Al-Fath 48:26

Al-Fath · from ayah 26

48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰی رَسُوْلِهٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰی وَكَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَاَهْلَهَا ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا ۟۠اِذۡ جَعَلَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الۡجَـاهِلِيَّةِ فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ التَّقۡوٰى وَ كَانُوۡۤا اَحَقَّ بِهَا وَاَهۡلَهَا‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا

جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی۔ تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور ان کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے۔ اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

When those who disbelieved had put into their hearts chauvinism - the chauvinism of the time of ignorance. But Allah sent down His tranquillity upon His Messenger and upon the believers and imposed upon them the word of righteousness, and they were more deserving of it and worthy of it. And ever is Allah, of all things, Knowing.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 11 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Fath

All translations of 48:26

(یہی وجہ ہے کہ) جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلانہ حمیت بٹھا لی تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی اور مومنوں کو تقویٰ کی بات کا پابند رکھا کہ وہی اُس کے زیادہ حق دار اور اُس کے اہل تھے اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی۔ تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور ان کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے۔ اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب کہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت کو جگہ دی اور حمیت بھی جاہلیت کی، سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مومنین پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقوے کی بات پر جمائے رکھا اور وه اس کے اہل اور زیاده مستحق تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(چنانچہ) جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں اس حمیت کو جگہ دی جو جاہلیت کی حمیت تھی تو اللہ نے اپنی طرف سے اپنے پیغمبر اور مسلمانوں پر سکینت نازل فرمائی۔ اور ان کو تقوی کی بات پر جمائے رکھا، اور وہ اسی کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جبکہ کافروں نے اپنے دلوں میں اَڑ رکھی وہی زمانہٴ جاہلیت کی اَڑ (ضد) تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اتارا اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب کافر لوگوں نے اپنے دلوں میں متکبّرانہ ہٹ دھرمی رکھ لی (جو کہ) جاہلیت کی ضِد اور غیرت (تھی) تو اﷲ نے اپنے رسول ﷺ اور مومنوں پر اپنی خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں کلمہء تقوٰی پر مستحکم فرما دیا اور وہ اسی کے زیادہ مستحق تھے اور اس کے اہل (بھی) تھے، اور اﷲ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے دلوں میں ضد رکھ لی، جو جاہلیت کی ضد تھی تو اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر اتار دی اور انھیں تقویٰ کی بات پر قائم رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے لائق تھے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب کفار مکہ نے (صلح حدیبیہ کے موقعہ پر) اپنے دلوں میں زمانہ جاہلیت کی عصبیت کی ٹھان لی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مومنوں پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں تقویٰ کی بات کا پابند رکھا اور وہی اس کے زیادہ حقدار اور اس کے اہل تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس وقت کا خیال کرو جب کفر کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی جاہلیت کی حمیت۔ تو اللہ نے اپنی طماینت نازل فرمائی اپنے رسول اور ایمان والوں پر اور ان کو پابند رکھا تقویٰ کی بات کا اور یہ اس کے حقدار اور سزا وار تھے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور اسی بناء پر اس وقت) جب کہ بٹھا دی ان کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلیت کی آڑ تو اللہ نے (اپنے فضل و کرم سے) اتار دیا اپنا سکون و اطمینان اپنے رسول اور (صدق دل سے) ایمان لانے والوں پر اور اس نے پابند کردیا ان کو (اس نازک موقع پر) تقوی (و پرہیزگاری) کی بات کا اور وہی سب سے زیادہ اس کے حقدار بھی تھے اور اس کے اہل (اور لائق) بھی اور اللہ تو ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ وقت بھی یاد کرو) جب (ان) کافروں نے اپنے دلوں میں عصبیت عصبیت جاہلی کو جگہ دی لیکن اللہ نے اپنی طرف سے تحمل اپنے رسول اور مومنین کو عطا کیا۔ اور (اللہ نے) انہیں تقوی کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے مستحق بھی ہیں اور اہل بھی اور اللہ تو ہر شے کا (پورا) علم رکھتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت بٹھالی جاہلیت کی حمیت تو اللہ نے سکینت نازل کردی اپنے رسول ﷺ پر اور اہل ایمان پر اور اس نے لازم کردیا ان پر تقویٰ کی بات کو اور وہ اس کے زیادہ حق دار بھی ہیں اور اس کے اہل بھی ہیں۔ اور اللہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب کفار نے اپنے دلوں میں ضد کی اور وہ بھی جاہلیت کی تو اللہ نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور ان کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق تھے اور اللہ ہر چیز سے خبردار ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(This is why) when the unbelievers set in their hearts a fierce bigotry -- the bigotry of ignorance -- Allah bestowed inner peace upon His Messenger and upon the believers and made the word of piety binding on them. They were more deserving and worthier thereof. Allah has knowledge of everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When the disbelievers developed in their hearts indignation, the indignation of ignorance; then Allah sent down tranquility from Himself upon His Messenger and upon the believers, and made them stick to the word of piety, and they were very much entitled to it and competent for it. And Allah is All-Knowing about every thing.

— Muhammad Taqi Usmani

When the disbelievers developed in their hearts indignation, the indignation of ignorance; then Allah sent down tranquility from Himself upon His Messenger and upon the believers, and made them stick to the word of piety, and they were very much entitled to it and competent for it. And Allah is All-Knowing about every thing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When those who disbelieve had put in their hearts pride and haughtiness -- the pride and haughtiness of the time of ignorance, -- then Allah sent down His calmness and tranquillity upon His Messenger and upon the believers, and made them stick to the word of Taqwa; and they were well entitled to it and worthy of it. And Allah is the All-Knower of everything.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When those who disbelieve had set up in their hearts zealotry, the zealotry of the Age of Ignorance, then Allah sent down His peace of reassurance upon His messenger and upon the believers and imposed on them the word of self-restraint, for they were worthy of it and meet for it. And Allah is Aware of all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

When those who disbelieved had put into their hearts chauvinism - the chauvinism of the time of ignorance. But Allah sent down His tranquillity upon His Messenger and upon the believers and imposed upon them the word of righteousness, and they were more deserving of it and worthy of it. And ever is Allah, of all things, Knowing.

