Explained with ayahs 27–28
رسول اللہ ﷺ کا خواب
رسول اللہ ﷺ نے خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ میں گئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا۔ آپ نے اس کا ذکر اپنے اصحاب سے مدینہ شریف میں ہی کردیا تھا حدیبیہ والے سال جب آپ عمرے کے ارادے سے چلے تو اس خواب کی بنا پر صحابہ کو یقین کامل تھا کہ اس سفر میں ہی کامیابی کے ساتھ اس خواب کا ظہور دیکھ لیں گے۔ وہاں جا کر جو رنگت بدلی ہوئی دیکھی یہاں تک کہ صلح نامہ لکھ کر بغیر زیارت بیت اللہ واپس ہونا پڑا تو ان صحابہ پر نہایت شاق گذرا۔ چناچہ حضرت عمر نے تو خود حضور ﷺ سے یہ کہا بھی کہ آپ نے تو ہم سے فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور طواف سے مشرف ہوں گے آپ نے فرمایا یہ صحیح ہے لیکن یہ تو میں نے…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 47
یہ اس سوال کا جواب ہے جو بار بار مسلمانوں کے دلوں میں کھٹک رہا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب تو یہ دیکھا تھا کہ آپ مسجد حرام میں داخل ہوئے ہیں اور بیت اللہ کا طواف کیا ہے، پھر یہ کیا ہوا کہ ہم عمرہ کیے بغیر واپس جا رہے ہیں۔ اس کے جواب میں اگرچہ رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا تھا کہ خواب میں اسی سال عمرہ ہونے کی تصریح تو نہ تھی، مگر اس کے باوجود ابھی تک کچھ نہ کچھ خلش دلوں میں باقی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے خود یہ وضاحت فرمائی کہ وہ خواب ہم نے دکھایا تھا، اور وہ بالکل سچا تھا، اور وہ یقینا پورا ہو کر رہے گا۔
سورة الْفَتْح 48
یہاں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے وعدے کے ساتھ "…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھلایا ہے جو مطابق واقعہ کے ہے تم لوگ مسجد حرام میں انشاء اللہ ضرور جاؤ گے امن وامان کے ساتھ کہ تم میں کوئی سر منڈاتا ہوگا کوئی بال کتراتا ہوگا تم کو کسی طرح کا اندیشہ نہ ہوگا (چنانچہ سال آئندہ ایسا ہی ہوا اور اس سال سے تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ) سو اللہ تعالیٰ کو وہ باتیں (اور حکمتیں) معلوم ہیں جو تم کو معلوم نہیں (ان حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ) پھر اس (خواب کے واقع ہونے) سے پہلے تم کو ایک قریبی فتح (خیبر کی) دے دی (تاکہ اس سے مسلمانوں کو قوت اور سامان حاصل ہوجائے اور وہ پورے اطمینان کے ساتھ عمرہ ادا کریں جیسا کہ ایسا ہی واقع ہوا) وہ…
Read the full tafseer →9 آگے آیات 29-27 کا مضمون
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں پہلے یہ واضح فرمایا ہے کہ رسول نے جو زیادہ دیکھی وہ بالکل سچی تھی۔ اس کی تعبیر کے ظہور میں جو تاخیر ہوئی وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل میں اسلام اور مسلمانوں کے غلبہ کی جو پیشین گوئیاں ہیں ان کا حوالہ ہے تاکہ مسلمانوں کو تسلی بھی حال ہو اور وہ اپنے آپ کو ان صفات سے آراستہ بھی کریں جو پچھلے صحیفوں میں ان کی بیان ہوئی ہیں اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-10 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق لتدخلن المسجد احلرام ان شآء اللہ امنین محلقین رء وسکم و مقصرین لاتخافون فعلم…
Read the full tafseer →27۔ 1 واقعہ حدیبیہ سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں مسلمانوں کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہو کر طواف وعمرہ کرتے ہوئے دکھا گیا نبی کا خواب بھی بمنزلہ وحی ہی ہوتا ہے تاہم اس خواب میں یہ تعیین نہیں تھی کہ یہ اسی سال ہوگا لیکن نبی ﷺ اور مسلمان اسے بشارت عظیمہ سمجھتے ہوئے عمرے کے لیے فورا ہی آمادہ ہوگئے اور اس کے لیے عام مندی کرا دی گئی اور چل پڑے بالآخر حدیبیہ میں وہ صلح ہوئی جس کی تفصل ابھی گزری دراں حالیکہ اللہ کے علم میں اس خواب کی تعبیر آئندہ سال تھی جیسا کہ آئندہ سال مسلمانوں نے نہایت امن کے ساتھ یہ عمرہ کیا اور اللہ نے اپنے پیغمبر کے خواب کو سچا کر دکھایا۔
27۔ 2 یعنی اگر حدیبیہ کے مقام پر صلح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
