Al-Fath 48:28

Al-Fath · from ayah 28

48:28

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ ؕ— وَكَفٰی بِاللّٰهِ شَهِیْدًا ۟ؕهُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ‌ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًا

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت (کی کتاب) اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ اور حق ظاہر کرنے کے لئے خدا ہی کافی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is He who sent His Messenger with guidance and the religion of truth to manifest it over all religion. And sufficient is Allah as Witness.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 4 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fath

All translations of 48:28

وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اُس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے اور اِس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت (کی کتاب) اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ اور حق ظاہر کرنے کے لئے خدا ہی کافی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہی ہے جس نےاپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے، اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے واﻻ

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے۔ اور (اس کی) گواہی دینے کے لیے اللہ کافی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اللہ کافی ہے گواہ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دینِ حق عطا فرما کر بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت و حقانیت پر) اﷲ ہی گواہ کافی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے اور اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جس نے ہدایت اور دین حق دے کر اپنا رسول بھیجا تاکہ اسے باقی سب ادیان پر غالب کردے۔ اور (اس حقیقت پر) اللہ کی گواہی کافی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کرے سارے دنیوں پر اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ (وحدہ لاشریک) وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت (کی دولت) اور دین حق (کی نعمت) کے ساتھ تاکہ وہ غالب کر دے اس (دین حق) کو تمام دینوں پر اور کافی ہے اللہ گواہی دینے کو (حق اور حقیقت کے لئے)

— مولانا اسحاق مدنی

وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے اور اللہ کافی گواہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو الہدیٰ اور دین حق دے کرتا کہ وہ غالب کر دے اسے ُ کل کے کل نظام زندگی پر اور کافی ہے اللہ مددگار کے طور پر۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایات کی کتاب اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے اور (حق ظاہر کرنے کے لیے) اللہ ہی کافی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He it is Who sent His Messenger with the True Guidance and the Religion of Truth that He may make it prevail over every religion. Sufficient is Allah as a witness (to this).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the One who has sent His Messenger with Guidance and the religion of truth, so that He makes it prevail over all religions. And enough is Allah for being a witness (to His promise).

— Muhammad Taqi Usmani

He is the One who has sent His Messenger with Guidance and the religion of truth, so that He makes it prevail over all religions. And enough is Allah for being a witness (to His promise).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He it is Who has sent His Messenger with guidance and the religion of truth, that He may make it superior to all religions. And All-Sufficient is Allah as a Witness.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He it is Who hath sent His messenger with the guidance and the religion of truth, that He may cause it to prevail over all religion. And Allah sufficeth as a Witness.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is He who sent His Messenger with guidance and the religion of truth to manifest it over all religion. And sufficient is Allah as Witness.

— Saheeh International

It is He who has sent His Messenger with guidance and the true religion to make it prevail over all other religions. God is a Sufficient witness to this Truth".

— Muhammad Sarwar

He it is Who sent His Apostle with the guidance and the true religion that He may make it prevail over all the religions; and Allah is enough for a witness.

— Muhammad Habib Shakir

He it is Who hath sent His apostle with the guidance and the true religion that He may make it prevail over all other religions, and Allah sufficeth as a Witness.

— Abdul Majid Daryabadi

It is He Who has sent His Messenger with Guidance and the Religion of Truth, to proclaim it over all religion: and enough is Allah for a Witness.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 48:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–28