— Saheeh International

Since the disbelievers held zealous ignorance in their hearts, like that of the pre-Islamic age of darkness, God gave confidence to His Messenger and to the believers, binding them to the principle of piety which they deserve. God has the knowledge of all things.

— Muhammad Sarwar

When those who disbelieved harbored in their hearts (feelings of) disdain, the disdain of (the days of) ignorance, but Allah sent down His tranquillity on His Apostle and on the believers, and made them keep the word of guarding (against evil), and they were entitled to it and worthy of it; and Allah is Cognizant of all things.

— Muhammad Habib Shakir

When those who disbelieve had put in their hearts a zeal, the zeal of Paganism, then Allah sent down His tranquillity upon His apostle and upon the believers, and kept them fixed on the way of piety, and they were worthy thereof and meet therefor; and Allah is of everything ever Knower.

— Abdul Majid Daryabadi

While the Unbelievers got up in their hearts heat and cant - the heat and cant of ignorance,- Allah sent down His Tranquillity to his Messenger and to the Believers, and made them stick close to the command of self-restraint; and well were they entitled to it and worthy of it. And Allah has full knowledge of all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 48:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–26

مسجد حرام بیت اللہ کے اصل حقدار مشرکین عرب جو قریش تھے اور جو ان کے ساتھ اس عہد پر تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے جنگ کریں گے ان کی نسبت قرآن خبر دیتا ہے کہ دراصل یہ لوگ کفر پر ہیں انہوں نے ہی تمہیں مسجد حرام بیت اللہ شریف سے روکا ہے حالانکہ اصلی حقدار اور زیادہ لائق بیت اللہ کے تم ہی لوگ تھے پھر ان کی سرکشی اور مخالفت نے انہیں یہاں تک اندھا کردیا کہ اللہ کی راہ کی قربانیوں کو بھی قربان گاہ تک نہ جانے دیا یہ قربانیاں تعداد میں ستر تھیں جیسے کہ عنقریب ان کا بیان آرہا ہے انشاء اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ سردست تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دینے میں یہ راز پوشیدہ تھے کہ ابھی چند کمزور مسلمان مکہ میں ایسے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَتْح 45 جاہلانہ حمیت سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص محض اپنی ناک کی خاطر یا اپنی بات کی پچ میں جان بوجھ کر ایک ناروا کام کرے۔ کفار مکہ خود جانتے اور مانتے تھے کہ ہر شخص کو حج اور عمرے کے لیے بیت اللہ کی زیارت کا حق حاصل ہے، اور کسی کو اس مذہبی فریضے سے روکنے کا حق نہیں ہے۔ یہ عرب کا قدیم ترین مسلم آئین تھا۔ لیکن اپنے آپ کو سراسر ناحق پر اور مسلمانوں کو بالکل برسرحق جاننے کے باوجود انہوں نے محض اپنی ناک کی خاطر مسلمانوں کو عمرے سے روکا۔ خود مشرکین میں سے جو راستی پسند تھے وہ بھی یہ کہہ رہے تھے کہ جو لوگ احرام باندھ کر ہدی کے اونٹ ساتھ لیے ہوئے عمرہ کرنے آئے ہیں ان کو روکنا ایک بےجا حرکت ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَاَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَكَانُوْٓا اَحَقَّ بِهَا وَاَهْلَهَا، کلمہ تقویٰ سے مراد اہل تقویٰ کا کلمہ ہے یعنی کلمہ توحید و رسالت، اس کو کلمہ تقویٰ اس لئے کہا گیا کہ یہ کلمہ ہی تقویٰ کی بنیاد ہے اور صحابہ کرام کو اس کلمہ کا احق اور اہل فرما کر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی رسوائی واضح کردی جو ان حضرات پر کفر و نفاق کا الزام لگاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تو ان کو کلمہ اسلام کا اہل اور احق فرمائے اور یہ بدبخت ان پر تبرا کریں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ فانزل اللہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المومنین والزمھم کلمۃ التقویٰ وکانوا احق بھا واھلھا وکان اللہ بکلک شیء علیماً 26 نہایت نازک حالات میں مسلمنوں نے اخلاقی برتری کا ثبوت دیا یہ مسلمانوں کی اخلاقی برتری واضح فرمائی ہے کہ ہرچند قریش نے قدم قدم پر حمیت جاہلیت کا مظاہرہ کیا جس سے مسلمان مشتعل ہو سکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو بھی اور مسلمانوں کو بھی یہ توفیق بخشی کہ وہ ان نازک حالات سے نہایت صبر و سکون اور حلم و تدبر کے ساتھ عہدہ برآ ہوئے، حریف کی اوچھی حرکتوں سے متاثر ہو کر کوئی ایسا قدم انہوں نے نہیں اٹھایا جو اللہ تعالیٰ کی مرضی اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2 6 ۔ 1 اذ کا ظرف یا تو لعذبتا ہے یا واذکرو محذوف ہے یعنی اس وقت کو یاد کرو جب کہ ان کافروں نے۔ 2 6 ۔ 2 کفار کی اس حمیت جاہلیہ عار اور غرور سے مراد اہل مکہ کا مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکتا ہے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمارے بیٹوں اور باپوں کو قتل کیا ہے لات وعزی کی قسم ہم انہیں کبھی یہاں داخل نہیں ہونے دیں گے یعنی انٰہوں نے اسے اپنی عزت اور وقار کا مسئلہ بنا لیا اسی کو حمیت جاہلیہ کہا گیا ہے کیونکہ خانہ کعبہ میں عبادت کے لیے آنے سے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں تھا قریش مکہ کے اس معاندانہ رویے کے جواب میں خطرہ تھا کہ مسلمانوں کے جذبات میں بھی شدت آجاتی اور وہ بھی اسے اپنے وقار کا مسئلہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

