Explained with ayahs 25–26
مسجد حرام بیت اللہ کے اصل حقدار
مشرکین عرب جو قریش تھے اور جو ان کے ساتھ اس عہد پر تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے جنگ کریں گے ان کی نسبت قرآن خبر دیتا ہے کہ دراصل یہ لوگ کفر پر ہیں انہوں نے ہی تمہیں مسجد حرام بیت اللہ شریف سے روکا ہے حالانکہ اصلی حقدار اور زیادہ لائق بیت اللہ کے تم ہی لوگ تھے پھر ان کی سرکشی اور مخالفت نے انہیں یہاں تک اندھا کردیا کہ اللہ کی راہ کی قربانیوں کو بھی قربان گاہ تک نہ جانے دیا یہ قربانیاں تعداد میں ستر تھیں جیسے کہ عنقریب ان کا بیان آرہا ہے انشاء اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ سردست تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دینے میں یہ راز پوشیدہ تھے کہ ابھی چند کمزور مسلمان مکہ میں ایسے…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 43
یعنی جس خلوص اور بےنفسی کے ساتھ تم لوگ دین حق کے لیے سردھڑ کی بازی لگا دینے پر آمادہ ہوگئے تھے اور جس طرح بےچون و چرا رسول کی اطاعت کر رہے تھے، اللہ اسے بھی دیکھ رہا تھا، اور یہ بھی دیکھ رہا تھا کہ کفار سراسر زیادتی کر رہے ہیں۔ اس صورت حال کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہیں اور اسی وقت تمہارے ہاتھوں سے ان کی سرکوبی کرا دی جاتی۔ لیکن اس کے باوجود ایک مصلحت تھی جس کی بنا پر اللہ نے تمہارے ہاتھ ان سے اور ان کے ہاتھ تم سے روک دیے۔
سورة الْفَتْح 44
یہ تھی وہ مصلحت جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں جنگ نہ ہونے دی۔ اس مصلحت کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ مکہ معظمہ میں اس وقت بہت سے مسلمان…
Read the full tafseer →(آیت) فَتُصِيْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚ، لفظ معرہ کے معنی بعض حضرات نے گناہ کے بیان کئے ہیں اور بعض حضرات نے مطلق مضرت کے اور بعض نے عیب کے بیان کئے ہیں، اس مقام پر ظاہر یہی آخری معنی ہیں کہ اگر جنگ چھڑ جاتی اور بیخبر ی کی حالت میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مکہ میں محبوس مسلمان قتل ہوجاتے تو یہ ایک عیب اور عار کی بات بھی تھی کہ کفار ان کو عار دلاتے کہ اپنے ہی دینی بھائیوں کو مار ڈالا اور مضرت بھی، مقتول مسلمانوں کی مضرت تو ظاہر ہی ہے۔ قاتل مسلمانوں کو جب خبر ہوتی سخت ندامت اور افسوس ہوتا، یہ مضرت عام مسلمانوں کو پہنچتی۔
صحابہ کرام کو غلطی اور عیب سے بچانے کا قدرتی انتظام
امام…
Read the full tafseer →ھم الذین کفروا و صدوکم عن المسجد الحرام والھدی معکوفاً انیبلغ محلہ ولولا رجال مومنون ونسآء مومنت لم تعلموھم ان تطوھم فتصیبکم منھم معرۃ بغیر علم، لیدخل اللہ فی رحمتہ من یشآء لوتکریلوا لعذبنا الذین کفروا منھم عذاباً الیماً 25
جنگ کی نوبت آنے دینے کی حکمت
یہ حکمت بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں اس وقع پر اللہ تعالیٰ نے جنگ نہیں ہونے دی فرمایا کہ اگرچہ قریش کی زیادتیاں بالکل کھلی ہوئی تھیں، انہوں نے دعوت حق کا انکار کیا، اہل ایمان کو مسجد حرام کی حاضری سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو ان کے ربان ہونے کی جگہ پہنچنے کی اجازت نہ دی لیکن ان تمام گستاخیوں اور تعدیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کی حکمت کا…
Read the full tafseer →25۔ 1 ھدی اس جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی یا معتمر عمرہ کرنے والا اپنے ساتھ مکہ لے جاتا تھا یا وہیں سے خرید کر ذبح کرتا تھا محل سے مراد وہ قربان گاہ ہے جہاں ان کو لے جا کر ذبح کیا جاتا ہے جاہلیت کے زمانے میں یہ مقام معتمر کے لیے مروہ پہاڑی کے پاس اور حاجیوں کے لیے منی تھا اور اسلام میں ذبح کرنے کی چگہ مکہ منی اور پورے حدود حرم ہیں۔ معکوفا حال ہے یعنی یہ جانور اس انتظار میں رکے ہوئے تھے کہ مکہ میں داخل ہوں تاکہ انہیں قربان کیا جائے مطلب یہ ہے کہ ان کافروں نے ہی تمہیں بھی مسجد حرام سے روکا اور تمہارے ساتھ جو جانور تھے انہیں بھی اپنی قربان گاہ تک نہیں پہنچنے دیا۔
25۔ 2 یعنی مکہ میں اپنا ایمان…
Read the full tafseer →23: آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام چونکہ عمرے کے ارادے سے تشریف لائے تھے، اس لئے حرم میں قربانی کے لئے جانور بھی ساتھ لائے تھے جنہیں حرم میں پہنچ کر قربان ہونا تھا، وہ ان کافروں کے رکاوٹ ڈالنے کی وجہ سے حدیبیہ ہی میں کھڑے رہ گئے، اور جس جگہ لے جا کر انہیں قربان کرنے کا ارادہ تھا وہاں نہیں پہنچ پائے۔
