Ayah 48:1[ 1] فتح مبین اور اس سے مقصود و مراد ؟:
اگرچہ بعض حضرات نے اس کو فتح مکہ پر محمول فرمایا ہے۔ اور فتح کے نام سے مشہور بھی وہی ہے۔ اور فتح کا لفظ بولنے سے ذہن اسی طرف متوجہ ہوتا ہے مگر صحیح اور راحج قول کے مطابق اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اور یہی وہ فتح ہے جس نے فتح مکہ کی راہ ہموار کی۔ اور صلح حدیبیہ کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد دوسرے بہت سے اہم فوائد کے علاوہ فتح مکہ کا اعزاز بھی مسلمانوں کو حاصل ہوگیا۔ چناچہ حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت براء بن عازب ؓ وغیرہ صحابہ کرام ؓ سے مروی ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ تم لوگ تو فتح مکہ کو فتح قرار دیتے ہو مگر ہمارے نزدیک اصل فتح صلح حدیبیہ ہے۔ اور قصہ صلح حدیبیہ کا مختصر طور پر اس طرح ہے کہ 6 ھ میں آنحضرت ﷺ نے ایک خواب دیکھا کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہئِ کرام ؓ امن وامان کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے ہیں اور عمرہ کرنے کے بعد حلق و قصر فرما رہے ہیں۔ اور طاہر ہے کہ نبی ﷺ کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے صحیح اور سچا ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ مگر اس میں چونکہ اس کی طرف کوئی اشارہ نہ تھا کہ یہ خواب کب پورا ہوگا۔ ادھر اس امید پر کہ شاید یہ اسی سال پورا ہوجائے نیز اس شدید اشتیاق کی وجہ سے جو کہ آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے صحابہئِ کرام کے دلوں میں زیارت مکہ کیلئے موجود و موجزن تھا آپ ﷺ نے اسی سال عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے مکہ مکرمہ کے سفر کا پروگرام بنا لیا۔ اور آپ ﷺ ذیقعدہ 6 ھ کے اوائل میں چودہ سو صحابہ کرام ؓ کے ساتھ عمرہ کیلئے روانہ ہوگئے۔ چناچہ آپ ﷺ کئی دنوں کے سفر کے بعد مدینہ منورہ سے حدیبیہ کے مقام پر پہنچے جو کہ جدہ اور مکہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے۔ اور جو اب " شمیسی " کے نام سے مشہور ہے۔ تو آپ ﷺ کی اونٹنی بیٹھ گئی۔ جس پر آپ ﷺ نے فرمایا " حسبھا حابس الفیل " یعنی یہ اونٹنی یونہی ازخود نہیں بیٹھ گئی بلکہ اسے اس ذات نے روک دیا ہے جس نے ہاتھوں والوں کو روکا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا مکہ والے جو بات مجھ سے کہیں گے میں مانوں گا۔ بشرطیکہ اس میں اللہ پاک کی مقرر کردہ حدوں کی پاسداری کی گئی ہو۔ آخر آپ ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان ؓ کو اہل مکہ سے بات کرنے کیلئے مکہ مکرمہ بھیجا۔ اور حضرت عثمان ؓ کا انتخاب آپ ﷺ نے اس لئے فرمایا کہ آپ کے اہل مکہ پر بہت احسانات تھے۔ اور آپ کا احترام ان کے یہاں زیادہ تھا۔ اس لئے آپ کی بات مانے جانے کی توقع زیادہ تھی۔ مگر کفار قریش نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کو بھی یہ جواب دیا کہ آپ خود چاہیں تو طواف کرلیں باقی کسی کو نہیں کرنے دیا جائے گا۔ مگر حضرت عثمان ؓ نے ان کی پیش کش کو ٹھکرا دیا اور فرمایا کہ جب تک آنحضرت ﷺ کو اجازت نہ ملے میں اکیلا کس طرح طواف کرسکتا ہوں۔ جب کفار کسی بھی طرح آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو ادائیگی عمرہ کی اجازت دینے پر راضی نہ ہوئے تو بالآخر فریقین کے درمیان چند شرائط کے ساتھ ایک صلح طے پائی جو کہ صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ اور یہ شرائط صلح جو کہ حدیث و سیرت اور تاریخ وغیرہ کی کتابوں میں مذکور اور مشہور و معروف ہیں بطاہر یہ سب شرطیں مسلمانوں کے خلاف اور کفار کے حق میں تھیں۔ جس سے مسلمان بڑے شکستہ دل ہو رہے تھے۔ مگر پیغمبر کی نگاہیں جو کچھ دیکھ رہی تھیں وہ اور کسی کی نظر میں نہیں آسکتا تھا۔ آپ ﷺ نے انہیں شرائط پر صلح کو قبول فرما لیا اور قربانی کے جانوروں کو وہیں حدیبیہ میں ذبح کرکے واپس چلنے کا حکم فرما دیا کہ جو صحابہ کرام کے لئے بہت مشکل اور گراں بار معاملہ تھا۔ مگر بادل نخواستہ آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کو دیکھتے ہوئے وہ بھی اس کے لئے تیار ہوگئے اور قربانیاں وہیں کرکے اور عمرے کے احرام کھول کر سب واپس مدینہ منورہ کو چل دئیے واپسی کے موقع پر راستے میں یہ سورة کریمہ نازل ہوئی اور اس میں حدیبیہ کی اسی صلح کو فتح مبین۔ کھلی ہوئی فتح، قرار دیا گیا۔ تو اس پر حضرت عمر ؓ نے عرض کیا۔ " افتح ھو یا رسول اللّٰہ " " اللہ کے رسول کیا یہ فتح ہے ؟ " تو اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا " والذی نفس محمد بیدہ انہ الفتح "۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہء قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے یقینا یہ ایک بڑی فتح ہے "۔ چناچہ تھوڑے ہی عرصہ بعد دنیا نے دیکھا اور اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ واقعۃٗ یہ ایک فتح بلکہ آئندہ کی تمام فتوحات کے لئے ایک دروازہ اور پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ جس پر تفصیلی بحث ہم انشاء اللہ اپنی مفصل تفسیر میں کریں گے۔ وباللہ التوفیق وھو المعین وبہ نستعین۔ سو اس پورے واقعہ سے اہل بدعت کے علم غیب کلی، اختار کلی اور حاضر و ناظر جیسے تمام خود ساختہ اور شرکیہ عقائد کی جڑ نکل جاتی ہے۔ کیونکہ پیغمبر اگر عالم غیب ہوتے اور " ماکان وما یکون " کا علم رکھتے ہوتے۔ جیسا کہ ان لوگوں کا کہنا ہے تو حضور ﷺ اپنے اس خواب مبارک کی بنا پر عمرے کا یہ سفر ہی اس سال نہ فرماتے۔ بلکہ اس وقت اور اس سال فرماتے جو قدرت کی طرف سے اس کیلئے مقرر تھا، اور اگر آپ ﷺ حاضر و ناظر ہوتے، یعنی ہر جگہ موجود ہوتے تو پھر آپ کیلئے سفر کرنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی کوئی نوبت ہی پیش نہ آتی۔ کیونکہ جو ہر جگہ حاضر و ناظر اور موجود ہوتا ہے اس کیلئے سفر کرنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا کوئی معنی و مطلب ہی نہیں بنتا۔ اسی طرح اگر آپ ﷺ مختار کل ہوتے تو اتنا طویل اور پُر مشقت سفر کرنے کے بعد مکہ مکرمہ کے اس قدر قریب پہنچ کر اور حدیبیہ کے اس مقام سے عمرہ کئے بغیر واپس تشریف نے لے جاتے، جس سے آپ ﷺ کے صحابہء کرام کو سخت ناگواری کا سامنا کرنا پڑا، جیسا کہ اس قصے سے متعلق تفصیلات میں موجود ہے۔ بیشک اس سفر میں بڑی حکمتیں موجود تھیں، اور ہیں۔ جن کا پوری طرح سے احاطہ کرنا بھی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے سوا کسی کیلئے ممکن نہیں۔ مگر ان حکمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ ایسے شرکیہ عقائد کی جڑ کٹ جائے کہ یہ عقل کے بھی خلاف ہیں اور نقل کے بھی۔ سو علم غیب کلی اللہ تعالیٰ ہی کا خاصہ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور مختار کل ہونا اور ہر جگہ حاضر اور موجود ہونا بھی اسی وحدہٗ لاشریک کی شان ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور فرمایا گیا { ھو الذی خلق السموٰت والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش ط یعلم مایلج فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج فیہا ط وھو معکم این ما کنتم ط واللّٰہ بما تعملون بصیر } [ الحدید : 4 پ 27] یعنی " وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی تم ہوگے "۔ سو اس وحدہٗ لاشریک کا علم اور اس کی قدرت سب پر حاوی و محیط ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 48:2[ 2] " ما تقدم من ذنبک وما تاخر " سے مقصود و مراد ؟:
یعنی خلاف اولیٰ قسم کے وہ امور جو اگرچہ فی نفسہا گناہ نہیں مگر آپ ﷺ کے مقام رفیع اور مرتبہئِ بلند کے پیش نظر ان کو بھی ذنب [ گناہ ] سے تعبیر فرمایا جا رہا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے " حسنات الابرار سیآت المقربین "۔ سو اس طرح کی آیات کریمہ کی تفسیر میں تمام ثقہ اور معتبر مفسرین کرام اور جمہور علمائے عظام یہی فرماتے ہیں " ای ما فرط منک من ترک الاولیٰ وتسمیتہٗ ذنبا بالنظر الیٰ منصبہ الجلیل " [ ملاحظہ ہو تفسیر روح المعانی، جامع البیان، المراغی، محاسن التاویل، ابو السعود، ابن کثیر، خازن اور صفوۃ التفاسیر، وغیرہ وغیرہ ] اور جیسا کہ علامہ ابن کثیر وغیرہ مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ دراصل آنحضرت ﷺ کے افضل البشر، اکمل البشر اور اطوع الخلق۔ یعنی خدائے پاک کی مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل بشر، اور سب سے زیادہ اس کی فرمانبردادی کرنے والے ہونے کی دلیل ہے۔ سو حضرات علماء و مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ بھی آنحضرت ﷺ کے خصائص میں سے ہے، کہ آپ ﷺ کے سوا اور کسی کو بھی یہ شرف حاصل نہیں ہوا کہ اس کی مغفرت و بخشش کا اس طرح اعلان فرمایا گیا ہو۔ [ ابن کثیر وغیرہ ] صلوت اللّٰہ وسلامہ، علیہ وعلی من تبعہ الی یوم الدین۔ پس اس سب سے یہ امر واضح اور محقق ہوگیا، کہ جن لوگوں نے اس آیت کریمہ کا ترجمہ اس کے ظاہر و متبادر مفہوم کے خلاف اس طرح کیا ہے کہ تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے، اور تمہارے پچھلوں کے تو یہ ترجمہ لغت وبیان کے بھی خلاف ہے۔ اور ظاہر و تبادر کے بھی اور سلف و خلف تمام ثقہ تفسیروں کے بھی خلاف و معارض ہے۔ اور یہ محض اپنی ذہنی اختراع ہے جس کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور اس کے علاوہ یہ ترجمہ ان کلمات کریمہ کے ظاہر و واضح اور متبادر مفہوم کے بھی خلاف و معارض ہے اور عربی قواعد و ضوابط کے بھی کیونکہ اس میں " لیغفر " کے لام کو لام سببیہ بنایا گیا ہے۔ حالانکہ یہ لام لام سببیہ نہیں بلکہ غائیہ ہے۔ یعنی یہ علت غائیہ کیلئے استعمال ہوا ہے۔ جس کا مدخول سبب نہیں مسبب ہوتا ہے۔ جیسا کہ تمام معتبر تفاسیر میں مذکور ہے۔ بطور نمونہ ملاحظہ ہو تفسیر جلالین اور صفوۃ البیان وغیرہ میں ہے، اللام للعلۃ الغائیۃ فمد خولہ مسبب لاسبب۔ پس متعاطفات اربعۃ یعنی مغفرت ذنوب، اتمام نعمت، ہدایت صراط مستیم اور نصر عزیز، فتح المبین کے مسبب اور اس کی غایت اور نتائج ہیں۔ نہ کہ اس کے سبب [ صفوۃ البیان، کشاف اور مراغی وغیرہ ] سو " لیغفرلک " کالام غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فتح مبین عطا فرمائی۔ تو یہ تمہید ہے جو منتہی ہوگی مندرجہ ذیل چار باتوں پر جن سے اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو سرفراز فرمانے والا ہے دوسرے اس لئے کہ " من ذنبک ما تقدم " کا بیان اور اس سے بدل ہے اور بیان و مبین اور بدل و مبدل منہ کا ایک ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جب کہ اس محرف ترجمے کی بنا پر دونوں ایک نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اس میں " ما تقدم " اور " ماتاخر " سے اگلے پچھلے لوگوں کے گناہ مراد لئے گئے ہیں جو ظاہر ہے کہ " ذنبک " کا مبدل منہ نہیں بن سکتے۔ تیسرے اسلئے کہ یہ معنی و مطلب ظاہر اور متبادر کے لحاظ سے بھی ان الفاظ کا مفہوم و مصداق نہیں بن سکتا۔ سو ارشاد کا یہی مطلب ہوتا تو پھر صاف صریح طور پر عبارت اس طرح ہونی چاہئے تھی " لیغفر ذنب اولک واخرک " یا اس طرح کی کوئی اور عبارت ہوتی۔ پس یہ ترجمہ ظاہر و متبادر کے بھی خلاف ہے اور عربی قواعد و ضوابط، اور زبان وبیان کے بھی۔ اور خود رسول اللہ ﷺ کی تصریحات کے بھی۔ کیونکہ مسند امام احمد ؓ کی روایت کے مطابق جب ایک صاحب نے جب آنحضرت ﷺ کے دسترخوان پر کھانا کھایا تو اس نے آپ ﷺ کو دعا دیتے ہوئے کہا۔ " غفرلک اللّٰہ یا رسول اللّٰہ " اللہ کے رسول اللہ آپ ﷺ کی بخشش فرمائے۔ تو اس پر آنحضرت ﷺ نے اس کو روکنے ٹوکنے یا اس کی تردید فرمانے کی بجائے اس کی تصویب کرتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا " نعم ولکم "۔ ہاں اور اللہ تمہاری بھی بخشش فرمائے "۔ پھر اس کی تائید میں آپ ﷺ نے سورة محمد کی آیت نمبر 19 تلاوت فرمائی جس میں ارشاد ہوتا ہے { واستغفر لذنبک } جیسا کہ سورة محمد کی اس آیت کریمہ کی تفسیر میں قدرے تفصیل سے گزر چکا ہے۔ اسی طرح موصوف کا یہ ترجمہ سلف و خلف کے تمام ثقہ مفسرین اور معتمد علیہ علمائے کرام کے ترجمہ و تفسیر اور ان کی تصریحات کے بھی خلاف ہے۔ جس میں حضرات صحابہء کرام، تابعین عظام اور ان کے اتباع وتابعین سب ہی حضرات شامل ہیں۔ اور صحیح بخاری و مسلم وغیرہ کی روایات میں ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ کی عبادت و ریاضت کے بارے میں آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ اس قدر غیر معمولی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا " افلا اکون عبد اشکورا " یعنی کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ سو اس سوال کے جواب میں آپ ﷺ نے اس سوال کے مضمون کی تصویب و تصدیق فرماتے ہوئے آپ ﷺ نے اپنی اس عبادت و ریاضت کو اس مضمون کو بخشش کے شکر کا مقتضیٰ قرار دیا۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ ومن والاہ ما تبقی ھذہ الاحرف والکلمات۔