27: قریش اگرچہ آخر کار صلح پر راضی ہوگئے تھے، لیکن جب صلح نامہ لکھنے کا وقت آیا تو انہوں نے محض اپنے تکبر اور اپنی جاہلانہ حمیت کی وجہ سے کچھ ایسی باتوں پر اصرار کیا جو صحابہ کرام کو بہت ناگوار ہوئیں۔ مثلاً صلح نامے کے شروع میں آنحضرت ﷺ نے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھوایا تو انہوں نے اس پر اعتراض کیا اور اس کے بجائے باسمک اللہم لکھوانے پر زور دیا۔ نیز آنحضرت ﷺ کے نام نامی کے ساتھ رسول اللہ لکھا گیا تھا، انہوں نے اسے مٹانے پر اصرار کیا۔ ان باتوں کی وجہ سے صحابہ کرام کو بہت غصہ تھا، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کو صلح منظور تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے دلوں میں تحمل پیدا فرما…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اذ جعل الذین کفروا ۔۔۔۔۔ الجاھلیۃ (48 : 26) “ یہی وجہ ہے کہ جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلانہ حمیت بٹھا لی ”۔ وہ کسی نظریہ یا کسی نظام کے لئے نہیں لڑ رہے تھے بلکہ یہ کبر ، فخر ، سرکشی اور ہٹ دھرمی کے پرجوش حامی تھے۔ اس حمیت ہی کی وجہ سے یہ رسول اللہ ﷺ کا مقابلہ کر رہے تھے۔ آپ کو مسجد حرام کی زیارت سے بھی روک رہے تھے اور قربانی کے جانوروں کو بھی انہوں نے روکے رکھا جن کو آپ اس مقصد کے لئے لائے تھے تا کہ وہ قربانی کی جگہ تک جائیں اور وہاں قربان کئے جائیں اور یہ حرکت کر کے یہ لوگ ہر عقیدے اور ہر رواج کو پامال کر رہے تھے۔ محض اس لیے کہ عرب یہ نہ کہیں کہ حضرت محمد ﷺ زبردستی مکہ میں داخل ہوگئے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 نادانی کی ضد یہ ہی کہ امسال عمرہ نہ کرنے دیا اور یہ کہ جو مسلمان مکہ سے ہجرت کر جائے اسے پھر واپس بھیج دو ۔ اگلے دو سال عمرہ کو آؤ تو تین دن سے زیادہ مکہ میں نہ ٹھہرو۔ اور ہتھیار کھلے نہ لاؤ صلح نامہ میں بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نہ لکھو اور بجائے محمد رسول اللہ کے صرف محمد ﷺ بن عبد اللہ تحریر کرو۔ حضرت نے یہ سب باتیں قبول کیں اور مسلمانوں نے سخت انقباض و اضطراب کے باوجود پیغمبر کے ارشاد کے آگے سر تسلیم جھکا دیا اور بالآخر اسی فیصلہ پر ان کے قلوب مطمئن ہوگئے۔ 3 یعنی اللہ سے ڈر کر نافرمانی کی راہ سے بچے اور کعبہ کے ادب پر مضبوطی سے قائم رہے۔ اور کیوں نہ رہتے۔ وہ دنیا میں خدائے واحد کے سچے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26 { اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ } ”جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت بٹھالی ‘ جاہلیت کی حمیت“ قریش مکہ نے اس موقع پر جس حمیت کا مظاہرہ کیا وہ سراسر حمیت جاہلی تھی۔ ان کے دلوں میں قوم پرستی ‘ آباء پرستی اور روایت پرستی کا تعصب کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ اسی تعصب کی بنا پر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو اپنے باپ دادا کے دین سے ِپھر کر ”بےدین“ ہوچکے تھے۔ { فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } ”تو اللہ نے سکینت نازل کردی اپنے رسول ﷺ پر اور اہل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

39 قریش کی جاہلانہ حمیت :۔ قریش کی اس عصبیت کے بھی دو پہلو تھے ایک یہ کہ جن مسلمانوں نے جنگ بدر میں ہمارے عزیز و اقارب کو مار ڈالا ہے، ہم انہیں مکہ میں اپنے ہاں داخل ہونے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں اور دوسرا پہلو یہ تھا کہ اگر ہم نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہوجانے دیا تو عرب بھر میں یہ بات مشہور ہوجائے گی کہ قریش مکہ مسلمانوں سے دب گئے ہیں۔ یہ تھی جاہلی حمیّت جس کی پچ میں انہوں نے ایک ایسے دستور کی خلاف ورزی کر ڈالی جو ان میں معروف تھا اور وہ یہ تھا کہ کسی بھی حج، عمرہ اور طواف کرنے والے کو ان کاموں سے روکا نہیں جاسکتا۔ علاوہ ازیں وہ حرمت والے مہینہ میں بھی لڑائی کرنے پر آمادہ تھے۔ 40 وہ تقویٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

33۔ (اور اس سکینت الہی کا اثر یہ ہوا کہ مسلمان جوش میں آکر لڑ نہیں بیٹھے) مشرکین کی بےجا ضد اور مسلسل اشتعال انگیزی کا طبعی تقاضہ تو بالکل یہی تھا کہ مسلمان بھی لڑنے مرنے پر آمادہ ہوجاتے۔ (آیت) ” اذ ..... الجاھلیۃ “۔ یعنی جب مشرکوں کی طرف سے بےدینی والی عصبیت کا اظہار ہونے لگا تھا۔ جب صلح نامہ مرتب ہونے لگا اور مسلمانوں کی طرف سے حضرت علی ؓ اس کی کتابت کرنے لگے تو مشرک گورنمنٹ کے نمائندوں نے اشعتال انگیزمطالبے اس قسم کے شروع کیے :۔ (1) معاہدہ پر بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ لکھی جائے۔ (2) معاہدہ پر صرف محمد بن عبداللہ لکھا جائے۔ محمد رسول اللہ نہ لکھا جائے، وقس علی ھذا۔ رسول اللہ اس قسم کے سارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 18–26

