Explained with ayahs 20–24
کفار کے بد ارادے ناکام ہوئے
ان بہت سی غنیمتوں سے مراد آپ کے زمانے اور بعد کی سب غنیمتیں ہیں جلدی کی غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے اور حدیبیہ کی صلح ہے اس اللہ کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ کفار کے بد ارادوں کو اس نے پورا نہ ہونے دیا نہ مکہ کے کافروں کے نہ ان منافقوں کے جو تمہارے پیچھے مدینے میں رہے تھے۔ نہ یہ تم پر حملہ اور ہو سکے نہ وہ تمہارے بال بچوں کو ستا سکے یہ اس لئے کہ مسلمان اس سے عبرت حاصل کریں اور جان لیں کہ اصل حافظ و ناصر اللہ ہی ہے پس دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت سے ہمت نہ ہار دیں اور یہ بھی یقین کرلیں کہ ہر کام کے انجام کا علم اللہ ہی کو ہے بندوں کے حق میں بہتری یہی ہے کہ وہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
سورة الْفَتْح 42
اس جگہ اللہ کی سنت سے مراد یہ ہے کہ جو کفار اللہ کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اللہ ان کو ذلیل و خوار کرتا ہے۔ اور اپنے رسول کی مدد فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
بِبَطْنِ مَكَّةَ ، اس لفظ کے اصلی معنی عین مکہ کے ہیں مگر یہاں اس سے مراد مقام حدیبیہ ہے اس کو مکہ مکرمہ سے بہت متصل ہونے کی بناء پر بطن مکہ سے تعبیر کردیا گیا ہے اور اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے جو حنفیہ نے اختیار کی ہے کہ حدیبیہ کا کچھ حصہ حرم میں داخل ہے (آیت) ان یبلغ محلہ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محصر عن الحج و العمرہ یعنی جس کو احرام باندھنے کے بعد کسی وجہ سے دخول مکہ سے روک دیا گیا ہو اس پر باتفاق یہ تو لازم ہے کہ قربانی کر کے احرام سے حلال ہو لیکن اس میں اختلاف ہے کہ یہ قربانی اسی جگہ ہو سکتی ہے جہاں وہ روک دیا گیا ہے، یا دوسری قربانیوں کی طرح اس کے لئے بھی حدود حرم کے…
Read the full tafseer →وھو الذی کف ایدیھم عنکم و ایدیکم عنھم ببطن مکۃ من عبد ان اظفرکم علیھم وکان اللہ بما تعملون بصیراً 24
حدیبیہ کے موقع پر جو کچھ ہوا تدبیر الٰہی سے ہوا
بطن مکۃ سے اشارہ حدیبیہ کی طرف ہے۔ یہ بالکل مکہ کے دامن میں ہے اس وجہ سے اس کو بطن مکہ سے تعبیر فرمایا۔
یعنی اس موقع پر جنگ کی نوبت جو نہیں آئی تو یہ تدبیر الٰہی کا کرشمہ ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے تم کو ان کے اوپر غلبہ ید دیا تھا، جنگ ہوت تو ان کو منہ کی کھانی پڑتی، لیکن حکمت الٰہی کا تقاضا یہی ہوا کہ ابھی یہ جنگ نہ ہو اس وجہ سے اس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے۔ وکان ال لہ بماتعملون بصیراً یعنی اللہ تعالیٰ سارے حالات کو خود…
Read the full tafseer →24۔ 1 جب نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام حدیبیہ میں تھے تو کافروں نے 80 آدمی، جو ہتھیاروں سے لیس تھے، اس نیت سے بھیجے کہ اگر ان کو موقع مل جائے تو دھوکے سے نبی ﷺ اور صحابہ اکرام کے خلاف کاروائی کریں چناچہ یہ مسلح جتھہ جبل تغیم کی طرف سے حدیبیہ میں آیا جس کا علم مسلمانوں کو بھی ہوگیا اور انہوں نے ہمت کر کے تمام آدمیوں کو گرفتار کرلیا اور بارگاہ رسالت میں پیش کردیا۔ ان کا جرم شدید تھا اور ان کو جو بھی سزا دی جاتی، صحیح ہوتی۔ لیکن اس میں خطرہ یہی تھا پھر جنگ ناگزیر ہوجاتی۔ جب کہ نبی ﷺ اس موقعے پر جنگ کے بجائے صلح چاہتے تھے کیونکہ اس میں مسلمانوں کا مفاد تھا۔ چناچہ آپ ﷺ نے ان سب کو معاف کر کے چھوڑ دیا…
Read the full tafseer →22: جب حضرت عثمان ؓ مکہ مکرمہ جاکر قریش کے لوگوں کو صلح کا پیغام دے رہے تھے، اس وقت مکہ مکرمہ کے کافروں نے پچاس آدمی آنحضرت ﷺ کے پاس اس غرض سے بھیجے تھے کہ وہ خفیہ طور سے آنحضرت ﷺ پر حملہ کرکے (معاذاللہ) آپ کو شہید کردیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں مسلمانوں کے ہاتھ گرفتار کرادیا، دوسری طرف جب قریش نے ان آدمیوں کی گرفتاری کی خبر سنی تو انہوں نے حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں کو روک لیا، اس وقت اگر مسلمان ان پچاس آدمیوں کو قتل کردیتے تو جواب میں قریش کے لوگ حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرتے، اور مکمل جنگ چھڑ جاتی، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ ان قیدیوں کو قتل نہ…
