Explained with ayahs 20–24
کفار کے بد ارادے ناکام ہوئے
ان بہت سی غنیمتوں سے مراد آپ کے زمانے اور بعد کی سب غنیمتیں ہیں جلدی کی غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے اور حدیبیہ کی صلح ہے اس اللہ کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ کفار کے بد ارادوں کو اس نے پورا نہ ہونے دیا نہ مکہ کے کافروں کے نہ ان منافقوں کے جو تمہارے پیچھے مدینے میں رہے تھے۔ نہ یہ تم پر حملہ اور ہو سکے نہ وہ تمہارے بال بچوں کو ستا سکے یہ اس لئے کہ مسلمان اس سے عبرت حاصل کریں اور جان لیں کہ اصل حافظ و ناصر اللہ ہی ہے پس دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت سے ہمت نہ ہار دیں اور یہ بھی یقین کرلیں کہ ہر کام کے انجام کا علم اللہ ہی کو ہے بندوں کے حق میں بہتری یہی ہے کہ وہ اس کے…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 41
یعنی حدیبیہ میں جنگ کو اللہ نے اس لیے نہیں روکا کہ وہاں تمہارے شکست کھا جانے کا امکان تھا، بلکہ اس کی مصلحت کچھ دوسری تھی جسے آگے کی آیتوں میں بیان کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ مصلحت مانع نہ ہوتی، اور اللہ تعالیٰ اس مقام پر جنگ ہوجانے دیتا تو یقیناً کفار ہی کو شکست ہوتی اور مکہ معظمہ اسی وقت فتح ہوجاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
خلاصہ تفسیر
اور (چونکہ ان کفار کے مغلوب ہونے کے مقتضیات موجود تھے جو آگے آتے ہیں اس لئے) اگر (تم میں یہ صلح نہ ہوتی بلکہ) تم سے یہ کافر لڑتے تو (ان مقتضیات کی وجہ سے وہ) ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگتے، پھر نہ ان کو کوئی یار ملتا نہ مددگار (اور) اللہ تعالیٰ نے (کفار کے لئے) یہی دستور کر رکھا ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے (کہ مقابلہ میں اہل حق غالب اور اہل باطل مغلوب رہے ہیں اور کبھی کسی وقت کسی حکمت و مصلحت سے اس میں تاخیر ہونا اس کے منافی نہیں) اور آپ خدا کے دستور میں (کسی شخص کی طرف سے) رد و بدل نہ پاویں گے (کہ خدا تعالیٰ کوئی کام کرنا چاہئے اور کوئی اس کو نہ ہونے دے) اور وہ ایسا ہے کہ اس نے ان کے ہاتھ…
Read the full tafseer →-7 آگے آیات 26-22 کا مضمون
آگے مسلمانوں کو اس بات کی اطمینان دہانی فرمائی گئی ہے کہ اگر قریش اس موقع پر جنگ کرتے تو وہ خود ہی منہ کی کھاتے لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ ابھی اس جنگ کی نوبت نہ آئے تاکہ ان مسلمانوں کو کوئی گزند نہ پہنچ جائے جو مکہ میں گرفتار بلا ہیں۔ اسی ضمن میں مسلمانوں کی وہ اخلاقی برتری نمایاں فرمائی ہے جو ان کو اس نازک موقع پر کفار کے مقابل میں حاصل ہوئی اور جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اب قریش کی حمیت جاہلیت کی عمر بہت تھوڑی رہ گئی ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-8 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ولوقتلکم الذین کفروا لولوا الادبارثم لایجدون ولیا ولا…
Read the full tafseer →22۔ 1 یہ حدیبیہ میں متوقع جنگ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ قریش مکہ صلح نہ کرتے بلکہ جنگ کا راستہ اختیار کرتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے، کوئی ان کا مددگار نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →20: یعنی حدیبیہ کے مقام پر کافروں سے جو صلح کرائی گئی، اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان کمزور تھے، اور جنگ کی صورت میں انہیں شکست اٹھانی پڑتی، بلکہ اگر مقابلہ ہوجاتا تو یہ کافر ہی شکست کھاتے، اور پیٹھ پھیر کر بھاگتے، لیکن اس وقت کئی مصلحتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جنگ کو روکا تھا، ان میں سے ایک مصلحت کا بیان آگے آیت نمبر 25 میں آرہا ہے۔