ترجمہ : یقینا اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوا جب انہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اور وہ ببول کا درخت ہے اور اصحاب حدیبیہ ایک ہزار تین سو یا اس سے کچھ زائد تھے، پھر ان حضرات نے اس پر بیعت کی کہ وہ قریش کا مقابلہ کریں گے، اور یہ کہ وہ موت سے راہ فرار اختیار نہ کریں گے اللہ کو ان کے دلوں کے وفا و صدق کا حال معلوم تھا اس لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو قریبی فتح عطا فرمائی اور وہ فتح حدیبیہ سے واپسی کے بعد خیبر کی فتح تھی اور بہت سی غنیمتیں کہ جن کو وہ خیبر سے حاصل کریں گے اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے، یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ فانزل اللہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المؤمنین والزمھم کلمۃ التقوی وکانوا احق بھا واھلھا وکان اللہ بکل شیء علیمًا جبکہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں عار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت کی ‘ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مؤمنوں کو اپنی طرف سے تحمل عطا کیا اور مسلمانوں کو تقویٰ کی ملت پر جمائے رکھا اور وہ اسکے زیادہ مستحق اور اسکے اہل (بھی) ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ اِذْ جَعَلَ- اِذ ظرف (زمان) ہے ‘ اس کا تعلق عَذَّبْنَا سے ہے ‘ یا صَدُّوْا سے ‘ یا محذوف فعل کا یہ مفعول ہے ‘ یعنی اس وقت کو یاد کرو جب کہ کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلیت کی حمیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جبکہ ان کفار مکہ نے اپنے دلوں میں عار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت والی کہ رسول اکرم اور صحابہ کرام کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اور مومنین کو اپنی طرف سے تحمل عطا فرمایا اور ان کو تقوی کی بات یعنی کلمہ طیبہ پر ثابت قدم رکھا اور وہ مسلمان علم الہی میں اس کلمہ تقوی لا الہ الا اللہ کے دنیا میں بھی زیادہ مستحق ہیں اور حق تعالیٰ مسلمانوں کی بزرگی سے اچھی طرح واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ : لفظ ”اذ“ پچھلی آیت کے آخر میں ”لعذبنا“ کا ظرف ہے، یعنی اگر وہ مومن مرد اور مومن عورتیں کفار سے الگ ہوگئے ہوتے ”تو ہم ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کای، درد ناک سزا دیتے، جب ان کفر کرنے والوں نے اپنے دل میں ضد رکھ لی تھی۔ …“ اور فعل محذوف ”اذکر“ کا مفعول بہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی اس وقت کو یاد کر جب …۔ (2) حمیۃ الجاھلیۃ : جاہلیت کی ضد سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے وہ بات ماننے سے بھی انکار کردیا جو تمام عرب کے ہاں مسلم تھی کہ اللہ کے گھر سے کسی طواف یا عمرہ یا حج ادا کرنے والے کو روکا نہیں جاسکتا اور حرمت والے مہینوں میں لڑنے کی اجازت نہیں۔ بلکہ وہ لڑنے پر تیار…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ھدا یہ فعل مضمر ہے تقدیر کلام اذکروا ہے المحمیت یہ فعلیۃ کا وزن ہے جس کا معنی ضد ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے جب تو اس سے خودداری کا اظہار کرے اور تجھے شرمندگی لاحق ہو کہ تو اس امر کو کرے اسی معنی میں متلمس کا قول ہے خبردار میں ان میں سے ہوں اور میری عزت ان کی عزت ہے جس طرح خودار آدمی ہوتا ہے وہ اس امر سے حمیت کا اظہار کرتا ہے کہ اس کی ناک توڑ دی جائے۔ زہری نے کہا : ان کی حمیت نبی کریم ﷺ کی رسالت کے اقرار سے ضد کا اظہار کرنا (1) اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ کلام شروع کرنے سے ضد کا اظہار تھا اور صحابہ کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکنا تھا جو آدمی بسم اللہ الرحمن الرحیم اور محمد ﷺ لکھنے سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد والبخاری (رح) ومسلم (رح) والنسائی وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں سہل بن حنیف (رح) سے روایت کیا کہ آپ نے صفین کے دن فرمایا تم نے اپنے آپ کو بدگمان کیا اور البتہ یقینی طور پر تو نے ہمیں دیکھا حدیبیہ کے دن کہ ہم صلح کے دن خوف کھارے تھے جو نبی کریم ﷺ اور مشرکین کے درمیان ہوئی اور اگر ہم لڑائی کو دیکھتے تو ہم ضرور لڑتے حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے عرض کیا یا رسول اللہ کی ہم حق پر نہیں ہیں اور وہ لوگ باطل پر ؟ فرمایا کیوں نہیں پھر عرض کیا کیا ہمارے مقتول جنت میں نہیں ہیں۔ اور ان کے مقتول آگ میں ؟ فرمایا کیوں نہیں پھر عرض کیا ہم کیوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِذْ جَعَلَ [ جب بنایا ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ] فِيْ قُلُوْبِهِمُ [ اپنے دلوں میں ] الْحَمِيَّةَ [ رعونت ] حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ [ غلط عقائد کی رعونت ] فَاَنْزَلَ اللّٰهُ [ تو اتارا اللہ نے ] سَكِيْنَتَهٗ [ اپنی سکینت ] عَلٰي رَسُوْلِهٖ [ اپنے رسول پر ] وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ [ اور مومنوں پر ] وَاَلْزَمَهُمْ [ اور اس نے چپکا دیا ان کو ] كَلِمَةَ التَّقْوٰى [ تقوی کی بات پر ] وَكَانُوْٓا اَحَقَّ بِهَا [ اور وہ لوگ زیادہ حق دار تھے اس کے ] وَاَهْلَهَا ۭ [ اور اس کی اہلیت والے تھے ] وَكَانَ اللّٰهُ [ اور اللہ ہے ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کا ] عَلِــيْمًا [علم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا ﴿ اِذْ جَعَلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ﴾ (الآیۃ) کہ ان لوگوں نے تمہیں ایسے وقت میں روکا جبکہ اپنے دلوں میں انہوں نے حمیت کو جگہ دے دی یہ جاہلیت کی حمیت تھی جس کسی چیز کو انسان اپنے لیے عار اور عجیب سمجھے پھر اس کی بنیاد پر اپنی جان کو بچانے کے لیے کوئی حرکت یا کوئی بات کرے اسے حمیت کہا جاتا ہے جب رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ عمرہ کرنے کی نیت سے روانہ ہوئے اور قریش مکہ کو اس کا پتہ چل گیا تو ان پر جہالت سوار ہوگئی اور حمیت جاہلیہ کو سامنے رکھ کر انہوں نے طے کرلیا آپ کو عمرہ کرنے نہیں دیں گے ورنہ عرب میں یہ مشہور ہوجائے گا کہ محمد ﷺ مکہ والوں کی رضا مندی کے بغیر زبردستی مکہ مکرمہ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–26

