Ayah 48:1(48:1) انا۔ بیشک ہم۔ حرف مشبہ بالفعل ہے۔ ان اور ضمری جمع متکلم نا سے مرکب ہے۔ تحقیق ہم۔
فتحنا : ماضی جمع متکلم فتح (باب فتح) مصدر۔ ہم نے کھولا۔ ہم نے فتح دی ۔ الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں اور یہ ازالہ دو قسم پر ہے :۔
(1) جس کا آنکھ سے ادراک ہوسکے۔ جیسے فتح الباب : اس نے دروازہ کھولا اور جیسے فلما فتحوا متاعھم (12:65) اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا۔
(2) جس کا ادراک بصیرت سے ہو۔ جیسے فتح الہم (یعنی ازالہ غم، اس کی بھی چند قسمیں ہیں :۔
(ا) ایک وہ جس کا تعلق دنیوی زندگی سے ہو۔ جیسے مال وغیرہ دے کر غم و اندوہ اور فقر و فاقہ و احتیاج کو زائل کرنا جیسے کہ قرآن مجید میں ہے فلما نسوا ما ذکروا بہ فتحنا علیہم ابواب کل شیء (6:44) پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو دی گئی تھی فراموش کردیا۔ تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے۔ یعنی ہر چیز کی فراوانی کردی۔
(ب) علوم و معارف کے دروازے کھولنا۔ جیسا کہ آیۃ زیر مطالعہ کہ بعض نے کہا ہے یہ فتح مکہ اور صلح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور بعض نے کہا کہ نہیں بلکہ اس سے علوم و معارف اور ان ہدایات کے دروازے کھولنا مراد ہے جو کہ ثواب اور مقامات محمود تک پہنچنے کا ذریعہ بنتے ہیں
الفتح کا استعمال اور کئی معانی میں آتا ہے۔ یہاں اتنا ہی کافی ہے۔
فتحا مبینا : موصوف و صفت مل کر فتحنا کا مفعول۔ ایک ظاہر اور کھلی و صریح فتح۔
Ayah 48:2(48:2) لیغفرلک اللّٰہ۔ تاکہ اللہ آپ کو معاف کردے۔ صاحب تفسیر مظہری اس کی شرح میں لکھتے ہیں :۔
لیغفر۔ یہ فتح کی علت غائی (یعنی نتیجہ اور مقصد) ہے۔ کافروں سے جہاد شرک کا مٹانے اور دین کو بلند کرنے کی کوشش، ناقص نفوس کو شروع میں زور اور قوت کے ساتھ کامل بنانا۔ (یعنی کافروں پر بزور مسلمانوں کا غالب آنا) ۔ تاکہ آئندہ آہستہ آہستہ اختیار کے ساتھ درجہ کمال تک پہنچ سکیں اور کمزور مسلمانوں کو ظالموں کے ہاتھوں سے رہا کرانا۔ ان تمام امور کا نتیجہ اور غایت مغفرت ہی ہے۔
بعض علماء کے نزدیک لیغفر کالام (غایت کے لئے نہیں ہے بلکہ) لام کی ہے جس کا ترجمہ ہے تاکہ۔ مطلب یہ ہوگا کہ آپ کے لئے مغفرت کے ساتھ تکمیل نعمت اور فتح ہوجائے۔
بعض کے نزدیک فاشکر فعل محذوف ہے اور لیغفر کا تعلق اسی سے ہے یا فاستغفر محذوف ہے اور لام کا اسی سے تعلق ہے۔
ما تقدم من ذنبک وما تاخر : ما موصولہ تقدم اس کا صلہ تقدم ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ جو پہلے گذر چکا۔ تقدم (تفعل) مصدر جس کے معنی اصل میں تو قدم بڑھانے کے ہیں اور اسی اعتبار سے آگے بڑھنے اور پہلے ہونے اور سابق میں گزرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
وما تاخر ما موصولہ۔ تاخر۔ اس کا صلہ۔ تاخر (تفعل) مصدر سے واحد مذکر غائب اور جو پیچھے ہوا۔ جو بعد میں ہونے والے ہیں۔ آیت کا ترجمہ :۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے۔
فائدہ : پیغمبروں سے شرعی گناہ سرزد نہیں ہوتے وہ شرعی گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں یہاں مراد عرفانی گناہ ہیں جو اگر عوام الناس سے سرزد ہوں تو ان کو کوئی تنبیہ نہیں لیکن پیغمبروں اور ولیوں سے سرزد ہوجائیں تو فہاش من جانب اللہ ہوتی ہے۔ ایسر التفاسیر میں ہے :۔ وھو من باب حسنات الابرار سیئات المتقین۔
ویتم نعمتہ علیک۔ اس جملہ کا عطف جملہ لیغفرلک اللّٰہ پر ہے۔ اور مکمل فرمادے اپنے انعامت کو آپ پر۔
ای یتم نعمتہ علیک باعلاء الدین وانتشارہ فی البلادوغیر ذلک مما افاضہ تعالیٰ علیہ ﷺ من النعم الدینیۃ والدنیویۃ (روح المعانی)
یعنی آپ پر اپنی نعمتیں مکمل فرمائے۔ دین کی سربلندی اور دوردراز ممالک میں اس کے پھیل جانے سے اور اس کے علاوہ جو دینی اور دنیوی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو عطا کیں ۔
ویھدیک اس جملہ کا عطف بھی جملہ لیغفرلک اللّٰہ پر ہے۔ یھدی مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب (مضارع منصوب بوجہ عمل لام) ھدایۃ (باب ضرب) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تجھے ہدایت کرے۔ یعنی تجھے ہدایت پر قائم رکھے۔
صراطا مستقیما موصوف و صفت مل کر مفعول ثانی یھدی کا اور تاکہ تم کو سیدھے راستہ پر چلائے۔
Ayah 48:3(48:3) وینصرک اللّٰہ نصرا عزیزا جملہ ہذا کا عطف بھی لیغفرلک اللّٰہ پر ہے ل ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر نصرا عزیزا موصوف صفت مل کر مفعول ثانی۔ نصرا عزیزا۔ ایسی مدد (نصرت) کہ آپ ہمیشہ غالب رہیں گے اور کسی قسم کی کمزوری روپذیر نہ ہوگی۔
ترجمہ : اور تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی زبردست نصر فرمائے۔
صاحب تفسیر مظہری وینصرک اللّٰہ کی تفسیر میں ایک شبہ اور اس کے ازالہ میں رقمطراز ہیں :۔ ایک شبہ : ینصر کا عطف لیغفر پر ہے اور مغفرت فتح پر مرتب ہے (یعنی فتح پہلے اور مغفرت اس کے بعد ہے) خواہ اس کا جہاد اور کوشش کا نتیجہ قرار دیا جائے یا کہ شکر اور استغفار کا سبب، بہرحال مغفرت کا ترتب فتح پر ہوگا۔ اور چونکہ ینصر کا عطف یغفر پر ہے اس لئے ضروری ہے کہ نصرت کا ترتب بھی فتح پر ہو (یعنی فتح کے بعد نصرت کا وقوع ہو) مگر معاملہ برعکس ہے۔ نصرت فتح پر مقدم ہے کیونکہ سبب فتح نصرت ہے۔ ازالہ شبہ : اگر فتح سے مراف صلح حدیبیہ میں فتح کا وعدہ ہوگا اور وعدہ نصرت کا سبب ہے اور نصرت فتح پر مقدم ہے۔
Ayah 48:4(48:4) ھو ای اللّٰہ۔
السکینۃ۔ تسکین، تسلی خاطر۔ اطمینان۔ سکون سے بروزون فعلیہ مصدر ہے جو اسم کی جگہ استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہ عزیمۃ ہے جو عزم یعزم کا مصدر ہے اور بطور اسم بمعنی ارادہ کی پختگی۔ مستقل مزاجی ہے۔
سید محمد مرتضی زبیدی لکھتے ہیں :۔
سکینہ وہ اطمینان اور سکون ، چین، قرار ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے قلب میں اس وقت نازل فرماتا ہے جب کہ وہ ہولناکیوں کی شدت سے مضطرب ہوجاتا ہے پھر اس کے بعد جو کچھ بھی اس پر گزرے وہ اس سے گھبراتا نہیں ہے۔ یہ اس کے لئے زیادتی ایمان ، یقین میں قوت اور استقلال کو ضروری کردیتا ہے ، اسی وجہ سے حق سبحانہ نے ” یوم الغار “ اور ” یوم حنین “۔ جیسے قلق و اضطراب کے مواقع پر اپنے رسول اور مؤمنین پر اس کے نازل ہونے کی خبر دی ہے۔ یوم الغار کے موقع پر فرمایا :۔ فانزل اللّٰہ سکینۃ علیہ (9:40) اور یوم حنین کے موقع پر فرمایا :۔ فانزل اللّٰہ سکینۃ علی رسولہ وعلی المؤمنین (9:26) ۔