29: جیسا کہ اس سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، حضور اقدس ﷺ نے حدیبیہ کے سفر سے پہلے خواب دیکھا تھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام مسجد حرام میں عمرے کی غرض سے داخل ہوئے ہیں، اسی خواب میں احرام کھولنا پڑا اور عمرہ ادا نہ کیا جاسکا، تو بعض حضرات کو یہ خیال ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا خواب تو وحی ہوتا ہے، اور عمرہ کئے بغیر واپس جانا اس خواب کے مطابق نہیں ہے، اس آیت میں اس خیال کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ وہ خواب یقیناً سچا تھا لیکن اس میں مسجد حرام میں داخلے کا کوئی وقت متعین نہیں کیا گیا تھا، اب بھی وہ خواب سچا ہے، اور اگرچہ اس سفر میں عمرہ نہیں ہوسکا لیکن انشاء اللہ وہ خواب عنقریب پورا ہوگا، چنانچہ اگلے سال وہ…
Read the full tafseer →یہ بات پہلے گزر گئی ہے کہ بعض مومنین جو مدینہ سے رسول اللہ ﷺ کا خواب سن کر نکلے تھے ان پر اس امر کا بہت برا اثر ہوا تھا کہ وہ اس سال مسجد حرام میں داخل نہ ہو سکے۔ اور انہیں مسجد حرام سے لوٹا دیا گیا۔ یہاں اس خواب کی صداقت کی تصدیق کی جاتی ہے کہ یہ خواب اللہ کی طرف سے تھا اور یہ سچا تھا۔ اور یہ واقع ہونے والا ہے بلکہ اس سے بڑا واقعہ پیش آنے والا ہے۔
رہی یہ بشارت کہ یہ مسجد حرام میں پرامن داخل ہوں گے اور سر منڈوائیں گے اور بال ترشوائیں گے اور بےخوف و خطر عمرہ ادا کریں گے تو یہ ایک سال بعد ہوگیا تھا۔ اور صلح حدیبیہ کے دو سال بعد تو بطریق اکمل ہوگیا تھا جب مکہ ہی فتح ہوگیا اور پورے مکہ میں اللہ…
Read the full tafseer →3 ابتدائے سورت میں ذکر ہوچکا ہے کہ مدینہ میں حضور ﷺ نے خواب دیکھا تھا کہ ہم مکہ میں داخل ہوئے اور سر منڈا کر اور بال کتروا کر حلال ہو رہے ہیں۔ ادھر اتفاق سے آپ کا قصد اسی سال عمرہ کا ہوگیا۔ صحابہ نے عموماً یہ خیال جما لیا کہ اسی سال ہم مکہ پہنچیں گے اور عمرہ ادا کریں گے۔ جس وقت صلح مکمل ہو کر حدیبیہ سے واپسی ہوئی اور بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہم امن وامان سے مکہ میں داخل ہوں گے اور عمرہ کریں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ امسال ایسا ہوگا۔ عرض کیا نہیں۔ فرمایا تو بیشک یوں ہی ہو کر رہے گا۔ تم امن وامان سے مکہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف…
Read the full tafseer →آیت 27 { لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّئْ یَا بِالْحَقِّ } ”اللہ نے اپنے رسول کو بالکل سچا خواب دکھایا حق کے ساتھ۔“
یہ اس خواب کا ذکر ہے جس کی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ نے عمرے کا قصد فرمایا تھا اور مسلمانوں کو ساتھ چلنے کے لیے ترغیب دی تھی۔ حضور ﷺ نے خواب میں خود کو مسلمانوں کے ساتھ عمرہ کرتے ہوئے دیکھا تھا اور آپ ﷺ نے اپنے اس خواب کا تذکرہ صحابہ رض سے سرعام کیا تھا۔ چونکہ رسول کا خواب بھی وحی کے درجے میں ہوتا ہے اس لیے جب صلح حدیبیہ کے نتیجے میں عمرہ اگلے سال پر ملتوی ہوگیا تو ایسی صورت میں حضور ﷺ کے خواب کے بارے میں وضاحت ضروری تھی۔ مبادا کسی کے ذہن میں یہ شبہ جنم لیتا کہ ‘ نعوذ باللہ ‘…
Read the full tafseer →41 عمرہ کے خواب کی حقیقت :۔ کافر یا منافقین تو درکنار خود بعض مسلمانوں کو بھی اس بات میں تردد تھا کہ نبی کا خواب تو وحی ہوتا ہے۔ پھر یہ کیا معاملہ ہے کہ ہمیں عمرہ سے روک دیا گیا ہے۔ اور خود رسول اللہ اس شرط کو منظور فرما رہے ہیں۔ اس کا ایک جواب تو رسول اللہ نے سیدنا عمر کو دے دیا تھا کہ : میں نے یہ کب کہا تھا کہ یہ عمرہ اسی سال ہوگا (یعنی خواب میں وقت کی تعیین نہیں کی گئی تھی) اور دوسرا جواب خود اللہ تعالیٰ نے دے دیا کہ پیغمبر کا خواب فی الواقع سچا تھا اور ہم نے ہی دکھایا تھا وہ ضرور پورا ہوگا۔ تم یقیناً امن وامان کے ساتھ حرم میں داخل ہو کر عمرہ ادا کرو گے۔ تم سر منڈاؤ گے اور بال کتراؤ گے۔…
Read the full tafseer →35۔ یعنی بالکل امن وامان کے ساتھ، بغیر کسی خطرہ کے۔ (آیت) ” المسجد الحرام “۔ یہاں بھی مراد خانہ کعبہ اور اس کے ملحقات وتوابع ہیں۔ (آیت) ” محلقین رؤسکم ومقصرین “۔ حلق۔ (سرکے بال منڈانا) اور قصر (سر کے بال کترانا) شعائر حج وعمرہ میں سے ہیں۔ (آیت) ” لقد ..... بالحق “۔ مطلب یہ ہے کہ نفس مشاہدہ جو رسول اللہ ﷺ کو خواب میں کرایا گیا۔ وہ بالکل سچا تھا۔ یعنی یہی کہ آپ مع مومنین یقیناً زیارت جو طواف کریں گے لیکن خواب میں یہ تو نہ تھا کہ یہ اسی سال واقع ہوگا۔ آخر آپ ﷺ نے ایک سال بعد ذی قعدہ 07 ھ میں عمرہ ادا فرمایا۔