Read the full tafseer →یہ ایک واقعہ تھا جو ہوچکا تھا اور سامعین اسے خوب جانتے تھے ۔ اللہ اس انداز میں اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ بتائیں کہ جو واقعات بھی ہوئے ان میں اللہ کی تدبیر اور تقدیر کام کر رہی تھی ، اور اس سے قرآن مجید ان کے دلوں میں اس احساس کو گہرا کر رہا تھا کہ اللہ کا ہاتھ ان کے لئے تدبیر کر رہا ہے ، ان کی قیادت اللہ کے رسول کے ذریعہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اور اللہ ان کے میلانات کو بھی کنٹرول کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کے لئے ہوجائیں۔ اپنے نفوس کو اللہ کے سپرد کردیں اور انہیں احکام الٰہی میں کوئی تردد نہ رہے۔ بالکل ادھر ادھر نہ دیکھیں اور پوری طرح اسلام میں داخل ہوجائیں۔ اپنے احساسات ، اپنے جذبات ، اپنا رخ اور…
Read the full tafseer →8 مشرکین کی کچھ ٹولیاں " حدیبیہ " پہنچی تھیں کہ موقع پا کر حضور ﷺ کو شہید کردیں یا اکیلے دکیلے مسلمان کو ستائیں۔ چناچہ کچھ چھیڑ چھاڑ بھی کی بلکہ ایک مسلمان کو قتل بھی کر ڈالا اور اشتعال انگیز کلمات بکتے پھرے۔ آخر صحابہ ؓ نے ان کو زندہ گرفتار کر کے نبی کریم ﷺ کے حضور میں پیش کردیا۔ آپ ﷺ نے ان کو معاف فرما دیا اور کچھ انتقام نہیں لیا۔ آیہ ہذا میں اس قسم کے واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ اور " ببطن مکۃ ' (بیچ شہر مکہ کے) یعنی شہر کے قریب، گویا شہر کا بیچ ہی سمجھو۔
9 یعنی ان کی شرارتیں اور تمہارا عفو و تحمل سب کچھ اللہ دیکھ رہا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 24 { وَہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ } ”اور وہی ہے جس نے روک دیے ان کے ہاتھ تمہاری طرف بڑھنے سے اور تمہارے ہاتھ ان کی طرف بڑھنے سے مکہ کی وادی میں“
{ مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ } ”اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر فتح دے دی تھی۔“
یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے قریش ِمکہ ّکے حوصلے پست کردیے گئے تھے جس کی وجہ سے ان کے لیے مسلمانوں کا مقابلہ کرنا ممکن نہ رہا اور انہوں نے اپنی تمام تر طاقت کے باوجود مسلمانوں کو اپنے برابر کا فریق تسلیم کرتے ہوئے ان سے صلح کرلی۔ اس صلح میں اگلے سال مسلمانوں کے عمرہ کرنے اور اس دوران مکہ شہر کو تین دن…
Read the full tafseer →34 صلح حدیبیہ کی مزید تفصیلات کے لئے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ : صبح کی نماز کے قریب آپ اور صحابہ تنعیم کے پہاڑ سے اترے۔ کافر لوگ یہ چاہتے تھے کہ آپ کو مار ڈالیں مگر سب کے سب پکڑے گئے۔ پھر آپ نے ان سب کو آزاد کردیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)
2۔ حدیبیہ کے مقام پر آپ کا معجزہ اور پانی کی مشکل کا حل :۔ مسور بن مخرمہ اور مروان دونوں روایت کرتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ مکہ سے نکلے۔ ابھی راہ میں ہی تھے کہ آپ نے فرمایا : خالد بن ولید دو سو سواروں کا ہر اول دستہ لئے غمیم تک آچکا ہے۔ لہذا تم داہنی طرف کا رستہ لو خالد کو مسلمانوں…
Read the full tafseer →28۔ (چنانچہ ایسا کام اس نے تمہارے ہاتھ سے نہ ہونے دیا جس کا نتیجہ قتال ہوتا) (آیت) ” وھو ..... عنھم “۔ یعنی تم مسلمانوں اور مشرکوں کو باہمی قتل و قتال سے روک دیا۔ (آیت) ” کم صیغہ جمع مخاطب مسلمانوں کے لئے ہے اور ھم صیغہ جمع غائب مشرکین مکہ کے لیے ہے۔ اشارہ صلح حدیبیہ کی جانب ہے۔ (آیت) ” ببطن مکۃ “۔ بطن مکہ، سے مراد حدیبیہ ہے جسے کمال قرب واتصال کی بناء پر بطن مکہ ہی قرار دے دیا گیا۔ فقہاء حنفیہ کے ہاں، حرم مکہ میں حدیبیہ کا ایک جزء بھی شامل ہے۔ (آیت) ” من ..... علیھم “۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے اس سے اشارہ فتح مکہ کی جانب سمجھ کر استنباط یہ کیا ہے کہ مکہ صلح کے ذریعہ سے نہیں بلکہ جنگ سے مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