[ 3] اتمام نعمت کی رحمت و عنایت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہ پورا فرما دے تم پر اپنی نعمت کو "۔ سو اس سے آنحضرت ﷺ کو نعمت دین کے اتمام اور اس کی تکمیل کی بشارت سے سرفراز فرما دیا گیا۔ چناچہ حجۃ الوداع کے موقع پر جب اس نعمت کی تکمیل ہوگئی تو اعلان فرما دیا گیا { حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اہل لغیر اللّٰہ بہ والمنخنقۃ والموقوذۃ والمتردیۃ والنطیحۃ وما اکل السبع الا ما ذکیتم قف وما ذبح علی النصب وان تستقسموا بالازلام ط ذلکم فسق ط الیوم یئس الذین کفروا من دینکم فلا تخشوھم واخشون ط الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ط فمن اضطر فی مخمصۃ غیر متجانف لاثم لا فان اللّٰہ غفور الرحیم } [ المائدۃ : 3 پ 6] یعنی " اب میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔ اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا "۔ اور اسی میں یہ بھی داخ (رح) ہے کہ مسلمانوں کو ہر قسم کی بیرونی مداخلت اور خوف و خطر سے محفوظ کردیا تاکہ وہ اسلامی تہذیب و تمدن اور اسلامی احکام و قوانین کے مطابق زندگی بسر کرنے کیلئے بالکل آزاد اور پوری طرح مطمئن ہوں۔ اور ان کو یہ طاقت بھی نصیب ہو کہ وہ دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرسکیں، اور کفر و شرک اور فسق و فجور کا وہ غلبہ جو بندگی رب کی راہ میں مانع اور اعلاء کلمۃ اللہ کی سعی میں مزاحم تھا اس سے بھی خلاصی پاس کیں۔ کیونکہ یہ چیز بھی اہل ایمان کیلئے سب سے بری مصیبت ہے۔ اسی لئے قرآن حکیم نے اس کو فتنہ قرار دیا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم جل وعلا۔ اور آپ ﷺ کے پیش کردہ دین حق کو سب دینوں پر غالب کر دے۔ تاکہ باطل اس کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ اور کلمہ حق کا بول بالا ہو۔ لتکون کلمۃ اللّٰہ ہی العلیا۔ اور کفر و فسق کا غلبہ جو اعلائِ کلمۃ اللّٰہ اور بندگیئِ رب میں مانع ہو اور جس کو قرآن فتنہ قرار دیتا ہے وہ ختم ہوجائے۔ اس کے اندر دین حق کیلئے مزاحم اور رکاوٹ بننے کا دم خم باقی نہ رہے۔ اور اس سے خلاصی پاکر مسلمانوں کو ایک ایسا مستقر اور دار السلام میسر آجائے جس میں اللہ کا دین پورے کا پورا بلا کم وکاست نافذ اور جاری ہو۔ اور ان کو ایسے ذرائع و وسائل بھی بہم پہنچ جائیں جن سے کام لیکر وہ خدا کی زمین پر کفر و فسق کی جگہ ایمان وتقویٰ کا سکہ جاری کرسکیں۔ سو اس نعمت کی تکمیل کیلئے ہم نے آپ ﷺ کو اس فتح مبین سے نوازا تاکہ اللہ کا دین سب دینوں پر غالب ہو کر رہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام۔
[ 4] سیدھے راستے سے سرفرازی کی عنایت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا " اور تاکہ اللہ آپ ﷺ کو ڈال دے سیدھی پر " یعنی فتح و کامرانی اور حق ہدایت کی اس شاہراہ عظیم پر جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار کرنے کا سامان فراہم کرے۔ سو آپ ﷺ کو اس راہ پر ڈال کر اور ثابت قدمی سے مشرف فرما کر پوری امت اور ساری مخلوق کے لئے رحمت و ہدایت کا سامان فرما دیا گیا۔ تاکہ اس طرح پوری مخلوق کا بھلا ہو۔ سو یہ اتمام حجت اور تکمیل دین کا ثمرہ تھا جس سے حضور ﷺ کر سرفراز فرمایا گیا تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو حق و ہدایت کی اس راہ حق و صواب اور صراط مستقیم پر ڈال دے جس سے شیطان نے لوگوں کو ہٹا دیا تھا کیونکہ اللہ نے اپنی مخلوق کی ہدایت و راہنمائی کیلئے جو دین حق نازل فرمایا تھا، یہودی و نصاریٰ وغیرہ باطل پرستوں نے اس کو ضائع کردیا تھا۔ اور مشرکین مکہ نے تو ملت ابراہیمی کو اس حد تک بگاڑ دیا تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تعمیر کردہ مرکز توحید تک کو ان بدبختوں نے بت خانہ بنادیا تھا۔ اور نشان راہ کو اس حد تک مٹا دیا گیا تھا کہ خداوند تعالیٰ تک پہنچانے والی سیدھی راہ بالکل گم اور ناپید ہوچکی تھی۔ سو یہ راہ نبی آخر الزماں کی بعثت و تشریف آوری کے ذریعے اب دوبارہ دنیا کو نصیب ہوئی تھی۔ اور آپ ﷺ کے ذریعے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تعمیر کردہ مینار نور کو کفر و شرک کے نرغے سے نکال کر پھر مرکز توحید بنادیا گیا۔ اور ملت ابراہیم اب دوبارہ اپنی اصل شکل و صورت میں ظاہر ہوئی۔ سو صلح حدیبیہ کے ذریعے آپ کے لئے حق و ہدایت کی اس شاہراہ عظیم کو ہموار کردیا گیا۔ اور آپ کو وہ تدبیر سمجھا دی گئی جس سے آپ ﷺ اسلام کی مزاحمت کرنے والی تمام طاقتوں کو زیر اور مغلوب کردیں۔ والحمد للہ جل وعلا۔ سو اس اعتبار سے بھی صلح حدیبیہ ایک عظیم الشان فتح اور فتح مبین تھی۔ والحمد للہ رب العالمین۔
Ayah 48:3[ 5] نصر عزیز سے سرفرازی کی عنایت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا " اور تاکہ وہ مدد فرمائے آپ کی بڑی ہی زبردست مدد اور نادر وبے مثال مدد جس کے بعد پھر نہ مغلوبیت ہو، اور نہ ہی اس جیسی مدد کسی اور کو مل سکے۔ سو آپ ﷺ کو ایسی ہی نادر و بےمثال مدد سے نوازا گیا جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی ہے اور نہ ہی آئندہ قیامت تک کبھی ممکن ہوسکتی ہے۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ ۔ الحمد للہ رب العالمین۔ اور اس طرح کی مدد ظاہر ہے آپ ﷺ کو اسی صورت میں حاصل ہوسکتی تھی جبکہ کفر کا زور بالکل ٹوٹ جائے اور بیت اللہ مسلمانوں کی تھویل میں آجائے۔ یہاں پر نصر یعنی مدد کی صفت " عزیز " بیان فرمائی گئی ہے۔ اور عزیز کے معنی دو آتے ہیں۔ ایک نہایت زبردست اور غالب اور سدوسرے نادر و نایاب۔ سو آپ ﷺ کی عطا فرمائی جانے والی اس نصر و مدد میں یہ دونوں صفتیں پائی جاتی تھیں، کیونکہ آپ کو کفر کے مقابلے میں ایسی بےمثال مدد سے نوازا گیا تھا جس کو وہ چیلنچ نہیں کرسکتے تھے۔ کیونکہ صلح حدیبیہ نے کفار قریش کی قوت کو ایسا متزلزل کردیا تھا کہ وہ وقت اب دور نہیں رہ گیا تھا کہ جب کفر کے اقتدار کی وہ عمارت کہنہ اک ہی جھٹکے میں زمین بوس ہوجائے۔ اور یہ لوگ حق کے مقابلے میں سر اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔ اور اسی طرح یہ مدد ایک نادر و نایاب مدد بھی تھی کہ شاذ و نادر ہی کبھی ایسا ہوگا کہ کسی کی مدد کیلئے ایسا عجیب طریقہ اختیار کیا گیا ہو کہ ایک ایسا صلح نامہ جو بظاہر دب کر کیا گیا ہو وہ ایک عظیم الشان فیصلہ کن ارد انقلاب آفریں بن جائے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ اللہ ہمیشہ اپنی خاص رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، واکرم الاکرمین،
Ayahs 48:4–5[ 6] مسلمانوں کے لئے سکون و اطمینان کی عنایت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ ہی نے مسلمانوں کو سکنیت اور حوصلہ مندی کی نعمت سے سرفراز فرمایا "۔ سو یہ بھی ان خاص انعامات میں سے ہے جن سے حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کو نوازا گیا تھا کہ آپ ﷺ کے ساتھیوں نے ان نہایت مشکل اور کٹھن حالات میں نہایت سکون و اطمینان اور صبر و استقامت کا ثبوت دیا۔ اور کفار کی طرف سے سخت اشتعال انگیزیوں کے باوجود انہوں نے کسی بھی ایسی حرکت کا ارتکاب نہیں کیا جو ان کے کاز کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے بالکل نہتے اور احرام کی حالت میں ہونے کے باوجود خون عثمان کا بدلہ لینے کے لئے آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ سو یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کرم و احسان تھا کہ اس نے اس ہوشربا صورت حال میں اہل ایمان کو ایسے سکون و اطمینان سے نوازا جو اس فتح مبین کا ایک ہم سبب قرار پایا۔ والحمد للّٰہ رب العالمین۔ ورنہ احرام کی حالت میں ہونے کے باوجود، اور اپنے مستقر سے اس قدر دور ہونے کے باوجود، اور کفار کے اس قدر قریب ہوتے ہوئے بھی ان کا جہاد و قتال کیلئے بیعت کرنا اطاعت و فرمانبرداری کا ایک عدیم النظیر اور بےمثال نمونہ تھا جو ان حضرات نے اس موقع پر پیش کیا۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