تفسیر مظہری میں ہے کہ :۔
سکینہ سے مراد ہے اللہ کے حکم کی تعمیل پر ثنات اور اطمینان۔ یعنی مسلمانوں کے دلوں کو اس مقام پر ثبات و اطمینان فرمایا جہاں دلوں میں تردد پیدا ہوجاتا اور قدم ڈگمگانے لگتے ہیں۔
لیزدادوا : لام تعلیل کا ہے یزدادوا مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) جمع مذکر غائب ” ازدیار (افعال) مصدر۔ تاکہ بڑھ جائیں۔ قوی ہوجائیں۔
ایمانا۔ تمیز ۔ ازروئے ایمان۔ تاکہ اپنے پہلے ایمان کے ساتھ ان کے عقیدہ کا جماؤ اور دل کا اطمینان اور بڑھ جائے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سکینہ عطا فرمانے کے بعد اپنے پہلے ایمان میں پختگی اور ثابت قدم ہیں اور بڑھ جائیں۔
اسی مضمون کی اور آیات بھی قرآن مجید میں موجود ہیں مثلا (1) واذا تلیث علیہم بایتہ زادتھم ایمانا (8:2) اور جب انہیں اس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ وغیرہ۔
فائدہ : تفسیر حقانی میں لیزدادوا کے تحت مندرج ہے۔
علماء کی ایک جماعت اس آیت سے استدلال کرکے یہ کہتی ہے کہ ایمان کم و زیادہ ہوتا ہے۔ مگر محققین جن میں امام اعظم ابوحنیفہ بھی شامل ہیں یہ کہتے ہیں کہ ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے وہ کیفیت زیادہ یا کم نہیں ہوتی پھر آیات و احادیث میں جو زیادہ ہونا آیا ہے اس سے علم الیقین و عین الیقین مراد ہے یا بااعتبار اس کے کہ جس پر ایمان لایا یعنی پہلے وہ باتوں پر ایمان لایا تھا پھر تیسری نازل ہوئی اس پر بھی ہوا۔ چناچہ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس بارے میں بعض آثار بھی نقل کئے ہیں۔
تفسیر ماجدی کے حاشیہ میں مندرج ہے :۔
لیزدادوا ایمانا مع ایمانھم : یعنی خاص اس سکینت قلب کے پیدا ہوجانے سے اہل ایمان کے قلب میں اور زیادہ انشراح اور ان کے نور باطنی میں اور زیادہ نور انیت پیدا ہوگئی اور ایمان استدلالی و برہانی کے ساتھ ساتھ ایمان عیانی بھی نصیب ہوگیا۔ فیحصل لہم الایمان العیانی والایمان الاستدلالی البرھانی (روح المعانی) طاعت میں یہ خاصہ بھی ہے کہ ہر نئے امر اطاعت سے نور ایمان میں ترقی ہوتی رہتی ہے اور یہ جو ہمارے امام ابوحنیفہ سے منقول ہے کہ الایمان لایزدادوا لاینقص۔ (ایمان میں نہ کمی ہوتی ہے نہ زیادتی) سو اس سے ان کی مراد ذات ایمان یا نفس ایمان سے ہے جو قابل تجزی نہیں ہے۔ باقی اس کے اوصاف و آثار میں کمی بیشی تو روزمرہ کا مشاہدہ ہے اور وہی یہاں مراد ہے۔
صاحب تفسیر اضواء البیان رقمطراز ہیں :۔ والحق الذی لاشک فیہ ان الایمان یزید وینقص کما علیہ اہل السنۃ والنجماعۃ (اور حق بات یہ ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ ایمان پڑھتا ہے اور کم ہوتا ہے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ ہر دو گروہ نے آیت کا ترجمہ اپنے اپنے طور پر کیا ہے۔
وللّٰہ جنود السموت والارض واؤ عاطفہ اور للّٰہ میں لام تملیک کے لئے ہے یعنی آسمان اور زمین کے تمام لشکر اسی کے زیر فرمان ہیں۔ اسی کے تسلط میں ہیں۔ ان آسمانوں اور زمین کے لشکر کے متعلق فرمایا :۔ وایدہ بجنود لم تروھا (9:40) اور اس کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے۔ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے وما یعلم جنود ربک الا ھو (74:31) اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
اگرچہ بجنود لم تروھا سے مراد سب نے فرشتے لئے ہیں مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ ان لشکروں میں صرف فرشتے ہی ہوں فرشتوں کے علاوہ اور بیشمار لشکر زمین و آسمان موجود ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے اور نہ ہی ہم ان کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان کی نوعیت اور ان کا شمار ہمارے حد حساب سے باہر ہے اور ان کو صرف وہی اللہ ہی جانتا ہے۔
مطلب یہ کہ صلح حدیبیہ اس وجہ سے نہیں کی گئی تھی کہ مسلمانوں کی نفری تعداد میں کم تھی۔ یا سازوسامان میں مسلمان کافروں سے کم تھے کیونکہ اگر یہ وجہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ جس کے تسلط میں ارض و سماء کے بیشمار لشکر ہیں جو ہمارے علم و نظر سے بالاتر ہیں ان کو بروئے عمل لاکر وہ کفار کو تباہ و برباد کرسکتا تھا۔ لیکن یہ اس کے علم و حکمت کا تقاضا تھا کہ ایسے ہو۔ اس کی حکمت بھی اسی کو معلوم ہے منجملہ اس کے ایک یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس سے اپنے نیک بندوں کا امتحان لینا بھی مقصود ہو کہ کیسے ثابت قدم رہتے ہیں۔
علیما حکیما دونوں کان کی خبر ہیں۔
Ayah 48:5(48:5) لیدخل۔ میں لام تعلیل کا ہے یدخل مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) واحد مذکر غائب ۔ ادخال (افعال) مصدر۔ تاکہ وہ داخل کرے۔ اس کا تعلق لیزدادوا سے ہے۔
المومنین والمؤمنت۔ معطوف علیہ معطوف مل کر مفعول فعل یدخل کا۔ جنت مفعول فیہ اسی فعل کا۔ تجری من تحتھا الانھر صفت جنت کی خلدین فیہا۔ حال ہے المؤمنین والمؤمنت سے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنت کی طرف راجع ہے۔
ویکفر۔ اس کا عطف لیدخل پر ہے واؤ عاطفہ ہے۔ یکفر مضارع منصوب (بوجہ عمل لام مقدرہ) واحد مذکر غائب۔ تکفیر (تفعیل) مصدر۔ وہ دور کر دے۔ وہ ساقط کردے۔
سیئاتھم : مضاف مضاف الیہ مل کر مفول یکفر کا۔ ان کے گناہ۔ ان کی برائیں۔
یدخل اور یکفر کی ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ تاکہ (اللہ) مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایسی بہشتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور تکاہ وہ ان کے گناہ دور کر دے ۔
ذلک۔ یہ ادخال جنت و تکفر سیئات۔
فوزا عظیما۔ موصوف وصفت مل کر کان کی خبر : الفوز کے معنی سلامتی کے ساتھ خیر یا مراد حاصل کرنے کے ہیں وکان ذلک عند اللّٰہ فوزا عظیما۔ اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی ہی کامیابی ہے۔
الفائزون۔ مراد کو پہنچنے والے۔ مراد کو پالینے والے۔
Ayah 48:6(48:6) ویعذب : واؤ عاطفہ۔ یعذب کا عطف بھی یدخل پر ہے۔ کیونکہ یہ بھی عطاء سکینہ کی علت کا جزو ہے (جب مومنوں نے صلح حدیبیہ اور دوسرے امور میں اللہ کے حکم کی تعمیل کی تو منافقوں اور مشرکوں نے اہل ایمان کے دین پر طنز کیا۔ اور مسلمانوں کو غضب آلود کردیا۔ اور اللہ کے متعلق بدگمانی کی اور یہی سبب ہوگیا ان پر اللہ کے عذاب نازل ہونے کا)
