48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 48:1

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

(اے محمد) ﷺ ہم نے تم کو فتح دی فتح بھی صریح و صاف

ہم نے آپ کو واضح فتح دی اور صلح حدیبیہ بھی اسی میں سے ہے یا یہ کہ ہم نے آپ کے لیے واضح فیصلہ کردیا یہ کہ ہم نے آپ کو اسلام اور نبوت کے ذریعہ سرفرازی عطا فرمائی اور مخلوق کو بھی اس طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔
Ayahs 48:2–3

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے اور تم کو سیدھے راستے چلائے

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور خدا تمہاری زبردست مدد کرے

(2۔ 3) تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی سب اگلی یعنی وحی سے پہلے کی اور وحی کے بعد سے رحلت تک کی صورتی خطائیں معاف فرمائے اور تاکہ نبوت و اسلام اور مغفرت کے ذریعے سے آپ پر اپنے احسانات کی اور تکمیل فرما دے اور آپ کو سیدھے رستہ یعنی دین اسلام پر قائم رکھے اور آپ کے دشمنوں پر آپ کو ایسا غلبہ دے جس میں عزت ہی عزت ہو۔ شان نزول : لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ (الخ) امام حاکم وغیرہ نے مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے روایت کیا ہے کہ سورة فتح اول سے آخر تک حدیبیہ کے واقعہ کے بارے میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان نازل ہوئی ہے۔ اور امام بخاری و مسلم اور ترمذی و حاکم نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم پر حدیبیہ سے واپسی میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ اس پر رسول اکرم نے فرمایا مجھ پر ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے تمام روئے زمین سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ نے یہ آیت صحابہ کرام کو سنائی، صحابہ کرام نے کہا یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو مرتبہ اور فضیلت عطا کی ہے وہ آپ کو مبارک ہو باقی ہمیں اللہ تعالیٰ کیا صلہ دے گا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ لیدخل المومنین (الخ)
Ayah 48:4

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے اور آسمانوں اور زمین کے لشکر (سب) خدا ہی کے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

وہ اللہ ایسا ہے جس نے حدیبیہ کے دن سچے مومنوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا تاکہ ان کے سابقہ ایمان باللہ و بالرسول کے ساتھ ان کی تصدیق یقین اور علم میں زیادتی پیدا ہو فرشتے اور مومن سب اللہ ہی کے لشکر ہیں اور وہ اپنے دشمنوں میں سے جس پر چاہے ان کو مسلط کردے اور حق تعالیٰ فتح و مغفرت ہدایت و نصرت اور انزال سکینہ وغیرہ کو خوب جاننے والا اور ان تمام امور میں حکمت والا ہے۔
Ayah 48:5

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے انکے گناہوں کو دور کر دے اور یہ خدا کے نزدیک بڑی کامیابی ہے

نبی اکرم کی یہ کرامت و فضیلت سن کر مومنوں نے عرض کیا یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو فتح و مغفرت اور کرامت عطا کی ہے وہ آپ کو مبارک ہو باقی اللہ تعالیٰ کے پاس ہمیں کیا صلہ ملے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ شہد شراب اور پانی کی نہریں بہتی ہوں گی اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔
Ayah 48:6

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور (اس لئے کہ) منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو خدا کے حق میں برے برے خیال رکھتے ہیں عذاب دے انہی پر برے حادثے واقع ہوں اور خدا ان پر غصے ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وہ بری جگہ ہے

اور تاکہ ان کے دنیوی گناہوں کو معاف کردے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے کہ ان لوگوں نے جنت اور اس کی نعمتیں حاصل کرلیں اور دوزخ اور اس کی سختیوں سے محفوظ رہے۔ جب عبداللہ بن سلول نے مومنین کی یہ فضیلت سنی تو دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ واللہ ہم بھی ان ہی جیسے ہیں تو ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس کیا ہوگا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کا اگلہ حصہ نازل فرمایا۔ تاکہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے جو کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے خیالات رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مدد نہیں فرمائے گا اور ان پر برا وقت پڑنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ ان پر غضبناک ہوگا اور ان کو ہر ایک بھلائی اور رحمت سے دور کردے گا اور ان کے لیے اس نے دوزخ تیار کر رکھی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔
Ayah 48:7