ترجمہ : یقینا اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوا جب انہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اور وہ ببول کا درخت ہے اور اصحاب حدیبیہ ایک ہزار تین سو یا اس سے کچھ زائد تھے، پھر ان حضرات نے اس پر بیعت کی کہ وہ قریش کا مقابلہ کریں گے، اور یہ کہ وہ موت سے راہ فرار اختیار نہ کریں گے اللہ کو ان کے دلوں کے وفا و صدق کا حال معلوم تھا اس لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو قریبی فتح عطا فرمائی اور وہ فتح حدیبیہ سے واپسی کے بعد خیبر کی فتح تھی اور بہت سی غنیمتیں کہ جن کو وہ خیبر سے حاصل کریں گے اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے، یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی…
Read the full tafseer →وھو الذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیھم
وکان اللہ بما تعملون بصیرًا اور اسی نے تو ان (کفار مکہ) کے ہاتھ تم سے (یعنی تمہارے قتل سے) اور تمہارے ہاتھ ان (کے قتل) سے عین مکہ (کے قریب) میں روک دئیے اس کے بعد کہ تم کو ان پر قابو دے دیا تھا۔ اور اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
وَھُوَ الَّذِیْالخ سابق میں حضرت انس کی روایت گذر چکی ہے کہ اسی یا ستر کفار مکہ کوہ تنعیم سے اتر کر (مسلمانوں پر غفلت کی حالت میں حملہ کرنے کیلئے) آئے تھے ‘ لیکن پکڑے گئے (اور حملہ نہ کرسکے) رسول اللہ ﷺ نے ان کو معاف فرما دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت عبد اللہ بن مغفل کی روایت میں ایے ہے کہ…
Read the full tafseer →اسی نے مکہ والوں کے ہاتھ تمہارے قتل سے اور تمہارے ہاتھ مکہ والوں کے قتل سے عین مکہ مکرمہ کے نزدیک روک دیے، گو پتھر تو برسے بعد اس کے کہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا یہاں تک صحابہ کرام نے ان کو مار کر بھگا دیا کہ وہ مکہ مکرمہ میں جا گھسے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ان کاموں کو دیکھ رہا تھا۔
شان نزول : وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ (الخ)
امام مسلم، ترمذی اور نسائی نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ حدیبیہ کے دن رسول اکرم اور صحابہ پر اسی آدمیوں نے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر تنعیم پہاڑ کی طرف سے حملہ کیا وہ رسول اکرم کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ چناچہ ان سب کو پکڑ لیا گیا پھر آپ نے ان سب کو آزاد…
Read the full tafseer →(1) وھو الذی کف ایدیھم عنکم و ایدیکم عنھم …: جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ حدیبیہ میں تھے تو صلح کی بات چیت کے دوران اور صلح ہوجانے کے بعد بھی مشرکین نے کوششیں کیں کہ کسی طرح لڑائی چھڑ جائے اور صلح نہ ہو سکے۔ ان کے متعدد گروہ چھپ کر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے خلاف کارروائی کے لئے آئے، مگر کوئی نقصان نہ پہنچا سکے، بلکہ ہر مرتبہ مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ انہیں قتل بھی کیا جاسکتا تھا مگر رسول اللہ ﷺ نے انہیں چھوڑ دیا، کیونکہ سزا دینے کی صورت میں جنگ ناگزیر ہوجاتی جب کہ مسلمانوں کی مصلحت صلح میں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے اس احسان کی یاد دہانی کروائی ہے۔ یہاں کفار کی ان کوششوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