Read the full tafseer →یہاں تک اللہ نے ان کو موجودہ غنیمت کے لئے بھی خوشخبری دے دی اور اس کے بعد کی آنے والی غنیمتوں کی خوشخبری بھی دے دی گئی اور مسلمان ان کا انتظار کرنے لگے ، ان خوشخبریوں کے ساتھ ساتھ ایک بڑی خوشخبری یہ بھی دے دی گئی کہ اب انشاء اللہ مسلمان فتح مند اور کامران رہیں گے۔ اس سال جو صلح طے کرائی گئی ، وہ اس لئے نہیں کرائی گئی کہ مسلمان کمزور تھے یا یہ کہ مشرکین بہت قوی تھے لیکن بعض حکمتوں کی وجہ سے یہ صلح طے کرائی گئی اگر اس بار بھی اہل مکہ سے جھڑپ ہوجاتی تو بھی یہ ہزیمت اٹھاتے ، کیونکہ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ جب مسلم اور کافر کا کسی فیصلہ کن مقام پر مقابلہ ہوجائے تو مسلم فتح یاب ہوں۔
ولو…
Read the full tafseer →6 یعنی لڑائی ہوتی تو تم ہی غالب رہتے اور کفار پیٹھ پھیر کر بھاگتے کوئی مدد کر کے ان کو آفت سے نہ بچا سکتا۔ مگر اللہ کی حکمت اسی کو مقتضی ہوئی کہ فی الحال صلح ہوجائے۔ اور اس کی عظیم الشان برکات سے مسلمان مستفید ہوں۔
Read the full tafseer →آیت 22 { وَلَوْ قٰــتَلَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا } ”اور اگر یہ کافر قریش ِمکہ ّتم سے جنگ کرتے تو لازماً پیٹھ پھیر جاتے اور پھر نہ پاتے وہ اپنے لیے کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
33 یعنی اگر کافر میدان حدیبیہ میں مسلمانوں سے بھڑ جاتے تو بھی اللہ اس بات پر قادر تھا کہ کافروں کو مار بھگاتا اور مسلمانوں کو فتح عطا کردیتا۔ مگر جنگ ہونے کے بجائے صلح ہوجانے میں دوسری کئی مصلحتیں کار فرماتھیں۔ جن کی وجہ سے اللہ نے جنگ نہ ہونے دی۔
Read the full tafseer →26۔ (جو انہیں قہرالہی کی اس گرفت سے بچا سکتا) (آیت) ” الذین کفروا “۔ اشارۂ خصوصی یہود خیبر کی طرف ہے۔ انہیں کو مدد کی امیدیں مشرکین عرب کے قبائل بنو غطفان وغیرہ سے تھیں۔ انہوں نے عین وقت پر صاف جواب دے دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
ترجمہ : یقینا اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوا جب انہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اور وہ ببول کا درخت ہے اور اصحاب حدیبیہ ایک ہزار تین سو یا اس سے کچھ زائد تھے، پھر ان حضرات نے اس پر بیعت کی کہ وہ قریش کا مقابلہ کریں گے، اور یہ کہ وہ موت سے راہ فرار اختیار نہ کریں گے اللہ کو ان کے دلوں کے وفا و صدق کا حال معلوم تھا اس لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو قریبی فتح عطا فرمائی اور وہ فتح حدیبیہ سے واپسی کے بعد خیبر کی فتح تھی اور بہت سی غنیمتیں کہ جن کو وہ خیبر سے حاصل کریں گے اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے، یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی…
Read the full tafseer →ولو قاتلکم الذیہ کفروا لولوا الادبار ثم لا یجدون ولیًا ولا نصیرًا اور اگر تم سے (یہ) کافر
لڑتے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ‘ پھر ان کو نہ کوئی یار ملتا اور نہ مددگار۔
وَلَوْ قَاتَلَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یعنی کفار اہل مکہ اگر تم سے لڑتے اور صلح نہ کرتے تو پشت پھیر کر بھاگتے۔
ثُمَّ لاَ یَجِدُوْنَ الخ پھر ان کو نہ کوئی حامی ملتا کہ ان کی حمایت کرسکتا ‘ نہ مددگار کہ مدد کرتا۔
Read the full tafseer →اور اگر تم سے غطفان اور خیبر والے ملکر لڑتے تو ضرور شکست کھا کر بھاگتے پھر اس قتل و شکست کے مقابلہ میں ان کو کوئی دوست ملتا اور نہ کوئی مددگار۔