رسول اللہ ﷺ کا خواب رسول اللہ ﷺ نے خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ میں گئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا۔ آپ نے اس کا ذکر اپنے اصحاب سے مدینہ شریف میں ہی کردیا تھا حدیبیہ والے سال جب آپ عمرے کے ارادے سے چلے تو اس خواب کی بنا پر صحابہ کو یقین کامل تھا کہ اس سفر میں ہی کامیابی کے ساتھ اس خواب کا ظہور دیکھ لیں گے۔ وہاں جا کر جو رنگت بدلی ہوئی دیکھی یہاں تک کہ صلح نامہ لکھ کر بغیر زیارت بیت اللہ واپس ہونا پڑا تو ان صحابہ پر نہایت شاق گذرا۔ چناچہ حضرت عمر نے تو خود حضور ﷺ سے یہ کہا بھی کہ آپ نے تو ہم سے فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور طواف سے مشرف ہوں گے آپ نے فرمایا یہ صحیح ہے لیکن یہ تو میں نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَتْح 51 اس مقام پر یہ بات ارشاد فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ حدیبیہ میں جب معاہدہ صلح لکھا جانے لگا تھا اس وقت کفار مکہ نے حضور ﷺ کے اسم گرامی کے ساتھ رسول اللہ کے الفاظ لکھنے پر اعتراض کیا تھا اور ان کے اصرار پر حضور ﷺ نے خود معاہدے کی تحریر میں سے یہ الفاظ مٹا دیے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ہمارے رسول کا رسول ہونا تو ایک حقیقت ہے جس میں کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اس کو اگر کچھ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ اس کے حقیقت ہونے پر صرف ہماری شہادت کافی ہے۔ ان کے انکار کردینے سے یہ حقیقت بدل نہیں جائے گی، بلکہ ان کے علی الرَّغم اس ہدایت اور اس دین حق کو پوری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ ، سابقہ آیات میں جو فتوحات اور غنائم کے وعدے اور اہل حدیبیہ کے خصوصاً اور تمام صحابہ کے عموماً فضائل اور بشارتیں مذکور ہوئے ہیں اب خاتمہ سورت میں ان مضامین کی تلخیص و تاکید ہے اور چونکہ یہ سب نعمتیں اور بشارتیں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور تصدیق کی بنا پر ہوئیں اس لئے اس تصدیق و اطاعت کی مزید تاکید کے لئے نیز منکرین رسالت محمدیہ پر رد کرنے کے لئے اور صلح حدیبیہ کے وقت جو بعض مسلمانوں کے دلوں میں کچھ شکوک پیدا ہوگئے تھے ان کے ازالہ کے لئے ان آیات میں آپ کی رسالت کا اثبات بلکہ تمام دنیا کے دینوں پر آپ کے دین کو غالب کرنے کی بشارت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلمہ وکفی باللہ شھیداً 28 اسلام کے غلبہ کی بشارت یہ آیت معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ سورة توبہ میں بھی گزر چکی ہے اور آگے سورة صف میں بھی آئے گی۔ سورة توبہ کی تفسیر میں ہم اس کے موقع پر محل اور اس کے مدعا کی وضاحت کرچکے ہیں۔ یہ دوسرے الفاظ میں فتح مکہ کی بشارت ہے اس لئے کہ اسی کی فتح پر پورے ملک کے اندر دین حق کے غلبہ کا انحصار تھا چناچہ اس کی فتح ہوجانے کے بعد تمام ادیان، جو عرب میں موجود تھے، اسلام کے آگے سرنگوں ہوگئے اور تھوڑی ہی مدت کے اندر وہ وقت آگیا کہ نبی ﷺ نے اعلان فرما دیا کہ اس ملک میں دو دین مجمتع نہیں ہوسکتے۔ فرمایا کہ اسی خدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 اسلام کا یہ غلبہ دیگر ادیان پر دلائل کے لحاظ سے تو ہر وقت مسلم ہے تاہم دنیاوی اور عسکری لحاظ سے بھی قرون اولی اور اس کے مابعد عرصہ دراز تک جب تک مسلمان اپنے دین پر عامل رہے انہیں غلبہ حاصل رہا اور آج بھی یہ مادی غلبہ ممکن ہے بشرطیکہ مسلمان مسلمان بن جائیں (وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ) 3۔ آل عمران :139)۔ یہ دین غالب ہونے کے لیے ہی آیا ہے مغلوب ہونے کے لیے نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–28

29: جیسا کہ اس سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، حضور اقدس ﷺ نے حدیبیہ کے سفر سے پہلے خواب دیکھا تھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام مسجد حرام میں عمرے کی غرض سے داخل ہوئے ہیں، اسی خواب میں احرام کھولنا پڑا اور عمرہ ادا نہ کیا جاسکا، تو بعض حضرات کو یہ خیال ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا خواب تو وحی ہوتا ہے، اور عمرہ کئے بغیر واپس جانا اس خواب کے مطابق نہیں ہے، اس آیت میں اس خیال کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ وہ خواب یقیناً سچا تھا لیکن اس میں مسجد حرام میں داخلے کا کوئی وقت متعین نہیں کیا گیا تھا، اب بھی وہ خواب سچا ہے، اور اگرچہ اس سفر میں عمرہ نہیں ہوسکا لیکن انشاء اللہ وہ خواب عنقریب پورا ہوگا، چنانچہ اگلے سال وہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یوں آپ ﷺ کا خواب سچا ہوئی۔ اللہ کا وعدہ پورا ہوا اور اگلے سال فتح مکہ بھی ہوگیا اور اللہ کا دین مکہ پر بھی غالب ہوگیا۔ اور اس کے بعد پورے جزیرہ العرب میں غالب ہوگیا اور اب آخری خوشخبری یوں پوری ہوئی : ھو الذی ارسل ۔۔۔۔۔ باللہ شھیدا (48 : 28) “ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے سا تھ بھیجا ہے تا کہ اس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے ”۔ دین اسلام صرف جزیرۃ العرب ہی میں غالب نہ ہوا بلکہ پوری دنیا میں غالب ہوا۔ اور یہ عمل صرف نصف صدی کے اندر اندر پورا ہوگیا۔ یہ دین کسریٰ کی پوری مملکت پر غالب ہوگیا اور قیصر کی مملکت کے بھی بڑے حصے کو فتح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی اصول و فروع اور عقائد و احکام کے اعتبار سے یہ ہی دین سچا اور یہ ہی راہ سیدھی ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ لے کر آئے۔ 7 اس دین کو اللہ نے ظاہر میں بھی سینکڑوں برس تک سب مذاہب پر غالب کیا اور مسلمانوں نے تمام مذاہب والوں پر صدیوں تک بڑی شان و شوکت سے حکومت کی۔ اور آئندہ بھی دنیا کے خاتمہ کے قریب ایک وقت آنے والا ہے جب ہر چہار طرف دین برحق کی حکومت ہوگی۔ باقی حجت و دلیل کے اعتبار سے تو دین اسلام ہمیشہ ہی غالب رہا اور رہے گا۔ 8 یعنی اللہ اس دین کی حقانیت کا گواہ ہے اور وہ ہی اپنے فعل سے اس کو حق ثابت کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28{ ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ } ”وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو الہدیٰ اور دین حق دے کر“ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول محمد عربی ﷺ کو قرآن حکیم دے کر بھیجا ہے جو نوع انسانی کے لیے ہدایت کاملہ ہے : ؎ نوعِ انساں را پیام آخریں حامل اُو رحمۃ ٌللعالمین ! اقبالؔ مزید برآں ان کو سچا اور کامل دین بھی عطا فرمایا ہے ‘ جو عادلانہ نظام زندگی کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ { لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } ”تاکہ وہ غالب کر دے اسے ُ کل کے کل نظام زندگی پر۔“ گویا قبل ازیں اس سورت کی آیت 2 اور آیت 20 میں جس سیدھے راستے صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا کا ذکر ہے وہ راستہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