اس سے مرا حدیبیہ ہے یزید بن ہارون نے روایت نقل کی ہے کہ حماد بن سلمہ، ثابت سے وہ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کے اسی افراد مسلح ہو کر تعیم پہاڑ سے اترے وہ بیخبر ی کے عالم میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے ہم نے انہیں جھگڑے کے بغیر پکڑ لیا اور انہیں زندہ رہنے کا موقع دیا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی ؓ نے کہا : ہم حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے جس درخت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے اسی اثنا میں کہ ہم بیٹھے ہوتے تھے کہ تیس نوجوان ہمارے سامنے آگئے جو مسلح تھے رسول اللہ ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا کیا تم کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد وعبد بن حمید (رح) ومسلم و ابوداؤد والترمذی والنسائی وبن جریر وابن المنذر وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا کہ جب مدینہ کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب پر اہل مکہ میں سے اسی آدمی نیچے اتر آئے ہتھیار پہنے ہوئے جبل تنعیم کی طرف سے وہ رسول اللہ ﷺ کو دھوکہ دینے کا ارادہ رکھتے تھے تو آپ نے ان پر بددعا فرمائی تو وہ پکڑے گئے پھر آپ نے ان کو معاف کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” وھو الذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیہم “ (اور اسی ذات نے ان کفار مکہ کے ہاتھ تم سے (یعنی تمہارے قتل سے اور تمہارے ہاتھ ان کو قتل…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ [ اور وہ، وہ ہے جس نے روک دیا ] اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ [ ان کے ہاتھوں کو تم سے ] وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ [اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے ] بِبَطْنِ مَكَّةَ [ مکہ کے نشیب میں ] مِنْۢ بَعْدِ اَنْ [ اس کے بعد کہ ] اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ [ اس نے غالب کیا تم کو ان پر ] وَكَانَ اللّٰهُ [ اور اللہ ہے ] بِمَا تَعْمَلُوْنَ [ اس کو جو تم لوگ کرتے ہو ] بَصِيْرًا [ دیکھنے والا ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کو ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے باز رکھا
علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں آیت بالا کا سبب نزول بتاتے ہوئے متعدد اقوال لکھے ہیں صحیح مسلم میں ایک واقعہ حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے اور دوسرا حضرت انس ؓ سے مروی ہے اور دونوں کو آیت بالا کا سبب نزول بتایا ہے حضرت سلمہ بن اکوع ؓ نے بیان کیا کہ جب ہمارے اور اہل مکہ کے درمیان صلح ہوگئی تو میں ایک درخت کے نیچے کانٹے ہٹا کر لیٹ گیا اس وقت اہل مکہ میں سے چار مشرکین وہاں پہنچ گئے جو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ناشائستہ کلمہ کہنے لگے مجھے برا لگا اور میں جگہ چھوڑ کر دوسرے درخت کے نیچے چلا گیا ان لوگوں نے اپنے ہتھیار لٹکا دئیے اور لیٹ گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
بیعت الرضوان و فضائل اہل بیعت مع بشارت انعام خداوندی بعطاء غنائم و غلبہ اہل ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” لقد ؓ عن ال مومنین ....... الی ...... بکل شیء علیما “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان اعراب ومتخلفین کا ذکر تھا جو جھوٹے عذر اور حیلے بہانے کرکے حدیبیہ کے سفر سے پیچھے رہ گئے تھے انکی باطنی گندگی اور قبائح کے ذکر کے ساتھ حق تعالیٰ کی طرف سے جس وعید اور تنبیہ کے وہ مستحق تھے بیان کی گئی تھی اب اس گروہ کے بالمقابل ان مخلصین ومطیعین اور جانثاروں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی کہ ہم زندگی کے آخری سانس تک رسول خدا ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور آخری دم تک ہر طرح…
Read the full tafseer →20:۔ ” وھو الذی کف۔ الایۃ “ بطن مکہ سے مقام حدیبیۃ مراد ہے اور یہ اہل مکہ کے ان ستر اسی آدمیوں کی طرف اشارہ ہے جو ہتھیار پہن کر مقام حدیبیہ میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ مسلمانوں نے ان کو پکڑ لیا، حضرت پیغمبر خدا ﷺ نے ان کی اس حرکت سے درگذر فرمایا اور انہیں چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ یعنی اس میں بھی الہ تعالیٰ کی لطیف حکمت تھی کہ اس نے مقام ھدیبیہ میں لڑائی نہیں ہونے دی حالانکہ مشرکین حملہ آور ہوچکے تھے اور تم ان پر غلبہ و قبضہ بھی حاصل کرچکے تھے، کیونکہ اگر لڑائی ہوجاتی تو پھر صلح معرض وجود میں نہ آتی تجو بیشمار دینی برکات اور دنیوی منافع کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ یہ جنگ کو روکنے کی پہلی حکمت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