بیعت الرضوان و فضائل اہل بیعت مع بشارت انعام خداوندی بعطاء غنائم و غلبہ اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” لقد ؓ عن ال مومنین ....... الی ...... بکل شیء علیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان اعراب ومتخلفین کا ذکر تھا جو جھوٹے عذر اور حیلے بہانے کرکے حدیبیہ کے سفر سے پیچھے رہ گئے تھے انکی باطنی گندگی اور قبائح کے ذکر کے ساتھ حق تعالیٰ کی طرف سے جس وعید اور تنبیہ کے وہ مستحق تھے بیان کی گئی تھی اب اس گروہ کے بالمقابل ان مخلصین ومطیعین اور جانثاروں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی کہ ہم زندگی کے آخری سانس تک رسول خدا ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور آخری دم تک ہر طرح…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

22:۔ ” اذ جعل۔ الایۃ “ ظرف ” عذبنا “ سے متعلق ہے یعنی اگر ہم نے ان کو عذاب دینا ہوتا تو ہم مسلمانوں کے ہاتھوں کو ان سے نہ روکتے اور ان کو اس وقت عذاب دیتے جب وہ جاہلیت کا کبر و غرور دلوں میں لیے غیر شریفانہ حرکات پر اتر آتے تھے، لیکن ہم نے ان کی نخوت اور حمیت جاہلیت کی وجہ سے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں کو اشتعال میں آنے نہیں دیا اور ان کے دلوں پر سکون و اطمینان نازل کر کے ان کو پر وقار بنا دیا اور جنگ کرنے کا خیال ان کے دلوں سے نکال دیا اور کلمہ تقوی کو ان کے لیے لازم کردیا اور ان کے دلوں میں اس کو جاگزیں کردیا۔ کیونکہ وہ اس کلمہ تقوی کے سب سے زیادہ مستحق اور اہل تھے اس لیے ان کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–26

شان نزول سورۃ الفتح میں واقعہ حدیبیہ کے مختلف پہلوئوں کی طرف اشارات ملتے ہیں ۔ حدیبیہ کا معاہدہ طے پا جانے کے بعد بھی مشرکین کے بعض گروہوں نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا ، اور کچھ لوگ مختلف راستوں سے ہو کر مسلمانوں کے ٹھکانے پر پہنچے تا کہ کسی طرح حضور ﷺ کا کام تمام کردیا جائے۔ اور یہ ہدف نہ بھی پورا ہو تو کم ا ز کم مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کر کے ان کو تنگ تو کیا جاسکے گا ، اور اس طرح ان کو اشتعال دلا کر ان کو لڑائی پر آمادہ کیا جاسکے گا ۔ مشرکین کے اسی منصوبے کے تحت ایک مسلمان شہید بھی ہوگیا ۔ سکیم کے مطابق کفار کے سترآدمی مسلمانوں میں افرا تفری پیدا کرنے کے لیے پہاڑی کی پچھلی طرف سے اترے اور انہوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْ جَعَلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ قُلُوْبِہِمُ الْحَمِيَّۃَ حَمِيَّۃَ الْجَاہِلِيَّۃِ فَاَنْزَلَ اللہُ سَكِيْنَتَہٗ عَلٰي رَسُوْلِہٖ وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ وَاَلْزَمَہُمْ كَلِمَۃَ التَّقْوٰى وَكَانُوْٓا اَحَقَّ بِہَا وَاَہْلَہَا۝ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا۝ 26 ۧ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : صدق کجعل دخلق یتعدی الی مفعولین رسولہ مفعول اول الرویا مفعول ثان و یحتمل ان یتعدی بحرف تقدیرہ صدق اللہ رسولہ فی رویاہ بالحق حال ای متلبسابالحق۔ اوقسم لان الحق من السمائہٖ تعالیٰ وعلی ھذالتدخلن جواب او جواب القسم المخذوف ای واللہ لتدخلن وھذا تفسیر للرؤیا اوتحقیق لقولہ صدق اللہ انشاء اللہ تعلیق للعدۃ بالمشیۃ لتعلیم العبادان یقولوا انشاء اللہ کما امراو لاولاتقولن لشیء انی فاعل ذلک غدالاان یشاء اللہ اواظہاران ذلک وعدہ لاتحقیق الا بمشیۃ لیس علیہ دین ولاحق واجب آمنین حال من فاعل لتدخلن ولشرط معترض وکذاقولہ محلقین الخ لاتخافون حال مؤکدۃ من فاعل لتدخلن اواستیناف فعلم عطف علی صدق سیماھم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَلْزَمَھُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی وَکَانُوْٓا اَحَقَّ بِھَا وَاَھْلَھَا ط وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمًا۔ (الفتح : 26) (اس وقت کا خیال کرو جب کفر کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت بٹھا لی، جاہلیت کی حمیت، تو اللہ نے اپنے رسول اور ایمان والوں پر اپنی سکینت نازل فرمائی، اور ان کو تقویٰ کی بات کا پابند رکھا، اور وہی اس کے زیادہ حقدار اور اس کے اہل تھے، اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ ) مسلمانوں کی اخلاقی برتری اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مسلمانوں کو حرم مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی اصل وجہ اہل مکہ کی جہالت اور قومی عصبیّت تھی۔ اہل مکہ یہ حقیقت جان چکے تھے کہ مسلمان عمرہ کے سوا کوئی عزم نہیں رکھتے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ کسی کو بیت اللہ کی زیارت سے روکنا بہت بڑا گناہ ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی جہالت اور عصبیت کی وجہ سے ضد کا مظاہرہ کیا۔ آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب کو عمرہ نہ کرنے دیا۔ مکہ والوں کا یہ اقدام نبی معظم ﷺ اور صحابہ ؓ کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ لیکن آپ نے انتہائی بردباری اور سمجھداری سے کام لیتے ہوئے اہل مکہ کو مذاکرات کرنے پر مجبور کردیا۔ اس صورت حال کا اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ذکر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 26 : اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (جبکہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں) اس کا عامل لعذبنا ہے اور تقدیر کلام اس طرح ہے۔ لعذبناہم فی ذلک الوقت یا اذکر عامل ہے۔ کفروا سے قریش مکہ مراد ہیں۔ مسلمانوں کے لوٹ جانے پر کفار کا اصرار : فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُولِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ (عار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مؤمنین کو اپنی طرف سے تحمل عطا فرمایا) کافروں کی حمیت سے مراد جاہلی غیرت۔ سکینۃ المؤمنین سے وقار مراد ہے۔ جیسا کہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حدیبیہ میں اترے تو قریش نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 25–26