Read the full tafseer →(1) ولو قتلکم الذین کفروا لولوا الادبار : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے کفار کے ہاتھ تم سے روک دیئے کہ وہ لڑائی سے باز رہے، اب فرمایا کہ حدیبیہ کے مقام پر بظاہر دب کر جو صلح کی جا رہی تھی وہ بزدلی کے بنا پر یا اس خطرے کے پیش نظر نہیں تھی کہ مسلمانوں کو شکست ہو جائیگی، بلکہا س میں ب ہت سی حکمتیں محلوظ تھیں، جن میں بعض کا ذکر گزر چکا اور کچھ آگے بیان ہو رہی ہیں۔ چناچہ فرمایا کہ اگر اس موقع پر کفار تم سے لڑ پڑتے تو یقینا بیٹھیں پھیر کر بھاگ جاتے اور مکہ اسی وقت فتح ہوجاتا مگر یہ مصلحت کے خلفا تھا۔
(2) ثم لا یجدون ولیا و لا نصیراً :”ثم“ (پھر) کے لفظ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد خواہ…
Read the full tafseer →قتادہ نے کہا : مراد قریش کے کفار ہیں (1) جو حدیبیہ کے موقع پر موجود تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد بن غطفان، بنو اسد اور کفار ہیں جنہوں نے اہل خیبر کی مدد کا ارادہ کیا تھا وبال انہیں پر جا پڑا۔
سے مراد طریقہ اور عادت ہے جو اس نے اپنے دوستوں کی دشمنوں کے خلاف مدد کی سنۃ کا لفظ مفعول مطلق کے طور پر منصوب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ سے مراد کسنۃ اللہ، سنہ کا معنی طریقہ اور سیرت ہے، شاعر کہتا ہے :
جس طریقہ پر تو چلا ہے اس سے نہ گھبرا جو آدمی کسی راستے پر چلتا ہے وہی اس پر راضی ہوتا ہے۔
سنۃ کا معنی یہ بھی ہے یہ مدینہ کی کھجوروں کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
38:۔ عبد بن حمید (رح) نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخری لم تقدروا علیھا “ سے فارس کی فتح مراد ہے۔
39:۔ عبد بن حمید نے جویبر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخری لم تقدروا علیھا “ سے مراد ہے کہ بعض یہ گمان کرتے ہیں کہ اسے عربی گاؤں اور بستیاں ہیں اور بعض دوسرے لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ فارس اور روم کی فتوحات ہیں۔
40:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخری لم تقدروا علیھا “ یعنی ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ اس سیم کہ کی فتح مراد ہے۔
41:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخری لم تقدروا علیھا “ سے حنین کی فتح مراد…
Read the full tafseer →وَلَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِيْنَ [ اور اگر وہ لوگ جنگ کرتے تم سے جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ [ تو وہ ضرور پھیر لیتے پیٹھوں کو ] ثُمَّ لَا يَجِدُوْنَ [ پھر وہ لوگ نہ پاتے ] وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا [ کوئی کارساز اور نہ کوئی مدد گار ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا ﴿ وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ﴾ (اور اگر کفار تم سے جنگ کرتے تو پشت پھیر کر چلے جاتے) حضرت قتادہ ؓ کا قول ہے کہ اس سے کفار قریش مراد ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا کہ بنی غطفان اور بنی اسد مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خیبر تشریف لے جانے کے بعد مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔
﴿ ثُمَّ لَا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّ لَا نَصِيْرًا 0022﴾ (پھر وہ کوئی اپنا دوست اور مددگار نہ پاتے۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