شان نزول
سورۃ الفتح میں واقعہ حدیبیہ کے مختلف پہلوئوں کی طرف اشارات ملتے ہیں ۔ حدیبیہ کا معاہدہ طے پا جانے کے بعد بھی مشرکین کے بعض گروہوں نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا ، اور کچھ لوگ مختلف راستوں سے ہو کر مسلمانوں کے ٹھکانے پر پہنچے تا کہ کسی طرح حضور ﷺ کا کام تمام کردیا جائے۔ اور یہ ہدف نہ بھی پورا ہو تو کم ا ز کم مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کر کے ان کو تنگ تو کیا جاسکے گا ، اور اس طرح ان کو اشتعال دلا کر ان کو لڑائی پر آمادہ کیا جاسکے گا ۔ مشرکین کے اسی منصوبے کے تحت ایک مسلمان شہید بھی ہوگیا ۔ سکیم کے مطابق کفار کے سترآدمی مسلمانوں میں افرا تفری پیدا کرنے کے لیے پہاڑی کی پچھلی طرف سے اترے اور انہوں…
Read the full tafseer →وَہُوَالَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَہُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَكَّۃَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْہِمْ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا 24
كف
الْكَفُّ : كَفُّ الإنسان، وهي ما بها يقبض ويبسط، وكَفَفْتُهُ : أصبت كَفَّهُ ، وكَفَفْتُهُ : أصبته بالکفّ ودفعته بها . وتعورف الکفّ بالدّفع علی أيّ وجه کان، بالکفّ کان أو غيرها حتی قيل : رجل مَكْفُوفٌ لمن قبض بصره، وقوله تعالی: وَما أَرْسَلْناكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ [ سبأ/ 28] أي : كافّا لهم عن المعاصي، والهاء فيه للمبالغة کقولهم : راوية، وعلّامة، ونسّابة، وقوله :
وَقاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ترکیب : سنۃ اللہ انتصابہ علی المصدریۃ بفعل محذوف ای سن اللہ سنۃ اوھو مصدرہ مؤکدلمضمون المجلۃ المتقدمۃ من ھزیمۃ الکفار ونصرالمؤمنین والہدی قرء الجمہور بنصب الھدی عطفا علی الضمیر المنصوب فی صدوکم وقریٔ بالجر عطفاعلی المسجد معکوفًا انتصابہ علی الحال من الہدی قال الجوھری عکفہ ای حبسہ و منہ الاعتکاف فی المسجد وھوالا حتباس ان یبلغ ای عن ان یبلغ اومفعول لاجلہ ولولا شرط وجوابہ محذوف و التقدیر لاذن اللہ لک المعرۃ العیب وقیل الشدۃ وقیل الغم بغیر علم متعلق بان تطوھم ای غیر عالمین لیدخل اللام متعلقہ بمایدل علیہ الجواب المقدرای لم یاذن لکم اوکف ایدیکم لیدخل اللہ حمیۃ الجاھلیۃ بدل من الحمیۃ اھلہا عطف…
Read the full tafseer →وَھُوَالَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْـکُمْ وَاَیْدِیَـکُمْ عَنْھُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ م بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا۔ (الفتح : 24)
(اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے، بعد اس کے کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا اور اللہ جو کچھ تم کررہے تھے اسے دیکھ رہا تھا۔ )
اللہ تعالیٰ کی مشیت فیصلہ کن ہے
اللہ تعالیٰ نے جو کفار اور مسلمانوں میں جنگ کی نوبت نہیں آنے دی تو ایک وجہ تو اس کی وہ تھی جو اوپر کی آیت میں بیان کی گئی ہے۔ اور اس میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ کفار کو تو صرف ان ظاہری اسباب کی خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
فہم القرآن
ربط کلام : فتح مکہ اور صلح حدیبیہ کے حالات پر تبصرہ جاری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے مقام پر جو حرم مکہ کے کنارے پر واقع ہے نہ صرف اہل مکہ کے ہاتھوں کو روکے رکھا بلکہ مسلمانوں کے ہاتھوں کو بھی کفار کی طرف بڑھنے سے روک لیا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ وہی کافر ہیں جنہوں نے تمہیں مسجد حرام تک پہنچنے سے روک دیا اور جو قربانیاں تم اپنے ساتھ لائے تھے انہیں بھی حرم میں نہ جانے دیا۔ بیشک یہ دونوں جرائم اپنی جگہ پر بہت بڑے تھے لیکن اگر اہل مکہ کے ساتھ تمہاری مڈ بھیڑ ہوجاتی تو وہاں ایسے مومن اور مومنات بھی موجود تھیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے۔ لڑائی ہونے…
