازل ہوتی رہتی ہے۔
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجئے کہ آپ کے ساتھ چلیں یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے اسی طرح خدا نے پہلے تو فرما دیا ہے پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم

جب اللہ تعالیٰ نے جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی مذمت کی، تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان کی دنیاوی سزا یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام، ایسی غنیمتیں حاصل کرنے لئے آگے بڑھیں گے، جس میں جنگ نہیں ہوگی، تو یہ لوگ ان سے صحبت اور مشارکت کی درخواست کریں گے۔ وہ کہیں گے۔ (ذرونا نتبعکم یریدون) ” ہمیں بھی اجازت دیں کہ ہم آپ کے ساتھ چلیں، وہ چاہتے ہیں “ اس سے (ان یبدلو اکلم اللہ) ” کہ وہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔ “ کیونکہ اس نے ان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان غنائم کو شرعاً اور قدر اً صحابہ کرام یعنی اہل ایمان سے مختص کیا ہے۔ (قل) ان سے کہہ دیجئے (لن تتبعونا کذلکم قال اللہ من قبل) ” تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے، اسی طرح اللہ نے پہلے فرما دیا ہے۔ “ تمہیں اس جرم کی پاداش میں جس کا ارتکاب تم نے اپنے آپ پر کیا، غنائم سے محروم کیا جاتا ہے، نیز اس جرم کی پاداش میں کہ تم نے پہلے مرتبہ جہاد کو ترک کیا۔ (فسیقولون) تو وہ اس بات کا جواب دیتے ہوئے، جس کی بنا پر انہیں جنگ کے لئے نکلنے سے منع کیا گیا ہے، کہیں گے : (بل تحسدوننا) یعنی تم مال غنیمت کے بارے میں ہمارے ساتھ حسد کرتے ہو۔ اس مقام پر یہ ان کا منتہائے علم ہے، اگر انہوں نے رشدو فہم سے کام لیا ہوتا تو انہیں معلوم ہوتا کہ ان کی محرومی کا سبب، ان کی نافرمانی ہے، گناہوں کی کچھ دنیاوی اور کچھ دینی سزا ہوتی ہے اسی لئے فرمایا : (بل کانو لا یفقھون الا قلیلا) ” بلکہ یہ بہت کم سجھتے ہیں۔ “
Ayahs 48:16–17

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

جو اعراب پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم جلد ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے تم (یا تو) جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے اگر تم حکم مانو گے تو خدا تم کو اچھا بدلا دے گا اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم کو بری تکلیف کی سزا دے گا

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے) پیچھے رہ جائے اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے اور جو شخص خدا اور اسکے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں اور جو روگردانی کرے گا اسے بڑے دکھ کی سزا دے گا

اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اعراب (عرب دیہاتیوں) میں سے پیچھے بیٹھ رہنے والے، جہاد سے جی چراتے ہیں اور کسی عذر کے بغیر معذرت پیش کرتے ہیں اور وہ صرف ان کے ساتھ جہاد پر نکلنے کی درخواست کرتے ہیں، جب کہ جنگ اور قتال نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیتے ہوئے فرمایا : (قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید) یعنی عنقریب رسول اللہ ﷺ آپ کے قائم مقام خلفائے راشدین اور دیگر ائمہ تمہیں جہاد کی طرف بلائیں گے اور وہ لوگ جن سے جہاد کے لئے تمہیں دعوت دی جائے گی، وہ اہل فارس، اہل روم اور ان جیسی بعض دیگر قومیں ہوں گی۔ ) تقاتلونھم او یسلمون) یعنی تم ان کے خلاف جنگ کرو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں گے۔ فی الواقع معاملہ یہی ہے کہ جب مسلمانوں کی ان قوموں کے ساتھ جنگ ہوئی، جنگ کے حالات میں جب تک ان میں شدت اور قوت رہی تو اس صورت میں انہوں نے جزیہ دینا قبول نہیں کیا، بلکہ یا تو انہوں نے اسلام قبول کرلیا یا وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے جنگ کرتے رہے، جب مسلمانوں نے جنگ میں ان کو بےبس کردیا اور وہ کمزور ہو کر مطیع ہوگئے اور ان کی قوت جاتی رہی تو ان کی حالت یہ ہوگئی کہ وہ یا تو مسلمان ہوگئے یا جزیہ ادا کرنے لگے (فان تطیعوا) یعنی اگر ان لوگوں کے خلاف جہاد کی دعوت دینے والے کی اطاعت کرو۔ (یوتکم اللہ اجرا حسنا) ” تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا۔ “ یہ وہ اجر وثواب ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے اللہ کے راستے میں جہاد پر مرتب فرمایا ہے۔ (وان تتولوا کما تولیتم من قبل) ” اور اگر تم منہ پھیر لو جیسے پہلی مرتبہ پھیرا تھا۔ “ یعنی ان لوگوں سے جہاد کرنے سے منہ توڑ لو جن کے خلاف جہاد کرنے کی رسول اللہ ﷺ نے تمہیں دعوت دی ہے۔ (یعذبکم عذابا الیما) ” تو وہ تمہیں درد ناک عذاب دے گا۔ “ اس آیت کریمہ میں خلفائے راشدین کی، جو طاقت ور قوموں کے خلاف جہاد کرنے کی دعوت دیتے رہے، فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ کہ جہاد میں ان کی اطاعت واجب ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عذروں کا ذکر فرمایا جن کی بنا پر جہاد میں نکلنے سے معذور ہوتا ہے۔ لہٰذا فرمایا : (لیس علی الاعمی حرج ولا علی الاعرج حرج ولا علی المریض حرج) ” نہ تو اندھے پر گناہ ہے نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ مریض پر گناہ ہے۔ “ یعنی اپنے عذر کی بنا پر، جو جہاد پر نکلنے سے مانع ہے، جہاد سے پیچھے رہ جائیں، تو ان پر کوئی حرج نہیں۔ (ومن یطع اللہ ورسولہ) ” اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔ “ یعنی ان کے اوامر کی تعمیل کرنے اور ان کے نواہی سے اجتناب کرنے میں۔ (یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھر) ” اللہ اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ “ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہوگی، نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھوں کو جن سے لذت حاصل ہوگی۔ (ومن یتول) اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑ لے (یعذبہ عذابا الیما) تو اللہ تعالیٰ اسے دردناک عذاب دے گا۔ سعادت تمام تر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور شقاوت اس کی نافرمانی اور مخالفت میں ہے۔
Ayahs 48:18–21

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ﷺ جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا اور جو (صدق و خلوص) انکے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتیں جو انہوں نے حاصل کیں اور خدا غالب حکمت والا ہے

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

خدا نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے کہ تم ان کو حاصل کرو گے تو اس نے غنیمت کی تمہارے لئے جلدی فرمائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دئیے غرض یہ تھی کہ یہ مومنوں کے لئے (خدا کی) قدرت کا نمونہ ہے اور وہ تم کو سیدھے راستے پر چلائے

