Al-Fath 48:23

Al-Fath · from ayah 23

48:23

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ ۖۚ— وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا ۟سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِىۡ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلُ ۖۚ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا

(یہی) خدا کی عادت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے۔ اور تم خدا کی عادت کبھی بدلتی نہ دیکھو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[This is] the established way of Allah which has occurred before. And never will you find in the way of Allah any change.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fath

All translations of 48:23

یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آ رہی ہے اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہی) خدا کی عادت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے۔ اور تم خدا کی عادت کبھی بدلتی نہ دیکھو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ کے اس قاعدے کے مطابق جو پہلے سے چلا آیا ہے، تو کبھی بھی اللہ کے قاعدے کو بدلتا ہوا نہ پائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جیسا کہ اللہ کا یہی دستور ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے اور تم اللہ کے دستور میں ہرگز تبدیلی نہیں پاؤ گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ کا دستور ہے کہ پہلے سے چلا آتا ہے اور ہرگز تم اللہ کا دستور بدلتا نہ پاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ) اﷲ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے، اور آپ اﷲ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کے اس طریقے کے مطابق جو پہلے سے گزر چکا ہے اور تو اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی اللہ کی سنت ہے جو پہلے لوگوں میں جاری رہی ہے اور آپ اللہ کی سنت میں کبھی کوئی تبدیلی نہ پائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے اور اللہ کی سنت میں تم کوئی تبدیلی نہیں پا سکو گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ کے اس دستور کے مطابق جو چلا آیا ہے اس سے پہلے سے اور تم ہرگز نہیں پا سکو گے اللہ کے دستور کے لئے (کسی طرح کی) کوئی تبدیلی

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ نے یہی دستور کر رکھا ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے اور آپ اللہ کے دستور میں کوئی ردوبدل نہ پائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ اللہ کا وہ دستور ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ } اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی اللہ کا دستور ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے اور اللہ کے دستور کو بدلتے ہوئے تم کبھی نہ دیکھو گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Such is Allah's Way that has come down from the past. Never shall you find any change in the Way of Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

_ according to the consistent practice of Allah that went on since before, and you will never find a change in Allah‘s consistent practice.

— Muhammad Taqi Usmani

_ according to the consistent practice of Allah that went on since before, and you will never find a change in Allah‘s consistent practice.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That has been the way of Allah already with those who passed away before. And you will not find any change in the way of Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is the law of Allah which hath taken course aforetime. Thou wilt not find for the law of Allah aught of power to change.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[This is] the established way of Allah which has occurred before. And never will you find in the way of Allah any change.

— Saheeh International

This is the tradition of God which existed before, and you will never find any change in His tradition.

— Muhammad Sarwar

Such has been the course of Allah that has indeed run before, and you shall not find a change in Allah's course.

— Muhammad Habib Shakir

That hath been the dispensation of Allah with those who passed away aforetime; and thou shalt not find in the dispensation of Allah any change.

— Abdul Majid Daryabadi

(Such has been) the practice (approved) of Allah already in the past: no change wilt thou find in the practice (approved) of Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 48:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–24

کفار کے بد ارادے ناکام ہوئے ان بہت سی غنیمتوں سے مراد آپ کے زمانے اور بعد کی سب غنیمتیں ہیں جلدی کی غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے اور حدیبیہ کی صلح ہے اس اللہ کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ کفار کے بد ارادوں کو اس نے پورا نہ ہونے دیا نہ مکہ کے کافروں کے نہ ان منافقوں کے جو تمہارے پیچھے مدینے میں رہے تھے۔ نہ یہ تم پر حملہ اور ہو سکے نہ وہ تمہارے بال بچوں کو ستا سکے یہ اس لئے کہ مسلمان اس سے عبرت حاصل کریں اور جان لیں کہ اصل حافظ و ناصر اللہ ہی ہے پس دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت سے ہمت نہ ہار دیں اور یہ بھی یقین کرلیں کہ ہر کام کے انجام کا علم اللہ ہی کو ہے بندوں کے حق میں بہتری یہی ہے کہ وہ اس کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 23–24

سورة الْفَتْح 42 اس جگہ اللہ کی سنت سے مراد یہ ہے کہ جو کفار اللہ کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اللہ ان کو ذلیل و خوار کرتا ہے۔ اور اپنے رسول کی مدد فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–23