بیعت الرضوان و فضائل اہل بیعت مع بشارت انعام خداوندی بعطاء غنائم و غلبہ اہل ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” لقد ؓ عن ال مومنین ....... الی ...... بکل شیء علیما “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان اعراب ومتخلفین کا ذکر تھا جو جھوٹے عذر اور حیلے بہانے کرکے حدیبیہ کے سفر سے پیچھے رہ گئے تھے انکی باطنی گندگی اور قبائح کے ذکر کے ساتھ حق تعالیٰ کی طرف سے جس وعید اور تنبیہ کے وہ مستحق تھے بیان کی گئی تھی اب اس گروہ کے بالمقابل ان مخلصین ومطیعین اور جانثاروں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی کہ ہم زندگی کے آخری سانس تک رسول خدا ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور آخری دم تک ہر طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
19:۔ ” ولو قاتلکم الذین کفروا سے اہل مکہ مراد ہیں۔ صلح کے بجائے اگر کفار مکہ آپ سے برسر پیکار ہوجاتے تو انہیں شکست فاش ہوتی اور وہ میدان میں جم کر لرنے کے بجائے پیٹھ پھیر کر میدان سے بھاگ نکلتے اور کوئی مدد گا اور حمایتی ان کو ذلت آمیز شکست سے نہ بچا سکتا۔ ” سنۃ اللہ۔ الایۃ “ یہ اللہ تعالیٰ کا دستور قدیم ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے پیغمبروں کو دشمنوں پر غالب فرمایا کرتا ہے اور اس کا یہ دستور بدل نہیں سکتا۔ جیسا کہ د سری جگہ ارشاد ہے۔ ” کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی “ (المجادلہ رکوع 3) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
ربطہ آیات
پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے سفر حدیبیہ سے پیچھے رہ جانے والے منافق قسم کے کمزور لوگوں کی مذمت بیان فرمائی اور پھر سچے اور مخلص ایمانداروں کے متعلق فرمایا کہ جب آپ غنیمت حاصل کرنے کے لیے خیبر کی سر زمین کی طرف جائیں گے تو منافق لوگ بھی ساتھ جانے کی خواہش کریں گے ، مگر اللہ نے منع فرما دیا کہ اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ خیبر کی طرف بھی وہی لوگ جائیں گے جو حدیبیہ کے مقام پر بیعت رضوان میں شامل تھے ۔ جو لوگ وہاں نہیں گئے۔ وہ خیبر کے مال غنیمت سے بھی محروم رہیں گے۔ پھر اللہ نے منافقوں کی گندی ذہنیت کا ذکر فرمایا کہ وہ یوں کہیں گے کہ تم حسد کی وجہ سے ہمیں خیبر کے سفر میں لے جانے کے لیے…
Read the full tafseer →وَلَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا 22
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100]
( لو ) لو
( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 1 00] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔
قتل
أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ترکیب : سنۃ اللہ انتصابہ علی المصدریۃ بفعل محذوف ای سن اللہ سنۃ اوھو مصدرہ مؤکدلمضمون المجلۃ المتقدمۃ من ھزیمۃ الکفار ونصرالمؤمنین والہدی قرء الجمہور بنصب الھدی عطفا علی الضمیر المنصوب فی صدوکم وقریٔ بالجر عطفاعلی المسجد معکوفًا انتصابہ علی الحال من الہدی قال الجوھری عکفہ ای حبسہ و منہ الاعتکاف فی المسجد وھوالا حتباس ان یبلغ ای عن ان یبلغ اومفعول لاجلہ ولولا شرط وجوابہ محذوف و التقدیر لاذن اللہ لک المعرۃ العیب وقیل الشدۃ وقیل الغم بغیر علم متعلق بان تطوھم ای غیر عالمین لیدخل اللام متعلقہ بمایدل علیہ الجواب المقدرای لم یاذن لکم اوکف ایدیکم لیدخل اللہ حمیۃ الجاھلیۃ بدل من الحمیۃ اھلہا عطف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
وَلَوْقٰـتَـلَـکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّلاَ نَصِیْرًا۔ سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلُ صلے ج وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً ۔ (الفتح : 22، 23)