44 اس آیت کی تشریح کے لئے سورة توبہ کی آیت نمبر 33 کا حاشیہ نمبر 33 ملاحظہ فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

37۔ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا) اور اللہ کی گواہی کا ظہور دنیا میں یوں ہوا کہ اللہ نے آپ ﷺ کی رسالت پر دلائل قوی قائم کردیئے۔ بلحاظ اعجاز قرآنی بھی اور بلحاظ آپ ﷺ کے دوسرے کمالات اعجازی کے بھی (آیت) ” رسولہ “۔ کھلی ہوئی مراد حضرت محمد ﷺ سے ہے۔ (آیت) ” بالھدی “۔ سامان ہدایت یا قرآن۔ (آیت) ” دین الحق “۔ یعنی دین اسلام (آیت) ” لیظھرہ علی الدین کلہ “۔ یہ غلبہ معنوی حیثیت سے، یعنی بلحاظ قوت دلائل تو ہمیشہ ہی قائم رہا ہے۔ باقی مادی وصوری حیثیت سے بھی جب تک اہل دین میں صلاح ہے۔ برابر قائم رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–28

ترجمہ : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا جو واقعہ کے مطابق ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کو حدیبیہ کے سال حدیبیہ کی طرف نکلنے سے پہلے خواب میں دکھایا کہ آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب امن وامان کے ساتھ مکہ میں داخل ہو رہے ہیں اور حلق کرا رہے ہیں اور قصر کرا رہے ہیں، آپ ﷺ نے خواب کی اطلاع اپنے اصحاب کو دی تو آپ کے اصحاب بہت خوش ہوئے، چناچہ جب آپ کے اصحاب آپ کے ساتھ نکلے اور کافروں نے ان کو حدیبیہ میں روکا اور واپس ہوئے اور یہ واپسی ان پر گراں گزری اور بعض منافقین نے شک کیا تو یہ آیت نازل ہوئی، اس کا قول بالحق، صدق کے متعلق ہے یا رئویا سے حال ہے اور رئویا کا مابعد اس (رئویا) کی تفسیر ہے، تم لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شھیدًا وہ اللہ ایسا ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام مذاہب پر غالب کر دے۔ اور اللہ کافی گواہ ہے۔ بیہقی وغیرہ نے بروایت مجاہد مذکورۂ بالا سبب نزول بیان کیا ہے۔ لَقَدْ صَدَقَ صدق ماضی کا صیغہ ہے ‘ لیکن مراد ہے مستقبل اور چونکہ آنے والا واقعہ یقینی تھا ‘ اسلئے بصیغۂ ماضی اس کا ذکر کیا (گویا ایسا ہو ہی چکا) ۔ جوہری نے لکھا ہے : صدق و کذب (سچائی اور جھوٹ) قول میں بھی ہوتا ہے اور فعل میں بھی۔ اگر کوئی خبر واقع کے مطابق ہو تو اس کو صدق کہا جاتا ہے ‘ ورنہ کذب کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کوئی فعل اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور وہ اللہ ایسا ہے جس نے رسول اکرم کو توحید یا یہ کہ قرآن کریم اور سچا دین یعنی کلمہ شہادت کلمہ لا الہ الا اللہ دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے۔ چناچہ جب تک روئے زمین پر کوئی مسلمان موجود رہے گا قیامت قائم نہ ہوگی اور اللہ کافی گواہ ہے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی …: اس سے پہلی آیت :(لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق) اور یہ آیت :(ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق) دونوں آیتوں میں ”رسولہ“ کا لفظ واضح کر رہا ہے کہ یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مسجد حرام میں امن و اطمینان کے ساتھ داخل ہونے کا خواب سچا دکھایا ہے، بلکہ اس نے اپنے رسول کو ہدیات اور دین حق دے کر بھیجا ہی اس لئے ہے کہ وہ صرف مکہ نہیں بلکہ دین کو پوری زمین پر اور صرف جزیرہ عرب کے ادیان یہودیت، نصرانیت اور بت پرستی پر نہیں بلکہ دنیا کے تمام دینوں پر غالب کر دے اور یقیناً آپ امن و اطمینان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوں گے، مکہ اور جزیرہ عرب فتح ہوگا، پھر زمین کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