المنفقین : منافق کی جمع ہے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے ، دوزخی کرنے والے۔ یعنی زبان و عمل سے بظاہر مسلمان اور دل سے اسلام کے خلاف عقیدہ رکھنے والے سے گوہ داخل ہوتی ہے اور شکاری اس سوراخ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ دوسرے سوراخ سے باہر نکل جاتی ہے (تبریزی) نفاق اور منافقت اصطلاح قرآنی میں اسی دوزخی کا نام ہے بظاہر آدمی زبان سے مومن ہونے کا اقرار کرتا ہے اور دکھاوٹ کی نمازیں پڑھتا ہے لیکن دل میں کافر رہتا ہے اور اسلام کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے ایسے آدمی کو عرف شریعت میں منافق کہا جاتا ہے لیکن اگر عقیدہ مومنانہ ہو اور عمل کا فرانہ تو دوزخی کی یہ بھی ایک شکل ہوتی ہے ایک دروازے سے آدمی اسلام کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے اور دوسرے راستہ سے خارج ہوتا نظر آتا ہے لیکن قرانی اصطلاح میں ایسے آدمی کو منافق نہیں کہا جاتا بلکہ فاسق اور عاصی کہا جاتا ہے۔ (شرح عقائد نسفی) ۔
نفق الشیء وہ چیز چلی گئی۔ کسی چیز کے چلے جانے کی مختلف صورتیں ہیں :۔
(1) ختم ہوجانا۔ کچھ باقی نہ رہنا۔ جیسے نفقت الدراہم۔ روپیہ سب خرچ ہوگیا کچھ باقی نہیں بچا۔ اس کا مصدر نفق ہے باب سمع ہے
(2) مرجانا۔ جیسے نفقت الدابۃ گھوڑا مرگیا اس کا مصدر نفق ہے اور باب نصر ہے۔
(3) چیزوں کا خوب لین دین ہونا۔ مال خوب بکنا۔ بازار کا پررونق ہوجانا۔ فقیہ ہوجانا ۔ سب مال ختم ہوجانا۔
الظانین باللّٰہ ظن السوئ۔ یہ جملہ منافقین اور منافقات اور مشرکین و مشرکات کی تعریف ہے۔ یعنی جو اللہ کے بارے میں بڑے بڑے گمان رکھتے ہیں۔ الطانین۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے ظان کی جمع ہے بحالت نصب و جر ۔ ظن ایک کثیر المعانی لفظ ہے ہر معنی اپنے موقع و محل کے مطابق لیا جائے گا ۔ ظن بمعنی خیال۔ اٹکل۔ گمان ، تخمینی بات، علم، یقین، شک وغیرہ وغیرہ۔
ظن وہ اعتقاد راجح ہے کہ جس میں اس کے خلاف پائے جانے کا احتمال ہو۔ یہ ظن یظن (باب نصر) سے کبھی مصدر ہوکر استعمال ہوتا ہے اور کبھی اسم ہوکر جب بمعنی اسم ہو تو اس کی جمع ظنون آتی ہے۔
علامہ جلال الدین سیوطی (رح) اپنی تفسیر الاتقان فی علوم القرآن میں لکھتے ہیں :۔
ظن کے اصل معنی اعتقاد راجح کے ہیں۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے ان ظنا ان یقیما حدود اللّٰہ (2:230) اگر وہ دونوں گمان غالب رکھتے ہوں کہ خداوندی ضابطوں کو قائم رکھ سکیں گے۔ اور کبھی یقین کے معنوں میں مستعمل ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے الذین یظنون انھم ملقوا ربھم (2:46) جن کو یقین ہے کہ ان کو ملنا ہے اپنے رب سے۔
ابن ابی حاتم وغیرہ نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ قرآن مجید میں ہر جگہ ظن کا استعمال یقین مستعمل نہیں ہوا ہے تسلیم کرنا مشکل ہے جیسا کہ پہلی ہی آیت ہے۔
اور زرکشی نے برہان میں کہا ہے کہ قرآن مجید میں اس فرق کو سمجھنے کے لئے کہ کہاں ظن کا استعمال یقین کے معنی میں ہے اور کہاں شک کے معنی میں ؟ دو ضابطے ہیں :۔
(1) جہاں ظن کی تعریف آئی ہے اور اس پر ثواب کا وعدہ فرمایا گیا ہے وہاں یقین مراد ہے اور جہاں اس کی مذمت واقع ہوئی ہے اور اس پر عذاب کی دھمکی دی گئی ہے وہاں شک کے معنی ہوں گے۔
(2) ہر وہ ظن جس کے بعد ان خفیفہ ہوگا وہاں شک کے معنی ہوں گے جیسے بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون الی اہلیہم ابدا (48:12) بلکہ تمہیں شک تھا کہ رسول اور مؤمنین اپنے اہل و عیال میں اب لوٹ کر ہی نہیں آئیں گے۔ اور ہر وہ ظن جہاں اس کے ساتھ ان مشددہ متصل ہوگا وہاں بمعنی بیشک مجھے یقین تھا کہ مجھ کو ملنا ہے میرا حساب : اور وظن انہ الفراق (75: 28) اور یقین جانا کہ اب آیا وقت جدائی کا ۔ چناچہ بجائے ظن کے ایقن انہ الفراق کی قرات بھی مروی ہے۔
اور وجہ اس کی یہ ہے مشددہ چونکہ تاکید کے لئے وضع کیا گیا ہے اس لئے وہ یقین کے موقع پر آتا ہے اور حفیفہ میں چونکہ یہ بات نہیں اس لئے وہ شک کے موقع پر استعمال ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ مشددہ کا ستعمال علم میں ہوا کرتا ہے جیسے فاعلم انہ لاالہ الا اللّٰہ (47:19) سو یقین رکھ کر کسی کی بندگی نہیں سوائے اللہ کے۔ اور مخففہ کا حسبان (گمان کرنے ) میں چناچہ ارشاد ہے کہ :۔
وحسبوا ان لاتکون فتنۃ (5:71) اور انہوں نے گمان کیا کہ کچھ خرابی نہ ہوگی۔
راغب نے اس قاعدہ کو بیان کرکے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ وظنوا ان لا ملجا من اللّٰہ الا الیہ (9:118) اور انہوں نے یہ یقین کرلیا کہ اللہ سے خود اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے۔ میں یہ ضابطہ نہیں چلتا۔ کیونکہ یہاں باوجود ان خفیفہ کے یقین کے معنی ہیں
لیکن اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ یہاں ان کا اتصال ملجا سے ہے جو کہ اسم ہے اور امثلہ سابقہ میں اس کا اتصال فعل سے تھا۔
اس جواب کو برہان میں نقل کرکے لکھا ہے کہ اس ضابطہ کو ہاتھ سے نہ دو کیونکہ یہ اسرار قرآن میں سے ہے۔ (ماخوذ از لغات القرآن تفصیل کے لئے وہاں ملاحظہ ہو) ۔
ظن السوئ۔ اللہ کی بابت بہت بڑا برا ظن رکھنے والے۔ یا گمان رکھنے والے۔ مثلا یہ کہ اللہ اپنے رسول اور اہل ایمان کی مدد نہیں کرے گا۔ اور رسول اللہ ﷺ مدینے کو صحیح و سلامت نہیں لوٹیں گے۔ جیسا کہ آگے چل کر آیت 12 میں ہے : ۔ بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون الی اھلیہم ابدا۔ (بلکہ تم یہ سمجھ رکھا تھا کہ یہ پیغمبر اور ایمان والے کبھی پھر کر اپنے اہل و عیال کی طرف نہیں آئیں گے) ۔
علیہم دائرۃ السوئ۔ یہ جملہ دعائیہ ہے اور اللہ کے متعلق برا گمان رکھنے والوں کے لئے بددعا ہے۔ انہیں پر بری گردش پھرے
دائرۃ مصدر ہے دار یدور (باب نصر، دور مادہ) کا اسم فاعل کے وزن پر۔ یا یہ اسم فاعل بھی ہوسکتا ہے اسی باب سے دور ان مصدر بھی ہے داریدور کا۔
دائرۃ خط محیط (سرکل) کو کہتے ہیں ۔ یہ داریدور دوران سے ہے۔ جس کے معنی چکر کاٹنا کے ہیں۔ پھر مصیبت، گردش زمانہ کو بھی دائرۃ کہا جاتا ہے اسی مناسبت سے زمانہ کو الدواری کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی گردشیں بھی انسان پر گھومتی رہتی ہیں۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے :۔ والدھر بالانسان دواری کہ زمانہ انسان کو گھما رہا ہے۔
قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے :۔ نخشی ان تصیبنا دائرۃ (5:52) ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے دائرۃ کی جمع دوائر آتی ہے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے :۔ ویتربص بکم الدوائر علیہم دائرۃ السوء (9:98) اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں انہیں پر بری مصیبت (واقع) ہو۔ یعنی تباہی اور بربادی انہیں ہر طرف سے اس طرح گھیر لے جیسا کہ کوئی شخص دائرہ کے اندر ہوتا ہے اور ان کے لئے اس بربادی سے نکلنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔
غضب اللّٰہ علیہم : غضب ماضی بمعنی مستقبل۔ واحد مذکر غائب۔ غضب (باب سمع مصدر۔ غضب علیہ۔ غضب ناک ہونا۔ غضب اسم فعل۔ سخت غصہ۔ بہت غصہ ہونا۔ انتقام کے لئے دل کے خون میں جوش آکر گردن کی رگیں پھول جانا اور آنکھیں سرخ ہوجانا۔ گویا بدن کے اندر ایک آگ بھڑک اٹھنا۔ لیکن اللہ کے غضب سے مراد انتقام۔ سخت عذاب دینا۔ غضب اللّٰہ علیہم۔ اللہ ان پر غضب ناک ہوا۔ غصہ ہوگا۔ (الماجدی)
ولعنہم : لعن ماضی واحد مذکر غائب۔ لعن باب فتح مصدر۔ اس نے لعنت کی، وہ لعنت کرے گا۔ وہ رحمت سے دور کر دے گا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر وہ ان کی رحمت سے دور کر دے گا۔ (ایضا)
واعدلہم جھنم۔ واؤ عاطفہ۔ اعد ماضی واحد مذکر غائب ۔ اعداد (افعال) مصدر۔ اعداد۔ عد سے مشتق ہے جس کے معنی شمار کرنے کے ہیں اس اعتباد سے اعداد کے معنی کسی چیز کے اس طرح تیار کرنے کے ہیں کہ شمار کی جاسکے۔ جھنم : دوزخ ۔ اسم مفعول واحد مؤنث۔ اور اس نے ان کے لئے دوزخ تیار رکھی ہے۔
وساءت مصیرا : ساءت ماضی واحد مؤنث غائب ، ضمیر واحد مؤنث غائب جھنم کے لئے ہے۔ سوء باب نصر مصدر سے۔ وہ بری ہے۔ مصیرا بوجہ تمیز کے منصوب ہے۔ اسم ظرف مکان۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا۔ قرار گاہ۔ اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 48:7(48:7) وللّٰہ جنود السموت والارض وکان اللّٰہ عزیزا حکیما۔ (ملاحظہ ہو آیت 4 متذکرۃ الصدر) عزیزا غالب ، زبردست، قوی۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔
فائدہ : علامہ مودودی تفہیم القرآن میں رقمطراز ہیں :۔ یہاں اس مضمون کو ایک دوسرے مقصد کے لئے دوہرایا گیا ہے۔ آیت نمبر 4 میں اسے اس غرض کے لئے بیان کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے مقابلہ میں لڑنے کا کام اپنے مافوق الفطرت لشکروں سے لینے کے بجائے مؤمنین سے اس لئے لیا ہے کہ وہ ان کو آزمانا چاہتا ہے (جو امتحان میں ثابت قدم رہے ہوں) ۔
نبی کریم ﷺ کے اسمائے گرامی میں سے ہے ، کیونکہ آپ قیامت میں امت کے گواہ ہوں گے۔ اور دنیا میں تعلیم ربانی کے بتلا نے والے ہیں۔
Ayah 48:8(48:8) مبشرا۔ خوشخبری دینے والا۔ تبشیر (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل واحد مذکر۔ اس کا اصل ماخذ بشرۃ ہے۔ جس کے معنی ہیں کھال کی بالائی سطح۔ اور اندرونی سطح کو ادمہ کہتے ہیں ۔ انسان کو بشر اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی کھال ظاہر ہوتی ہے۔ دوسرے حیوانات کی طرح اون یا بادلوں میں چھپی ہوئی نہیں ہوتی۔ اسی سے بشارۃ و بشری (بمعنی مژدہ و خوشخبری) ماخوذ ہے کیونکہ دل خوش کن خبر سننے سے انسان کے جسم میں خون کا دوران ہوتا ہے اور خصوصیت کے ساتھ اس کے چہرہ پر اثر پڑتا ہے اور چہر ہ کی جلد چمکنے لگتی ہے پس بشرت زیدا کے معنی ہوئے میں نے زید کو ایسی خوشخبری سنائی کہ جس کے سننے سے اس کے چہرہ کی کھال چمک گئی (المفردات)
مبشر بھی آنحضرت ﷺ کے اسمائے گرامی سے ہے اور وہ بشارت دینے والے ہیں ان کے لئے جو خدا کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان لائے۔ اور خدا کے امتحان میں پورے اترے۔
نذیرا۔ صفت مشبہ۔ منصوب، نکرہ، ڈرانے والا۔ نافرمانوں کو خدا کے عذاب سے ڈرانے والا۔ یہ بھی آپ کے اسماء گرامی میں سے ہے۔ قرینہ کی وجہ سے بعض جگہ ڈرانے والا سے مراد پیغمبر ہے مثلاً ھذا نذیر من النذر الاولی (53:56) یہ (حضرت محمد ﷺ ) بھی اگلے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والے ہیں۔
شاھدا : مبشرا : نذیرا۔ حال ہیں ک (ضمیر واحد مذکر حاضر) سے ۔
Ayah 48:9(48:9) لتؤمنوا باللّٰہ ورسولہ میں لام تعلیل کا ہے۔ یعنی آپ کا رسول بنا کر بطور شاہد، مبشر، نذیر بھیجنا بدیں وجہ تھا۔ کہ اے لوگو ! تم ایمان لاؤ تؤمنوا مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ایمان (افعال) مصدر سے۔ نون اعرابی عامل کے سبب سے حذف ہوگیا۔ ورسولہ ای وبرسولہ اور اس کے رسول پر (بھی ایمان لاؤ) اس کا عطف جملہ سابقہ لتؤمنوا باللّٰہ پر ہے۔
وتعزروہ۔ اس جملہ کا عطف بھی جملہ لتؤمنوا باللّٰہ پر ہے اور اسی طرح اگلے دو جملوں کا عطف بھی اسی جملہ پر ہے۔
تعزروا مجارع جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی عامل کے سبب سے حذف ہوگیا تعزیر (تفعیل) مصدر بمعنی ادب اور تعظیم کے ساتھ مدد کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب (تاکہ) تم اس کی مدد کرو۔ اس کو قوت دو ۔
تعزیر کے معنی شرعی حد سے کم سزا دینے کے بھی آتے ہیں لیکن در حقیقت یہ معنی بھی اول معنی ہی کی طرف لوٹتے ہیں کیونکہ تعزیر دینے کا مقصد ہوتا ہے ادب سکھانا۔ اور ادب سکھانا بھی مدد کرنے میں داخل ہے گویا اس صورت میں انسان کی مدد اس طرح کی ہے کہ جو چیز اس کے لئے مضر ہے اس سے اس کو نقصان پہنچائیں ان کا قلع قمع کیا جائے۔
بعض کے نزدیک یہ حروف اضداد میں سے ہے ۔ اور بمعنی التعظیم والتعذیب ہے ۔ ای انہ من حروف الاضداد یاتی بمعنی التعظیم والتعدیب۔ لہٰذا تعزیر بمعنی سزا، تنبیہ، سرزنش، واحد مؤنث اور تعزیرات جمع مستعمل ہے۔ ازتعریزات پاکستان (یعنی پاکستاب میں فوجداری قانون کی سزائیں) ایک مشہور قانونی کتاب ہے) ۔
وتوقروہ : توقروا مضارع جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی عامل کے سبب گرگیا۔ توقیر (تفعیل) مصدر سے۔ جس کے معنی تعظیم کرنا اور ادب رکھنا کے ہیں۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب، اور تاکہ تم اس کی توقیر کرو۔ اس کا ادب کرو۔
وتسبحوہ۔ اور تاکہ تم اس کی تسبیح بیان کرو۔ اس کی پاکی بیان کرو۔
بکرۃ واصیلا : صبح کے وقت اور شام کے وقت۔ (یعنی صبح وشام ہر وقت) منصوب بوجہ مفعول فیہ۔
فائدہ : علامہ قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ تعزروہ اور توقروہ میں ضمیر مفعول کا مرجع حضور ﷺ کی ذات گرامی ہے یہاں وقف تام ہے۔ اور تسبحوا سے نیا سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے اور یہاں مفعول کا مرجع اللہ کی ذات ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کیا کرو