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور (غنیمتیں) دیں جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے (اور) وہ خدا ہی کی قدرت میں تھیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کردیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ” بیعت رضوان “ کہا جاتا ہے اور سے ” بیعت اہل شجرہ “ بھی کہتے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہ ﷺ کی آمت کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لئے آئے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو اس سلسلے میں مکہ مکرمہ بھیجا۔ آپ کے پاس ایک غیر مصدقہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمان ؓ کو مشرکین مکہ نے قتل کردیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مومنین کو جمع کیا، جو تقریباً پندرہ سو افراد تھے، انہوں نے ایک درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر مشرکین کے خلاف قتال کی بیعت کی کہ وہ مرتے دم تک فرار نہیں ہوں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ مومنوں سے راضی ہوگیا، درآنحالیکہ یہ بیعت سب سے بڑی نیکی اور جلیل ترین ذریعہ تقرب ہے۔ (فعلم ما فی قلوبھم) ان کے دلوں میں جو ایمان ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے (فانزل السکینۃ علیھم) تو ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کی قدردانی کے لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ ان شرائط کی وجہ سے، جو مشرکین نے رسول اللہ ﷺ پر صلح کے لئے عائد کی تھیں، مومنوں کے دلوں میں سخت غم اور بےچینی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر سکنیت نازل فرمائی جس نے ان کو ثبات اور اطمینان عطا کیا۔ (واثابھم فتحا قریبا) ” اور انہیں جلد فتح عنایت کی۔ “ اس سے مراد فتح خیبر ہے جس میں اہل حدیبیہ کے سوا اور کوئی شریک نہیں ہوا، چناچہ ان کے لئے جزا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا کی تعمیل کی قدرومنزلت کے طور پر ان کو فتح خیبر اور اس کے اموال غنیمت سے مختص کیا گیا۔ (ومغانجم کثیرۃ یا خذونھا وکان اللہ عزیزا حکیما) ” اور بہت سے اموال غنیمت بھی وہ حاصل کریں گے، اور اللہ غالب حکم والا ہے۔ “ یعنی طاقت اور قدرت کا وہی مالک ہے، جس کی بنا پر وہ تمام اشیاء پر غالب ہے، اگر وہ چاہیے تو ہر اس معرکے میں، جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہوتا ہے، کفار سے انتقام لے سکتا ہے، مگر وہ حکمت والا ہے وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے اور مومن کا کافر کے ذریعے سے امتحان لیتا ہے۔ (وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونھا) ” اللہ نے تم سے اور بھی بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے کہ جنہیں تم حاصل کرو گے۔ “ یہ ان تمام غنائم کو شامل ہے جو قیامت کے روز تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی (فعجل لکم ھذہ) ” اس نے اس غنیمت کی تمہارے لئے جلدی فرمائی۔ یعنی غزوہ خیبر کا مال غنیمت، پس تم صرف اسے ہی غنیمت نہ سمجھو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی اموال غنیمت ہوں گے جو اس کے بعد تمہیں حاصل ہوں گے۔ (و) ” اور “ اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرو جب (کف ایدی الناس) ” اس نے ان لوگوں کے ہاتھ روک دیے جو تمہارے ساتھ جنگ کرنے کی قدرت اور اس کی خواہش رکھتے تھے (عنکم ) ” تم سے “ یہ ایک نعمت اور تمہارے لئے تخفیف ہے (ولتکون) یعنی یہ مال غنیمت (ایتہ للمومنین) ” اہل ایمان کے لئے نشانی ہے “ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی سچی بھلائی، اس کے وعدہ حق اور اہل ایمان کے لئے ثواب پر استدلال کرتے ہیں، جس نے اس غنیمت کو مقدر کیا ہے وہ اور بھی اموال غنیمت مقدر کرے گا۔ (ویھدیکم) اور ان اسباب کے ذریعے سے تمہاری راہ نمائی کرے گا جو اس نے تمہارے لئے مقدر کیے ہیں (صراطا مستقیما) علم، ایمان اور عمل کے سیدھے راستوں میں ہے۔ (واخری) اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے غنائم کا بھی تمہارے ساتھ وعدہ کیا ہے (لم تقدروا علیھا) ” جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے “ یعنی اس خطاب کے وقت۔ (قد احاط اللہ بھا) ” بیشک اللہ ہی نے ان کو گھیر رکھا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ ان غنائم پر قادر ہے، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت اور اس کی ملکیت میں ہیں، اس نے تمہارے ساتھ غنائم کا وعدہ کیا ہے پس اس وعدے کا پورا ہونا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل اقتدار کا مالک ہے۔ بنا بریں فرمایا : (وکان اللہ علی کل شی ءٍ قدیرا) ” اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “
Ayahs 48:22–23

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر تم سے کافر لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کسی کو نہ دوست پاتے اور نہ مددگار

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

(یہی) خدا کی عادت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تم خدا کی عادت کبھی بدلتی نہ دیکھو گے

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لئے خوشخبری ہے کہ وہ ان کو ان کے دشمن کفار کے خلاف فتح و نصرت عطا کرے گا، اگر ان کفار نے ان کا مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ جنگ کی (لولو الادبار ثم لا یجدون ولیا) ” تو وہ پیٹھ پھر کر بھاگ جائیں گے پھر وہ کوئی دوست نہ پائیں گے۔ “ جو ان کی سرپرستی کرے (ولا نصیرا) ” اور نہ مددگار “ جو ان کی مدد کرے اور تمہارے خلاف لڑائی میں ان کی اعانت کرے، بلکہ وہ اپنے حال پر تنہا اور مغلوب چھوڑ دئیے جائیں گے۔ گزشتہ قوموں میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لشکر غالب آتے ہیں (ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا) ” اور آپ سنت الٰہی میں کوئی تبدیل نہیں پائیں گے۔ “
Ayahs 48:24–25