سے مراد حضرت محمد ﷺ یعنی تمام ادیان پر غالب کردے۔ دین کے معنی میں مصدر ہے اس میں واحد اور جمع دونوں برابر ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اپنے رسول کو تمام دین پر غالب کر دے یعنی جو دین مشروع کیا ہے دلیل کے ساتھ اس پر غالب کردے یعنی ہاتھ اور تلوار باقی ماندہ کو منسوخ کردیا۔ شھیدا تفسیر کے طور پر منصوب ہے باء زائدہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے لئے شہید کافی ہے اللہ تعالیٰ کی اپنے نبی کے حق میں شہادت نبی کریم ﷺ کی نبوت کی صحت کو معجزات کے ساتھ واضح کرتی ہغ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جس چیز کے ساتھ آ پکو بھیجا اس پر گواہ ہے کیونکہ کفار نے اس امر کا انکار کیا کہ وہ یہ لکھیں یہ وہ چیز ہے جس پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–28

1:۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر (رح) والبیہقی (رح) نے دلائل میں مجاہد رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں (خواب) دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ مکہ میں امن وامان سے داخل ہورہے ہیں اپنے سروں کو منڈاتے ہوئے اور ترشواتے ہوئے پھر جب مدینہ کے مقام پر قربانی کے جانور کو ذبح کیا تو آپ کے ساتھیوں نے کہا آپ کا خواب کہاں گیا یا رسول اللہ ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی (آیت ) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق “ (سے لیکر) فجعل من دون ذلک فتحا قریبا “ (بیشک اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا جو واقع کے مطابق ہے کہ تم لوگ مسجد حرام میں امن وامان کے ساتھ داخل ہوگے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ [ وہ، وہ ہے جس نے بھیجا ] رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى [ اپنے رسول کو اس ہدایت (قرآن ) کے ساتھ ] وَدِيْنِ الْحَقِّ [ اور الحق (اللہ تعالیٰ ) کے ضابطہ حیات کے ساتھ ] لِيُظْهِرَهٗ [ تاکہ وہ (رسول) غالب کردیں اس (دین ) کو ] عَلَي الدِّيْنِ [ نظام حیات پر ] كُلِّهٖ ۭ [ اس کے کل پر ] وَكَفٰى بِاللّٰهِ [ اور کافی ہے اللہ ] شَهِيْدًا [ بطور معائنہ کرنے والے کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اس دین کو دوسرے تمام دینوں پر غالب کردے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ پورا فرما دیا اس مضمون کی آیت سورة التوبہ میں بھی گزر چکی ہے وہاں تفسیر اور تشریح دیکھ لی جائے۔ ﴿وَ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًاؕ0028﴾ (اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر اللہ تعالیٰ کا گواہ ہونا کافی ہے) مشرکین نے صلح نامہ میں جو ھٰذا ما صالح علیہ محمد رسول اللّٰہ لکھنے سے انحراف کیا تو اس کی وجہ سے آپ کی نبوت و رسالت کے بارے میں کوئی فرق نہیں آتا۔ (تفسیر قرطبی 292 ج 16)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–29

العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ : خاتمہ سورت بربشارت غلبہ و ترقی اسلام مع بیان فضائل حضرات صحابہرضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق ...... الی ...... اجرا عظیما “۔ (ربط) سورة کا آغاز فتح مبین کی بشارت سے فرمایا گیا تھا اور یہ کہ وہ معاہدہ وصلح جو اللہ رب العزت کی طرف سے فتح مبین ہے بیشمار عنایات اور کرامات کا ذریعہ ہے، فتوحات اور غنائم سے مسلمان قوم عظمت اور سربلندی حاصل کرے گی روم اور فارس کی فتح کی بھی بشارت سنا دی گئی جس کو اللہ تعالیٰ نے خلفائے ثلثہ ؓ کے ہاتھوں پورا فرمایا ساتھ ہی حیلے اور بہانے بنا کر گھروں میں بیٹھے رہنے والوں منافقین کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