اور امام بغوی اور بعض دیگر علماء اسی طرف گئے ہیں ۔ لیکن مفسرین کے ایک دوسرے گروہ نے تمام ضمیروں کا مرجع اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے ان کے نزدیک ایک ہی سلسلہ کلام میں ضمیروں کے دو الگ الگ مرجع قرار دینا جب کہ اس کے لئے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے درست نہیں معلوم ہوتا۔
علامہ زمخشری (رح) لکھتے ہیں الضمائر للّٰہ عزوجل (ہرسہ مفعولی) ضمائر اللہ عزوجل کے لئے ہیں۔ علامہ مودودی بھی اسی زمرہ میں ہیں۔
Ayah 48:10(18:10) یبایعونک۔ مضارع جمع مذکر غائب مبایعۃ (مفاعلۃ) مصدر بیع مادہ۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ (جو) تیری بیعت کر رہے تھے یا کرتے ہیں ۔
انما : ان حرف مشبہ بالفعل اور ما کافہ سے مرکب ہے۔ بیشک ، تحقیق، سوائے اس کے نہیں۔
نکث۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ نکث مصدر (باب ضرب و نصر) بمعنی (عہد) توڑنا۔ فسخ کرنا۔ (کمبل یا سوت) اوھیڑنا۔ ینکث علی نفسہ وہ عہد کو اپنے نفس کے نقصان کے لئے ہی توڑتا ہے۔ یعنی اس کی عہد شکنی کا وبال اسی کی جان پر ہوگا۔
ای فلا یعود ضرر نکثہ الاعلیہ۔
اوفی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ایفاء (افعال) مصدر۔ (اور جس نے) ایفاء وعدہ کیا۔ عہد کو پورا کیا۔ یعنی بیرت کے وعدہ پر قائم رہا۔ ماعاھد علیہ اللّٰہ۔ اس عہد کو جو اس نے اللہ سے کیا۔
فائدہ : علیہ کے اعراب کے متعلق مختلف اقوال مفسرین نے بیان کئے ہیں ان میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں :۔
(1) علیہ۔ اس پر ۔ اس کے اوپر علی حرف جر ہ ضمیر واحد مذکر غائب مجرور۔ علیہ کی ہاء پر واؤ کو حذف کرنے کے بعد ضمہ اس لئے رہنے دیا گیا کہ اللّٰہ کا لفظ پر کرکے پڑھا جاوے۔ اصل میں ضمیر ھو تھی (لغات القرآن)
(2) علامہ آلوسی اس کے اعراب کے متعلق دو وجوہات بتاتے ہیں۔
(ا) یہ کہ اس خاص موقعہ پر اس ذات کی بزرگی اور جلالت شان کا اظہار موصود تھا۔ جس کے ساتھ عہد استوار کیا جا رہا تھا۔ اس لئے علیہ کی بجائے علیہ مناسب تھا۔
(ب) یہ کہ علیہ میں ہ دراصل ھو کی قائم مقام ہے اور اس اصلی اعراب - ہی تھا نہ کہ - لہٰذا یہاں اصلی اعراب کو باقی رکھنا وفائے عہد کے مضمون سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
(3) جمہور نے اسے علیہ (ہاء کے ضمہ کے ساتھ) پڑھا ہے۔ (روح المعانی)
فسیؤتیہ :جواب شرط کے لئے ہے۔ سیؤتی : س مستقبل قریب کے لئے ہے۔ یؤتی۔ مضارع واحد واحد مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ وہ اس کو دیتا ہے۔ وہ اس کو عنقریب دے گا۔
اجرا عظیما۔ موصوف و صفت، عظیم اجر ، یعنی بہشت، جنت، مفعول یؤتی کا ۔
Ayah 48:11(48:11) سیقول : س مستقبل قریب کے لئے یقول مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ یہاں جمع کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یعنی المخلفون کے لئے۔
المخلفون۔ اسم مفعول جمع مذکر تخلیف (تفعیل) مصدر۔ پیچھے رہے ہوئے ۔ الاعراب : گنوار، بدو۔
علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد عرب ہے اور اعراب دراصل اسی کی جمع ہے جو صحرا نشینوں کا قلم قرار پا گیا ہے۔ لیکن مجد الدین فیروزآبادی نے قاموس میں تصریح کی ہے کہ اعراب باد یہ نشین عربوں کو کہتے ہیں اس کا واحد نہیں ہے جمع اعاریب آتی ہے۔
قاضی شوکانی تفسیر فتح القدیر میں سورة براء ۃ میں رقمطراز ہیں :۔ کہ اعراب وہ ہیں جو صحراؤں میں سکونت گزیں ہوں۔ اس کے خلاف عرب کے مفہوم میں وسعت ہے کیونکہ اس کا استعمال ان تمام انسانوں کے لئے عام ہے جو ریگستان کے باشندے ہوں خواہ وہ صحراؤں میں بستے ہوں یا آبادیوں میں رہتے ہوں۔ اہل لغت کا بیان یہی ہے اور اسی بناء پر سیبویہ نے کہا ہے کہ اعراب صیغہ جمع تو ہے مگر لفظ عرب کی جعم کا صیغہ نہیں ہے۔
اہل لغت کا بیان ہے کہ اہل لغت رجل عربی اس شخص کو کہتے ہیں جس کا نسب عرب کی طرف ثابت ہوتا ہے اور جس طرح مجوس مجوسی اور یھود یھودی کی جمع ہے۔ اسی طرف عرب عربی کی جمع ہے جب کسی اعرابی سے یا عربی کہا جاتا ہے ہے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا لیکن اگر کسی عربی سے یا اعرابی کہہ دیا جائے تو وہ طیش میں آجاتا ہے ایسا کیوں ؟ کہ جو عرب کے شہروں کے متوطن ہیں وہ عربی ہیں اور جو بادیہ نشین ہوں وہ اعرابی ہیں مہاجرین و انصار چونکہ سب کے سب عرب ہیں اس لئے ان کو اعراب کہنا جائز نہیں۔ (لغات القرآن) ۔
حضرت ابن عباس اور مجاہد نے فرمایا : اعراب سے مراد قبائل عقار، مزنیہ، جہنیہ، نخعی اور اسلم کے بدوی ہیں جب حدیبیہ کے سال حضور ﷺ نے ان کو ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ تو قریش سے لڑائی کا ڈر ان کے دلوں میں پیدا ہوگیا کیونکہ ان کے خیال میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور مسلمان کمزور تھے (اور ان کی شکست لازم تھی) اس لئے ساتھ جانے سے انہوں نے گریز کیا اور رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو ٹال دیا۔ لیکن جب رسول اللہ ﷺ اور مسلمان صحیح طور پر لوٹ آئے تو انہوں نے ساتھ نہ جانے کی معذرت کرلی۔
شغلتنا اموالنا واہلونا۔ ماضٰ واحد مؤنث غائب۔ شغل (باب فتح) مصدر مصروف و مشغول کرنا۔ دھندے میں لگائے رکھنا۔ مطلب یہ کہ ہمارے مال اور اہل عیال نے ہمیں مشغول رکھا۔ اور ہمیں فرصت نہ دی۔ کیونکہ اور کوئی آدمی ان کی دیکھ بھال کرنے والا گھروں میں موجود نہ تھا۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ اموالنا مضاف مضاف الیہ۔ ہمارے مال اہلونا مضاف مضاف الیہ ہمارے اہل و عیال ۔ اہلو اصل میں اہلون تھا۔ اہل کی جمع بحالت رفع۔ اضافت کی وجہ سے نون گرگیا۔
استغفرلنا : استغفر امر کا صیغہ مذکر حاضر۔ استغفار (استفعال) مصدر تو معافی مانگ۔ تو بخشش مانگ۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ ہمارے لئے۔ بالسنتھم : ب حرف جار السنتھم : مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ اپنی زبانوں سے۔
مالیس : ما موصولہ ہے لیس فعل ناقص واحد مذکر غائب ۔ نہیں ہے۔ جو (ان کے دلوں میں) نہیں ہے۔
قل : ای قل یا محمد ﷺ یعنی اے محمد ﷺ ان سے کہہ دیجئے۔
من استفہامیہ انکاریہ ہے۔ کون ہے ؟ کوئی ہے ؟ یعنی کوئی نہیں۔
یملک مضارع واحد مذکر غائب۔ ملک (باب ضرب) مصدر سے ۔ وہ اختیار رکھتا ہے۔ ملک کے معنی زیر تصرف چیز پر ہر قسم کا کنٹرول اور ہر قسم کا عمل دخل ہو۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضرا (7:188) فرما دیجئے۔ میں اپنے فائدے اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ شیئا۔ کوئی چیز ، کچھ بھی۔ اسم مفعول واحد مذکر۔