[ 7] اہل ایمان کے لئے ان کے ایمان میں اضافے اور قوت کی عنایت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ بڑھ جائے ان کا ایمان ان کے ایمان کے ساتھ " یعنی اس سفر اور اس کے دوران لاحق ہونے والی مشقتوں اور مشکلات سے ان کے ایمان کی قوت اور اس کی روشنی میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ یعنی ایک تو ان کا وہ ایمان تھا جو اس مہم سے پہلے ان کو حاصل تھا۔ اس پر مزید ایمان ان کو اس مہم کے دوران پیش آنے والی مشکلات و مصائب اور بتلاء و آزمائش پر صبر و استقامت اور صدق و اخلاص کی بنا پر نصیب ہوا۔ سو اس ارشاد ربانی سے اللہ پاک کی اس سنت اور دستور کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اس دنیا میں اہل ایمان کو جو آزمائشیں پیش آتی ہیں وہ دراصل ان کے ایمان کی جانچ پرکھ کیلئے ہوتی ہیں۔ پس اس جانچ پرکھ میں پورے اترتے ہیں ان کے ایمان کی قوت میں مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نفس مطمئنہ کی بادشاہی سے سرفراز ہوجاتے ہیں اور اگر وہ فیل ہوگئے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ تو وہ برابر فیل ہی ہوتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کا نور ایمان بالکل ہی بجھ جاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم جل و علا۔
[ 8] اللہ کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ سبحانہ و تعالیٰ :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کسی کی مدد کا محتاج نہیں، سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ اس کے لشکر بےحد و حساب ہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اللہ ہی کے لئے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے " اور وہ اتنے عظیم الشان اور اس قدر لا تعداد ہیں کہ ان لشکروں کو اس کے سوا کوئی جان بھی نہیں سکتا جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاف فرمایا گیا اور صاف صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا { وما یعلم جنود ربک الاھو ط وما ہی الا ذکری للبشر } الایۃ [ المدثر : 31 پ 29] مگر اس کے باوجود اس نے جو جہاد و قتال کی ذمہ داری اہل ایمان پر ڈالی تو وہ اس لئے کہ تاکہ خود ان کا بھلا ہو۔ کہ اس طرح ان کے ایمان و یقین کی قوت میں اضافہ ہو، ان کی قوت ایمانی کو جلا ملے، یہ عظیم الشان اجر وثواب کے مستحق اور حقدار بنیں، اور اس طرح ان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کے دروازے کھلیں اور کھلتے ہی جائیں۔ ورنہ وہ اگر چاہتا تو اپنی کسی بھی لشکر کے ذریعے کفار و مشرکین سمیت تمام دشمنان اسلام کا کام تمام کردیتا۔ اور تم کو اے مسلمانو ! جہاد و قتال کی سرے سے تکلیف ہی نہ دیتا۔ مگر یہ چونکہ اس کے علم لامحدود اور حکمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق نہیں تھا اس لئے اس نے ایسے نہیں کیا۔ بلکہ دین کی تبلیغ و سربلندی کے لئے جہاد و قتال کی ذمہ داری تم پر ڈالی تاکہ اس سے تم لوگوں کو دنیا میں بھی عزت و سرفرازی نصیب ہو اور آخرت میں بھی تم جنت کی سدا بہار نعمتوں سے بہرہ ور ہو سکو۔ جیسا کہ اگلی آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی نصرت و اعانت کے لئے جو اہل ایمان کو آمادہ کیا تو یہ اس لئے کی کہ تاکہ ان کو اپنے انعام و احسان سے نوازے۔ اور وہ اپنی اس نیکی سے اپنے ایمان و یقین میں مزید اضافہ کریں۔ ورنہ اپنے دین اور اپنے رسول کی مدد کیلئے وہ کسی کا محتاج نہیں۔ آسمانوں اور زمین کی تمام قوتیں اور جملہ لشکر اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہ ئِ قدرت و تصرف میں ہیں۔ وہ جب چاہے کفار و مشرکین سے اپنے ان لشکروں میں سے کسی بھی لشکر کے ذریعے انتقام لے لے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 48:6[ 11] منافقوں اور مشرکوں کے لئے عذاب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ اللہ عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو "۔ تاکہ یہ لوگ دنیا میں بھی کہ اسلام کی عظمت و سربلندی اور مسلمانوں کے غلبہ و عروج سے جلتے بھنتے رہیں اور مزید یہ کہ اس طرح یہ لوگ قتل و قید اور غلامی وغیرہ کی ذلتیں بھی اٹھائیں۔ اور آخرت میں بھی وہاں کا ہولناک عذاب بھگتیں کہ وہاں کی دائمی آگ کا ایندھن بنیں جو سب سے بڑا خسارہ اور ہمیشہ کا عذاب ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے اس امتحان کے دوسرے پہلو کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ جس امتحان کے ذریعے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کیلئے جنت سے سرفرازی اور فوز عظیم کی راہ کھولتا ہے اسی کے ذریعے وہ منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کے لئے سب سے برے عذاب یعنی دوزخ کی راہ کھولتا ہے۔ اس لئے کہ ایسے امتحان سے اس طرح لوگوں کے کھوٹ ابھر کر سامنے آجاتے ہیں۔ ان کی ملمع سازی کے دبیز پردے چاک ہوجاتے ہیں۔ اور ان پر اللہ کی حجت تمام ہوجاتی ہے۔ اور اس کے بعد ان کے لئے کسی عذر اور معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے مامون رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
[ 12] مشرکوں اور منافقوں کی ذہنیت یکساں۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ مشرکوں اور منافقوں کی ذہنیت اور ان کی طبعی افتاد باہم ایک ہے اور اس سے ان دونوں یعنی منافقوں اور مشرکوں کے درمیان ذہنی اور قلبی لگاؤ کا ایک نمونہ اور مظہر سامنے آتا ہے۔ اس لئے ان دونوں گروہوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ " جو گمان کرتے ہیں اللہ کے بارے میں برے گمان کہ " اللہ اپنے رسول کی اور اہل ایمان کی مدد نہیں فرمائے گا۔ اور یہ کہ یہ لوگ مغلوب و مقہور ہو کر رہیں گے "۔ یہاں پر منافقین کا ذکر پہلے فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ کھلے کفار و مشرکین سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ اس لئے ان کی سزا بھی دوسروں کے مقابلے میں بہت سخت ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار ج ولن تجد لہم نصیرا } [ النسائ : 145 پ 5] والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور ان لوگوں کی اس بدگمانی کا ذکر آگے اسی سورة الفتح کی آیت نمبر 12 میں اس طرح فرمایا گیا { بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون الی اہلیہم ابداً وزین ذلک فی قلوبکم وظننتم ظن السوء ج وکنتم قوما بوراً ۔ یعنی " تم لوگوں نے یہ گمان کیا کہ رسول اور مسلمانوں کو اس سفر سے اپنے گھروں کی طرف بھی واپس لوٹنا نصیب نہیں ہوگا۔ اور اس گمان کو تمہارے دلوں کے اندر خوشنما بنادیا گیا تھا۔ اور تم نے طرح طرح کے برے گمان گئے تھے اور اس طرح تم ہلاک ہونے والے بن کر رہ گئے " سو اس طرح انہوں نے اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان خود کیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل سوئٍ وشر۔