24: یہ ان مصلحتوں میں سے ایک مصلحت کا بیان ہے جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس وقت جنگ کو مناسب نہیں سمجھا۔ اور وہ مصلحت یہ تھی کہ مکہ مکرمہ میں بہت سے مسلمان موجود تھے، اور اب حضرت عثمان اور ان کے ساتھی بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔ جنگ ہوتی تو پورے زور و شور سے ہوتی، اور اس گھمسان کی جنگ میں مکہ مکرمہ کے…
Read the full tafseer →اب اللہ مسلمانوں کے مخالف کیمپ پر تبصرہ فرماتا ہے کہ اللہ کے پیمانے کے مطابق ان کے شب و روز کیا ہیں ؟ اور اللہ ان کی کاروائیوں کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے ؟ وہ مومنین کو مسجد حرام سے روک رہے ہیں اور یہ کہ اللہ مسلمانوں کو کس نگاہ سے دیکھ رہا ہے اور ان کے دشمنوں کو کس نگاہ سے !
ھم الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ کفروا منھم عذابا الیما (25) اذ جعل الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ بکل شیء علیما (26) (48 : 25 تا 26) “ وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور ہدی کے اونٹوں کو ان کی قربانی کی جگہ نہ پہنچے دیا۔ اگر (مکہ میں) ایسے مومن مرد و عورت موجود نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے ، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ…
Read the full tafseer →10 یعنی حرم کے اس حصہ تک قربانی کے جانور پہنچنے نہ دیے جہاں لے جا کر ذبح کرنے کا عام دستور اور معمول ہے۔ حدیبیہ ہی میں رکے پڑے رہے۔
11 یعنی کچھ مسلمان مرد و عورت جو مکہ میں مظلوم و مقہور تھے اور مسلمان ان کو پوری طرح جانتے نہ تھے وہ لڑائی میں بیخبر ی سے پیس دیے جائیں گے۔ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا تو فی الحال لڑائی کا حکم دے دیا جاتا۔ لیکن ایسا ہوتا تو تم خود اس قومی نقصان پر متاسف ہوتے۔ اور کافروں کو یہ کہنے کا موقع ملتا کہ دیکھو ! مسلمان مسلمانوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ اس خرابی کے باعث لڑائی موقوف رکھی گئی تاکہ وہ مسلمان محفوظ رہیں۔ اور تم پر اس بیمثال صبر و تحمل کی بدولت خدا اپنی رحمت نازل فرمائے…
Read the full tafseer →آیت 25 { ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّہٗ } ”وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں روکے رکھا مسجد ِحرام تک جانے سے اور قربانی کے جانور بھی روکے گئے اپنی جگہ پہنچنے سے۔“ یہ ان جرائم کا تذکرہ ہے جن کا ارتکاب قریش مکہ نے اس پورے واقعے کے دوران کیا تھا۔ انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کو احرام کی حالت میں ہوتے ہوئے بھی بیت اللہ کے طواف سے روکا بلکہ ان کے قربانی کے جانوروں کو بھی قربان گاہوں تک نہ پہنچنے دیا۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فریقین کے ہاتھوں کو ایک دوسرے کی طرف بڑھنے سے روک دیا اور اس ممکنہ جنگ کو…
Read the full tafseer →35 یہ کل ستر اونٹ تھے جو صحابہ اپنے ہمراہ لائے تھے۔ جب قریشی اس بات پر اڑ گئے کہ کسی قیمت پر مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے تو معاہدہ صلح کے بعد انہیں وہیں حدیبیہ کے مقام پر ذبح کردیا گیا۔
36 حدیبیہ میں جنگ نہ لڑنے کا ایک بہت اہم پہلو :۔ مکہ میں کچھ ایسے مسلمان موجود تھے جو قریش مکہ کے مظالم کی وجہ سے اپنا اسلام چھپائے رکھتے تھے۔ اور ان کے پاس ایسے ذرائع بھی موجود نہ تھے کہ وہ ہجرت کرکے مدینہ چلے جاتے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بھی فی الواقع معذور تھے۔ چناچہ سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں اور میری ماں ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ جنگ کی صورت میں ایسے معذور مسلمانوں کو بھی…
Read the full tafseer →29۔ (اور اس طرح جرم درجرم کے مرتکب ہوچکے تھے) (آیت) ” المسجد الحرام “۔ اس کے تحت میں خانہ کعبہ اور اس کے ملحقات وتوابع سب داخل ہیں۔ (آیت) ” والھدی ..... محلۃ “۔ یعنی قربانی کے جانور کو منی کی قربانگاہ میں پہنچنے سے روک دیا۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے گئے تھے اور قربانی کے جانور ساتھ لے گئے تھے۔ یہی خیال تھا کہ منی پہنچ کر جانور بھی قربان کریں گے۔ والمراد المحل المعھود وھو منی (مدارک) فقہاء نے آیت سے استنباط کیا ہے کہ قربانی کی جگہ حدود حرم کے اندر ہی ہے۔ وفی الایۃ دلالۃ علی ان المحل ھو الحرم فلوکان محلہ غیرالحرم لماکان معکوفا عن بلوغہ (جصاص)