خلاصہ تفسیر اور (چونکہ ان کفار کے مغلوب ہونے کے مقتضیات موجود تھے جو آگے آتے ہیں اس لئے) اگر (تم میں یہ صلح نہ ہوتی بلکہ) تم سے یہ کافر لڑتے تو (ان مقتضیات کی وجہ سے وہ) ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگتے، پھر نہ ان کو کوئی یار ملتا نہ مددگار (اور) اللہ تعالیٰ نے (کفار کے لئے) یہی دستور کر رکھا ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے (کہ مقابلہ میں اہل حق غالب اور اہل باطل مغلوب رہے ہیں اور کبھی کسی وقت کسی حکمت و مصلحت سے اس میں تاخیر ہونا اس کے منافی نہیں) اور آپ خدا کے دستور میں (کسی شخص کی طرف سے) رد و بدل نہ پاویں گے (کہ خدا تعالیٰ کوئی کام کرنا چاہئے اور کوئی اس کو نہ ہونے دے) اور وہ ایسا ہے کہ اس نے ان کے ہاتھ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رسولوں کے مکذبین کے باب میں سنت الٰہی سنۃ اللہ التی قدخلت من قبل ولن تجدلسنۃ اللہ تبدیلاً 23 یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ٹھہرا رکھی ہے کہ جب ان کا پیمانہ بھر جاتا ہے تو ان پر ایسی مار پڑتی ہے کہ پھر کہیں بھی وہ پناہ نہیں پاتے اور یہ سنت ایسی حتمی اور اٹل ہے کہ کبھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ تمام رسولوں کی تاریخ اس پر شاہد ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 یعنی اللہ کی یہ سنت اور عادت پہلے سے چلی آرہی ہے کہ جب کفر و ایمان کے درمیان فیصلہ کن معرکہ آرائی کا مرحلہ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مدد فرما کر حق کو سر بلندی عطا کرتا ہے، جیسے اس سنت اللہ کے مطابق بدر میں تمہاری مدد کی گئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

21: اللہ تعالیٰ کا دستور شروع سے یہ چلا آتا ہے کہ جو لوگ حق پر ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کی شرائط پوری کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو باطل والوں پر غلبہ عطا فرماتا ہے، اور جہاں کہیں باطل والوں کو غلبہ حاصل ہو، وہاں سمجھ لینا چاہیے کہ حق والوں کے طرز عمل میں کوئی خرابی تھی، جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم رہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا (48 : 23) “ اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ”۔ اب اللہ فرماتا ہے کہ یہی حکمت تھی کہ وادی مکہ میں اللہ نے کافروں کو توفیق نہ دی کہ وہ مسلمانوں پر ہاتھ ڈالیں اور مسلمانوں کو بھی توفیق نہ دی کہ وہ مشرکین مکہ پر اس وقت ہاتھ ڈالیں جب وہ ان کے قابو میں آگئے تھے۔ یہ ان چالیس آدمیوں کی طرف اشارہ ہے۔ چالیس ہوں یا کم و بیش ۔ جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے آئے تھے۔ یہ پکڑے گئے اور رسول اللہ ﷺ نے معاف کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جب اہل حق اور باطل کا کسی فیصلہ کن موقع پر مقابلہ ہوجائے تو آخرکار اہل حق غالب اور اہل باطل مغلوب و مقہور کیے جاتے ہیں یہ ہی عادت اللہ کی ہمیشہ سے چلی آتی ہے جس میں کوئی تبدل و تغیر نہیں۔ ہاں یہ شرط ہے کہ اہل حق بہیآت مجموعی پوری طرح حق پرستی پر قائم رہیں۔ اور بعض نے ( وَلَنْ تَجِدَ لِسُـنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا) 48 ۔ التح :23) کے معنی یوں کیے ہیں کہ اللہ کی عادت کوئی دوسرا نہیں بدل سکتا۔ یعنی کسی اور کو قدرت نہیں کہ وہ کام نہ ہونے دے جو سنت اللہ کے موافق ہونا چاہیے تھا

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 23 { سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ ”یہ اللہ کا وہ دستور ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔“ یعنی یہ اللہ کا قانون ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں کی مدد کرتا ہے۔ چناچہ اگر قریش مکہ اس موقع پر آپ ﷺ کے ساتھ جنگ کرتے تو اللہ اپنی سنت کے مطابق آپ لوگوں کی مدد کرتا اور ایسی صورت میں انہیں پیٹھ دکھانا پڑتی اور شکست ان کا مقدر بنتی۔ { وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا } ”اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 22–23