36۔ (اس خواب کی تعبیرفورا نہ پوری ہونے کی تلافی کے طور پر) (آیت) ” فتحاقریبا “۔ مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ترجمہ : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا جو واقعہ کے مطابق ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کو حدیبیہ کے سال حدیبیہ کی طرف نکلنے سے پہلے خواب میں دکھایا کہ آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب امن وامان کے ساتھ مکہ میں داخل ہو رہے ہیں اور حلق کرا رہے ہیں اور قصر کرا رہے ہیں، آپ ﷺ نے خواب کی اطلاع اپنے اصحاب کو دی تو آپ کے اصحاب بہت خوش ہوئے، چناچہ جب آپ کے اصحاب آپ کے ساتھ نکلے اور کافروں نے ان کو حدیبیہ میں روکا اور واپس ہوئے اور یہ واپسی ان پر گراں گزری اور بعض منافقین نے شک کیا تو یہ آیت نازل ہوئی، اس کا قول بالحق، صدق کے متعلق ہے یا رئویا سے حال ہے اور رئویا کا مابعد اس (رئویا) کی تفسیر ہے، تم لوگ…
Read the full tafseer →لقد صدق اللہ رسولہ الرؤیا بالحق لتدخلن المسجد الحرام انشاء اللہ امنین محلقین رء وسکم ومقصرین لاتخافون فعلم ما لم تعلموا فجعل من دون ذلک فتحًا قریباً بیشک اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا جو واقعہ کے مطابق ہے کہ تم لوگ مسجد حرام (یعنی مکہ) میں امن امان کے ساتھ داخل ہو گے ‘ تم میں سے کوئی سرمنڈاتا ہوگا اور کوئی بال چھوٹے کراتا ہوگا ‘ تم کو کسی طرح کا اندیشہ نہ ہوگا۔ سو اللہ کو وہ باتیں معلوم ہیں جو تم کو معلوم نہیں ‘ پھر اس سے پہلے لگتے ہاتھ ایک فتح دے دی۔
Read the full tafseer →بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بالکل سچا خواب دکھایا جس وقت رسول اکرم نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ تم لوگ دشمن سے امن وامان کے ساتھ انشاء الہ مسجد حرام میں ضرور جاؤ گے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس خواب کو بالکل واقعہ کے مطابق سچا کر کے دکھایا۔
اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ آئندہ سال یہ خواب پورا ہوگا اور تم نہیں جانتے اور پھر اس نے اس وقوع تعبیر سے پہلے لگے ہاتھ فتح خیبر دے دی۔
شان نزول : لَـقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بالْحَقِّ (الخ)
مقام حدیبیہ میں رسول اکرم کو یہ خواب نظر آیا کہ آپ اور آپ کے ساتھی مکہ مکرمہ میں امن وامان کے ساتھ داخل ہوں گے کہ کوئی سر منڈاتا ہوگا اور کوئی بال…
Read the full tafseer →(1) لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق : اس کی ترکیب دو طرح سے کی جاتی ہے، ایک یہ کہ ”صدق اللہ“ فعل اور فاعل ہے،”رسولہ“ اس کا مفعول بہ ہے اور ”الرء یا“ سے پہلے حرف جار ”فی“ محذوف ہے، جس کے حذف کی وجہ سے ”الرء یا“ منصوب ہے، اسے منصوب بنزع الخافض کہتے ہیں :”ای فی الرویا“ ترجمہ اسی ترکیب کے مطابق کیا گیا ہے کہ بلا شبہ یقینا اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں حق کے ساتھ سچی خبر دی یا سچ کہا۔ اس کی مثال یہ آیت ہے :(من المومنین رجال صدقوا ما ماھدوا اللہ علیہ) (الاحزاب : 23)”ای فی ماعاھدوا اللہ علیہ“ ”مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے اس بات میں سچ کہا جس پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا۔“ دوسری ترکیب یہ…
Read the full tafseer →قتادہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ وہ مکہ مکرمہ میں اس حالت میں داخل ہوں گے جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں قریش سے صلح کرلی تو منافقوں کو شک ہوا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ مکہ مکرمہ میں ضرور داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ فرمایا کہ وہ اس سال کے علاوہ کسی اور سال میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کا خواب سچا ہے۔ (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت ابوبکر صدیق نے ہی یہ بات کی تھی کہ خواب کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں ہوتا آپ ضرور اس میں داخل ہوں گے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ خواب حدیبیہ کے متعلق ہی تھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
1:۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر (رح) والبیہقی (رح) نے دلائل میں مجاہد رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں (خواب) دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ مکہ میں امن وامان سے داخل ہورہے ہیں اپنے سروں کو منڈاتے ہوئے اور ترشواتے ہوئے پھر جب مدینہ کے مقام پر قربانی کے جانور کو ذبح کیا تو آپ کے ساتھیوں نے کہا آپ کا خواب کہاں گیا یا رسول اللہ ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی (آیت ) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق “ (سے لیکر) فجعل من دون ذلک فتحا قریبا “ (بیشک اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا جو واقع کے مطابق ہے کہ تم لوگ مسجد حرام میں امن وامان کے ساتھ داخل ہوگے…
Read the full tafseer →لَـقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ [ بیشک سچ دکھایا اللہ نے ] رَسُوْلَهُ [ اپنے رسول کو ] الرُّءْيَا [ وہ خواب ] بِالْحَقِّ ۚ [ حق کے ساتھ ] لَتَدْخُلُنَّ [ تم لوگ لازما داخل ہوگے ] الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ [ مسجد حرام میں ] اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ [ اگر چاہا اللہ نے ] اٰمِنِيْنَ ۙ [ امن میں ہونے والے ] مُحَلِّقِيْنَ [ مونڈنے والے ہوتے ہوئے ] رُءُوْسَكُمْ [ اپنے سروں کو ] وَمُقَصِّرِيْنَ ۙ [ اور تراشنے والے ہوتے ہوئے ] لَا تَخَافُوْنَ ۭ [ تم لوگ خوف نہیں کروگے ] فَعَلِمَ [ پھر اس نے جانا ] مَا لَمْ تَعْلَمُوْا [ اس کو جو تم لوگ نہیں جانتے تھے ] فَجَــعَلَ [ تو اس نے مقرر کیا ] مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ [ اس کے علاوہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا اس نے آپ ﷺ کو ہدایت اور حق کے ساتھ بھیجا
مفسرین نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حدیبیہ والے سفر میں روانہ ہونے سے پہلے ہی مدینہ منورہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خواب دکھا دیا گیا تھا کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ امن وامان سے مسجد حرام میں داخل ہوں گے اور وہاں کچھ لوگ سر مونڈیں گے اور کچھ لوگ بال کتروائیں گے آپ نے یہ خواب صحابہ کو بتادیا تھا خواب سن کر سب بہت خوش ہوئے اور اس امید پر روانہ ہوگئے کہ اس سال مکہ معظمہ میں داخل ہوں گے اور عمرہ نصیب ہوگا جب حدیبیہ میں پہنچے اور مشرکین مکہ آڑے آگئے جس کی وجہ سے صلح کرلی گئی اور مکہ معظمہ میں داخل ہوئے بغیر واپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ :
خاتمہ سورت بربشارت غلبہ و ترقی اسلام مع بیان فضائل حضرات صحابہرضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق ...... الی ...... اجرا عظیما “۔
(ربط) سورة کا آغاز فتح مبین کی بشارت سے فرمایا گیا تھا اور یہ کہ وہ معاہدہ وصلح جو اللہ رب العزت کی طرف سے فتح مبین ہے بیشمار عنایات اور کرامات کا ذریعہ ہے، فتوحات اور غنائم سے مسلمان قوم عظمت اور سربلندی حاصل کرے گی روم اور فارس کی فتح کی بھی بشارت سنا دی گئی جس کو اللہ تعالیٰ نے خلفائے ثلثہ ؓ کے ہاتھوں پورا فرمایا ساتھ ہی حیلے اور بہانے بنا کر گھروں میں بیٹھے رہنے والوں منافقین کی…
Read the full tafseer →23:۔ ” لقد صدق “ یہ ایک شبہہ کا جواب ہے، شبہہ یہ تھا کہ حضرت رسول خدا ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام ؓ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور سر منڈائے اور بال کٹوائے آپ نے یہ خواب صحابہ ؓ کے سامنے بیان کیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ یہ خواب آپ نے سفر عمرہ سے پہلے دیکھا تھا، اس لیے صحابہ ؓ نے یہی سمجھا کہ آپ کا خواب اسی سال پورا ہوگا۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا آپ کو مع صحابہ کرام ؓ مقام حدیبیہ سے واپس ہونا پڑا تو جواب ارشاد فرمایا کہ اللہ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو سچا خواب دکھایا تھا اور وہ خواب لا محالہ پورا ہو کر رہے گا۔ اراہ الریا الصادقۃ (روح) ۔ تم نے یہ سمجھ لیا کہ خواب اسی سال پورا ہوگا، حالانکہ اس کیلئے سال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
واقعہ حدیبیہ کا خلاصہ
آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس خواب کا ذکر کیا ہے جو آپ نے عمرہ ادا کرنے سے متعلق دیکھا تھا۔ آپ نے دیکھا کہ آپ مسجد حرام میں داخل ہوئے ہیں ، بیعت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی ہے ، اور پھر کچھ لوگ سر منڈوا رہے ہیں اور کچھ بال کتروا رہے ہیں ۔ جب حضور ﷺ نے اس خواب کا تذکرہ صحابہ کرام ؓ سے کیا تو وہ بیت اللہ شریف کی محبت میں بےتاب ہوگئے اور انہوں نے سمجھا کہ انہیں عنقریب بیت اللہ شریف کی زیارت نصیب ہوگی ۔ حضور ﷺ نے سفر مکہ کا عام اعلان فرما دیا اور لوگوں نیت یاری شروع کردی حتیٰ کہ تقریباً پندرہ سو صحابہ ؓ کی جماعت نے عمرے کا احرام باندھا اور مکہ معظمہ کی طرف…
Read the full tafseer →لَـقَدْ صَدَقَ اللہُ رَسُوْلَہُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ 0 ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَاۗءَ اللہُ اٰمِنِيْنَ 0 ۙ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ 0 ۙ لَا تَخَافُوْنَ 0 ۭ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا 27
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ا ؎ حال مقدرۃ لانہم فی حال و خولہم لم یکونوا محلقین و مقصرین وانما کان ہذا فی ثانی الحال ابن جریر۔ 12 منہ
Read the full tafseer →لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّئْ یَا بِالْحَقِّ ج لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَالْحَرَامَ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ لا مُحَلِّقِیْنَ رُئُ وْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَ لا لاَ تَخَافُوْنَ ط فَعَلِمَ مَالَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًا۔ (الفتح : 27)
(یہ حقیقت ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو مبنی برحقیقت خواب دکھایا تھا، تو تم مسجد حرام میں اللہ نے چاہا تو ضرور داخل ہو گے، پورے امن کے ساتھ، اپنے سر منڈواتے ہوئے اور کتراتے ہوئے، تمہیں کوئی اندیشہ نہیں ہوگا، وہ اس بات کو جانتا تھا جس کو تم نہ جانتے تھے، تو اس نے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے یہ قریبی فتح تم کو عطا فرما دی۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ نے مکہ کا سفر اس لیے اختیار کیا تھا تاکہ عمرہ کیا جائے لیکن کفار نے آپ کو حدیبیہ سے آگے نہ جانے دیا جس پر بعض صحابہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اللہ کے نبی نے فرمایا تھا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ میں بیت اللہ کی زیارت کررہا ہوں لیکن ہم عمرہ کیے بغیر واپس جارہے ہیں آخر یہ معاملہ کیا ہے ؟
نبی معظم ﷺ کے خواب کی تائید اور بعض صحابہ کرام ؓ کے خیالات کی تطہیر کے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑے زوردار الفاظ میں اس بات کی وضاحت فرمائی کہ اللہ نے اپنے رسول کے خواب کو سچ کر دکھایا ہے۔ اس لیے تم ہر صورت امن کے ساتھ اپنے سرمنڈواتے یاکتراتے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہوگے۔ تمہیں کسی قسم کا…
Read the full tafseer →آیت 27 : لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّئْ یَا (بےشک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا ہے) یعنی ان کو ان کے خواب میں سچا کردیا اور ان کو خلاف واقعہ نہیں دکھایا۔ اللہ تعالیٰ کذب سے وراء الوراء ہیں۔ اسی لئے جار کو حذف کر کے فعل کو ملا دیا۔ جیسا کہ اس آیت میں صدقوا ماعاہدوا اللّٰہ علیہ ] الاحزاب۔ 23[
خواب پیغمبر ﷺ :
روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کی طرف نکلنے سے پہلے دیکھا گویا کہ آپ اپنے اصحاب سمیت امن و سلامتی کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے ہیں اور انہوں نے حلق و قصر کیا ہے۔ آپ ﷺ نے اپنا خواب صحابہ کرام کے سامنے بیان فرمایا۔ وہ بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ وہ اسی…
Read the full tafseer →26 ۔” اذجعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ “ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو بیت اللہ سے روکا اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کا اقرار نہیں کیا اور محمد ﷺ کے اللہ کا رسول ہونے کا انکار کیا اور حمیت ، خودداری، کہا جاتا ہے ” فلان ذوحمیۃ “ جب وہ غصہ والا اور خوددار ہو۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اہل مکہ نے کہا کہ انہوں نے ہمارے بیٹوں اور بھائیوں کو قتل کیا۔ پھر اب وہ ہمارے شہر میں داخل ہوں گے تو عرب کہیں گے کہ وہ ہمیں ذلیل کرکے ہمارے شہر میں داخل ہوئے۔ لات وعزیٰ کی قسم وہ ہم پر داخل نہ ہوں گے۔