30۔ یعنی ابھی تمہیں قتال کا حکم دے کر سب کا کام تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
ترجمہ : یقینا اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوا جب انہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اور وہ ببول کا درخت ہے اور اصحاب حدیبیہ ایک ہزار تین سو یا اس سے کچھ زائد تھے، پھر ان حضرات نے اس پر بیعت کی کہ وہ قریش کا مقابلہ کریں گے، اور یہ کہ وہ موت سے راہ فرار اختیار نہ کریں گے اللہ کو ان کے دلوں کے وفا و صدق کا حال معلوم تھا اس لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو قریبی فتح عطا فرمائی اور وہ فتح حدیبیہ سے واپسی کے بعد خیبر کی فتح تھی اور بہت سی غنیمتیں کہ جن کو وہ خیبر سے حاصل کریں گے اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے، یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی…
Read the full tafseer →ھم الذین کفروا وصدوکم عن المسجد الحرام والھدی معکوفا ان یبلغ محلہ وہی
ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور نیز قربانی کے جانور کو جو رکا ہوا رہ گیا ‘ اس کے موقع میں پہنچنے سے روکا۔
ھُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یعنی وہ اہل مکہ ہی ہیں ‘ جنہوں نے کفر کیا۔
عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَام یعنی کعبہ کا طواف کرنے سے تم کو روکا تھا۔
الْھَدْیَ اونٹ ‘ گائے اور بکریاں جو قربانی کیلئے مکہ کو بھیجی جاتی ہیں ‘ ان کو ہدی کہا جاتا ہے۔
مَحِلَّہٗ محل سے مراد ہے حرم۔ حنفیہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ حرم کے اندر ہی قربانی کرنا جائز ہے ‘ حرام سے باہر جائز نہیں ‘ لیکن اگر کسی کو راستہ میں روک…
Read the full tafseer →اور وہ لوگ یعنی اہل مکہ جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں حدیبیہ کے سال مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانور کو بھی اس کے موقع پر پہنچنے سے روکا کہ وہ حدیبیہ ہی میں رہ گیا۔
اور اگر اس وقت مکہ مکرمہ میں بہت سے مسلمان مرد جیسا کہ ولید سلمہ بن ہشام، عیاش بن ربیعہ، ابو جندل اور بہت سی مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تمہیں خبر بھی نہ تھی یعنی ان کے قتل ہونے کا خدشہ نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تمہیں بھی بیخبر ی میں گناہ اور دیت کا نقصان پہنچتا تو ابھی تمہیں ان پر مسلط کر کے ان کا سارا قصہ ہی ختم کردیا تھا۔
تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی اس کو دولت عطا فرمائے جو اس چیز کا اہل ہو البتہ اگر یہ مزکور مسلمان مکہ…
Read the full tafseer →(1) ھم الذین کفروا و صدوکم عن المسجد الحرام : اس سے اہل مکہ کی اس زیادتی کا بیان مقصود ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عار قرار دیا اور وہ یہ کہ اللہ کے رسول پر ایمان لانے کے بجائے کفر پر اڑ گئے اور انہوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام میں داخلے اور اس کے طواف سے اور عمرہ کے دوسرے ارکان ادا کرنے سے روک دیا اور لڑائی پر آمادہ ہوگئے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان لڑنے کی نیت سے نہیں آئے تھے، نہ وہ پوری طرح ہتھیار لائے تھے، بلکہ وہ حالت احرام میں تھے لڑنا تو ایک طرف رہا وہ اس حالت میں کسی کو ایذا بھی نہیں دے سکتے تھے۔
(2) والھدی معکوفاً ان یبلغ محلہ :”الھدی“ مصدر بمعنی اسم مفعول : ”ای الانعام…
Read the full tafseer →اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: مراد قریش ہیں جنہوں نے حدیبیہ کے سال تمہیں مسجد حرام میں داخل ہونے سے منع کیا : جب نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھا انہوں نے قربانی کے جانوروں کو روک دیا اور انہیں اپنی جگہ تک نہ پہنچنے دیا وہ اس کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے لیکن خود سری نے انہیں اس امر پر برانگختیہ کیا اور دور جاہلیت کی حمیت نے انہیں دعوت دی کہ وہ کام کریں جس کا وہ بطور دین اعتقاد نہیں رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس امر پر انہیں شرمندہ کیا اور اس پر انہیں دھمکی دی اور رسول اللہ ﷺ سے انس فرمایا کہ اس امر کی وضاحت کی اور آپ سے وعدہ کیا۔
مسئلہ نمبر 2:
معکوف کا معن محبوس ہے (1)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد وعبد بن حمید (رح) ومسلم و ابوداؤد والترمذی والنسائی وبن جریر وابن المنذر وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا کہ جب مدینہ کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب پر اہل مکہ میں سے اسی آدمی نیچے اتر آئے ہتھیار پہنے ہوئے جبل تنعیم کی طرف سے وہ رسول اللہ ﷺ کو دھوکہ دینے کا ارادہ رکھتے تھے تو آپ نے ان پر بددعا فرمائی تو وہ پکڑے گئے پھر آپ نے ان کو معاف کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” وھو الذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیہم “ (اور اسی ذات نے ان کفار مکہ کے ہاتھ تم سے (یعنی تمہارے قتل سے اور تمہارے ہاتھ ان کو قتل…
Read the full tafseer →هُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا ] وَصَدُّوْكُمْ [ اور روکا تمہیں ] عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ [ مسجد حرام سے ] وَالْهَدْيَ [ اور قربانی کے جانور کو ] مَعْكُوْفًا [ روکا ہوا ہوتے ہوئے ] اَنْ يَّبْلُغَ [ کہ وہ پہنچے ] مَحِلَّهٗ ۭ [ اپنی منزل کو ] وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ [ اگر نہ ہوتے کچھ مومن مرد ] وَنِسَاۗءٌ مُّؤْمِنٰتٌ [ اور مسلمان خواتین ] لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ [ تم لوگوں نے نہیں جانا تھا جن کو ] اَنْ تَـــطَــــُٔوْهُمْ [ کہ (کہیں ) تم روند ڈالوں ان کو ] فَتُصِيْبَكُمْ مِّنْهُمْ [ نتیجۃ آلگے تم کو ان سے ] مَّعَرَّةٌۢ [ کوئی برائی ] بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚ [ بغیر…
Read the full tafseer →کافروں نے مسلمانوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا ان پر حمیت جاہلیہ سوار ہوگئی، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر سکینہ نازل فرمائی اور انہیں تقویٰ کی بات پر جما دیا !
ان آیات میں چند امور بیان فرمائے اول مشرکین کی مذمت فرمائی کہ انہوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام تک پہنچنے سے روک دیا اور وہ جو قربانی کے جانور ساتھ لائے تھے ان کو ان کے موقع ذبح میں نہ جانے دیا (ان کی حرکتوں کا تقاضا یہ تھا کہ ان سے جنگ کی جاتی اور انہیں سزا دی جاتی۔ )
تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ ہدی کے جانور جو رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھ لے گئے تھے ان کی تعداد ستر تھی عمرہ کرکے انہیں مکہ معظمہ میں ذبح کیا جانا تھا قریش آڑے آئے لہٰذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
بیعت الرضوان و فضائل اہل بیعت مع بشارت انعام خداوندی بعطاء غنائم و غلبہ اہل ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” لقد ؓ عن ال مومنین ....... الی ...... بکل شیء علیما “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان اعراب ومتخلفین کا ذکر تھا جو جھوٹے عذر اور حیلے بہانے کرکے حدیبیہ کے سفر سے پیچھے رہ گئے تھے انکی باطنی گندگی اور قبائح کے ذکر کے ساتھ حق تعالیٰ کی طرف سے جس وعید اور تنبیہ کے وہ مستحق تھے بیان کی گئی تھی اب اس گروہ کے بالمقابل ان مخلصین ومطیعین اور جانثاروں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی کہ ہم زندگی کے آخری سانس تک رسول خدا ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور آخری دم تک ہر طرح…
Read the full tafseer →21:۔ ” ھم الذین والھدی ‘ ” کم “ ضمیر خطاب پر معطوف ہے۔ معکوفا، الھدی سے حال ہے یعنی رکی ہوئی۔ ” ان یبلغ محلہ “ یہ الھدی سے بدل الاشتمال ہے (روح) ان مشرکین نے تمہیں بیت اللہ تک پہنچنے سے روکا۔ اور قربانی کے جانور جو مقام حدیبیہ میں رکے ہوئے تھے ان کو قربان گاہ یعنی مقام منی میں پہنچنے سے روکا۔ اس لحاظ سے مشرکین مکہ مجرم اور ظالم ہیں، اور اس لائق نہیں تھے کہ انہیں معاف کیا جاتا اور ان سے جنگ نہ کیجاتی لیکن مکہ میں کچھ ایسے مسلمان مرد اور عورتیں موجود تھیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے، بصورت قتال وہ بیچارے بھی جنگ میں کچل دئیے جاتے اور بعد میں تمہیں اس پر افسوس اور پشیمانی لاحق ہوتی۔ اگر یہ مسلمان ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
شان نزول
سورۃ الفتح میں واقعہ حدیبیہ کے مختلف پہلوئوں کی طرف اشارات ملتے ہیں ۔ حدیبیہ کا معاہدہ طے پا جانے کے بعد بھی مشرکین کے بعض گروہوں نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا ، اور کچھ لوگ مختلف راستوں سے ہو کر مسلمانوں کے ٹھکانے پر پہنچے تا کہ کسی طرح حضور ﷺ کا کام تمام کردیا جائے۔ اور یہ ہدف نہ بھی پورا ہو تو کم ا ز کم مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کر کے ان کو تنگ تو کیا جاسکے گا ، اور اس طرح ان کو اشتعال دلا کر ان کو لڑائی پر آمادہ کیا جاسکے گا ۔ مشرکین کے اسی منصوبے کے تحت ایک مسلمان شہید بھی ہوگیا ۔ سکیم کے مطابق کفار کے سترآدمی مسلمانوں میں افرا تفری پیدا کرنے کے لیے پہاڑی کی پچھلی طرف سے اترے اور انہوں…