[ 13] بدگمانوں کی بدگمانی کا وبال خود انہی پر، والعیاذ باللّٰہ :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " خود انہی پر پڑے گا برائی کا پھیر "۔ سو اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں بدگمانی کا پھیر خود ایسے بدگمان لوگوں ہی پر پڑے گا۔ اور ایسے ہی ہو کر رہا، کہ یہ لوگ ایمان و یقین کی انمول و بےمثال دولت سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوگئے۔ اور اس کی وجہ سے ہر خیر سے محروم رہ گئے۔ رسول اللہ ﷺ کی معیت ورفاقت اور بیعت رضوان میں شرکت کے شرف سے محروم رہے۔ اور ان کے دلوں کا روگ اور نفاق سب کے سامنے کھل گیا۔ جس سے یہ لوگ سب کے نزدیک ذلیل و خوار ہوگئے۔ واضح رہے کہ " دائرۃ السوئ " کی اضافت بیانیہ ہے جو " دائرۃ من السوئ " کے معنی میں ہے۔ اور مصیبت و برائی کو دائرہ سے تعبیر کرنے میں یہ نکتہ بھی ہے کہ وہ ان کو اس طرح گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ جس طرح دائرہ [ Circle ] کسی چیز کو گھیرے میں لئے ہوتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہاں پر اوپر اہل ایمان کے ذکر میں بھی اور پھر منافقین اور مشرکین کے ذکر میں بھی مردوں کے ساتھ عورتوں کا بھی بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ کسی شخص یا گروہ کے اچھے یا برے کردار کے سلسلے میں اس کے بیوی بچوں کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ جیسا کہ آگے اسی سورة الفتح کی آیت نمبر 11 میں ارشاد فرمایا گیا ہے { سیقول لک المخلفون من الاعراب شغلتنا اموالنا واھلونا فاستغفرلنا ج } " ہمیں ہمارے مالوں اور اہل اولاد نے مشغول رکھا "۔ اور حدیث شریف میں فرمایا گیا " الولد مبحلۃ مجنۃ " یعنی اولاد انسان کو بخیل اور بزدل بنا دینے والی چیز ہوتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اسی طرح اگر کسی گروہ میں ایمان مستحکم ہوتا ہے اور وہ نیکی اور خیر کے راستے میں آگے بڑھتے ہیں تو اس میں بھی ان کے بیوی بچوں کے عزم و صبر اور انکے اعتماد علی اللہ کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ اس لئے یہاں پر اہل ایمان اور اہل نفاق دونوں کے ذکر میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا ذکر بھی فرمایا گیا ہے۔ تاکہ مومنات اور منافقات دونوں اپنے اپنے مرتبہ و مقام سے آگاہ ہوسکیں۔ اور ان کو پتہ چل سکے کہ اللہ تعالیٰ نہ اپنی ایماندار بندیوں کی جاں نثاریوں سے بیخبر ہے۔ اور نہ منافقات کی دنیا پرستی اور ان کی شر انگیزیوں سے۔ پس اس کے بعد یہ سب اپنے حال اور مآل کے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لیں۔ اور اچھی طرح دیکھ لیں کہ انہوں نے کس راستے کو اپنایا ہے اور کس کو اپنانا چاہیے ان کا بھلا کس میں ہے اور برا کس میں۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
[ 14] منافقوں اور مشرکوں کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان ۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے منافق اور مشرک لوگوں کے انتہائی ہولناک انجام کو واضح فرما دیا گیا چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوا اور اس کی لعنت و پھٹکار۔ اور اس نے ان کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ جو بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے "۔ سو اس نے ان کفر و نفاق کے سبب ان کو اپنی رحمت سے دور اور محروم کردیا۔ جس کی بنا پر یہ لوگ ہر خیر سے محروم ہوگئے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور اپنے خبث وعناد کی وجہ سے یہ بدبخت ایمان و یقین کی دولت سے محرومی ہی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوں گے جس کے نتیجے میں دوزخ کے دائمی عذاب کا لقمہ بنیں گے اور دوزخ کا وہ ٹھکانہ بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو یہ اسی دائرہ ئَِ سوء [ برائی کے چکر ] کا حصہ اور نتیجہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کی بجائے اپنے خبث باطن اور سوئِ اختیار کی بنا پر اس کے غضب اور اس کی لعنت و پھٹکار کے مورد و مستحق بنے، جو کہ محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اللہ کے دشمنوں سے دوستی رکھنا اور اہل حق کیلئے برے گمان کرنا ہلاکتوں کی ہلاکت ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے، اور ہمیشہ ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین
Ayah 48:7[ 15] اللہ تعالیٰ کے لشکر بےحساب ولاتعداد ۔ سبحانہ و تعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی کیلئے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے "۔ پس اپنے دین کے دشمنوں کو وہ اپنے کسی بھی کشکر سے ملیا میٹ کرسکتا ہے۔ جیسا کہ پہلی قوموں کو مختلف طریقوں سے تباہ کیا جا چکا ہے۔ اور وہ ایسا عزیز اور غالب ہے کہ کوئی اس کے ارادے میں حائل نہیں ہوسکتا۔ مگر وہ چونکہ نہایت حکمت والا بھی ہے اس لئے ان کفار و منکرین کو وہ فوری طور پر نہیں پکڑتا، بلکہ اپنی حکمت بےپایاں اور رحمت بےنہایت کے تقاضوں کے مطابق وہ ان کو ڈھیل دیے چلا جاتا ہے۔ اور جب چاہے پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی ہی سخت ہوتی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہ ارشاد عالی آگے اس سورة الفتح پ 26 کی آیت نمبر 14 میں بھی آیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا ہے { وللّٰہ ملک السمٰوٰت والارض ط یغفر لمن یشاء ویعذب من تشاء ط وکان اللّٰہ غفوراً رحیما } یہاں پر یہ منافقوں سے اظہار بیزاری اور اس کی بےنیازی کے بیان کیلئے ہے۔ یعنی اگرچہ منافق لوگ جہنم کا ایندھن ہی بننا چاہتے ہیں تو بنتے رہیں۔ خس کم جہاں پاک۔ اللہ تعالیٰ کو ان بزدلوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ آسمانوں اور زمین کے سب لشکر اس کے اپنے ہیں۔ تو پھر اس کو ایسے لوگوں کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے ؟ وہ ہر چیز پر غالب و قادر ہے۔ مگر ساتھ ہی وہ حکیم بھی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ مگر ساتھ ہی وہ حکیم بھی ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اسلئے اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق وہ ان لشکروں کو جس طرح چاہتا ہے استعمال کرتا ہے۔ کسی کی بزدلی اور پست ہمتی اس کے ارادوں پر اثر اندراز نہیں ہوسکتی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو جو لوگ اس کے حکم و ارشاد پر جان لڑاتے ہیں اور اس کی رضا و خوشنودی کیلئے اور اس کی راہ میں قربانیاں پیش کرتے ہیں وہ خود اپنے ہی بھلے کا سامان کرتے ہیں۔ اور اس کا صلہ وثمرہ خود انہی کو ملے گا۔ اور انکے اپنے دیے بخشے سے کہیں بہتر شکل میں ملے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وما تقدموا لانفسکم من خیر تجدوہ عند اللّٰہ ھو خیرا واعظم اجرا ط واستغفروا اللّٰہ ط ان اللّٰہ غفور رحیم [ المزمل : 20 پ 29] یعنی " جو بھی کوئی بھلایء تم لوگ اپنی جانوں کے لئے آگے بھیجو گے تم اس کو اللہ تعالیٰ کے یہاں کہیں بہتر شکل میں اور بہت بڑے اجر کی صورت میں موجود پاؤگے " اور جو اس سے منہ موڑیں گے وہ خود اپنی ہی ہلاکت و تباہی اور محرومی کا سامان کریں گے۔ اللہ سب سے بےنیاز ہے۔ آسمانوں اور زمین کے سب لشکر اسی وحدہٗ لاشریک کے ہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اللہ کی راہ میں جان دینا اور قربانی پیش کرنا خود اپنی ہی بہتری اور بھلائی کا سامان کرنا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayah 48:8[ 16] پیغمبر ﷺ کے " شاھد " ہونے کا معنی و مطلب ؟:
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک ہم نے آپ کو اے پیغمبر شاہد بنا کر بھیجا "۔ یعنی حق و صداقت کی شہادت اور گواہی دینے والا۔ پس حق وہی ہے جس کے حق ہونے کی شہادت و گواہی آپ ﷺ نے دی۔ اور صداقت بھی وہی ہے جسے آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین متین اور قرآن حکیم اور آپ ﷺ کی ارشاد فرمودہ سنت مطہرہ نے صداقت قرار دیا ہو۔ اور جو اس کے خلاف ہوگا وہ کذب وزور اور باطل و مردود ہوگا۔ آپ ﷺ کی شان شہادت کا کامل اور پورا ظہور قیامت کے روز اس وقت ہوگا جبکہ آپ ﷺ اپنی امت پر گواہی دیں گے کہ انہوں نے اس دعوت حق پر داعیئِ حق کو کیا جواب دیا۔ جیسا کہ احادیث شفاعت میں اس کی تفصیل موجود مذکور ہے۔ جیسا کہ سورة النساء میں ارشاد فرمایا گیا { فکیف اذاجئنا من کل امۃً م بشھیدٍ وجئنابک علی ھولآء شھیدًا } [ النسائ : 41 پ 5] تو آپ ﷺ کی گواہی سب پر ہوگی کہ آپ امام الانبیاء والمرسلین ہیں۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ۔ اہل بدعت کہتے ہیں کہ چونکہ آپ ﷺ سب پر گواہ ہیں، لہٰذا آپ ﷺ ہر جگہ موجود ہیں اور حاضر و ناظر ہیں۔ حالانکہ گواہ کیلئے ہر جگہ بذات خود حاضر و موجود ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کیلئے مشہور علیہ کا علم ضروری ہوتا ہے۔ خواہ وہ کسی بھی طریق سے اور کسی بھی ذریعہ سے حاصل ہو۔ جیسا کہ ہم سب لوگ جنت و دوزخ، ملائکہ اور خدا و رسول کی گواہی دیتے ہیں۔ مگر ہم نے دیکھا ان میں سے کسی کو بھی نہیں۔ ہم میں سے کتنے ہی لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا وغیرہ براعظموں کو اور ان کے کتنے ہی علاقوں کو اور ان کے کتنے ہی ملکوں اور شہروں کو خود دیکھا نہیں، مگر اس کے باوجود وہ ان کے وجود و ثبوت کا یقین رکھتے اور انہیں مانتے اور تسلیم کرتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ شہادت کیلئے علم یقینی کا ہونا ضروری ہے نہ کہ " شاھد " کا بذات خود موقع پر حاضر اور موجود ہونا۔ اور پھر ہمارے پیغمبر کے حاضر و ناظر اور علام الغیب ہونے کے عقیدے کو تو ہمارے فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے کفر قرار دیا ہے۔ چناچہ فقہ و فتاویٰ کی کتابوں میں یہ تصریح موجود ہے کہ جو شخص نکاح کرتے وقت یہ کہے کہ میں نے خدا اور رسول کو گواہ بنادیا ہے تو وہ کافر ہوجائے گا کہ اس نے پیغمبر کے حاضر و ناظر اور عالم الغیب ہونے کا عقیدہ رکھا ہے۔ اطمینان قلب و طلب حق اور اصلاح عقیدہ کیلئے ملاحظہ ہو فتاویٰ قاضی خان : ص 838، البحر الرائق : ج 3 ص 88، فتاویٰ عالمگیری : ج 2 ص 294، المسائرہ مع المسائرہ : ج ص 88، شرح شفائ : ج ص 496، فقہ اکبر : ص 85 مالا بدمنہ : ص 79 اور ارشاد الطالبین : ص 20 وغیرہ وغیرہ۔ واضح رہے کہ اہل بدعت کے ان شرکیہ عقائد کی تردید اور اس بارے میں صحیح صورت حال کی توضیح و تشریح کیلئے دور حاضر کے علمائے کرام نے بڑی عمدہ اور ردیع کتابیں لکھیں ہیں۔ جن میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صاح ؓ صفدر (رح) تعالیٰ علیہ کی کتابیں خاص طور پر زیادہ شہرت اور ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں۔ چناچہ آپ نے اپنی کتابوں خاص کر راہ سنت، ازالۃ الریب عن عقیدۃ علم الغیب، دل کا سرور اور تبرید النواظر فی مسلۃ الحاضر و الناظر وغیرہ میں اہل بدعت کے اس طرح کے خود ساختہ اور شرکیہ عقائد کا تارو پود خوب خوب بکھیرا ہے۔ اور ان سے متعلق بڑی بڑی عمدہ اور تحقیقی بحث و تمحیص کی ہے جس سے اصل حقیقت پوری طرح واضح ہوگئی ہے، اور حق پوری طرح نکھر کر سامنے آگیا ہے۔ والحمد للّٰہ وجزاہ اللّٰہ خیراً ۔ اہل علم کو ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام۔
Ayah 48:9[ 17] بعثت رسول ﷺ کا اولین مقصد دولت ایمان سے سرفرازی :
سو ارشاد فرما گیا کہ " تاکہ تم لوگ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر، اور اس طرح تم سعادت دارین سے سرفراز ہو سکو کہ پہلا اور بینادی حق ہے انسان پر اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول معظم ﷺ کا، کہ ان پر سچے دل سے ایمان لایا جائے۔ اسی پر دنیا و آخرت کی سعادت و سرخروئی کا دارومدار ہے۔ ورنہ آخرت کیا اس سے پہلے خود یہ دنیا بھی انسان کیلئے ایک عذاب ہے کہ ایمان و یقین کے اس نور مبین سے محرومی کی صورت میں اندھیرے ہی اندھیرے ہیں کہ ایسے میں انسان اپنے مقصد زندگی سے غافل، اپنے آغاز و انجام سے بیخبر اور اپنے خالق ومالک کی معرفت سے عارفی و محروم ہو کر جہاں حیوانوں والی زندگی گزارتا ہے بلکہ اس سے بھی نیچے گر کر وہ قعر مذلت میں پہنچ جاتا ہے، اور اسفل السافلین بن کر رہ جاتا ہے۔ اور " اولئک کالا نعام بل ہم اضل " کا مصداق بن جاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ جبکہ نور ایمان و یقین سے سرفرازی کے بعد انسان اتنا بلند اقبال اور اس قدر رفیع المرتبیت ہوجاتا ہے کہ حاملین عرش فرشتے بھی اس کی مغفرت و بخشش اور اس کی بلندی ئِ درجات کیلئے دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ سورة ئِ مومن کی آیت نمبر 7 سے آیت نمبر 10 تک میں اس کی تصریح و تفصیل موجود و مذکور ہے۔ فالحمد للّٰہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان اللھم زدنا منہ وثبتنا علیہ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے رسول کو شاہد اور مبشر بنا کر اس لئے بھیجا تاکہ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر۔ اور ایمان سے ظاہر ہے کہ مراد سچا پکا اور حقیقی ایمان ہے، نہ کہ محض زبانی کلامی اور ظاہری ایمان جس کا دعویٰ منافق لوگ کرتے تھے کہ ایسا ایمان دراصل ایمان نہیں بلکہ محض زبانی جمع خرچ اور ایمان کے نام پر دھوکہ ہے جس میں ایسے لوگ خود مبتلا ہوتے ہیں مگر ان کو احساس و شعور نہیں ہوتا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہم فھذہ نواصینا بین یدیک فخذنا بھا الی مافیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یاذالجلال والاکرام، یامن بیدہ ملکوت کل شیئٍ وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