33 یعنی اگر کافر میدان حدیبیہ میں مسلمانوں سے بھڑ جاتے تو بھی اللہ اس بات پر قادر تھا کہ کافروں کو مار بھگاتا اور مسلمانوں کو فتح عطا کردیتا۔ مگر جنگ ہونے کے بجائے صلح ہوجانے میں دوسری کئی مصلحتیں کار فرماتھیں۔ جن کی وجہ سے اللہ نے جنگ نہ ہونے دی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27۔ یعنی اللہ نے جو ضابطے قاعدے مقرر کر رکھے ہیں، مجال نہیں کہ کوئی مخلوق اس میں کچھ دخل دے سکے۔ (آیت) ” سنۃ .... قبل “۔ یہ اہل حق کے غلبہ اور اہل باطل کی مغلوبیت کا (بشرطیکہ کوئی وقتی حکمت ومصلحت اس کے معارض نہ ہو) دستورآج سے نہیں شروع سے چلا آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 18–26

ترجمہ : یقینا اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوا جب انہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اور وہ ببول کا درخت ہے اور اصحاب حدیبیہ ایک ہزار تین سو یا اس سے کچھ زائد تھے، پھر ان حضرات نے اس پر بیعت کی کہ وہ قریش کا مقابلہ کریں گے، اور یہ کہ وہ موت سے راہ فرار اختیار نہ کریں گے اللہ کو ان کے دلوں کے وفا و صدق کا حال معلوم تھا اس لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو قریبی فتح عطا فرمائی اور وہ فتح حدیبیہ سے واپسی کے بعد خیبر کی فتح تھی اور بہت سی غنیمتیں کہ جن کو وہ خیبر سے حاصل کریں گے اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے، یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

سنۃ اللہ التی قد خلت من قبل ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلاً اللہ تعالیٰ نے (کفار کیلئے) یہی دستور کر رکھا ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے اور آپ اللہ کے دستور میں رد و بدل ہرگز نہیں پائیں گے۔ یعنی اللہ نے یہ طریقہ ہمیشہ سے جاری کردیا ہے کہ اللہ کے اولیاء و انبیاء ‘ اللہ کے دشمنوں پر غالب رہیں گے۔ اس نے ارشاد فرما دیا ہے : لَاَ غْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ میں اور میرے رسول بلاشبہ غالب آئیں گے۔ دوسری آیت میں آیا ہے : اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ اللہ کا گروہ ہی فلاح یاب ہوگا۔ تیسری جگہ ہے : اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ اللہ کا گروہ ہی غالب رہے گا۔ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے جبکہ انہوں نے انبیاء کرام کا مقابلہ کیا یہی شکست و عذاب کا دستور کر رکھا ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے اور اللہ تعالیٰ بذریعہ قتل کے جو عذاب نازل کرتا ہے اس میں کسی قسم کا ردو بدل نہیں پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(سنۃ اللہ التی قد خلت من قبل …: مراد اللہ تعالیٰ کی وہ سنت ہے جو اس کے انبیاء کو جھٹلانے والی اقوام کے بارے میں ہمیشہ سے جاری ہے کہ جب وہ حد سے گزر جاتی ہیں تو انہیں ایسی سزا دی جاتی ہے کہ انہیں کوئی حمایتی ملتا ہے نہ مددگار اور اللہ تعالیٰ کی اس سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ ہاں عذاب کئی سرح سے آسکتا ہے، قدرتی آفات کے ساتھ بھی جیسا کہ قوم نوح، عاد وثمود اور آل فرعون پر آیا اور مومن بندوں کے ہاتھوں بھی ، جیسا کہ فرمایا :(قاتلوھم یعذنھم اللہ بایدیکم) (التوبۃ : 13)”ان سے لڑو، اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–24

اس سے مرا حدیبیہ ہے یزید بن ہارون نے روایت نقل کی ہے کہ حماد بن سلمہ، ثابت سے وہ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کے اسی افراد مسلح ہو کر تعیم پہاڑ سے اترے وہ بیخبر ی کے عالم میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے ہم نے انہیں جھگڑے کے بغیر پکڑ لیا اور انہیں زندہ رہنے کا موقع دیا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی ؓ نے کہا : ہم حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے جس درخت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے اسی اثنا میں کہ ہم بیٹھے ہوتے تھے کہ تیس نوجوان ہمارے سامنے آگئے جو مسلح تھے رسول اللہ ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا کیا تم کسی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–23