Read the full tafseer →ہُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَــرَامِ وَالْہَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّہٗ 0 ۭ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَاۗءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْہُمْ اَنْ تَـطَــــُٔـــوْہُمْ فَتُصِيْبَكُمْ مِّنْہُمْ مَّعَرَّۃٌۢ بِغَيْرِ عِلْمٍ 0 ۚ لِيُدْخِلَ اللہُ فِيْ رَحْمَتِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۚ لَوْ تَزَيَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْہُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا 25
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ترکیب : سنۃ اللہ انتصابہ علی المصدریۃ بفعل محذوف ای سن اللہ سنۃ اوھو مصدرہ مؤکدلمضمون المجلۃ المتقدمۃ من ھزیمۃ الکفار ونصرالمؤمنین والہدی قرء الجمہور بنصب الھدی عطفا علی الضمیر المنصوب فی صدوکم وقریٔ بالجر عطفاعلی المسجد معکوفًا انتصابہ علی الحال من الہدی قال الجوھری عکفہ ای حبسہ و منہ الاعتکاف فی المسجد وھوالا حتباس ان یبلغ ای عن ان یبلغ اومفعول لاجلہ ولولا شرط وجوابہ محذوف و التقدیر لاذن اللہ لک المعرۃ العیب وقیل الشدۃ وقیل الغم بغیر علم متعلق بان تطوھم ای غیر عالمین لیدخل اللام متعلقہ بمایدل علیہ الجواب المقدرای لم یاذن لکم اوکف ایدیکم لیدخل اللہ حمیۃ الجاھلیۃ بدل من الحمیۃ اھلہا عطف…
Read the full tafseer →ھُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِالْحَرَامِ وَالْھَدْیَ مَعْکُوْفًا اَنْ یَّـبْلُغَ مَحِلَّـہٗ ط وَلَوْلاَ رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَآئٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْھُمْ اَنْ تَطَـُٔوْھُمْ فَتُصِیْبَکُمْ مِّنْھُمْ مَّعرَّۃٌ م بِغَیْرِ عِلْمٍ ج لِیُدْخِلَ اللّٰہُ فِیْ رَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ج لَوْتَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الفتح : 25)
(وہی لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا، اور تم کو مسجد حرام سے روکا، اور قربانی کے جانوروں کو بھی روک کے رکھا کہ وہ اپنی جگہ پر نہ پہنچنے پائیں، اور اگر ایسے مومن مرد اور مومنہ عورتیں نہ ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
فہم القرآن
ربط کلام : فتح مکہ اور صلح حدیبیہ کے حالات پر تبصرہ جاری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے مقام پر جو حرم مکہ کے کنارے پر واقع ہے نہ صرف اہل مکہ کے ہاتھوں کو روکے رکھا بلکہ مسلمانوں کے ہاتھوں کو بھی کفار کی طرف بڑھنے سے روک لیا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ وہی کافر ہیں جنہوں نے تمہیں مسجد حرام تک پہنچنے سے روک دیا اور جو قربانیاں تم اپنے ساتھ لائے تھے انہیں بھی حرم میں نہ جانے دیا۔ بیشک یہ دونوں جرائم اپنی جگہ پر بہت بڑے تھے لیکن اگر اہل مکہ کے ساتھ تمہاری مڈ بھیڑ ہوجاتی تو وہاں ایسے مومن اور مومنات بھی موجود تھیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے۔ لڑائی ہونے…
Read the full tafseer →آیت 25 : ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ (یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانور کو) الہدی وہ جانور جو بطور ہدی کعبہ کی طرف بھیجا جائے۔
نحو : اس پر نصب اس لئے ہے کہ صدوکم کے کم پر اس کا عطف ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ صدوکم و صدوا الہدی۔
مَعْکُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ (جو رکا ہوا رہ گیا کہ وہ پہنچے) معکوفًا کا معنی رکا ہوا پہنچنے سے۔ : یہ معکوفًا حال ہے۔ آپ ﷺ نے ستر اونٹ چلائے تھے۔ مَحِلَّہٗٗ (اپنے موقع پر) اپنی اس جگہ جہاں اس کا نحر کرنا حلال ہے یعنی واجب ہے۔
نحو : یہ دلیل ہے کہ محصر کے دم احصار کا محل حرم ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت وھو الذی کف ایدیھم کا شان نزول