24:۔ ” ھو الذی “ جواب شبہہ کے بعد توحید اور اتباع رسول کی ترغیب۔ ” الہدی “ توحید۔ ” دین الحق ‘ دین اسلام (مدارک) ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو پیغام توحید اور دین اسلام دے کر بھیجا ہے تاکہ توحید اور دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب و فائق کرے۔ اور اللہ تعالیٰ اس وعدے پر خود شاہد ہے اور وہ اس وعدے کو ضرور پورا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا اور اس کی جھلک خود رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی زندگی میں دیکھ لی۔ دین اسلام نے گذشتہ ادیان کو منسوخ کردیا، اسلام کو علمی اور دلائل کے اعتبار سے باقی دینوں پر غالب فرمایا اور جس غیر مسلم قوم نے مسلمانوں سے ٹکر لی اسے مسلمانوں کے ہاتھوں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–28

واقعہ حدیبیہ کا خلاصہ آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس خواب کا ذکر کیا ہے جو آپ نے عمرہ ادا کرنے سے متعلق دیکھا تھا۔ آپ نے دیکھا کہ آپ مسجد حرام میں داخل ہوئے ہیں ، بیعت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی ہے ، اور پھر کچھ لوگ سر منڈوا رہے ہیں اور کچھ بال کتروا رہے ہیں ۔ جب حضور ﷺ نے اس خواب کا تذکرہ صحابہ کرام ؓ سے کیا تو وہ بیت اللہ شریف کی محبت میں بےتاب ہوگئے اور انہوں نے سمجھا کہ انہیں عنقریب بیت اللہ شریف کی زیارت نصیب ہوگی ۔ حضور ﷺ نے سفر مکہ کا عام اعلان فرما دیا اور لوگوں نیت یاری شروع کردی حتیٰ کہ تقریباً پندرہ سو صحابہ ؓ کی جماعت نے عمرے کا احرام باندھا اور مکہ معظمہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۝ 0 ۭ وَكَفٰى بِاللہِ شَہِيْدًا۝ 28 ۭ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–29

ا ؎ حال مقدرۃ لانہم فی حال و خولہم لم یکونوا محلقین و مقصرین وانما کان ہذا فی ثانی الحال ابن جریر۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا۔ (الفتح : 28) (وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے سارے دینوں پر غالب کرے، اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ ) کافروں کو تنبیہ اور مسلمانوں کو بشارت اس آیت کریمہ میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ سب سے پہلے کافروں کو تنبیہ ہے اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے۔ پس منظر اس کا یہ ہے کہ جب معاہدٔ صلح لکھا جارہا تھا تو آنحضرت ﷺ نے اپنے نام کے ساتھ رسول اللہ کا لفظ لکھوایا تو قریش کے وکیل نے اعتراض کیا کہ اگر ہم آپ کو اللہ تعالیٰ کا رسول مانتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے نبی معظم ﷺ کو نبوت، مکہ کی فتح اور دیگر فتوحات اس لیے عطا فرمائیں تاکہ اللہ کا دین غالب آجائے۔ قرآن مجید نے تین مقامات پر یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ ” اللہ “ نے اپنا رسول ہدایت اور دین کے ساتھ اس لیے مبعوث فرمایا ہے تاکہ دین اسلام تمام باطل ادیان پر غالب آجائے۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے حق غالب کرنے پر قادر ہے اور اس کی گواہی اپنے رسول اور دین کے بارے میں کافی ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ دین کے غلبے کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ دین اسلام کا کوئی قانون اور مسئلہ ایسا نہیں جسے دلائل کی بنیاد پر جھوٹا یا ناقابل عمل ثابت کیا جاسکے۔ دین ہمیشہ دلائل اور حقائق…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 28 : ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗٗ بِالْہُدٰی (اور وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے۔ کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت) ہدایت سے یہاں توحید مراد ہے۔ وَ دِیْنِ الْحَقِّ (اور سچا دین دے کر بھیجا) اس سے دین اسلام مراد ہے۔ لِیُظْہِرَہٗٗ (تاکہ وہ اس کو غالب کرے) بلند کرے۔ تفوق عنایت کرے۔ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ (تمام دینوں پر) الف لام جنس کا ہے۔ جنس ادیان پر۔ اس سے ادیان مشرکین اور اہل کتاب مراد ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ سچا کردیا۔ کوئی دین ایسا نہیں جس کو اسلام جتنا عزت و غلبہ ملا ہو۔ ایک قول یہ ہے : یہ نزول مسیح (علیہ السلام) کے وقت ہوگا جبکہ سطح زمین پر کوئی کافر نہ رہے گا۔ ایک قول یہ بھی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

حدیبیہ کی طرف نکلنے سے پہلے آپ ﷺ کا خواب 27 ۔ ” لقد صدق اللہ رسولہ الرویا بالحق لتد خلن المسجد الحرام ان شاء اللہ امینن “ نبی کریم ﷺ نے حدیبیہ کی طرف نکلنے سے پہلے مدینہ میں خواب میں دیکھا کہ آپ (علیہ السلام) اور آپ کے صحابہ کرام ؓ حرم میں امن کے ساتھ داخل ہورہے ہیں اور اپنا سر منڈوا رہے ہیں اور بال چھوٹے کر ارہے ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے اس کی خبر اپنے صحابہ کرام ؓ کو دی تو وہ خوش ہوگئے اور خواہش کی اس سال مکہ میں داخل ہوں۔ پھر جب وہ واپس لوٹے اور مکہ میں داخل نہ ہوسکے تو یہ بات ان پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ مجمع بن حارثہ انصاری سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–28