38:۔ عبد بن حمید (رح) نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخری لم تقدروا علیھا “ سے فارس کی فتح مراد ہے۔ 39:۔ عبد بن حمید نے جویبر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخری لم تقدروا علیھا “ سے مراد ہے کہ بعض یہ گمان کرتے ہیں کہ اسے عربی گاؤں اور بستیاں ہیں اور بعض دوسرے لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ فارس اور روم کی فتوحات ہیں۔ 40:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخری لم تقدروا علیھا “ یعنی ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ اس سیم کہ کی فتح مراد ہے۔ 41:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخری لم تقدروا علیھا “ سے حنین کی فتح مراد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

سُـنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ [ اللہ کی وہ سنت ہوتے ہوئے جو ] قَدْ خَلَتْ [ گزر چکی ہے ] مِنْ قَبْلُ ښ [ اس سے پہلے ] وَلَنْ تَجِدَ [ اور آپ ہرگز نہیں پائیں گے ] لِسُـنَّةِ اللّٰهِ [ اللہ کی سنت کے لئے ] تَبْدِيْلًا [کوئی تبدیلی کرنا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ 1ۖۚ﴾ (یہ پہلے سے اللہ کی عادت رہی ہے کہ کارخیر کے ساتھ انجام حضرات انبیاء کرام کے حق میں رہا ہے اپنے اولیاء کی اس نے مدد فرمائی ہے اور دشمنوں کو مغلوب کیا ہے) ﴿ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا 0023﴾ (اور تم اللہ کی عادت میں تبدیلی نہ پاؤ گے) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ آیت کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ اچھا انجام ہمیشہ حضرات انبیاء (علیہ السلام) کے حق میں ہی ہوا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب کبھی بھی کافروں سے قتال ہوا تو کافروں پر غلبہ ہوا ہو، ولعل المراد ان سنة تعالیٰ ان تکون العاقبة للانبیاء علیھم السلام لا انھم کلما قاتلوا الکفار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–26

بیعت الرضوان و فضائل اہل بیعت مع بشارت انعام خداوندی بعطاء غنائم و غلبہ اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” لقد ؓ عن ال مومنین ....... الی ...... بکل شیء علیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان اعراب ومتخلفین کا ذکر تھا جو جھوٹے عذر اور حیلے بہانے کرکے حدیبیہ کے سفر سے پیچھے رہ گئے تھے انکی باطنی گندگی اور قبائح کے ذکر کے ساتھ حق تعالیٰ کی طرف سے جس وعید اور تنبیہ کے وہ مستحق تھے بیان کی گئی تھی اب اس گروہ کے بالمقابل ان مخلصین ومطیعین اور جانثاروں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی کہ ہم زندگی کے آخری سانس تک رسول خدا ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور آخری دم تک ہر طرح…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–23

19:۔ ” ولو قاتلکم الذین کفروا سے اہل مکہ مراد ہیں۔ صلح کے بجائے اگر کفار مکہ آپ سے برسر پیکار ہوجاتے تو انہیں شکست فاش ہوتی اور وہ میدان میں جم کر لرنے کے بجائے پیٹھ پھیر کر میدان سے بھاگ نکلتے اور کوئی مدد گا اور حمایتی ان کو ذلت آمیز شکست سے نہ بچا سکتا۔ ” سنۃ اللہ۔ الایۃ “ یہ اللہ تعالیٰ کا دستور قدیم ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے پیغمبروں کو دشمنوں پر غالب فرمایا کرتا ہے اور اس کا یہ دستور بدل نہیں سکتا۔ جیسا کہ د سری جگہ ارشاد ہے۔ ” کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی “ (المجادلہ رکوع 3) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–23

ربطہ آیات پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے سفر حدیبیہ سے پیچھے رہ جانے والے منافق قسم کے کمزور لوگوں کی مذمت بیان فرمائی اور پھر سچے اور مخلص ایمانداروں کے متعلق فرمایا کہ جب آپ غنیمت حاصل کرنے کے لیے خیبر کی سر زمین کی طرف جائیں گے تو منافق لوگ بھی ساتھ جانے کی خواہش کریں گے ، مگر اللہ نے منع فرما دیا کہ اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ خیبر کی طرف بھی وہی لوگ جائیں گے جو حدیبیہ کے مقام پر بیعت رضوان میں شامل تھے ۔ جو لوگ وہاں نہیں گئے۔ وہ خیبر کے مال غنیمت سے بھی محروم رہیں گے۔ پھر اللہ نے منافقوں کی گندی ذہنیت کا ذکر فرمایا کہ وہ یوں کہیں گے کہ تم حسد کی وجہ سے ہمیں خیبر کے سفر میں لے جانے کے لیے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