(اگر جنگ کرتے تم سے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو یقینا پیٹھ پھیر جاتے، پھر نہ کوئی کارساز پاتے اور نہ کوئی مددگار۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے اور آپ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ )
قریش اور مسلمانوں کے تصادم کی صورت میں قریش کی شکست یقینی تھی
اس آیت کریمہ میں قریش کو تنبیہ ہے اور مؤرخ کو خبردار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو قریش کے ہاتھوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو اپنی رضا مندی کی خوشخبری دیتے ہوئے یہ بھی بتلا دیا کہ عنقریب تمہیں بہت سی غنیمتیں عطا کی جائیں گی۔
بیعت رضوان جن حالات میں ہوئی۔ کوئی آدمی یہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس قدر کامیابیاں عطا فرمائے گا۔ صحابہ کرام ؓ کو اس موقعہ پر چار انعامات سے سرفراز کیا گیا۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تمہیں ہر صورت کثیر مال غنیمت عطا کرے گا۔ اسی نے اپنے فضل سے حدیبیہ کے مقام پر مکہ والوں کے ہاتھوں کو تمہاری طرف بڑھنے سے روک لیا تاکہ مومنوں کو اللہ کی قدرت کا نمونہ دکھایا جائے اور ان کی صحیح راستے کی طرف راہنمائی کی…
Read the full tafseer →آیت 22 : وَلَوْ قٰتَلَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور اگر کافر تم سے لڑتے) اہل مکہ اور وہ صلح پر آمادہ نہ ہوتے یا اہل خیبر کے حلیف قبائل۔ لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ (تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگتے) مغلوب ہوتے اور شکست کھا جاتے۔ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا (پھر نہ ان کو کوئی یار ملتا) جو ان کے معاملے کا ذمہ دار بنتا۔ وَّلَا نَصِیْرًا (اور نہ مددگار) جو ان کی مدد کرتا۔
Read the full tafseer →21 ۔” واخریٰ لم تقدروا علیھا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم سے دوسرے شہر کی فتح کا وعدہ جس پر تم قادر نہ تھے ” قد احاطہ اللہ بھا “ حتیٰ کہ اس کو تمہارے لئے فتح کیا۔ گویا کہ اس کی حفاظت کی اور اس کو تمہارے غیر سے روکے رکھا۔ حتیٰ کہ تم نے اس کو لے لیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ وہ اس کو تمہارے لئے کھول دیں گے اور اس میں ان کا اختلاف ہوا ہے۔ پس ابن عباس ؓ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ وہ فارس وروم ہیں اور عرب فارس اور روم کے قتال پر قادر نہ تھے بلکہ وہ تو ان سے خوفزدہ تھے حتیٰ کہ وہ اس پر اسلام کے ذریعے قادر ہوگئے۔ ضحاک اور ابن زید رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ خیبر مراد ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
20۔ 26۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے بیعت رضوان خالص دل سے کی ہے اللہ ان سے خوش ہے اور اس نیک نیتی کے کام پر اللہ تعالیٰ نے ان کو خیبر کی فتح انعام کے طور پر عنایت کی اور یہ حکم دیا کہ اس فتح کی غنیمت کے مال میں سوائے ان بیعت والے لوگوں کے اور کسی دوسرے کا حصہ نہیں ان آیتوں میں فرمایا جن فتوحات اور غنیمت کے بہت سے مال کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اس وعدہ میں سے فتح خیبر اور وہاں کے غنیمت کا مال ایک فوری انعام ہے اس کے بعد رفتہ رفتہ اور فتوحات کی امید اللہ تعالیٰ سے رکھنی چاہئے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس کے بعد اللہ کے رسول اور خلفا کے زمانہ میں بہت سی فتوحات ہوئیں جن کا ذکر حدیث اور تاریخ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لئے خوشخبری ہے کہ وہ ان کو ان کے دشمن کفار کے خلاف فتح و نصرت عطا کرے گا، اگر ان کفار نے ان کا مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ جنگ کی (لولو الادبار ثم لا یجدون ولیا) ” تو وہ پیٹھ پھر کر بھاگ جائیں گے پھر وہ کوئی دوست نہ پائیں گے۔ “ جو ان کی سرپرستی کرے (ولا نصیرا) ” اور نہ مددگار “ جو ان کی مدد کرے اور تمہارے خلاف لڑائی میں ان کی اعانت کرے، بلکہ وہ اپنے حال پر تنہا اور مغلوب چھوڑ دئیے جائیں گے۔ گزشتہ قوموں میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لشکر غالب آتے ہیں (ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا) ” اور آپ سنت الٰہی میں کوئی تبدیل نہیں پائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
مکہ بزور شمشیر فتح ہوا تھا نہ کہ صلح کے نتیجے میں
قول باری ہے (وھو الذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفر کم علیھم۔ وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے بطن مکہ میں روک دیے بعد اس کے کہ تم کو ان پر قابو دے دیا تھا) تا آخر آیت۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آیت کا نزول صلح حدیبیہ کے سلسلے میں ہوا تھا۔
واقعہ اس طرح ہے کہ مشرکین نے چالیس آدمیوں کا ایک دستہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا تھا، یہ لوگ پکڑے گئے اور انہیں حضور ﷺ کے سامنے قیدیوں کی صورت میں پیش کردیا گیا۔ آپ نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ ایک روایت کے مطابق آیت کا نزول فتح مکہ کے سلسلہ…
Read the full tafseer →[ 53] حدیبیہ والوں کیلئے فتح مقدر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور حدیبیہ والے ان بندگان صدیق و صفا کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اس موقع پر اگر تمہاری ان کافروں سے مڈبھیڑ ہوجاتی تو انہوں نے یقینا پیٹھ دے کر بھاگنا تھا۔ یعنی اہل حق سے۔ سو اگر اس موقع پر وہ تم سے لڑ جاتے اور تمہارے مقابلے کی نوبت آجاتی تو بھی فتح یقینا تمہاری ہی تھی کہ حق پر تم ہی ہو، اور اللہ کی مدد بہرحال تمہارے ہی ساتھ ہے، اور انہوں نے بہرحال پیٹھ دے کر بھاگنا تھا، سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حدیث میں جو مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس میں مسلمانوں کی شکست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
کامیابیاں مسلمانوں کی ہی ہوں گی
تشریح : ان آیات میں اللہ کی ان نعمتوں برکتوں اور حکمتوں کا ذکر بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں مسلمانوں پر ظاہر ہوئیں۔ اگر اس وقت جنگ ہوجاتی تو بھی حق کو ہی فتح ہونی تھی کیونکہ اللہ حق کا ساتھ دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو اخلاقی تربیت بھی دی گئی ہے۔ جذبات پر قابو رکھنا غصہ کو دبانادور اندیشی سے کام لینا اور ظاہری فائدہ کی خاطر رسول ﷺ اور اللہ کے احکامات کے خلاف کام نہ کرنا۔ ہر صورت توحید، ایمان، مستقل مزاجی اور اتباع رسول ﷺ کو زندگی کا حصہ بنائے رکھنا ضروری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
آیات 18 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
اللہ جل شانہ یقینا ان مومنین سے راضی ہوگیا اور ان کی جاں سپاری کے جذبہ کو قبول فرمایا کہ حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے جب وہ آپ سے موت پر بیعت کر رہے تھے وہ اس لیے راضی ہوا کہ وہ ان کے قلبی خلوص کو جانتا تھا لہذا اس نے ان کے دلوں پر اطمینان نازل فرمایا۔
بیعت رضوان کا درخت۔