پس یہ ” حمیۃ الجاھلیۃ “ جو ان کے دلوں میں داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27۔ 28۔ اللہ کے رسول کے جس خواب کا ذکر اوپر گزرا جب حدیبیہ پر اسلامی قافلہ کے روکے جانے سے اس حدیبیہ کے سفر میں اس خواب کی تعبیر ظہور میں نہیں آئی تو اس خواب کے باب میں منافق طرح طرح کی باتیں بناتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ سچا خواب دکھایا ہے کہ تم مسلمان لوگ مسجد حرام میں امن وامان سے جاؤگے اور عمرہ کی سب باتوں سے فارغ ہو کر احرام کی حالت سے باہر آنے کے لئے کوئی سر منڈوائے گا اور کوئی بال کترائے گا اس خواب کی تعبیر کو اگلے سال تک ملتوی رکھا کہ اس سال اللہ تعالیٰ نے صلح جو کرا دی ہے جو فتح مکہ کا گویا پیش خیمہ ہے اس صلح کی مصلحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق) ” یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا۔ “ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک خواب دیکھا اور آپ نے اپنے اصحاب کرام کو اس خواب سے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب مکہ میں داخل ہو کر بیت اللہ کا طواف کریں گے۔ جب حدیبیہ کے دن ان کے درمیان صلح ہوئی اور اہل ایمان مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس لوٹے تو اس بارے میں ان سے بہت سی باتیں صادر ہوئیں حتیٰ کہ انہوں نے ان باتوں کا رسول اللہ ﷺ کے سامنے بھی اظہار کیا چناچہ انہوں نے آپ سے عرض کیا : کیا آپ نے ہمیں یہ خبر نہیں دی تھی کہ ہم بیت اللہ کی زیارت کے لئے آئیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
سر مونڈنا یا کتراناعبادت احرام میں داخل ہے
قول باری ہے (لتد خلن المسجد الحرام ان شآء اللہ امنین محلقین رئوسکم ومقصرین۔ تم لوگ مسجد حرام میں انشاء اللہ ضرور داخل ہوگے اور امن وامان کے ساتھ سرمونڈ کر یا بال کترا کر) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ وہ امن وامان کے ساتھ احرام باندھے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہوجائیں گے جب اس کے ساتھ سر مونڈنے اور بال چھوٹے کرنے کا ذکر ہوا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ حلق اور تقصیہ احرام کی عبادت میں داخل ہیں اور ان کے ذریعے ہی ایک شخص احرام سے باہر آسکتا ہے۔
اگر یہ بات نہ ہوتی تو ان دونوں کا یہاں ذکر کرنا…
Read the full tafseer →[ 69] پیغمبر (علیہ السلام) کے خواب کی صداقت و حقانیت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ پاک نے سچا خواب دکھایا تھا اپنے رسول ﷺ کو۔ جو اس نے تمہارے بیت اللہ میں داخل ہونے اور اپنے بالوں کو منڈوانے اور کٹوانے سے متعلق ان کو دکھا یا تھا، صلح حدیبیہ کے موقع پر جب مسلمانوں کو اپنے اس سفر سے بظاہر بےمراد واپس کیوں لوٹنا پڑا ؟ تو اس سوال کے جواب میں صلح حدیبیہ کی مندرجہ بالا مصلحتیں بیان فرمائی گئیں، اور اب آخر میں پیغمبر ﷺ کے اس خواب کا حوالہ دے کر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو جو خواب دکھایا تھا وہ بالکل حق اور سچ تھا، اس کے مبنی برحق ہونے میں کسی شک و شبہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
خواب میں بشارت
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی کی بشارت دی ہے۔ ہوا یوں کہ جب 6 ھ ذیقعدہ کو رسول ﷺ حدیبیہ سے مدینہ کو واپس تشریف لائے تو ذی الحجہ اور محرم وہاں رکے، ماہ صفر میں آپ ﷺ نے خیبر پر حملہ کیا اور اس کو فتح کیا پھر ذیعقدہ 7 ھ کو آپ ﷺ عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ذوالحلیفہ سے آپ ﷺ نے احرام باندھا اور قربانی کے جانور ساتھ لیے اور یوں آپ ﷺ بےخوف و خطر مکہ میں داخل ہوئے اور جو کچھ آپ ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا حرف بحرف سچ ثابت ہوا اسی خواب کا ذکر کیا گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و طاقت کا ذکر اس طرح کیا کہ میں نے لوگوں کی ہدایت کے لیے عظیم الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
آیات 27 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