27۔ 28۔ اللہ کے رسول کے جس خواب کا ذکر اوپر گزرا جب حدیبیہ پر اسلامی قافلہ کے روکے جانے سے اس حدیبیہ کے سفر میں اس خواب کی تعبیر ظہور میں نہیں آئی تو اس خواب کے باب میں منافق طرح طرح کی باتیں بناتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ سچا خواب دکھایا ہے کہ تم مسلمان لوگ مسجد حرام میں امن وامان سے جاؤگے اور عمرہ کی سب باتوں سے فارغ ہو کر احرام کی حالت سے باہر آنے کے لئے کوئی سر منڈوائے گا اور کوئی بال کترائے گا اس خواب کی تعبیر کو اگلے سال تک ملتوی رکھا کہ اس سال اللہ تعالیٰ نے صلح جو کرا دی ہے جو فتح مکہ کا گویا پیش خیمہ ہے اس صلح کی مصلحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–28

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق) ” یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا۔ “ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک خواب دیکھا اور آپ نے اپنے اصحاب کرام کو اس خواب سے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب مکہ میں داخل ہو کر بیت اللہ کا طواف کریں گے۔ جب حدیبیہ کے دن ان کے درمیان صلح ہوئی اور اہل ایمان مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس لوٹے تو اس بارے میں ان سے بہت سی باتیں صادر ہوئیں حتیٰ کہ انہوں نے ان باتوں کا رسول اللہ ﷺ کے سامنے بھی اظہار کیا چناچہ انہوں نے آپ سے عرض کیا : کیا آپ نے ہمیں یہ خبر نہیں دی تھی کہ ہم بیت اللہ کی زیارت کے لئے آئیں گے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 27–29

سر مونڈنا یا کتراناعبادت احرام میں داخل ہے قول باری ہے (لتد خلن المسجد الحرام ان شآء اللہ امنین محلقین رئوسکم ومقصرین۔ تم لوگ مسجد حرام میں انشاء اللہ ضرور داخل ہوگے اور امن وامان کے ساتھ سرمونڈ کر یا بال کترا کر) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ وہ امن وامان کے ساتھ احرام باندھے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہوجائیں گے جب اس کے ساتھ سر مونڈنے اور بال چھوٹے کرنے کا ذکر ہوا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ حلق اور تقصیہ احرام کی عبادت میں داخل ہیں اور ان کے ذریعے ہی ایک شخص احرام سے باہر آسکتا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو ان دونوں کا یہاں ذکر کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 73] نعمت دین و ہدایت کی نوازش کا ذکر وبیان : سو اس سے نعمت دین اور محور حق سے سرفرازی کی نعمت کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے، اور اسی کے ضمن میں فتح مکہ کی بشارت سے بھی سرفراز فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ جس کی لامحدود حکمت وقدرت اور بےانتہا علم و فضل کے کچھ مظاہر تم دیکھ اور سن چکے ہو، اسی نے اپنے پیغمبر کو ہدایت کاملہ اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، تاکہ تاقیام قیامت دنیا کے لئے راہ حق و ہدایت کو، تمام و کمال واضح کردیا جائے، سو اب نور ہدایت کاملہ اور دین حق وہی ہے جو اس نبیئِ برحق کے ذریعے دنیا کو عطا فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–29

خواب میں بشارت تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی کی بشارت دی ہے۔ ہوا یوں کہ جب 6 ھ ؁ ذیقعدہ کو رسول ﷺ حدیبیہ سے مدینہ کو واپس تشریف لائے تو ذی الحجہ اور محرم وہاں رکے، ماہ صفر میں آپ ﷺ نے خیبر پر حملہ کیا اور اس کو فتح کیا پھر ذیعقدہ 7 ھ ؁ کو آپ ﷺ عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ذوالحلیفہ سے آپ ﷺ نے احرام باندھا اور قربانی کے جانور ساتھ لیے اور یوں آپ ﷺ بےخوف و خطر مکہ میں داخل ہوئے اور جو کچھ آپ ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا حرف بحرف سچ ثابت ہوا اسی خواب کا ذکر کیا گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و طاقت کا ذکر اس طرح کیا کہ میں نے لوگوں کی ہدایت کے لیے عظیم الشان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–29