آیت وھو الذی کف ایدیھم کا شان نزول 24 ۔” وھوالذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیھم وکان اللہ بما تعملون بصیرا “ ابو عمرو نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ان لوگوں کی تعیین میں اختلاف ہوا ہے۔ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ اہل مکہ کے اسی لوگ جبل تنعیم سے اسلحہ سے لیس آئے ۔ ان کا ارادہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ پر حملہ کرنا تھا۔ پس انہوں نے قیدی پکڑے، پھر ان کو زندہ چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ” وھوالذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفر کم علیھم “ عبداللہ بن مغفل مزنی ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–26

20۔ 26۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے بیعت رضوان خالص دل سے کی ہے اللہ ان سے خوش ہے اور اس نیک نیتی کے کام پر اللہ تعالیٰ نے ان کو خیبر کی فتح انعام کے طور پر عنایت کی اور یہ حکم دیا کہ اس فتح کی غنیمت کے مال میں سوائے ان بیعت والے لوگوں کے اور کسی دوسرے کا حصہ نہیں ان آیتوں میں فرمایا جن فتوحات اور غنیمت کے بہت سے مال کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اس وعدہ میں سے فتح خیبر اور وہاں کے غنیمت کا مال ایک فوری انعام ہے اس کے بعد رفتہ رفتہ اور فتوحات کی امید اللہ تعالیٰ سے رکھنی چاہئے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس کے بعد اللہ کے رسول اور خلفا کے زمانہ میں بہت سی فتوحات ہوئیں جن کا ذکر حدیث اور تاریخ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ) ” جب کہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں عار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت کی “ کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے معاہدے کی دستاویز سے (بسم اللہ الرحمن الرحیم) کو نکال دیا، نیز انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور مومنین کو اس سال مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ مسلمان قریش پر غالب آکر مکہ میں داخل ہوئے ہیں۔ یہ اور اس قسم کے تمام امور، جاہلیت کے امور ہیں جو ان کے دلوں میں موجود تھے اور بیشمار گناہوں کے موجب بنے رہے۔ (فانزل اللہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المومنین) ” تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی سکنیت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ ۔ اور اس وقت کو بھی یاد کرو) جب (ان) کافروں نے عصییت کو اپنے دلوں میں جگہ دی، کہا جاتا ہے کہ جب حضور ﷺ نے صلحنامہ حدیبیہ تحریر کرنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو یہ عبارت لکھنے کے لئے کہا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ھذا ما اصطلح علیہ محمد رسول اللہ وسھیل بن عمرو ، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ وہ صلحنامہ ہے جس پر اللہ کے رسول محمد ﷺ اور سہیل بن عمرو نے اتفاق کیا ہے۔ حضرت علی ؓ نے حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق یہ عبارت لکھی، اس پر قریش والے اڑ گئے کہ صلحنامہ کی تحریر میں نہ تو بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا جائے اور نہ ہی محمدرسول اللہ بکہ بسمک اللھم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 64] کافروں کی حمیت جاہلیہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب کفار اڑگئے تھے اپنی حمیت جاہلیہ پر، کہ اگر ہم نے محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو اس مرتبہ مکہ میں داخل ہونے دے دیا تو اس سے ہماری ناک کٹ جائے گی، روایات کے مطابق انہوں نے لات اور عُزَّی کی قسمیں کھا کر کہا کہ ہم ان کو کسی قیمت پر بھی مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے، سو یہ بڑا نازک موقع تھا جس سے مسلمان فوری طور پر سخت اشتعال میں آسکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی، جس کے نتیجے میں کوئی اشتعال انگیز نہیں پیدا ہوئی۔ بہرکیف کفار اپنی حمیت جاہلیہ ہی پر اڑے رہے حالانکہ ان پر یہ حقیقت واضح تھی کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–26