فمن یملک لکم من اللّٰہ شیئا۔ جملہ استفہام انکاری ہے کون ہے جو خدا کے سامنے تمہارے لئے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہو ؟ یعنی کوئی تمہیں اللہ کی مشیت اور فیصلہ کے مقابلہ میں نہیں بچا سکتا ۔ خواہ وہ فیصلہ تمہارے نفع کا ہو یا نقصان کا۔ یہ جملہ جواب شرط ہے اور شرط سے مقدم زور کلام کے لئے لایا گیا ہے۔
(مثلا ہم کہتے ہیں کہ اگر تم نے یہ کام کیا تو میں تمہاری ٹانگیں توڑدوں گا۔ لیکن اگر مخاطب کو زور دیکر کہنا مقصود ہو تو ہم کہیں گے کہ :۔ میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا اگر تم نے یہ کام کیا تو)
ان اراد بکم ضرا۔ اگر وہ تم کو نقصان پہنثانا چاہے (یا کوئی نفع پہنچانا چاہے) یہ جملہ شرط ہے۔
ضرا۔ نقصان۔ ضرر۔ مثلاً قتل۔ شکست۔ مال کی تباہی یا عیال کی ہالکت، یا عذاب آخرت وغیرہ ۔ نفع ۔ مثلاً فتحیابی، مال و دولت میں اضافہ۔ برکت ، اہل و عیال کی خیر و عافیت، آخرت کی سرخروئی۔ وغیرہ۔
بل کان اللّٰہ بما تعلمون خبیرا : بل حرف اضراب ہے۔ ای لیس الامر کما تقولون : بل کان اللّٰہ بما تعملون خبیرا : بات یوں نہیں جس طرح تم کہتے ہو بلکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے (حدیبیہ نہ جانے اور پیچھے رہ جانے میں) تمہارا کیا مقصد تھا۔ (تم اصل میں مکہ والوں کے ڈر کی وجہ سے ان سے مخالفت لینے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔
خبیرا۔ باخبر۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے منصوب بوجہ خبر کان ہے۔
Ayah 48:12(48:12) بل ظننتم : بل حرف اضراب ظننتم ماضی جمع مذکر۔ ظن (باب نصر) مصدر سے۔ تم نے خیال کیا۔ تم نے یقین جانا۔
بات صرف یہی نہیں تھی کہ تم کو تمہارے اموال و اہل و عیال نے مشغول رکھا۔ یا تم اہل مکہ سے لڑنے سے کراتے تھے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ تم یہ یقین بھی کر رکھا تھا (کہ رسول اور اس کے ہمراہی مومن کبھی لوٹ کر اپنے گھروں کو نہیں آئیں گے)
ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون الی اہلیہم ابدا : ان مصدریہ ینقلب مضارع منفی تاکید بلن۔ صیغہ واحد مذکر غائب (یہاں جمع کے لئے استعمال ہوا ہے) منصوب بوجہ عمل لن۔ انقلاب (انفعال) مصدر بمعنی لوٹنا۔ وہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔ ابدا ہمیشہ، زمانہ مستقبل غیر محدود۔ ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے۔ تاکید کے لئے آیا ہے۔
زین۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ تزیین (تفعیل) مصدر۔ وہ سنوارا گیا۔ مزین کیا گیا۔ وہ اچھا دکھایا گیا۔ تزیین سنوارنا۔ آراستہ کرنا۔ زینت دینا۔
ذلک : ای ظنہم ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون الی اہلیہم ابدا : ان کا یہ ظن کہ رسول اور اس کے ہمراہی مومن کبھی لوٹ کر اپنے گھروں کو نہیں آئیں گے۔
وظننتم ظن السوء اور تم نے بڑے بڑے گمان کئے تھے۔ یعنی تم نے خیال کیا تھا کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی مشرکوں کا لقمہ بن جائیں گے اسی طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے متعلق برے برے گمان کر رکھے تھے۔
وکنتم قوما بورا موصوف و صفت مل کر کان کی خبر۔ بورا ہلاک ہونے والے۔ بائر کی جمع ہے۔ جس کے معنی ہلاک ہونے والے ہیں۔ جو شخص حیران و پریشان ہو کہ نہ کسی کا کہنا سنے نہ کسی کی طرف متوجہ ہو ایسے شخص کے لئے عرب بولتے ہیں رجل حائر بائر۔ اور ایسی قوم کو کہتے ہیں قوم حور بور۔ پس جیسے حور حائر کی جمع ہے ایسے ہی بور بائر کی جمع ہے۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ بور مصدر ہے اور واحد اور جمع دونوں کی صفت میں بولا جاتا ہے چناچہ رجل بور اور قوم بور بولتے ہیں
صاحب ضیاء القرآن حاشیہ میں فرماتے ہیں :۔ علامہ جوہری ” لفظ بور کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں : البور : الرجل الفاسد الھالک الذی لاخیر فیہ۔ یعنی بور اس شخص کو کہتے ہیں جو فاسد اور تباہ حال ہو جس میں نیکی اور بھلائی چناچہ عبداللہ بن العزبعری جب مشرف باسلام ہوئے تو بارگاہ رسالت میں عرض کیا :۔
یارسول الملیک ان لسانی راتق ما فتقت اذا نابور۔ یعنی اے مالک الملک کے رسول جب میں گمراہ اور تباہ حال تھا اس وقت میری زبان نے جو چاک کئے اب میں ان کو سینا اور رفو کرنا چاہتا ہوں “۔
یہ مؤنث کی صفت بھی واقع ہوتا ہے : کہتے ہیں امرأۃ بور تباہ حال عورت جمع کے لئے بھی قوم بور ای ہلکی۔ یعنی اجڑی ہوئی قسم۔ اس کے بعد جوہری لکھتے ہیں کہ بعض نے کہا ہے کہ بور جمع ہے اس کا واحد بائر ہے۔ مثل حائل و ھول لیکن اخفش نے اس کی تردید کی ہے۔
Ayah 48:13(48:13) ومن لم یؤمن باللّٰہ ورسولہ : من شرطیہ اور جملہ شرط ہے۔ لم یؤمن مجارع نفی جحد بلم صیغہ واحد مذکر غائب اور جو ایمان نہیں لایا اللہ پر اور اس کے رسول پر۔
فانا اعتدنا للکفرین سعیرا۔ جملہ جواب شرط ہےجواب شرط کے لئے اعتدنا۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم اعتاد (افعال) مصدر ۔ ہم نے تیار کر رکھا ہے۔
سعیرا : بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے دھکتی ہوئی آگ، دوزخ سعر (باب فتح) مصدر سے۔ بمعنی (آگ یا جنگ) بھڑکانا۔
فائدہ : آیت ان مخلفین کے متعلق ہے جو ایمان کا دعوی رکھنے کے باوجود کسی نہ کسی بہانے رسول کریم ﷺ کے ہمراہ عمرہ کے لئے نہیں گئے تھے۔ مولانا مودودی حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ :۔
یہاں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو صاف الفاظ میں کافر اور ایمان سے خالی قرار دیتا ہے جو اللہ اور اس کے دین کے معاملہ میں مخلص نہ ہوں اور آزمائش کا وقت آنے پر دین کی خاطر اپنی جان و مال اور اپنے مفاد کو خطرے میں ڈالنے سے جی چرائیں ۔ لیکن یہ خیال رہے کہ یہ وہ کفر نہیں ہے جس کی بنا پر دنیا میں کسی شخص یا گروہ کو خارج از اسلام قرار دیا جائے بلکہ یہ وہ کفر ہے جس کی بناء پر آخرت میں وہ غیر مومن قرار پائے گا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو جن کے بارے میں یہ نازل ہوئی تھی خارج از اسلام قرار نہیں دیا تھا۔ اور نہ ان سے وہ معاملہ کیا جو کفار سے کیا جاتا ہے۔
Ayah 48:14(48:14) للّٰہ ملک السموت والارض : للّٰہ میں لام استحقاق کا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت صرف اللہ ہی کو سزاوار ہے۔
لمن یشائ۔ یعنی کسی کی مغفرت کرنا یا کسی کو سزا دینا صرف اور صرف اس کی مشیت پر منحصر ہے اس پر نہ مغفرت واجب ہے اور نہ سزا دینا لازم ہے۔