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا ہی کے ہیں اور خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

اور فرشتوں اور مومنین کا سب لشکر اللہ ہی کا ہے ان کے زریعہ سے اپنے بندوں میں جسکی چاہے وہ مدد کرے اور وہ کفار اور منافقین کو سزا دینے میں زبردست اور مسلمانوں کو بزرگی اور فضیلت عطا کرنے میں حکمت والا ہے یا یہ کہ اپنی بادشاہت اور سلطنت میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ اور اپنے نبی کی مدد فرمانے میں حکمت والا ہے۔
Ayah 48:8

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

اور ہم نے (اے محمد) ﷺ تم کو حق ظاہر کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا اور خوف دلانے والا (بنا کر) بھیجا ہے

اے محمد ہم نے آپ کو تبلیغ امت پر گواہی دینے والا اور مومنین کو جنت کی بشارت دینے والا اور کفاروں کو دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
Ayah 48:9

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ (مسلمانو !) تم لوگ خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اسکو بزرگ سمجھو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو

تاکہ تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول محمد پر ایمان لاؤ اور اس کی دشمن کے مقابلہ میں تلوار سے مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور صبح و شام اس کی نمازیں پڑھنے میں لگے رہو۔
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا

حدیبیہ کے دن جو درخت کے نیچے بیعت الرضوان ہوئی اب اللہ تعالیٰ اس کا تذکرہ فرماتا ہے تقریبا پندرہ سو صحابہ کرام سے آپ نے اس درخت کے نیچے بیعت لی کہ خیرا خواہی میں مدد کریں گے اور یہ کہ جہاد سے نہ بھاگیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ حدیبیہ کے دن جو آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ حقیقت میں حق تعالیٰ سے بیعت کر رہے ہیں۔ اور اللہ کی طرف سے نصرت وثواب ان کی سچائی اور بیعت کے پورا کرنے کے ساتھ ہے جو شخص اس بیعت کو توڑے گا سو اس کے توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا اور جو شخص اس بات کو پورا کرے گا جس پر بیعت میں اللہ سے عہد کیا ہے تو عنقریب ہم اسے جنت میں بہت بڑا ثواب دیں گے۔ چناچہ ان لوگوں میں سے کسی نے وعدہ خلافی نہیں کی کیونکہ یہ سب مخلص تھے اور سب نے اسی عہد رضوان پر انتقال فرمایا البتہ جرین قیس کے کیونکہ وہ منافقین تھا اور بیعت کے وقت بیعت میں شامل نہیں ہوا تھا اپنے اونٹ کے نیچے چھپ گیا تھا تو وہ تو اپنے نفاق پر مرا۔
Ayah 48:11

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

جو اعراب پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل و عیال نے روک رکھا آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لیے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے ؟ (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے

بنی غفار، اسلم اشجع، ودیل اور مزینہ و جہینہ کے لوگ جو غزوہ حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے وہ عنقریب آپ سے کہیں گے کہ ہمیں ہمارے مال و عیال نے آپ کے ساتھ چلنے کے لیے فرصت نہ لینے دی ہمیں ان کے ضائع ہونے کا ڈر ہوا اس وجہ سے ہم آپ کے ساتھ نہ چلے سکے تو ہمارے لیے اس غلطی کی معافی کے لیے دعا کردیجیے۔ یہ لوگ صرف اپنی زبانوں سے طلب مغفرت کے لیے کہہ رہے ہیں ان کے دلوں میں یہ چیز موجود نہیں خواہ آپ ان کے لیے دعا کریں یا نہ کریں۔ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ وہ کون ہے جو عذاب الہی کے سامنے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہو اگر وہ تمہیں قتل و غارت کرنا چاہے یا کہ تمہیں فتح و نصرت اور عافیت دینا چاہیے بلکہ حق تعالیٰ تمہارے حدیبیہ سے پیچھے رہنے کی حقیقی وجہ سے باخبر ہے۔
Ayah 48:12

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخر کار) تم ہلاکت میں پڑگئے

اور وہ یہ ہے کہ اے گروہ منافقین تم نے یہ سمجھا کہ رسول اکرم اور مومنین حدیبیہ سے مدینہ منورہ کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں پختہ ہوگئی تھی اسی وجہ سے تم پیچھے رہے اور تم نے یہ سوچا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مدد نہیں کرے گا اور تم برباد ہی ہو کہ تمہارے دل فاسد اور سخت ہیں۔
Ayah 48:13