24 ۔” وھوالذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیھم وکان اللہ بما تعملون بصیرا “ ابو عمرو نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ان لوگوں کی تعیین میں اختلاف ہوا ہے۔ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ اہل مکہ کے اسی لوگ جبل تنعیم سے اسلحہ سے لیس آئے ۔ ان کا ارادہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ پر حملہ کرنا تھا۔ پس انہوں نے قیدی پکڑے، پھر ان کو زندہ چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ” وھوالذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفر کم علیھم “ عبداللہ بن مغفل مزنی ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
20۔ 26۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے بیعت رضوان خالص دل سے کی ہے اللہ ان سے خوش ہے اور اس نیک نیتی کے کام پر اللہ تعالیٰ نے ان کو خیبر کی فتح انعام کے طور پر عنایت کی اور یہ حکم دیا کہ اس فتح کی غنیمت کے مال میں سوائے ان بیعت والے لوگوں کے اور کسی دوسرے کا حصہ نہیں ان آیتوں میں فرمایا جن فتوحات اور غنیمت کے بہت سے مال کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اس وعدہ میں سے فتح خیبر اور وہاں کے غنیمت کا مال ایک فوری انعام ہے اس کے بعد رفتہ رفتہ اور فتوحات کی امید اللہ تعالیٰ سے رکھنی چاہئے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس کے بعد اللہ کے رسول اور خلفا کے زمانہ میں بہت سی فتوحات ہوئیں جن کا ذکر حدیث اور تاریخ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اس احسان کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس نے ان کو کفار کے شر اور ان کے قتال سے عافیت میں رکھا، فرماتا ہے : (وھو الذی کف ایدیھم) ” اور وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو روکا۔ “ یعنی اہل مکہ کے (عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیھم) “ تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے ان پر تمہیں فتح دینے کے بعد۔ “ یعنی اس کے بعد کہ تمہیں ان پر قدرت حاصل ہوگئی اور وہ کسی عہد اور معاہدے کے بغیر تمہارے ولایت اور سرپرستی میں آگئے اور وہ تقریباً اسی (80) آدمی تھے، جو مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تاکہ بیخبر ی میں ان کو آلیں مگر انہوں نے مسلمانوں کو باخبر اور چاق و چوبند پایا، مسلمانوں نے ان کو…
Read the full tafseer →قربانی کا اصل مقام حدود حرم ہے
قول باری ہے (والھدی معکوفا ان یبلغ محلہ۔ اور (انہوں نے) قربانی کے جانور کو جو رکا ہوا رہ گیا تھا اس کی قربانی کی جگہ پر پہنچنے سے روک دیا تھا) آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو دم احصار کو غیر حرم میں ذبح کرنے کے جواز کے قائل ہیں کیونکہ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قربانی کا جانور اپنی قربانی کی جگہ پر پہنچنے سے روک دیا گیا تھا۔ اگر یہ جانور حدود حرم میں پہنچ کر وہاں ذبح ہوجانا تو محبوس یعنی رکا ہوا نہ کہلاتا۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ان حضرات جس طرح سوچا ہے بات اس طرح نہیں ہے۔ اس لئے کہ ابتداء میں ہدی کو قربانی کی جگہ پر پہنچے سے روک دیا گیا تھا۔ جب صلح ہوگئی تو…
Read the full tafseer →[ 58] کفار قریش کے بعض سنگین جرائم کا ذکر وبیان :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور مسلمانوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ وہی [ بدبخت ] لوگ ہیں جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر [ وباطل ] پر، اور انہوں نے روکا تم لوگوں کو مسجد حرام سے، اور قربانی کے جانوروں کو بھی ان کی جگہ پہنچنے سے، سو اس سے کفار قریش کے ان سنگین جرائم کو واضح فرمایا گیا۔ انہوں نے کفر کیا اور تم لوگوں کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو ان کی قربان گاہ تک پہنچنے سے روکا۔ سو ایسے کفار و مشرکین اپنے کئے کرائے کی بناء پر فوری سزا کے مستحق تھے، کہ وہ جرم بالائے جرم کے مرتکب ہوئے تھے، مگر اللہ پاک نے اپنی بےانتہا حکمت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
کامیابیاں مسلمانوں کی ہی ہوں گی
تشریح : ان آیات میں اللہ کی ان نعمتوں برکتوں اور حکمتوں کا ذکر بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں مسلمانوں پر ظاہر ہوئیں۔ اگر اس وقت جنگ ہوجاتی تو بھی حق کو ہی فتح ہونی تھی کیونکہ اللہ حق کا ساتھ دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو اخلاقی تربیت بھی دی گئی ہے۔ جذبات پر قابو رکھنا غصہ کو دبانادور اندیشی سے کام لینا اور ظاہری فائدہ کی خاطر رسول ﷺ اور اللہ کے احکامات کے خلاف کام نہ کرنا۔ ہر صورت توحید، ایمان، مستقل مزاجی اور اتباع رسول ﷺ کو زندگی کا حصہ بنائے رکھنا ضروری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