غفورا۔ بہت بخشنے والا۔ مبالغہ کا صیغہ ہے منصوب بوجہ کان کی خبر ہونے کے ہے۔
رحیما : بڑا مہربان۔ نہایت رحم ولا۔ رحمۃ سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 48:15(48:15) سیقول۔ مضارع واحد مذکر غائب (یہاں جمع کے معنی میں آیا ہے) ۔ س مستقبل قریب کے لئے ہے۔
المخلفون : ملاحظہ ہو 48:11 ۔ مراد وہ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی بہانے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ قافلہ کے ساتھ عمرہ کے لئے نہیں نکلے تھے۔ جو سفر بعد میں صلح حدیبیہ پر منتج ہوا۔
اذا جب۔ انطلقتم ماضی (بمعنی مستقبل) جمع مذکر حاضر۔ انطلاق (افتعال) مصدر۔ جب تم روانہ ہوگے۔ جب تم چلو گے۔
مغانم۔ جمع مغنم واحد ، وہ چیزیں جو مفت حاصل کی جائیں دشمن سے ہوں یا کسی اور سے۔ الغنم بمعنی بکریاں ۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے ومن البقر والغنم حرمنا علیہم سحومھما (6:6) اور گائیوں اور بکریوں سے ان دونوں کی چربی ہم نے ان پر حرام کردی تھی۔ الغنم کے اصل معنی ہیں کہیں سے بکریوں کا ہاتھ لگنا اور ان کا حاصل کرنا۔ پھر یہ لفظ ہر اس چیز پر بولا جانے لگا جو دشمن یا غیر دشمن سے حاصل ہو۔ مال غنیمت۔
قرآن مجید میں ہے :۔ فکلوا مما غنمتم حلالا طیبا (8:69) جو مال غنیمت تم کو ملا ہے اسے کھاؤ کہ تمہارے لئے حلال طیب ہے۔ مغانم جمع مغنم کی۔ قرآن مجید میں ہے فعند اللّٰہ مغانم کثیرۃ (4:94) سو خدا کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں۔
الی مغانم : الی حرف جار مغانم مجرور۔ بوجہ غیر منصرف ہونے کے اس کے آخر میں کسری نہیں آتا۔ بجائے کسرہ کے فتح آتا ہے۔ (سبب منع صرف جمع جو منتہی الجموع کے وزن پر ہے جیسے مساجد و مقاصد وغیرہ)
لتاخذوھا۔ لام تعلیل کا ہے مضارع جمع مذکر حاضر (نون اعرابی عمل لام سے گرگیا ہے) اخذ (باب نصر) مصدر۔ بمعنی لینا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع مغانم ہے۔ تاکید تم ان کو حاصل کرو۔ ان پر قبضہ کرلو۔
ذرونا نتبعکم : یہ مقولہ سیقول المخلفون کا۔ ذرونا۔ ذروا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر وذر (باب سمع، فتح) مصدر۔ بمعنی چھوڑ دینا۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ تم ہم کو چھوڑو۔
نتبعکم : مضارع مجزوم بوجہ جواب امر۔ صیغہ جمع متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر اتباع (افتعال) مصدر ۔ ہم تمہارے پیچھے چلیں۔ ہم تمہارے ساتھ چلیں۔
یریدون ان یبدلوا کلام اللّٰہ۔ یہ جملہ حال ہے المخلفون سے یہ چاہتے ہوئے کہ وہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔
ان مصدریہ ہے یبدلوا مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ جمع مذکر غائب یبدیل (تفعیل) مصدر کہ وہ بدل ڈالیں کہ وہ بدل دیں
فائدہ : جہنیہ، مزنیہ اور دیگر قبائل دیہاتی جو مدینہ شریف کے مضافات میں آباد تھے اور جنہوں نے سفر حدیبیہ میں مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا تھا گزشتہ آیت میں اصل وجہ اس کی بتادی گئی ہے (آیت 2)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایک اور ہونے والے واقعہ سے اپنے رسول مکرم کو مطلع فرما رہے ہیں۔ اے حبیب ! عنقریب جب تم ایک دوسرے سفر جہاد پر روانہ ہونے لگو گے جہاں کامیابی کے امکانات بالکل روشن ہیں خطرات کم اور مال غنیمت کے حصول کی توقع بہت زیادہ ہے یہ موقع پرست لوگ اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہونگے اور اپنے ایمانی جوش اور جذبہ جہاد کا روز و شور سے کریں گے اور اس جہاد میں شمولیت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں گے ان کا مقصد تلفی مافات نہیں ہوگا بلکہ محض اموال غنیمت کے حصول کے لئے اپنے جذبات جاں نثاری کا مظاہرہ کریں گے ۔ چناچہ حکم ہوتا ہے قل لمن تتبعونا ۔۔ از ضیاء القرآن)
اللہ کے فرمان سے مراد یہ فرمان ہے کہ خیبر کی مہم پر حضور ﷺ کے ساتھ صرف انہیں لوگوں کو اجازت دی جائے گی جو حدیبیہ کی مہم پر آپ کے ساتھ گئے تھے اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے خیبر کے اموال کی غنیمت انہی کے لئے مخصوص فرما دئیے تھے جیسا کہ اگلی آیت 18 میں بصراحت ارشاد ہے (تفہیم القرآن)
قل : ای قل یا محمد ﷺ
لن تتبعونا : مضارع نفی بتاکید لن صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ضمیر مفعول جمع متکلم ای لا تتبعونا فانہ نفی فی معنی النہی للمبالغۃ مبالغہ کے لئے نفی کو نہی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے یعنی تم ہمارے ساتھ نہیں جاؤگے ، یا نہیں جاسکتے۔
کذلکم : کاف تشبیہ کا ذا اسم اشارہ ۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ خطاب کے لئے ہے۔ یہ ۔ یہی۔ جملہ کا مطلب ہے : یوں ہی اللہ تعالیٰ نے پہلے سے فرما دیا ہے۔
من قبل : قبل ظرف زمان بھی ہے اور ظرف مکان بھی لیکن یہاں تقدم زبانی کے لئے ہی قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے۔ یہ بعد کی ضد ہے اضافت اس کو لازمی ہے جب بغیر اجافت کے آئے گا تو ضمہ پر مبنی ہوگا۔ جیسے من بعد من قبل۔ جب مضاف الیہ موجود ہو تو پھر کسرہ کے ساتھ آسکتا ہے مثلاً وما ارسلنا من قبلک من رسول ۔۔ (21:25)
فائدہ : کذلک قال اللّٰہ من قبل : کی تشریح میں علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔
” یعنی جیسا میں نے تم سے کہا ہے کہ تم لوگ ہمارے ساتھ نہیں جاؤ گے ایسا ہی وحی غیر متلو (یعنی الہام نبوت) کے ذریعے اللہ نے پہلے ہی فرما دیا ہے کہ خیبر کا مال غنیمت صرف شرکاء حدیبیہ کے لئے ہے دوسروں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے “۔
مولانا مودودی فرماتے ہیں :۔ ” ہر شخص کوئی بات صاف نظر آرہی تھی کہ قریش سے صلح ہوجانے کے بعد اب ضیبر کے ہی نہیں بلکہ تیما اور فدک اور وادی القریٰ اور شمالی حجاز کے دوسرے یہودی بھی مسلمانوں کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے اور یہ ساری بستیاں پکے پھل کی طرح اسلامی حکومت کی گود میں آگریں گی اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ان آیات میں پیشگی مطلع فرما دیا کہ اطراف مدینہ کے یہ موقع پرست لوگ ان آسان فتوحات کو دیکھ کر ان میں حصہ بٹا لینے آکھڑے ہوں گے مگر تم ان کو صاف جواب دیدینا کہ تمہیں ان میں حصہ لینے کا موقعہ ہرگز نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ یہ ان لوگوں کا حق ہے جو خطرات کے مقابلے میں سرفروشی کے لئے آگے بڑھے تھے “۔ (تفہیم القرآن) ۔