یہ ایک ببول کا درخت تھا مقام حدیبیہ پر جس کے نیچے رسول اللہ نے بیعت لی تھی بعد میں لوگوں نے وہاں نماز پڑھنا شروع کردی اور زیارت کو جانے لگے مگر کسی نے حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بیعت رضوان کی تھی وہ فرماتے تھے کہ ہم جب دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ف 6 یعنی اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں جو صلح کرائی اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ تم کمزور تھے اور کافروں سے لڑ نہ سکتے تھے۔ لڑائی ہوتی تو تم ہی فتحیاب ہوتے اور کافر پیٹھ پھیر کر بھگاتے صلح کرانے میں بہت سی دوسری مصلحتیں ہیں جن میں سے بعض تم پر واضح ہوچکی ہیں اور بعض آگے چل کر واضح ہوں گی۔
Read the full tafseer →(48:22) ولو : واؤ عاطفہ لو شرطیہ ہے اگر ، قتلکم الذین کفروا کفار اہل مکہ تم سے لڑتے اور تم سے صلح نہ کرتے تو پشت پھیر کر بھاگ جاتے۔ لوتوا جواب شرط ہے وتوا ماضی جمع مذکر غائب تولیۃ (تفعیل) مصدر پیٹھ دے کر بھاگنا الادبار جمع دبر کی پیٹھیں دے کر بھاگ جاتے۔
لایجدون مضارع منفی جمع مذکر غائب وجد (باب ضرب، سمع) مصدر پانا۔ حاصل کرنا۔ پھر وہ نہ پاتے۔
ولیا : ولی صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ بمعنی محافظ۔ مددگار۔ حامی۔ بچانے والا۔ منصوب بوجہ مفعول۔
نصیرا۔ صیغہ صفت، نصر سے بچانے والا۔ مدد کرنے والا۔ بوجہ مفعول ہونے کے منصوب ہے۔ ولیا کا معطوف ہے۔
فائدہ : مطلب یہ ہے کہ حدیبیہ میں جنگ کو اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
لغات القرآن آیت نمبر (22 تا 26) ۔
لو لو الادبار (وہ ضرور پیٹھ پھیریں گے) ۔ قد خلت (یقینا گذر گئی) ۔ بطن (پیٹ۔ درمیان) ۔ اظفر (اس نے قابو کیا) ۔ معکوف (رکا ہوا) ۔ ان یبلغ (یہ کہ وہ پہنچے) ۔ محلہ (اپنی جگہ) ۔ ان تطئوا (یہ کہ تم روند ڈالو ) ۔ معرۃ (دکھ۔ گناہ۔ تکلیف) ۔ لو تز یلوا (اگر وہ الگ ہوجائے۔ ٹل جائے) ۔ الحمیتہ (غیرت ۔ ضد۔ ہٹ) ۔ الزم (اس نے لازم کردیا) ۔ احق (زیادہ حق دار) ۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے واقعات اور اس کی مصلتحوں کو بیان کیا جارہا ہے۔ ارشاد ہے کہ بیشک اللہ نے کفار کو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جوابی کاروائی کرنے سے اور جذباتی لمحات میں اہل ایمان کو کفار پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
مسلمانوں کی فتح۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ جن فتوحات اور غنیمت کے بہت سے مال کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور اس وعدہ میں سے فتح خیبر اور وہاں کا غنیمت کا مال ایک فوری انعام ہے اس کے بعد رفتہ رفتہ اور فتوحات ہوئیں فارس قیصر و کسری وغیرہ وغیرہ جن کا ذکر حدیث اور تاریخ کتابوں میں تفصیل سے ہے، جس وقت مسلمانوں کا لشکر خیبر کی چڑھائی پر تھا اس وقت میں اسد اور غطفان قبیلہ کے لوگوں نے یہ ارادہ دیا کیا تھا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال پر حملہ کرکے ان کا مال لوٹ لیاجائے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسارعب پیدا کردیا جس سے ان کے دلوں میں اس ارادہ کے پورا کرنے کی جرات باقی نہیں رہی، اس کو فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