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان کافروں پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم انکو پامال کردیتے تو تم کو ان کی طرف سے بیخبر ی میں نقصان پہنچ جاتا (تو ابھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان کو ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اس احسان کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس نے ان کو کفار کے شر اور ان کے قتال سے عافیت میں رکھا، فرماتا ہے : (وھو الذی کف ایدیھم) ” اور وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو روکا۔ “ یعنی اہل مکہ کے (عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیھم) “ تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے ان پر تمہیں فتح دینے کے بعد۔ “ یعنی اس کے بعد کہ تمہیں ان پر قدرت حاصل ہوگئی اور وہ کسی عہد اور معاہدے کے بغیر تمہارے ولایت اور سرپرستی میں آگئے اور وہ تقریباً اسی (80) آدمی تھے، جو مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تاکہ بیخبر ی میں ان کو آلیں مگر انہوں نے مسلمانوں کو باخبر اور چاق و چوبند پایا، مسلمانوں نے ان کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں پر رحمت تھی کہ انہوں نے ان کو قتل نہ کیا۔ (وکان اللہ بما تعملون بصیرا) ” اور اللہ ہر چیز کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھتا ہے۔ “ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اے مومنو ! اللہ تعالیٰ اپنی بہترین تدبیر کے ذریعے سے تمہاری راہنمائی کرتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا ہے جو مشرکین کے خلاف قتال کا باعث ہیں اور وہ ہیں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کا کفر کرنا، رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اہل ایمان ساتھیوں کو بیت اللہ کی زیارت کرنے، اس کی تعظیم کرنے اور حج وعمرہ کے لئے آنے سے روکنا۔ انہی لوگوں نے (والھدی معکوفا) قربانی کے جانوروں کو روکا (ان یبلغ محلۃ) ” کہ وہ اپنی قربانی کی جگہ پہنچ جائیں۔ “ اس سے مراد مکہ مکرمہ میں ذبح کی جگہ ہے، جہاں قربانیوں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ پس انہوں نے ظلم اور تعدی کی بنا پر ان قربانیوں کو اس مقام پر پہنچنے سے روک دیا، یہ تمام امور ان کے خلاف قتال کے داعی اور موجب ہیں۔ لیکن وہاں ایک اور مانع بھی ہے اور وہ ہے مشرکین کے اندر اہل ایمان مرد اور عورتوں کا موجود ہونا، ان کی موجودگی کا محل و مقام ممیز نہ تھا جہاں ان کو نقصان پہنچ جانے کا امکان تھا۔ اگر یہ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں، جن کو مسلمان نہ جانتے تھے (ان تطوھم) یعنی ان کو لاعلمی میں روند ڈالنے کا خدشہ نہ ہوتا (فتصیبکم منھم معزۃ بغیر علم) ” تم کو ان کی طرف سے بیخبر ی میں نقصان پہنچ سکتا تھا۔ “ (المعرۃ) سے مراد وہ تکلیف اور نقصان ہے، جو کفار کے ساتھ قتال کے دوران ان اہل ایمان کو بیخبر ی میں پہنچ سکتا تھا اور اخروی فائدہ یہ ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کرلے، اللہ تعالیٰ ان کو کفر کے بعد ایمان سے اور گمراہی کے بعد ہدایت سے نوازتا ہے، پس اس سبب سے اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے ساتھ قتال کرنے سے روکتا ہے۔ (لو تزیلوا) اگر وہ کفار سے الگ ہوجاتے (لعذبنا الذین کفروا منھم عذابا الیما) ” تو جو ان میں کافر تھے ہم انہیں دردناک عذاب دیتے۔ “ وہ اس طرح کہ ہم تمہارے لئے ان سے جنگ کو مباح کردیتے، تمہیں ان کے خلاف لڑنے کی اجازت دے دیتے اور تمہیں ان کے خلاف نصرت سے نوازتے۔
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور انکو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ) ” جب کہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں عار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت کی “ کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے معاہدے کی دستاویز سے (بسم اللہ الرحمن الرحیم) کو نکال دیا، نیز انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور مومنین کو اس سال مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ مسلمان قریش پر غالب آکر مکہ میں داخل ہوئے ہیں۔ یہ اور اس قسم کے تمام امور، جاہلیت کے امور ہیں جو ان کے دلوں میں موجود تھے اور بیشمار گناہوں کے موجب بنے رہے۔ (فانزل اللہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المومنین) ” تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی سکنیت نازل فرمائی۔ “ اس لئے کفار کے برتاؤ کے مقابلہ میں، ان پر غضب و غصہ غالب نہ آیا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر انہوں نے صبر کیا اور ان شرائط کا التزام کیا، جن میں اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم تھی، خواہ وہ کچھ بھی تھیں اور انہوں نے باتیں بنانے والوں کی کوئی پروا کی نہ ملامت کرنے والوں کی ملامت کو خاطر میں لائے۔ (والزمھم کلمۃ التقوی) ” اور ان کو تقویٰ کی بات پر قائم رکھا۔ “ اس سے مراد کلمہ (لا الہ الا اللہ) اور اس کے حقوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لازم ٹھہرایا کہ کلمہ اور اس کے حقوق کو ادا کریں۔ پس اہل ایمان نے ان حقوق کا التزام کرکے ان کو قائم کیا۔ (وکانو احق بھا) اور وہ اس چیز کے، دوسروں کی نسبت زیادہ مستحق تھے۔ (و) ” اور “ تھے وہ (اھلھا) ” اس کے اہل “ جو اپنے آپ کو اس کا اہل جانتے تھے کیونکہ ان کے پاس جو کچھ تھا اور ان کے دلوں میں جو بھلائی تھی اللہ تعالیٰ جانتا تھا۔ بنا بریں فرمایا : (وکان اللہ بکل شئی علیما) ” اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ “
Ayahs 48:27–28