اللہ نے اپنے رسول کو جو خواب دکھلایا وہ حق ہے اور سچا ہے اور تم لوگ انشاء اللہ ضرور مسجد حرام میں داخل ہوں گے اور امن کے ساتھ بغیر خوف خطر طواف کرو گے یہاں تعلیم کے لیے آئندہ کے ساتھ خود ذات باری نے جو ہر آن شے پر قادر ہے انشاء اللہ فرمایا تو ہر مسلمان کو آئندہ کی بات کے ساتھ انشاء اللہ ضرور کہناچاہیے اور پھر اسے پورا کرنے کی بھرپور سعی کرنا چاہیے ، یہ تاثر کہ جملہ انشائیہ کہا ہے نہ بھی پورا کیا تو خیر ہے غلط ہے۔ اور سرمنڈاؤ گے اور قصر کرو گے تمہیں کسی کا کوئی خوف خطرہ نہ ہوگا چناچہ اگلے سال ہی عمرہ نصیب ہوگیا اور سال بعد مکہ فتح ہوکرسب روکاٹیں ہمیشہ کے لیے ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 1 ہوا یہ کہ حدیبیہ روانہ ہونے سے پہلے مدینہ منورہ آنحضرت نے خواب دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ سمیت اطمینان سے مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں اور عمرہ کے ارکانب جا لا رہے ہیں۔ کوئی حلق کر رہا ہے اور کوئی تقصیر یعنی بال ترشوارہا ہے پیغمبر کا خوب چونکہ جھوٹا نہیں ہوسکتا اس لئے مسلمان خوش ہوئے اور عموماً یہ سمجھے کہ اسی سال مکہ میں داخلہ ہوگا لیکن جب مکہ میں داخل ہوئے بغیر حدیبیہ سے پلٹے تو دلوں میں تردد پیدا ہوا اور منافقوں کو یہ طعنہ دینے کا موقعہ ملا کہ پیغمبر کا خواب غلط نکلا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر کے واضح فرمایا کہ پیغمبر کو یہ خواب ہم نے دکھایا اور وہ سچا ہے جو یقینا پورا ہوگا۔…
Read the full tafseer →(48:27) لقد۔ لام تاکید کا۔ قد ماضی کے ساتھ تحقیق کا فائدہ دیتا ہے اور ماضی قریب کے معنی دیتا ہے۔
صدق اللّٰہ : صدق ماضی واحد مذکر غائب۔ صدق (باب نصر) مصدر۔ اس نے سچ کر دکھایا۔ اس نے سچ کہا۔ صدق کا تعدیہ کبھی دو مفعول کی طرف بھی ہوتا ہے۔ جیسے آیت ہذا میں ۔ نیز اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولقد صدقکم اللّٰہ وعدہ (3:152) اور اللہ سچ کرچکا تم سے اپنا وعدہ۔
بالحق : حق کے ساتھ۔ سچ سچ، صداقت و یقین کے ساتھ۔ بالکذب، حق ضد ہے باطل کی۔
مطلب یہ کہ رسول کریم ﷺ کو جو خواب اللہ تعالیٰ نے دکھایا تھا وہ سچ تھا اور وقوع کے عین مطابق۔ یعنی یہ خواب ایسے ہی عملاً وقوع پذیر ہگا جیسا کہ خواب میں دکھایا گیا تھا۔ اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
لغات القرآن آیت نمبر (22 تا 26) ۔
لو لو الادبار (وہ ضرور پیٹھ پھیریں گے) ۔ قد خلت (یقینا گذر گئی) ۔ بطن (پیٹ۔ درمیان) ۔ اظفر (اس نے قابو کیا) ۔ معکوف (رکا ہوا) ۔ ان یبلغ (یہ کہ وہ پہنچے) ۔ محلہ (اپنی جگہ) ۔ ان تطئوا (یہ کہ تم روند ڈالو ) ۔ معرۃ (دکھ۔ گناہ۔ تکلیف) ۔ لو تز یلوا (اگر وہ الگ ہوجائے۔ ٹل جائے) ۔ الحمیتہ (غیرت ۔ ضد۔ ہٹ) ۔ الزم (اس نے لازم کردیا) ۔ احق (زیادہ حق دار) ۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے واقعات اور اس کی مصلتحوں کو بیان کیا جارہا ہے۔ ارشاد ہے کہ بیشک اللہ نے کفار کو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جوابی کاروائی کرنے سے اور جذباتی لمحات میں اہل ایمان کو کفار پر…
Read the full tafseer →آنحضرت ﷺ کا خواب۔
(ف 1) شان نزول : نبی ﷺ نے حدیبیہ کا قصد فرمانے سے قبل مدینہ طیبہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مع اصحاب کے ساتھ مکہ معظمہ میں باامن داخل ہوئے اور اصحاب نے سر کے بال منڈوائے بعض نے بال کتروائے یہ خواب آپ نے اپنے اصحاب سے بیان فرمایا تو انہیں خوشی ہوئی اور انہوں نے خیال کیا کہ اسی سال وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے جب مسلمان حدیبیہ سے بعد صلح کے واپس ہوئے اور اس سال مکہ مکرمہ میں داخلہ نہ ہواومنافقین نے تمسخر کیا طعن کیے اور کہا کہ وہ خواب کیا ہوا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس خواب کے مضمون کی تصدیق فرمائی کہ ضرور ایسا ہوگاچنانچہ اگلے سال ایسا ہی ہوا اور مسلمان اگلے سال…
Read the full tafseer →[26] حاشیہ 1 میں گزر چکا ہے کہ نبی ﷺ نے عمرے کا ارادہ اپنے ایک خواب کی بناء پر فرمایا تھا۔ اس لئے ارشاد ہوا کہ نفس مشاہدہ جو آپ کو خواب میں کرایا گیا تھا وہ سچا اور حقیقت پر مبنی تھا، یعنی یہ کہ آپ ﷺ مسلمانوں کے ساتھ یقینا عمرہ کریں گے۔ لیکن خواب میں یہ مذکور نہ تھا کہ یہ اسی سال واقع ہوگا۔ آخر آپ ﷺ نے اگلے سال یعنی ذیقعدہ 7 ھ میں عمرہ ادا فرمایا۔
[27] سر منڈوانا یا بال ترشوانا ارکان حج وعمرہ میں سے ہے۔