آیات 27 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ اللہ نے اپنے رسول کو جو خواب دکھلایا وہ حق ہے اور سچا ہے اور تم لوگ انشاء اللہ ضرور مسجد حرام میں داخل ہوں گے اور امن کے ساتھ بغیر خوف خطر طواف کرو گے یہاں تعلیم کے لیے آئندہ کے ساتھ خود ذات باری نے جو ہر آن شے پر قادر ہے انشاء اللہ فرمایا تو ہر مسلمان کو آئندہ کی بات کے ساتھ انشاء اللہ ضرور کہناچاہیے اور پھر اسے پورا کرنے کی بھرپور سعی کرنا چاہیے ، یہ تاثر کہ جملہ انشائیہ کہا ہے نہ بھی پورا کیا تو خیر ہے غلط ہے۔ اور سرمنڈاؤ گے اور قصر کرو گے تمہیں کسی کا کوئی خوف خطرہ نہ ہوگا چناچہ اگلے سال ہی عمرہ نصیب ہوگیا اور سال بعد مکہ فتح ہوکرسب روکاٹیں ہمیشہ کے لیے ختم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 27–28

ف 1 ہوا یہ کہ حدیبیہ روانہ ہونے سے پہلے مدینہ منورہ آنحضرت نے خواب دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ سمیت اطمینان سے مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں اور عمرہ کے ارکانب جا لا رہے ہیں۔ کوئی حلق کر رہا ہے اور کوئی تقصیر یعنی بال ترشوارہا ہے پیغمبر کا خوب چونکہ جھوٹا نہیں ہوسکتا اس لئے مسلمان خوش ہوئے اور عموماً یہ سمجھے کہ اسی سال مکہ میں داخلہ ہوگا لیکن جب مکہ میں داخل ہوئے بغیر حدیبیہ سے پلٹے تو دلوں میں تردد پیدا ہوا اور منافقوں کو یہ طعنہ دینے کا موقعہ ملا کہ پیغمبر کا خواب غلط نکلا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر کے واضح فرمایا کہ پیغمبر کو یہ خواب ہم نے دکھایا اور وہ سچا ہے جو یقینا پورا ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(48:28) ھو : ضمیر شان۔ جو اللہ کی طرف راجع ہے جملہ مابعد اس کی تفسیر ہے۔ دین الحق۔ دین اسلام ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ دین الحق ای بدین الحق۔ لیظھرہ۔ لام تعلیل کا۔ ہظھر مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) واحد مذکر غائب۔ اظھار (افعال) مصدر۔ بمعنی غالب کرنا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب جو دین الحق کی طرف راجع ہے ۔ کہ اس (دین حق یعنی دین اسلام) کو غالب کردے۔ علی الدین کلہ : ای علی الادیان کلہا۔ یعنی تمام (دوسرے) دینوں پر۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مقبول ﷺ کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ تمام مذاہب پر غالب کر دے۔ جو مذہب (گذشتہ زمانے میں) حق تھے۔ یعنی اللہ کی طرف آئے تھے) ان کو منسوخ کردینے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–29

لغات القرآن آیت نمبر (22 تا 26) ۔ لو لو الادبار (وہ ضرور پیٹھ پھیریں گے) ۔ قد خلت (یقینا گذر گئی) ۔ بطن (پیٹ۔ درمیان) ۔ اظفر (اس نے قابو کیا) ۔ معکوف (رکا ہوا) ۔ ان یبلغ (یہ کہ وہ پہنچے) ۔ محلہ (اپنی جگہ) ۔ ان تطئوا (یہ کہ تم روند ڈالو ) ۔ معرۃ (دکھ۔ گناہ۔ تکلیف) ۔ لو تز یلوا (اگر وہ الگ ہوجائے۔ ٹل جائے) ۔ الحمیتہ (غیرت ۔ ضد۔ ہٹ) ۔ الزم (اس نے لازم کردیا) ۔ احق (زیادہ حق دار) ۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے واقعات اور اس کی مصلتحوں کو بیان کیا جارہا ہے۔ ارشاد ہے کہ بیشک اللہ نے کفار کو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جوابی کاروائی کرنے سے اور جذباتی لمحات میں اہل ایمان کو کفار پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 28–29

صحابہ کرام علیہم الرضوان کے خصائص۔ (ف 1) اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی رسالت کو اپنی گواہی سے ثابت کیا، ان آیتوں میں محمد ﷺ کا نام بھی اللہ نے لوگوں کو بتلایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جن رسول کی رسالت کو اللہ نے اپنی گواہی سے ثابت کیا ہے ان کا نام محمد ﷺ ہے آگے اللہ نے اپنے رسول کے صحابیوں کے اوصاف بیان فرمائے کہ وہ آپس میں تو بڑی نرم دلی سے رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر مہربانی و محبت کرنے والے ایسی کہ جیسی باپ بیٹے میں ہو، اور یہ محبت اس حد تک پہنچ گئی کہ جب ایک مومن دوسرے کو دیکھے تو فرط محبت سے مصافحہ ومعانقہ کرے اور جوش اسلام کے سبب سے منکر شریعت لوگوں کے ساتھ زور آوری سے پیش آتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[30] یہاں یہ بات ارشاد فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ معاہدہ حدیبیہ لکھتے وقت کفار نے رسول اللہ ﷺ کے اسم مبارک کے ساتھ رسول اللہ لکھنے پر اعتراض کیا تھا جیسا کہ حاشیہ 23 میں گزر چکا ہے۔ اس پر فرمایا گیا ہے کہ آپ کا رسول ہونا تو ایک حقیقت ہے جس پر اللہ کی گواہی کافی ہے، اس ایک صلح نامے پر اس کے درج نہ ہونے سے کیا ہوتا ہے اور اللہ کی گواہی کا ظہور دنیا میں یوں ہوا کہ اللہ نے آپ کی رسالت پر دلائل قوی قائم کر دئیے، بلحاظ اعجاز قرآنی بھی اور بلحاظ آپ کے دوسرے کمالات اعجازی کے بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