Read the full tafseer →قریش مکہ کی شرارت :
آیت 24 : وَہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ (اور وہ ایسا ہے کہ اس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے) اہل مکہ کے ہاتھ وَ اَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ (اور تمہارے ہاتھ ان سے) اہل مکہ سے یعنی اس نے تمہارے اور ان کے مابین روک پیدا کردی اس کے بعد کہ تمہیں ان پر کامیابی اور غلبہ عنایت فرمایا اور یہی فتح کا دن ہے۔
استدلالِ امام ابوحنیفہ (رح) :
کہ مکہ قوت سے فتح ہوا نہ کہ صلح سے۔
ایک قول :
یہ غزوئہ حدیبیہ میں پیش آیا اس لئے کہ روایت میں ہے کہ عکرمہ بن ابی جہل پانچ سو سواروں کے ساتھ نکلا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو بھیجا جنہوں نے اس کو شکست دے کر مکہ کے اندر گھسنے پر…
Read the full tafseer →23 ۔ ” سنۃ اللہ التی قد خلت من قبل “ یعنی اللہ کے طریقہ کی طرح اس کے اولیاء کی مدد کرنے اور دشمنوں کو مغلوب کرنے میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
20۔ 26۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے بیعت رضوان خالص دل سے کی ہے اللہ ان سے خوش ہے اور اس نیک نیتی کے کام پر اللہ تعالیٰ نے ان کو خیبر کی فتح انعام کے طور پر عنایت کی اور یہ حکم دیا کہ اس فتح کی غنیمت کے مال میں سوائے ان بیعت والے لوگوں کے اور کسی دوسرے کا حصہ نہیں ان آیتوں میں فرمایا جن فتوحات اور غنیمت کے بہت سے مال کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اس وعدہ میں سے فتح خیبر اور وہاں کے غنیمت کا مال ایک فوری انعام ہے اس کے بعد رفتہ رفتہ اور فتوحات کی امید اللہ تعالیٰ سے رکھنی چاہئے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس کے بعد اللہ کے رسول اور خلفا کے زمانہ میں بہت سی فتوحات ہوئیں جن کا ذکر حدیث اور تاریخ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اس احسان کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس نے ان کو کفار کے شر اور ان کے قتال سے عافیت میں رکھا، فرماتا ہے : (وھو الذی کف ایدیھم) ” اور وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو روکا۔ “ یعنی اہل مکہ کے (عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیھم) “ تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے ان پر تمہیں فتح دینے کے بعد۔ “ یعنی اس کے بعد کہ تمہیں ان پر قدرت حاصل ہوگئی اور وہ کسی عہد اور معاہدے کے بغیر تمہارے ولایت اور سرپرستی میں آگئے اور وہ تقریباً اسی (80) آدمی تھے، جو مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تاکہ بیخبر ی میں ان کو آلیں مگر انہوں نے مسلمانوں کو باخبر اور چاق و چوبند پایا، مسلمانوں نے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
مکہ بزور شمشیر فتح ہوا تھا نہ کہ صلح کے نتیجے میں
قول باری ہے (وھو الذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفر کم علیھم۔ وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے بطن مکہ میں روک دیے بعد اس کے کہ تم کو ان پر قابو دے دیا تھا) تا آخر آیت۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آیت کا نزول صلح حدیبیہ کے سلسلے میں ہوا تھا۔
واقعہ اس طرح ہے کہ مشرکین نے چالیس آدمیوں کا ایک دستہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا تھا، یہ لوگ پکڑے گئے اور انہیں حضور ﷺ کے سامنے قیدیوں کی صورت میں پیش کردیا گیا۔ آپ نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ ایک روایت کے مطابق آیت کا نزول فتح مکہ کے سلسلہ…
Read the full tafseer →[ 56] حدیبیہ والوں کیلئے ایک اور انعام و احسان خداوندی کا ذکر وبیان :