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو شخص خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہ لائے تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے

اور جو شخص سچائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لائے گا سو ہم نے کافروں کے لیے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 48:14

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

اور تمام آسمانوں اور زمین کے خزانے یعنی بارش و نباتات اللہ کے ہیں، وہ مومنین میں سے اپنے فضل سے جس کے چاہے بڑے گناہ معاف کردے اور جسے چاہے کفر و نفاق پر موت دے کر پر سے عذاب دے۔ یا یہ کہ جو مغفرت کا اہل ہوتا ہے اسے معاف کردیتا ہے اور جو سزا کا مستحق ہوتا ہے اسے سزا دیتا ہے اور حق تعالیٰ تائب کے صغیرہ و کبیرہ گناہ کو معاف فرمانے والا اور جو توبہ پر مرے اس پر رحیم ہے۔
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجئے کہ آپ کے ساتھ چلیں یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے اسی طرح خدا نے پہلے تو فرما دیا ہے پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم

جو لوگ غزوہ حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے تھے یعنی غفار اسلم اشجع مزنیہ اور جہینہ والے عنقریب جب خیبر کی غنیمتیں لینے چلو گے تو کہیں گے کہ ہمیں بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ خیبر کو چلیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو جو اس نے اپنے نبی کو دیا ہے کہ حدیبیہ سے پیچھے رہنے والوں کو خیبر چلنے کی اجازت نہ دی جائے اس کو تبدیل کر ڈالیں آپ ان قبیلہ والوں سے فرما دیجیے کہ تم ہرگز خیبر کو ہمارے ساتھ نہیں جاسکتے اور اگر ساتھ ہو بھی لو گے تو تمہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہیں ملے گا جیسا کہ ہم نے تمہیں کہہ دیا ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے فرما دیا ہے کہ اوروں کو مت لے جانا۔ چناچہ سورة توبہ میں یہ آیت گزر گئی قل لن تخرجوا معنی ابدا، الخ۔ یہ حکم سن کر ان لوگوں نے مومنین سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا حکم نہیں دیا بلکہ تم مال غنیمت کی وجہ سے حسد کر رہے ہو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کا ہی قول روایت کردیا وہ لوگ کہیں گے بلکہ تم لوگ ہم سے مال غنیمت پر حسد کرتے ہو بلکہ یہ لوگ خود ہی بات نہیں سمجھتے۔
Ayah 48:16

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

جو اعراب پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم جلد ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے تم (یا تو) جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے اگر تم حکم مانو گے تو خدا تم کو اچھا بدلا دے گا اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم کو بری تکلیف کی سزا دے گا

آپ ویل، اشجع، مزینہ اور جہینہ والوں سے فرما دیجیے کہ عنقریب تم ایسے لوگوں سے لڑنے کی طرف بلائے جاؤ گے یعنی مسیلمہ کذاب کی قوم جو سخت لڑنے والے ہوں گے یا تو ان سے دین پر لڑتے رہو یا وہ مطیع اسلام ہوجائیں۔ سو اگر تم اطاعت کرو گے اور ان سے جہاد کرو گے اور توحید پر ثابت قدم رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں اچھا معاوضہ دے گا اور اگر تم توبہ توحید اخلاص اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ جہاد کرنے سے منہ پھیرو گے جیسا اس سے قبل حدیبیہ میں منہ موڑ چکے ہو تو وہ دردناک عذاب کی سزا دے گا۔
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے) پیچھے رہ جائے اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے اور جو شخص خدا اور اسکے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں اور جو روگردانی کرے گا اسے بڑے دکھ کی سزا دے گا

چناچہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو یہ محتاج لوگ رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ اس جہاد سے پیچھے رہنے والے کو اللہ تعالیٰ نے دردناک عذاب سے ڈرایا ہے سو اب ہمارا کیا ہوگا ہم تو جہاد میں چلنے کی طاقت نہیں رکھتے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ جہاد میں عدم شرکت پر اندھے پر کوئی گناہ نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے باقی جو شخص ظاہر و باطن میں حق تعالیٰ کی پیروی کرے گا اور دشمن سے قتال کے لیے نکلے گا اللہ تعالیٰ اس کو ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جس کے درختوں اور بالاخانوں اور محلات کے نیچے سے دودھ شہد پانی اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی پیروی سے منہ موڑے گا اس کو دردناک سزا دے گا۔
Ayah 48:18

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ﷺ جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا اور جو (صدق و خلوص) انکے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی

اب اللہ تعالیٰ اصحاب بیعۃ الرضوان سے اپنی خوشنودی کا ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے خوش ہوا جبکہ یہ لوگ درخت سمرہ کے نیچے جہاد میں ثابت قدم رہنے پر رسول اکرم سے بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ اخلاص اور عزم علی الوفاء تھا اللہ تعالیٰ وہ بھی جانتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اطمینان پیدا کردیا اور حمیت کو ختم کردیا اور ان کے لگے ہاتھ فتح خیبر بھی دے دی۔ شان نزول : لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ (الخ) ابن ابی حاتم نے سلمہ بن اکوع سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم دوپہر کو لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک رسول اکرم کے منادی نے آواز دی کہ لوگو بیعت روح القدس نازل ہوئے ہیں۔ چناچہ ہم فورا رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ سمرہ درخت کے نیچے تھے ہم نے آپ سے جاکر بیعت کی اس وقت حق تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔
Ayah 48:19

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتیں جو انہوں نے حاصل کیں اور خدا غالب حکمت والا ہے

اور اس فتح میں بہت سی غنیمتیں دیں جن کو یہ لوگ لے رہے تھے اور حق تعالیٰ دشمنوں کو سزا دینے میں زبردست اور رسول اکرم اور اپنے صحابہ کرام کو فتح و غنیمت عطا کرنے میں حکمت والے ہیں۔
Ayah 48:20

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

خدا نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے کہ تم ان کو حاصل کرو گے تو اس نے غنیمت کی تمہارے لئے جلدی فرمائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دئیے غرض یہ تھی کہ یہ مومنوں کے لئے (خدا کی) قدرت کا نمونہ ہے اور وہ تم کو سیدھے راستے پر چلائے

اور اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے جو ابھی تک حاصل نہیں ہوئیں عنقریب تمہارے ہاتھ آئیں گی جیسا کہ فارس وغیرہ کی غنیمتیں ان میں سردست تمہیں خیبر کی غنیمت دے دی اور خلفاء اہل خیبر یعنی اسد و غطفان کے تم سے قتال کرنے سے ہاتھ روک دیے۔ اور تاکہ یہ فتح خیبر کا واقعہ اہل ایمان کے لیے ایک نمونہ ہوجائے کیونکہ مسلمان آٹھ ہزار تھے اور خیبر والے ستر ہزار اور تاکہ تمہیں ایک پسندیدہ دین پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔
Ayah 48:21

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور (غنیمتیں) دیں جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے (اور) وہ خدا ہی کی قدرت میں تھیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

اور ایک دوسری غنیمت اور بھی آنے والی ہے جو اس وقت تک تمہارے قبضہ میں نہیں آئی مگر اللہ تعالیٰ اس کو اپنے احاطہ قدرت میں لیے ہوئے ہے جب چاہے گا ہوجائے گا وہ فتح فارس ہے اور اللہ تعالیٰ فتح و نصرت، اور غنیمت پر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 48:22

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر تم سے کافر لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کسی کو نہ دوست پاتے اور نہ مددگار

اور اگر تم سے غطفان اور خیبر والے ملکر لڑتے تو ضرور شکست کھا کر بھاگتے پھر اس قتل و شکست کے مقابلہ میں ان کو کوئی دوست ملتا اور نہ کوئی مددگار۔
Ayah 48:23

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

(یہی) خدا کی عادت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تم خدا کی عادت کبھی بدلتی نہ دیکھو گے

اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے جبکہ انہوں نے انبیاء کرام کا مقابلہ کیا یہی شکست و عذاب کا دستور کر رکھا ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے اور اللہ تعالیٰ بذریعہ قتل کے جو عذاب نازل کرتا ہے اس میں کسی قسم کا ردو بدل نہیں پائیں گے۔
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان کافروں پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