فسیقولون بل تحسدوننا :تعقیب کا ہے س مستقبل قریب کے لئے۔ پھر وہ کہیں گے۔
بل تحسدوننا بل حرف اضراب ہے ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے آیا ہے یعنی بات یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ساتھ لیجانے سے منع کر رکھا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو۔
بل۔ حرف اضراب، یہ مخلفین کے قول بل تحسدوننا سے اعراض ہے مطلب یہ کہ ان کا یہ کہنا کہ مسلمان ہم سے حسد کرتے ہیں درست نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ (مخلفین) لوگ اصل بات کو سمجھتے ہی کم ہیں۔
کانوا لا یفقھون ماضی استمراری کا صیغہ ہے لیکن یہاں حال کے معنی میں مستعمل ہے لایفقھون مضارع منفی جمع مذکر غائب فقہ (باب سمع) مصدر سے۔ الفقہ کے معنی علم حاضر سے علم غائب تک پہنچنے کے ہیں۔ اور یہ علم سے اخص ہے۔ علم فقہ حکام شریعت کے جاننے کا نام ہے۔
بل کانوا لا یفقھون۔ یعنی بات یہ نہیں جو اعراب کہتے ہیں (بل تحسدوننا) کہ ان کو معلوم ہی نہیں کہ اللہ کی طرف سے ان کے لئے کیا مفید ہے اور کیا ضرر رسان ؟ (تفسیر مظہری)
الاقلیلا۔ مگر تھوڑی سی سمجھ، یعنی دنیوی امور کی۔ مستثنیٰ منہ فقہ ہے
Ayah 48:16(48:16) قل للمخلفین (بجائے ضمیر غائب کے) دوبارہ مخلفین کا لفظ صراحتہ کے ساتھ ذکر کرنے سے مذمت میں قوت پیدا کرنا اور تخلف کی سخت ترین قباحت ظاہر کرنا مقصود ہے۔
ستدعون : س مستقبل قریب کے لئے تدعون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ دعاء (باب نصر) عنقریب تم بلائے جاؤ گے (جہاد کرنے کے لئے)
اولی باس شدید باس شدید موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ اولی مضاف، مضاف مضاف الیہ مل کر صفت قوم کی۔
اولی والے۔ (بحالت نصب وجر) اولوا (بحالت رفع جیسے اولوالعزم) باس۔ لڑائی۔ دبدبہ۔ جنگ کی شدت۔ اصل میں تو اس کے معنی سختی اور آفت کے ہیں مگر لڑائی اور دبدبہ کے معنی میں کثرت سے اس کا استعمال ہوتا ہے۔ قوم اولی باس شدید۔ سخت جنگجو قوم، سخت لرنے والے لوگ، سخت جنگی دبدبہ رکھنے ولاے لوگ۔
تقاتلونھم : تقاتلون : مضارع جمع مذکر حاضر۔ مقاتلۃ (مفاعلۃ) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ، تم ان سے لڑو گے۔ تم ان سے جنگ کرو گے۔
او۔ یا۔ خواہ ۔ یہاں تک، مگر، جبکہ، کیا۔ اگرچہ۔ یہاں بمعنی “ یہاں تک کہ “ ہے۔
یسلمون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ اسلام (افعال) مصدر، وہ مطیع ہوجائیں گے ۔ مطلب یہ کہ تمہیں ان سے اس وقت تک لڑنا ہوگا کہ وہ اسلام کے مطیع ہوجائیں ۔
فان تطیعوا :تعقیب کا ہے ان شرطیہ۔ تطیعوا جمع مذکر حاضر بحث مضارع اصل میں تطیعون تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اور ابی گرگیا۔ اطاعۃ (افعال) مصدر۔ پس اگر تم اطاعت کروگے۔ جملہ شرط ہے۔
یؤتکم اللّٰہ اجرا حسنا۔ جملہ جواب شرط ہے۔ یؤت مضارع واحد مذکر غائب۔ ایتاء (افعال) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اجرا حسنا موصوف و صفت مل کر مفعول فعل یؤت کا۔ تو اللہ تم کو اچھا بدل (یعنی جنت) عطا کرے گا۔
وان تتولوا۔ واؤ عاطفہ ان شرطیہ تتولوا مضارع جمع مذکر حاضر ۔ تولی (تفعل) مصدر۔ تتولوا۔ اصل میں تتولون تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی حذف ہوگیا۔ تولی کا تعدیہ اگر بنفسہ ہو تو بمعنی دوسری رکھنا یا مدد کرنا ہے۔ اور اگر تعدیہ بواسطہ عن آئے خواہ لفظا یا تقدیرا تو بمعنی روگردانی کرنا۔ منہ پھیرنا ہوگا۔ یہاں تعدیہ عن مقدرہ سے ہے اور اگر تم روگردانی کرو گے۔
کما۔ کاف تشبیہ کے لئے ہے اور ما موصولہ ہے بعد میں آنے والا جملہ اس کا صلہ ہے۔
تولیتم : ماضی جمع مذکر حاضر۔ (تولی) مصدر ۔ تم پھرگئے۔ تم نے منہ موڑا۔ تم نے روگردانی کی۔
من قبل : قبل ازیں۔ (یعنی حدیبیہ کو جانے کے وقت جیسے تم نے روگردانی کی تھی) ۔
یعذبکم : یعذب مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ تعذیب (تفعیل) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر (تو) وہ تم کو عذاب دے گا۔ عذابا الیما : موصوف و صفت مل کر یعذب کا مفعول۔ دردناک عذاب۔
فائدہ : الی قوم اولی باس شدید : اس سے کونسی قوم مراد ہے اس میں مختلف اقوال ہیں :۔ ؎
جمہور محققین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اس قوم کے ساتھ معاملہ کرنے میں دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری تھا۔ قتال یا اسلام ، یا تو ان سے جنگ کرتے رہو۔ یا وہ اسلام لے آئیں۔ تیسری بات نہیں ہوسکتی۔ ان سے جزیہ نہیں لیا جاسکتا۔ یہ حکم صرف عرب کے مشرکوں اور مرتد ہوجانے والے مسلمانوں کے لئے خاص تھا۔ اہل روم اور دوسرے عجمیوں کے لئے تین صورتیں تھی جنگ یا اسلام ، یا جزیہ۔
زہری اور مقاتل کا قول ہے کہ بنی حنیفہ یعنی اہل یمامہ جو مسلیمہ کذاب کے ساتھ تھے ، مراد ہیں۔ اکثر اہل تفسیر کا یہی قول ہے۔ اور بیضاوی نے اسی کو ترجیح دی ہے مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر ضیاء القرآن۔
Ayah 48:17(48:17) اعمی : اندھا۔ عمی سے جس کے معنی بینائی کے مفقود ہوجانے کے ہیں صفت مشبہ کا صیغہ ہے بینائی دل کی جاتی رہے یا آنکھوں کی دونوں کے لئے عمی کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔
حرج۔ تنگی۔ مضائقہ۔ گناہ اصل میں تو حرج کے معنی کسی چیز کے مجتمع ہونے کی جگہ کے ہیں اور ایک جگہ جمع ہونے میں چونکہ تنگی کا تصور موجود ہے اس لئے تنگی اور گناہ کو حرج کہا جاتا ہے۔
لیس علی الاعمی حرج اندھے پر کوئی گناہ نہیں مطلب یہ کہ جو اندھا ہو (یا اسے کوئی اور صحیح عذر مانع ہو) تو اس کے لئے جہاد میں شریک نہ ہونے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
الا عرج۔ لنگڑا۔ ح ر ج مادہ۔ عروج (باب سمع) مصدر۔ بمعنی ہموار زمین پر ایسے چلنا جیسے کوئی شخص سیڑھیاں چڑھ رہا ہو۔ عرج یعرج مستقل طور پر لنگڑا ہونا۔ اسی مصدر سے باب نصر سے بمعنی اور چڑھنا آتا ہے جیسے تعرج الملئکۃ والروح الیہ (70:4) جس کی طرف روح (الامین) اور فرشتے چڑھتے ہیں۔
ومن ۔۔ ورسولہ جملہ شرط یدخلہ ۔۔ الانھر۔ جواب شرط۔ تجری من تحتھا الانھر : جنت کی تعریف ہے
ومن یتول : واؤ عاطفہ۔ من یتول جملہ شرط ہے۔ یتول مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) واحد مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر۔ اصل میں یتولی تھا۔ تعدیہ بہ عن مقدرہ ہے اور جو روگردانی کرے گا۔ یعذبہ عذابا الیمان جملہ جواب شرط ۔ اس کو وہ (اللہ) دردناک عذاب دیگا۔