[ 18] ایمان کا لازمی تقاضا اللہ کے دین کی تعظیم و توقیر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ تم لوگ اس کی تعظیم و توقیر کرو "۔ یعنی اس کے دین کی مدد کرو۔ سو تعزیر کے اصل معنی اس مدد کے ہوتے ہیں جو تعظیم کے ساتھ ہو۔ [ خازن، مفردات، راغب، معارف وغیرہ ] اور سزا کو تعزیر کہا جاتا ہے تو وہ بھی اس لئے کہ اس میں بھی دراصل مجرم کی مدد اور اس سے ہمدردی ہی مطلوب ہوتے ہے کہ وہ جرم سے پاک ہوجائے اور آئندہ کے لئے اس سے باز رہے۔ سو اس سے اس کی مجموعی طور پر پورے معاشرے کی مدد اور ہمدردی مطلوب ہوتی ہے۔ تاکہ وہ جرائم سے پاک و صاف ہوجائے اور جرائم پیشہ لوگ ارتکاب جرم سے رک جائیں اور بری روش سے باز آجائیں۔ تاکہ اس طرح وہ سعادت دارین سے بہرہ ور ہو سکیں۔ یہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک اور مشہور قول و احتمال ہے جس کو اکثر مفسرین کرام نے اختیار فرمایا ہے اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ " تعزروہ " کی ضمیر کا مرجع لفظ جلالہ یعنی اللہ ہے۔ جبکہ دوسرا قول و احتمال جس کو بعض اہل علم نے اس بارے اختیار فرمایا ہے یہ ہے کہ اس ضمیر کا مرجع رسول ہے۔ رسول کی تعظیم و توقیر دونوں باہم لازم و ملزوم ہیں۔ ایک کی تعظیم و توقیر دوسرے کی تعظیم و توقیر کو مستلزم ہے۔ اور ایک کی نفی دوسرے کی نفی کو۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، فنحن لک، وبک، والیک، انت المستعان، وعلیک التکلان، فی کل حین وان، انت الرحیم الرحمن، والحنان والمنان، یاذالجلال والاکرام یامن وسعت رحمتہ کل شیء، ھو ارحم بعبادہ منھم لانفسھم سبحانہ و تعالیٰ جل شانہ وعم نوالہ، وعزبرھانہ،
[ 19] ایمان کا دوسرا بڑا اور لازمی تقاضا ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید :
سو ارشاد فرمایا گیا " اور تاکہ تم اس کی تسبیح کرو صبح و شام "۔ یعنی ہر وقت اس کے ذکر اور اس کی تسبیح و تمحید سے رطب اللسان اور شاد کام رہو کہ اسکا ذکر اور اس کی تسبیح و تمحید ہی دراصل انسان کی زندگی اور اس کی روح کی غذا ہے۔ طرفین کا ذکر دراصل کنایہ ہوتا ہے عموم و شمول سے۔ جیسا کہ مشرق و مغرب بول کر پوری زمین مراد لی جاتی ہے۔ اسی طرح یہاں پر صبح و شام کے ذکر سے دراصل مراد ہے ہر وقت۔ سو تم لوگ ہر وقت اللہ پاک کی تسبیح و تنزیہہ اور اس کے ذکر میں لگے رہو۔ خاص کر صبح و شام کے دونوں وقتوں میں۔ { تسبحوہ } کی ضمیر کا مرجع چونکہ سب سے نزدیک متعین ہے کہ وہ " اللہ " جل جلالہ ہی ہے۔ کہ تسبیح تو بہرحال اسی کی ہوتی ہے۔ اس لئے یہ قرینہ ہے کہ پہلی دونوں ضمیروں کا مرجع بھی یہی قرار دیا جائے۔ جیسا کہ اوپر ہم نے اختیار کیا ہے۔ تاکہ ضمائر میں انتشار و تفکیک لازم نہ آئے۔ جو کہ بلاغت کے خلاف ہے۔ لیکن بعض حضرات مفسرین نے پہلی دونوں ضمیروں کا مرجع آنحضرت ﷺ کو قرار دیا ہے۔ معنی تو اس صورت میں بھی صحیح اور واضح ہے مگر ضمائر میں انتشار بہر حال رہے گا۔ اس لئے اہل تحقیق کے نزدیک ان دونوں ضمیروں کا مرجع بھی حضرت حق جل مجدہ ہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ بہرکیف اس سے ایمان صادق کا دوسرا بڑا متقضیٰ بیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی اللہ پاک کی تسبیح اور اس کی تمہید۔ سو اس وحدہ لاشریک کی ذات اقدس و اعلیٰ پاک ہے ہر قسم کے نقص و عیب اور ہر شائبہ شرک سے۔ اور جب اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس کائنات کے مخدوم ومطاع حضرت انسان کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے، تو پھر خوبی و کمال اور حمد و ثنا کا مستحق اور حق دار بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ پس ایمان صادق کا لازمی اور بدیہی تقاضا یہی ہے کہ انسان ہر وقت اسی کی تسبیح و تمہید میں مشغول و منہمک رہے۔ وباللّٰہ التوفیق فسبحان اللّٰہ وبحمدہ و سبحان اللّٰہ العظیم بکل حال من الاحوال، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 48:10[ 20] رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی عظمت شان کا ذکر وبیان :
سو اس سے اللہ کے رسول کے ہاتھ پر بیعت کی عظمت شان بھی واضح ہوجاتی ہے۔ اور اس سے ملنے والے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت بھی سامنے آجاتے ہیں سو اس ارشاد سے رسول کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی عظمت شان اس طرح واضح ہوجاتی ہے کہ رسول کے ہاتھ پر بیعت کرنا دراصل اللہ سے بیعت کرنا ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ اللہ کے نمائندے اور اس کے رسول ہیں، [ صفوۃ وغیرہ ] ۔ اسی لئے رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہوتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا { من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰہ ج ومن تولی فما ارسلنک علیہم حفیظا } [ النسائ : 80 پ 5] یعنی " جس نے رسول کی فرمانبرداری کی تو اس نے یقینا اللہ کی فرمانبرداری کی " یہ بیعت آنحضرت ﷺ نے اس وقت کی تھی جب یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کو قریش نے شہید کردیا ہے تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے خون عثمان کا بدلہ لینے کیلئے بیعت لی کہ ہم لوگ اسکا بدلہ لینے کیلئے آخر دم تک لڑیں گے چناچہ صحیحین وغیرہ میں حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ ہم نے آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر یہ موت کی بیعت کی " بایعنا رسول اللّٰہ ﷺ علی الموت " رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ خبر چھوٹی تھی۔ حضرت عثمان غنی ؓ شہید نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے زندہ سلامت موجود ہیں۔ پس حضرت عثمان غنی ؓ کی شہادت کی اس افواہ اور آنحضرت ﷺ کے بیعت لینے کے اس قصے میں بھی بڑی حکمتیں اور عظیم الشان درس ہائے عبرت و بصیرت پوشیدہ ہیں۔ سو اس سے اہل بدعت کے علم غیب کلی، حاضر و ناظر، اور اختیار کلی جیسے شرکیہ عقائد کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ کیونکہ پیغمبر ﷺ اگر عالم غیب ہوتے اور ہر جگہ موجود ہوتے تو حضرت عثمان غنی ؓ تو حدیبیہ سے اس قدر مضطرب اور پریشان نہ ہوتے۔ اور خون عثمان کا بدلہ لینے کے لئے اس طرح بیعت نہی لیتے کہ حضرت عثمان ؓ تو حدیبیہ سے چند ہی میل کے فاصلے پر مکہ مکرمہ میں بخیر و عافیت تشریف فرما تھے۔ اور جب نبیوں کے امام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی عالم غیب نہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو کہ عالم غیب ہوسکے ؟ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو عالم غیب، ہر جگہ حاضر و ناظر اور مختار کل ماننا عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی۔ دوسری طرف بیعت رضوان کے اس واقعہ سے حضرات صحابہ کرام رضٰ اللہ تعالیٰ عنہم کے بےمثال جذبہء اطاعت و اتباع کا ایک عظیم الشان و بےمثال نمونہ اور مظہر بھی سامنے آتا ہے کہ بالکل نہتے اور احرام کی حالت میں ہونے اور اپنے گھروں سے سینکڑوں میل دور ہونے کے باوجود حضور ﷺ کے حکم و ارشاد پر بےچوں و چرا پورے صدق و صفا اور جذبہ فدا کاری کے ساتھ خوشی بخوشی آپ کے ہاتھ ہر موت کی بیعت کرتے ہیں۔ اسی لئے ان سب کو رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ کی سند حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی طرف سے اس کی کتاب حکیم میں اور اس دنیا میں ہی مل گئی۔ اور اسی لئے اس بیعت کو بھی بیعت رضوان کہا جاتا ہے۔ سو اس سب کے باوجود جو کوئی ان قدسی صفت حضرات صحابہ سے بغض وعناد رکھے اس سے بڑھ کر ظالم اور بدبخت اور منحوس اور کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