سُـنَّۃَ اللہِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ۝ 0 ۚۖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُـنَّۃِ اللہِ تَبْدِيْلًا۝ 23 سنن وتنحّ عن سَنَنِ الطّريق، وسُنَنِهِ وسِنَنِهِ ، فالسُّنَنُ : جمع سُنَّةٍ ، وسُنَّةُ الوجه : طریقته، وسُنَّةُ النّبيّ : طریقته التي کان يتحرّاها، وسُنَّةُ اللہ تعالی: قد تقال لطریقة حکمته، وطریقة طاعته، نحو : سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا [ الفتح/ 23] ، وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا [ فاطر/ 43] ، فتنبيه أنّ فروع الشّرائع۔ وإن اختلفت صورها۔ فالغرض المقصود منها لا يختلف ولا يتبدّل، وهو تطهير النّفس، وترشیحها للوصول إلى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–25

ترکیب : سنۃ اللہ انتصابہ علی المصدریۃ بفعل محذوف ای سن اللہ سنۃ اوھو مصدرہ مؤکدلمضمون المجلۃ المتقدمۃ من ھزیمۃ الکفار ونصرالمؤمنین والہدی قرء الجمہور بنصب الھدی عطفا علی الضمیر المنصوب فی صدوکم وقریٔ بالجر عطفاعلی المسجد معکوفًا انتصابہ علی الحال من الہدی قال الجوھری عکفہ ای حبسہ و منہ الاعتکاف فی المسجد وھوالا حتباس ان یبلغ ای عن ان یبلغ اومفعول لاجلہ ولولا شرط وجوابہ محذوف و التقدیر لاذن اللہ لک المعرۃ العیب وقیل الشدۃ وقیل الغم بغیر علم متعلق بان تطوھم ای غیر عالمین لیدخل اللام متعلقہ بمایدل علیہ الجواب المقدرای لم یاذن لکم اوکف ایدیکم لیدخل اللہ حمیۃ الجاھلیۃ بدل من الحمیۃ اھلہا عطف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 22–23

وَلَوْقٰـتَـلَـکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّلاَ نَصِیْرًا۔ سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلُ صلے ج وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً ۔ (الفتح : 22، 23) (اگر جنگ کرتے تم سے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو یقینا پیٹھ پھیر جاتے، پھر نہ کوئی کارساز پاتے اور نہ کوئی مددگار۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے اور آپ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ ) قریش اور مسلمانوں کے تصادم کی صورت میں قریش کی شکست یقینی تھی اس آیت کریمہ میں قریش کو تنبیہ ہے اور مؤرخ کو خبردار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو قریش کے ہاتھوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–23

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو اپنی رضا مندی کی خوشخبری دیتے ہوئے یہ بھی بتلا دیا کہ عنقریب تمہیں بہت سی غنیمتیں عطا کی جائیں گی۔ بیعت رضوان جن حالات میں ہوئی۔ کوئی آدمی یہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس قدر کامیابیاں عطا فرمائے گا۔ صحابہ کرام ؓ کو اس موقعہ پر چار انعامات سے سرفراز کیا گیا۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تمہیں ہر صورت کثیر مال غنیمت عطا کرے گا۔ اسی نے اپنے فضل سے حدیبیہ کے مقام پر مکہ والوں کے ہاتھوں کو تمہاری طرف بڑھنے سے روک لیا تاکہ مومنوں کو اللہ کی قدرت کا نمونہ دکھایا جائے اور ان کی صحیح راستے کی طرف راہنمائی کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 23 : سُنَّۃَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ نے یہی دستور کر رکھا ہے) نحو : یہ مصدر مؤکد کی جگہ ہے۔ ای سن اللّٰہ غلبۃ انبیاء ہٖ سنۃ اور وہ اس آیت میں مذکور ہے لا غلبن انا ورسلی۔ ] المجادلہ۔ 21[ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا (جو پہلے سے چلا آتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے دستور میں آپ ردو بدل نہ پائیں گے) تبدیل تغیر کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22 ۔ ” ولو قاتلکم الذین کفروا “ یعنی اسد، غطفان اور اہل خیبر۔ ” لولو الادبار “ البتہ وہ شکست کھاجائیں گے۔ ” ثم لا یجدون ولیا ولا نصیرا “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–26