سو اس سے حدیبیہ والوں کے لئے ایک اور انعام اور احسان خداوندی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ [ قادر مطلق جل جلالہ ] وہی ہے جس نے روک دیا لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے مکہ کی وادی میں اس کے بعد کہ اس نے تم لوگوں کو نواز دیا تھا ان کے مقابلے میں فتح اور کامیابی سے۔ یعنی جب کہ مشرکین کے اسی آدمی چپکے سے گھات لگا کر مسلمانوں پر حملہ کرنے والے تھے تو وہ سب مسلمانوں کے ہاتھوں پکڑ لئے گئے، اور انہوں نے ان کو پکڑ کر سیدھا لاکر آنحضرت ﷺ کی خدمت کیں پیش کردیا تو آپ ﷺ نے ان کی رہائی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
کامیابیاں مسلمانوں کی ہی ہوں گی
تشریح : ان آیات میں اللہ کی ان نعمتوں برکتوں اور حکمتوں کا ذکر بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں مسلمانوں پر ظاہر ہوئیں۔ اگر اس وقت جنگ ہوجاتی تو بھی حق کو ہی فتح ہونی تھی کیونکہ اللہ حق کا ساتھ دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو اخلاقی تربیت بھی دی گئی ہے۔ جذبات پر قابو رکھنا غصہ کو دبانادور اندیشی سے کام لینا اور ظاہری فائدہ کی خاطر رسول ﷺ اور اللہ کے احکامات کے خلاف کام نہ کرنا۔ ہر صورت توحید، ایمان، مستقل مزاجی اور اتباع رسول ﷺ کو زندگی کا حصہ بنائے رکھنا ضروری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
آیات 18 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
اللہ جل شانہ یقینا ان مومنین سے راضی ہوگیا اور ان کی جاں سپاری کے جذبہ کو قبول فرمایا کہ حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے جب وہ آپ سے موت پر بیعت کر رہے تھے وہ اس لیے راضی ہوا کہ وہ ان کے قلبی خلوص کو جانتا تھا لہذا اس نے ان کے دلوں پر اطمینان نازل فرمایا۔
بیعت رضوان کا درخت۔
یہ ایک ببول کا درخت تھا مقام حدیبیہ پر جس کے نیچے رسول اللہ نے بیعت لی تھی بعد میں لوگوں نے وہاں نماز پڑھنا شروع کردی اور زیارت کو جانے لگے مگر کسی نے حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بیعت رضوان کی تھی وہ فرماتے تھے کہ ہم جب دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 7 حدیبیہ میں صلح کی گفتگو ہو رہی تھی کہ مشرکین مکہ میں سے ستر یا اسی آدمی مسلح ہو کر جبل تغیم سے اتر آئے کہ مسلمانوں پر اچانک حملہ کردیا جائے مگر وہ گرفتار ہوگئے اور آنحضرت نے ان کو رہا کردیا۔ آیت میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے۔ (قرطبی) شاہ صاحب لکھتے ہیں اور نہ روکے لوگوں کے ہاتھ۔ “ یعنی لڑائی نہ ہونے دی۔
Read the full tafseer →(48:24) بطن مکۃ۔ مضاف مضاف الیہ۔ بطن، بمعنی پیٹ۔ یہاں مراد وادی مکہ ۔ مکہ کے قریب، مکہ کی سرحد کے پاس ہے۔
من بعد ان اظفر کم علیہم : من حرف جر۔ ان مصدریہ۔ اظفر ماضی واحد مذکر غائب ۔ اظفار (افعال) مصدر۔ بمعنی کامیابی دینا۔ فتح مند کرنا۔ فیروز مند کرنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تم کو ان پر ظفر یاب کرنے کے بعد کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم۔ ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا تھا۔
ان اظفر کم علیہم۔ جملہ مضاف الیہ ہے بعد کا۔ بصیرا خبر ہے کان کی۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے تھے دیکھ رہا تھا۔
فائدہ : صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ اگرچہ حدیبیہ کے مقام پر باقاعدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
لغات القرآن آیت نمبر (22 تا 26) ۔
لو لو الادبار (وہ ضرور پیٹھ پھیریں گے) ۔ قد خلت (یقینا گذر گئی) ۔ بطن (پیٹ۔ درمیان) ۔ اظفر (اس نے قابو کیا) ۔ معکوف (رکا ہوا) ۔ ان یبلغ (یہ کہ وہ پہنچے) ۔ محلہ (اپنی جگہ) ۔ ان تطئوا (یہ کہ تم روند ڈالو ) ۔ معرۃ (دکھ۔ گناہ۔ تکلیف) ۔ لو تز یلوا (اگر وہ الگ ہوجائے۔ ٹل جائے) ۔ الحمیتہ (غیرت ۔ ضد۔ ہٹ) ۔ الزم (اس نے لازم کردیا) ۔ احق (زیادہ حق دار) ۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے واقعات اور اس کی مصلتحوں کو بیان کیا جارہا ہے۔ ارشاد ہے کہ بیشک اللہ نے کفار کو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جوابی کاروائی کرنے سے اور جذباتی لمحات میں اہل ایمان کو کفار پر…