[17] اشارہ ہے فتح مکہ کی طرف۔ یعنی اگرچہ مکہ ابھی تمہارے قابو میں نہیں آیا ہے لیکن اس کی فتح میں اب زیادہ دیر نہیں ہے۔ اللہ نے اسے گھیرے میں لے لیا ہے اور صلح حدیبیہ کے نتیجے میں وہ بھی تمہارے قبضے میں آجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ف 1: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتوح ومغائم کے حصول کی خوشخبری سنادی ہے ۔ اس لئے مقدرات میں سے ہے کہ یہ کائنات پر چھا جائیں ۔ اور اپنی قوت وسطوت سے ایک عالم پر حکومت کریں ۔ چناچہ بعد میں آنے والے واقعات نے ثابت کردیا ۔ کہ صحابہ اپنے زمانے کے بہت بڑے فاتح اور شہنشاہ تھے ۔ جہاں گئے ۔ اور جدھر کو عنان توجہ اٹھ گئی بلکوں قوموں نے غلامی پر فخر کیا ۔ اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا ۔ کہ ان کے دلوں میں ایمان کی سچی تڑپ تھی ۔ اور جہاد سے محبت تھی ۔ یہ لوگ زندگی کا بہترین معرف یہی قرار رہتے تھے ۔ کہ اس کو اللہ کی راہ میں صرف کردیا جائے ۔ اور ان کا نصب العین یہ تھا ۔ کہ اعلائے کلمتہ الحق ہو ۔
Read the full tafseer →(22) اور اگر یہ کافر اور دین حق کے منکر تم سے لڑتے اور صلح نہ ہوتی تو یقینا پیٹھ پھیر کر اور پیٹھ دے کر بھاگتے پھر وہ اپنا نہ کوئی کارساز پاتے اور نہ مددگار۔ یعنی اگر مکہ والے تم سے صلح نہ کرتے اور لڑائی کی نوبت آجاتی اور وہ لڑنے کو آمادہ ہوجاتے تو وہ بری طرح بھاگتے اور ان کو نہ کوئی یار ملتا نہ مددگار۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خیبر کے حلف کی طرف اشارہ ہوکر بنی اسد اور بنی غطفان مرعوب ہوکر لوٹ گئے اگر وہ خیبر والوں کی طرف سے لڑتے تو بری طرح پیٹھ دے کر بھاگتے۔
بعض مفسرین نے ایسا کہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
ف 4۔ مراد اس سے فتح مکہ ہے۔
Read the full tafseer →بطورِ پیش گوئی بتایا گیا کہ اگر کافروں نے تم سے لڑائی کی تو وہ پیٹھ پیر کر بھاگ نکلیں گے
22 ؎ صلح حدیبیہ سے قبل بھی مسلمانوں نے مکہ والوں کے مقابلہ میں بہت فتوحات حاصل کیں تاہم اس وقت تک حالات کا رخ ایسا ہی رہا کہ کبھی مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا اور کبھی کافروں کا بھاری ہوگیا۔ کسی جنگ میں کافروں کے پرخچے اڑائے گئے تو کسی میں مسلمانوں کو بھی بہت گزندپہنچی اور اب بطور پیش گوئی مسلمانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ حدیبہ کے بعد یہ صورت نہیں ہوگی بلکہ اس سے بہت مختلف رہے گی اور وہ اس طرح ہوگی کہ کافر یا تو تم سے لڑائی کے لیے تیار ہی نہیں ہوں گے اور اگر ہوں گے تو یقینا پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے اور ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
وَعَدَكُمُ اللَّـهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَـٰ
وَأُخْرَىٰ لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّـهُ بِهَا (And (there are) other (victories) that have not come within your power as yet, (but) Allah has encompassed them...." (48:21). This verse embodies a prophecy that Muslims will achieve many more great victories after the victory of Khaibar. But Allah says that they were unable to achieve them at that time; they would happen in future. Among these victories, Makkah was the first one to be achieved. Therefore, some scholars refer this to the victory of…
Read the full tafseer →41 That is, "Allah did not prevent fighting at Hudaibiyah because there was a possibility of your being defeated there, but there were other reasons for it, which are being stated in the following verses. Had that factor not been there and AIlah had allowed the war to take place, the disbelievers would surely have been routed and Makkah would have fallen to you at that very time. "
Read the full tafseer →