20۔ 26۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے بیعت رضوان خالص دل سے کی ہے اللہ ان سے خوش ہے اور اس نیک نیتی کے کام پر اللہ تعالیٰ نے ان کو خیبر کی فتح انعام کے طور پر عنایت کی اور یہ حکم دیا کہ اس فتح کی غنیمت کے مال میں سوائے ان بیعت والے لوگوں کے اور کسی دوسرے کا حصہ نہیں ان آیتوں میں فرمایا جن فتوحات اور غنیمت کے بہت سے مال کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اس وعدہ میں سے فتح خیبر اور وہاں کے غنیمت کا مال ایک فوری انعام ہے اس کے بعد رفتہ رفتہ اور فتوحات کی امید اللہ تعالیٰ سے رکھنی چاہئے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس کے بعد اللہ کے رسول اور خلفا کے زمانہ میں بہت سی فتوحات ہوئیں جن کا ذکر حدیث اور تاریخ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–23

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لئے خوشخبری ہے کہ وہ ان کو ان کے دشمن کفار کے خلاف فتح و نصرت عطا کرے گا، اگر ان کفار نے ان کا مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ جنگ کی (لولو الادبار ثم لا یجدون ولیا) ” تو وہ پیٹھ پھر کر بھاگ جائیں گے پھر وہ کوئی دوست نہ پائیں گے۔ “ جو ان کی سرپرستی کرے (ولا نصیرا) ” اور نہ مددگار “ جو ان کی مدد کرے اور تمہارے خلاف لڑائی میں ان کی اعانت کرے، بلکہ وہ اپنے حال پر تنہا اور مغلوب چھوڑ دئیے جائیں گے۔ گزشتہ قوموں میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لشکر غالب آتے ہیں (ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا) ” اور آپ سنت الٰہی میں کوئی تبدیل نہیں پائیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 20–24

مکہ بزور شمشیر فتح ہوا تھا نہ کہ صلح کے نتیجے میں قول باری ہے (وھو الذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفر کم علیھم۔ وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے بطن مکہ میں روک دیے بعد اس کے کہ تم کو ان پر قابو دے دیا تھا) تا آخر آیت۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آیت کا نزول صلح حدیبیہ کے سلسلے میں ہوا تھا۔ واقعہ اس طرح ہے کہ مشرکین نے چالیس آدمیوں کا ایک دستہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا تھا، یہ لوگ پکڑے گئے اور انہیں حضور ﷺ کے سامنے قیدیوں کی صورت میں پیش کردیا گیا۔ آپ نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ ایک روایت کے مطابق آیت کا نزول فتح مکہ کے سلسلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 55] رسولوں کے مکذبین کے بارے میں سنت الٰہی کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی سنت اور اس کے اس دستور کے مطابق جو پہلے سے چلا آیا ہے اور جو اس نے رسولوں کے مکذبین کے بارے میں ٹھہرا رکھا ہے کہ جب ان کا پیمانہ لبریز ہوجاتا تو ان کو دھرلیا جاتا ہے۔ نیز یہ کہ غلبہ اللہ پاک کے رسولوں ہی کا ہوتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { کتب اللّٰہ لآغلبین انا ورسلی } اور اللہ تو ہے سب پر غالب، سبحانہ وتعالیٰ ، پس ہر فیصلہ کن معرکہ میں آخری فتح حق ہی کی ہوگی، نیز یہ کہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو مہلت اور ڈھیل ملتی رہتی ہے یہاں تک کہ جب ان کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–26

کامیابیاں مسلمانوں کی ہی ہوں گی تشریح : ان آیات میں اللہ کی ان نعمتوں برکتوں اور حکمتوں کا ذکر بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں مسلمانوں پر ظاہر ہوئیں۔ اگر اس وقت جنگ ہوجاتی تو بھی حق کو ہی فتح ہونی تھی کیونکہ اللہ حق کا ساتھ دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو اخلاقی تربیت بھی دی گئی ہے۔ جذبات پر قابو رکھنا غصہ کو دبانادور اندیشی سے کام لینا اور ظاہری فائدہ کی خاطر رسول ﷺ اور اللہ کے احکامات کے خلاف کام نہ کرنا۔ ہر صورت توحید، ایمان، مستقل مزاجی اور اتباع رسول ﷺ کو زندگی کا حصہ بنائے رکھنا ضروری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 18–26