غالب تردین 2: فرمایا : کہ منافقین کو اس میں شبہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ کا یہ خواب سچا ثابت ہوگا یا نہیں ۔ اور یہاں یہ طے شدہ حقیقت ہے ۔ کہ ان کو ہدایت سے بہرہ ور کرکے بھیجا گیا ہے ۔ اور دین حق سے نوازا گیا ہے لہٰذا ان کو اس حد تک کامیابی ہوگی ۔ کہ ان کا دین تمام ادیان یہ غالب آجائے گا ۔ اور تمام مذاہب ان کے پیش کردہ اصولوں کو اپنے میں جذب کرلیں گے ۔ اور ان کے لئے زندگی کی صرف یہی صورت باقی رہ جائیگی ۔ کہ یا تو اسلام کی صداقتوں کے سامنے سرتسلیم جھکا دیں یا مث جائیں حل لغات :۔ المسجدالحرام ۔ بیت اللہ اشداء ۔ جمع شدید ۔ بمعنی سخت ودلیر وشیر ورغلہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین کے ساتھ اور ہدایت ودین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین حق کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کردے اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے والا اور اللہ تعالیٰ بس ہے حق ثابت کرنے والا۔ ہدایت یعنی قرآن۔ دین حق یعنی اسلام، غلبہ کا مطلب یہ ہے کہ تمام ادیان مروجہ کا ناسخ ہے یا دلیل کے اعتبار سے ہر دین غالب ہے اور شوکت وقوت کے اعتبار سے بھی غالب ہے اگر مسلمانوں کی عملی حالت درست اور صحیح ہو۔ بعض علما نے فرمایا یہ غلبہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوگا اور اللہ کافی ہے گواہی دینے والا یعنی اس بات پر جو وعدہ فرمایا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی گواہی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–29

ف 2۔ باعتبار حجت و دلیل کے تو ہمیشہ اور باعتبار شوکت و سلطنت اہل اسلام کے بشرط صلاح اہل دین کے اور چونکہ یہ شرط صحابہ میں پائی جاتی تھی اس لئے یہ آیت اثبات رسالت کے ساتھ بشارت بھی ہوگئی، صحابہ کے لئے فتوحات عامہ کی، چناچہ ایسا ہی واقع ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

(1) آپ ﷺ کی بعثت کے بعد زندگی کا پہلا دور نبوت و رسالت کے سال اول سے شروع ہو کر تیسرے سال تک کا مرحلہ پس پردہ دعوت کا مرحلہ ہے۔ (2) آپ ﷺ کی بعثت کے بعد آپ ﷺ کی مکی زندگی کا دوسرا دور چوتھے سال کے شروع اور دسویں سال کے آخر تک قرار پاتا ہے اور یہ دور بھی اہل مکہ میں کھلم کھلا دعوت و تبلیغ کا دور قرار دیا جاسکتا ہے جس میں مخالفت زور پر آگئی۔ (3) آپ ﷺ کی بعثت کے بعد کی مکی زندگی کا تیسرا دور نبوت کے گیارہویں سال سے شروع ہو کر ہجرت مدینہ تک کا دور ہے اور یہ وہ دور ہے جس میں مکہ کے اندر مخالفت اپنی آخری حدود تک پہنچ گئی اور بیرون مکہ دعوت کی مقبولیت اور پھیلائو بڑھنا شروع ہوگیا جس میں روز افزوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

هُوَ الَّذِي أَرْ‌سَلَ رَ‌سُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ (He is the One who has sent His Messenger ﷺ with Guidance and the religion of truth, so that He makes it prevail over all religions....48:28). In the preceding verses, promises were made about conquests and spoils of war; reference was made to the special merits of the participants of Hudaibiyah and general merits of all the noble Companion ؓ ; and glad tidings were given to them. Now at the conclusion of the Surah all these themes are summarized and emphasized. Because these blessings were showered and the glad tidings were given…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

51 The reason why this thing has been mentioned here is that when at Hudaibiyah the peace treaty was going to be written down, the disbelievers had objected to the use of the words Rasul-Allah (Messenger of Allah) with the name of the Holy Prophet, and on their insistence the Holy Prophet himself had wiped off these words from the document. At this Allah says: "Our Messenger's being a Messenger is a reality which remains unaffected whether someone believes in it or not. If some people do not believe in it, they may not, for "AIIah is enough for a witness" over it. Their denial will not change…

Read the full tafseer →