اسی نے مکہ والوں کے ہاتھ تمہارے قتل سے اور تمہارے ہاتھ مکہ والوں کے قتل سے عین مکہ مکرمہ کے نزدیک روک دیے، گو پتھر تو برسے بعد اس کے کہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا یہاں تک صحابہ کرام نے ان کو مار کر بھگا دیا کہ وہ مکہ مکرمہ میں جا گھسے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ان کاموں کو دیکھ رہا تھا۔ شان نزول : وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ (الخ) امام مسلم، ترمذی اور نسائی نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ حدیبیہ کے دن رسول اکرم اور صحابہ پر اسی آدمیوں نے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر تنعیم پہاڑ کی طرف سے حملہ کیا وہ رسول اکرم کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ چناچہ ان سب کو پکڑ لیا گیا پھر آپ نے ان سب کو آزاد کردیا اسی کے بارے میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے۔ اور امام مسلم نے اسی طرح سلمہ بن اکوع سے بھی روایت نقل کی ہے۔ امام احمد و نسائی نے عبداللہ بن مغفل سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ ابن اسحاق نے بھی ابن عباس سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم انکو پامال کردیتے تو تم کو ان کی طرف سے بیخبر ی میں نقصان پہنچ جاتا (تو ابھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان کو ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے

اور وہ لوگ یعنی اہل مکہ جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں حدیبیہ کے سال مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانور کو بھی اس کے موقع پر پہنچنے سے روکا کہ وہ حدیبیہ ہی میں رہ گیا۔ اور اگر اس وقت مکہ مکرمہ میں بہت سے مسلمان مرد جیسا کہ ولید سلمہ بن ہشام، عیاش بن ربیعہ، ابو جندل اور بہت سی مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تمہیں خبر بھی نہ تھی یعنی ان کے قتل ہونے کا خدشہ نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تمہیں بھی بیخبر ی میں گناہ اور دیت کا نقصان پہنچتا تو ابھی تمہیں ان پر مسلط کر کے ان کا سارا قصہ ہی ختم کردیا تھا۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی اس کو دولت عطا فرمائے جو اس چیز کا اہل ہو البتہ اگر یہ مزکور مسلمان مکہ والوں کے درمیان سے کہیں ٹل گئے ہوتے تو ہم ان مکہ والوں میں سے جو کافر تھے دردناک سزا دیتے اور مسلمانوں کی تلواروں سے ان کی گردنیں کٹواتے۔ شان نزول : وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ (الخ) طبرانی اور ابو یعلی نے ابو جمعہ جنید بن سبع سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں کہ دنیا کے ابتدائی حصہ میں میں نے رسول رسول اکرم سے کفر کی حالت میں قتال کیا اور اخیر حصہ میں آپ کے ساتھ شامل ہو کر اسلام کی حالت میں کفار سے لڑا اور ہم تین آدمی اور سات عورتیں تھے ہمارے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور انکو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے

جبکہ ان کفار مکہ نے اپنے دلوں میں عار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت والی کہ رسول اکرم اور صحابہ کرام کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اور مومنین کو اپنی طرف سے تحمل عطا فرمایا اور ان کو تقوی کی بات یعنی کلمہ طیبہ پر ثابت قدم رکھا اور وہ مسلمان علم الہی میں اس کلمہ تقوی لا الہ الا اللہ کے دنیا میں بھی زیادہ مستحق ہیں اور حق تعالیٰ مسلمانوں کی بزرگی سے اچھی طرح واقف ہے۔
Ayah 48:27

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بیشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہو گے اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی تو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرا دی

بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بالکل سچا خواب دکھایا جس وقت رسول اکرم نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ تم لوگ دشمن سے امن وامان کے ساتھ انشاء الہ مسجد حرام میں ضرور جاؤ گے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس خواب کو بالکل واقعہ کے مطابق سچا کر کے دکھایا۔ اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ آئندہ سال یہ خواب پورا ہوگا اور تم نہیں جانتے اور پھر اس نے اس وقوع تعبیر سے پہلے لگے ہاتھ فتح خیبر دے دی۔ شان نزول : لَـقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بالْحَقِّ (الخ) مقام حدیبیہ میں رسول اکرم کو یہ خواب نظر آیا کہ آپ اور آپ کے ساتھی مکہ مکرمہ میں امن وامان کے ساتھ داخل ہوں گے کہ کوئی سر منڈاتا ہوگا اور کوئی بال کتراتا ہوگا۔ چناچہ جب آپ نے مقام حدیبیہ میں قربانی کا جانور ذبح کردیا تو آپ کے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کے خواب کی تعبیر کب ظاہر ہوگی، تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Ayah 48:28