آیات 18 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
اللہ جل شانہ یقینا ان مومنین سے راضی ہوگیا اور ان کی جاں سپاری کے جذبہ کو قبول فرمایا کہ حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے جب وہ آپ سے موت پر بیعت کر رہے تھے وہ اس لیے راضی ہوا کہ وہ ان کے قلبی خلوص کو جانتا تھا لہذا اس نے ان کے دلوں پر اطمینان نازل فرمایا۔
بیعت رضوان کا درخت۔
یہ ایک ببول کا درخت تھا مقام حدیبیہ پر جس کے نیچے رسول اللہ نے بیعت لی تھی بعد میں لوگوں نے وہاں نماز پڑھنا شروع کردی اور زیارت کو جانے لگے مگر کسی نے حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بیعت رضوان کی تھی وہ فرماتے تھے کہ ہم جب دوبارہ…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ حالانکہ تم اس مسجد کے ان کی یہ نسبت زیادہ حقدار تھے اور پھر تم نے انہیں سمجھایا بھی کہ ہم لڑنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ صرف عمرہ کر کے واپس ہوجائیں گے۔ ‘
2 یعنی حرم کے اس حصہ تک نہ پہنچ سکے جاں ذبح کرنے کا عام دستور ہے بلکہ حدیبیہ ہی میں رکے رہے اور وہیں ذبح کئے گئے اس موقع پر مسلمانوں کے ساتھ قربانی کے ستر اونٹ تھے۔ (شو کانی)
3 یعنی جن کا مسلمان ہونا تمہیں معلوم نہ تھا۔ ان سے مراد وہ مرد اور عروتیں ہیں جو اس وقت مکہ میں موجود تھے اور مسلمان ہوچکے تھے لیکن یا تو انہوں نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا یا بےبسی کی وجہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہ کرسکتے تھے بلکہ کفار کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے…
Read the full tafseer →(48:25) ہم ضمیر شان ۔ جمع مذکر غائب، وہ ، وہی۔ اشارہ اہل مکہ کی طرف ہے ۔ الذین اسم موصول جمع مذکر، باقی جملہ اس کا صلہ۔ ہم الذین کفروا۔ یعنی وہ اہل مکہ ہی ہیں جنہوں نے کفر کیا۔
وصدوکم : واؤ عاطفہ، صدوا ماضی جمع مذکر غائب۔ صدو صدود (باب نصر) مصدر یعنی روکنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اور انہوں نے تم کا روکا۔ عن المسجد الحرام : عن حرف جر۔ المسجد الحرام موصوف و صفت حرمت والی مسجد یعنی کعبہ۔ یعنی کعبہ کا طواف کرنے سے روکا۔
والھدی۔ واؤ عاطفہ۔ الھدی منصوب ہے کہ اس کا عطف صدوکم میں ضمیر منصوب پر ہے۔ ای وصدوا الھدی اسم معرف باللام۔ قربانی کا جانور جو ماہ حرم میں حرم کے اندر ذبح ہونے کے لئے بھیجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
لغات القرآن آیت نمبر (22 تا 26) ۔
لو لو الادبار (وہ ضرور پیٹھ پھیریں گے) ۔ قد خلت (یقینا گذر گئی) ۔ بطن (پیٹ۔ درمیان) ۔ اظفر (اس نے قابو کیا) ۔ معکوف (رکا ہوا) ۔ ان یبلغ (یہ کہ وہ پہنچے) ۔ محلہ (اپنی جگہ) ۔ ان تطئوا (یہ کہ تم روند ڈالو ) ۔ معرۃ (دکھ۔ گناہ۔ تکلیف) ۔ لو تز یلوا (اگر وہ الگ ہوجائے۔ ٹل جائے) ۔ الحمیتہ (غیرت ۔ ضد۔ ہٹ) ۔ الزم (اس نے لازم کردیا) ۔ احق (زیادہ حق دار) ۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے واقعات اور اس کی مصلتحوں کو بیان کیا جارہا ہے۔ ارشاد ہے کہ بیشک اللہ نے کفار کو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جوابی کاروائی کرنے سے اور جذباتی لمحات میں اہل ایمان کو کفار پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(ف 1) مشرکوں نے اہل اسلام کے اس عمرہ کے قافلہ کو روکا اور بڑے جھگڑے کے بعد اگلے سال عمرہ کرنے اور دس برس تک لڑائی کے موقوف رہنے پر صلح ہوئی اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ مشرکین مکہ اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کہتے ہیں اتنا نہیں جانتے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے تو اللہ سے یہ دعا کی تھی کہ غیب سے لوگوں کے دلوں میں کعبہ کی زیارت کا شوق پیدا ہوجائے اور یہ نسل ابراہیمی کہلاکر لوگوں کو اس زیارت سے اور قربانی کے جانوروں کو منی تک کے جانے سے روکتے ہیں۔
فرمایا کہ کچھ چھپے ہوئے مسلمان مرد وعورت مکہ میں نہ ہوتے اور کچھ نئے لوگوگوں کا رحمت الٰہی سے داخل اسلام ہونا اللہ کے علم میں نہ…
Read the full tafseer →[21] یہ حکمت بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے جنگ نہ ہونے دی۔ اگر لڑائی کا حکم دیا جاتا تو جو مسلمان مرد و عورت مکہ میں مظلوم و بےبس تھے اور مسلمانوں کو ان کا علم نہ تھا وہ نادانستگی میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے جاتے اور کافروں کو یہ کہنے کا موقع ملتا کہ دیکھو مسلمان مسلمانوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ اس لئے لڑائی موقوف رکھی گئی تاکہ وہ مسلمان محفوظ رہیں۔ نیز مشرکین مکہ میں سے بہت سے لوگ جن کا اسلام لانا مقدر تھا ان کو بھی اللہ نے لڑائی کے خطرات سے بچایا تاکہ انہیں رحمت میں داخل کرے جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر ہوا۔