[28] یہ اشارہ التوائے عمرہ کی مصلحتوں کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مصلحتیں تمہارے علم میں نہ تھیں لیکن اللہ کے علم میں تھیں اس وجہ سے اس نے یہ تو پسند نہیں فرمایا کہ تم اسی سال قریش مکہ پر فتح…
Read the full tafseer →حضور ﷺ کا خواب
1: حضور ﷺ نے سفر حدیبیہ سے قبل خواب میں دیکھا تھا ۔ کہ آپ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ مکہ میں داخل ہورہے ہیں ۔ اور پوری طرح مناسک حج ادا کررہے ہیں ۔ چناچہ کوچ سے پہلے جو خوشخبری آپ نے سب مسلمانوں کو سنادی جس سے ان کے دل مضبوط ہوگئے ۔ اور جذبات مسرت سے معمور ہوگئے ۔ پھر جب حدیبیہ کے مقام پر روک لئے گئے ۔ اور وہاں ایک معاہدہ ملنے پایا ۔ اور واپس ہوئے ۔ تو منافقین نے ازراہ استہزاء کہنا شروع کیا ۔ کہ ہم خواب کے مطابق نہ تو بیت اللہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں ۔ اور نہ ہم نے مناسک کو ادا کیا ہے ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ پیغمبر نے جو کچھ عالم رویا میں دیکھا ہے ۔ اس کی حقانیت میں کوئی شبہ…
Read the full tafseer →(27) بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھلایا جو واقع کے مطابق ہے تم ضرور مسجد حرام میں انشاء اللہ تعالیٰ امن وامان کے ساتھ داخل ہوگے کہ اپنے سر منڈواتے اور بال کترواتے ہوگے اور تمہیں کسی طرح کا خوف اور اندیشہ نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان باتوں کو جانتا ہے جو تم نہیں جانتے پھر اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام کے داخلہ سے پہلے ایک ایسی فتح عنایت کردی جو بہت ہی قریب تھی۔
ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خوا ب دیکھا تھا صحابہ یہ سمجھے کہ ہم اسی سال عمرہ کریں گے اور مکہ میں داخل ہوں گے ، وہاں جانے کے بعد روکے گئے اور جو واقعات پیش آئے ان کو ہم بیان کرچکے ہیں۔ جب مدینے آئے تو یہاں کے بعض…
Read the full tafseer →ف 1۔ مراد فتح خیبر ہے۔
Read the full tafseer →محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کے وہ نشانات جو گزشتہ صحیفوں میں بتائے گئے
29 ؎ زیرنظر آیت وہ آیت ہے جس کے بعد ” محمدرسول اللہ ﷺ کی سرگزشت “ کا مضمون درج کیے جانے کا وعدہ ہم گزشتہ سورة محمد کے شروع اور اخیر میں کرچکے ہیں اور ان شاء اللہ اس آیت کی تفسیر کے بعد آپ اسی مضمون کو پڑھیں گے جس کے پڑھنے کی ہم تاکید گزشتہ سورت سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ پچھلی آیت میں غلبہ دین اسلام کا ذکر کیا تھا اور اس آیت میں اس دین کے غالب کرنے ولاے داعی الی اللہ کا نام واضح طور پر بتا دیا کہ اس دین کو غالب کرنے کے لیے جو نبی ور سول بھیجا گیا اس کا نام محمد رسول اللہ ﷺ ہے اور پھر آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے ساتھیوں کا ذکر…
Read the full tafseer →Recapitulation of the Event of Hudaibiyah
When the Peace Treaty of Hudaibiyah was completed, it was decided that the Muslims would not enter Makkah that year, and would return to Madinah without performing ` Umrah. They were highly upset at this, because the blessed Companions ؓ determination to perform ` Umrah was on account of the Holy Prophet's ﷺ vision, which is also a kind of revelation. The fact that everything was apparently happening contrary to the vision, they could not understand how the Holy Prophet's ﷺ journey had served its purpose. Some of the noble Companions ؓ ، as a result,…
Read the full tafseer →47 This is the answer to the question that was constantly agitating the minds of the Muslim. They said, "The Holy Prophet had seen in his vision that he had entered the Masjid al-Haram and moved round the Ka`bah in worship. Then how is it that they were returning without performing `Umrah?" In answer to this, although the Holy Prophet had told them that in his vision he had not seen that they would perform the `Umrah that very year, still there remained some suspicion in the hearts. Therefore, Allah Himself explained that it was He Who had shown the vision and it was a true vision and it…
Read the full tafseer →