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت (کی کتاب) اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے اور حق ظاہر کرنے کے لئے خدا ہی کافی ہے

اور وہ اللہ ایسا ہے جس نے رسول اکرم کو توحید یا یہ کہ قرآن کریم اور سچا دین یعنی کلمہ شہادت کلمہ لا الہ الا اللہ دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے۔ چناچہ جب تک روئے زمین پر کوئی مسلمان موجود رہے گا قیامت قائم نہ ہوگی اور اللہ کافی گواہ ہے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔
Ayah 48:29

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد ﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں تو سخت ہیں اور آپس میں رحم دل (اے دیکھنے والے) تو انکو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سربسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے

اور آگے جو آپ کے صحبت یافتہ ہیں جن میں سب سے پہلا مقام حضرت ابوبکر صدیق کا ہے جو سب سے پہلے مشرف بااسلام ہوئے اور کفار کو آپ کے ساتھ دین الہی کی طرف بلایا ان کے اوصاف یہ ہیں کہ وہ کفار کے مقابلہ میں تیز ہیں۔ چناچہ حضرت عمر فاروق جو اللہ کے دشمنوں پر بہت سخت ہیں دین الہی اور نصرت رسول میں طاقت ور ہیں۔ اور آپس میں مسلمانوں کے ساتھ مہربان ہیں، چناچہ حضرت عثمان جو مسلمانوں کے ساتھ نرمی اور حسن سلوک کرنے میں بڑھ کر ہیں اور اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ وہ نمازوں میں بکثرت مصروف ہیں، یہ نمایاں صفت حضرت علی میں ہے، آپ بہت نمازیں پڑھا کرتے تھے، اور یہ حضرات جہاد کے ذریعہ اللہ کے ثواب اور اس کی رضا مندی کی جستجو میں لگے ہیں یہ جہاد کی نمایاں صفت حضرت طلحہ اور حضرت زبیر میں تھی کہ اللہ کے دشمنوں پر بہت ہی سخت تھے اور ان کے عبدیت کے آثار جو بوجہ تاثیر ان کے سجدہ اور عبادات کے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں اور یہ سلمان، بلال، صہیب وغیرہ ہیں، ان کے یہی اوصاف توریت میں موجود ہیں اور انجیل میں ان کا یہ وصف موجود ہے۔ جیسے کھیتی کہ اس نے اپنی سوئی نکالی، چناچہ رسول اکرم کو مبعوث فرمایا اور سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق آپ پر ایمان لائے اور آپ کے دشمنوں کے مقابلہ میں آپ کے ساتھ نکلے اور پھر اس نے اس سوئی کو قوی کیا وہ حضرت عمر فاروق ہیں کہ اللہ کے دشمنوں کے مقابلہ میں ان کی تلوار نے رسول اکرم کی ہر مقام پر مدد فرمائی پھر وہ کھیتی اور موٹی ہوئی وہ حضرت عثمان غنی ہیں کہ ان کے مال و دولت نے جہاد فی سبیل اللہ میں قوت پیدا کی پھر وہ کھیتی اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی یعنی آپ حضرت علی کی وجہ سے قریش میں تبلیغ کے لیے کھڑے ہوگئے۔ اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے مشرف بااسلام ہونے سے رسول اکرم کو صحابہ کرام کی یہ جماعت اچھی معلوم ہونے لگی اور ان کا اسلام لانا کفار کو جلانے لگا۔ کہا گیا ہے کہ والذین معہ یہاں تک یہ آیت اصحاب بیعۃ الرضوان اور تمام مخلص صحابہ کرام کی فضیلت میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو کہ ایمان لائے اور نیک کام کر رہے ہیں دنیا و آخرت میں ان کے گناہوں کی مغفرت اور جنت میں اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