آیات 18 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ اللہ جل شانہ یقینا ان مومنین سے راضی ہوگیا اور ان کی جاں سپاری کے جذبہ کو قبول فرمایا کہ حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے جب وہ آپ سے موت پر بیعت کر رہے تھے وہ اس لیے راضی ہوا کہ وہ ان کے قلبی خلوص کو جانتا تھا لہذا اس نے ان کے دلوں پر اطمینان نازل فرمایا۔ بیعت رضوان کا درخت۔ یہ ایک ببول کا درخت تھا مقام حدیبیہ پر جس کے نیچے رسول اللہ نے بیعت لی تھی بعد میں لوگوں نے وہاں نماز پڑھنا شروع کردی اور زیارت کو جانے لگے مگر کسی نے حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بیعت رضوان کی تھی وہ فرماتے تھے کہ ہم جب دوبارہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 23–24

ف 7 حدیبیہ میں صلح کی گفتگو ہو رہی تھی کہ مشرکین مکہ میں سے ستر یا اسی آدمی مسلح ہو کر جبل تغیم سے اتر آئے کہ مسلمانوں پر اچانک حملہ کردیا جائے مگر وہ گرفتار ہوگئے اور آنحضرت نے ان کو رہا کردیا۔ آیت میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے۔ (قرطبی) شاہ صاحب لکھتے ہیں اور نہ روکے لوگوں کے ہاتھ۔ “ یعنی لڑائی نہ ہونے دی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(48:23) سنۃ اللّٰہ : ای سن اللّٰہ سنۃ۔ اللہ تعالیٰ نے (یہ) دستور اختیار کر رکھا ہے (جلالین، تفسیر حقانی) التی قد خلت من قبل۔ جو قبل ازیں جاری رہا ہے (گزشتہ امتوں میں) اور وہ طریقہ یا دستور کیا تھا۔ کہ اللہ اور اللہ کے اولیاء اور انبیاء ہمیشہ اللہ کے دشمنوں پر غالب ہی رہیں گے۔ جیسا کہ اور جگہ اللہ نے فرمایا ہے :۔ کتب اللّٰہ لاغلبن انا ورسلی (58:21) اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ بلاشبہ میں اور میرے پیغمبر غالب آکر رہیں گے۔ اور فان حزب اللّٰہ ہم الغلبون (5:56) بیشک خدا کا لشکر ہی غلبہ پانے والا ہے۔ اور الا ان حزب اللّٰہ ہم المفلحون (58:22) خوب سن لو کہ خدا ہی کا لشکر فلاح پانے ولا ہے۔ التی اسم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–29

لغات القرآن آیت نمبر (22 تا 26) ۔ لو لو الادبار (وہ ضرور پیٹھ پھیریں گے) ۔ قد خلت (یقینا گذر گئی) ۔ بطن (پیٹ۔ درمیان) ۔ اظفر (اس نے قابو کیا) ۔ معکوف (رکا ہوا) ۔ ان یبلغ (یہ کہ وہ پہنچے) ۔ محلہ (اپنی جگہ) ۔ ان تطئوا (یہ کہ تم روند ڈالو ) ۔ معرۃ (دکھ۔ گناہ۔ تکلیف) ۔ لو تز یلوا (اگر وہ الگ ہوجائے۔ ٹل جائے) ۔ الحمیتہ (غیرت ۔ ضد۔ ہٹ) ۔ الزم (اس نے لازم کردیا) ۔ احق (زیادہ حق دار) ۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے واقعات اور اس کی مصلتحوں کو بیان کیا جارہا ہے۔ ارشاد ہے کہ بیشک اللہ نے کفار کو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جوابی کاروائی کرنے سے اور جذباتی لمحات میں اہل ایمان کو کفار پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–23