[22] یعنی مسلمانوں کے ہاتھوں انہیں قتل کرا دیتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 2: کفار کی اس حرکت کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو حدیبیہ کے مقام پر روک لیا ۔ اور مناسک حج کے ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ فرمایا ۔ اگر یہ احتمال نہ ہوتا ۔ کہ مسلمانوں کے حملہ سے بیخبر ی میں بعض ان مسلمانوں کو نقصان پہنچ جائے گا ۔ جو مکہ میں رہتے ہیں ۔ تو فیصلہ ہوچکا ہوتا اور ان کے اس اقدام کی پوری پوری سزدیجا چکی ہوتی ۔ مگر اللہ کو تو یہ منظور تھا ۔ کہ بغیر اس کے کہ ان مسلمانوں کی ابتلاء اور آزمائش میں ڈالا جائے ۔ مگر فتح ہوجائے ۔ اور اس طرح ان لوگوں کو وہ اپنی آغوش رحمت میں لے لے ۔ ہاں اگر کفار اور مسلمانوں میں کوئی امتیاز پیدا ہوجاتا ۔ تو پھر یقینا جہاد کے ذریعہ ان لوگوں کو سخت…
Read the full tafseer →(25) یہ اہل مکہ وہی ہیں جنہوں نے حق کو قبول کرنے سے انکار کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا یعنی عمرے کے احکام بجا لانے سے تم کو روک دیا اور نیز قربانی کے وہ جانور جو حدیبیہ میں رکے ہوئے تھے۔ ان جانوروں کو ان کے ٹھکانے پر پہنچنے سے روکا یعنی ہدی کو منیٰ میں پہنچ کر ذبح ہونے سے روک دیا اور اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ تم بہت سے ان مسلمان مردوں اور ان مسلمان عورتوں کو جن کو تم جانتے اور پہچانتے نہیں ہو اپنی بیخبر ی اور لاعلمی کے باعث ان کو روند ڈالتے اور پامال کردیتے پھر ان بےگناہوں کی وجہ سے تم کو تکلیف پہنچتی تو یہ سب قضیہ طے کردیا جاتا اور خواب کی تصدیق اسی سال ہوجاتی اور مکہ کی فتح نصیب ہوجاتی لیکن…
Read the full tafseer →ف 6۔ چناچہ ان مسلمانوں کی جان بچی اور تمہارا دین بچا۔
Read the full tafseer →حدیبیہ میں جنگ پیش نہ آنے دینے کی حکمت کو واضح الفاظ میں بیان کیا جا رہا ہے
25 ؎ جیسا کہ ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں کہ حدیبیہ میں جنگ نہ ہونے دینے کی اصل حکمت کیا تھی ؟ اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے واضح اور صاف صاف الفاظ میں فرما دی۔ فرمایا یہ صحیح ہے کہ قریش مکہ نے مسلمانوں پر زیادتی کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے حکم کی کھلی مخالفت بھی کی جس حکم کو وہ بھی مانتے اور تسلیم کرتے تھے اور وہ حکم یہ تھا کہ کسی شخص کو جو عمرہ اور حج کے لیے بیت اللہ کا قصد کرے ہرگز منع نہ کیا جائے اور یہ کہ مذہبی مراسم ادا کرنے سے باز نہ رکھا جائے لیکن مکہ والوں نے مسلمانوں کو عمرہ سے رکھا اور قربانی کے جانوروں کو ان کے…
Read the full tafseer →فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ (and thus an embarrassing situation might have befallen you because of them unknowingly....48:25): According to some authorities on lexicology ma'arrah connotes "sin"; according to others it means "harm"; and other authorities say it denotes "shame" or "embarrassment". In this context, apparently the last meaning appears to be apt. There was a nucleus of Muslims in Makkah and if the fight had broken out, Muslim army would have unwittingly killed their own Muslim brethren in faith, thereby causing great injury to their own cause, and incurring…
Read the full tafseer →43 That is, "Allah was seeing the sincerity and the selfless devotion with which you had become ready to lay down your lives in the cause of the true Faith and were obeying the Prophet without any question. Allah was also seeing that the disbelievers were being unfair and high-handed. The demand of this situation was that they should have been punished there and then through you, but in spite of that. AIIah restrained your hands from them and their hands from you."
44 This was the reason why Allah did not allow fighting to take place at Hudaibiyah. This has two aspects: (I) That at that time…
Read the full tafseer →