کامیابیاں مسلمانوں کی ہی ہوں گی تشریح : ان آیات میں اللہ کی ان نعمتوں برکتوں اور حکمتوں کا ذکر بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں مسلمانوں پر ظاہر ہوئیں۔ اگر اس وقت جنگ ہوجاتی تو بھی حق کو ہی فتح ہونی تھی کیونکہ اللہ حق کا ساتھ دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو اخلاقی تربیت بھی دی گئی ہے۔ جذبات پر قابو رکھنا غصہ کو دبانادور اندیشی سے کام لینا اور ظاہری فائدہ کی خاطر رسول ﷺ اور اللہ کے احکامات کے خلاف کام نہ کرنا۔ ہر صورت توحید، ایمان، مستقل مزاجی اور اتباع رسول ﷺ کو زندگی کا حصہ بنائے رکھنا ضروری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 18–26

آیات 18 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ اللہ جل شانہ یقینا ان مومنین سے راضی ہوگیا اور ان کی جاں سپاری کے جذبہ کو قبول فرمایا کہ حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے جب وہ آپ سے موت پر بیعت کر رہے تھے وہ اس لیے راضی ہوا کہ وہ ان کے قلبی خلوص کو جانتا تھا لہذا اس نے ان کے دلوں پر اطمینان نازل فرمایا۔ بیعت رضوان کا درخت۔ یہ ایک ببول کا درخت تھا مقام حدیبیہ پر جس کے نیچے رسول اللہ نے بیعت لی تھی بعد میں لوگوں نے وہاں نماز پڑھنا شروع کردی اور زیارت کو جانے لگے مگر کسی نے حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بیعت رضوان کی تھی وہ فرماتے تھے کہ ہم جب دوبارہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی انہیں صبر و وقار کی توفیق دی اس لئے وہ اللہ و رسول کے فیصلہ پر مطمئن ہوگئے۔ قریش کی جاہلانہ ضد پر مشتعل ہو کر آپے سے باہر نہ ہوئے۔ 11” پرہیزگاری کی بات “ یہ مراد وہ بات ہے جس کا تقاضاپرہیز گاری ہے یعنی توحید کا اقرار یا صبر و تحمل اور وایفائے عہد جو پرہیزگاری کا تقاضا ہے 12 کیونکہ وہ ایماندار تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت کے تربیت یافتہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(48:26) اذ ظرف زمان ہے یہ فعل محذوف کا مفعول ہے ای اذکر اذ وہ وقت یاد کرو جب۔ یا یہ لعذبنا کا ظرف ہے۔ جب ، یعنی تو ان میں سے جو کافر تھے ہم ان کو دردناک عذاب دیتے ۔ جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت جاہلیہ کو جگہ دی (اور رسول اللہ اور ان کے صحابیوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا) ۔ ای لعذبنا ھم اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ۔ حمیۃ الجاہلیۃ (ایسر التفاسیر) جعل۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ جعل (باب فتح) مصدر۔ اس نے بنایا۔ اس نے کہا۔ اس نے جگہ دی۔ اس نے ٹھہرایا۔ امام راغب لکھتے ہیں کہ :۔ جعل ایک ایسا لفظ ہے کہ تمام افعال کے لئے عام ہے یہ فعل، صنع اور اس قسم کے تمام افعال سے اعم ہے اس کا استعمال…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–29

لغات القرآن آیت نمبر (22 تا 26) ۔ لو لو الادبار (وہ ضرور پیٹھ پھیریں گے) ۔ قد خلت (یقینا گذر گئی) ۔ بطن (پیٹ۔ درمیان) ۔ اظفر (اس نے قابو کیا) ۔ معکوف (رکا ہوا) ۔ ان یبلغ (یہ کہ وہ پہنچے) ۔ محلہ (اپنی جگہ) ۔ ان تطئوا (یہ کہ تم روند ڈالو ) ۔ معرۃ (دکھ۔ گناہ۔ تکلیف) ۔ لو تز یلوا (اگر وہ الگ ہوجائے۔ ٹل جائے) ۔ الحمیتہ (غیرت ۔ ضد۔ ہٹ) ۔ الزم (اس نے لازم کردیا) ۔ احق (زیادہ حق دار) ۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے واقعات اور اس کی مصلتحوں کو بیان کیا جارہا ہے۔ ارشاد ہے کہ بیشک اللہ نے کفار کو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جوابی کاروائی کرنے سے اور جذباتی لمحات میں اہل ایمان کو کفار پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–26

(ف 1) مشرکوں نے اہل اسلام کے اس عمرہ کے قافلہ کو روکا اور بڑے جھگڑے کے بعد اگلے سال عمرہ کرنے اور دس برس تک لڑائی کے موقوف رہنے پر صلح ہوئی اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ مشرکین مکہ اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کہتے ہیں اتنا نہیں جانتے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے تو اللہ سے یہ دعا کی تھی کہ غیب سے لوگوں کے دلوں میں کعبہ کی زیارت کا شوق پیدا ہوجائے اور یہ نسل ابراہیمی کہلاکر لوگوں کو اس زیارت سے اور قربانی کے جانوروں کو منی تک کے جانے سے روکتے ہیں۔ فرمایا کہ کچھ چھپے ہوئے مسلمان مرد وعورت مکہ میں نہ ہوتے اور کچھ نئے لوگوگوں کا رحمت الٰہی سے داخل اسلام ہونا اللہ کے علم میں نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[23] جاہلیت کی عصبیت سے اشارہ قریش کے لیڈروں کی ان حرکتوں پر ہے جو انہوں نے صلح نامہ مرتب ہوتے وقت کیں، مثلاً معاہدے پر بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ لکھی جائے، معاہدے میں محمد رسول اللہ ﷺ کے بجائے صرف محمد بن عبداللہ لکھا جائے، وغیرہ۔ رسول اکرم ﷺ اس قسم کے سارے مطالبات منظور فرماتے چلے گئے۔ [24] اس سکینت الٰہی کا یہ اثر ہوا کہ مسلمان جوش میں آ کر لڑ نہیں بیٹھے ورنہ مشرکین کی اشتعال انگیزی کا تقاضا تو یہی تھا۔ [25] یہاں تقویٰ کی بات رسول کی اطاعت تھی اور یہ اسی کا مقتضا تھا جس سے پرجوش مسلمانوں نے اپنے کو قابو میں رکھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–26