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بیشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہو گے اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی تو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرا دی

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت (کی کتاب) اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے اور حق ظاہر کرنے کے لئے خدا ہی کافی ہے

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق) ” یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا۔ “ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک خواب دیکھا اور آپ نے اپنے اصحاب کرام کو اس خواب سے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب مکہ میں داخل ہو کر بیت اللہ کا طواف کریں گے۔ جب حدیبیہ کے دن ان کے درمیان صلح ہوئی اور اہل ایمان مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس لوٹے تو اس بارے میں ان سے بہت سی باتیں صادر ہوئیں حتیٰ کہ انہوں نے ان باتوں کا رسول اللہ ﷺ کے سامنے بھی اظہار کیا چناچہ انہوں نے آپ سے عرض کیا : کیا آپ نے ہمیں یہ خبر نہیں دی تھی کہ ہم بیت اللہ کی زیارت کے لئے آئیں گے اور طواف کریں گے ؟ آپ نے جواب میں فرمایا :” کیا میں نے تمہیں یہ خبر دی تھی کہ ہم اسی سال بیت اللہ کی زیارت اور طواف سے بہرہ مند ہوں گے ؟” انہوں نے جواب دیا ” نہیں “ تو آپ نے فرمایا : ” تم عنقریب بیت اللہ کی زیارت کے لئے جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق) یعنی اس خواب کا پورا اور سچا ہونا لازمی امر ہے اور اس تعبیر میں جرح و قدح نہیں کی جاسکتی (لتد خلن المسجد الحرام انشاء اللہ امنین محلقین رء و سکم و مقصرین) یعنی تم اس حال میں مسجد حرام میں داخل ہوگے جو اس محرم گھر کی تعظیم کا تقاضا کرتا ہے کہ تم سرمنڈا کر یا بالوں کو ترشوا کر مناسک کو ادا کر رہے ہوگے اور ان کی تکمیل کر رہے ہوگے اور تمہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ (فعلم) اسے تمام مصالح اور منافع معلوم ہیں (مالم تعلموا فجعل من دون ذلک) ” جو تمہیں معلوم نہیں، پس اس نے کی اس سے پہلے “ یعنی ان اوصاف کے ساتھ داخل ہونے سے پہلے (فتحا قریبا) ” نزدیک کی فتح “ چونکہ یہ ایسا واقعہ ہے جس سے بعض اہل ایمان کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی اور ان کی نظروں سے اس کی حکمت اوجھل ہوگئی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت اور منفعت بیان فرمائی۔ یہی صورت تمام احکام شرعیہ کی ہے، تمام احکام شرعیہ ہدایت اور رحمت پر مبنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک حکم عام کے ذریعے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا : (ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی) ” وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت دے کر بھیجا۔ “ جو کہ علم نافع ہے، جو گمراہی میں راہ راست دکھاتا ہے اور خیر وشر کے تمام راستے واضح کردیتا ہے (ودین الحق) اور ایسے دین کے ساتھ بھیجا جو حق سے موصوف ہے اور اس سے مراد عدل، احسان اور رحمت ہے، نیز اس سے مراد ہر وہ عمل ہے جو دلوں کو پاک، نفوس کی تطہیر، اخلاق کی تربیت اور اقدار کو بلند کرتا ہے (لیظھرہ) تاکہ اس دین کو غالب کرے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے (علی الدین کلہ) ” تمام ادیان پر “ یعنی حجت وبرہان کے ذریعے سے اور دہ دین تمام ادیان کو شمشیر و سناں کے ذریعے سے مطیع ہونے کی دعوت دے۔