Read the full tafseer →(ف 1) شان نزول : حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جس وقت نبی ﷺ حدیبیہ میں تشریف رکھتے تھے، اہل مکہ میں سے اسی (80) ہتھیار بند جوان آدمی صبح کے وقت تنعم کے پہاڑ کی طرف سے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے ارادہ سے آئے، مسلمانوں نے انہیں گرفتار کرکے نبی کریم کی خدمت میں حاضر کیا، حضور ﷺ نے معاف فرمایا اور کچھ انتقام نہیں لیا اور چھوڑ دیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اللہ کی وہ شان ہے کہ اس نے کافروں کے ہاتھوں کو روک لیا کہ تم تک نہ پہنچ سکے تم کو قتل نہ کرسکے، اور تمہارے ہاتھوں کو بھی روک دیا کہ تم ان کو مکہ حرم میں قتل نہ کرسکے، یعنی تھوڑی سی سنگباری پر کفایت ہوئی زائد نوبت قتال نہ آئی اور بعد اس کے…
Read the full tafseer →[19] یعنی حدیبیہ میں۔
[20] حدیبیہ میں صلح سے پہلے ایک واقعہ یہ ہوا کہ کفار مکہ میں سے ایک مسلح جماعت خفیہ اس ارادے سے آئی کہ موقع پر نعوذ باللہ آپ ﷺ کا کام تمام کر دے۔ صحابہ کرام نے انہیں دیکھ لیا اور گرفتار کر کے آپ کے پاس لائے مگر آپ نے انہیں رہا کردیا۔ یہاں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →ف 1: یعنی بطن مکہ میں کفار سے حملہ کرنے کی قوتوں کو سلب کرلیا ۔ اور تمہیں بھی روک دیا ۔ تاکہ بیت اللہ کی حرمت برقرار رہے ۔ ہاں کچھ لوگ عکرمہ بن ابی جہل کی قیادت میں مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے نکلے تھے ۔ سو ان کو خالد بن والید نے ان کے گھروں تک پہنچا دیا ۔ اور پھر چھوڑ دیا ۔ حالانکہ اگر وہ چاہتے تو ان کو آسانی کے ساتھ گرفتار کرسکتے تھے ۔
Read the full tafseer →(24) اور وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے مکہ کی سرحد میں اور شہر مکہ کے قریب ان منکروں پر قابو یافتہ ہونے کے باوجود ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا اور جو اعمال تم کرتے ہو وہ ان سب کو دیکھ رہا ہے۔ یعنی مکہ سے بالکل قریب پہنچنے کے بعد، بعد اس کے کہ تم کو ان پر فتحمند اور فیروزمند کردیا پھر بھی جنگ کرنے سے ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکے رکھا۔ یہ بھی حضرت حق تعالیٰ کا احسان ہے کہ ایک ایسے مقام پر پہنچ کر جہاں جنگ ناگزیر تھی اور جنگ کی حالت میں مسلمانوں کی فتح یقینی تھی پھر بھی جنگ سے روک دیا اور اس جنگ نہ ہونے سے جو فوائد ظہور پذیر ہوئے اور جس آسانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
ف 4۔ مراد اس سے فتح مکہ ہے۔
Read the full tafseer →بطن مکہ یعنی حدیبیہ میں کیا ہوا ؟ یہی کہ اللہ نے ان کو تم سے اور تم کو ان سے محفوظ رکھا
24 ؎ گزشتہ آیت میں آنے والے زمانہ کی پیش گوئی کی گئی تھی اور زیر نظر آیت میں صلح حدیبیہ کا حال کھولا جا رہا ہے کہ تم بطن مکہ میں تھے اور مکہ کے اندر کتنی ہی تعداد ان لوگوں کی تھی جو اپنے دلوں کو ایمان سے مزین کرچکے تھے لیکن کفار کے ڈر سے چھپے بیٹھے تھے ، ایمان کا اظہار نہیں کرسکتے تھے اور من حیث القوم بھی وہ تمہارے ہی عزیز و اقارب تھے تم ان کی حالت سے ناواقف تھے لیکن ہم صورت حال کو جانتے تھے اس لیے باوجود تماہری خواہش کے اور باوجودم کہ کے کچھ نوجوانوں کی نازیبا حرکات کے ہم نے اپنا حکم جاری کردیا اور ان کے…
Read the full tafseer →Commentary
بِبَطْنِ مَكَّةَ (...in the valley of Makkah...) The Arabic word used here is batn which means 'belly' and in relation to a city, it refers to its center.
However, in the present context it is used for Hudaibiyah, because of its close proximity to Makkah. This supports the Hanafi view that some parts of Hudaibiyah are included in the حِرِم Haram. The relevant details may be found in our commentary on the verse 2:196.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
42 Here, "the Way of Allah" means: Allah disgraces the disbelievers who fight His Messenger and helps His own Messenger.
Read the full tafseer →