[ 21] رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرنا دراصل اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرنا ہے، سبحانہ و تعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے وہ درحقیقت اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے تھے۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر تھا "۔ پس جنہوں نے اس موقع پر رسول کے ہاتھ پر بیعت کی انہوں نے گویا خدائے پاک کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اور رسول کا ہاتھ گویا خدا کا ہاتھ تھا۔ سو یہ دراصل ماقبل کی تاکید ہے۔ [ محاسن التاویل ] ۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ پاک اس طرح کے ظاہری ہاتھوں وغیرہ سے پاک ہے جو ہمارے مشاہرے میں آتے ہیں، کہ یہ مخلوق کی شان ہے۔ جب کہ حضرت حق جل مجدہ جو کہ خالق اور مخلوق کے دائرہ سے وراء الوراء ہے وہ اس طرح کے ہاتھوں اور ایسے تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس سے رسول کے ہاتھ پر کی جانے والی بیعت کی عظمت شان کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے ہاتھ پر کی جانے والی بیعت کو اس نص قرآنی کے ذریعے صاف وصریح طور پر اللہ تعالیٰ کی بیعت قرار دیا گیا ہے۔ اور یہ اسلئے کہ پیغمبر اللہ کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کا ہر قول وقرار اللہ پاک ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ۔ بہرکیف یہ بیعت رضوان کے شرف سے مشرف ہونے والے صحابہء کرام کی ایک عظیم الشان خصوصیت اور ان کا امتیاز ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ان کو نصیب ہوا کہ اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر تھا۔ پس جو لوگ ان قدسی صفت حضرات صحابہء کرام ؓ سے بغض وعناد رکھتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی کتاب حکیم اور اس کی ان نصوص کریمہ سے بغض وعناد رکھتے ہیں جو کہ کفر ہے۔ سو ایسے لوگ اپنے بارے میں اور اپنے انجام کے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لیں اور اس طرح وہ اندازہ کرلیں کہ وہ کس طرح آتش دوزخ کی طرف رواں دواں ہیں اور یہی ہے سب سے بڑا خسارہ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
[ 22] اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے کا وبال خود عہد توڑنے والے پر، والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو اللہ سے باندھے ہوئے عہد کو توڑے گا اس کا وبال خود اسی پر ہوگا "۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہاں پر عربی زبان کے مشہور قاعدے کے خلاف ضمیر مجررور میں " علیہ " کی جگہ جو " عَلَیْہِ " فرمایا گیا تو یہ اس لئے کہ تاکہ لفظ " اللّٰہ " جل جلالہ۔ کی تفخیم برقرار رہے۔ [ الوجیز، والجامع ] اس میں کچھ اور بھی اقوال ہیں۔ بہر کیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ جو لوگ آپ ﷺ کے ہاتھ پر سمع وطاعت کی بیعت کرتے ہیں ان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ آپ ﷺ سے بیعت نہیں کرتے بلکہ وہ حقیقت میں اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ بیعت کے وقت ان کے ہاتھوں پر جو ہاتھ ہوتا ہے وہ حقیقت میں آپ ﷺ کا ہاتھ نہیں اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ سو اگر وہ اس بیعت اور عہد کے بعد اس سے گریز و فرار اختیار کریں گے تو وہ یاد رکھیں کہ اس کا وبال خود انہی پر پڑے گا۔ اس لئے کہ اس معاہدے اور بیعت میں فرق اللہ تعالیٰ ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ نحو کی کتابیں قرآن کے اسلوب اور اس کے اعراب کو پرکھنے کیلئے اصل مدار اور کسوٹی نہیں ہیں، بلکہ عربی زبان و کلام اور اس محاورہ وبیان کو پرکھنے کے لئے اصل کسوٹی اور مدارو معیار قرآن حکیم کی زبان اور اس کا اسلوب بیان ہے، جو کہ قریش کی ٹکسالی زبان کا سب سے اعلیٰ وارفع نمونہ ہے۔ اور جو ہر اعتبار اور ہر پہلو سے محفوظ ہے۔ اس لئے کوئی چیز اگر نحو کے مروجات کے خلاف ہوگی تو اس کی بنا پر قرآن کو مہتم نہیں کریں گے بلکہ اس کو نحو کے تتبع کے نقص پر محمول کریں گے۔ جیسا کہ نحو کے امام سیبویہ سے بھی مروی و منقول ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔
[ 23] اپنے عہد کو پورا کرنے والوں کیلئے اجر عظیم کا وعدہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے اللہ سے باندھے ہوئے اپنے عہد کو پورا کیا تو اللہ اس کو ایک بڑے اجر سے نوازے گا "۔ یعنی جنت اور اس کی سدا بہار نعمتوں کی شکل میں ملنے والے اجر سے۔ جس جیسا دوسرا کوئی اجر نہ ہوا ہے اور نہ کوئی ازخود ایسا سوچ بھی سکتا ہے۔ جہاں اہل جنت کو وہ کچھ ملے گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل پر اس کا گز رہی ہوا ہوگا اور جس کی نعمتیں سدا بہار اور ابدی ہوں گی۔ سو جنت کے اس اجر عظیم کے مقابلے میں دنیا کی ہر بڑی سے بڑی نعمت بھی ہیچ ہے۔ اصل حقیقی اور سب سے بڑا اجر وثواب جنت اور اس کی نعیم مقیم ہی ہیں۔ اللہ پاک نصیب فرمائے محض اپنے کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے اپنے اس عہد کی زمہ داریوں کو پورا کیا اس کو وہ بہت بڑے اجر سے نوازے گا۔ واضح رہے کہ آیت کریمہ کی یہ تشریح و تفسیر جو اوپر عرض کی گئی ہے۔ اس بنیاد پر ہے کہ اس میں مذکور بیعت کا تعلق بیعت رضوان سے ہے۔ جیسا کہ معروف ہے۔ اور جیسا کہ عام اہل علم نے اختیار کیا ہے۔ جب کہ بعض اہل علم نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا کوئی خاص تعلق بیعت رضوان سے نہیں۔ اس کا ذکر آگے اسی سورة کی آیت نمبر 18 میں آرہا ہے۔ بلکہ یہ اس بیعت سمع وطاعت کا ذکر ہے جو کہ ہر ایمان لانے والا اللہ کے رسول کے ہاتھ پر کرتا تھا۔ ﷺ ۔ مگر الفاظ چونکہ عام ہیں اور ان دونوں احتمالوں میں معنی و مطلب کے لحاظ سے کوئی خاص فرق بھی نہیں پڑتا اس لئے ہم نے اوپر کی تشریح اسی قول مشہور کے مطابق کردی۔ والعلم عنداللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ۔