ف 2: کفار کی اس حرکت کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو حدیبیہ کے مقام پر روک لیا ۔ اور مناسک حج کے ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ فرمایا ۔ اگر یہ احتمال نہ ہوتا ۔ کہ مسلمانوں کے حملہ سے بیخبر ی میں بعض ان مسلمانوں کو نقصان پہنچ جائے گا ۔ جو مکہ میں رہتے ہیں ۔ تو فیصلہ ہوچکا ہوتا اور ان کے اس اقدام کی پوری پوری سزدیجا چکی ہوتی ۔ مگر اللہ کو تو یہ منظور تھا ۔ کہ بغیر اس کے کہ ان مسلمانوں کی ابتلاء اور آزمائش میں ڈالا جائے ۔ مگر فتح ہوجائے ۔ اور اس طرح ان لوگوں کو وہ اپنی آغوش رحمت میں لے لے ۔ ہاں اگر کفار اور مسلمانوں میں کوئی امتیاز پیدا ہوجاتا ۔ تو پھر یقینا جہاد کے ذریعہ ان لوگوں کو سخت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جبکہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں اس غیرت وحمیت اور عار کو جگہ دی جو جاہلیت کی غیرت وحمیت اور عار تھی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا سکینہ اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر نازل فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی بات پر ثابت اور جمائے رکھا اور وہ مسلمان اس کلمہ تقویٰ کے زیادہ حقدار اور تقویٰ کی بات کے حقیقی اہل ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر شئی کو خوب جانتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک ضد یہ کہ اس سال عمرہ نہ کرنے دیا اور یہ کہ جو مسلمان ہجرت کرے پھر بھیجو اور اگلے سال عمرے کو آئو تین دن سے زیادہ نہ رہو اور ہتھیار کھلے نہ لائو ۔ حضرت ﷺ نے یہ سب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ اس عار سے وہ ضد مراد ہے جو بسم اللہ اور لفظ رسول اللہ لکھنے میں انہوں نے مسلمانوں سے کی تھی۔ اس لئے اس کو جاہلیت سے مقید فرمایا ورنہ مطلق حمیت و عار مذموم نہیں۔ 8۔ جس سے اپنے کو صبط کر کے لکھنے پر اصرار نہیں کیا، یہاں تک کہ صلح ہوئی، اور کفار قتال سے بچ گئے۔ 9۔ تقوی کی بات سے کلمہ طیبہ اقرار توحید و رسالت مراد ہے، اس کی بدولت کفر و شرک سے بچاوہوجاتا ہے اور نیز وہ مقتضی ہے وجوب تقوی و اطاعت کو، اور اس پر جمائے رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ مقتضا اعتقاد توحید و رسالت کا اطاعت ہے اللہ و رسول کی، اور مسلمانوں کا یہ ضبط صرف اس وجہ سے تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ضبط کا حکم فرمایا تھا، پس یہ اطاعت کلمہ تقوی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر آیات نمبر 26 ، 27 ، 28 ۔ 26 ؎ مذہبی رسوم ادا کرنے کے لیے جانے والے کون تھے ؟ قریش کے وہ افراد تھے جن کو انہوں نے بدمذہب یا لامذہب سمجھ کر مکہ سے نکال دیا۔ وہ جو کچھ بھی تھے ان کی بلا سے جس بات کو وہ بھی مذہبی فریضہ سمجھتے تھے اور وہ بھی جن کو انہوں نے لامذہب قرار دیا پھر اسی فریضہ کے ادا کرنے سے روکنے کے کیا معنی ؟ اس بات کو قرآن کریم نے مکہ والوں کی حمیت قرار دیا ہے اور حمیت ام ہے کد اور ضد کا گویا قوت غضب جب جوش میں آئے اور بہت ہی بڑھ جائے تو حمیت کہلاتی ہے۔ ضد اور ہٹ دھرمی اچھی چیز ہے ؟ ہرگز نہیں لیکن طاقت و قوت نے کبھی اس بات کا خیال نہیں کیا اور پھر جب اس کے ساتھ جہالت بھی مل جائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لَّقَدْ صَدَقَ اللَّـهُ رَ‌سُولَهُ الرُّ‌ؤْيَا بِالْحَقِّ (and made them stick to the word of piety, and they were very much entitled to it, and competent for it - 48:26) ". The construction kalimat-at-taqwa connotes the word of the pious persons, that is, the Kalimah of Tauhid and Risalah whereby a person declares his faith in Allah's Oneness and in the Messenger-ship of Sayyidna Muhammad ﷺ . It is named here as 'word of piety' because this word is the foundation of piety, righteousness and right conduct. The noble Companions ؓ here are said to have better right to it and more worthy of it,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

45 The words hamiyyat al -jahiliyyah mean that a man should wilfully do something unworthy and improper only for the sake of his honour and prestige. The dilsbelievers of Makkah themselves acknowledged and admitted that everybody ,had a right to visit the Ka`bah for performing Hajj and `Umrah, and that they had no right to slop anyone from this duty. This was an ancient admitted law of Arabia. But in spite of knowing that they were absolutely in the wrong and the Muslims in the right, they prevented the Muslims from performing `Umrah only for the sake of their prestige. The righteous even…

Read the full tafseer →