مسلمانوں کی فتح۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ جن فتوحات اور غنیمت کے بہت سے مال کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور اس وعدہ میں سے فتح خیبر اور وہاں کا غنیمت کا مال ایک فوری انعام ہے اس کے بعد رفتہ رفتہ اور فتوحات ہوئیں فارس قیصر و کسری وغیرہ وغیرہ جن کا ذکر حدیث اور تاریخ کتابوں میں تفصیل سے ہے، جس وقت مسلمانوں کا لشکر خیبر کی چڑھائی پر تھا اس وقت میں اسد اور غطفان قبیلہ کے لوگوں نے یہ ارادہ دیا کیا تھا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال پر حملہ کرکے ان کا مال لوٹ لیاجائے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسارعب پیدا کردیا جس سے ان کے دلوں میں اس ارادہ کے پورا کرنے کی جرات باقی نہیں رہی، اس کو فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[18] یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے لئے اللہ نے ٹھہرا رکھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کی مدد فرماتا ہے اور تکذیب کرنے والوں کو ذلیل و خوار کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

اللہ کا فیصلہ 2: غرض یہ ہے ۔ کہ مقام حدیبیہ پر جو صلح کا اقرارنامہ مرتب ہوا ۔ اس وقت مکہ والوں کا بھی فائدہ تھا ۔ وہ اگر جنگ کے در پے ہوتے اور صلح کے لئے آمادہ نہ ہوتے ۔ تو یہ بات یقینی تھی ۔ کہ وہ بری طرح شکست سے دوچار ہوتے ناممکن تھا کہ وہ بہادران اسلام کا مقابلہ کرسکتے ۔ کیونکہ یہ اللہ کی سنت جارہی سے ۔ کہ پیغمبروں کے ماننے والے ہمیشہ اپنے دشمنوں پر غالب رہتے ہیں ۔ یہ مقدارات میں سے ہے ۔ کہ جب جنگ ہوتا حق اور باطل کے درمیان ہو ۔ جب آویزش ہو ، نورا اور ظلمت میں اور جب تصادم ہوجائے ظالم اور مظلوم کے درمیان تو پھر فتح ونصرت اس طرف ہونی ہے ۔ جس طرف حق ہو ۔ نور ہو اور مظلومیت ہو ۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(23) یہ اللہ تعالیٰ کی رسم پڑی ہوئی ہے اور اس نے اپنا یہی دستور اور طریقہ قائم کررکھا ہے جو پہلے سے ہوتا چلا آتا ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے آئین اور اس کی ڈالی ہوئی رسم میں کوئی تبدیلی اور کسی شخص کی طرف سے ردوبدل نہ پائیں گے۔ یعنی رسم اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہی ہے کہ اپنے دوستوں کو غالب اور منکروں کو مغلوب کرتا رہتا ہے اس کی اس ربم میں کوئی تدبیلی آپ نہیں پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کی باتوں کو کوئی غلط ثابت نہیں کرسکتا یہ اللہ کی سنت چلی آرہی ہے جو کبھی بدلا نہیں کرتی 23 ؎ اللہ تعالیٰ نے جب سے دنیا والوں کے لیے وحی الٰہی کا سلسلہ شروع کیا اس وقت سے لے کر اس سلسلہ کے بند کرنے تک اصول یہی رہا کہ جب کوئی نبی و رسول کسی قوم کی طرف بھیجا گیا اور قوم نے اس کی تکذیب کی تو حق و باطل کا معرکہ شروع ہوگیا اور پھر جب تک اللہ کو منظور ہوا وہ بدستور چلتا رہا لیکن انجام کار جب اس قوم کی ہلاکت کا وقت آیا تو انکو ہلاک کرتے وقت اللہ نے اپنے نبی و رسول کو اطلاع کردی کہ آپ ﷺ اپنے لوگوں کو لے کر اس علاقہ سے نکل جائیں کیونکہ اس علاقہ کی تباہی و بربادی کے احکام نافذ ہوگئے ہیں۔ پھر کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–23

وَعَدَكُمُ اللَّـهُ مَغَانِمَ كَثِيرَ‌ةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَـٰ وَأُخْرَ‌ىٰ لَمْ تَقْدِرُ‌وا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّـهُ بِهَا (And (there are) other (victories) that have not come within your power as yet, (but) Allah has encompassed them...." (48:21). This verse embodies a prophecy that Muslims will achieve many more great victories after the victory of Khaibar. But Allah says that they were unable to achieve them at that time; they would happen in future. Among these victories, Makkah was the first one to be achieved. Therefore, some scholars refer this to the victory of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–24

42 Here, "the Way of Allah" means: Allah disgraces the disbelievers who fight His Messenger and helps His own Messenger.

Read the full tafseer →